Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 7

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 7

–**–**–

گھر کے دروازے پر پہنچ کر ساحل عمر نے اپنے مخصوص انداز میں تین بار ہارن دیا اور گیٹ کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔ اسے اندازہ تھا کہ اماں کتنی دیر میں گیٹ تک پہنچیں گی لیکن آج گیٹ توقع سے پہلے ہی کھلنے کے آثار پیدا ہو گئے۔ شاید اماں گھر کے باہر لان میں اس کے انتظار میں ٹہل رہی تھیں۔ جیسے ہی ساحل عمر نے ہارن بجایا چندلحوں بعد ہی اماں کی آواز سنائی دی۔ ’’کون ہے؟‘‘
ساحل عمر نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے آواز لگائی ۔’’اماں میں ہوں!‘‘
اس کی آواز سنتے ہی انہوں نے فورا گیٹ کھول دیا اور ایک طرف کو ہٹ گئیں۔ ساحل عمر گاڑی اندر لے آنے کے بعد اماں کا انتظار کرنے لگا۔ وہ گیٹ کو تالا لگا کر خراماں خراماں چلی آئی تھیں۔
“اماں کوئی فون تو نہیں آیا۔“ جب اماں قریب آ گئیں تو ساحل عمر ان سے مخاطب ہوا۔
“ناصر مرزا کا آیا تھا۔‘‘ انہوں نے بتایا۔
“کیا کہہ رہے تھے؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
’’انہوں نے کہا کہ آئیں تو مجھے فون کر لیں۔” اماں نے بتایا۔
“ٹھیک ہے۔‘‘ ساحل عمر نے اماں کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔ “اماں بڑی بھوک کی ہے جلدی کھانا نکالو۔‘‘
“اچھا نکالتی ہوں۔ تم کپڑے تبدیل کر کے آؤ۔‘‘ پھر اماں نے ترچھی نظروں سے ساحل عمر کو دیکھا۔ ’’ساحل ایک بات پوچھوں سچ سچ بتاؤ گے۔‘‘
“ہاں اماں بالکل سچ بتاؤں گا ویسے بھی میں جھوٹ نہیں بولتا‘‘
“آج تم مجھے بہت دن کے بعد خوش نظر آ رہے ہو۔ اس خوشی کا نام بتانا پسند کرو گے”
“صبر کرو اماں!‘‘ ساحل عمر نے اماں کے سر پر بزرگوں کی طرح ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔
“اب صبر نہیں ہوتا مجھ سے۔. کیا تم جانتے نہیں کہ میرا پیمانہ عمر اب چھلکنے کو ہے۔” اماں نے افسردگی سے کہا۔
“اماں کھانا لاؤ بہت بھوک گلی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر ساحل عمر واش روم میں داخل ہو گیا۔ اس نے بات آگے نہ بڑھنے دی۔
کھانے سے فارغ ہو کر وہ کچھ دیر گھر کے لان پر ٹہلا۔ اتنی دیر میں اماں نے باہر آ کر اطلاع دی۔ ’’فون آیا ہے۔”
“اوہ” ساحل عمر نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا۔ یہ فون ضرور ناصر مرزا کا ہو گا۔ اسے گھر آتے ہی انہیں فون کر لینا چاہیے تھا۔ اب وہ اسے ٹھیک ٹھاک سنائیں گے۔
گھر میں آ کر اس نے اماں سے پو چھا۔ ’’فون ناصر مرزا کا ہے؟”
“نہیں کوئی لڑکی ہے۔‘‘ اماں نے بتایا۔
لڑکی کا سن کر ساحل عمر نے فورا اپنی رسٹ واچ پر نظر ڈالی ۔ گھڑی میں گیارہ بج کر پانچ منٹ ہوئے تھے۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے کمرے میں پہنچا اور ریسیور اٹھایا۔ ’’جی‘‘
“ہاۓ رانجھن پہنچ گئے گھر خیریت سے‘‘ ایک کھنک دار آواز سنائی دی۔
’’اوہ تو یہ آپ ہیں؟‘‘ ساحل عمر نے اپنائیت سے کہا۔
”کیوں میرے فون کی توقع نہ تھی جانتے نہیں ہو کہ یہ وقت میرا ہے۔‘‘ ورشا نے ہنس کر کہا
ہاں کم از کم آج توقع نہ تھی ۔‘‘ ساحل عمر نے صاف گوئی سے کہا۔
“وہ کیوں؟“ اس کی آواز میں حیرت تھی
“ہم آج ہی تو ملے تھے۔‘‘ ساحل عمر نے جواب دیا۔
”میں جب تک تم سے ملی نہ تھی جب تک مجھے اپنے آپ پر اختیار تھا پر اب تو میں ہے
اختیار ہوگئی ہوں۔ جی چاہتا ہے تم سے بات کرتی ہی رہوں۔‘‘ اس کے لہجے میں پیار بھرا تھا۔
“ورشا میرا بھی یہی جی چاہتا ہے؟‘‘
“سچ رانجھن۔‘‘ ورشا بے اختیار خوش ہو کر بولی۔
“ہاں ورشا مجھے اپنا فون نمبر دے دو میں اگر بات کرنا چاہوں تو کر تو سکوں۔ میں تم سے فون نمبر لینا ہی بھول گیا۔‘‘
“لکھ لو۔‘‘ ورشانے کہا۔
“ایک منٹ‘‘ ساحل عمر نے بال پوائنٹ نکالنے کے لیے دراز کھولی۔ پھر اس نے ورشا کا بتایا ہوا فون نمبر اپنی ڈائری میں نوٹ کر لیا۔
“میں اگر تمہیں فون کروں تو تمہیں کوئی الجھن تو نہ ہو گی ۔ میر مطلب ہے کہ…‘‘
“میں تمہارا مطلب سمجھ گئی۔‘‘ ورشا نے فورا اس کی بات کاٹ کر کہا۔ ’’جہاں میں رہتی ہوں وہاں میری ممی کے سوا کوئی نہیں رہتا اور انہیں تمہارا فون ریسیو کر کے خوشی ہو گی اور جب تم ان سے ملو گے تو تمہیں ان سے مل کر مزید خوشی ہو گی۔ میری ممی کا کوئی جواب نہیں۔” ورشا نے اپنی ماں کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا۔ برکھا اس کے سامنے ہی بیٹھی تھی۔
“تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے کیا تمہارا کوئی جواب ہے؟‘‘
“میرا جواب” ورشانے ہستے ہوۓ کہا۔ “ہاں میرا جواب تو ہے۔“
”کہاں ہے وہ؟‘‘ ساحل عمر نے حیرت سے پوچھا۔
“وہ سامنے جس سے میں باتیں کر رہی ہوں کیوں غلط کہا میں نے‘‘ ورشا بولی۔
“میں تمہارا جواب کیسے ہوسکتا ہوں۔‘‘ ساحل عمر نے انکساری دکھائی۔
“مان جاؤ رانجھن ہم دونوں ایک دوسرے کے سوال جواب ہیں ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں۔ ہم لازم و ملزم ہیں۔ اب ہمیں ایک دوسرے سے کوئی جدا نہیں کر سکتا۔‘‘ ورشا نے یک طرفه بیان دے کر اپنے مشن کو آ گے بڑھایا۔
ابھی وہ کوئی جواب دینے ہی والا تھا کہ اچانک اس کی نظر سامنے تصور پر پڑی۔ رشاملوک کی تصویر پر نظر پڑتے ہی اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ غصے میں اسے دیکھ رہی ہو۔ وہ گڑ بڑا گیا۔ جو جواب اس کے ذہن میں آیا تھا وہ اس کے ذہن سے نکل گیا۔ اس نے فورا اپی نظر یں تصویر سے ہٹا لیں
“کیا ہوا رانجھن کہاں کھو گئے۔‘‘ ورشا نے اس کی خاموشی کوفوراً محسوس کر لیا۔
“نہیں کچھ نہیں ورشا‘‘ اس کے لہجے میں ہلکا سا کھنچاؤ آ گیا۔
“کچھ تو ضرور ہے کیا تمہارے کمرے میں کوئی آ گیا ہے؟‘‘ ورشا نے شک ظاہر کیا۔
اس سوال پر ساحل عمر کی نظریں پھر رشاملوک کی تصویر کی طرف اٹھ گئیں۔ وہ دھیرے سے بولا “نہیں ایسا کچھ نہیں۔ تم بات کرو۔”
ہم کب ملیں گے؟‘‘ ورشانے پوچھا۔
”جب تم چاہو۔‘‘ ساحل عمر نے جواب دیا۔
“اچھا پھر میں فون کر کے بتاؤں گی…..او کے۔” یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔
وہ کچھ دیر ریسیور تھامے تصویر دیکھتا رہا۔ پر ریسیور رکھ کر سوچنے لگا۔
رشاملوک……ورشا مناف……!
یہ دونوں لڑکیاں بیک وقت اس کی زندگی میں آئی تھیں۔ رشاملوک تو خیر ابھی ایک خواب تھی لیکن ورشا حقیقت بن کر سامنے آ گئی تھی۔ ساصل عمر خواب اور حقیقت کے درمیان گھرا تھا۔ اس کے لیے یہ طے کرنا مشکل تھا کہ خواب اچھا ہے یا حقیقت…..حقیقت پھر حقیقت ہوتی ہے۔ اسے جھٹلایا نہیں جا سکتا جبکہ خواب پر یقین کرنا مشکل ہوتا ہے۔
جوحسن رشا میں تھا وہ ورشا میں نہ تھا اور جو جاذبیت ورشا میں تھی وہ رشا میں نہ تھی۔ رشاء کا حسن ملکوتی تھا۔ اسے دیکھ کر خالق کی یاد آتی تھی جبکہ ورشا کی دلکشی میں ایک ہلچل تھی۔ اسے دیکھ کر آدمی بے قرار ہو جا تا تھا اسے پانے کی خواہش اس کے دل میں مچلنے لگتی تھی۔
ساحل عمر کی اگر چہ آج ورشا سے پہلی ملاقات ہوئی تھی اس کے باوجود اس کا دل بے اختیار اس کی طرف کھینچ رہا تھا۔ وہ ایک سحر بن کر اس پر چھاتی چلی جا رہی تھی۔
رات کو خواب میں ساحل عمر نے رشاملوک کو دیکھا۔ وہ بے چینی سے ایک چشمے کے کنارے ٹہل رہی تھی ۔ ساحل عمر گھوڑے پر سوار تھا اس نے دور سے جب رشاملوک کو ٹہلتے دیکھا تو اپنا گھوڑا دوڑاتا ہوا اس کے نزدیک پہنچ گیا۔ رشا ملوک نے اسے اپنے نزدیک آ تا دیکھ کر اپنا رخ موڑ لیا۔ وہ منہ پھیر کر کھڑی ہوگئی۔
ساحل عمر تھوڑا سا گھوم کر اس کے سامنے پہنچا تو اس نے اپنا رخ مخالف سمت میں کر لیا۔ اب ساحل عمر اس کے سامنے نہ آیا اسے احساس ہوا جیسے وہ ناراض ہے۔ اس نے پیچھے کھڑے ہو کر آہستہ سے کہا۔ ’’ ناراض ہو؟‘‘
”ہاں….! بہت۔‘‘ اس نے روٹھے ہوۓ لہجے میں کہا۔
”کیوں آ خر؟‘‘ ساحل عمر پھر گھوم کر اس کے سامنے آ گیا۔
اس مرتبہ رشا ملوک نے اپنا منہ نہیں پھیرا۔ اس کے چہرے پر بے حد اداسی تھی۔ اس نے
شکوہ بھری نظروں سے ساحل عمر کی طرف دیکھا۔
“کیا ہوا آخر…..؟کچھ بولو تو.” ساحل عمر نے التجا آمیز لہجے میں کہا۔
“کیا بولوں..؟ تم سے میں نے کہا تھا دیکھو کسی نے فریب میں نہ آ جانا لیکن تم خود کو سنھبال نہیں پاۓ۔‘‘ رشا ملوک نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوۓ شکوہ کیا۔
“تم کس کا ذکر کر رہی ہو؟‘‘
میں کسی کا ذکر نہیں کر رہی۔‘‘ وہ غصے سے بولی۔
“جب تک مجھے صاف صاف بتاؤ گی نہیں میں سمجھوں گا کیسے؟‘‘ اس کے لہجے میں التجا تھی
“میری ایک بات غور سے سن لو جتنی جلد ممکن ہو سکے تہکال کی تصویر مکمل کر لو اس میں تمہاری بھلائی ہے۔‘‘ رشا ملوک نے تنبہیہ کی۔
“میری بھلائی…؟ وہ کیسے۔‘‘ ساحل عمر کی کچھ سمجھ نہ آیا۔
“تم سوال بہت کر تے ہو؟‘‘ رشا ملوک نے کسی قدر ناراضگی سے کہا۔
“اچھا…. ناراض نہ ہو تم نے جیسا کہا ہے ویسا ہی کروں گا۔ اب تو خوش ہو۔“
“وعدہ کرو کہ سارے کام چھوڑ کر تم تہکال کی تصویر مکمل کرو گے۔“
“وعدہ۔‘‘ ساحل عمر نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اسی وقت گھوڑا زور سے ہنہنایا۔ اس نے چونک کر گھوڑے کی طرف دیکھا۔ تب ہی اس کی آ نکھ کھل گئی۔
وه بہت دیر تک جاگتا رہا۔ اس نے خواب میں رشا ملوک سے تہکال کی تصویر جلد از جلد مکمل کرنے کا وعدہ کر لیا تھا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ تہکال کا رشا ملوک سے کیا تعلق ہے اور خود اس کی بھلائی کیسےممکن ہے۔ بہر حال جو بھی تھا اب اس تصویر کو جلد از جلد مکمل کرنا تھا۔ تہکال کی تصویر پر کام تو جاری تھا۔ آدھی سے زیادہ تصویر مکمل بھی تھی۔ بس بیچ میں دو تین روز کا گیپ آ گیا تھا۔ وہ ورشا کے پھیر میں آ گیا تھا۔ اب اس نے طے کیا کہ دن رات لگ کر اس کام کو مکمل کرے گا۔ صبح اٹھتے ہی اس نے رنگ اور برش سنبھال لیے اور کام پر لگ گیا۔
دس دن کے اندر اس نے تصویر مکمل کر لی۔ اس درمیان ورشا سے ایک ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات ایک چائنیز ریستوران میں ہوئی۔ دونوں نے رات کا کھانا کھایا۔ کافی پی ۔ خوب گپیں ماری۔ دو تین گھنٹے دونوں نے زبردست انجواۓ کیا۔
جب وہ اٹھنے لگے تو ورشا اٹھتے اٹھتے بیٹھ گئی۔
’’پلیز ایک منٹ۔‘‘ ساحل عمر دوبارہ بیٹھ گیا اور اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔ وہ اپنے بیگ میں کوئی چیز تلاش کر رہی تھی۔
’’کیا ہوا ورشا خیریت تو ہے؟‘‘ ایک چھوٹا سے تحفہ ہے تمہارے لیے ممی نے بھیجا ہے۔‘‘ ورشا بیگ میں ڈھونڈ تے ہوئے بولی۔ ’’کہاں گئی؟ ہاں یہ رہی‘‘ اس نے بیک سے ہاتھ نکالا تو اس میں ایک انگوٹی تھی۔
یہ ایک چاندی کی انگوٹھی تھی۔ اس میں بڑا سا کالے رنگ کا بیضوی پتھر لگا ہوا تھا۔
“یہ لو” اس نے انگوٹھی اس کی طرف بڑھائی۔ ’’یہ ممی کا خاص شوق ہے۔ ممی کو پتھروں کی بڑی پہچان ہے۔ وہ لوگوں کو پتھر دیتی رہتی ہیں۔ ان کے پاس بہت سے پتھر ہیں۔ تمہارے لیے انہوں نے یہ پتھر بطور خاص منتخب کیا ہے۔ مجھ سے انہوں نے تمہارا پورا نام اور جنم دن دریافت کیا تھا۔ پھر وہ تھوڑی دیر تک سلیٹ پر آڑے ترچھے نقشے بناتی رہیں۔ پھر انہوں نے یہ کالا پتھر نکالا اور اسے خود ہی چاندی کی انگوٹھی میں جڑوایا۔ اتنی مہربان ہیں وہ تم پر۔”
“تمہاری ممی کا بہت شکریہ کہ انہوں نے بطور خاص مجھ پر توجہ کی لیکن اس انگوٹھی کا فا ٹدہ کیا ہے۔ تم جانتی ہو کہ میں انگوٹھی پہننے کا عادی نہیں ہوں۔‘‘
“جانتی ہوں پر ممی کا کہنا ہے کہ یہ انگوٹھی ساحل عمر کو نحوست سے بچائے گی۔ اس کا فن چمکے گا۔ وہ نام پیدا کرے گا۔ دولت اس کے قدموں میں نچھاور ہو گی۔‘‘
“اچھا اتنی خوبیاں ہیں اس انگوٹھی میں تو لاؤ میں پہنے لیتا ہوں۔” اس نے ورشا سے انگوٹھی لینا چاہی جو ابھی اس کے ہاتھ میں تھی۔
’’ایسے نہیں۔‘‘ وہ ادائے بے نیازی سے مسکرائی۔
“پھر کیسے؟‘‘ وہ حیران ہوا۔
’’میں خود پہناؤں گی۔‘‘ اس نے بڑی لگاوٹ سے کہا۔
’’اچھا ٹھیک ہے لو پہناؤ۔‘‘ ساحل عمر نے اس کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔
ورشانے انگوٹھی پہنانے سے پہلے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھا اور پھر مسکرا کر اس کی انگلی میں ڈال دی
انگوٹھی پہنتے ہی اس کے جسم میں سنسناہٹ سی ہوئی اور جب اس نے انگوٹھی کے کالے پتھر کو قریب کر کے دیکھا تو ایک لمحے کے لیے اس کی سٹی گم ہو گئی۔
ساحل عمر کو دمکتے سیاہ پتھر میں ایک شبیہہ سی لہراتی نظر آئی تھی اور یہ صورت اس لال آنکھوں اور لمبی زبان والی خبیث عورت کی تھی جو اسے بچپن میں نظر آتی تھی۔ یہ شبیہہ بس ایک لمحے کو نظر آئی تھی۔ اب نہ اس کے جسم میں سنسناہٹ تھی اور انگوٹھی میں وہ خبیث صورت۔
“کیسی ہے؟‘‘ ورشا نے اسے پرشوق نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“بہت اچھی۔ بہت پیاری ‘‘ سال عمر نے رسماً تعریف کی۔
”اسے اب اتارنا مت ور نہ نقصان اٹھاؤ گے۔ ممی نے کہا ہے کہ اس انگوٹھی کو ایک بار پہننے کے بعد اتارا نہیں کرتے۔ ایک تو پتھر کا اثر زائل ہو جاۓ گا۔ دوسرے فائدے کے بجاۓ نقصان شروع ہو جاۓ گا۔‘‘ ورشا نے اسے خوفزدہ کیا۔
“چلو ٹھیک ہے۔ نہیں اتاروں گا ایس اچھی انگوٹھی کو اتارنے کی کیا ضرورت ہے۔ ساحل عمر نے کہا۔’’آؤ ! اب چلیں۔‘‘
ان دس دنوں میں بس یہی ایک ملاقات تھی۔ ورشا نے چاہا بھی تھا کہ وہ اگلی ملاقات کا۔ وقت اور جگہ طے کر لے لیکن ساحل عمر نے اسے صاف بتا دیا تھا کہ وہ ایک پینٹنگ پر کام کر رہا ہے۔ اب اسے ختم کئے بنا نہیں ملے گا۔ ورشا کو یہ بات بری لگی تھی ۔ وہ اس کی بجائے پینٹنگ کو اہمیت دے رہا تھا۔ لیکن ورشا نے اس بات کا اظہار نہ کیا۔ وہ جس مشن پر تھی وہاں صبر وتحمل کی ضرورت تھی۔ جس رات تہکال کی تصویر مکمل ہوئی۔ اس کے دوسرے دن ورشا کا فون آیا۔
“ہاں رانجھن !‘‘
“جی ہیریئے نی۔”
“واہ آ گئے لائن پر” ورشا زور سے ہنسی۔
“کیا کروں تم را جھن کہنا نہیں چھوڑتیں۔ اب میں تمہیں ہیر نہ کہوں تو کیا کہوں۔‘‘
“مجھے رانجھن کہنا اچھا لگتا ہے لیکن تمہارے منہ ہے ہیرے نی کہنا اچھا نہیں لگا۔ جب تم ورشا کہتے ہو تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے چاروں طرف بارش ہونے لگی ہو۔ پیار کی بارش۔” ورشابولی۔
“اچھا جی نہیں کہوں گا آپ کو ہیر میرا قصور معاف کر دیں۔” وہ درخواست گزار ہوا۔
قصور اتنی آسانی سے معاف نہیں ہوسکتا۔” اس نے ادا دکھائی۔
“پھر کس طرح ہوگا۔‘‘ اس نے پوچھا۔
’’آج ہم سے ملو۔‘‘ جواب ملا۔
”بولو کہاں۔ میں راضی ہوں۔‘‘ اس نے جیسے ہتھیار ڈال دیئے۔
“تمہارے گھر آ جاؤں؟‘‘ ورشانے بڑے پیار بھرے لہجے میں پوچھا۔
“زہے نصیب.” وہ خوش ہوا۔
“پتہ سمجھاؤ۔‘‘ وہ بولی۔
ساحل عمر نے اسے اچھی طرح سے پتہ سمجھا دیا۔
وہ شام کو وقت مقررہ پر اس کے گھر کے دروازے پر پہنچ گئی۔ ساحل کو تھوڑی سی حیرت بھی ہوئی۔ وہ توقع کر رہا تھا کہ ورشا کم از کم ایک گھنٹہ لیٹ پہنچے گی۔ ایک تو نئی جگہ پہنچنا تھا پھر اداۓ بے نیازی بھی دکھانا تھی۔
ساحل عمر نے گیٹ کھولا تو ورشا اپنی گاڑی دیوار کے ساۓ میں پارک کر چکی تھی اور اب عین گیٹ کے سامنے کھڑی تھی۔ سرخ ساڑھی اور کالا بلاؤز۔ گورا بدن وہ قیامت تو تھی ہی لیکن آج یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ قیامت اس پر ٹوٹ پڑی ہو۔ اسے دیکھ کر ساحل کا سانس ایک لمحے کو رک گیا۔
وہ مسکرائی۔ سرخ دبیز ہونٹوں کے درمیان آب دار موتی چمکے۔ اس نے اپنی ساڑھی کے ٹھیک پلو کو مزید ٹھیک کیا۔ نتیجے میں وہ اس کے شانے سے ڈھلک گیا۔ اس کا مرمریں بازو عریاں ہوگیا۔ اس نے بغیر آستین کا اور گہرے گلے کا چھوٹا سا بلاؤز پہنا ہوا تھا۔ پلو ٹھیک کر کے اس نے اپنی کالی چمکتی آنکھوں سے ساحل کو دیکھا اور اپنا حسین ہاتھ پیشائی تک لے جاکر آداب کیا۔ وہ اس کی اس ادا پر مرمٹا۔
“آیے تشریف لائیے‘‘ ساحل عمر نے گیٹ کے ایک طرف ہوتے ہوۓ کہا۔
“میں لیٹ تونہیں ہوئی ہوں نا۔‘‘ وہ اپنی نازک کمر لچکاتی گیٹ میں داخل ہوئی۔
“میرا خیال ہے کہ تم اس دنیا کی پہلی لڑکی ہو جو اپنے دوست سے ملنے ٹھیک وقت پر پہنچی ساحل عمر نے ہنس کر کہا اور پلٹ کر گیٹ بند کر دیا۔
“شکر ہے تم نے دوست تو کہا۔” ورشا نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا اور ساتھ ساتھ چلتی ہوئی بولی۔’’آج دوست ہوں تو کل وہ بن جاؤں گی۔‘‘
“وہ…وہ کیا؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
،”ابھی کیا بتاؤں۔ جب بن جاؤں گی تو بتاؤں گی۔“
“کتنا وقت لگے گا” وہ’’ بننے میں۔‘‘ ساحل عمر نے ہنس کر پوچھا۔
“کبھی تو ایک لمحہ لگتا ہے اور کبھی صدیاں لگ جاتی ہیں۔‘‘
بات کچھ آگے بڑھتی لیکن گھر کے دروازے پر اماں کھڑی تھیں۔ وہ انہیں دیکھ کر ہی چپ ہوگئے ۔ ورشا نے انہیں بہت احترام سے سلام کیا۔ ساحل عمر اپنی اماں کے بارے میں اسے تفصیل بتا چکا تھا۔
اماں نے بڑی تنقیدی نظر سے ورشا کو سر سے پیر تک دیکھا۔ پھر ایک دم آگے بڑھیں۔ سلام کے جواب میں اسے دعائیں دیں اور ’’ماشاء اللہ” کہ کر اس کا ہاتھ تھام لیا اور اسے اندر لیکر چلیں۔ اماں کا چہرہ اس وقت دیکھنے والا تھا۔ خوشی ان کے چہرے سے پھوٹی پڑ رہی تھی ۔ انہیں یوں محسوں ہو رہا تا کہ جیسے وہ ساحل عمر کی دلہن لے کر گھر میں داخل ہو رہی ہوں۔
اماں کا یہ سلوک دیکھ کر ورشا کچھ سمٹی اور لجائی سی ان کے ساتھ چلنے گی۔
ساحل عمر مسکرا کر کبھی اماں کو اور کبھی ورشا کو دیکھ رہا تھا۔
ساحل عمر کے گھر میں کوئی اجنبی مہمان آ تا ہی نہ تھا۔ اگر کوئی تکلف والا بندہ آ بھی جاتات اسے ڈرائنگ روم میں بٹھایا جاتا۔ کوئی جاننے والا آتا تو ساحل اسے لاؤنج میں لے آ تا۔ مسعود اور ناصر پر کوئی پابندی نہیں تھی گھر کو ہر کونہ نشست گاہ تھا ان کے لیئے جہان دل چاہے بیٹھیں
اماں ورشا کو سیدھی لاؤنج میں لے آئی تھیں۔ ساحل عمر ابھی ورشا کو بیٹھنے کا اشارہ کرناہی چاہتا تھا کہ اماں فورا بول اٹھیں۔‘‘ ارے یہاں کہاں بیٹھو گی۔ ساحل کا کمرہ وہ سامنے ہے وہاں چلو“
اور پھر اماں ورشا کا ہاتھ تھامے بڑے اطمینان سے ساحل عمر کے بیڈ روم میں داخل ہوگئیں اور پھر جلدی سے باہر نکلتے ہوۓ بولیں۔’’تم یہاں بیٹھو میں کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرتی ہوں۔” اماں کے جانے کے بعد بے اختیار دونوں کی نظریں ملیں اور وہ دونوں ہی کچھ سوچ کر بے انتہا مسکرائے۔
“یہی بیٹھیں گی یا باہر چلیں گی؟‘‘ ساح عمر نے پو چھا۔
’’یہ کون ہے؟‘‘ یکایک ورشا کی آواز تبدیل ہوگئی۔
“کون۔” ساحل عمرکو فوراً ہی معلوم ہوگیا کہ وہ کیا پوچھ رہی ہے۔ وہ رشا ملوک کی تصویر پر نظریں گاڑے ہوئے تھی۔ اس کے ابرو کمان بن چکے تھے اور آنکھوں میں تیر اتر آۓ تھے۔
”پینٹنگ ہے !‘‘ ساحل عمر نے سادگی سے جواب دیا۔
“کس کی ہے؟‘‘ ورشا کے لہجے میں پریشانی شامل تھی۔
”یہ تو مجھے خود بھی معلوم نہیں۔‘‘ ساحل عمر نے سادگی سے کہا۔
“خیالی ہے؟‘‘ اس نے خیال ظاہر کیا۔
“ہاں۔ ایک طرح سے خیالی ہی سمجھو۔ کئی تصویروں کو دیکھ کر بنائی ہے۔‘‘ ساحل عمر نے وضاحت کی۔
“اوہ‘‘ ورشا نے ایک گہرا اور ٹھنڈا سانس لیا۔ اس کے چہرے پر جو چندلمحوں کے شک کا سانپ لہرایا تھا۔ وہ اب غائب ہو چکا تھا۔ ورشا ہنس کر بولی۔’’کہاں بیٹھوں؟”
“پورا کمرہ تمہارے لئے نگاہ منتظر بنا ہوا ہے۔ جہاں چاہے بیٹھو۔‘‘
“تب وہ دھم سے بیڈ پر بیٹھ گئی اور مسکرا کر بولی۔’’میرے پاس آؤ۔ ساحل عمر نے دیوار سے لگی ایک کرسی اٹھائی اور بیڈ کے نزدیک کر کے اس پر بیٹھ گیا۔ کل یہ پینٹنگ مکمل کی ہے تم نے؟‘‘ ورشا کی نظریں اس تصویر پر گڑی تھیں۔
“نہیں۔ یہ پینٹنگ تو میں نے کافی پہلے بنائی تھی۔ کل والی پینٹنگ میرے اسٹوڈیو میں ہے۔ ویسے اس پینٹنگ کی بڑی عجیب کہانی ہے۔ اس کی پیشانی پر ٹیکہ دیکھ رہی ہو۔ یہاں پہلے میں نے ایک بچھو بنایا تھا۔‘‘
“بچھو !” ورشا ذرا سنبھل کر بیٹھ گئی لیکن نظریں اس کی تصویر پر ہی تھیں۔
ساحل عمر کی اچانک ہی اس پر نظر پڑی۔ وہ بیڈ پر تھا اور بڑے مزے سے ورشا کے ہاتھ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ساحل عمر بیڈ پر چلتے بچھو کو دیکھ کر ایک دم پریشان ہو گیا۔ وہ ہڑ بڑا کر کھڑا ہو گیا اور گھٹی گھٹی سی آواز میں بولا۔ ’’ورشا بچھو۔‘‘ بچھو کا نام سن کر ورشا بڑی پھرتی سے کھڑی ہوگئی۔ اس نے پلٹ کر بیڈ کی طرف دیکھا اور اسے دیکھ کر حیران رہ گئی۔
ساحل عمر کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ اس بچھو کو کس چیز سے مارے۔ بیڈ روم میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اسے مار سکتا۔ شیلف میں کچھ کتاہیں ضرور تھیں۔ پہلے اس نے سوچا ایک موٹی سی کتاب نکال کر اس پر دے مارے لیکن وہ جانتا تھا کہ گدے کی وجہ سے بچھو کو چوٹ نہ لگے گی۔ پھر یکایک وہ کچن کی طرف بھا گا۔ چمٹے سے نہ صرف وہ اس بچھو کو پکڑ کر دبا سکتا تھا بلکہ وہ اس پر ضرب بھی لگا سکتا تھا
اس بچھو نے اپنی دم کے ساتھ دونوں ہاتھ بھی اٹھاۓ جیسے سلام کر رہا ہو۔ پھر وہ اپنی جگہ سے گھوما
“تم یہاں سے فورا چلے جاؤ ۔‘‘ ورشا نے تنبیہی لہجے میں لیکن بہت آہستہ سے کہا۔ یہ حکم سنتے ہی وہ بچھو فوراً پلٹا اور بڑی تیزی سے بیڈ کے دوسری طرف چلا گیا۔
ساحل عمر کمرے میں داخل ہوا تو وہ بچھو بیڈ کے دوسری طرف جا رہا تھا اس نے اس کی ایک ہلکی سی جھلک دیکھی۔ وہ چمٹا لے کر بیڈ کے دوسری طرف بھاگا۔
“نہیں۔ ساحل اسے مارنا نہیں‘‘ ورشا ایک دم چیخی۔
ساحل عمر کا اٹھا ہوا ہاتھ ایک دم رک گیا ۔ وہ بچھو قالین پر اس کی رینج میں تھا۔ وہ اگر زور سے اس پر چمٹا مارتا تو اس کی موت یقینی تھی
بچھو کے لئے اتنا وقت بہت تھا۔ وہ بڑی تیزی سے سائیڈ ٹیبل کے پیچھے غائب ہوگیا۔
“تم نے اس بچھو کو مارنے سے مجھے کیوں روک دیا۔‘‘ ساحل عمر حیران تھا۔
“میں نہیں چاہتی کہ تمہارا نقصان ہو۔ اول تو وہ آئندہ تمہیں اس گھر میں نظر نہیں آۓ گا اور اگر آ بھی جاۓ تو مارنا ہرگز نہیں ورنہ بہت تباہی پھیلے گی۔ اب اس سے زیادہ میں تمہیں نہیں بتا سکتی۔‘‘ ورشانے خوفزدہ لہجے میں کہا اور پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ روم سے باہر لائی۔
اتنے میں اماں ہانپتی کانپتی آ ئیں اور ساحل عمر کے ہاتھ سے چمٹا لے کر بولیں۔’’کیا ہوا ساحل؟“
“کچھ نہیں اماں۔‘‘ ساحل عمر انہیں کیا بتاتا۔
“پھر یہ چمٹا کچن سے کیوں لے کر بھاگے۔“
“اماں یہ بیڈ روم میں روٹی پکانے کا مظاہرہ کرنا چاہ رہے تھے۔‘‘ ورشا نے ہنس کر بات ٹالی
“عجیب ہو تم بھی۔‘‘ اماں واپس جاتے ہوئے بولیں۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی۔‘‘
پھر اماں جاتے جاتے پلٹیں اور گویا ہوئیں۔‘‘ چلو ڈائٹنگ ٹیبل پر چلو۔ میں چائے لاتی ہوں۔”
وہ دونوں ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھے۔ ڈائننگ ٹیبل چاۓ کے لوازمات سے بھری ہوئی تھی۔ ورشا ایک کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوۓ بولی ۔’’خاصا تکلف کرلیا۔‘‘
“میں نے کچھ نہیں کیا۔ یہ سب اماں کا کمال ہے ۔‘‘ ساحل عمر اس کے برابر بیٹھتے ہوۓ بولا
”میں نے بھی کچھ نہیں کیا۔ یہ سب تمہارا جمال ہے۔“ ہاتھ میں چاۓ کی کیتلی تھی۔ اماں کی پیچے سے آواز آئی۔
’’واہ ! اماں کیا بات کہی۔ قسم سے ایک چاۓ کا مزہ آ گیا۔” ساحل عمر نے ہنس کر کہا۔
“آپ کچھ اس تصویر کے بارے میں بتا رہے تھے ۔‘‘ ورشا نے فورا موضوع بدلا۔
”اوہ ہاں۔‘‘ ساحل عمر کو جیسے یاد آ گیا۔
پھر اس نے رشا ملوک کی پینٹنگ کی داستان الف سے لے کر ی تک سنا دی۔ البتہ اس نے رشا ملوک کے خواب میں آنے کا ذکر گول کر دیا۔ یہ ساری روداد سن کر ورشا کے چہرے پر پھر فکر مندی کے آثار ظاہر ہوئے لیکن وہ ان آثار کو بڑی خوبصورتی سے دبا گئی۔
چاۓ پینے کے بعد ورشا مناف نے اس کا اسٹوڈیو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ۔’’کیوں اپنا اسٹوڈیو نہیں دکھاؤ گے کیا؟‘‘ اس نے اسے ترچھی نظروں سے دیکھا۔
“ضرور آؤ میرے ساتھ۔ کل میں نے ایک نئی پیٹنگ مکمل کی ہے۔ وہ بھی دیکھ لینا۔‘‘ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر چلا۔
اماں نے آگے بڑھ کر اسٹوڈیو کا لاک کھول دیا۔ ورشا اور ساحل کمرے میں داخل ہوئے۔
یہ اچھا خاصا بڑا کمرہ تھا۔ چیتے کی تصویر مکمل کرنے کے بعد اس نے بورڈ دیوار کی جانب کھسکا دیا تھا۔ دیوار بالکل خالی تھی۔ یہ ایک لائف سائز پینٹنگ تھی۔ اس میں چییا اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ موجود تھا۔ اسے دیکھ کر یوں محسوں ہوتا تھا جیے چیا اب قدم اٹھا کر آ گے آ جاۓ گا۔ ساحل عمر نے اس پینٹنگ پر بہت محنت کی تھی۔ اس محنت کا نتیجہ سامنے ظاہر تھا۔ ایک جیتا جاگتا چیتا۔ بازغر کی فرمائش پر یہ تصویر بنائی گئی تھی۔ وہ ساحل عمر کو ایک ٹیلی فون نمبر دے کر گیا تھا کہ وہ تصویر مکمل ہونے پر اسے اطلاع دے دے۔ وہ آ کر لے جاۓ گا اور منہ مانگا معاوضہ ادا کر جاۓ گا۔
ساحل عمر نے اسے ابھی ٹیلی فون نہیں کیا تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ ورشا کے جانے کے بعد اسے اطلاع دے دے گا کہ کل کسی وقت آ کر وہ پینٹنگ اٹھا لے جاۓ۔ ساحل عمر آ گے تھا۔ اس نے کمرے میں داخل ہوکر اپنی پینٹنگ کی جانب اشارہ کیا۔’’یہ ہے وہ تصویے‘‘
ورشا اس کے اسٹوڈیو پر ایک نظر ڈالتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ ساحل عمر کے اشارہ کرنے پر وہ تہکال کی تصویر کی طرف متوجہ ہوگئی۔
ابھی ورشا نے ایک نظر دیکھا ہی تھا کہ ایک دم اس کے چہرے پر خوف چھا گیا۔ وہ خوفزدہ ہوکر چیختی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔ ساحل عمر کی سمجھ میں نہ آیا کہ ورشا کو اچانک کیا ہوا ؟ وہ بھی اس کے پیچھے تیزی سے باہر نکل آیا۔ ورشا ٹی وی لاؤنج میں ایک صوفے پر بے دم سی پڑی تھی۔
“کیا ہوا ورشا؟‘‘ ساحل عمر اس کے قریب بیٹھتا ہوا بولا۔
اماں بھی پریشان ہوکر ان کے قریب آ گئیں ۔’’اۓ کیا ہوا بھیا؟‘‘۔
“ساحل اس کمرے کا دروازہ فوراً لاک کر دیں۔‘‘ وہ گھبرائے ہوئے لہجے میں بولی۔
’’اچھا۔‘‘ ساحل عمر فورا اٹھا۔
“میں کرتی ہوں۔‘‘ اماں نے جلدی سے کہا۔ ’’تم بیٹھو۔‘‘
“آخر ہوا کیا؟‘‘
“وہ چیتا۔ تصویر سے باہر نکل آیا تھا۔ وہ مجھ پر جھپٹنا چاہتا تھا۔ اس نے حیرت میں ڈالنے والا بیان دیا۔
“یا اللہ خیر. ایک اور نئی مصیبت۔‘‘ ساحل عمر بڑ بڑایا۔ ’’ورشا تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ذرا آؤ میرے ساتھ۔”
”میں اب اس کمرے میں ہرگز نہیں جاؤں گی۔‘‘ ورشا نے سختی سے منع کر دیا۔
’’اچھا میں خود جا کر دیکھتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر ساحل عمر تیزی سے اٹھ گیا۔ اماں دروازہ بند کر نے ہی والی تھیں کہ اس نے روک دیا۔ ’’اماں ایک منٹ۔‘‘
اس نے کمرے میں جا کر تہکال کی تصویر کو دیکھا۔ تصویر اپنی جگہ جوں کی توں موجودتھی۔ اس نے پھر خود اپنے ہاتھ سے اسٹوڈیو کا دروازہ لاک کیا اور ورشا کے پاس آ گیا۔
ورشا اسے خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ وہ بولی۔’’میں ٹھیک کہہ رہی تھی نا۔‘‘
“جی بالکل نہیں۔ تصویر تو جوں کی توں موجود ہے۔ یقین نہ آۓ تو چل کر دوبارہ دیکھ لو”
”کسی قیمت پر نہیں۔ اب میں ہرگز اس تصویر کونہیں دیکھوں گی۔” وہ خوفزدہ لہجے میں بولی۔
“اچھا چلو چھوڑو مت دیکھو. لیکن ڈرومت وہ محض ایک تصویر ہے۔“
’’ کاش ایسا ہی ہوتا۔‘‘ وہ کھوۓ ہوۓ انداز میں بولی۔
’’کیا مطلب….؟‘‘ ساحل عمر نے اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
’’میں نے جو دیکھا وہ کچھ اور ہی دیکھا۔ ممی کا خیال ٹھیک تھا۔”
“کیا کہا تھا ممی نے ؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“ممی نے کہا تھا کہ ساحل کے گھر مت جاؤ اس کے گھر میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جنہیں دیکھ کر تم پریشان ہو جاؤ گی۔ وہی ہوا۔ ممی کے خیال کی تصدیق ہوگئی۔ اچھا میں چلتی ہوں۔ اب میں زیادہ دیر یہاں نہیں ٹھہر سکتی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ فورا کھڑی ہوگئی۔
“ارے درشا کچھ دیر تو اور رکو۔” اس نے التجا کی۔
”نہیں۔ ساحل اب جانا ہی ہوگا۔ میں تم سے جلد ملوں گی۔ او کے پھر……..”
ساحل عمر ورشا کے رویے کو سمجھ نہ سکا۔ جب وہ آئی تھی تو بہت خوش تھی۔ لگتا تھا کہ بہت دیر بیٹھ کر جاۓ گی لیکن اب وہ کچھ اس طرح اکھڑی تھی کہ چند منٹ بیٹھنے کے لئے تیار نہ تھی۔ وہ تہکال کی تصویر دیکھ کر ڈر گئی تھی۔ پتا نہیں اس نے تہکال کی تصویر میں کیا دیکھ لیا تھا۔
ساحل عمر اب سنجیدگی سے سوچ رہا تھا کہ وہ تصویریں بنانا چھوڑ دے۔ حد ہوگئی تھی۔ جوتصور بنا رہا تھا وہ پراسرار ثابت ہو رہی تھی۔ لیکن یہ سلسلہ ابھی انہی دو تصویروں سے شروع ہوا تھا۔ اس سے پہلے تو کبھی کوئی مسئلہ کھڑا نہیں ہوا تھا۔ ورشا تیز تیز قدموں سے گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ گیٹ پر پہنچ کر ساحل عمر نے اس سے پوچھا۔ ’’ورشا تمہاری طبعیت تو ٹھیک ہے نا۔ تم گاڑی ڈرائیو کر لو گی یا میں گھر تک چھوڑ آؤں۔“
“نہیں۔ تم پریشان نہ ہو میں بالکل ٹھیک ہوں۔ میں معذرت چاہتی ہوں کہ میری وجہ سے ایک اچھی ملاقات بوریت میں تبدیل ہوگئی۔ مجھے معاف کر دینا۔‘‘ ورشا نے عجیب سے انداز میں کہا اور گاڑی اسٹارٹ کر کے تیزی سے نکل گئی۔ ساحل عمر گاڑی کی سرخ بتیاں دیکھتا رہ گیا۔
ور شاجب توقع کے خلاف جلد گھر پہنچ گئی تو بر کھا نے گیٹ کھولتے ہی سوال کیا۔ ’’کیا ہوا؟”
“ممی اندر تو آنے دو بتاتی ہوں۔” ورشا نے نرم لیجے میں کہا۔
’’اچھا آؤ…..!‘‘ برکھا گیٹ کے سامنے سے ہٹ گئی۔
گاڑی کھڑی کرنے کے بعد جب ورشا برکھا کے بیڈ روم میں پہنچی تو وہاں عجیب سی بو آ رہی تھی
“ممی…..! تمہارے کمرے میں بوکیسی آ رہی ہے۔” ورشانے لمبا سانس لیتے ہوۓ کہا۔
“ورشا اپنی بات کرو۔‘‘ برکھا کے ایک دم تیور بدل گئے ۔
“بس ممی میں کیا بتاؤں۔ یوں سمجھو کہ مجھے کمرے سے نکلنے میں ذرا دیر ہو جاتی تو میں تو گئی تھی۔‘‘ ورشانے یہ کہہ کر ساحل عمر کے گھر میں اس پر کیا بیتی مختصرا احوال کہہ سنایا۔ ..
“ہوں‘‘ برکھا نے ساری بات سن کر ایک گہرا اور ٹھنڈا سانس لیا اور پھر بولی ۔’’ورشا تجھے وہاں پہنچنے میں دیر ہوگئی۔ اگر تو اس منحوس کی تصویر مکمل ہونے سے پہلے وہاں پہنچ جاتی تو یہ صورت حال نہ ہوتی۔ خیر کوئی بات نہیں۔ میرا نام بھی برکھا ہے۔ میں کرتی ہوں اس کا انتظام۔
“ممی ! تم کیا کروگی۔” ورشا فکر مند ہوکر بولی۔
“بتاتی ہوں کیا کروں گی۔ یہ بتا اس نے میری دی ہوئی انگوٹھی تو نہیں اتار دی۔‘‘ برکھا نے پوچھا
“نہیں وہ اس کے ہاتھ میں تھی۔‘‘ ورشا نے تصدیق کی۔
“اچھا۔‘‘ وہ کسی قد رخوش ہوکر بولی۔’’ یہ بھی اچھا ہے۔ لا ذرا مجھے ٹیلی فون اٹھا دے۔“
ورشانے سائیڈ ٹیبل پر رکھا ٹیلی فون برکھا کی طرف بڑھا دیا۔ برکھا اطمینان سے بیڈ پر بیٹھ کرکسی کو ٹیلی فون ملانے لگی۔
“ہاں واسم کیسے ہو؟‘‘ برکھا نے ادھر سے ٹیلی فون اٹھانے پر خوش اخلاقی سے کہا۔
“میں ٹھیک ہوں برکھا جی آپ حکم فرمائیں۔” اس نے فرماں برداری سے کہا۔
“واسم میں فون ورشا کو دیتی ہوں وہ تمہیں ایک پتہ سمجھائے گی اس پتے کو اچھی طرح سمجھ لو لکھ لو۔ پھر میں بات کرتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر برکھا نے ریسیور ورشا کی طرف بڑھا دیا اور بولی۔
“واسم کو ساحل عمر کے گھر کا پتہ اچھی طرح سمجھا دو‘‘
ورشا نے ریسیور اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پھر ماؤتھ پیسی پر ہاتھ رکھ کر آہستہ سے بولی۔ “ممی کیا کرنے لگی ہو؟‘‘
“سوال نہیں ؟‘‘ برکھا کی بھنویں ایک دم کمان بن گئیں۔
ورشانے واسم کو اچھی طرح ساحل عمر کے گھر کا پتا سجھا دیا۔ پتہ سمجھنے کے بعد واسم نے کہا۔ “برکھا جی کو فون دیجئے“
’’اچھا !‘‘ ورشا نے کہا۔ پھر برکھا کی طرف ریسیور بڑھاتے ہوۓ بولی۔’’ لو ممی بات کرو“
”ہاں۔ واسم پتہ سمجھ میں آ گیا ؟‘‘ برکھا نے سوال کیا۔
”جی سمجھ گیا۔‘‘ اس نے کہا۔
“اب تم نے کیا کرنا ہے اس بات کوغور سے سن لو۔ جیسا میں کہتی ہوں اس پر حرف بہ حرف عمل کرنا” یہ کہہ کر برکھا نے اسے پورا منصوبہ سمجھایا۔
واسم نے ساری بات اچھی طرح سمجھ کر کہا۔ ’’ہو جائے گا اور آج رات ہی ہو جاۓ گا۔”
“بہت ہوشیاری کی ضرورت ہے۔‘‘ برکھا نے تنبیہہ کی۔
”فکر نہ کریں آپ اتنا بتائیں کہ کیا اسے آپ کے بنگلے پر پہنچایا جائے یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
“نہیں اپنی تحویل میں رکھنا۔“ برکھا نے اسکی بات کاٹی اور حکم دیا ”کام ہونے کے بعد اطلاع دو گے تو پھر بتاؤں گی کہ آئندہ کیا کرنا ہے۔“
”ٹھیک ہے برکھا جی!‘‘ واسم نے انتہائی فرماں برداری سے کہا۔
ٹیلی فون بند کر کے برکھا نے ورشا کو اشارہ کیا۔ ورشا نے فون اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا اور بولی۔’’ممی میں کپڑے چینج کر لوں۔‘‘
“ہاں جاؤ میری جان !‘‘ برکھا نے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ”تمہیں دیکھ کر مجھے اپنی جوانی یاد آ گئی۔‘‘
“کیا بات کرتی ہو ممی۔۔۔۔تم کونسی بوڑھی ہو۔۔۔۔۔۔ اب بھی تمہاری جوانی کی قسم کھائی جا سکتی ہے“ ورشا نے ہنس کر کہا اور کمر لچکاتی ہوئی برکھا کے کمرے سے نکل گئی۔
•●•●•●•●•●•●•●•●•
رات کا کھانا کھا کر ساحل عمر نے سوچا کہ کچھ دیر کے لئے باہر ٹہل آۓ۔ پھر اسے ایک دم بازغر کا خیال آیا۔ اسے تصویر کے کمل ہونے کی اطلاع دینا تھی۔ اس نے سوچا کہ پہلے اس سے ٹیلی فون پر بات کرے پھر ٹہلنے جاۓ۔
وہ اپنے آرٹ روم کا تالا کھول کر اندر داخل ہوا لائٹ جلا کر سب سے پہلے اس نے تہکال کی تصور پر نظر ڈائی۔ تصویر اپنی جگہ جوں کی توں موجودتھی ۔ وہ سوچنے لگا کہ بازغر کا ٹیلی فون نمبر کہاں ہے اسے یاد آیا کہ ٹیلی فون نمبر اس نے پینسل سے کسی رسالے پر نوٹ کیا تھا اور یہ سوچ کر نوٹ کیا تھا کہ وہ بعد میں اسے اپنی ڈائری میں اتارے گا؟
لیکن وہ ایسا کرنا بھول گیا اور اب اسے یاد نہیں آ رہا تھا کہ ٹیلی فون نمبر اس نے کس رسالے پر لکھا تھا۔ کمرے میں بے شمار رسالے ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔ وہ ان بکھرے رسالوں کو ایک ایک کر کے دیکھنے لگا لیکن تلاش کے باوجود اسے ٹیلی فون نمبر نہیں ملا۔ وہ پریشان ہو گیا۔ ٹیلی فون نمبر آ خر کہاں گیا۔
وہ مایوس ہوکر کمرے سے نکلنے ہی والا تھا کہ ایک دم اس کی نظر میز پر رکھے ہوۓ ایک رسالے پر پڑی۔ یہ وہ رسالہ تھا جس پر فون نمبر لکھا تھا۔ اس ٹیلی فون نمبر کے لئے اس نے زیادہ تر رسالوں کے سرورق دیکھ لئے تھے جبکہ وہ رسالہ او پر ہی میز پر رکھا تھا۔ اس رسالے پر بھی اس نے نظر ماری تھی لیکن اس وقت وہ نمبر نظر نہیں آیا تھا۔ رسالہ اٹھا کر جب اس نے نمبر دیکھا تو بڑی مایوسی ہوئی۔ ٹیلی فون نمبر کے درمیان سے دو ہندسے مٹے ہوۓ تھے۔ اتنے دھندلے ہو گئے تھے کہ ان کا سمجھنا مشکل تھا۔ یہ نمبر کیونکہ پنسل سے لکھا ہوا تھا۔ اس لئے دو ہندسوں کا مٹ جانا بعید از قیاس نہیں تھا لیکن پریشان کن ضرور تھا۔
اس نے غور سے ان مٹے ہوۓ ہندسوں کو دیکھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی نے ربڑ مار دی ہے۔
بہر حال جو بھی تھا۔ اب بازغر کو ٹیلی فون کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ بازغر سے اب اسی صورت میں رابطہ ہوسکتا ہے کہ وہ خود ہی تصویر کے بارے میں دریافت کرے۔
ٹیلی فون نمبر سے مایوس ہو کر وہ کمرے سے نکل آیا۔ اس نے اپنے سٹوڈیو کو لاک کر دیا اور گھر سے باہر نکل کر لان پر ٹہلنے لگا۔
اپنی ان دو تصویروں کی وجہ سے وہ عجیب وغریب حالات کا شکار ہوگیا تھا۔ دلہن والی تصویر پر بنے بچھو نے نا قابل یقین واقعات سے دوچار کیا تھا اور اب اس چیتے کی پینٹنگ نے رنگ دکھانا شروع کر دیا تھا۔بدلہن والی تصویر پر بازغر جھپٹا تھا۔ اس نے بچھو کو مارنا چاہا تھا اور اس چیتے والی تصویر کو دیکھ کر ورشا ڈر گئی تھی۔ بقول اس کے اسے دیکھ کر چیتا اس پر جھپٹا تھا۔ وہ تصویر سے باہر نکل آیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تصویریں اس نے بہت محنت سے بنائی تھیں۔ وہ جاندار دکھائی دیتی تھیں۔ اب اس نے یہ بھی نہیں چاہا کہ وہ تصویریں متحرک ہو جائیں۔ ان میں جان پڑ جاۓ ٹہلتے ٹہلتے اسے جب کافی دیر ہوگئی تو اماں نے باہر آ کر جھانکا۔ دروازے پر کھڑے ہوکر انہوں نے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا۔ ان کے ہاتھ میں تسبیح تھی۔ جب ساحل عمران کے قریب پہنچا تو انہوں نے اس کے چہرے پر اچھی طرح پھونک ماری اور پھر بولیں ۔’’کیا آج رات بھر ٹہلنے کا ارادہ ہے؟‘‘
”نہیں اماں بس جا رہا ہوں اپنے کمرے میں۔“ اس نے سعادت مندی سے کہا۔
’’چلو پھر تم اندر جاؤ‘ میں باہر کی لائٹیں وغیرہ بند کر کے آتی ہوں۔‘‘ اماں بولیں۔
”اماں میں بند کر کے آ جاؤں گا۔‘‘ ساحل عمر نے خواہش ظاہر کی۔
”نہیں بھئی میں خود کروں گی۔ پتہ نہیں تم ٹھیک سے بند کرو گے کہ نہیں۔ دوسرے میں کاہل نہیں بننا چاہتی ذرا چلتے پھرتے رہنا چاہتی ہوں۔” وہ ہنس کر بولیں۔
”اچھا اماں !‘‘ ساحل عمر نے مسکرا کر کہا۔ ’’ آپ اپنی جان بنائیں میں اندر چلتا ہوں۔“ ساحل عمر نے اپنے بیڈ روم میں آ کر لائٹ آن کی۔ لائٹ جلاتے ہی اس کی نظر رشا ملوک کی تصویر پر پڑی اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی چیز رینگ کر فریم کے پیچھے گئی ہے۔ وہ تیزی سے دوڑ کر تصویر کے نزدیک پہنچا۔ اس نے جھانک کر فریم کے پیچھے دیکھا۔ وہاں کچھ نہیں تھا۔ ایک وہم سمجھ کر اس نے ذہن جھٹک دیا اور کیسٹوں کی قطار میں سے کوئی کیسٹ نکالنے کے لئے ان پر نظر ڈالنے لگا۔ ایک کیسٹ منتخب کر کے اس نے ڈیک میں لگا دیا۔ آواز دھیمی تھی پھر بھی احتیاطا کمرے کا دروازہ بند کر دیا تا کہ اماں ڈسٹرب نہ ہوں۔ پھر اس نے کمرے کی لائٹ آف کردی اور اطمینان سے لیٹ کر گانے سننے لگا۔ گانے سنتے سنتے اسے نیند نے آلیا۔ کیسٹ ختم ہونے کے بعد ڈ یک خود بخود آف ہوگیا۔
پھر وہی منظر، وہی فضا، نیلا آسمان، خوبصورت برف پوش پہاڑ، تیز رفتار چشمہ، چشمے میں پڑے بڑے بڑے پتھر اور ایک بڑے پتھر پر بیٹھی رشا ملوک، وہی سفید ریشمیں لبادہ ذرا فاصلے پر بہتے پانی میں کھڑا چیتا۔
چیتے کو دیکھتے ہی ساحل عمر نے فورا پہچان لیا کہ وہ تہکال ہے۔ اسے تہکال کو دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی۔ اس سے بڑی حیرت کی بات یہ تھی کہ چیتے کے نزدیک کھڑے ہونے کے باوجود رشا ملوک بڑے اطمینان سے بیٹھی تھی۔ اسے چیتے کا ذرا سا بھی ڈر نہ تھا۔
تب ساحل عمر نے اسے آواز دی۔ ’’رشاملوک !‘‘
رشاملوک نے جب مڑ کر ساحل کی طرف دیکھا تو وہ اس کا چہرہ دیکھ کر پریشان ہوگیا۔ اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔
’’ارے رشا ملوک کیا ہوا ؟‘‘ وہ پریشان ہوکر بولا ’’تم رو رہی ہو؟‘‘
پھر وہ تیزی سے اس پتھر کی طرف بڑھا جس پر وہ بیٹھی ہوئی تھی۔ جب وہ پانی سے گزرکر پتھر کے نزدیک پہنچا تو وہاں کچھ نہ تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک بادل کا ٹکڑا کہیں سے نمودار ہوا۔ ۔ پھر وہ گہرے بادل میں چھپ گئی اور وہ بادل اسے لے اڑا۔ اب وہاں خالی پتھر تھا اور وہ چیتا ایک بڑے پتھر پر اپنی دونوں ٹانگیں رکھے انگڑائی لے رہا تھا۔ اس نے بھی ساحل عمر کی طرف سے منہ موڑ لیا تھا۔ اچانک اسے کھٹ کھٹ کی آواز سنائی دی۔ اس کی فورا آ نکھ کھل گئی ۔ تب پتہ چلا کہ دروازے پر کوئی دستک دے رہا ہے۔ ساتھ ہی اس کا نام بھی پکار رہا ہے۔ وہ فوراً اٹھا۔ یہ تو اماں کی آواز تھی۔ اس نے کمرے کی لائٹ جلائی اور تیزی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔ دروازے پر اماں پریشان کھڑی تھیں۔
“خیریت ہے اماں کیا ہوا ؟‘‘ ساحل عمر نے ان کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
ساحل گیٹ پر کوئی ہے ؟ کئی بار بیل ہوچکی ہے؟‘‘
اماں نے بتایا۔
اس وقت ایک مرتبہ پھر بیل کی آواز سنائی دی۔
ساحل عمر نے دیوار گیر گھڑی پر نظر ڈالی ۔ دو بج رہے تھے۔ یہ رات کے دو بجے اس کے دروازے پر کون آ گیا۔
“لائیں اماں چابی دیں میں دیکھتا ہوں۔”
“ساحل ! گیٹ کھولنے سے پہلے اچھی طرح تصدیق کر لینا کون ہے؟“ اماں نے چابی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
“گیٹ کے نزدیک پہنچ کر اس نے آواز لگائی۔’’کون ؟‘‘
”صاحب جی دروازہ کھولیں میں برابر کے بنگلے کا چوکیدار ہوں۔‘‘ ادھر سے آواز آئی۔
’’ کیا ہوا ؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔ “
صاحب جی آپ دروازہ تو کھولیں بتاتا ہوں جلدی کر یں۔ ہمارے صاحب پر دل کا دورہ پڑا ہے”
دل کے دورے کا سن کر ساحل عمر نے جلدی سے گیٹ کھول دیا۔
گیٹ کھلتے ہی چار نقاب پوش تیزی سے اندر آئے۔ ایک نے کلاشنکوف کی نال اس کے سینے پر رکھتے ہوئے کہا
“چلو، اندر چلو…!“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: