Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 8

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 8

–**–**–

ایک نقاب پوش نے پلٹ کر گیٹ بند کر دیا اور پھر وہ چاروں اسے کلاشنکوف کی زد پر لئے گھر کی طرف بڑھے۔ اماں گھر کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ انہوں نے صورت حال گھمبیر دیکھی تو وہ لپک کر آگے بڑھیں اور التجا آمیز لہجے میں بولیں۔
’’اے بھیا! میرے ساحل عمر کو کچھ مت کہنا۔ اگر مارنے آۓ ہوتو مجھے مار دینا اور ڈاکے کی غرض سے آۓ ہوتو گھر کی جو چیز لے جانا چاہتے ہو وہ لے جاؤ۔ تمہیں کوئی نہیں روکے گا۔‘‘
”بڑھیا بڑی عقل مند معلوم ہوتی ہے۔‘‘ ان ہی میں سے ایک نقاب پوش بولا۔ “بڑی بی ہم تمہاری جان لے کر کیا کریں گے۔ تم ویسے ہی قبر میں پیر لئے لٹکاۓ بیٹھی ہو۔ چلوتم بھی اندر چلو۔‘‘
دوسرے نقاب پوش نے اماں کو بھی نشانے پر لے لیا۔ گھر کے اندر آ کر انہوں نے گھر کا دروازہ بھی اندر سے بند کرلیا۔ لاؤنج میں آ کر انہوں نے ساحل عمر کو ایک صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ساحل عمر خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گیا۔ یہ صورت حال اس کے لئے بالکل نئی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ ان سے کس طرح گفتگو کا آغاز کرے۔
’’ایم ون۔‘‘ ایک نقاب پوش اپنے کسی ساتھی سے مخاطب ہوا۔
“سر!‘‘ وہ نقاب پوش جس کا نام ایم ون تھا جھک کر بولا۔
”گھر کا جائزہ لو۔ دیکھو ہمارا مال کہاں ہے؟“
”ٹیک ہے سر۔‘‘ ایم ون یہ کہ کر پہلے ڈرائنگ روم میں گیا اس کے بعد اس نے گھر کا چپہ چپہ دیکھ ڈالا پھر واپس آیا۔
”ہاں کیا ہوا ؟‘‘
”گھر میں ان دونوں کے سوا کوئی اور نہیں۔ دوسرے ہمارا مال کھلے کمروں میں نہیں۔ ایک کمرہ لاک ہے۔ ممکن ہے وہ وہاں ہو۔“
”آپ لوگ کیا چاہتے ہیں؟“ بالآ خر ساحل عمر کو بولنا پڑا۔ ”فی الحال بند کمرے کی چابی‘‘ ایک نقاب پوش بولا جو شاید ان کا چیف تھا۔
”آؤ میرے ساتھ میں کھولتی ہوں کمرہ‘‘ ساحل عمر کے کچھ جواب دینے سے پہلے ہی اماں بول پڑیں اور وہ سال عمر کے اسٹوڈیو کی طرف بڑھیں۔
انہوں نے چابی میز کی دراز سے نکال کر جلدی
سے کمرہ کھول دیا۔
ایم ٹو اپنی کلاشنکوف کندھے پر ڈال کر کمرے کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھول کر وہ اندر گیا اور چند سیکنڈ کے بعد ہی باہر آ گیا۔ پھر اس نے دروازے پر کھڑے ہوکر آواز لگائی۔
”سر وہ اندر ہے۔“
”ٹھیک ہے۔ ان دونوں کو بہت پیار سے ڈائننگ ٹیبل کی کرسیوں سے باندھ دو۔‘‘ چیف نے حکم دیا۔
”ہمیں باندھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ ساحل عمر نے کہا۔’’ آپ لوگ جو چیز یہاں سے لے جانا چاہتے ہیں وہ لے جائیں۔
”مسٹر ساحل ہمیں آپ کے مشورے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے حق میں بہتر ہوگا کہ خاموشی اختیار کر یں۔‘‘ چیف نے سخت لہجے میں کہا۔
پھر وہ اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوا۔’’چلو اپنا کام کرو“
دو نقاب پوشوں نے بیگ میں سے رسی نکال کر دونوں کو کرسیوں سے باندھ دیا۔
پھر وہ چیف اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسٹوڈیو میں داخل ہوا۔ اس نے چیتے کی تصویر پر ایک نظر ڈالی اور ایم ون سے مخاطب ہوکر کہا۔ ’’اسے احتیاط سے اتارلو۔“
ایم ون اور ایم ٹو نے مل کر وہ تصویر بورڈ پر سے اتار لی۔
“چلو اسے گاڑی میں رکھو۔‘‘ چیف نے حکم دیا۔
جب وہ دونوں چیتے کی تصویر اٹھائے کمرے سے باہر نکلے تو ساحل عمر یہ دیکھ کر سناٹے میں آ گیا۔ یہ کس قسم کے ڈاکو ہیں کہ بھرے ہوۓ گھر میں سے محض ایک پینٹنگ اٹھا کر لئے جا رہے ہیں۔ اس تصویر میں ان کی کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔ پھر اس نے سوچا کہ ابھی تو یہ ابتدا ہے ہوسکتا ہے یہ لوگ اس پیٹنگ کے بعد دوسری چیزوں پر بھی ہاتھ صاف کرنا چاہیں اور ابھی سے اپنی جان کا بھی خطرہ تھا۔ کیا پتہ جاتے جاتے وہ ان دونوں کو بھی اوپر پہنچاتے جائیں۔
”بھائی اس تصویر کا آپ کیا کر یں گے ؟‘‘ ساحل عمر سے بولے بنا رہا نہ گیا۔
”مسٹر ساحل سوال کوئی نہیں۔ ہمیں مجبور نہ کر یں۔ خواہ خواہ آپ کے منہ میں کپڑا ٹھونسنا پڑے گا۔‘‘ چیف نے اسے تنبیہہ کی۔
”ساحل خاموش رہو۔‘‘ اماں نے فکر مند لہجے میں کہا۔
کچھ دیر کے بعد جب چیف کو یقین ہوگیا کہ چیتے کی تصویر گاڑی میں بحفاظت رکھی جاچکی ہے تو اس نے ساحل عمر کو مخاطب کر کے کہا۔ ’’مسٹر ساحل ! ہم جا رہے ہیں۔ ہم نے آپ کے گھر ے صرف ایک پینٹنگ اٹھائی ہے۔ ہم چاہتے تو یہاں سے بہت کچھ لے جاسکتے تھے۔ لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔ ہم اب جا رہے ہیں۔ گھر کا دروازہ اور باہر کا گیٹ کھلا رہے گا۔ آپ لوگ صبح تک اس کرسی پر براجمان رہیں۔ صبح کوئی نہ کوئی گھر کے اندر آ کر آپ کو کھول دے گا۔ کھل جانے پر زیادہ پھیلنے کی کوشش مت کیجئے گا۔ ویسے بھی ایک تصویر کی چوری کی رپورٹ کوئی تھانیدار لکھنے پر راضی نہ ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ آپ اپنے گھر میں آرام سے رہیں۔‘‘
ساحل عمر نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ کیا جواب دیتا۔
”نہیں بھیا تم جاؤ آرام سے۔ ہمیں پولیس میں رپورٹ لکھانے کی کیا ضرورت ہے۔ ساحل عمر چاہیں گے تو ایسی کئی تصویریں بنا کر پھینک دیں گے۔“ اماں فورا بولیں۔ وہ ڈاکوؤں کو مطمئن کر دینا چاہتی تھیں کہ ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
”بڑھیا تم واقعی عقلمند ہو۔۔۔۔۔۔ ساحل کو قابو میں رکھنا۔ اگر انہوں نے ہڑ بونگ مچانے کی کوشش کی تو یاد رکھو ہم دوبارہ بھی آ سکتے ہیں۔“ یہ کہہ کر چیف کمرے سے نکل گیا۔
کچھ دیر کے بعد ساحل عمر نے گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز سنی۔ اس کے بعد سناٹا چھا گیا
ساحل عمر نے اماں کی طرف گردن گھما کر دیکھا اور ہنستے ہوۓ بولا۔ ’’اماں۔۔۔۔۔ تم بندھی ہوئی کیا غضب کی لگ رہی ہو۔‘‘
”ساحل تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے۔ ادھر میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔“ اماں نے پریشان لہجے میں کہا
”خدا کا شکر ادا کرد اماں کہ وہ ہمارے منہ میں کپڑا ٹھونس کر نہیں گئے۔ ورنہ بات کرنے سے بھی ترس جاتے ۔ پھر ایک مہربانی انہوں نے اور کی کہ باہر کا گیٹ کھلا چھوڑ گئے ہیں۔ ورنہ ان کے لئے گیٹ اندر سے بند کر کے دیوار پھلانگ جانا کوئی مشکل کام نہ تھا۔ اماں یہ کس قدر پیارے ڈاکو تھے۔ میرا خیال ہے کہ باذوق بھی تھے تبھی صرف ایک پینٹنگ لے کر چلے گئے۔ ہیں اماں ؟‘‘ ساحل عمر نے اماں سے تصدیق چاہی۔
“ساحل آخرتم اس قدر کیوں بول رہے ہو۔“ اماں اس صدمے سے ابھی سنبھل نہ پائی تھیں۔ وہ خاموش رہ کر اپنے حواس بحال کرنا چاہتی تھیں۔
”اماں ابھی تو صبح ہونے میں کئی گھنٹے باقی ہیں۔ اس طرح خاموشی میں کس طرح رات کٹے گی۔ اچھا اماں یوں کرو ۔ کوئی اچھا سا لطیفہ سناؤ۔“
اماں نے جواب میں اسے گھور کر دیکھا۔
”کوئی بات نہیں اماں۔ تمہیں اگر کوئی لطیفہ یاد نہیں تو کیا ہوا۔ مجھے سینکڑوں لطیفے یاد ہیں۔ میں تمہیں سناتا ہوں ۔‘‘ ساحل عمر نے اس کے گھورنے کی پرواہ نہ کی وہ اپنی دھن میں بولتا رہا۔ ’’ایک شیر لنچ میں پورا ہرن کھانے کے بعد جنگل میں قیلولے کے لئے کوئی اچھی سی جگہ تلاش کر رہا تھا۔ وہ جھاڑی میں چھپے دو چوہوں کے سامنے سے گزرا تو ایک چوہا بولا۔ چلو یار اس کو مارتے ہیں۔ بہت اکڑتا ہے۔ دوسرا چو ہا بولا۔ اوہ نہیں یار اسے کیا مارنا۔ اکیلا ہے اور ہم دو ہیں۔“ لطیفہ سن کر اماں بے اختیار ہنس پڑیں اور پھر بولیں۔
’’ ساحل تم بہت شریر ہو۔“
صبح ہوئی تو سب سے پہلے مرجینا گھر میں داخل ہوئی۔ وہ صبح سات بجے ہی کام پر آ جاتی تھی۔ گھنٹی بجانے پر گیٹ اماں کھولتی تھیں لیکن آج تو گیٹ کھلا ہوا تھا۔ وہ اندر آئی تو اس نے گھر کا دروازہ بھی کھلا پایا۔ اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی مگر اسے اماں کہیں نظر نہ آئیں۔ وہ یہ سوچتی کہ آج گھر کے دروازے چوپٹ کیوں پڑے ہیں۔ گھر میں داخل ہوئی تو ڈائننگ ٹیل کے نزد یک کرسیوں پر اماں اور ساحل عمر کو بندھا پایا۔
وہ دونوں کو ہونقوں کی طرح دیکھنے لگی۔’’ہیں !‘‘
’’او اماں مرجینا آ گئی۔‘‘ ساحل عمر نے خوش ہوکر کہا۔
”مرجینا جلدی کرو ہمیں کھولو۔‘‘ اماں جلدی سے بولیں۔
’’ہاۓ یہ کیا ہوا ؟‘‘ مرجینا فورا ساحل عمر کی طرف لپکی۔
’’پہلے اماں کو کھولو۔‘‘ ساحل عمر نے ملائم لہجے میں کہا۔
مرجینا نے جلدی جلدی اماں کو کھولا پھر وہ ساحل عمر کی طرف بڑھی۔ جب وہ اس کی رسیاں کھول رہی تھی تو ساحل عمر بولا۔ ”مر جینا ! کیا تم جانتی ہو کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔“
”صاحب جی مجھے نہیں معلوم آج کیا تاریخ ہے۔ دن معلوم ہے آج جمعرات ہے۔“ اپنی دھن میں بولی۔
”تمہیں تاریخ نہیں معلوم تو کوئی بات نہیں، مجھے تاریخ کا پتہ ہے۔ میں تمہیں بتاتا ہوں۔ میری بات غور سے سنو۔ ایک زمانے میں مرجینا نے چالیس چوروں سے علی بابا کی جان بچائی تھی۔ کیا عجیب اتفاق ہے کہ آج کی مرجینا نے پھر ایک مرتبہ علی بابا یعنی ساحل عمر کی جان بچائی۔ یہ اور بات ہے کہ ڈاکو کب کے گھر سے جاچکے ہیں۔” ساحل عمر نے بیٹھے بیٹھے اپنے ہاتھ پاؤں ہلاۓ جو بندھے بند ھے اکڑ گئے تھے۔
’’ڈاکو صاحب جی کیا یہاں ڈاکو آئے تھے۔‘‘ مرجینا کی آنکھیں پھٹ گئیں۔
”ہاں آۓ تھے اور وہ تمہارا پوچھ رہے تھے۔ کہہ رہے تھے کہ مرجینا کہاں ہے۔ ہم نے اس سے اپنے آباؤ اجداد کا بدلہ لینا ہے۔“ ساحل عمر نے ہنس کر کہا۔
“صاحب جی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔“
”مرجینا ! تم جھاڑو پکڑو اور شروع ہو جاؤ۔ تم ساحل کی باتوں میں کہاں آئی ہو۔“
”اماں جی ادھر چلیں ناں۔‘‘ مرجینا انہیں کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولی۔ ”مجھے بتائیں ناں کہ آپ لوگوں کو کس نے باندھا ہے۔‘‘
”ہاں چلو۔ میں تمہیں بتاتی ہوں۔“ اماں اپنا جسم سہلاتی ہوئی اس کے ساتھ ہو لیں۔
اور وہ اس کرسی پر بیٹھا انہیں جاتا ہوا دیکھ کر مسکراتا رہا۔ ناشتہ کرنے کے بعد اس نے اپنے دونوں دوستوں کو فون کیا۔ انہیں اس انوکھی ڈکیتی کی خبر سنائی۔
مسعود آفاقی نے کہا کہ اخبار میں خبر لگواؤ۔ ناصر مرزا نے کہا کہ پولیس میں رپورٹ درج کراؤ۔ ساحل عمر ان دونوں باتوں کے حق میں نہ تھا۔ اس کا خیال تھا کہ جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔ سانپ نکل چکا ہے۔ اب اس کی لکیر پیٹنے سے کیا فائدہ. لیکن اس کی دوستوں کے آگے ایک نہ چلی۔
وہ دونوں اس کے گھر آ گئے۔ ناصر مرزا کے پولیس میں تعلقات تھے۔ اس نے کوشش کر کے تھانے میں رپورٹ درج کرا دی تھانے دار کو ر پورٹ درج کرنا ہی پڑی کیونکہ اس تصویر کی قیمت ایک لاکھ روپے جو بتائی گئی۔ مسعود آفاتی نے اپنے ایک صحافی دوست کوفون کر دیا اور یوں یہ خبر اخبارات کی زینت بن گئی۔
ادھر یہ کاروائی ہوئی تو ادھر ڈاکوؤں کے چیف نے رات تین بجے ٹیلی فون پر واسم کو اطلاع دی۔ واسم تصویر کے قبضے میں آ جانے پر بہت خوش ہوا۔ اس نے فورا برکھا کا نمبر گھمایا۔
برکھا کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی ۔ وہ ڈھائی بجے تک اپنے پسندیدہ کمرے میں بیٹھ کر ایک جاپ کرتی رہی تھی۔ جاپ سے فارغ ہوکر وہ نہائی اور پھر اپنے بیڈ روم میں آ گئی۔ پھر وہ جلد ہی سوگئی۔ اسے امید نہیں تھی کہ واسم رات ہی کو اسے فون کرے گا۔ ٹیلی فون سائیڈ ٹیبل پر رکھا تھا۔ اس کی بیل ہو رہی تھی اور برکھا گہری نیند میں ہونے کی وجہ سے اسے سن نہیں رہی تھی۔
پانچویں بیل پر اچانک اس کی آ نکھ کھل گئی۔ ٹیلی فون کی گھنٹی کی آواز سن کر اس پر جھنجھلاہٹ طاری ہوگئی اس وقت کس منحوس کا ٹیلی فون آ گیا اس نے غصے سے ریسیور اٹھا کر جھنجلائے ہوئے انداز میں کہا۔’’کون ؟‘‘
”برکھا جی۔ میں ہوں واسم۔‘‘ واسم نے اس کی جھنجلاہٹ کو محسوس کرلیا تھا وہ فورا بولا ۔’اس وقت ٹیلی فون کرنے کی معافی چاہتا ہوں۔“
”اچھا تم ہو۔‘‘ برکھا واسم کی آواز پہچان کر نرم لہجے میں بولی۔”ہاں بولو کیسے فون کیا ؟‘‘
”برکھا جی۔ آپ کا کام ہوگیا ہے۔“ اس نے خوشخبری سنائی ۔
”سچ‘‘ برکھا خوشی سے اچھل پڑی۔
“ہاں برکھا جی بالکل سچ ہے۔“
”کہاں ہے وہ؟‘‘ برکھا نے بے تابی سے پوچھا۔
”طارق روڈ کے ایک مکان میں“ واسم نے بتایا۔
اچھا ایسا کردمو اسے کل دوپہر تک اپنے گھر منتقل کرلو۔ میں کل شام کو کسی وقت تمہارے گھر آ جاؤں گی۔‘‘
”برکھا جی پھر تو ہمارے نصیب جاگ جائیں گے۔‘‘ وہ سرشار ہوکر بولا ۔
”ہاں بالکل میں تمہارا نصیب جگانے آرہی ہوں کیا نام ہے تمہارے نصیب کا میں بھول گئی۔“ برکھا نے ہنس کر پوچھا۔
”ستارہ۔“ واسم نے بتایا۔
”بس سمجھو که ستارہ تمہاری ہوگئی۔ اس کی ساری اکڑ نکل جائے گی۔ وہ اب تمہارے قدموں میں لوٹے گی۔“ برکھا نے بڑے یقین سے کہا۔
”میں پھر شام کو آپ کا منتظر رہوں گا۔‘‘ واسم سے خوشی چھپاۓ نہ چھپ رہی تھی۔
ستارہ ایک اسکول ٹیچر تھی۔ وہ واسم کے گھر کے نزدیک ہی رہتی تھی۔ واسم اسے روز اسکول آتے جاتے دیکھا تھا۔ وہ اس پر مرمٹا تھا لیکن ستارہ اس پر مر مٹنے کے لئے ہرگز تیار نہ تھی البتہ وہ اسے مٹانے کی ضرور خواہشمند تھی۔ واسم نے کئی مرتبہ برکھا سے اس کا ذکر کیا تھا لیکن برکھا ٹال گئی تھی۔ لیکن اب کیونکہ واسم نے ایک بہت بڑا کام چٹکیوں میں کر دیا تھا تو اس کا بھی فرض تھا کہ وہ بھی اس کے لئے کچھ کرے۔
واسم صبج اٹھا تو بہت خوش تھا۔ رات سے ستارہ اس کی آنکھوں میں گھوم رہی تھی۔ اب وہ وقت زیادہ دور نہیں تھا جب وہ بے اختیار اس کے قدموں میں آ کر گرے گی۔ برکھا کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا۔ یہ وہ اچھی طرح جانتا تھا۔
وہ گاڑی میں صبح دس بجے کے قریب ڈاکوؤں کے چیف رفیق کے گھر پہنچ گیا۔ جب وہ رفیق کے گھر کے سامنے پہنچا تو اس کے گھر کا نقشہ ہی کچھ اور پایا۔ اس کے گھر کے آگے بے شمار لوگ جمع تھے ساتھ ہی پولیس کی ایک موبائل بھی موجود تھی اور ایک ایمبولینس ابھی ابھی دروازے پر آکر رکی تھی۔
واسم نے اپنی گاڑی فوراً بیک کی۔ پھر وہ اپنی گاڑی رفیق کے گھر سے ذرا فاصلے پر کھڑی کر کے واپس آیا۔ گھر میں پولیس موجود تھی۔ وہ گھر کے اندر جانا نہیں چاہتا تھالیکن یہ ضرور جاننا چاہتا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے ؟
ابھی وہ وہاں کھڑے کسی آدمی سے معلومات حاصل کرنے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایم ون پر پڑی۔ وہ گھر کے دروازے سے ابھی باہر آیا تھا۔
واسم نے اس کے نزدیک پہنچ کر بڑی آہستگی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ایم ون نے مڑکر دیکھا اور پھر واسم کو اپنے سامنے پاکر وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑا۔ واسم اسے اپنی گاڑی کی طرف لے آیا۔ پھر اس نے گاڑی میں بیٹھ کر پوچھا۔
’’کیا ہوا؟‘‘
“سر جی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کیا ہوا ؟‘‘ ایم ون پریشان تھا۔
”رفیق تو خیریت سے ہے؟‘‘
”رفیق مر گیا سر جی۔“ ایم ون کی آواز گلو گیر ہوگئی۔
”کس نے مارا ہے اسے؟‘‘ واسم ایک دم سانپ کی طرح پھنکارا۔
”سر جی معلوم نہیں۔ اس کی لاش کی حالت بہت خراب تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی خونخوار جانور نے اسے بھنبھوڑا ہو۔‘‘ اس نے ایک عجیب انکشاف کیا۔
”یہ کیا کہہ رہے ہوتم . اور وہ تصویر.؟ وہ تصویر کہاں ہے؟“
”سر جی وہ چیتے والی تصویر ہم رفیق کے گھر میں رکھ کر اپنے گھروں کو چلے گئے۔ رفیق نے مجھے صبح ہی بلایا تھا تا کہ آپ کا فون آنے کی صورت میں تصویر جہاں پہنچانی ہو پہنچائی جاسکے۔ میں آٹھ بجے کے قریب یہاں پہنچا تو ایک کہرام مچا ہوا تھا۔ رات وہ تصویر ہم نے رفیق کے ڈرائنگ روم میں لاکر رکھی تھی۔ ہمارے جانے کے بعد وہ ڈرائنگ روم میں ہی سوگیا۔ صبح چار بجے کے قریب رفیق کی بیوی کو رفیق کی چیخ سنائی دی۔ وہ بھاگ کر ڈرائنگ روم میں پہنچی تو اس نے دیکھا کہ ایک چیتا رفیق کو بری طرح بھنبوڑ رہا ہے۔ وہ اس منظر کو دیکھ کر اپنے حواس گم کر بیٹھی۔ گھر کے ایک کمرے میں رفیق کا بھائی ساجد بھی سویا ہوا تھا۔ وہ رفیق کی چیخ اور بعد میں اپنی بھابھی کی گھٹی گھٹی سی آواز سن کر ڈرائنگ روم میں آیا تو اس نے اپنی بھابھی کو بے ہوش اور اپنے بھائی کی لاش کو ادھڑا ہوا پایا۔ اس وقت کمرے میں کوئی اور نہ تھا۔ رفیق کی بیوی کو جب ہوش آیا تو اس نے چیتے والی بات بتائی لیکن اس بات پرکسی کو یقین نہ آیا۔ اتنے میں کسی نے پولیس کو اطلاع دے دی۔ پولیس نے پہنچتے ہی رفیق کی لاش کو اسپتال پہنچانے کا انتظام کیا اور وہ تصویر اپنی تحویل میں لے لی۔ ایمبولینس آ چکی ہے۔ اس کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے جائی جانے والی ہے۔‘‘ ایم ون نے پورا واقعہ تفصیل سے بتا دیا۔
”یہ تو بہت برا ہوا۔‘‘ واسم کا چہرہ اتر گیا۔ ’’میں تو وہ تصویر لینے یہاں آیا تھا۔“
”اس تصویر پر تو پولیس نے قبضہ کرلیا ہے۔ اس کی دھڑا دھڑ تصوریں بن رہی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ شام کے اخباروں میں یہ خبر چھپ جاۓ گی۔ اب ہمیں کچھ انتظار کرنا ہوگا۔ اس وقت تک انتظار کرنا ہوگا جب تک یہ تصویر واپس آرٹسٹ کے گھر نہ پہنچ جاۓ۔ سر جی تصویر وہاں پہنچ جانے دیجئے وہاں سے دوبارہ نکالنا میری ذمہ داری۔ آپ فکر مند نہ ہوں۔“ ایم ون نے واسم کا حوصلہ بڑھایا۔
یہ بات واسم کی سمجھ میں آئی۔ وہ گہرا اور ٹھنڈا سانس لے کر بولا۔ “تم ٹھیک کہتے ہو۔ واقعی چند دن انتظار کرنا ہوگا۔‘‘
چند دن تو بہت بڑی بات تھی۔ برکھا کے لئے چند گھنٹوں کا انتظار سوہان روح تھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ تہکال کی پینٹنگ اس کے ہاتھ آتے آتے ہاتھ سے نکل گئی ہے تو وہ تلملا کر رہ گئی۔ اس کے سوا وہ کچھ کر نہیں سکتی تھی۔
واسم کے جانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں کسی بھپری ہوئی شیرنی کی طرح ٹہل رہی تھی۔ ورشا اپنی ماں کی پریشانی کو اچھی طرح سمجھتی تھی۔ وہ اسے کچھ دیر بے قراری سے ٹہلتا ہوا دیکھتی رہی۔۔۔ بلآ خر اس سے بولے بنا رہا نہ گیا۔
“ممی آخر آپ بھوکی شیرنی کی طرح کب تک ٹہلیں گی۔“
”ورشا تمہیں انداز نہیں ہے کہ کیا ہو گیا ہے۔“
”میں آپ کی پریشانی کو سمجھتی ہوں ممی۔ چند دن کی بات اور ہے۔ وہ پینٹنگ پھر آپ کے سامنے ہوگی۔ اس قدر پریشان نہ ہوں۔“ ورشا نے تسلی دی۔
”پریشان کیسے نہ ہوں ورشا.. بنا بنایا کام بگڑ گیا۔“
”کیا کام بگڑ گیا ممی؟‘‘
”تو نہیں جانتی کہ تہکال کا خاتمہ کس قدر ضروری ہے۔“
”ہاں ممی آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ جب یہ خبر اخبار میں آئے گی تو اس بات پر کوئی یقین نہ کرے گا کہ رفیق کو کسی تصویر کے چیتے نے بھنبوڑ ڈالا ہوگا لیکن می میں اس بات پر پورا یقین کرتی ہوں کیونکہ میں نے خود اسے تصویر سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا ہے وہ مجھے دیکھتے ہی جھپٹا تھا۔ ممی وہ بے حد خطرناک چیز ہے۔ آپ اس پر کیسے قابو پائیں گی۔ میرا تو خیال ہے ممی کہ آپ اس کا خیال دل سے نکال دیں۔“ ورشا نے اپنی ماں کو سمجھانے کی کوشش کی۔
”نہیں ورشا اب وہ میرے ہاتھوں سے نہیں بچ سکے گا۔ اس نے ہمارا ایک آدمی مار دیا ہے۔ اب میں اسے مار کر ہی دم لوں گی۔ ویسے بھی اب اسے مارے بغیر چارہ نہیں۔ ساحل عمر تک پہنچنے کے لیئے اسکا خاتمہ ضروری ہے جب تک وہ نہیں مرے گا میں اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہو سکوں گی۔ میں مانا کو کس طرح پاؤں گی۔ مانا کو حاصل کرنا میری زندگی کا مشن ہے۔‘‘
برکھا کے دل میں۔ آگ بھڑک رہی تھی۔
’’مانا کیا ہے؟‘‘ ورشا نے پوچھا۔
’’مانا مستقل زندگی کا پرمٹ ہے۔‘‘ برکھا نے اسے جدید لفظوں میں بتایا۔
”گویا آپ کی زندگی آپ کے ہاتھ میں ہوگی۔“ ورشانے جیسے تصدیق چاہی۔
”نه صرف زندگی ہاتھ میں ہوگی بلکہ بہت کچھ اپنے اختیار میں آ جاۓ گا۔“ برکھا خواب دیکھ رہی تھی۔
”اور یہ زندگی یہ اختیار۔ آپ کو ساحل عمر کی وجہ سے حاصل ہوگا ۔‘‘ ورشا نے سوال کیا۔
”ہاں۔ ورشا. ساحل عمر وہ سیڑھی ہے جس کے ذریعے میں مانا تک پہنچوں گی۔“
”تہکال کے بعد آپ ساحل عمر کی بھینٹ لیں گی۔‘‘
”ہاں۔‘‘ برکھا نے کہا۔
پھر اچانک اسے کچھ خیال آیا اس نے ورشا سے پوچھا۔ ’’تمہیں کیا پریشانی ہے؟‘‘
”مجھے! نہیں ممی‘ مجھے کیا پریشانی ہوگی۔‘‘ ورشا نے کھوۓ ہوۓ لہجے میں کہا۔
برکھا آخر ورشا کی ماں تھی اس نے اپنی بیٹی کے لہجے میں کوئی خاص بات محسوس کی۔ اپنا شک رفع کرنے کے لئے اس نے براہ راست سوال کیا۔ ’’ورشا کہیں تو سچ مچ تو اس سے محبت نہیں کرنے لگی۔“
”ارے نہیں ممی۔“ ورشا نے فورا تردید کی۔ تردید کرنے کے بعد اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس نے جھوٹ بولا ہو۔ اپنے آپ سے۔ اپنی ممی سے۔
”ہاں ورشا اس بات کا خیال رکھنا کہ ساحل عمر میرا قیدی ہے۔ اس کی زندگی اس کی روح میری ہے۔“ برکھا نے بدلے ہوۓ تیوروں کے ساتھ کہا۔ ’’میرے لئے ہے۔“
”جی می۔‘‘ ورشا نے گردن جھکا کر کہا۔
•●•●•●•●•●•●•●•●•
ساحل عمر گردن جھکاۓ کسی غیر مرئی نقطے پر نظر جماۓ تہکال کی تصویر کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اماں آتے جاتے کئی بار اسے سوچ میں غرق بیٹھا دیکھ چکی تھیں۔ وہ اس کے دکھ کو سمجھتی تھیں لیکن اس کے لئے کر کچھ نہیں سکتی تھیں۔ اگر انہیں تصویریں بنانا آ تا تو وہ کب کی تہکال کی پینٹنگ بنانے بیٹھ گئی ہوتیں۔
اماں نے ساحل عمر کے لئے چائے بنائی اور بڑے پیار سے بولیں۔ ’’لو بھیا چاۓ پی لو‘‘ اماں کے مخاطب کرنے پر اس نے انہیں خالی خالی نظروں سے دیکھا۔ پھر چائے کا کپ لے کر بولا ۔ ’’لاؤ اماں !”۔
”بیٹا تم تصویر کی وجہ سے پریشان ہو۔“
“اماں میں نے اس پر بہت محنت کی تھی۔ دکھ یہ ہے کہ میری محنت ضائع ہوگئی۔” وہ دکھ سے بولا
“کچھ ضائع نہیں ہوا۔ اللہ تمہیں زندگی دے ایسی تم تین سو ساٹھ تصوریں بنا کر پھینک دو گے۔“
اس وقت ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ساحل عمر کا اٹھنے کا موڈ نہ تھا۔ اس نے اماں کی طرف دیکھا۔ اماں یہ کہتے ہوۓ فورا اٹھ گئیں ۔’’اچھا ! میں دیھتی ہوں ۔‘‘
ٹیلی فون بیڈ روم میں تھا اور ساحل عمر اس وقت لاؤنج میں بیٹھا ہوا تھا۔ اماں نے ٹیلی فون ریسیو کر کے وہیں سے آواز لگائی۔’’مسعود صاحب کا فون ہے؟‘‘
مسعود کا نام سن کر وہ چائے کا کپ اٹھائے اٹھائے اندر آ گیا۔ کپ اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور ریسیور تھامتے ہوۓ بولا۔ ’’جی جناب !‘‘
”یار ایک زبردست خبر ہے تمہاری پیٹنگ کے بارے میں۔۔۔“ مسعود چہکتے ہوۓ بولا۔
’’ہیں!‘‘ ساحل عمر نے خوش ہوکر کہا۔ ’’مل گئی ۔‘‘
”نہ صرف پینٹنگ برآمد ہوئی ہے بلکہ اس تصویر کے چرانے والے کو سزا بھی دے دی ہے“
”بھئی وہ اپنے دوست ہیں ناں نیوز ایڈیٹر اشفاق صاحب ان کا فون آیا تھا۔ ان کے اخبار کوخبر موصول ہوئی ہے۔ میں تمہاری پینٹنگ کے بارے میں ان سے خبر لگوا چکا تھا انہوں نے خبر موصول ہوتے ہی مجھے فون کر دیا۔ تم تیار ہو جاؤ۔ تو تھانے چل کر پینٹنگ وصول کر لیتے ہیں۔ تمہاری پینٹنگ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے‘‘ مسعود آفاقی نے بتایا۔
”یار پوری بات تو بتاؤ۔‘‘
”تفصیل میں تمہارے گھر پہنچ کر بتاتا ہوں۔‘‘ مسعود آفاقی نے کہا۔ ’’تم یوں کرو ذرا ناصر مرزا کوفون کرلو وہ آ جاۓ تو اچھا ہے۔ ویسے میں نے اخبار سے تھانے فون کروا دیا ہے۔ تھانیدار نے کہا ہے کہ آ کر تصویر لے جائیں۔ اتنی بڑی تصویر کا رکھنا ایک مشکل کام ہے۔ عدالت میں آ کر اسے پیش کرنے کی ضرورت پڑی تو کر دیں گے۔“
ساحل عمر نے مسعود کا فون منقطع ہوتے ہی ناصر مرزا کو ملایا۔ اس نے کہا کہ میں گھر آنے کے بجائے تھانے پہنچتا ہوں اور ایس ایچ او کو اوپر سے فون بھی کروا دیتا ہوں۔
تصویر ملنے کی روداد بڑی حیرت میں ڈالنے والی تھی۔ پولیس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ رفیقکی لاش کے ساتھ کیا ماجرا ہوا ہے۔ ایس ایچ او سے پوری رو داد سننے کے بعد ساحل عمر کے اندر ایک سناٹا چھا گیا تھا۔ اسے یقین ہوگیا تھا کہ یہ ساری کارروائی تہکال کی ہے۔ ورشا نے جب اس تصویر کو دیکھا تھا تو وہ یونہی خوفزدہ نہیں ہوئی تھی۔ تہکال اسے دیکھ کر باقاعدہ جھپٹا تھا اور وہ تصویر سے باہر نکل آیا تھا۔
بہرحال تصویر مل گئی اور صحیح سلامت تھی۔
تصویر اٹھانے والا بندہ چل بسا تھا۔ یہ تصویر اس نے
کیوں اٹھائی تھی۔ اس کے پیچھے کیا مقاصد تھے۔ یہ راز مرنے والا اپنے ساتھ لے گیا۔
جب وہ لوگ تہکال کی پینٹنگ لے جانے لگے تو ناصر مرزا نے ایک تجویز پیش کی۔
”ساحل کیا یہ تصویر تم اپنے گھر لے جاؤ گے۔‘‘
”تو اور کیا ؟‘‘ اس نے غیر یقینی انداز میں ناصر مرزا کو دیکھا۔
”میرا خیال ہے کہ تم اس تصویر کو اپنے گھر مت لے جاؤ۔ کہیں یہ تصویر اٹھانے وہ لوگ نہ آ جائیں۔“
”ہاں۔ یار ناصر ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘‘ مسعود نے اس تجویز کی تائید کی۔
’’ابھی یہ تصویر خطرے میں ہے۔“
”پھر کیا کرنا چاہئے ؟‘‘ ساحل عمر نے سوال کیا۔
”اسے میں اپنے گھر لے جاتا ہوں۔‘‘ ناصر مرزا نے کہا۔ ’’اس تصویر کو دیکھ کر میرے دماغ میں لال بتی جلی ہے۔ ہوسکتا ہے یہ میرا وہم ہو۔ بہر حال تصدیق بھی ہو جاۓ گی اور اس کی حفاظت بھی۔
’’اور بھائی ساحل تجھ سے میں دست بستہ عرض کروں گا۔ اللہ کے واسطے اب یہ تصوریں بنانا چھوڑ دو۔ ورنہ تم کسی دن خود چل بسو گے‘‘ مسعود آفاقی نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے۔
”نہیں ساحل ایسا کیوں نہیں کرتے کہ اس مرتبہ ہاتھی پر طبع آزمائی کرو‘‘ ناصر نے مذاق کیا۔
”مرزا صاحب اگر ہاتھی باہر نکل کر آ گیا تو اسے پالے گا کون؟‘‘ مسعود بولا۔
”کسی سرکس والے کو فروخت کر دیں گے۔‘‘ ناصر مرزا نے ہنس کر کہا۔
”اچھا مرزا صاحب پہلے تو اس چیتے کو سنبھالیں۔ اس کے لئے کوئی چڑیا گھر دیکھیں۔“ مسعود نے تصویر کی طرف دیکھ کر کہا۔
یہ ایک عجیب وغریب واقعہ تھا۔ شام کے اخبارات کئی دن تک چیختے رہے۔ شام کے اخباروں کے لئے یہ ایک بہترین موضوع تھا۔ طرح طرح کی کہانیاں چھاپی جاتی رہیں۔ قیاس آرائیاں کی جاتی رہیں۔ ساحل عمر کے گھر فون کالز کا تانتا بندھ گیا۔ اس کی تصویریں چھپتی رہیں بیان اور انٹرویو لئے گئے۔
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے مزید سنسنی پھیلا دی۔ ڈاکٹروں کی رائے میں یہ کسی انسان کا کام نہ تھا اور یہ بات کوئی ماننے کے لئے تیار نہ تھا کہ یہ کام تصویر کے چیتے نے انجام دیا ہے۔
رفیق کو کس نے مارا یہ بات تو خیر معمہ رہی لیکن کوئی یہ بھی نہ جان سکا کہ اس پینٹنگ کو ساحل عمر کے گھر سے کن لوگوں نے اٹھایا اور اس تصویر کو چرانے کا مقصد کیا تھا۔ دو چار دن یہ معاملہ چلا پھر سب ٹھنڈے ہوکر بیٹھ گئے۔ اخبار والے بھی اور پولیس والے بھی
وہ پینٹنگ اب ناصر مرزا کے گھر میں تھی اور وہاں گل کھلا رہی تھی۔
ناصر مرزا نے اس پینٹنگ کو اپنے کمرے میں پڑی بڑی میز پر رکھ لیا تھا۔ یہ پیٹنگ اسے پسند آ گئی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ اگر بازغر اس تصویر کو لینے نہ آیا تو وہ اسے ساحل عمر سے مانگ لے گا اور اسے فریم کروا کر اپنے بیڈ روم میں لگواۓ گا۔
یہ کمرہ اسٹڈی روم تھا۔ کبھی کبھی وہ اس کمرے میں سوبھی جا تا تھا۔ اس رات بھی یہی ہوا کہ وہ پڑھتے پڑھتے وہیں قالین پر سوگیا۔ رات کو کسی وقت اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنا ہاتھ نرم بالوں پر رکھا محسوس کیا۔ یہ ایک ایسا احساس تھا جس نے ناصر مرزا کے حواس کوفورا چوکنا کردیا تھا لیکن وہاں کوئی چیز نہ تھی۔ پھر اس نے تصویر کو دیکھا۔ تصویر میں چیتا اپنی جگہ جوں کا توں موجود تھا۔ وہ تیزی سے اٹھا۔ اس نے لائٹ آن کی اور پھر قالین پر اس جگہ نظر ڈالی جہاں وہ سو رہا تھا
ناصر مرزا کچھ سوچتا ہوا اس کمرے سے نکل آیا۔ اس نے دروازے کو باہر سے لاک کر دیا اور اپنے بیڈ روم میں آ کر سو گیا۔ اسٹڈی روم اور بیڈ روم کا باتھ روم ایک ہی تھا البتہ دروازے دو تھے جو دونوں کمروں میں کھلتے تھے۔
صبح کے نزدیک ناصر مرزا کی ایک مرتبہ پھر آنکھ کھلی۔ وہ اٹھ کر باتھ روم گیا۔ باتھ روم میں اس نے کچھ کھٹر پٹر کی آواز سنی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی جانور کمرے میں ٹہل رہا ہو۔ یہ احساس جسم میں سنسنی پھیلانے والا تھا۔
ناصر مرزا نے چاہا کہ باتھ روم کا دروازہ کھول کر اندر کمرے میں جھانک لے لیکن اس کا حوصلہ جواب دے گیا۔ اس نے سوچا جو ہوگا صبح دیکھا جاۓ گا۔ اب کمرے میں جانا کسی خطرے کا موجب بھی ہوسکتا تھا۔
صبح اٹھ کر اس نے آہستہ سے ہاتھ روم کا دروازہ کھولا اور اس میں تھوڑی درز پیدا کر کے اندر جھانک کر دیکھا۔ سامنے ہی میز تھی۔ تصویر کا کچھ حصہ نظر آ رہا تھا۔ چیتا وہاں موجود تھا۔ تب ناصر مرزا نے باتھ روم کا دروازہ کھول دیا اور اسٹڈی روم میں داخل ہوا۔ اسٹڈی روم کی تمام چیزیں الٹی پلٹی پڑی تھیں۔ کوئی ڈیکوریشن پیس اپنی جگہ موجود نہ تھا۔ سب اوندھے سیدھے پڑے تھے۔ لگتا تھا کمرے میں کسی نے خوب اتھل پتھل مچائی ہے۔
ساحل عمر کا خیال تھا کہ تہکال کی پینٹنگ کی اخبارات کے ذریعے اس قدر شہرت ہوگئی ہے کہ بازغر کو اس سے رابطہ کر لینا چاہئے۔ اسے بازغر کے ٹیلی فون کا شدت سے انتظار تھا لیکن وہ کچھ اس طرح گیا تھا کہ اس کا کوئی پتہ نشان نہیں مل رہا تھا۔
انتظار کے باوجود بازغر کا ٹیلی فون نہ آیا البتہ ناصر مرزا کا آ گیا۔ اوہ بھائی ! مجھے کس مصیبت میں پھنسا دیا۔ ساحل عمر کے ریسیور اٹھاتے ہی ناصر مرزا بولا
”کیا ہوگیا۔ خیر تو ہے؟‘‘ ساحل عمر فکر مند لہجے میں بولا۔
جواب میں ناصر مرزا نے ساری رو داد سنائی کہ وہ آج اسٹڈی روم میں سو گیا تھا تو اس نے اپنا ہاتھ کسی بالوں بھرے جسم پر رکھا ہوا محسوس کیا۔ پھر بند کمرے میں جو دھما چوکڑی مچی اس کا حال
سنایا۔
’’پھر اب کیا کرنا چاہیئے۔‘‘ ساری کہانی سن کر ساحل عمر نے کہا۔
”میری خود کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔‘‘ ناصر مرزا نے سنجیدگی سے کہا۔ ’’اس تصویر کا گھر میں رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ ویسے آج رات میں ایک تجربہ کرنا چاہتا ہوں۔ دیکھو کیا ہوتا ہے ؟‘‘
’’بھائی کیا کرنا چاہتے ہو۔ ذرا ہاتھ پاؤں بچا کے۔‘‘ ساحل عمر نے تنبیہہ کی۔
”بے فکر رہو۔‘‘ ناصر مرزا نے پر یقین لہجے میں کہا۔ ”اچھا اب میں کل صبح تم سے بات کروں گا رات جو کچھ ہوگا اس کی رپورٹ صبح دوں گا اوکے۔“
’’او کے..“ ساحل عمر نے کہا اور ریسیور رکھ دیا۔
رات کو ساحل عمر دیر تک جاگتا رہا۔ سوچتا رہا وہ ان دونوں تصویروں کو بنا کر خواہ مخوار مصیبت میں پھنس گیا تھا۔ اب آئندہ اس نے طے کرلیا تھا کہ وہ کوئی پینٹنگ نہیں بناۓ گا۔
تصوریں بنانے کا کیا فائدہ جو جی کا جنجال بن جائیں۔ سوچتے سوچتے جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔ پھر جانے کیا ہوا کہ سوتے سوتے اس کی اچانک آنکھ کھل گئی۔ اس کے کانوں میں کوئی آواز آرہی تھی۔ جب اس نے غور سے سنا تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی نزدیک ہی سکیوں سے رورہا ہے۔
یہ بڑا جان لیوا احساس تھا۔ اس کے کمرے میں آخر کون رو رہا ہے۔ یہ کس کی نسوانی آواز تھی۔ وہ گھبرا کر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ پہلے اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا ٹیبل لیمپ جلایا۔ ٹیبل لیمپ کی روشنی محدود تھی اس میں کچھ نظر نہ آیا۔ جب اس نے کمرے میں لگی ٹیوب لائٹ روشن کردی۔ اس نے کمرے میں چاروں طرف دیکھا کچھ نظر نہ آیا۔ وہاں کچھ ہوتا تو نظر آ تا۔سکیوں سے رونے کی آواز بھی اب معدوم ہو چکی تھی۔
اب اسے شبہ ہوا کہ اس نے واقعی کسی کے رونے کی آواز سنی تھی۔ اگر آواز سنی تھی تو کیا یہ خواب تھا۔ تب اسے خیال آیا کہ رونے کی آواز تو اس نے آنکھ کھلنے کے بعد سنی تھی۔ وہ پوری طرح حواسوں میں تھا۔ اگر یہ حقیقت تھی تو وہ رونے والی کہاں ہوا ہوگئی۔ کدھر غائب ہوگئی۔
اچانک اس کی نظر رشاملوک کی تصویر پر پڑی۔ وہ اس تصویر کے نزدیک چلا گیا اور اے بغور دیکھنے لگا۔ تب اس پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ رشا ملوک کی آنکھوں سے دو آنسو نکل کر اس کے رخساروں پر پھیل گئے تھے۔ تصویر پرنمی موجود تھی۔
صبح اس کا ارادہ تھا کہ دیر تک سوۓ گا کیونکہ وہ رات کو خاصا ڈسٹرب رہا تھا۔ اس کی نیند پوری نہ ہوئی تھی۔ اس وقت وہ گہری نیند میں تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ اندر سے بند نہ تھا اس لئے جواب نہ ملنے پر اماں کمرے میں آ گئیں۔ ساحل عمر کو بے خبر سوتا دیکھ کر پہلے انہوں نے سوچا که ناصر مرزا کو بتا دیں کہ وہ کچھ دیر کے بعد رنگ کرے۔ پھر یہ سوچ کر کہ ناصر مرزا کو جانے کیا کام ہے کہ اس نے کہا کہ اگر سو بھی رہے ہوں تو اٹھا دیں وہ مجبور ہوگئیں اور انہوں نے دھیرے سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔
چند لمحوں بعد ساحل عمر اپنی آ نکھوں پر اماں کے ہاتھ کا دباؤ محسوں کر کے جاگ گیا۔ اس نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنی آ نکھوں سے ہٹایا اور اپنی سرخ سرخ آنکھوں سے دیکھا۔
”خیریت اماں۔؟‘‘ اس نے پوچھا۔
“اصر مرزا کا فون ہے۔ کوئی ضروری بات کرنا چاہتے ہیں ورنہ میں تمہیں ہرگز نہ اٹھاتی“
ناصر مرزا کا نام سن کر اس نے لیٹے لیٹے ہاتھ بڑھا کر ریسیور اٹھالیا اور بولا ۔’’ناصر ایک منٹ۔‘‘ اس کے بعد وہ اماں سے مخاطب ہوا۔’’اماں آپ ادھر سے ریسیور رکھ دیں۔“
”اچھا بیٹا۔“ اماں یہ کہتی ہوئی باہر نکل گئیں۔
”جی جناب۔“ ادھر سے ریسیور رکھے جانے کی آواز سن کر ساحل عمر مخاطب ہوا۔’’ کیا خبر ہے“
”وہ چلا گیا۔‘‘ ناصر مرزا نے خبر سنائی۔
”کون چلا گیا۔؟‘‘
”تہکال کی بات کر رہا ہوں۔؟‘‘ ناصر مرزا نے بات صاف کی۔
”میں ابھی تک بات سمجھا نہیں۔“ اس کی سمجھ میں پھر بھی کچھ نہ آیا۔
”حیرت ہے اتنی صاف بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی۔‘‘ ناصر مرزا نے کہا۔ ’’ٹھہرو میں تمہیں سمجھاتا ہوں۔ میں نے کل تم سے کہا تھا نا کہ آج رات میں ایک تجر بہ کروں گا۔؟“
”ہاں کہا تو تھا۔ تم نے کیا کیا تھا۔“
”بھئی رات کے گیارہ بجے کے بعد میں نے وہ پیٹنگ باہر لے جاکر لان میں ایک درخت کے نیچے رکھ دی۔ آدھے گھنٹے تک میں نے اس تصویر کے سامنے بیٹھ کر کچھ عمل کیا اور پھر بارہ بج کر پانچ منٹ پر میں نے وہ پینٹنگ درخت کے نیچے ہی چھوڑی اور میں گھر کے اندر چلا آیا۔ اندر آ کر میں نے گھر کا ہر دروازہ اور کھڑکی بند کروا دی۔ صبح ہی مصبح جب میں اس درخت کے نیچے پہنچا تو وہاں میدان صاف ہو چکا تھا جبکہ باہر کا مین گیٹ جوں کا توں بند تھا۔‘‘
”یار یہ سب کیا ہو رہا ہے۔‘‘ ساحل عمر نے کسی قدر پریشانی سے کہا۔
”اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔‘‘ ناصر مرزا خود الجھا ہوا تھا۔
”تم نے کیا عمل کیا تھا۔؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
”میں نے کچھ پڑھا تھا۔ میرے پڑھنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر اس تصویر میں کوئی اسرار ہے تو ظاہر ہو جاۓ۔ اس تصویر کو دیکھ کر میرے دماغ میں جولال بتی روشن ہوئی تھی۔ اس کے پیش نظر میں نے یہ عمل کیا تھا۔ بہرحال تصویر کا اسرار تو ظاہر ہو گیا۔ وہ جو بھی تھا فریم کی قید سے آزاد ہوگیا۔‘‘ ناصر مرزا نے بتایا۔
”چلو یار۔ جان چھوٹی لیکن اس خالی کینوس کو ضائع مت کرنا۔ اس پر اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ تصویر بن جائے گی“ ساحل عمر نے کہا۔
”اس مرتبہ ایسا کرو کہ اپنی قدم آدم تصویر بنالو کیا عجب کہ تم ایک سے دو ہو جاؤ۔“ ناصر مرزا نے مذاق کیا۔
”یار آئیڈ یا تو اچھا ہے۔“ سال عمر نے اس بات کوسجیدگی سے لیا۔
”چلو ٹھیک ہے۔ اس کینوس پر اپنی پینٹنگ تیار کرتا ہوں۔‘‘
”بھائی صاحب ایسا غضب نہ کر بیٹھنا۔ اگر اس پینٹنگ کو کسی نے اغوا کرلیا تو میں اور مسعود مشکل میں پھنس جائیں گے‘‘ ناصر مرزا نے ہنس کر کہا۔
’’رات کو ادھر بھی ایک عجیب واقعہ رونما ہوا ہے۔‘‘ ساحل عمر نے موضوع بدلا۔
’’وہ کیا۔؟‘‘ ناصر مرزا نے پوچھا۔
ساحل عمر نے رات کو آنکھ کھلتے کسی کے سکیوں سے رونے اور رشا ملوک کی تصور پھیکی ہونے کی روداد سنائی۔ یہ رو داد سناتے سناتے اس کی نظر رشا ملوک کی تصویر پر پڑی۔’’ایک منٹ ہولڈ کرنا۔“ یہ کہ کر اس نے ریسیور بیڈ پر چھوڑا اور رشاملوک کی تصویر کو غور سے دیکھنے لگا۔ جو آ نسو اس کی آنکھوں سے لپک کر ایک لکیر کی صورت میں بہے تھے۔ وہ اب برف کی طرح منجمد نظر آ رہے تھے۔
تب اس نے ریسیور اٹھا کر ناصر مرزا کو اطلاع دی۔ ’’بھائی صاحب وہ آنسو کسی برف کی مانند جمے ہوۓ نظر آ رہے ہیں۔“
”ارے نہیں۔‘‘ ناصر مرزا کو یقین نہ آیا۔
”آ کر دیکھ لیجئے۔‘‘ ساحل عمر نے سنجیدگی سے کہا۔
”ہاں مجھے آنا پڑے گا۔ میں شام تک آؤں گا۔ میں اب تمہاری طرف سے فکر مند ہوگیا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں۔ یہ معاملہ کیا ہے۔ اس چیتے کا تصویر سے اس طرح غائب ہو جانا۔ تمہارے گھر میں پیش آنے والے انوکھے واقعات۔ یہ کوئی آسیبی چکر نہیں ہے۔ نہ ان واقعات میں جنات کا ہاتھ نظر آ تا ہے۔ میری رائے میں کوئی پراسرار قوت تمہارے پیچھے لگ گئی ہے۔‘‘ ناصر مرزا نے رائے پیش کی۔
”بھائی ناصر میرے خیال میں ان واقعات کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ نظر آ تا ہے۔“ ساحل مر نے بڑی سادگی سے کہا۔
ساحل عمر کی بات سن کر ناصر مرزا کو بے اختیار ہنسی آ گئی۔ وہ ہنستے ہوئے بولا۔ ’’ہاں یہ بھی ہو سکتا ہے“
“ویسے ایک بات ہے۔ میں ان پراسرار واقعات سے بالکل متاثر نہیں ہوں شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ میں بچپن ہی سے اس طرح کے واقعات سے دوچار رہا ہوں۔“ ساحل عمر نے سنجیدگی سے کہا۔
”بات ڈرنے یا پریشان ہونے کی نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کہیں تمہیں ان پراسرار واقعات سے کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ میں اس مسئلے پر ذرا چھان پھٹک کر لینا چاہتا ہوں۔ آج شام کو میں آؤں گا تو میرے ساتھ ایک شخص اور ہوگا۔‘‘ ناصر مرزا نے بتایا۔
”مسعود ہوگا ۔‘‘ ساحل عمر نے اندازہ لگایا۔
”اوہ یار وہ شخص نہیں ہے..
یار ہے مسعود نے سن لیا کہ اسے کوئی شخص کہا ہے تو پھر تمہاری جان خطرے میں پڑ جاۓ گی۔‘‘ ناصر مرزا نے ہنس کر کہا۔
”پھر کون ہوگا۔؟ کچھ بتائیں تو۔“ ساحل عمر نے پوچھا۔
”ایک ڈاکٹر ہوگا۔ وہ تمہاری نبض دیکھے گا۔‘‘
” مجھے بیمار سمجھ رہے ہیں۔؟‘‘ .
ہوئے نہیں ہو جاؤ گے. جنوں کے آثار پیدا ہو چلے ہیں۔“
”اچھا ٹھیک ہے۔ آپ شام کو آئیں میں انتظار کروں گا۔؟“
شام کو ناصر مرزا آیا تو اس کے ساتھ ایک اول جلول سا شخص تھا۔ دبلا پتلا۔ سیاہی مائل رنگت۔ سر پر چار بال جنہیں بڑی احتیاط کے ساتھ جمایا گیا تھا۔ شیروانی پہنے۔ منہ میں پان ہونٹوں پر مسکراہٹ۔ آنکھوں میں چمک عمر ساٹھ سال سے کسی طرح کم نہ ہوگی۔
ساحل عمر نے اس شخص کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ اسے دیکھ کر اس نے ناصر مرزا کو گھورا جیسے کہہ رہا ہو یار یہ کیا تماشا اٹھا لاۓ۔ ناصر مرزا کے چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ اس نے بڑے پروقار انداز میں ان کا تعارف کروایا۔
’’یہ ہیں عابد منجم۔ بڑے زبردست آدمی ہیں۔“
عابد منجم نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ ساحل عمر پر نظر ڈالی اور پان چباتے ہوۓ بولے۔ “اچھا تو یہ ہیں ساحل میاں۔“
”ساحل میاں !‘‘ ساحل عمر نے حیران ہوکر کہا۔
’’جناب میرا نام ساحل میاں نہیں ہے۔ ساحل عمر ہے ساحل عمر۔‘‘
”ہیں۔ اچھا اچھا۔ تو ساحل عمر صاحب ذرا ایک کام کیجئے۔ مجھے ایک کاغذ پر اپنی والدہ محترمہ کا نام اور اپنی تاریخ پیدائش لکھ دیجئے اگر ولادت کا وقت معلوم ہو تو وہ لکھ دیجے۔“
ساحل عمر نے ناصر مرزا کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کہ یہ کیا چکر ہے
“ساحل جبسا عابد منجم صاحب نے کہا ہے۔ اس پر فورا عمل کرو “ ناصر مرزا نے زور دے کر کہا۔
”اچھا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھا۔ ڈرائنگ روم میں تو کاغذ قلم نہ تھا۔ وہ اندر گیا۔ ایک کاغذ پر اس نے مطلوبہ معلومات درج کیں اور ڈرائنگ روم میں واپس آ گیا۔ اور وہ کاغذ اس نے عابد منجم کی طرف بڑھا دیا۔
کاغذ لیتے ہوئے اچانک عابد منجم کی نظر انگوٹھی پر پڑ گئی۔
اس انکوٹی کو دیکھ کر وہ ذرا چونکے اور بولے ”ساحل میاں“
”اوہ۔ میرا مطلب ہے ساحل صاحب ذرا آپ مجھے یہ انگوٹھی دکھانا پسند کریں گے۔“
ساحل عمر نے دوبارہ اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ ”یہ لیجیئے دیکھ لیجیئے۔
”زحمت نہ ہوتو ذرا مجھے اتار کر دے دیں۔‘‘ عابد منجم نے بڑے شائستہ لہجے میں کہا۔
تب اچانک ہی اسے ورشا کی بات یاد آئی۔ اس نے انگوھی پہناتے ہوۓ کہا تھا اتارنا مت ورنه نقصان اٹھاؤ گے۔ وہ ہچکچاہٹ کا شکار ہوگیا۔
”ساحل انگوٹھی اتار کر دے دو۔‘‘ ناصر مرزا نے ہدایت کی۔
”ارے۔ یہ کوئی خاص انگوٹی معلوم ہوتی ہے۔ کیا کسی نے دی ہے۔؟‘‘ عابد منجم نے پوچھا۔
اس سے پہلے کہ ساحل عمر کوئی جواب دیتا۔ ناصر مرزا بول پڑا۔ ”جی عابد صاحب یہ بڑی خاص انگوٹھی ہے۔ ان کی ایک دوست نے دی ہے ۔‘‘
“اچھا تبھی اس کو اتارنے سے بچا رہے ہیں۔ خیر اس انگوٹھی کو میں ابھی دیکھتا ہوں پہلے ذرا یہ کاغذ دیکھ لوں۔“
یہ کہہ کر عابد منجم نے اپنی شیروانی کی جیب سے بال پوائنٹ نکالا اور اس کاغذ پر کچھ حساب کتاب کرنے لگے۔ جوں جوں وہ حساب کتاب کرتے جاتے تھے۔ ان کی پیشانی پر بل پڑتے جاتے تھے۔ ناصر مرزا ان کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا۔
کاغذ پر حساب کتاب چھوڑ کر اچانک انہوں نے نظریں اٹھائیں اور ساحل عمر سے بولے۔
”یہ انگوٹھی آپ نے کب سے پہنی ہوئی ہے۔”
”میرا خیال پندرہ سولہ دن ہوۓ ہوں گے۔“
’’دن ۔ تاریخ اور وقت بتایئے ۔‘‘
ساحل عمر سوچ میں پڑ گیا۔ اسے فورا ہی کچھ یاد نہ آیا۔ “ساحل صاحب اپنے ذہن پر زور ڈالئے ۔ یہ بتانا بہت ضروری ہے۔‘‘ عابد منجم نے کہا۔
”ساحل تمہیں وقت کا تو کچھ اندازہ ہوگا۔“
”ہاں بس اٹھتے ہوۓ اس نے یہ انگوٹھی دی تھی۔ میرا خیال ہے ساڑھے دس بجے کا وقت ہوگا“
”ساڑھے دس بجے رات‘‘ عابد منجم نے تصدیق چاہی۔
’’جی۔‘‘ ساحل عمر نے کہا۔
’’تاریخ کیاتھی؟‘‘ عابد منجم نے پوچھا۔
ساحل عمر سوچنے لگا۔ ”میرے اندازے کے مطابق اسے تیرہ تاریخ ہونا چاہیئے اور دن جمعرات۔‘‘ عابد نجم نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
”جی آپ کا اندازہ صیح ہے۔ وہ جمعرات کی رات تھی۔‘‘ ساحل عمر نے تصدیق کی۔
عابد منجم نے پھر بال پوائنٹ سنبھال لیا۔ اور کاغذ پر مختلف زائچے بناتے رہے۔
جب کاغذ بھر گیا تو اسے پلٹ لیا۔ سات منٹ تک وہ اس حساب کتاب میں مصروف رہے۔
ایک مرتبہ انہوں نے اپنی جیب سے سفید رومال نکال کر اپنی پیشانی کا پسینہ پونچھا جبکہ ڈرائنگ روم میں ائیر کنڈیشنر چل رہا تھا۔ وہ اس اثناء میں پان چبانا بھی بھول گئے تھے۔ پھر انہوں نے بال پوائٹ بند کر کے جیب میں لگایا۔ کاغذ بند کر کے مٹھی میں دبایا اور ایک نظر ناصر مرزا کی طرف دیکھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: