Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 6

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 6

–**–**–

مناف کو خود آگ کا احساس ہوا تھا برکھا چیخی تو وہ فورا ہی پلٹ کر گھر میں واپس آ گیا۔ برکھا نے آگے بڑھ کر اس کے دامن کو دونوں ہاتھوں میں لے کر مسل دیا۔ تھوڑا دامن جل گیا لیکن آگ بجھ گئی۔
“باپو پکا کام کر کے گیا ہے۔ ہم میں سے اب کوئی بھی باہر نہیں جا سکتا۔‘‘ برکھا نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
آگ بجھانے کیوجہ سے اس کے ہاتھ ایک دم سرخ ہو گئے تھے۔ جیسے اپنے آپ سے بولی۔’’اچھا باپ تو اگر میرا باپ ہے تو اتنا یاد رکھ میں بھی تیری بیٹی ہوں اب تو نہیں یا میں نہیں۔‘‘
مناف نے برکھا کا چہرہ دیکھا تو وہ غصے سے تمتما رہا تھا۔ وہ خوفزدہ سا ہو گیا۔ اس نے برکھا کے دونوں ہاتھ پکڑ کر کہا۔‘ “برکھا میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا۔‘‘
برکھا نے ایک نظر مناف کو دیکھا اور بولی۔’’تم پریشان مت ہو کرن کو لے کر کمرے میں چلے جاؤ اور اندر سے دروازہ بند کر لو۔ اس وقت تک باہر مت آنا جب تک میں تمہیں باہر آنے کا نہ کہوں۔“
“اور اگر ان کو دودھ وغیرہ کی ضرورت ہوئی تو ؟ میں سب تمہیں دے دوں گی لیکن تم نے کمرے سے باہر قدم نہیں نکالنا ہے۔“
مناف کرن کو لے کر اندر کمرے میں چلا گیا۔ اس نے برکھا کی ہدایت کے مطابق کمرہ اندر سے بند کر لیا اورکرن کو بیڈ پر لے کر لیٹ گیا۔ کرن اپنے ہاتھ پاؤں چلا کر کھیلنے گی۔ برکھا نے صحن کے کونے میں کھڑی جھاڑ و کو اٹھایا اور بیچ صحن میں کھڑے ہو کر جھاڑو کی ایک سینک نکالتی آسمان کی طرف منہ کر کے کچھ بڑھتی اور اس سینک کو زمین پر پھینک دی۔ اس طرح آہستہ آہستہ پوری جھاڑو کی سینکیں محن میں بکھر گئیں۔ جب جھاڑ وختم ہو گئی تو اس نے پھر ایک ایک کر کے ان سینکوں کو اکٹھا کیا اور دوبارہ جھاڑو کو رسی سے باندھ کر باتھ روم کی کنڈی سے لٹکا دیا اور وہ زمین پر آسن جما کر بیٹھ گئی۔ اب اس کی نظریں سامنے ٹنگی جھاڑو پر تھیں اور وہ منہ سے کچھ عجیب سے لفظ نکال رہی تھی۔
بڑی دیر تک وہ اس کام میں لگی رہی ۔ یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا۔ جب اندھیرا ہو گیا تو اسنے صحن میں لگی لائٹ جلائی اور مناف کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا مناف نے دروازہ کھولا تو برکھا بولی۔ ”مناف تم ایسا کرو کہ کرن کے لئے دودھ تیار کر لوا ور اپنے اور میرے لیے کھانے کے لیے کچھ پکالو۔ میں کچن میں داخل نہیں ہوسکتی۔ تم یہ کام جلد از جلد کر کے کمرے میں واپس چلے جاؤ۔‘‘
“ٹھیک ہے۔‘‘ مناف نے کہا اور اس کی حسب منشا سارا کام نمٹا لیا۔ پھر دونوں نے مل کر کھانا کھایا۔ مناف نے کرن کو دودھ پلایا۔ کرن دودھ پی کر سو گئی تو مناف نے دروازے سے باہر جھانکا۔
بر کھا صحن میں زمین پر بالکل چپت لیٹی تھی۔ مناف کو احساس ہوا جیسے وہ بے ہوش پڑی ہے بھاگ کر اسکے نزدیک پہنچا تو بر کھا نے اپنی بند آ نکھیں فورا کھول دیں اور اسے کمرے میں جا کر دروازہ اندر سے بند کرنے کا اشارہ کیا۔
وہ فورا ہی واپس پلٹ آیا اور اس نے کمرے میں داخل ہوکر دروازہ اندر سے بند کر لیا
مناف کے دروازہ بند کر لینے کی آواز سن کر اس نے لیٹے لیٹے بایاں پاؤں اوپر اٹھایا اور اس طرح سیدھا کر لیا جیسے کسی چیز کو سہارا دے رکھا ہو۔ پھر وہ عجیب عجیب لفظ بولنے گی۔
دس پندرہ منٹ کے بعد وہ اچانک اٹھی اور دوسرے خالی کمرے میں چلی گئی۔ اندر جاکر اس نے دروازہ اندر سے بند کر لیا اور دیوار کی طرف رخ کر کے رقص کرنے لگی۔ یہ کوئی با قاعدہ رقص نہ تھا بلکہ وہ ایک خاص لفظ منہ سے نکال کر جسم کو حرکت دیتی تھی اور پھر ساکت ہو جاتی تھی۔
“ٹک دهم دهم….دھم دھم ٹک۔۔۔۔۔ جے کالی…… جے کالی……واہ۔‘‘
ایک گھنٹے تک وہ اس طرح کے لفظ بول کر رقص کرتی رہی۔ پھر ایک دم ہی اس کی حالت بدلنے لگی۔ اب اس کے رقص میں خاصی تیزی آ گئی تھی۔ اس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں سیاہ ہونا شروع ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سیاہی پورے جسم پر پھیل گئی۔ گوری چٹی برکھا ایک دم کالی بھجنگ ہو چکی تھی۔ آنکھوں میں آگ بھر گئی تھی۔ صورت انتہائی مکروہ. ایک فٹ لمبی زبان باہر نکلی ہوئی تھی پھر کمرے کے ہر کونے سے بچھوؤں نے برآمد ہونا شروع کیا اور چندلمحوں میں کمرے میں اتنے بچو بھر گئے کہ کمرے کے فرش پر تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ برکھا اب بھی محو رقص تھی ۔ بچھو اس کے پیروں میں آ رہے تھے لیکن دب کوئی نہیں رہا تھا مرکوئی نہیں رہا تھا۔ پھر اچانک کمرے میں ایک مکروہ آواز گونجی۔’’بس رک جا۔“
اس حکم کو سنتے ہی برکھا ایک دم پتھر کی ہو گئی۔ کچھ دیر وہ اس طرح ساکت کھڑی رہی اتنی دیر میں سارے بچھو کہیں غائب ہو گئے۔ ایک بلیڈ لے کر وہ فرش پر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنے بازو پر اس جگہ بلیڈ سے شگاف ڈالا جہاں ایک بچھو بنا ہوا تھا اور اس وقت یہ بچھو سفید نظر آ رہا تھا۔ بلیڈ لگتے ہی خون بھل بھل کر کے تیزی سے بہنے لگا۔ اس نے اس خون کو ایک پیالے میں جمع کرنا شروع کیا۔ کچھ دیر میں پور اپیالہ خون سے بھر گیا۔ تب بر کھا نے کچھ پڑھ کر زخم پر ہاتھ رکھا تو خون نکلنا بند ہو گیا اور اس کے جسم کی رنگت سفید ہونا شروع ہو گئی۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ اپنی اصل حالت میں آ گئی۔ وہ بیٹھے بیٹھے ایک دم چونک گئی۔ جیسے کسی خواب سے چونکی ہو۔ اس نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا اور پھر جب اس کی نظر خون سے بھرے پیالے پر پڑی تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ وہ ایک دم اچھل کر کھڑی ہو گئی۔ خون سے بھرے پیالے کو اس نے ایک چھوٹی میز پر رکھ دیا اور اسے پلیٹ سے ڈھک دیا۔ پھر وہ اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔ مناف حسب الحکم اپنے کمرے میں تھا۔
اس نے آہستہ سے کمرے کا درواز و کھٹکھٹایا۔ مناف جیسے اس کی دستک کا منتظر ہی تھا اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بنا دروازہ کھول دیا۔
درواز کھلتے ہی مناف کو بدبو کا ایک شدید بھبھکا محسوس ہوا یہ بدبو برکھا میں سے آ رہی تھی نہ صرف بدبو آ رہی تھی بلکہ اس کی خباثت بھی ٹپک رہی تھی۔ مناف کو خوف سا محسوس ہوا لیکن وہ بولا کچھ نہیں ۔ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
’’ٹائم کیا ہوا ہے؟‘‘ برکھا نے پھٹی پھٹی آ نکھوں سے پوچھا۔
“ساڑھے گیارہ بجے ہیں۔‘‘ مناف نے کمرے میں لگی دیوار گیر گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“کرن سو رہی ہے؟‘‘ برکھا نے دروازے میں کھڑے ہو کر اندر نظر ڈالی لیکن اندر نہ گئی۔
’’ہاں۔‘‘ مناف نے بیڈ پر نظر ڈالتے ہوۓ بتایا۔
“مناف آؤ میرے ساتھ دروازہ باہر سے بند کر دو۔‘‘ یہ کہہ کر برکھا پلٹی۔
مناف نے کمرے کا دروازہ باہر سے بند کیا اور خاموشی سے اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ اس کمرے میں پہنچ کر جہاں خون سے بھرا پیالہ رکھا تھا وہ دھیرے سے بولی۔’’مناف اب جو میں تمہیں دکھانے لگی ہوں اسے دیکھ کر اور سن کر ڈرنا مت تمہیں ذرا جرات سے کام لینا ہو گا ورنہ اب ہم سب کی زندگیوں کی خیر نہیں۔“ پھر اس نے آگے بڑھ کر میز پر رکھے ہوۓ پیالے سے پلیٹ ہٹائی تو اتنا سارا خون دیکھ کر مناف کو چکر سا آ گیا۔ اس نے فورا ہی خود کو سنبھالا اور ہمت کر کے بولا۔’’یہ کس کا خون ہے؟‘‘
“یہ تمہاری بیوی کا خون ہے۔ بہت قیمتی خون ہے یہ۔ اس قدر قیمتی کہ تم اس کا انداز نہیں لگا سکتے۔ میں اب اس خون کے لیے ساری زندگی ترسوں گی”
یہ تم کیا کہہ رہی ہو برکھا؟‘‘ مناف حیرت زدہ ہو کر بولا۔
“چلو اس بات کو چھوڑو پھر بتا دوں گی تفصیل سے۔ اب وقت کم ہے۔ وہ آنے والا ہی ہو گا۔ تم میری بات غور سے سن لو۔ اگر تم میری بات پر عمل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو پھر ہم باپو سے نجات پا لیں گے ورنہ دوسری صورت میں وہ ہمارا نجات دہندہ ثابت ہو گا۔”
پھر برکھا نے اسے پوری تفصیل سے ساری بات بتا دی کہ کیا کرنا ہے اور کس طرح کرنا
وہ دونوں دھڑکتے دل سے اس بری گھڑی کا انتظار کر رہے تھے جو کالی داس کی صورت میں ان پر نازل ہونے والی تھی۔ اب وہ ان کے گھر سے زیادہ دور نہ تھا۔ وہ خوشی میں جھومتا چلا آ تا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ برکھا اور مناف اس گھر سے باہر قدم نہیں نکال سکیں گے۔ وہ بڑا مضبوط انتظام کر کے گیا تھا۔ اس جادو کا کوئی توڑ نہ تھا۔ اسے خوشی اس بات کی تھی کہ وہ برکھا کو کالی دیوی کے نام پر قربان کر دے گا۔ اس بھینٹ کے بدلے میں اسے ایک زبردست طاقت عطا ہو گی۔ یہ طاقت حاصل کرنے کے بعد وہ مناف کو ٹھکانے لگاۓ گا۔
اس کی کھوپڑی سے وہ نت نئے کام لے گا۔ جادو کی دنیا میں وہ تہلکہ مچا دے گا۔ لوگ اس کو پوجنے لگیں گے۔ بڑے بڑے لوگ اس کے چرن چومیں گے۔ وہ دھر ماتما بن جاۓ گا۔ دھر ماتما بن کر وہ لوگوں کا دھرم نشٹ کرے گا۔ اس طرح کالی دنیا میں اس کے مزید درجات بلند ہوں گے۔
وہ سوچتا ہوا اور جھومتا ہوا چلا آ رہا تھا۔ گھر کے دروازے پر پہنچ کر اس نے گھر پر نظر ڈالی
گھر کے اندر مکمل تاریکی تھی۔ اندھیرا دیکھ کر ایک لمحے کو اس کا دل زور زور سے دھڑ کا۔ اسے شبہ ہوا کہ کہیں یہ لوگ نکل تو نہیں گئے ۔۔ ذرا آگے بڑھ کر اس نے دروازے کوغور سے دیکھا۔ دروازے پر کوئی تالا نہ تھا۔ شاید انہوں نے اس کی آمد کو غیر اہم جانا ہے۔ وہ اس کی دھمکی کو نظر انداز کر کے سو گئے ہیں۔ مورکھ نہیں جانتے کہ موت ان کے در پر آ پہنچی ہے۔
تب اس نے ٹھیک وقت پر کنڈی کھٹکھٹائی ۔
“کون ہے؟‘‘ اندر سے برکھا کی آواز آئی۔
“میں ہوں تیرا پتا جس نے تجھے پال پوس کر بڑا کیا اور تو نے اسے دھوکا دیا۔‘‘ وہ دروازے کے قریب ہو کر سانپ کی طرح پھنکارا۔ “دروازہ کھول یا تیرے گھر کو آگ لگاؤں۔”
“نه باپو ایسا نہ کرنا میں دروازہ کھول رہی ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے صحن میں لگا بلب روشن کر دیا۔ پھر اس نے دروازے کے دونوں پٹ کھول دیے اور دھیرے دھیرے پیچھے ہٹنے لگی۔ “باپو کیا تم مجھے معاف نہیں کر سکتے۔” وہ اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بڑی لجاجت سے بولی۔
وہ ایک خاص انداز میں مسلسل پیچھے ہٹ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں کالی داس کی پیشانی پر جمی تھیں۔ کالی داس اب دروازے میں داخل ہو چکا تھا۔ جس طرح وہ دھیرے دھیرے پیچھے ہٹ رہی تھی وہ ویسے ہی دھیرے دھیرے چوکنا انداز میں آگے بڑھ رہا تھا۔
“اب معافی کا وقت گزر گیا۔ تو نے میرا بہت دل دکھایا ہے۔ ایک تو میری زندگی بھر کی کمائی تو نے اس ڈرائیور کے ساتھ جا کر تباہ کر دی۔ دوسرا ظلم تو نے یہ کیا کہ اپنا دھرم بدل لیا۔ اب تو سزا کے لیے تیار ہو جا۔ تجھے میں کالی دیوی کے چرنوں میں بھینٹ چڑ ھاؤں گا۔ آ اپنا ہاتھ لا اور چل میرے ساتھ۔” یہ کہہ کر کالی داس نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ وہ اب خاصا دروازے کے اندر آ گیا تھا۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ دروازے کے ایک پٹ کی آڑ میں مناف بالکل تیار کھڑا ہے۔ اسے اس بات کی توقع نہ تھی۔ وہ بڑے اطمینان سے برکھا کی طرف بڑھ رہا تھا اور اسے موت کی دھمکی دے رہا تھا۔ نہیں جانتا تھا کہ مناف کی صورت میں خود اس کی موت کواڑ کی آڑ میں کھڑی ہے۔ جیسے ہی کالی داس اس کے آ گے آیا۔ اس نے بڑی پھرتی سے آگے بڑھ کر اس کے سر پر خون سے بھرا پیالہ الٹ دیا اور خود اسی پھرتی سے پیچھے ہٹ گیا۔
وہ خون میں نہا گیا۔ سر پر چہرے پر دائیں بائیں آگے پیچھے ہر طرف خون ہی خون تھا۔ اس خون نے کسی خطرناک تیزاب کی طرح کام دکھایا۔خون پڑتے ہی اس کی دونوں آ نکھیں ضائع ہو گئیں۔ جہاں جہاں خون پڑا تھا وہاں کی کھال ادھڑنا شروع ہوگئی۔ وہ کھڑا نہ رہ سکا۔
لاکھڑا کر زمین پر گر گیا اور صرف اتنا کہہ پایا۔’’ یہ تو نے کیا کیا!‘‘
اس کے بعد وہ کچھ کہنے کے قابل نہ رہا۔ مناف جلدی سے دروازہ بند کر کے برکھا۔ قریب آ گیا۔ برکھا نے فورا اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔’’تم نے مجھے بچالیا۔‘‘
”میں نے تمہیں نہیں اپنے آپ کو بچایا ہے اپنی بٹی کرن کو بچایا ہے۔‘‘ وہ جذباتی ہوکر بولا۔
“ہم سب بچ گئے مناف۔‘‘ اس نے اس سے الگ ہوتے ہوۓ کہا۔ اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے ۔
’’اب اس کا کیا کرنا ہے؟‘‘ مناف نے کالی داس کی طرف اشارہ کیا۔ اس سے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں جا رہا تھا
“بس ایک کام اور کر دو ۔‘‘ برکھا نے کہا۔
’’وہ کیا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
“یہاں صحن میں ایک گڑھا کھود دو اس کے بعد تم کمرے میں جا کر آرام سے سو جاؤ۔ مجھے پھر جو کرنا ہو گا خود کر لوں گی۔‘‘ برکھا نے بڑے پر اسرار لہجے میں کہا۔
مناف نے اسٹور میں پڑے پھاؤڑے سے جلدی جلدی اتنا بڑا گڑھا کھود دیا کہ کالی داس کو اس میں دھکیل کر مٹی سے پر کر دیا جائے۔
پتہ نہیں برکھا کیا کرنا چاہتی تھی۔ بہر حال اس نے جو ہدایت کی تھی اس کی ہدایت پر عمل کرتے ہوۓ وہ کمرے میں آ گیا۔
مناف کے کمرے میں جاتے ہی اس نے دروازے کو باہر سے کنڈی لگا دی تا کہ مناف باہر نہ آ سکے۔ وہ جو کچھ کرنے جا رہی تھی اگر مناف دیکھ لیتا تو شاید اپنے ہوش گنوا بیٹھتا۔ بر کھا نے دروازہ بند کر کے صحن کی لائٹ آف کر دی۔ صحن میں گہرا اندھیرا چھا گیا۔ برکھا نے اپنے بال کھول کر ساڑھی کا پلو اپنی کمر کے گرد لپیٹ لیا اور اپنے باپ کی لاش کے گرد رقص شروع کیا۔ یہ کوئی با قاعدہ رقص نہ تھا۔ ایک کیفیت تھی ایک جنون تھا جو اس رقص نما حرکت میں ظاہر ہو رہا تھا۔ وہ اپنے منہ سے کچھ بولتی بھی جا رہی تھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس کی شکل تبدیل ہونے لگی۔ وہ سیاہ رات جیسی ہو گئی۔ اندھیرے میں اس کی لال لال آ نکھیں چمکنے لگیں۔ ایک فٹ لمبی زبان باہر آ گئی۔ وہ اب تیز تیز کالی داس کی لاٹش کے گرد چکر لگا رہی تھی ۔صحن کے کونوں کھدروں سے سیکڑوں بچھو نمودار ہو چکے تھے۔ وہ کالی داس کا لاش پر اس طرح جمع ہو گئے تھے جیسے شہد کی مکھیاں چھتے پر ۔
یہ بچھو جن کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی تھی ۔ بڑی تیزی سے کالی داس کی لاش کو چٹ کر رہے تھے۔ جن بچھوؤں کا پیٹ بھر جاتا وہ پیچھے ہٹ جاتے ان کی جگہ نئے بچھو لے لیتے ۔ بچھو کچھ اس طرح کالی داس کا صفایا کر رہے تھے کہ اس کا سر لاش سے جدا ہو چکا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان بچھوؤں نے کالی داس کے سر کو چھوا بھی نہ تھا۔ برکھا نے کالی داس کا سراپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا اور تیز تیز رقص کرنے لگی۔
مناف اپنے کمرے میں بند تھا اسے نہیں معلوم تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ اگر وہ باہر آ کر اس کالی بھجنگ لال لال آ نکھوں والی لمبی زبان کی اس عورت کو دیکھ لیتا جس کے ہاتھوں میں کالی داس کا سرتھا تو شاید اس کا ہارٹ فیل ہو جاتا۔
برکھا اپنی دھن میں مگن عجیب سے لفظ بولتی بے ہنگم رقص کرتی جارہی تھی کہ اچانک باہر سے ایک آواز آئی۔
برکھا اس آواز کو سن کر فورا رک گئی۔ اس آواز کو سنتے ہی بچھو فورا ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ برکھا دونوں ہاتھوں میں سراٹھاۓ دھیرے دھیرے دروازے کی طرف بڑھی۔ پھر اس نے ایک ہاتھ سے کنڈی کھول دی اور دروازے کے دونوں پٹ وا کر کے ایک قدم دہلیز سے باہر نکالا ۔گلی میں گہرا اندھیرا تھا لیکن دو چمکتی آ نکھیں اسے نزدیک ہی نظر آ رہی تھیں ۔ ،
برکھا نے کالی داس کا سر دروازے کے باہر رکھ دیا اور الٹے قدموں پیچے ہو کر تیزی سے دروازہ بند کر دیا.
وہی آواز پھر بلند ہوئی۔ یہ آواز کسی کتے کے رونے کی آواز سے مشابہ تھی لیکن اس آواز کو سن کر دل پر ایک خوف سا طاری ہوتا تھا۔ دروازہ بند ہوتے ہی وہ آگے بڑھا۔ وہ ایک کالے رنگ کا گدھے کے برابر کتا تھا۔ چکتی ہوئی خوفناک آنکھیں ۔۔
دروازے کے نزدیک پہنچ کر اس نے اپنا بڑا سامنہ کھولا اور کالی داس کے سرکو اس میں دبوچ لیا۔ اس کے بعد اس نے سر کو منہ میں دباۓ دباۓ ایک لمبی جست بھری اور اندھیرے میں اندھیرے جیسا ہو گیا۔ برکھا کو جب یہ احساس ہو گیا کہ دروازے پر رکھی اس بھینٹ کو قبول کر لیا گیا ہے تو وہ خوشی سے پھولی نہ سمائی۔ باہر سناٹا طاری ہو گیا تھا اگر اس کی بھینٹ قبول نہ ہوئی ہوتی تو کتے کے رونے کی آواز مسلسل آنی شروع ہو جاتی ۔ پھر بھی اپنا اطمینان کرنے کے لیے اس نے دروازہ کھول کر دیکھ لیا۔ وہاں کالی داس کا سر موجود نہ تھا۔
برکھا نے دروازہ بند کر کے کالی داس کے باقی ماندہ جسم کو کھینچ کر گڑھے میں ڈالا اور اس گڑھے کو مٹی سے پر کر دیا۔ مٹی میں کالی داس کا بدن غائب ہوتے ہی اس کی حالت تبدیلی ہونے لگی اور چند منٹوں میں ہی وہ گوری چٹی برکھا بن گئی۔ پھر اس نے کمرے کا دروازہ باہر سے کھول دیا اور اندر جھانک کر دیکھا۔ اندر کمرے میں تاریکی تھی۔ اس نے آواز دی
’’مناف! کیا تم سو گئے؟‘‘
“نہیں برکھا میں جاگ رہا ہوں۔”
“پھر ذرا باہر آؤ. اس گڑھے کو برابر کر دو۔‘‘
مناف اس کے کہنے پر باہر آ گیا۔
اتنی دیر میں برکھا صحن کی لائٹ جلا چکی تھی۔ اس روشنی میں اس نے دیکھا کہ کالی داس کی لاش غائب ہے اور وہ گڑھا مٹی سے پر ہے۔ وہ سمجھ گیا کہ کالی داس کی لاش کہاں گئی۔ اس نے جلدی جلدی مٹی کو برابر کر کے اس پر اینٹیں جمادیں ۔ صحن کا فرش برابر ہو گیا تھا۔ بس اب اس پر سیمنٹ کرنا باقی رہ گیا تھا۔ اس رات وہ دونوں بڑے سکون سے سوۓ۔
کالی داس ان کے سروں پر کسی تکوار کی طرح لٹکا ہوا تھا۔ آج وہ تلوار ٹوٹ گئی تھی۔
ان کے دلوں پر جو ایک انجانا خوف سا چھایا رہتا تھا وہ دور ہو گیا تھا۔ اب وہ ایک اطمینان بھری زندگی گزار سکتے تھے۔ لیکن وہ زندگی ہی کیا جو سکون سے گزرے۔
ان کی زندگی میں ایک ایسا بھونچال آیا کہ نہ صرف انہیں اپنا گھر چھوڑنا پڑا بلکہ شہر بدر بھی ہونا پڑا۔
یہ انقلاب محض ان کی زندگی میں ہی نہیں آیا بلکہ ہزاروں لاکھوں خاندان اس سے متاثر ہوۓ۔ انہوں نے اپنی خوشی سے اپنا گھر اور اپنا شہر چھوڑا۔ اب اپنا ملک اپنا وطن جو معرض وجود میں آ گیا تھا پھر غیروں کے دیس میں رہنے کا کیا جواز تھا۔ مناف نے پہلے ڈھاکہ کا رخ کیا۔ والدین کے انتقال کے بعد وہ کراچی میں آ گیا۔
برکھا اب چار لڑکیوں کی ماں ہو چکی تھی۔ بعد میں تین لڑکیوں نے اور جنم لیا اس طرح کل سات لڑکیاں ہو گئیں۔ لڑکیوں نے جیسے ان کا گھر دیکھ لیا تھا۔ ہزار خواہشوں ہزار دعاؤں ہزار منتوں کے باوجود کسی لڑکے نے مناف کے گھر پیدا ہونا پسند نہ کیا۔
پہلی لڑکی کا نام کرن تھا اور آخری بیٹی یعنی ساتویں لڑکی کا نام ورشا تھا ورشا مناف. جب ورشا پیدا ہوئی تو اس کی پیٹھ پر چھو کا نشان دیکھ کر برکھا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا تھا۔ اس نے اس نشان کی کسی کو ہوا نہ لگنے دی۔ ایک دن مناف نے اس نشان کو دیکھ کر تشویش کا اظہار کیا تو برکھا نے اسے برص کا دھبہ قرار دے کر ٹال دیا او یونہی دو چار بار کوئی مرہم لگا کر برص کے علاج کا تاثر دے کر اس کی تسلی کرا دی۔ اس نشان کو وہ جب بھی اکیلے میں دیکھتی تو بہت خوش ہوتی۔ اس لڑکی کا تو اسے انتظار تھا۔ یہ وہ لڑکی تھی جو اس کی سالوں پرانی پیاس بجھانے آئی تھی۔ وہ پیاس جواس کا باپ کالی داس بھڑ کا کر چلا گیا تھا۔ اب اس کی بیٹی اس پیاس کو بجھانے آ گئی تھی اور یی سب اعور کے باپ کی مہربانی سے ہوا تھا۔
مناف نے کراچی میں آ کر مختلف کاروبار کئے۔ بالآ خر وہ ایک آئس فیکٹری چلانے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ ایک منافع بخش کاروبار تھا۔ پیسے جمع ہوتے ہی اس نے گارڈن ایسٹ میں ایک بنگلہ خرید لیا۔ یہ ایک ہندو کا بنگلہ تھا۔ اس بنگلے کی دیواروں پر ہندوانے نقش بنے ہوئے تھے۔ اس بنگلے کا ایک کمرہ جو سب سے تاریک تھا جہاں دن میں بھی اندھیرا رہتا تھا وہ کمراہ برکھا کو بہت پسند تھا۔ وہ اکثر اس کمرے میں پائی جاتی تھی۔
کالی داس کے مرنے کے بعد برکھا کے طور طریقوں میں ایک پر اسرار سی تبد یلی آ گئی تھی ۔ وہ بمبئی والی برکھا نہ رہی تھی جس کے ساتھ مناف نے دہلی میں ایک خوبصورت وقت گزارا تھا۔ وقت تو خیر کراچی میں بھی ٹھیک ہی گزر رہا تھا لیکن یہاں آ کر اب یہ احساس زیادہ گہرا ہو گیا تھا کہ برکھا کچھ پراسرار سرگرمیوں میں ملوث ہو گئی ہے۔
مناف کو تو خیر محض شبہ ہی تھا لیکن اس کی بیٹیوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی که ان کی ماں دن بھر کیا کرتی رہتی ہے اور اس سے کس قسم کے مرد اور عورتیں ملنے آتی ہیں اور وہ تاریک کمرے میں بیٹھ کر جانے کیا کرتی رہتی ہے۔ بیٹیوں کی شادیاں ہوتی رہیں اور وہ کسی پنجرے سے آزاد ہونے والے پنچھیوں کی طرح اڑتی رہیں۔ سسرال جا کر انہوں نے کبھی پلٹ کر بھی نہ دیکھا کہ میکہ کس طرف ہے۔ برکھا کو اپنی بیٹیوں کی مطلق فکر نہ تھی۔ آتی ہیں تو آئیں نہیں آتی تو بھاڑ میں جائیں البتہ مناف کوا پنی بیٹیوں کی طرف سے پریشانی رہتی تھی کہ وہ آخر گھر آتی کیوں نہیں آتیں۔
ورشا تیرہ سال کی ہوئی تو اس کا باپ مناف اس دنیا میں نہ رہا۔ ورشا کی آنکھوں کے سامنے اگر وہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا تو وہ اپنی ماں کی سنائی ہوئی کہانی پر یقین کر لیتی جو اس نے اس کی بہنوں اور دنیا والوں کو سنائی تھی کہ مناف نے دوسری شادی کر لی اور وہ خفیہ طور پر کینیڈا چلا گیا۔
ایک رات ورشا پڑھ رہی تھی کہ اسے اپنے والدین کے کمرے سے شور شرابے کی آواز سنائی دی۔ ان کا بیڈ روم ورشا کے کمرے سےملحق تھا۔ وہ اپنے کمرے کی لائٹ بجھا کر اسٹول پر چھڑھ کر کھڑی ہوگئی اور درمیان کے دروازے میں لگے شیشے سے ادھر جھانکنے لگی۔
اس کی ماں ابھی ابھی باہر سے آئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پنجرہ تھا جس میں ایک چگادڑ بند تھی۔ اتنی رات گئے آنے پر مناف نے اس سے باز پرس کی تو برکھا کے تیور ایک دم بدل گئے۔ وہ غصے میں بولی۔’’تمہیں کیا پریشانی ہے۔ میں جب چاہے آؤں۔”
یہ جواب مناف کے دل پر چھری کی طرح لگا۔ وہ ایک دم آپے سے باہر ہو گیا۔ پہلے اس نے وہ پنجرہ چھین کر دروازے سے باہر پھینکا اور پھر اس کے بال پکڑ کر زور کا دھکا دیا۔ برکھا کا سر دیوار سے ٹکرایا اور ابھی وہ سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ مناف نے اس کے منہ پرتھپٹروں کی بارش کر دی۔
“تجھے میں نے بہت آ زادی دے دی ہے۔ آج کے بعد سے تو میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم نہیں نکالے گی۔‘‘ مناف نے اس کے بال پکڑ کر بیڈ پر زور سے دھکا دیا۔
وہ بیڈ پر گری اور گرتے ہی تیزی سے کھڑی ہو گئی۔ ورشا کا خیال تھا کہ اب ماں اس کے باپ پر حملہ کرے گی لیکن اس نے اسے کچھ نہ کہا۔ بس ایک نظر گھور کر دیکھا جیسے کہہ رہی ہو۔ تو گھر میں رہے گا تو تجھ سے اجازت لوں گی ہاں۔ اس کے بعد وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔
ورشا نے سوچا شاید وہ اس کے کمرے میں آۓ گی اس لئے وہ سٹول سے کود کر فورا بیڈ پر پہنچ گئی اور برکھا کے دروازہ کھٹکھٹانے کا انتظار کرنے گی لیکن وہ نہ آئی۔ کچھ دیر بعد برابر کے کمرے سے ایک چیخ کی آواز آئی۔ یہ اس کے باپ کی آواز تھی۔
ورشا نے جلدی سے اسٹول پر چڑھ کر ادھر جھانکا تو باپ کو خون میں نہایا ہوا پایا۔ وہ اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر چکرا کر گر پڑی۔ اس کے ہوش گم ہو گئے۔
برکھا پر مناف نے آج تک ہاتھ نہیں اٹھایا تھا۔ وہ مار کھا کر خود پر قابو نہ رکھ سکی۔ کمرے سے باہرنکلی۔ کچھ پڑھتی ہوئی کچن میں گئی۔ وہاں ایک تیز دھار والی چھری سے اپنے بازو پر جہاں بچھو بنا ہوا تھا ایک کٹ مارا۔ زخم لگاتے ہی خون بھل بھل کر کے بہنے لگا۔ اس نے اس خون کو چینی کے بڑے پیالے میں جمع کر لیا اور اس پیالے کو اپنے پیچھے چھپا کر کمرے میں داخل ہوئی۔ مناف کو اس پر ہاتھ اٹھانے کا افسوس ہو رہا تھا۔ وہ آ نکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹا تھا کہ اچانک اس کے جسم میں آگی لگ گئی۔ وہ اپنی آنکھیں بھی نہ کھول سکا۔ چیخ مار کر اٹھا اور پھر فرش پر ڈھیر ہو گیا۔
خون کی بو پھیلتے ہی کونے کھدروں سے بچھو نکلنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے مناف کی لاش پر چھاگئے برکھا نے کمرے کی لائٹ آف کر دی اور پھر لاش کے گرد بھینٹ ناچ شروع کر دیا۔ جلد ہی اس کی شکل تبدیل ہو گئی۔ اس کی زبان ایک فٹ باہر آ چکی تھی۔
کچھ دیر کے بعد باہر سے کتے کے رونے کی آواز آئی۔ اس نے مناف کا سر اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور دروازے پر رکھ آئی۔ دروازے پر منتظر اس گدھے برابر کالے کتے نے اس سر کو اپنے بڑے سے منہ میں رکھ لیا اور اندھیرے میں جست لگا کر خود بھی اندھیرا ہو گیا۔
برکھا نے مناف کے باقی ماندہ جسم کو ٹین کے ایک بکس میں ڈال دیا اور پھر اس پر نشہ سا چھانے لگا۔ وہ پر سکون ہو کر سو گئی
ورشا کو جب ہوش آیا تو وہ اسٹول کے پاس ہی فرش پر پڑی تھی۔ کمرے میں خاصا اجالا پھیل چکا تھا۔ اس نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ صبح کے آ ٹھ بج رہے تھے۔ رات کا واقعہ پوری ہولناکی کے ساتھ اس کی آنکھوں میں منجمد تھا۔ وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی۔ بیڈ روم کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ اندر گئی تو برکھا بڑے مزے سے خراٹے بھر رہی تھی۔ بیڈ کے نزدیک ایک ہی ٹین کا بکس پڑا تھا اور اس میں بڑا سا تالا لگا تھا۔ مناف کا کہیں دور تک پتہ نہ تھا۔ ورشا کو خیال آیا کہ کہیں اس نے کوئی بھیانک خواب تو نہیں دیکھا۔ پھر اسے خیال آیا کہ اگر وہ خواب ہوتا تو وہ اسٹول کے نزد یک فرش پر کیوں پڑی ہوتی۔ اس نے اپنی سوتی ہوئی ماں کو جھنجھوڑ دیا۔ ’’ممی….ممی….”
برکھا کی اچانک آنکھ کھل گئی۔ وہ فورا اٹھ کر بیٹھ گئی اور کسی قدر غصے سے بولی۔ ’’کیا ہے؟”
“ممی تم نے میرے باپ کو مار دیا تم قاتل ہو ۔‘‘
“بے وقوف میں نے تو اپنے باپ کو بھی مار دیا تھا۔” وہ بڑے اطمینان سے بولی۔ ’’تیرا باپ تو کوئی چیز ہی نہ تھا۔“
“ممی تم کس قدر…….” ورشا اپنا جملہ پورا نہ کرسکی۔ وہ کہنا چاہتی تھی کہ ممی تم کس قد ر ذلیل کمینی ہو مگر وہ کچھ نہ کہہ پائی۔ برکھا نے اسے اچانک کچھ ایسی نظروں سے دیکھا کہ ورشا کی زبان گنگ ہو کر رہ گئی۔ اس نے اپنی ماں کی آنکھوں میں آگ بھڑکتی ہوئی دیکھی۔ چند سیکنڈوں میں اس کا چہرہ کچھ سے کچھ ہو گیا۔ ورشا نے گھبرا کر اپنا منہ پھیر لیا۔
“جاؤ کچن میں جا کر ناشتہ تیار کرو مجھے بہت بھوک گی ہے‘‘ برکھا نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔
”جی اچھاممی۔‘‘ ورشا نے انتہائی فرماں برداری سے کہا اور سر جھکا کر کچن کی طرف چلی گئی
وہ پہلا اور آخری دن تھا۔ اس کے بعد سے ورشا نے اپنی ماں کے سامنے کبھی زبان نہیں چلائی۔ وہ کچھ اس طرح خوفزدہ ہوئی کہ ماں کے منہ سے نکلا ہو ہر لفظ اس کے لیے حکم کا درجہ رکھتا تھا
اس دن خوب ڈٹ کر ناشتہ کرنے کے بعد برکھا نے کپڑے تبدیل گئے ۔ گاڑی گھر میں موجود ہونے کے باوجود وہ باہر سے ایک ٹیکسی لے کر آئی۔ٹیکسی والے کے ساتھ مل کر گھر سے بکس اٹھوایا۔ ٹیکسی کی چھت پر رکھا اور ورشا سے کہا۔ ’’تم گھر کا دروازہ بند کر لو میں ڈیڑھ دو گھنٹے میں واپس آتی ہوں۔“
پھر وہ ٹیکسی میں بیٹھ کر چلی گئی۔ وہ اشٹیشن پہنچی۔ گاڑی لاہور جانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔ اس نے لیڈیز کمپارٹمنٹ میں پہنچ کر وہ بکس قلی سے ایک برتھ کے نیچے رکھوایا اور قلی کو پیسے ادا کر کے بڑے اطمینان سے سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ ایک دو منٹ ڈبے کا جائزہ لیا۔ پھر اپنے برابر بیٹھی عورت سے مخاطب ہو کر بولی۔ “بہن ذرا میرے بکس کا خیال رکھنا اس میں کچھ قیمیتی سامان ہے۔ میں ابھی ذرا اپنے شوہر کو دیکھ کر آتی ہوں۔“
پھر برکھا نے اس عورت کا جواب بھی نہ سنا اور تیزی سے کمپارٹمنٹ سے اتر گئی۔ سنگل ڈاؤن ہو گیا تھا۔ گارڈ سیٹی بجا کر ہری جھنڈی دکھا رہا تھا اور برکھا تیز قدموں سے اسٹیشن کے گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ادھر وہ گیٹ سے باہر نکلی ادھر گاڑی نے اسٹیشن چھوڑ دیا۔ برکھا نے اطمینان کا گہرا سانس لیا اور ٹیکسی پکڑ کر اپنے گھر آگئی۔
وہ عورت جس سے برکھا نے بکس کی رکھوالی کے لیے کہا تھا ملتان کی تھی۔ جب ملتان تک برکھا ڈبے میں نہ آئی تو اس عورت کی نیت بدل گئی۔ ملتان آنے پر اس نے اپنے سامان کے ساتھ برکھا کا بکس بھی اتار لیا اور اپنے بیٹے کے ساتھ تانگے میں برکھا کا بکس اور اپنا سامان رکھوا کر اپنے گھر چلا گئی۔
وہ عورت بہت خوش تھی ۔ ایک قیمتی سامان والا بکس اس کے مفت ہاتھ لگ گیا تھا۔ اس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کر کے اپنے بیٹے سے اس بکس کا تالا توڑنے کے لیے کہا۔ بیٹے نے سل کا بٹہ اٹھا کر جو دو چار کراری چوٹیں تالے پر ماریں تو تالا ان چوٹوں کو برداشت نہ کر سکا کھل گیا۔
بیٹے نے تالا ایک طرف پھینک کر جلدی سے بکس کا ڈھکن اٹھایا۔ ڈھکن اٹھتے ہی اس عورت نے بکس میں جو کچھ دیکھا اسے دیکھتے ہی وہ چکرا کر گری اور بے ہوش ہو گئی۔ بیٹا جوان تھا وہ بے ہوش تو نہ ہوا لیکن اس کی حالت خراب ہو گئی۔
بکس میں انسانی گوشت خون اور ہڈیوں کا ملغوبہ پڑا تھا۔ اس نے فورا بکس کا ڈھکن بند کر دیا اور بے ہوش ماں کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ کچھ دیر کے بعد اس کو ہوش آ گیا۔ بیٹے کی طبیعت بھی سنبھل گئی۔
بیٹا ماں اور ماں بیٹے کو دیکھ رہی تھی۔ دونوں خاموش تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا یہ بکس میں کیا چیز ہے۔ اگر یہ انسان ہے تو اس کا سر کہاں ہے اور یہ جسم گوشت ہڈیوں اور خون کا ملغوبہ کیوں ہے۔ ان دونوں نے آج تک ایسی لاش نہ دیکھی تھی۔
اب سردست مسئلہ یہ تھا کہ اس کا کیا کیا جاۓ؟ ان کے گھر کا صحن کچا تھا اور اس میں امرود کا درخت لگا تھا۔ طے یہ پایا کہ بکس میں موجود اس ملغوبے کو امرود کی جڑ کی زمین کھود کر بکس سمیت دفن کر دیا جاۓ۔ تبھی اس سے نجات ممکن تھی…… اس طرح ڈھاکا کا مناف زندگی کا سفر کرتا کہاں سے کہاں پہنچا۔ کہاں کی مٹی کہاں دفن ہو گئی۔ مناف اپنی زندگی میں اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ مرکر ملتان کے ایک نیم پختہ گھر کے کچے صحن میں بغیر سر کے اور بغیر کفن کے دفن ہو گا۔ لوگ اپنی زندگی میں اپنے لیے قبر کی جگہ مختص کروا لیتے ہیں وہ نہیں جانتے تھے کہ موت کہاں آۓ گی اور مخصوص قبر تو دور کی بات ہے انہیں دفن کے لیے زمین بھی نصیب ہو گی یا نہیں۔
مناف کو ٹھکانے لگانے کے بعد برکھا بالکل بے خوف ہو گئی۔ ڈرتو خیر اس کا اس وقت نکل گیا تھا جب وہ اپنے باپ کالی داس کو بھینٹ چڑھانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ رہی سہی کسر مناف کے قتل نے پوری کر دی۔ اب وہ پوری آزادی کے ساتھ اپنے مذموم مقاصد کے لیے کوشاں تھی۔ ورشا کو اس نے اپنا معمول بنا لیا تھا۔ ایک طرح سے وہ اس کی قید میں تھی اور بڑی فرمان برداری سے اس کا ہرحکم بجالاتی تھی۔
برکھا اب’’مانا‘‘ کے چکر میں پڑ گئی تھی ۔’’مانا‘‘ طاغوتی قوتوں میں ایک بڑی قوت تھی۔ اسے حاصل کرنے کے بعد اپنی مرضی کے مطابق زندہ رہا جا سکتا تھا۔ ’’مانا‘‘ حاصل کرنے کے بعد “ربطول‘‘ کی طرف پیش قدمی کی جاسکتی تھی۔ ’’ ربطول‘‘ کتاب سحر تھی ۔ یہ کتاب فرعون کے عہد کے سو بڑے جادوگروں نے مرتب کی تھی۔ اس کتاب کا صرف ایک نسخہ تیار کیا گیا تھا اور اس نسخے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ پہلے حصے میں منتر تھے اور دوسرے حصے میں ان منتروں کو کس طرح پڑھنا ہے یہ تحریر کیا گیا تھا۔ یہ دونوں حصے ایک دوسرے کے بغیر بے اثر تھے۔ بادشاہ وقت کے پاس ربطول‘‘ کے دونوں حصے ہوتے تھے جسے وہ الگ الگ رکھتا تھا تا کہ کتاب سحر چوری ہو جانے کی صورت میں چور کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہ کتاب فراعنہ مصر کے پاس نسل در نسل چلی آ رہی تھی کہ ایک وقت ایسا آیا کہ اس کا ایک حصہ غائب ہو گیا اور یوں سحر کی سب سے بڑی اور قدیم کتاب بے اثر ہو گئی۔ پر اسرار قوت’’مانا‘‘ کو حاصل کرنے کے بعد اس سے اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کی جاسکتی تھی۔’مانا‘ کے علاوہ “ربطول‘‘ کے بارے میں کوئی اور کچھ نہیں جانتا تھا۔ برکھا چاہتی تھی کہ کسی طرح زبردست قوت ’مان‘ ہاتھ لگ جاۓ لیکن “مانا‘‘ کو حاصل کرنا اتنا آسان نہ تھا۔ یہ ایک بڑی کٹھن ڈگر تھی جس پر چلنا گویا تلوار کی دھار پر چلنا تھا۔ ذرا سا غلط قدم اٹھانے پر بندہ نہ گھر کا رہتا نہ گھاٹ کا دو بھینٹ چڑھانے کے بعد اگرچہ برکھا کی پیاس بھڑک اٹھی تھی پر اب اسے کہیں دور امید کی ایک کرن نظر آنے لگی دو بھینٹوں کے بعد راستہ کچھ آسان ہوا تھا اور سب سے بڑی بات ورشا سے مل گئی تھی۔ اس کی پیٹھ پر بچھو کا نشان تھا اور پیدائشی تھا۔ جوقوت اس کے نانا کالی داس نے بڑی محنت اور جتن سے حاصل کی تھی وہ قوت ورشا کو بغیر کسی محنت کے حاصل ہوگئی تھی۔ ورشا اپنے آپ سے نا واقف تھی۔ اسی لیے وہ اپنی ماں کی غلام بن گئی تھی جبکہ وہ غلامی کرنے کے لیے نہیں پیدا ہوئی تھی۔ وہ پیدائشی آ قا تھی۔
برکھا ہی نے اسے ساحل عمر کے پیچھے لگایا تھا۔ برکھا نے ساحل عمر کو ایک طویل عرصے کے بعد کھوجا تھا۔ ساحل عمر میں ایک ایسی خاص بات تھی جو برکھا کو’مانا‘ حاصل کر نے میں کامیاب کر سکتی تھی۔ برکھا نے ورشا کو جال بنا کر ساحل عمر پر پھینکا تھا۔ ساحل عمر اس کے جال میں آ گیا تھا۔
وہ ابھی تک سڑک پر گم صم کھڑا تھا۔ ورشا جا چکی تھی۔ اس کے جانے کے بعد اسے اپنی کوئی متاع عزیز گم ہونے کا احساس ہوا اسے اپنا جسم خالی خالی سا لگا۔ اسے لگا جیسے کچھ ہو گیا ہے۔ کیا ہو گیا ہے یہ اسے معلوم نہ تھا. وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ورشا کے سحر میں آ گیا۔ اس کے فریب میں مبتلا ہو گیا ہے۔
ایک گاڑی قریب سے ہارن دیتی گزری تو اچانک اسے ہوش آیا۔ اسے پتہ چلا کہ وہ سڑک پر کھڑا ہے۔ ورشا اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جا چکی ہے اور وہ تماشا بنا کھڑا تھا۔ اپنی حالت پر وہ دل ہی دل میں مسکرایا اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اپنے گھر کے رستے پر ہولیا۔
•●•●•●•●•●•●•●•●•
گھر کے گیٹ پر پہنچ کر جب اس نے گاڑی کا ہارن بجایا تو فورا ہی گیٹ کھل گیا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے برکھا گیٹ کے پیچھے کھڑی اس کی منتظر تھی ۔ برکھا کو دیکھ کر ورشا نے گاڑی کی کھڑکی سے سر باہر نکال کر خوشی سے نعرہ لگایا۔’’ہاۓ ممی..”
برکھا نے بھی جواباً اسے خوش آمدید کہا۔ ’’ہاۓ جان..”
ورشا گیٹ کھلتے ہی گاڑی اندر لیتی چلی گئی۔ جب وہ گاڑی لاک کر کے بنگلے کی طرف بڑھی تو اتنے میں برکھا بھی اس کے نزدیک پہنچ چکی تھی۔ اس نے ورشا کو آ گے بڑھ کر گلے لگایا اور بڑے پیار بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’ کہوکیسی رہی پہلی ملاقات….؟“
“بہت اچھی…..” ورشا اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے بنگلے میں داخل ہوئی ۔
’’اسے کیسا لگا تم سے ملنا؟‘‘ برکھا نے پوچھا۔ ’’کیا تم اسے پسند آ گئیں۔“
“ممی! وہ بہت خوش تھا اتنا خوش کہ میں بتا نہیں سکتی۔‘‘ ورشا نے بتایا۔ ’’رہ گئی یہ بات کہ میں اسے پسند آئی یا نہیں تو ممی میں آپ سے پوچھتی ہوں کہ کوئی ایسا ہے جو آپ کی بیٹی سے ملے اور اسے پسند نہ کرے۔“
“نہیں کوئی نہیں۔‘‘ برکھا نے ورشا کو بڑے فخر سے دیکھتے ہوۓ کہا۔ ’’ کسی کی کیا مجال جو ورشا کو ریجیکٹ کر دے۔ میں اس کا خون نہ پی جاؤں گی۔‘‘
“ممی ایک بات پوچھوں بتاؤ گی؟‘‘ ورشا بیڈ پر چڑھتے ہوئے بولی۔
“ہاں پوچھو ضرور بتاؤں گی۔‘‘ وہ خوشدلی سے بولی۔
“ساحل میں ایسا کیا ہے کہ تم نے اس سے ملاقات کے لیے اتنا لمبا چکر چلایا۔‘‘
“کیا وہ تمہیں اچھا نہیں لگا۔” برکھا نے پوچھا۔
“وہ اتنا اچھا اتنا دلکش اور من موہنا ہے کہ کوئی بھی لڑکی اس کی پو جا کر سکتی ہے۔” ۔ “تو پھر؟‘‘ برکھا نے اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
“ممی! میں یہاں اپنی بات نہیں کر رہی آپ سے پوچھ رہی ہوں کہ آپ نے اس میں کیا دیکھا”
“وہ ایک کمیاب بلکہ یوں کہنا چا ہے کہ نایاب چیز ہے ۔‘‘ برکھا خلا میں گھورتے ہوئے بولی۔ ’’میں نے اسے بڑی مشکلوں سے تلاش کیا ہے۔ ایک طویل عرصے سے اس کے پیچھے ہوں۔ اب وہ وقت قریب آ رہا ہے جس کی میں منتظر تھی۔ ورشا اگر میں اپنے مشن میں کامیاب ہو گئی تو تیری ممی تیرے قدموں میں دنیا جہان کی آسائشیں ڈال دے گی۔ تجھے وہ کچھ مل جاۓ گا جس کا تو تصور بھی نہیں کر سکتی۔‘‘
“او ممی تمہیں کیا ملے گا ؟‘‘ ورشا نے پوچھا۔
“مجھے مانا مل جاۓ گی۔ ایک ایسی شکمتی ایک ایسی پر اسرار طاقت جس کا بلیک ورلڈ میں ڈنکا بجتا ہے۔ میں اس قوت کو حاصل کر کے اپنی زندگی کی مالک ہو جاؤں گی۔ جب چاہوں گی اور جب تک چاہوں گی اس دنیا میں عیش کروں گی۔ یہ دنیا اور دنیا والے تیری ممی کے اشارے پر ناچیں گے۔” برکھا نے کھوۓ ہوۓ لیے میں کہا۔
“سچ ممی….؟”
“ہاں بیٹی۔” برکھا نے اسے پیار سے دیکھتے ہوۓ کہا۔ ’’اب تم کھانا کھا لو اس کے بعد اپنے وقت پر اسے فون کر لینا۔ اس پر اپنی گرفت مضبوط کرو۔ اتنی مضبوط کہ وہ سانس لینے کے لیے بھی تم سے اجازت مانگے“
“ممی…..تم بے فکر ہو جاؤ ۔‘‘ ورشانے اٹھتے ہوۓ کہا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: