Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 9

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 9

–**–**–

”جی عابد صاحب‘‘ ناصر مرزا نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔
’’جہاں انہوں نے بیٹھ کر وہ دونوں تصویریں بنائی ہیں وہ جگہ دیکھنا چاہتا ہوں۔“ عابد منجم نے ناصر مرزا سے مخاطب ہوکر کہا۔
”جی ضرور ۔‘‘ ساحل عمر نے براہ راست جواب دیا اور فورا کھڑا ہوگیا۔ ’’آیۓ تشریف لائیے“
پھر وہ تینوں اسٹوڈیو میں داخل ہوۓ پہلے ساحل عمر اس کے بعد ناصر مرزا اور سب سے آخر میں عابد منجم۔ ساحل عمر نے اندر پہنچ کر کہا۔’’ یہ ہے میرا آرٹ روم۔ آپ اسے جائے واردات سمجھ لیں“
کمرے میں اس وقت کوئی پینٹنگ نہ تھی۔ رنگ برش فریم بورڈ اور انگریزی رسالے۔ بس اس طرح کی چیزیں تھیں۔ عابد منجم کمرے کے عین درمیان میں کھڑے ہو گئے اور پھر انہوں نے سیدھا ہاتھ بلند کر کے مٹھی بند کی اور شہادت کی انگلی کھول لی۔ اور پھر منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتے ہوۓ چاروں طرف گھوم گئے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا ہاتھ نیچے کرلیا اور ناصر مرزا سے مخاطب ہوکر بولے۔ “فی الحال یہ کمرہ صاف ہے۔‘‘
”ذرا اس لڑکی کی تصویر دیکھ لیجئے جس کی پیشانی پر ساحل عمر نے بچھو بنا دیا تھا۔‘‘
’’ہاں۔ دکھایۓ۔‘‘
ساحل عمر ان دونوں کو اپنے بیڈ روم میں لے آیا۔ اس تصویر کو دیکھ کر عابد منجم کو سکتہ سا ہو گیا۔ پتا نہیں وہ اس کے حسن سے متاثر ہوۓ یا اس تصویر میں انہوں نے کوئی خاص بات دیکھ لی کہ پلک جھپکانا بھول گئے۔
پھر کچھ دیر کے بعد جیسے ہوش آیا تو ان کے منہ سے نکلا ۔’’ماشاء اللہ ۔‘‘
”ناصر میں نے جن آنسوؤں کا ذکر کیا تھا۔ وہ دیکھو‘‘ ساحل عمر نے ناصر مرزا کو مخاطب کیا
ناصر مرزا نے اس تصویر کے قریب آ کر ان دوسفید لکیروں کو دیکھا جو اس کی آنکھوں سے رخساروں تک بنی ہوئی تھیں۔ یہ ابھری ہوئی لکیریں تھیں۔ ناصر مرزا نے انہیں انگلی سے چھو کر دیکھا۔
”ہاں واقعی یار۔ یہ تو برف کے آنسو ہیں۔‘‘ ناصر مرزا نے حیرت زدہ ہوکر کہا۔ پھر وہ عابد منجم سے مخاطب ہوکر بولا۔ ’’جی عابد صاحب دیکھی آپ نے یہ تصویر۔“
تصویر ایسی ہے تو تصویر والی کس قد رحسین ہوگی ۔‘‘ عابد منجم نے بے خیالی میں کہا۔۔
”کیا مطلب۔ آپ کے خیال میں کیا اس تصویر والی کا کوئی وجود ہے۔؟“
“بالکل ہے۔“ عابد منجم نے بڑے یقین سے کہا۔
”آپ یہ بات اس بنیاد پر کہہ رہے ہیں کہ یہ لڑ کی ساحل عمر کو خواب میں نظر آئی ہے۔“
“نہیں۔ یہ بات میں اس تصویر کو دیکھ کر کہہ رہا ہوں۔“
”ذرا کچھ کھل کر بتایئے“
”وقت آنے پر کچھ بتاؤں گا۔ فی الحال اس سے زیادہ نہیں۔“ عابد منجم نے ناصر مرزا سے مخاطب ہوکر کہا۔ ’’ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ دونوں حضرات کچھ دیر کے لئے مجھے کمرے میں تنہا چھوڑ دیں“
”جی کیوں نہیں۔‘‘ ساحل عمر نے فوراً کہا اور ناصر مرزا کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر کل آیا۔
وہ دونوں باہر آۓ تو عابد منجم نے کمرے کا دروازہ بند کر لیا۔ وہ دونوں لاؤنج میں بیٹھ گئے۔
”ناصر تم یہ کیا چیز اپنے ساتھ اٹھا لاۓ ہو۔“ ساحل عمر نے تمسخر اڑایا۔
”شش۔“ ناصر مرزا نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ ’’انہیں میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ کیا چیز ہیں۔ تم فی الحال خاموشی سے دیکھتے جاؤ۔ کسی مسئلے پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘
”جی بہت بہتر۔‘‘ ساحل عمر نے بڑی فرمانبرداری سے کہا۔
دس منٹ کے بعد عابد منجم مسکراتے ہوۓ باہر نکلے۔ اور لاؤنج کے ایک صوفے پر بیٹھ کر کہا۔ ’’ساحل صاحب ایک سادہ کاغذ دیجئے۔‘‘
ساحل عمر نے اپنے اسٹوڈیو سے سادہ کاغذ لاکر ان کے حوالے کر دیا۔
عابد منجم نے اس کاغذ کے اوپر کچھ لکھا اور اسے تہہ کر کے ساحل عمر کے حوالے کر دیا۔ اور بولے۔’’اسے بغیر دیکھے اپنی پینٹ کی جیب میں ڈال لیجیئے۔“
ساحل عمر نے اس کاغذ کو بغیر دیکھے اپنی جیب میں رکھ لیا۔ بولا کچھ نہیں۔ اب آپ وہ انگوٹھی اتار کر میرے حوالے کر دیجیئے۔“
“مجھے اس انگوٹھی کو اتارنے سے منع کیا گیا ہے۔“ بالآ خر ساحل عمر نے صاف گوئی سے کام لیا
’’وہ کیوں۔؟‘‘
”اگر میں نے یہ انگوٹھی اتاری تو مجھے نقصان پہنچے گا۔“ “ساحل عمر صاحب آپ کو الٹی بات بتائی گئی ہے۔ اگر آپ نے اس انگوٹھی کو اتار کر نہ پھینکا تو آپ کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا۔‘‘ عابد نجم نے بڑے یقین سے اس کی آنکھوں میں آ نکھیں ڈال کر کہا۔ ’’یہ انگوٹھی کسی جونک کی طرح ہے۔ آپ کا خون چوس رہی ہے۔
”یہ کیا بات کر رہے ہیں؟‘‘ ساحل عمر نے بڑی بے نیازی سے کہا۔ جیسے انہوں نے کوئی فضول بات کہہ دی ہو۔
”واقعی۔“ ناصر مرزا پر اس جملے کا بالکل محتلف اثر ہوا۔ وہ فوراسنبھل کر بیٹھ گیا۔ اور عابد منجم کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
”آپ کو میری بات پر یقین نہیں آ رہا۔ ایسا کیجئے ایک شیشے کے گلاس میں پانی بھر کر لے آیۓ میں آپ کو اس انگوٹھی کی اصل حقیقت ابھی دکھائے دیتا ہوں۔”
”ساحل پائی لاؤ۔‘‘ ناصر مرزا نے تنبیہی لہجے میں کہا۔
ساحل عمر نے شیشے کے ایک گلاس میں پانی لاکر عابد منجم کے ہاتھ میں تھما دیا۔ وہ گلاس لے کر عابد منجم نے شیشے کی میز پر رکھ دیا اور ساحل عمر سے مخاطب ہوکر کہا۔ ’’چند منٹ کے لئے انگوٹھی اتار کر مجھے دے دیں۔“
چند منٹ کا سن کر ساحل عمر نے وہ انگوٹھی اتار کر عابد منجم کے حوالے کر دی۔
عابد منجم نے اس انگوٹی کو بغور دیکھا اور پھر کچھ پڑھنا شروع کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس انگوٹھی کا پتھر جو کالے رنگ کا تھا۔ اپنا رنگ بدلنے لگا۔ پہلے وہ سرخی مائل ہوا پھر وہ بالکل سرخ ہو گیا۔
ساحل عمر اور ناصر مرزا دونوں دم بخود ہوکر اس انگوٹھی کو دیکھ رہے تھے۔
اچانک عابد منجم نے وہ انگوٹھی پانی سے بھرے گلاس میں ڈال دی۔ پانی میں جاتے ہی اس انگوٹھی کے پتھر سے ایک سرخ رنگ کی دھاری پھوٹی۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورے گلاس کا پانی سرخ ہوگیا۔
ساحل صاحب آپ نے دیکھا۔ یہ گلاس میں کیا ہے۔؟‘‘ عابد منجم نے سوال کیا۔
ساحل عمر نے کچھ بولنے کی کوشش کی لیکن اس سے بولا نہ گیا۔ وہ دم بخود رہ گیا تھا۔
“یہ آپ کا خون ہے۔ یہ انگوٹی آپ کا خون جونک بن کر چوس رہی تھی۔ ایک وقت ایسا آ تا کہ آپ کے بدن میں ایک قطرہ خون بھی نہ رہتا۔ اس کے بعد یہ انگوٹھی آپ سے لے لی جاتی۔ اور آپ کی رو ح پر کسی اور کا قبضہ ہوتا۔ آپ نہیں جانتے کہ آپ کن خطرناک لوگوں میں پھنس گئے ہیں۔ آپ طاغوتی طاقتوں کے فریب میں آ گئے ہیں۔
”طاغوقی طاقتیں۔؟‘‘ ساحل عمر نے سوالیہ انداز میں کہا۔ ’’لیکن یہ انگوٹھی تو مجھے ورشا نے دی ہے۔ اور ورشا کو اس کی ماں نے دی تھی۔ وہ بہت اچھے لوگ ہیں۔ “
ساحل عمر صاحب ! کیا آپ ورشا کی ماں سے ملے ہیں۔؟‘‘ عابد منجم نے پوچھا۔
”نہیں‘‘ ابھی تک تو نہیں۔‘‘ ساحل عمر نے بتایا۔
”مل لیجے گا وہ ٹھیک پندرہ منٹ بعد یہاں ہونگی۔ آپ نے اپنی جیب میں جو کاغذ رکھا ہے اسے نکال کر پڑھئے‘‘ عابد منجم نے مزید حیران کرنے والی بات کہی۔
ساحل عمر نے پینٹ کی جیب میں رکھا ہوا کاغذ نکالا اور اس کی تہہ کھول کر اس پرلکھی عبارت پر نظر ڈالی۔
”زور سے پڑھئے تا کہ ناصر مرزا بھی سن لیں۔“ عابد منجم نے کہا۔
ساحل عمر نے پر چہ پڑھنے کے بجاۓ ناصر مرزا کی طرف بڑھا دیا۔ اس پر لکھا تھا۔
”ٹھیک سات بجے برکھا یہاں آئے گی۔ اور میری شکل دیکھتے ہی الٹے قدموں واپس لوٹ جاۓ گی۔“
ساحل عمر نے گھڑی پر نظر ڈالی ابھی پندرہ منٹ باقی تھے۔ عابد منجم نے اپنی جیب سے پان کی ڈبیہ ٹکالی۔ اور اس ڈبیہ سے ایک پان بڑی نفاست سے نکالا اور منہ میں رکھ لیا۔ اور آنکھیں بند کر کے پان کھانے میں مصروف ہو گئے ۔
وہ کچھ دیر پان چباتے رہے۔ پھر پان چباتے چباتے اچانک آنکھیں کھولیں۔ اور ساحل عمر سے مخاطب ہوکر پوچھا۔’’ آپ کے گھر میں کوئی گلاب کا پودا ہے۔‘‘
”جی ہاں۔ باہر لان میں کئی گلاب کے پودے ہیں۔“ ساحل نے جواب دیا۔
”کیوں خیریت۔؟‘‘ ناصر مرزا نے عابد منجم سے پوچھا۔
وہ دل ہی دل میں با قاعدہ کچھ پڑھ رہے تھے اور پھر آنکھیں انہوں نے اس وقت کھولیں جب گھر کے دروازے پر بیل ہوئی۔ وہ سنبھل کر بیٹھ گئے اور بولے ۔’’وہ آ گئی جاؤ دروازہ کھولو‘‘ ساحل عمر کا دل اچانک تیزی سے دھڑ کنے لگا۔
اسے جانے کیوں خوف سا محسوس ہوا وہ جس شخص کو یونہی الول جلول سا سمجھ رہا تھا۔ وہ تو بڑے پاۓ کا آ دمی نکلا تھا۔ اس نے کس طرح اس انگوٹھی میں سے اس کا خون نکال دیا تھا۔ اگر وہ یہ انگوٹھی پہنے رہتا جسے وہ اپنا محافظ سمجھ رہا تھا تو اس پر جانے کیا قیامت گزر جاتی ۔ پھر انہوں نے برکھا کی آمد کی اطلاع پہلے ہی تحریری طور پر اس کے حوالے کردی تھی ۔ اور اب برکھا آ پہنچی تھی۔ ٹھیک سات بجے ۔ اب نہ جانے کیا ہونے والا تھا۔ جب اس نے گیٹ کھولا تو اسے توقع تھی کہ کوئی اجنبی عورت دروازے پر کھڑی ہوگی لیکن اس وقت دروازے پر کوئی اجنبی عورت نہ تھی ۔ اس کے سامنے ورشا کھڑی تھی۔ ہستی مسکراتی اپنی پوری حشر سامانیوں کے ساتھ
”حیران رہ گئے نا مجھے دیکھ کر۔‘‘ ورشا نے ہنس کر کہا۔
’’ارے نہیں آؤ اندر آؤ ۔‘‘ ساحل عمر اسے اپنے ساتھ اندر لے چلا۔
”میں نے سوچا۔ آج بغیر اطلاع دیئے۔ تم سے ملوں۔ تمہیں حیران کروں۔ ویسے ایسا کر کے میں نے رسک لیا ہے۔“ اس نے چاروں طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
”رسک کیوں ؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
”ہوسکتا تھا کہ تم گھر پر نہ ملتے۔ پھر میرا کیا حال ہوتا۔‘‘ ورشا نے جواب دیا۔
”ہاں یہ تو ہوسکتا تھا۔ لیکن سر پرائز کا بھی تو اپنا مزہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سر پرائز کبھی کبھی الٹا پڑ جاتا ہے ۔‘‘ ساحل عمر نے ہنس کر کہا۔
”کیا کر رہے تھے۔؟ میں نے آ کر کہیں ڈسٹرب تو نہیں کیا۔؟“ ”ارے نہیں۔ میں تو تمہارا انتظار کر رہا تھا۔ جانے کیوں میرا دل کہہ رہا تھا کہ آج تم ضرور آؤ گی۔‘‘ ساحل عمر نے اسے گہری نظر سے دیکھا۔
“بس دیکھ لو۔ تم نے سوچا اور ہم چلے آۓ۔“ اس نے ایک ادا سے کہا۔
جب وہ باتیں کرتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوئے اور لاؤنج میں پہنچے جہاں ناصر مرزا اور عابد منجم ان کے منتظر تھے تو ورشا ایک دم آگے بڑھتے بڑھتے رک گئی۔
ایک نظر اس نے ناصر مرزا کو دیکھا پھر عابد منجم پر نظر ڈالی تو اس کے جسم میں ایک جھٹکا سا لگا پھر اس کی نظریں اس گلاس پر جم گئیں جس میں برکھا کی دی ہوئی انگوٹھی پڑی تھی اور گلاس خوں رنگ ہو رہا تھا۔ اس خوں رنگ گلاس کو دیکھ کر اس پر جیسے دیوانگی کا دورہ پڑ گیا۔
وہ تیزی سے گلاس کی طرف جھپٹی اور گلاس اٹھا کرغٹ غٹ کر کے سارا خون پی گئی۔ خون کے ساتھ انگوٹھی بھی اس کے منہ میں چلی گئی تھی۔ اس نے انگوٹھی جس کا پتھر غائب ہو چکا تھا۔ منہ سے نکال کر اپنی پگلی میں پہن لی اور بڑی غضب ناک نگاہوں سے عابد منجم کو دیکھا اور تیزی سے لاؤنج سے نکل گئی۔ ساحل عمر اس کے پیچھے لپکا۔
”ورشا اے ورشا . سنوتو۔‘‘ وہ پکارتا رہا۔
ورشانے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ وہ بہت تیزی سے دوڑتی ہوئی گیٹ سے نکل گئی۔ اور جب ساحل عمر گیٹ پر پہنچا تو وہ اپنی گاڑی اسٹارٹ کر چکی تھی۔ وہ اس کی گاڑی کی طرف لپکا۔ لیکن گاڑی تک پنچنے سے پہلے ہی وہ اپنی گاڑی آگے بڑھا چکی تھی۔
ساحل عمر جب گھر میں واپس آیا تو عابد منجم سر تھامے بیٹھے تھے۔ ساحل عمر نے اشارے سے ناصر مرزا سے پوچھا۔ “کیا ہوا؟”
لیکن ناصر مرزانے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ ایک ٹک عابد منجم کو دیکھتا گیا۔
”عابد صاحب آپ نے فرمایا تھا کہ برکھا آۓ گی لیکن یہ تو برکھا نہ تھی ورشا تھی اس کی بیٹی۔“ ساحل عمر نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہا۔
تب عابد منجم نے سر سے ہاتھ ہٹاۓ اور اپنا سر اٹھا کر ساحل عمر کو دیکھا اور بولے۔ ”یہ ورشا نہیں تھی برکھا تھی۔ میں نے جو کہا تھا وہ ٹھیک کہا تھا۔‘‘
“لیکن.“ ساحل عمر اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔
”ساحل عمر تم اس بات کو نہیں سمجھ پاؤ گے۔ میں ناصر مرزا کو سمجھا دوں گا۔‘‘ عابد منجم اس کی بات کاٹ کر بولے۔’’فی الحال میں ایک اور الجھن میں ہوں۔ مجھ سے ذرا سی چوک ہوگئی۔ میں اس خون کو اس کے آنے سے پہلے پودے میں ڈلوا دیتا تو اچھا ہوتا۔ وہ تمہارا خون پی گئی۔ اگر وہ ورشا ہوتی تو ہرگز ایسا نہ کرتی۔ خیر کوئی بات نہیں۔ میں نے اسے دیکھ لیا۔ یہ ایک اچھی بات ہوگئی۔‘‘
“ساحل تم ذرا دیکھو چائے کس مرحلے میں ہے۔‘‘ ناصر مرزا نے اسے آ نکھ سے باہر جانے کا اشارہ کیا
”اچھا دیکھتا ہوں۔‘‘ ساحل عمر اس کا اشارہ سمجھ کر فورا اٹھ گیا۔
”ہاں۔ عابد صاحب کون تھی یہ۔؟‘‘
”یہ برکھا تھی۔ ورشا کے جسم میں۔“ عابد منجم نے بتایا۔
”اوہ۔ اس قدر خطرناک عورت ہے۔“ ناصر مرزا نے ان کی بات سمجھ کر تشویش کا اظہار کیا۔ مجھے اپنے دوست کی فکر پڑگئی۔
تشویش کی بات یقینا ہے۔ ساحل عمر کی حفاظت کے لئے کچھ انتظام کرنا ہوگا۔“
”آپ کریں۔ اس کام میں ذرا بھی دیر نہ کر یں۔ مجھے ساحل بہت عزیز ہے۔“ ناصر مرزا بولا
”ہاں بہت پیارا لڑکا ہے۔ میں اس کے لئے کچھ کرتا ہوں اسے فلحال ہدایت کر دو کہ ورشا سے نہ ملے۔“
”ٹھیک ہے کہہ دوں گا۔‘‘ ناصر مرزا نے کہا۔
’’چاۓ تیار ہے۔‘‘ ساحل عمر نے اندر آ کر کہا۔
“آیئے عابد صاحب۔“ ناصر مرزا عابد منجم سے مخاطب ہوکر بولا۔ چل کر چائے پیتے ہیں“
پھر وہ تینوں ڈائنگ ٹیبل پر آ کر بیٹھ گئے اور کھانے پینے میں مشغول ہو گئے۔
دوسرے دن ناصر مرزا اپنی فیکٹری کے دفتر میں بیٹھا مسعود آفاقی سے بات کر رہا تھا
اسے کل کی روداد سنا رہا تھا کہ اس کا چپڑاسی رمضان کمرے میں داخل ہوا۔ وہ ناصر مرزا کوفون پربات کرتے دیکھ کر ادب سے کھڑا ہوگیا۔
’’ایک منٹ ہولڈ کرنا۔‘‘ ناصر مرزا ریسیور پر کہہ کر رمضان سے مخاطب ہوا۔ ’’ہاں کیا ہے۔؟‘‘
”سرکوئی خاتون آپ سے ملنے آئی ہیں۔“ رمضان نے بڑے مودبانہ لہجے میں کہا۔
”اچھا۔ انہیں بٹھاؤ۔ میں بات کرلوں۔ پھر بلاتا ہوں۔‘‘ ناصر مرزا نے جواب دیا۔
”کون ہے بھئی۔‘‘ مسعود آفاقی نے پوچھا۔
”ملازمت کے سلسلے میں خواتین آتی رہتی ہیں۔ ایسی ہی کوئی ضرورت مند خاتون ہوں گی۔ اچھا تو میں تمہیں بتا رہا تھا کہ۔۔۔“ ناصر مرزا بات کرتا کرتا رک گیا۔
ایک برقعہ پوش خاتون اس کے کمرے میں داخل ہو چکی تھیں۔ اور رمضان اس عورت کو اندر آنے سے روکنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
”اچھا مسعود میں تمہیں ابھی فون کرتا ہوں۔ یہ خاتون بلا اجازت اندر آ گئی ہیں۔ ذرا ان سے نمٹ لوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ریسیور رکھ دیا۔
”سر میں نے انہیں بہت منع کیا کہ سربزی ہیں لیکن یہ مانی نہیں زیردستی اندر آ گئی۔“ رمضان پریشان تھا۔
”آپ کون ہیں خاتون۔ آپ کو باہر بیٹھ کر بلائے جانے کا انتظار کرنا چاہئے تھا“ ناصر مرزا نے ناگواری سے کہا۔
”میں انتظار نہیں کرسکتی۔‘‘ یہ کہہ کر اس خاتون نے نقاب الٹ دیا۔
وہ ایک چالیس پینتالیس سال کی پرکشش عورت تھی۔ اس کی آنکھوں میں کوئی ایسی بات تھی که ناصر مرزا اس سے آنکھ نہ ملا پایا۔
”جی فرمایئے۔“ ناصر مرزا نے پوچھا۔
”اس سینک سلائی سے کہہ دینا کہ ہوش میں رہے۔“
”جی میں آپ کی بات سمجھا نہیں۔؟‘‘ ناصر مرزا نے وضاحت چاہی۔
”وہ پہلے ہی اتنا دبلا پتلا ہے۔ اگر میں نے زور سے پھونک مار دی تو اس کا پتا بھی چلے گا کہ کدھر گیا۔“ اس نے پھر دھمکی دی۔
” آپ کس کی بات کر رہی ہیں اور آپ کون ہیں ۔؟‘‘ ناصر مرزا نے ذرا سخت انداز میں کہا
”میں عابد منجم کی بات کر رہی ہوں اور میں برکھا ہوں۔‘‘ برکھا نے بڑے تیکھے لہجے میں جواب دیا۔
”اوہ اب میں سمجھا آپ ہیں برکھا کل تو آپ کسی اور ہی کے روپ میں تھیں“ ناصر مرزا نے اس کی آ نکھوں میں دیکھا۔ وہاں اسے شعلے بھڑکتے ہوۓ نظر آۓ۔
”اور شکاری تم بھی کان کھول کر سن لو۔ ساحل عمر کو مجھ سے کوئی نہیں چھین سکے گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ واپس جانے کے لئے مڑی۔
”ایک بات میری بھی سنتی جاؤ۔‘‘ ناصر مرزا کو بھی غصہ آ گیا۔
”میں سننے کی نہیں سنانے کی عادی ہوں۔ میرا پیغام اس سینک سلائی کو دے دینا۔ وہ مجھے کوئی معمولی چیز نہ سمجھے پہلے ہی قبر میں پاؤں لٹکاۓ بیٹھا ہے۔ بس اسے ایک معمولی سے دھکے کی ضرورت ہے۔‘‘ یہ کہہ کر برکھا رکی نہیں۔ اس نے ناصر مرزا کے جواب کا انتظار نہیں کیا۔ تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔
ناصر مرزا اس کی اس جرات پر ہکا بکا اسے دیکھتا رہ گیا۔ اس کے جانے کے بعد اچانک دروازے پر ناصر مرزا کی نظر پڑی۔ وہاں ایک چیز پڑی تھی جو اس کے برقعے میں سے گری تھی ۔
اس کے برقعے سے جو چیز گری تھی وہ ایک ماچس کی ڈبیہ تھی۔ رمضان ابھی کمرے میں موجود تھا۔ ناصر مرزا نے اس سے کہا۔ ’’دیکھو کیا ہے اس میں“
رمضان نے ماچس کی ڈبیہ اٹھائی اور اسے کھولنے کے بجاۓ کان کے نزدیک لے جاکر بجائی۔ پھر بولا۔’’سر دو چار تیلیاں معلوم ہوتی ہیں ۔‘‘
”کھول کر دیکھو۔‘‘ رمضان نے ڈبی کھولی اس کا اندازہ صحیح تھا۔ اس میں صرف دو تیلیاں تھیں۔
”سر اس میں صرف دو تیلیاں ہیں ۔‘‘ رمضان نے کھلی ہوئی ماچس ناصر مرزا کی میز پر رکھتے ہوۓ کہا۔
ناصر مرزا نے اس ماچس کو ہاتھ نہ لگایا۔ دور ہی سے نظر ڈالی اور پھر بولا۔ ’’اسے بند کر کے اپنے پاس رکھ لو اور میرے لئے چائے بناؤ‘‘
’’ جی سر !‘‘ رمضان نے کہا اور ماچس کی ڈبیہ اپنی جیب میں رکھ کر باہر نکل گیا۔
ناصر مرزا کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ ماچس اس کے برقعے میں سے کس طرح گری۔ آیا اس نے جان بوجھ کر گرائی یا اتفاقی طور پر برقعے کی جیب سے نکل گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ برکھا سگریٹ نوشی کرتی ہے۔ ورنہ ماچس اپنے پاس رکھنے کا کیا مطلب ہے۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ اس ماچس میں کوئی بھید ہوکوئی اسرار ہو ۔ یہ سوچ کر اس نے فوراً عابد منجم کا نمبر گھمایا۔
”سائیں وہ آپ کی دوست آئی تھی۔‘‘ نمبر ملتے ہی ناصر مرزا نے گفتگو شروع کی۔
’’میری دوست۔‘‘ عابد نجم نے آواز پہچان کر کہا۔ ’’ پر میری دوست تم تک کیسے پہنچی؟‘‘
”سائیں بڑی دھمکیاں دے کر گئی ہے۔“ ناصر مرزا نے بتایا۔
”بھائی کس کی بات کر رہے ہو ؟‘‘ عابد منجم نے پوچھا۔
”عابد صاحب برکھا کی بات کر رہا ہوں۔ وہ ابھی ابھی یہاں سے گئی ہے۔
”کیا کہہ رہی تھی؟” انہوں نے پوچھا
”جان سے مارنے کی دھمکی دے گئی ہے۔ اس کے خیال میں ساحل عمر کو اس سے کوئی نہیں چھین سکتا“
’’اچھا کس روپ میں تھی ؟‘‘
”اپنے ہی روپ میں تھی۔ عابد صاحب وہ چالیس پینتالیس کی ایک پرکشش عورت ہے۔“
”اچھا! پھر تو اس سے جلد ملاقات کرنا پڑے گی۔“ وہ ہنسے۔
”جاتے جاتے وہ ایک کام کر گئی ہے۔ پتا نہیں یہ کام اس نے نادانستگی میں کیا یا دانستہ ‘‘
“وہ کیا؟“
”اس کے جانے کے بعد ایک ماچس دروازے پر دکھائی دی جو یقینا اس کے برقعے سے گری۔‘‘
”اچھا برقعے میں تھی وہ ؟‘‘ عابد منجم نے حیرت ظاہر کی۔
”نہ صرف برقعے میں تھی بلکہ بڑی دلیری سے میرے کمرے میں گھس آئی ۔‘‘
”ماچس میں کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
”صرف دو تیلیاں۔‘‘ ناصر مرزا نے بتایا۔
”اس ماچس کو اپنے پاس احتیاط سے رکھو۔ جلانے کی کوشش نہ کرنا اور پہلی فرصت میں اسے میرے پاس بھیجو۔” عابد منجم نے ہدایت کی۔
”کسے برکھا کو ؟‘‘ ناصر مرزا نے ہنس کر کہا۔۔
”اے بھائی ! ماچس کو….“ وہ بولے۔
وہ میں خود ہی لے کر حاضر ہوں گا۔ دفتر سے اٹھوں گا تو سیدھا آپ کے پاس آؤں گا۔
”ٹھیک ہے۔ میں نے ساحل کے لئے ایک تعویذ تیار کیا ہے ۔ وہ بھی دے دوں گا۔ ٹھیک ہے باقی باتیں ملاقات پر ۔تم برکھا کی دھمکی کا اثر نہ لینا۔ میں اسے دیکھ لوں گا۔‘‘ انہوں نے تسلی دی۔
“نہیں ایسا ڈرنے والا نہیں ہوں میں۔ مجھے شکاری کہہ کر گئی ہے پھر وہ یہ بات اچھی طرح جانتی ہوگی کہ میرانشانہ کیسا ہے۔ اچھا اوکے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ریسیور رکھ دیا۔ ۔
ابھی ریسیور رکھ کر ناصر مرزا نے ایک گہرا سانس ہی لیا تھا کہ اس کا میجر زاہد ملک بوکھلا یا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا ۔’’سر وہ رمضان اندھا ہو گیا۔“
’’رمضان اندھا ہوگیا۔‘‘ ناصر مرزا فورا کھڑا ہوگیا۔ “کہاں ہے وہ ؟‘‘
ناصر مرزا اپنے کمرے سے باہر نکلا۔ رمضان سامنے ہی ایک کرسی پر اپنی آنکھیں پکڑے بیٹھا تھا اور دفتر کے دو چار لوگ اس کے گرد کھڑے تھے۔
ہوا یہ کہ جب رمضان چاۓ بنانے کے لئے کچن میں پہنچا تو اسے چولہا جلانے کے لئے ماچس کی ڈبی نظر نہ آئی۔ اس نے ماچس کی تلاش سے بچنے کے لئے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اس ماچس کی ڈبیا میں دو تیلیاں تھیں اس نے ایک تیلی نکال کر ماچس پر رگڑی۔
تیلی سے جیسے ہی شعلہ نکلا اسے دیکھتے ہی رمضان کی آنکھیں جاتی رہیں۔ ایک دم اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ کچن میں گھبرا کر زمین پر بیٹھ گیا۔
ایک بندے نے اسے کچن سے اٹھا کر باہر کرسی پر بٹھایا۔ رمضان نے بتایا کہ اسے آنکھوں سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ یوں یہ اطلاع زاہد ملک نے ناصر مرزا تک پہنچائی۔
ناصر مرزا نے سب سے پہلے وہ ماچس کی ڈبیہ جس میں اب ایک تیلی موجود تھی ۔اپنے قابو میں کی۔ اس کے بعد اس نے زاہد ملک کو ہدایت دی۔ ’’رمضان کو میری گاڑی میں بٹھا کر فوراً ہسپتال لے جاؤ ۔ اس سلسلے میں جو بھی خرچہ ہوگا اسے میں برداشت کروں گا۔“
زاہد ملک اسے فورا گاڑی میں بٹھا کر اسپتال پہنچایا۔ آنکھوں کے سرجن نے اس کا اچھی طرح معائنہ کیا اور معائنے کے بعد اس نے جو بات بتائی۔ اسے سن کر زاہد ملک کا منہ کھلا رہ گیا۔
ڈاکٹر نے کہا۔’’اس کی آنکھیں بالکل ٹھیک ہیں۔“
”ڈاکٹر صاحب ! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ اسے آنکھوں سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ آپ کہ رہے ہیں کہ اس کی آنکھیں بالکل ٹھیک ہیں۔“
”یہ بات میں پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں۔ اس کی آنکھیں پوری طرح صحیح ہیں۔ بھلا ماچس کی تیلی جلنے سے بھی کبھی کسی کی آ نکھیں ضائع ہوئی ہیں اور وہ بھی دونوں۔“ ڈاکٹر نے بڑے وثوق سے کہا۔
“رمضان تم نے سن لیا۔“ ڈاکٹر صاحب کیا کہ رہے ہیں۔
”ہاں ! میں نے سن لیا۔‘‘ رمضان نے پریشان ہوکر کہا۔ ’’خدا کی قسم زاہد صاحب مجھے دکھائی نہیں دے رہا۔ میں بھلا جھوٹ کیوں بولوں گا۔‘‘
”اچا آؤ میرے ساتھ فون پر ناصر صاحب سے بات کرتے ہیں۔“ زاہد ملک نے اس کا ہاتھ پکڑا اور آئی سرجن کے کمرے سے رمضان کو لے کر باہر آ گیا۔
اسپتال کے استقبالیہ سے زاہد ملک نے ناصر مرزا سے بات کی۔ اسے ساری صورت بتائی اور پوچھا۔
’’سراب کیا حکم ہے۔”
ناصر مرزا نے زاہد ملک کی بات بڑے تہمل سے سنی۔ ساری بات سننے کے بعد اس نے کہا۔
”تم اسے دفتر واپس لے آؤ۔ میں سوچتا ہوں کہ اب اس کے لئے کیا کرنا ہے۔“ ناصر مرزا نے ٹیلی فون منقطع کر کے ایک مرتبہ پھر عابد منجم سے بات کی۔ انہیں رمضان کے اند ھے ہونے کی داستان سنائی۔
پوری رو داد سننے کے بعد عابد منجم بولے۔’’میں نے منع کیا تھا تھا ماچس جلانے کو خیرکوئی بات نہیں۔ تم ایسا کرو کہ اپنے چپڑاسی کو فوراً میرے پاس لے آؤ۔ میں دیکھتا ہوں کہ کیا معاملہ ہے ؟ بھئی یہ عورت تو توقع سے زیادہ خطرناک معلوم ہو رہی ہے ۔“
”ٹھیک ہے رمضان واپس دفتر آ جاۓ تو میں فورا آپ کے پاس لے کر آتا ہوں۔” یہ کہہ کر اس نے فون منقطع کر دیا اور ریسیور پکڑے سو چنے لگا۔
ناصر مرزا نے جنات بھوت پریت آسیب کے بہت واقعات سنے اور پڑھے تھے۔ ایک دو دیکھے بھی تھے لیکن اس طرح کی کسی عورت سے اس کا واسطہ نہیں پڑا تھا۔ جادو کے بارے میں سنا ضرور تھا لیکن کوئی جادو گر دیکھا نہ تھا۔ اب واسطہ پڑا تو ایک عورت سے ایک تو ساحرہ اوپر سے حسین۔ ۔حسین عورت تو ویسے ہی کسی سحر سے کم نہیں ہوتی اس کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے لیکن یہ برکھا تو چیز ہی دیگر تھی۔ وہ کالے علم میں بہت آگے تھی۔ وہ روح کی منتقلی کے فن سے بھی واقف تھی۔ وہ پکی شیطان تھی
کوئی ایک گھنٹے بعد وہ رمضان کو لے کر عابد منجم کے دفتر پہنچ گیا عابد منجم نجوم پر ایک ماہنامہ نکالتے تھے۔ رمضان کا ہاتھ پکڑ کر انہوں نے اپنے نزدیک کرسی پر بٹھالیا اور اس کی آنکھوں کوغور سے دیکھا۔ اس کی آنکھیں بظاہر بالکل ٹھیک تھیں۔ نہ کوئی سرخی تھی نہ کوئی زخم تھا اور نہ ہی آنکھوں میں کسی قسم کا درد تھا۔
”ہاں ! رمضان کیا ہوا تھا ؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
”سر جی میں نے جیسے ہی تیلی جلائی اور اس کے شعلے پر نظر پڑی تو ایک دم سے آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا۔‘‘ رمضان نے بتایا۔
”اب تمہیں کچھ نظر آ رہا ہے۔؟“
”جی بالکل نہیں ۔۔۔ میری آنکھوں میں اب بھی گہرا اندھیرا اترا ہوا ہے جیسے کسی نے آنکھوں پر کالی پٹی باندھ دی ہو۔‘‘
”تم نے سچ کہا۔ رمضان تمہاری آنکھوں پر واقعی کالا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔“ عابد منجم نے کہا
پھر ناصر مرزا سے مخاطب ہوکر بولے۔ ’’وہ ماچس کہاں ہے؟“
”یہ ہے۔“ ناصر مرزا نے ماچس نکال کر اس کے سامنے میز پر رکھ دی۔
عابد منجم نے ماچس کی ڈبیہ سے وہ تیلی نکال کر بڑے غور سے دیکھی اور بولے۔ ”خوب آتش بازی ہے۔“
“یہ تیلی تو عام سی ہے۔ میرا مطلب ہے کہ بطور خاص بنائی ہوئی محسوں نہیں ہوتی۔“
”ہاں ٹھیک کہا تم نے۔ یہ تیلی کسی عام ماچس کی ہے لیکن وہ عورت بڑی آتش باز ہے۔ کس طرح ماچس کی ڈبیہ پھینک کر نکل گئی‘‘
یہ کہہ کر انہوں نے گھنٹی بجائی۔ ایک ادھیڑ عمر کا ملازم اندر آیا۔ عابد منجم اس سے مخاطب ہو کر بولے۔
’’شوکت ! ایک گلاس میں پانی لاؤ۔“
”جی صاحب!“ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر گیا اور ایک شفاف گلاس میں پانی لے آیا۔
عابد منجم نے وہ گلاس اپنے سامنے رکھا اور دھیرے دھیرے کچھ پڑھنا شروع کیا۔ تیلی ان کے ہاتھ میں تھی اور ان کی نظریں تیلی پر
ماچس کی تیلی پر دو چار منٹ کچھ پڑھ کر انہوں نے تیلی پر پھونک ماری اور اس کی مصالحہ لگی سائیڈ پانی میں ڈال کر نکال لی۔ مصالہ گیلا ہو گیا۔
انہوں نے پھر پڑھنا شروع کیا۔ اس طرح انہوں نے تین مرتبہ پڑھ پڑھ کر تیلی پر پھونک ماری اور اسے پانی میں ڈبو کر نکال لیا تیسری مرتبہ اس کا مصالحہ چھوٹ کر میز پر گر گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پانی جیسا ہوگیا۔
تب انہوں نے گھنٹی بجا کر شوکت کو بلایا اور اس کے ہاتھ میں پانی سے بھرا گلاس دے کر کہا “رمضان کو باتھ روم میں لے جاؤ اس پانی سے اسکی آنکھیں دھلوانی ہیں تم اس کے ہاتھ پر پانی ڈالتے جانا یہ دھوتا جاۓ گا۔‘‘
شوکت نے رمضان کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ ’’آؤ بھئی۔‘‘
”یہ اس طرح نہیں جاسکتا ۔ اس کا ہاتھ تھام کر لے جاؤ۔‘‘ عابد منجم نے ہدایت کی۔
رمضان نے اندھوں کی طرح ادھر ادھر ہاتھ چلاۓ ۔ تب شوکت کو احساس ہوا کہ بندہ اندھا ہے یہ احساس ہوتے ہی اس نے فورا رمضان کا ہاتھ پکڑ لیا اور دھیرے دھیرے کمرے سے نکال لے گیا
پانچ منٹ کے بعد جب رمضان کمرے میں واپس آیا تو اس کے چہرے سے خوشی پھوٹی پڑی تھی
“سر میں دیکھ سکتا ہوں۔ میری آنکھوں سے اندھیرا چھٹ گیا۔‘‘
“شکر ہے اللہ کا ورنہ میں تو تمہاری طرف سے بڑا فکر مند ہوگیا تھا۔‘‘ ناصر مرزا نے رمضان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اب تو تمہیں نظر آ رہا ہے نا۔‘‘ عابد منجم نے تصدیق چاہی۔
“جی سر۔۔۔! مجھے بالکل صاف نظر آرہا ہے۔ آپ نے کمال کر دیا سر“ رمضان بڑی ممنونیت سے عابد منجم کو د یکھتا ہوا بولا۔
“جاؤ عیش کرو تم پر اللہ کا فضل ہوگیا ورنہ اس شیطان نے تمہیں اندھا کرنے میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی۔‘‘ عابد نجم نے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
“اصل فضل تو مجھ پر ہوا کیونکہ اصل نشانہ تو میں تھا۔ یہ بے چارہ تو ایسے ہی لپیٹ میں آ گیا۔‘‘ ناصر مرزا نے وضاحت کی۔
“ہاں تم صحیح کہتے ہو۔ اب ہم دونوں کو اپنی حفاظت کے لئے بھی کچھ کرنا پڑے گا۔” عابد منجم ہولے۔
“ساحل عمر کے لئے آپ نے کیا کیا ؟” ناصر مرزا نے پوچھا۔
“اس کے لئے میں نے تعویذ تیار کر لیا ہے۔ اسے یہ تعویذ مستقل گلے میں ڈال کر رکھنا ہوگا۔” عابد منجم نے کالے کپڑے میں سلا تعویذ جیپ سے نکال کر ناصر مرزا کے حوالے کرتے ہوۓ کہا۔
پھر ناصر مرزا نے رمضان کو دفتر بھیج دیا اور وہ دونوں بڑی دیر تک آئندہ کی منصوبہ بندی کرنے لگے
آج صبح ہی سے برکھا کی حالت خراب تھی۔ وہ بستر پر لیٹی کروٹیں بدل رہی تھی۔ بے چینی سے اپنے ہاتھ پاؤں پٹخ رہی تھی۔ اسے کسی کروٹ قرار نہ تھا۔ اس کا چہرہ سفید پڑتا جا رہا تھا اور نقاہت بڑھتی جا رہی تھی۔ ورشا کافی مرتبہ اس سے ناشتے کا کہہ چکی تھی۔ کرتے
”نہیں ورشا ناشتہ کرنے کو جی نہیں چاہ رہا۔ میرے اندر آ گ لگی ہے۔“ وہ تڑپ کر بولی۔
”اگر گرمی لگ رہی ہے تو ائیر کنڈیشنر اور تیز کر دوں۔ ‘‘ ورشا نے تجویز پیش کی۔
”نہیں ورشا مجھے پیاس لگی ہے۔“ وہ اپنی زبان باہر نکال کر بولی۔
”پیاس لگی ہے تو جوس لے آؤں۔“
”نہیں درشا یہ وہ پیاس نہیں ہے یہ کوئی اور پیاس ہے۔“
“کیسی پیاس …؟ ممی کچھ بتاؤ تو میں تمہیں کئی مرتبہ اس طرح تڑپتے ہوۓ دیکھ چکی ہوں۔ شام ہوتے ہوتے تمہاری حالت مردوں سے بدتر ہو جاۓ گی۔ اتنی کمزور ہو جاؤ گی جیسے برسوں کی مریض ممی یہ تمہیں کیا ہو جاتا ہے۔ کچھ بولو تو …“ ورشا نے برکھا کا ہاتھ پکڑ لیا جو برف کی طرح ٹھنڈا ہو رہا تھا۔ ’’بتاؤمی !‘‘
”تو جانتی ہے کہ میں نے تیرے نانا کو بھینٹ چڑھا دیا تھا۔ اگر میں ایسا نہ کرتی تو وہ مجھے بھینٹ چڑھا دیتا۔ وہ میری جان کا دشمن ہوگیا تھا اور ٹھیک ہوا تھا۔ اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا۔ اسے بھی کرنا چاہئے تھا۔ میں اس کی تپسیا تھی۔ اس کا سرمایہ تھی۔ اس نے مجھ پر بہت محنت کی تھی۔ اس نے مجھے ہر وہ گر سکھا دیا تھا جو اسے آ تا تھا۔ وہ میرے ذریعے اس دنیا پر دنیا والوں پر راج کرنا چاہتا تھا۔ اس کام کا آغاز اس نے بمبئی پہنچ کر کر دیا تھا لیکن میں نے اس کے ساتھ دغا کی۔ اسے بھڑکا دیا۔ اس کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔ برا ہو اس محبت کا جو مجھے مناف سے ہوگئی۔ مناف کی محبت نے مجھے راستے سے بھٹکا دیا۔ اپنے باپ اپنے استاد کو چھوڑ کر مناف کے ساتھ نکل گئی۔ پر سب سے بھیانک غلطی میں نے یہ کی کہ میں مسلمان ہوگئی اور میں نے ان کاموں سے تو بہ کرلی۔ جولوگ اپنے راستے سے بھٹک جاتے ہیں۔ اپنا مسلک چھوڑ دیتے ہیں ان کے ساتھ یہی ہونا چاہئے جو میرے ساتھ ہوا میرا باپ مجھے سزا دینے آ پہنچا۔ یہ بات میں اچھی طرح جان گئی کہ اب وہ مجھے کسی قیمت پر زندہ نہیں چھوڑے گا اور میں کسی قیمت پر مرنا نہیں چاہتی تھی ۔ میں اس کے مقابلے پر آ گئی۔ اس کا سکھایا پڑھایا اسی پر آزما ڈالا۔ اس طرح میں اسے بھینٹ چڑھانے میں کامیاب ہوگئی۔ جو فائدہ وہ اٹھانا چاہتا تھا وہ فائدہ میں نے اٹھا لیا۔ مجھے اس بھینٹ کے عوض بہت کچھ مل گیا۔ میرا قیمتی خون تو ضائع ہوا لیکن مجھے ایک طاقت مل گئی۔ کالی طاقت ۔ اب میں مسلمان نہ رہی۔ کافر ہوگئی۔ اپنے مسلک پر لوٹ آئی۔ مناف کو کچھ معلوم نہ ہوسکا کہ میں کیا سے کیا ہوگئی ہوں۔ جھوٹ دھوکا فریب میرا مذہب بن گیا۔ سیدھے راستے سے لوگوں کو بھٹکانا میرا ایمان ہو گیا۔ پھر ایک دن مناف نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تو میرے اندر آگ بھڑک اٹھی۔ وہ میرے غصے کی لپیٹ میں آ گیا۔ اسے بھی میں نے بھینٹ چڑھا دیا۔ اس طرح میرا قیمیتی خون ایک مرتبہ پھر ضائع ہوا۔ وہ پیاس جو میرے اندر پہلے ہی بھڑک رہی تھی۔ مزید بھڑک اٹھی۔ اس پیاس کو بجھانے کے لئے مجھے بڑے جتن کرنے پڑے ہیں۔ یوں سمجھو کہ مجھے خون کا سرطان ہوگیا ہے۔ جس طرح خون کے سرطان میں بار بار نئے اور تازہ خون کی ضرورت پڑتی ہے۔ ویسے ہی جب میرے اندر پیاس بھڑکتی ہے تو یہ تازہ خون حاصل کئے بغیر نہیں بجھتی۔ آج میں نے تمہیں ساری بات اچھی طرح سمجھا دی ہے۔ پوری تفصیل بتا دی ہے۔ اب تمہیں اندازہ ہوگیا ہوگا کہ یہ کس قسم کی پیاس ہے۔‘‘ برکھا نے گہرا اور ٹھنڈا سانس لیا۔
“پر ممی تمہارے لئے تازہ خون کہاں سے آۓ گا۔‘‘ ورشا فکر مند ہوکر بولی۔
”آجاۓ گا …. تم پریشان مت ہو۔ میں انتظام کرلوں گی۔‘‘ برکھا نے خود کو سنبھالتے ہوۓ کہا۔ ’’تم ذرا واسم کو فون ملاؤ۔‘‘
”ٹھیک ہے ممی ۔‘‘ ورشا نے واسم کا نمبر ڈائل کر کے ریسیور برکھا کے ہاتھ میں تھما دیا۔
’’ادھر ابھی بیل ہو رہی تھی۔ پھر کسی نے فون اٹھا کر ’’ہیلو‘‘ کہا۔
“ہاں واسم میں بول رہی ہوں۔‘‘ پرکھا نے اس کی آواز پہچان کر اپنی پہچان کرائی۔
’’جی برکھا جی . کیا حکم ہے میرے لئے۔۔“ وہ فرماں برداری سے بولا۔
“آج سوناں کو لے کر شکار پر جانا ہے۔‘‘ برکھا نے حکم دیا۔
”جی ٹھیک ہے۔“
”سوناں سے کہنا ذرا آنکھیں کھول کر کام کرے۔ تم اس کے آگے پیچھے رہنا تاکہ کسی قم کی گڑبڑ ہونے پر معاملہ سنبھال سکو۔ اس سے کہنا کہ ذرا صحیح چیز کا انتخاب کرے۔ اچھا جلدی آنا۔ میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔ سمجھ گئے نا میری بات۔“
“جی سجھ گیا۔ ہم جلدی آنے کی کوشش کر یں گے۔ شکار ملتے ہی ہم نکل آ ئیں گے۔“
”ٹھیک ہے …اوکے۔‘‘ برکھا نے ریسیور ورشا کی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا۔
”ممی آپ تھوڑا سا کچھ کھا لیں۔“ ورشا نے ریسیور رکھتے ہوئے پوچھا۔
”نہیں ورشا میں کچھ نہیں کھا سکتی۔ اگر کھاؤں گی تو فوراً باہر آ جاۓ گا۔ مجھے رات تک انتظار کرنا ہوگا۔“ برکھا نے اپنی مجبوری ظاہر کی۔
“جوس وغیرہ لے لیں. اس طرح تو نقاہت بہت بڑھ جائے گی۔“ ورشا فکر مند تھی۔
“نہیں جوس نہیں۔ ایسا کرو مجھے تھوڑا سا نمک ملا پانی دے دو ۔نمکین پانی کے علاوہ کچھ نہیں پیا جاسکتا۔“ برکھا نے کہا۔
“می مجھے نہیں معلوم کہ واسم کو آپ نے کس شکار پر بھیجا ہے اور وہ آپ کے لئے کیا انتظام کر کے لاۓ گا لیکن میں سوچتی ہوں کہ اگر کسی وجہ سے وہ انتظام نہ کر پایا تو پھر آپ رات کس طرح گزاریں گی۔“
“ورشا بری باتیں منہ سے مت نکال۔ سوناں بڑی کھلاڑی عورت ہے وہ ضرور کچھ نہ کچھ کرے گی۔ اگر وہ کسی وجہ سے ناکام ہوئی تو پھر میرے پاس ایک راستہ اور ہے۔” یہ کہہ کر اس نے ورشا کو کچھ ایسی نگاہوں سے دیکھا کہ وہ سہم کر رہ گئی۔
•●•●•●•●•●•●•●•●•
آج چھٹی کا دن تھا۔ دن بھر خوب گرمی پڑی۔ شام ہوتے ہی موسم بہتر ہوگیا تھا۔ ٹھنڈی ہوا چلنے لگی تھی ۔کلفٹن پر اچھا خاصا رش تھا۔ پلے لینڈ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ لوگ اپنی فیملی کیساتھ آۓ ہوۓ
تھے۔
انہی لوگوں میں سوناں اور واسم بھی تھے۔ سوناں سانولے رنگ کی اچھے نین نقوش کی عورت تھی۔ وہ زرد رنگ کی سرخ بارڈر والی کاٹن کی ساڑھی ہندوانے اسٹائل میں باند ھے ہوۓ تھی۔ اس کی پیشانی پر لال بندیا اور مانگ میں سیندور پڑا ہوا تھا۔ اسے پلے لینڈ میں گھومتے ہوئے ایک گھنٹہ ہو گیا تھا۔ واسم اس کے نزدیک ہی تھا۔ کبھی آ گے کبھی پیچھے کبھی دائیں کبھی بائیں اور کبھی دو چار قدم ساتھ بھی چل لیتا
سوناں بہت تیزی سے ادھر ادھر نظروں کے جال پھینک رہی تھی لیکن اس کی مطلوبہ چیز ابھی تک نظروں میں نہیں آئی تھی۔ وہ ادھر سے ادھر گھومتی رہی ۔ تب اچانک اس کی نظر ایک جھولے پر پڑی۔ وہ وہیں ٹھہر گئی۔ اتنے میں جھولے میں بیٹھی لڑکی اوپر چلی گئی ۔ کچھ دیر کے بعد جب وہ نیچے آئی تو اس کی نظروں نے اس کا انتخاب کیا۔ سوناں کو جھولے کے سامنے کھڑا دیکھ کر واسم بھی نزدیک رک گیا اور جھولے کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ اندازہ نہ کر پایا کہ سوناں نے کس لڑکی کا انتخاب کیا ہے۔ جھولے کے رکنے کے بعد فیملیز نے باہر آنا شروع کیا تو وہ اپنی منتخب کردہ لڑکی کے پیچھے ہولی۔ وہ سات آٹھ افراد کی فیملی تھی۔ اس میں چار لڑکیاں دوعورتیں ایک جوان لڑکا اور ایک ادھیٹر عمر کا مرد تھا۔ وہ لڑکی ان میں سب سے چھوٹی تھی۔ اس کی عمر بمشکل تیرہ چودہ سال ہوگی۔ وہ بڑی پیاری سی تھی معصوم سی…
سوناں نے لڑکی کو دیکھتے ہی منتر پڑھنا شروع کر دیا۔ اب وہ موقع کی تلاش میں تھی۔ جیسے ہی رش میں لڑکی اپنی فیملی سے ذرا الگ ہوئی تو سوناں نے آگے بڑھ کر بہت نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑلیا۔ لڑکی نے فورا ہاتھ پکڑنے والی کو دیکھا۔ سوناں نے پھونک مار کر اس کی آنکھوں میں آ نکھیں ڈال دیں اور اس کا ہاتھ دبا کر اپنی طرف کھینچا۔
’’ آ جاؤ میرے ساتھ” وہ لڑکی یہ سن کر اس کے ساتھ کچھ اس طرح چل دی جیسے اپنی ماں کے ساتھ جا رہی ہو۔ وہ لڑکی بندش میں آگئی تھی اور کسی سحر زدہ معمول کی طرح اس کے ساتھ چلی آرہی تھی۔ واسم نے جب دیکھا کہ سوناں نے شکار پکڑلیا ہے تو وہ اس کے قریب آ کر بولا ۔”سوناں جلدی کرو.”
“تو گیٹ سے نکل کر گاڑی اسٹارٹ کر میں اسے لا رہی ہوں۔‘‘ سوناں نے اے بھگایا
وہ دونوں گیٹ سے باہر نکل آۓ اور اندھیرے میں اس کی پچھلی نسشت پر سوناں نے اس لڑکی کو دھکیلا اور ہیجانی انداز میں بولی۔
’’واسم بھگا گاڑی۔” واسم طوفانی انداز میں وہاں سے گاڑی نکال کر مین روڈ پر لے آیا۔ گاڑی میں اندھیرا تھا۔ اس لڑکی کوسوناں نے اپنے قریب کر کے اس کا سراپنے کند ھے پر رکھا تھا۔ اس لڑکی پر نیم غشی طاری ہو چکی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے ہوش کھوتی جا رہی تھی۔ وہ دونوں بہت خوش تھے۔ ایک تو شکار جلد مل گیا تھا اور برکھا کے مطلب کا تھا۔ جب گاڑی برکھا کے گھر کے گیٹ پر پہنچی تو ساڑھے دس بج رہے تھے۔ واسم نے مخصوص انداز میں گاڑی کا ہارن دیا۔ برکھا جو اب نڈھال ہو چکی تھی ہارن کی آواز سن کر ایک دم اس کے تن
مردہ میں جان سی پڑگئی ۔ وہ خوش ہوکر بولی۔’’وہ آ گئی۔‘‘
“ممی میں جا کر گیٹ کھولوں۔‘‘ ورشا نے اجازت چاہی۔
’’ہاں جاؤ۔‘‘ برکھا نے اسے گیٹ کھولنے کی اجازت دے دی۔ ساتھ ہی یہ ہدایت کی تم گاڑی میں جھانکنے کی کوشش مت کرنا۔ گیٹ کھول کر واپس اپنے کمرے میں چلی جانا۔
آج رات سوناں میرے ساتھ ہی رہے گی ۔ البتہ واسم فورا واپس چلا جاۓ گا۔ اس کے جانے کے بعد سوناں گیٹ بند کر لے گی۔”
“اچھا ممی‘‘ ورشا نے سعادت مندی سے کہا۔ ’’میں گیٹ کھول کر اپنے کمرے میں چلی جاؤں گی ۔‘‘
ورشا نے گیٹ کھولا تو گاڑی کی بجھی ہوئی ہیڈ لائٹس ایک دم آن ہوئیں۔ ورشا کی آنکھیں چندھیا گئیں وہ فورا ایک طرف ہوگئی۔ اس کے ایک سائیڈ پر ہوتے ہی گاڑی تیزی سے اس کے آگے سے گزرگئی۔ ورشا باوجود کوشش کے کچھ نہ دیکھ پائی۔ گاڑی گھوم کر بنگلے کے پیچھے چلی گئی۔ ورشانے گیٹ کھلا چھوڑ کر اپنے کمرے کا رخ کیا اور لائٹ جلا کرایک رسالہ پڑھنے لگی۔ کچھ دیر کے بعد اس نے گاڑی واپس جانے کی آواز سنی۔ کسی نے گیٹ بند کیا۔ اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔
کچھ وقت گزرا تو ورشا نے رسالہ ایک طرف پھینک کر کمرے میں لائٹ آف کر دی اور سوچا کہ چپکے سے نکل کر ممی کے کمرے کی طرف جاۓ۔ وہاں جاکر دیکھے کہ کیا ہو رہا ہے۔
ابھی وہ باہر نکلنے کا ارادہ کر ہی رہی تھی کہ باہر سے اس کے دروازے کے کنڈے کے بند ہونے کی آواز آئی۔ پھر یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے کنڈا بند کر کے تالا ڈال دیا ہو۔ ورشا نے آگے بڑھ کر دروازے کو آہستہ سے ہلایا۔ دروازہ باہر سے بند تھا۔ وہ کھلتا کیسے ورشا نے سوچا کہ دروازے کو باہر سے بند کر دینا ہی کافی تھا۔ کنڈے میں تالا ڈالنے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ بند کنڈے کو اندر سے کسی قیمت پر نہیں کھول سکتی تھی۔ اس کمرے میں دو دروازے تھے۔ ایک دروازہ ممی کے پرانے بیڈ روم میں کھلتا تھا۔ یہ وہ بیڈ روم تھا جس سے جھانک کر اس نے اپنے باپ مناف کوقتل ہوتے دیکھا تھا۔ اس کے باپ کو مارنے کے بعد برکھا نے یہ بیڈ روم چھوڑ دیا تھا۔ اس بیڈ روم کے برابر والے کمرے کو برکھا نے اپنا بیڈ روم بنالیا تھا۔ برابر والے بیڈ روم کے درمیان بھی ایک دروازہ تھا۔ اگر اندر کے دونوں دروازے کھول دیئے جائیں تو تینوں کمرے ایک ہو سکتے تھے۔
تینوں بیڈ روموں کو ملانے والے دونوں دروازوں کے اوپر شیشے لگے ہوۓ تھے۔ ورشا لمبے قد کی لڑکی تھی۔ اس نے ذرا سا اچھل کر دیکھا۔ برابر والے کمرے میں اندھیرا تھا۔
وہ تو خیر تھا ہی خالی وہاں تو اندھیرا ہونا ہی تھا لیکن برکھا کے کمرے میں بھی اندھیرا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ برکھا اپنے بیڈ روم میں نہ تھی۔ اس نے دروازے میں دھکا مار کر دیکھا وہ دوسری طرف سے بند تھا۔
ورشا اب اپنے کمرے سے باہر نہیں نکل سکتی تھی۔ وہ مایوس ہوکر بیڈ پر اوندھے منہ گری اور سکیوں سے رونے لگی۔
برکھا اس وقت اس کمرے میں تھی جہاں دن میں بھی اندھیرا رہتا تھا۔ یہ کمرہ ایک طرح اسکا آپریشن تھیٹر تھا۔ وہ یہیں بیٹھ کر سارے عملیات کرتی تھی۔ یہی اس کی پوجا کا کمرہ تھا۔ وہ شیطانکی پجاری تھی ۔ اس شیطان کی پجاری جس نے انسان کے وجود میں آتے ہی قسم کھائی تھی کہ وہ رہتی دنیا تک اسے بھٹکاتا رہے گا۔ نقصان پہنچاتا رہے گا۔ ایک زمانے میں وہ ہندو تھی ہندو اس لئے تھی کہ اس کا باپ ہندو تھا۔ پھر وہ مسلمان ہوئی۔ مسلمان اس لئے ہوئی کہ اس کا شو ہر مسلمان تھا۔ آپ وہ مسلمان تھی نہ ہندو۔ اس کا کوئی مذہب نہ تھا۔ وہ اس دنیا کے سب سے بڑے طاغوت کی چیلی تھی۔ اس کی پجارن تھی۔ اس کی پیروکار تھی ۔ وہ بدی کے دیوتا کی داسی تھی۔ وہ ابلیس کی غلام تھی۔ وہ ابلیس جو سدا سے انسان کا دشمن ہے۔ ایسے انسان کا جو اللہ کے بتاۓ ہوۓ راستے پر چلتا ہو۔ ایسے انسان کو بھٹکا کر چھوڑ دینا اس کا محبوب مشغلہ ہے۔ انسان کے وجود میں نیکی بدی دونوں موجود ہوتی ہیں۔ جشخص اللہ کی رسی مضبوطی سے تھام لیتا ہے اس کی روح میں نیکی کی روشنی پھیل جاتی ہے اور بدی سمٹ کر اندھیرے میں گم ہو جاتی ہے۔ ایسے شخص کے پیچھے شیطان لگ جا تا ہے۔ وہ اس کی کمزوری تلاش کرتا ہے اور پھر اس کی روح میں بجھی ہوئی بدی کی موم بتی کو گناہ کی دیا سلائی سے روشن کر دیتا ہے۔ گناہ میں بڑی کشش ہوتی ہے۔ انسان بڑی تیزی سے اس کی طرف لپکتا ہے۔ گناہ میں اگر کشش نہ ہو تو گناہ کون کرے لیکن گناہ کر کے ہمیشہ دکھ پہنچتا ہے۔ آدمی غمگین ہو جا تا ہے۔ پچھتاتا ہے جبکہ نیکی میں ظاہر کوئی کشش نہیں ہوتی لیکن نیکی کر کے ہمیشہ سکھ پہنچتا ہے۔ آ دمی کو سکون ملتا ہے۔ ایک سرخوشی سی اس پر چھا جاتی ہے۔ نیکی اللہ ہے اور بدی شیطان۔۔۔ شیطان کا ہاتھ پکڑنے والا ہزار آسائشوں کے باوجود بھی دکھی رہتا ہے۔ بے چین رہتا ہے۔ ایک کرب میں مبتلا رہتا ہے جبکہ اللہ کی رسی کو تھامنے والا ہزار دکھوں کے باوجودسکھی رہتا ہے۔ پرسکون رہتا ہے۔ اس کی روح پر اطمینان کی بارش برستی رہتی ہے۔ طاقت دونوں کو مل جاتی ہے۔ اس کو بھی جو نیکی کی راہ پر چلتا ہے اور اس کو بھی جو ہدی کے راستے اپنا لیتا ہے۔ ہوا کے دوش پر دونوں آدمی اڑ سکتے ہیں۔ وہ بھی جس کے پاس اللہ کی بخشی ہوئی طاقت ہوگی اور وہ بھی جس کے پاس ابلیس کی دی ہوئی قوت ہوتی ہے۔ فرق صرف نیت کا ہوتا ہے۔ روحانی آدمی سب کا دوست ہوتا ہے اور شیطانی آ دمی سب کا دشمن ہوتا ہے۔ سب سے بڑا دشمن تو وہ اپنا ہوتا ہے
برکھا نے جو راستے اپنا لئے تھے وہ راستے اسے اس زندگی کی طرف لے جا رہے تھے جہاں آگ ہی آگ تھی۔لیکن اس آگ سے وہ انجان تھی ۔ اس وقت تو اسے اس آگ کی فکر تھی جو اس کے لہو میں لگی تھی۔لہو کی اس آگ کو بجھانے کے لئے تازہ خون کی ضرورت تھی۔ اور سوناں اس کے لئے ایک دو بوتل خون نہیں پورا ’’بلڈ بینک‘‘ اٹھا لائی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: