Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Last Episode 31

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
 بچھو از انوار علیگی – آخری قسط نمبر 31

–**–**–

شام چار بجے جب وہ حافظ موسی کے گھر پہنچا تو وہ اس کے منتظر تھے۔ اس کی آہٹ سنتے ہی بولے۔
’’اب کیا حال ہے ناصر مرزا کا؟‘‘
”اسے کسی کروٹ چین نہیں. جسم پر جگہ جگہ ناخنوں کے نشان بن رہے ہیں البتہ اب وہ روشندان کی طرف دیکھ کر ڈرتا نہیں۔‘‘ ساحل عمر نے اس کی کیفیت بیان کی۔
“میں اس طرح کے مسائل میں آج تک نہیں الجھا. میں ایک گوشہ نشین انسان ہوں مجھے اس طرح کی فضولیات سے کیا سروکار بہرحال میں نے تمہیں چار بجے آنے کو کہہ دیا تھا اور تم ٹھیک وقت پر پہنچ بھی گئے ہو تو میری بات اچھی طرح سمجھ لو۔ غور سے سن لو۔ تم ناصر مرزا کے گھر جا کر اس کا بستر اچھی طرح جھڑوانا. جب بستر جھاڑا جاۓ تو تمہیں بستر میں سے ایک باز کا کٹا ہوا پنجہ ملے گا۔ اسے اٹھا کر چھت پر چلے جانا۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے توقف کیا اور اپنا رخ بائیں جانب موڑا۔
ساحل عمر نے دیکھا کہ پلنگ پر سو کھے پتوں کا ایک ڈھیر ہے۔
پھر انہوں نے اس ڈھیر کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ ’’یہ سوکھے پتے اپنی جیبوں میں بھر لو جب تم چھت پر پہنچ جاؤ تو ان پتوں کو چھت کے ایک کونے میں اکٹھا کر دینا۔ اوپر اپنے ساتھ ماچس لے کر جانا اور اکیلے جانا اور نیچے سب لوگوں کو منع کر کے آ نا کہ جب تک تم اوپر ہو کوئی اوپر آنے کی کوشش نہ کرے۔“
“جی ٹھیک ہے۔ ساحل عمر نے جواب دیا۔
“اس سفلی والی نے بڑا خطرناک عمل کیا ہے۔ مجھے بہت محنت کرنا پڑی۔ بہر حال اس پر اللہ فضل ہو گیا ہے۔ جب تم اوپر پہنچو تو تمہیں پانی کی ٹنکی دکھائی دے گی۔ اس پر چڑھ جاتا۔ پھر وہاں تمہیں فساد کی جڑ کھائی دے گی۔ اسے وہاں سے اٹھا کر نیچے لے آنا۔ اب میری بات بہت توجہ سے سنو۔ ذرا سی غلطی تمہیں مشکل میں پھنسا سکتی ہے۔” یہ کہہ کر وہ کچھ دیر کیلئے خاموش ہو گئے۔
پھر انہوں نے لاٹھی میں بنی آنکھ سے اپنی بے نور آ نکھ لگا لی اور اسے سمجھانا شروع کیا۔
“ساحل عمر گاڑی بہت تیزی سے بھگا رہا تھا۔ اسے ناصر مرزا کے گھر پہنچے کی جلدی تھی۔ حافظ موسی نے اسے جو کچھ بتایا جو کچھ سمجھایا اور جو کچھ پڑھنے کو کہا تھا وہ بار بار اسے دہرا رہا تھا۔ وہ حافظ موسی کا بہت مشکور تھا کہ انہوں نے بڑے آڑے وقت میں اس کی مدد کی تھی۔ برکھا نے ناصر مرزا کے مارنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی تھی۔ کوئی بڑے سے بڑا عامل بھی اس سحر کا توڑ نہیں کر سکتا تھا۔ وہ تو حافظ موسی کی نظر کرم ہو گئی ورنہ ناصر مرزا گیا تھا کام سے. حافظ موسی جیسے درویش انسان کو جادو ٹونے اور عملیات سے کیا واسطہ. اگر وہ ان چکروں میں پڑ جاتے تو پھر انہیں کون گوشہ نشین رہنے دیتا۔ البتہ ساحل عمر پر وہ خاص مہربان تھے۔ اس کی حفاظت کیلئے انہوں نے بہت کچھ کیا تھا۔ ورنہ برکھا چترو بھیل اور راعین جیسے شیطان صفت لوگ اسے کب کا چٹ کر جاتے۔ حافظ موسی کیونکہ اللہ لوگ تھے اس لئے وہ نہیں چاہتے تھے کہ ساحل عمر طاغوتی طاقتوں کے۔فریب میں آ جاۓ ۔ وہ اس پر قابض ہو جائیں اور اس کے ذریعے اپنی قوت بڑھا کر انسانوں کی ایذا رسانی کا مزید سامان بن جائیں۔
ساحل عمر ناصر مرزا کے گھر پہنچا تو سب لوگ اس کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ ناصر مرزا کی وہی کیفیت تھی۔ وہ جیسے بستر کے بجاۓ کانٹوں پر لوٹ رہا تھا۔ اسے کسی کروٹ چین نہ تھا۔ اس کے جسم پر رہ رہ کر کھرونچے بن رہے تھے۔ ساحل عمر نے ناصر مرزا کے کمرے سے سب کو نکل جانے کو کہا۔
جب ناصر مرزا کا چھوٹا بھائی ذاکر جانے لگا تو اس نے اسے روک لیا۔ ’’ذاکرتم ٹھہرو‘‘
کمرہ خالی ہو گیا تو ساحل عمر نے دروازہ بند کرنے کو کہا۔ ذاکر نے دروازہ بند کر دیا۔ ناصر مزا ساحل عمر کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ اس سے پوچھنا چاہ رہا تھا کہ حافظ موسی نے اس کے بارے میں کیا کہا لیکن ساحل عمر اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔ وہ اس سے سوال نہ کر پایا۔ ساحل نے جیب سے ایک نیم کا سوکھا پتا نکال کر پانی سے بھرے گلاس میں ڈال دیا پھر اس نے حافظ موسی کی ہدایت کے مطابق اس پر کچھ پڑھا اور گلاس ناصر مرزا کے منہ سے لگا دیا۔ ناصر مرزا نے غٹ غٹ کر کے سارا پانی پی لیا۔ پتا گلاس میں رہ گیا۔ پانی پیتے ہی جسم میں ایک ٹھنڈک کا احساس پیدا ہوا۔ اس کے چہرے پر ایک سکون کا احساس نمایاں ہوا۔
“ناصر مرزا تم بیڈ چھوڑ کر ادھر کرسی پر آ جاؤ۔” ساحل عمر نے بیڈ کے نزدیک ایک کرسی رکھتے ہوۓ کہا۔
ناصر مرزا نے فورا ہی اس کی طرف ہاتھ بڑھا دیا اور پھر وہ سہارا لے کر اس پر بیٹھ گیا۔ چوبیس گھنٹے میں اس کی حالت کیا سے کیا ہو گئی تھی۔ اس کے چہرے پر زردی کھنڈی تھی اور ہاتھوں میں لرزش آ گئی تھی۔ کمزور اتنا ہو گیا تھا کہ بغیر سہارے کے اٹھنا مشکل تھا۔
“ذاکر یہ بستر اچھی طرح جھاڑ نا ہے۔” ساحل عمر نے ذاکر کی طرف دیکھا۔ ’’ایسا کرو اس بستر کی ہر چیز اٹھا کر دوبارہ بچھاؤ۔‘‘
“جی اچھا۔‘‘ ذاکر نے ساحل عمر کی ہدایت کے مطابق فورا ہی عمل شروع کر دیا۔
پھر زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا۔ تکیے سے غلاف اتارتے ہی مطلوبہ چیز سامنے آ گئی۔ وہ کسی خونخوار پرندے کا کٹا ہوا پنجہ تھا۔
اس پنجے کو دیکھتے ہی ساحل عمر کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ اس نے اسے فورا بستر سے اٹھا لیا اور اسے اپنی آنکھوں کے سامنے کر کے غور سے دیکھنے لگا۔
“ساحل یہ کیا ہے؟‘‘ ناصر مرزانے پر تجسس نظروں سے دیکھا۔
“یہ وہ چیز ہے جس نے تمہارے پورے جسم پر کھرونچے بنا دیئے تھے۔” ساحل عمر نے کہا۔ “میں اب چھت پر جا رہا ہوں۔ مجھے ایک ماچس دے دو اور دیکھو ذاکر میں جب تک چھت پر رہوں اوپر کوئی نہ آئے۔ ناصر مرزا تم بھی نہیں۔“
“اوپر کیا ہے؟‘‘ ناصر مرزا نے پوچھا۔
“اوپر فساد کی جڑ ہے. اسے نیست و نابود کر آؤں۔ پھر آ کر پوری تفصیل بتاؤں گا۔“ ساحل عمر نے کہا۔
پھر اس نے اس نے پنجے کو کوٹ کی جیب میں ڈالا اور ماچس ہاتھ میں لے کر زینہ چڑھنے لگا۔ زینہ چڑھتے ہوۓ یکلخت اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔ ایک خوف کی سی لہر اس کے پورے جسم سے گزر گئی۔
وہ ایک کھلی ہوئی چھت تھی۔ پانی کی ٹنیکی کے علاوہ چھت پر کچھ اورنہیں بنا تھا۔ یہ چھت پانچ فٹ بلند چار دیواری سے گھری ہوئی تھی۔ پانی کی ٹینکی تھوڑی سی اونچائی پر بنی تھی لیکن اتنی اونچی نہ تھی کہ اس پر چڑھا نہ جا سکے۔ ٹینکی پر چڑھنے سے پہلے اس نے اپنے کوٹ اور پینٹ کی جیبوں میں ٹھنسے ہوۓ سوکھے پتے نکال کر ایک کونے میں جمع کئے۔ ان پتوں کے ڈھیر پر باز کا پنجہ رکھا اور پھر وہ ٹینکی پر چڑھ گیا۔ سامنے ہی فساد کی جڑ موجود تھی۔ وہ ایک مردانه مومی مجسمہ تھا۔ سات آٹھ انچ لمبا رہا ہو گا۔ اس نے حافظ موسی کی ہدایت پر عمل کرتے ہوۓ اس پر تین بار پڑھ کر کچھ پھونکا اور پھر اس مجسمے کو نیچے اتار لایا۔ اس مجسمے کو ہاتھ میں لیتے ہی اس کے دل کی دھڑکن ایک مرتبہ پھر تیز ہو گئی۔
اس نے اس مومی مجسے کو غور سے دیکھا۔ اس مجسمے کے سر اور بائیں جانب سینے میں دو سوئیاں گھسی ہوئی تھیں۔ ساحل عمر نے کچھ پڑھتے ہوۓ ان سوئیوں کو اس مومی مجسمے سے نکالا سوئیاں نکالتے ہی ایک دلخراش نسوانی چیخ گونجی۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی بہت نزدیک ہی چیخا ہو۔ ساحل عمر نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا لیکن آس پاس کچھ نہ تھا۔
پھر ساحل عمر اس مومی مجسمے کو لے کر اس کونے کی طرف بڑھا جہاں سو کھے پتے ڈھیر تھے۔ اس نے ان سو کھے پتوں میں سے کچھ پتے الگ کر لئے اور اس موی مجسمے کے ساتھ رکھ دیے۔ پھر اس نے ماچس سے تین تیلیاں نکالیں۔ ان پر پڑھ پڑھ کر پھونکا اور ایک تیلی سلگا کر پتوں میں آگ لگا دی۔ اس کے بعد اس نے باقی تیلیاں بھی جلا کر مختلف زاویوں سے پتوں میں رکھ دیں۔ آگ بہت تیزی سے بھڑک اٹھی۔ آگ بھڑ کتے ہی پھر نسوانی چیخ کی آواز آئی اور وہ مومی مجسمہ پتوں پر اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
یہ منظر دیکھ کر ساحل عمر ایک دم پیچھے ہٹا۔ اسے شبہ ہوا کہ کہیں وہ مومی مجسمہ اس پر اچھل کر نہ آگرے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وہ مجسمہ اٹھتے ہی ایک دم پگھل گیا۔
اب ساحل عمر نے جو سو کھے پتے ایک طرف بچا کر رکھے تھے ان میں سے دو دو پتے اٹھا کر جلتی آگ پر ڈالنے شروع کئے۔ پتا پھینکنے سے پہلے کچھ پڑھتا پھر اسے آگ میں جھونک کر مزید کچھ پڑھتا۔
اس مومی مجسمے سے شدید بد بو آ رہی تھی۔ بدبو اتنی شدید تھی کہ ساحل عمر کو اپنی جیب سے رومال نکال کر ناک پر باندھنا پڑا۔ بہر حال اس نے اس مومی مجسمے اور اس باز کے پنجے کو اچھی طرح جلا دیا۔
پھروہ نیچے جا کر ایک پلاسٹک کا لوٹا لایا۔ لوٹا لاتے ہوۓ ذاکر سے کہہ آیا کہ گھر کے پیچھے کسی کیاری میں اتنا بڑا گڑھا کھودے کہ اس میں پلاسٹک کا لوٹا سما جاۓ۔ چھت پر آ کر اس نے بڑی احتیاط سے اس میں جلی راکھ بھری۔ اس لوٹے کے منہ پر کالا کپڑا باندھا اور ذاکر کے کھودے ہوۓ گڑھے میں اسے رکھ کر پڑھ پڑھ کر مٹھیوں سے مٹی ڈالنا شروع کی۔ یہاں تک کہ وہ گڑھا پر ہو گیا۔ ساحل عمر نے کھرپی کے ذریعے زمین ہموار کر کے اس پر پڑھا ہوا پانی چھڑک دیا اور اللہ کا شکر ادا کیا
ہر کام حافظ موسی کی عین ہدایت کے مطابق ہو گیا تھا۔ جب وہ اس مومی مجسے کا ’’کریا کرم‘‘ کر کے ناصر مرزا کے کمرے میں پہنچا تو وہاں پورا گھر اکٹھا تھا۔ ناصر مرزا کے بڑے بھائی بھی آ چکے تھے جن کی بیٹی کو برکھا نے بے دردی سے ح
قتل کر دیا تھا۔ سب اس کی آمد کے منتظر تھے۔ ساحل عمر بڑے اطمینان سے چلتا ہوا اندر آیا۔ اس نے ناصر مرزا کے چہرے کو بغور دیکھا اور مسکرا کر پوچھا۔’’ کیسے ہو؟‘‘
’’بالکل ٹھیک۔‘‘ اس نے بیڈ سے اٹھتے ہوۓ کہا۔
“لیٹے رہو..‘‘ ساحل عمر نے کہا۔
پھر پوچھا۔ ’’اب جسم پر ناخنوں کے نشان تو نہیں بن رہے”
“نہیں۔‘‘ ناصر مرزا نے خوش ہو کر کہا۔ ’’نہ صرف نشان نہیں بن رہے بلکہ وہ نشان بھی غائب ہو گئے۔“
“ساحل عمر کچھ بتاؤ تو اوپر کیا تھا۔‘‘ اس بار ناصر مرزا کی امی مخاطب ہوئیں۔
“بس امی جو بھی تھا اسے بھول جائیں. میں اسے دفن کر آیا ہوں۔ بس یوں سمجھ لیں کہ آپ کے بیٹے کو دوسری زندگی ملی ہے۔ ور نہ اس سور کی بچی نے تو مارنے کی کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔” ساحل عمر نے غصے میں کہا۔
“وہ کم بخت مرتی بھی تو نہیں. آخر اسے کون مارے گا ؟‘‘ امی نے غصے اور دکھ کے عالم میں کہا۔
“امی اسے اس کے اعمال ماریں گے۔ اب ظلم حد سے گزرنے لگا ہے۔ آپ جانتی ہیں کہ جب ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ۔‘‘ ساحل عمر نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
پھر اس نے کمرے سے بچوں کو نکال کر چھت پر ہونے والی کارروائی کی تفصیل بیان کی۔ مومی مجسمے کے بارے میں سن کر سب حیران رہ گئے۔
⁦๑•๑•๑•๑•๑•๑•๑•
رقص سحر جاری تھا۔ ورشا کو جنونی کیفیت میں رقص کرتے ہوئے ایک گھنٹہ ہو گیا تھا۔ وہ رقص کے ساتھ ایک خاص انداز میں پیر مارتی اور منہ سے کوئی عجیب سا لفظ نکالتی تھی۔ یہی وہ لفظ تھا جو کالی داس نے اسے بتایا تھا۔ یہ لفظ سحر کی کنجی تھا جس کے ذریعے وحشت کا تالا کھلتا تھا۔ رقص کرتے کرتے اس کے ہاتھ کی انگلی کالی ہونے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ سیاہی پورے جسم پر پھیل گئی۔ گوری چٹی ورشا ایک دم کالی بھجنگ ہو گئی تھی۔ آنکھوں میں آگ بھر گئی تھی۔ صورت انتہائی مکروہ ہوگئی تھی۔ ایک فٹ لمبی زبان باہر نکل آئی تھی۔
پھر کمرے کے ہر کونے سے بچھوؤں نے برآمد ہونا شروع کیا اور چندلمحوں میں اتنے بچھو کمرے میں بھر گئے کہ کمرے کے فرش پر تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ ورشا اب بھی محو رقص تھی۔ رقص وحشت جاری تھا جو جنون کی حدوں کو چھو رہا تھا۔ بچھو اس کے پیروں میں آ رہے تھے لیکن دب کوئی نہیں رہا تھا۔ مر کوئی نہیں رہا تھا۔
چند لمحوں بعد ایک مکروہ آواز گونجی ۔’’اب بس کر“ اس حکم کو سنتے ہی ورشا ایک دم پتھر کی ہوگئی۔ کچھ دیر وہ اس طرح ساکت کھڑی رہی۔ اتی دیر میں سارے بچھو کہیں غائب ہو گئے۔
کالی داس نے اسے جو سکھایا تھا وہ اس پر حرف بہ حرف عمل کر رہی تھی۔ رقص بند کرنے کا حکم ہو چکا تھا۔ بچھو غائب ہو چکے تھے۔ اب وقت تھا خون سے پیالہ بھرنے کا۔ وہ فورا آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ اس نے اپنی قمیص کی پیچھے سے زپ کھولی۔ پیٹھ پر بنا بچھو نمایاں ہو گیا۔ اس کی کالی جلد پر اب وہ سفید نظر آ رہا تھا۔ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی ہوئی سرنج اٹھا کر اس کی سوئی بچھو کے منہ پر رکھی گئی تو اس نے جلدی جلدی سرنج بھر بھر کر خون پیالے میں جمع کرنا شروع کیا یہاں تک کہ پیالہ خون سے لبالب بھر گیا۔۔
اس نے اپنی قمیض کی زپ بند کی اور اس خون سے بھرے پیالے کو اپنے سامنے رکھ کر بیٹھ گئی۔ پھر اس نے جان لیوا آخری منتر پڑھنا شروع کیا۔ وہ جیسے جیے منتر پڑھتی جاتی تھی ویسے ویسے اس کی رنگت تبدیل ہوتی جاتی تھی پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ اپنی اصل حالت میں آ گئی۔ اپنی اصل حالت میں لوٹتے ہی اس پر سرشاری سی چھا گئی۔ وہ کھل اٹھی۔ اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اس کے نانا نے جو بتایا تھا جو سکھایا تھا اس پر عمل کر کے اس نے اپنی منزل پالی تھی۔ اس نے زمین سے خون سے بھرا پیالہ اٹھایا اور آئینے کے سامنے خود کو دیکھا اور بڑے فاتحانہ انداز میں مسکرائی۔ پھر وہ اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔
ورشا چاہتی تو خاموشی سے اس کے سر پر پہنچ سکتی تھی لیکن کالی داس نے اسے سمجھایا تھا کہ وہ منتر والے کمرے میں جانے کی کوشش نہ کرے ورنہ پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آۓ گا۔ رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ یہ فیصلے کی رات تھی۔ ورشا کوفکرتھی کہ کہیں برکھا کا عمل پورا نہ ہو جاۓ جو کرنا ہے عمل پورا ہونے سے پہلے کرنا ہے۔
سوال یہ تھا کہ وہ بر کھا کو کمرے سے کیسے نکالے۔ وہ اندر جا نہیں سکتی تھی اور برکھا عمل پورا ہونے سے پہلے کمرے سے نکلے گی نہیں۔ وہ برآمدے میں کھڑی سوچتی رہی۔ اندھیری رات تھی۔ پورے بنگلے پر خوفناک وحشت چھائی ہوئی تھی ۔ کتوں کے رونے کی آواز نے ماحول کو اور بھیانک بنا دیا تھا
سوچتے سوچتے اچانک ایک خیال اس کے دل میں جگمگایا۔ یہ خیال ایسا تھا کہ وہ ایک دم سرشار ہو گئی۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ خیال اس کے دماغ میں کیسے آیا لیکن یہ خیال بڑا زبردست تھا
اس نے ایک عزم ایک حوصلے کے ساتھ خون سے بھرا پیالہ اٹھایا اور دروازے کے ساتھ دیوار کی اوٹ میں چھپ کر اس نے بڑی خوفزدہ آواز میں کہا۔
’’ممی ممی۔ وہ اندھا آ گیا۔” برکھا نے منتر پڑھتے پڑھتے گردن گھمائی اور ہاتھ نچایا۔ جس کا مطلب تھا کہ کون اندھا؟
“ممی وہ حافظ موسی ہمارے بنگلے میں آ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساحل عمر اور ناصر مرزا بھی ہیں۔‘‘ وہ گھبرا کر بولی۔
’’ہیں۔‘‘ وہ گھبرا کر اٹھی۔ حافظ موسی ساحل عمر اور ناصر مرزا کے نام سن کر اس کے چھکے چھوٹ گئے تھے۔ یہ کیسے ہو گیا۔ سب سے زیادہ گھبراہٹ تو حافظ موسی کا نام سن کر ہوئی تھی۔ وہ کیسے آ گیا؟‘‘
وه وحشت زدہ ہو کر کمرے سے باہر نکلی بس اتنی مہلت ورشا کیلئے کافی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ پلٹ کر ورشا کی طرف دیکھتی ورشا نے بجلی کی سی سرعت سے خون سے بھرا پیالہ اس کے سر پر الٹ دیا اور خود بہت تیزی سے پیچھے ہٹ گئی۔
“اوہ کمینی تو نے یہ کیا کیا؟‘‘ وہ غصے سے چیخی لیکن اس سے زیادہ وہ کچھ اور کہنے کے قابل نہ رہی۔
وہ خون میں نہا گئی تھی۔ سر پر دائیں بائیں آگے پیچھے ہر طرف خون ہی خون تھا۔ اس خون نے کسی خطرناک تیزاب کی طرح کام دکھایا۔ خون پڑتے ہی اس کی دونوں آنکھیں ضائع ہو گئیں۔ جہاں جہاں خون پڑا وہاں کی کھال اترنا شروع ہو گئی۔ وہ اپنے پاؤں پر کھڑی نہ رہ سکی۔ نڈھال ہو کر زمین پر گر پڑی۔ وہ آدھی دروازے میں تھی اور آدھی دروازے کے باہر تھی نڈھال ہو کر ورشا نے اس کے گرتے ہی خوشی سے قہقہا لگایا۔
“جاؤ ممی….تم نے اپنے باپ کو مارا پھر اپنے شوہر کو مارا اور اب میرے ساحل کو مارنے چلی تھیں۔ ممی وہ میری محبت ہے میرا عشق ہے۔ میں اسے کیسے مرنے دیتی۔” پھر اچانک جانے کیسے جاپ والے کمرے میں آگ بھڑک اٹھی۔ شعلے لپکتے ہوۓ برکھا کی طرف بڑھے۔ وہ تو ویسے ہی چل بسی تھی۔ جو رہا سہا تھا وہ شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس منتر والے کمرے کے ساتھ اور کئی کمرے آگ کی لپیٹ آگئے۔ اس آگ کو دیکھ کر ورشا کے قہقہے گونجتے رہے۔ وہ جیسے پاگل ہو گئی تھی۔
جانے یہ کیسی آگ تھی کہ فائر بریگیڈ والے بھی اسے نہ بجھا سکے۔ وہ جتنا پانی ڈالتے اتنے شعلے مزید اونچے ہو جاتے۔ تب انہوں نے تھک کر پانی ڈالنا بند کر دیا۔ بالآ خر یہ آگ خود ہی بجھ گئی۔ لیکن آدھا بنگله جل کر خاک ہو چکا تھا۔ پہلے اس بنگلے پر کیا کم وحشت برستی تھی کہ اس ادھ جلے بنگلے نے اس وحشت کو دوبالا کر دیا۔ اب یہ بنگلہ بھوتوں کا بدروحوں کا مسکن لگتا تھا۔ لوگ اس بنگلے کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے ہوۓ بھی ڈرتے تھے۔ لیکن ورشا اب بھی اسی بنگلے میں رہتی تھی۔ وہ اس بنگلے میں گھومتی ہوئی کسی بھٹکی ہوئی روح کی طرح دکھائی دیتی تھی۔ وہ واقعی بھٹک گئی تھی۔
⁦⊙◎⊙◎⊙◎⊙◎⊙◎⊙◎
اب اس کی زندگی میں کچھ سکون آیا تھا۔ جینے کا مزہ آنے لگا تھا ورنہ ساحل عمر کی زندگی میں پے در پے پریشانیوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ بچپن سے لیکر آج تک اس کی زندگی میں حادثات ہی حادثات تھے۔ برکھا کی موت کے بعد اس کی زندگی میں استحکام آیا۔ سکون میسر آیا تو ماں نے رخت سفر باندھ لیا۔
اماں کی موت ساحل عمر کیلئے کسی سانحہ سے کم نہ تھی۔
انہیں شاید اپنی موت کا احساس ہو گیا تھا۔ جانے سے پہلے انہوں نے اپنی الماری خالی کر دی تھی اپنے بیشتر کپڑے مرجینا کے حوالے کر دیے تھے۔ جو نقد رقم ان کے پاس جمع تھی۔ وہ انہوں نے عذرا کے حوالے کر دی تھی۔
کئی دن سے ان کے خواب میں والد ین نظر آ رہے تھے کبھی اماں دکھائی دیتیں تو کبھی والد نظر آ تے ۔ وہ دونوں کو خوش دیکھتیں۔ انہیں اپنی والدہ گھر کی صفائی کرتی نظر آتیں تو والد گھر میں سودا سلف لاتے ہوئے دکھائی دیتے۔ ان دونوں کو دیکھ کر انہیں احساس ہوتا وہ کسی مہمان کے منتظر ہوں۔ جیسے ان کے گھر کوئی مہمان آ رہا ہو۔
اماں کو جب سے ان کے والدین خواب میں دکھائی دیئے تھے تب سے ان کی یاد شدت اختیار کر گئی تھی۔ وہ عذرا سے اپنے بچپن اور جوانی کی باتیں کرنے بیٹھ جاتیں۔
پھر انتقال سے چند گھنٹے قبل اماں نے آواز دے کر ساحل عمر کو اپنے کمرے میں بلایا۔ وہ اپنے بیڈ پر بیٹی تھیں۔ ایک لمحے کو وہ انہیں دیکھ کر پریشان ہوا۔ اس نے گھبرا کر پوچھا۔
“اماں آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔”
“ہاں میں بالکل ٹھیک ہوں۔” اماں نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوۓ اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“اماں مجھے تو گڑبڑ دکھائی دے رہی ہے۔‘‘ وہ ان کے قریب بیٹھا ہوا بولا۔
اماں نے پہلے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا پھر اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر اسے تکتی رہیں پھر اس کی پیشانی چوم لی۔ ساحل عمر نے ان کی آنکھوں میں آنسو بھرے دیکھے۔ وہ ان کی بدلتی کیفیت کو خصوصی طور پر نوٹ کر رہا تھا۔
’’اماں کیا ہوا؟‘‘ ساحل عمر عجب کشمکش میں تھا۔ اس نے اماں کی ایسی حالت کبھی نہ دیکھی تھی۔
“آپ کو کسی نے کچھ کہا ہے۔ عذرا نے گستاخی کی ہے یا مرجینا آپ کے منہ کو آئی ہے یا پھر مجھ سے نادانستگی میں کوئی قصور ہوا ہے۔‘‘
“ارے بھیا. کیسی باتیں کرتے ہو. میں تو فرشتوں کے درمیان رہ رہی ہوں۔ میں نے اس وقت تمہیں کچھ باتیں کرنے کیلئے بلایا ہے۔ بیٹا بات یہ ہے کہ میرے پاس اب وقت کم ہے۔ نہیں ساحل اب تم بیچ میں بولنا مت۔ میری بات سن لو۔ میں چند گھڑی کی مہمان ہوں۔ میں جو کچھ محسوس کر رہی ہوں وہ بتا نہیں سکتی۔ جو بتا سکتی ہوں وہ کہے دیتی ہوں۔ بیٹا تمہاری امی ایک فرشتہ عورت تھی۔ اس نے ایک ایسی انجان عورت کو سہارا دیا تھا جو سڑک پر بیٹھی رو رہی تھی۔ بیٹا جب میں اپنے شوہر کے گھر سے نکلی تھی تو عہد کیا تھا کہ اب اس گھر میں واپس نہیں آؤں گی۔ ساحل پھر میں نے زندگی بھر پلٹ کر نہیں دیکھا کہ میرا شوہر کس حال میں ہے۔ جب تمہاری امی مجھے سہارا دیا تو اس وقت میں نے اپنے دل میں ایک اور عہد کیا کہ اس گھر سے اب مر کر نکلوں گی۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرا یہ عہد بھی پورا ہوا۔ تمہاری امی نے مجھے بہت عزت دی۔ میں تمہاری شکر گزار ہوں کہ تم نے مجھے اپنی امی سے بھی بڑھ کر احترام دیا۔ تم نے مجھے کبھی اس گھر کی ملازمہ نہیں سمجھا۔ تم نے مجھے اپنی ماں جیسا سمجھا۔ میں نے اس گھر میں ایک مطمئن زندگی گزاری ہے لیکن بیٹا میں انسان ہوں۔ مجھ سے بھی کوئی کوتاہی ہو گئی ہو کوئی غلطی ہوگئی ہو تو میرے بیٹے مجھے معاف کر دینا. بس بیٹا مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا۔ اللہ تمہیں سدا خوش رکھے۔”
”ارے اماں پہ آپ کیا فضول باتیں لے بیٹھیں… مرنے جینے کی باتیں کر کے مجھے ڈرائیں نہیں۔ اماں آپ چلی جائیں گی تو میرے بچوں کو کون کھلائے گا۔ وہ کس کو دادی کہیں گے“ ساحل عمران کا ہاتھ تھام کر بولا۔
اس کی بات سن کر اماں کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ پھر اچانک ان کے چہرے کا رنگ بدلا اور وہ بے اختیار سک سک کر رو پڑیں۔ ساحل عمر نے بڑی مشکل سے انہیں چپ کرایا۔
ساحل عمر سے بات کرنے کے بعد انہوں نے پورے گھر کا ایک چکر لگایا۔ کچھ دیر عذرا سے ادھر ادھر کی باتیں کیں۔ اسے ہمیشہ ساحل عمر کا خیال رکھنے کی تلقین کی پھر مر جینا سے گپ شپ لگائی اور پھر سو گئیں۔
عصر کے وقت اٹھیں۔ نماز پڑھنے کھڑی ہوئیں۔ سجدے میں گئیں تو پھر سر اوپر نہ اٹھ سکا۔ یہ سجدہ ان کی زندگی کا آخری سجدہ ثابت ہوا۔
اماں کی موت ساحل عمر کیلئے کسی سانحہ سے کم نہ تھی۔ اس نے انہیں بچپن سے دیکھا تھا۔ وہ ان کا عادی ہو گیا تھا۔ ان کی یاد اس کے دل سے نکلنا آسان نہ تھی۔
ابھی اماں کاغم اس کے دل سے پوری طرح نکلا نہ تھا کہ اس کی زندگی میں ایک اور سانحہ رونما ہوا اور یہ سانحہ بڑا جان لیوا تھا۔ عذرا جب سے ساحل عمر کے ساتھ آئی تھی بے انتہا خوش تھی۔ بس بیچ میں برکھا نے کچھ حالات خراب کر دیئے تھے تو وہ اداس رہنے لگی تھی لیکن جب سے برکھا جہنم رسید ہوئی تھی عذرا کے دل کی کلی پھر سے کھل اٹھی تھی۔ وہ روز ہی شام کو کہیں گھومنے نکل جاتے تھے۔ کبھی سمندر پر کبھی کسی ریستوران میں کبھی فلم دیکھنے تو کبھی کسی کے گھر۔ اس دن وہ سمندر کے کنارے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ٹہل رہے تھے۔۔ عذرا کے چہرے سے خوشی پھوٹی پڑتی تھی۔ وہ بار بار ہنس رہی تھی۔ قہقہے لگا رہی تھی اور ساحل عمر اسے چونک چونک کر دیکھ رہا تھا۔ اس کے اندر کہیں بہت دور ایک خوف کی سی لہر اٹھ رہی تھی۔
“عذرا خیر تو ہے. آج تم کچھ ضرورت سے زیادہ خوش نہیں؟‘‘ بالآ خر اس نے اپنا اندیشہ ظاہر کر دیا۔
“ہاں ساحل. آج میں واقعی بہت خوش ہوں ضرورت سے زیادہ خوش ہوں۔ میں بار بار سوچتی ہوں اور سوچ سوچ کر خوش ہو جاتی ہوں۔“
“آخر اس خوشی کی کوئی وجہ تو ہو گی۔‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“تم ہو وجہ، ساحل تم… میرے خواب تم… میں کتنی خوش قسمت ہوں کہ میں نے جس کے خواب دیکھے اسے پالیا۔ ساحل ایسا کہاں ہوتا ہے بھلا…..اپنا آئیڈیل آج تک کون پا سکا ہے بھلا۔ میں کس قدر خوش نصیب ہوں کہ تمہیں دیکھا اور تمہیں پالیا۔”
“بس اس وجہ سے خوش ہو…. یہ خوشی تو اب پرانی ہوگئی۔”
”ہاں ساحل میں بس اس وجہ سے خوش ہوں۔ میرے لئے یہ خوشی کبھی پرانی نہیں ہو گی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت بڑھتی جاۓ گی۔تم کیا جانو ساحل.. میں نے تمہیں کتنی مشکلوں سے پایا ہے۔” وہ اپنا سر اس کے کندھے پر رکھتے ہوۓ بولی۔
“عذرا جانے کیا بات ہے کہ میں تمہیں جب کبھی بہت زیادہ خوش دیکھتا ہوں تو میرے اندر کہیں دور ایک خوف کی سی لہر اٹھنے لگتی ہے۔ میں ڈر جاتا ہوں شاید اس لئے کہ مجھے خوشی کبھی راس نہیں آتی۔ تمہیں یاد ہو گا مرنے سے دو تین دن پہلے اماں کتنی خوش تھیں۔ انہیں خوش دیکھ کر میرا دل بھی بہت خوش تھا۔ دیکھ لو وہ چل بسیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے والدین ہنستے مسکراتے گھر سے نلکلے تھے اس دن وہ کتنے خوش تھے۔ وہ پھر گھر نہ لوٹے۔ ان کی لاشیں آئیں. عذرا اسی لئے میں اب خوشی سے ڈرنے لگا ہوں۔“
“بدھو۔” عذرا نے اس کی طرف دیکھ کر اتنے پیار سے کہا کہ ساحل عمر مسکرائے بغیر بنا نہ رہا
وه بدھو تھا یا عقل مند… اس بات کا اسے اندازہ نہ ہو سکا لیکن وقت نے آنے والے وقت نے عذرا کے ساتھ عجب کھیل کھیلا۔ اس دن سمندر پر شاید وہ اس کے آخری قہقہے تھے۔ کچھ دنوں کے بعد اس کے گرد مایوسیوں نے ڈیرے ڈال لئے۔ اسے امید نہ تھی کہ یہ وقت اس پر جلد آ جاۓ گا۔ وہ اس بات سے تو آ گاہ تھی کہ ایسا ہو گا۔ یہ وقت اس پر آ کر رہے گا۔ جب وہ اپنی بستی سے رخصت ہوئی تھی تو اس کے باپ سمار ملوک نے اسے صاف صاف سمجھا دیا تھا۔ اسے بتا دیا تھا کہ ایک لمحہ وہ آۓ گا جب وقت پتھر ہونے لگے گا اور جب وقت پتھر ہونے لگے تو اسے کیا کرنا ہوگا یہ بھی سمجھا دیا تھا۔ لیکن اس نے اپنے دل میں کچھ اور ہی ٹھان لی تھی۔
جب وقت نے آنکھیں دکھانا شروع کیں تو ایک دن اچانک اس کی نظر اپنے ہاتھوں کے ناخنوں پر پڑی۔ اس کی انگلیوں کے تمام ناخن سفید پڑ چکے تھے۔ اپنے سفید ناخن دیکھ کر ایک دم اس کا دل کانپ اٹھا۔ وقت معلوم شروع ہو چکا تھا۔ وہ ان ناخنوں کو ساحل عمر سے چھپانے اور اپنے آپ کو فریب دینے کیلئے ہر وقت نیل پالش لگانے لگی۔
چند ہفتے اور گزرے تو اس کی انگلی کی ایک پور پر سفیدی نمودار ہوئی اور پھر یہ تیزی سے دوسری انگلیوں پر بھی دکھائی دینے لگی۔
چند دنوں کے اندر اس کی انگلیوں کی پہلی پوریں بالکل سفید ہو گئیں۔ یوں محسوس ہونے لگا جیسے اس کی انگلیاں برص زدہ ہو گئی ہوں۔
ساحل عمر پریشان ہو کر اسے ایک ڈاکٹر کے پاس سے دوسرے ڈاکٹر کے پاس لئے گھومتا رہا۔ اس نے کوئی اچھا ڈاکٹر کوئی اچھا ہسپتال نہ چھوڑا۔ اس کے مرض کی کوئی تشخیص نہ کر سکا لیکن سارے ڈاکٹر اس بات پر متفق تھے کہ جلدی بیماری نہیں ہے۔
وہ عذرا کو لے کر حافظ موسی کو دکھانے بھی پہنچا۔ ناصر مرزا اس کے ساتھ تھا مگر بار بار گھر کی گھنٹی بجانے کے باوجود کسی نے گیٹ نہ کھولا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے گھر میں کوئی نہیں ہے۔ وہ مایوس ہو کر لوٹ آۓ پھر ناصر مرزا نے اکیلے بھی حافظ موسی کے گھر کے کئی چکر لگاۓ لیکن گھر کا کسی نے دروازہ نہ کھولا۔
اس نے سوچا ممکن ہے کال بیل خراب ہو یہ سوچ کر زور زور سے گیٹ بجایا مگر باہر کوئی نہ آیا۔ پاس پڑوس سے معلوم کیا تو وہ لوگ بھی اطمینان بخش جواب نہ دے سکے۔ کسی کو ان کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا۔
وقت تیزی سے کروٹ لے رہا تھا۔ اب عذرا کا پورا ہاتھ سفید ہو چکا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں دستانے پہننے شروع کئے تھے لیکن پھر وہ ان دستانوں کو مستقل پہنے رکھنے کیلئے مجبور ہو گئی۔ اس لئے کہ اس کی انگلیاں جس نرم چیز کو بھی چھو لیتیں وہ سخت ہو جاتی۔ پتھر بن جاتی۔
ساحل عمر کیلئے یہ دن بڑے عذاب ناک تھے۔ عذرا اب اپنے بیڈ روم تک محدود ہو کر رہ گئی۔ اس کے ہاتھوں کی سفیدی اب ہاتھوں تک محدود نہ رہی تھی۔ اس نے اب پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور یہ سفیدی بڑھتی ہی جاتی تھی۔ صورتحال روز به روز خراب ہوتی جا رہی تھی۔ ایک شام جب وہ سرتا پا سفید ہو چکی تھی۔ اس نے ساحل عمر سے عجیب فرمائش کی۔
’’ساحل میں دلہن بننا چاہتی ہوں۔”
ساحل عمر نے اس کی یہ فرمائش فوری طور پر پوری کر دی۔ وہ جوڑا جو اس نے شادی پر پہنا تھا اسے پہنا دیا گیا۔ ساحل عمر نے اسے بہت محبت سے بہت توجہ سے دلہن بنایا۔ ایک لیڈی بیوٹیشن کو بلا کر اس کا میک اپ کروایا۔ کپڑے تبدیل کرنے سے لے کر میک اپ ہونے تک اس نے ساحل عمر کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیا۔ وہ اسے ایک ٹک دیکھتی رہی جیسے آخری بار دیکھ رہی ہو۔ دونوں خاموش تھے۔ دونوں کے دلوں میں طوفان اٹھ رہے تھے۔ بہت کچھ تھا کہنے کو بہت کچھ تھا سننے کو۔مگر کوئی نہیں بول رہا تھا۔
لفظ زبان پر آ کر جیسے دھواں بن جاتے۔ بس دونوں کے منہ سے ایک آہ نکلتی تھی۔
تب عذرا کے جسم میں جھٹکے سے لگنے لگے۔ اس کی آ نکھیں ان جھٹکوں سے بند ہونے لگیں تو عذرا نے ساحل سے کہا۔
’’ساحل اپنے سٹوڈیو کا درواز کھول دو۔ میں وہاں جانا چاہتی ہوں۔”
“دروازہ کھلا ہے آؤ۔‘‘ ساحل عمر نے سہارا دینے کیلئے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
اس کے سٹوڈیو میں پہنچ کر وہ کمرے کے بیچ سٹول ڈال کر بیٹھ گئی اورحتی الامکان مسکرانے کی کوشش کرتے ہوۓ بولی۔ ’’میری تصور نہیں بناؤ گے؟‘‘
عذرا کی آواز میں ایک عجیب درد تھا۔ جیسے اس نے اپنے آنسوؤں کو روکنے کی بھر پور کوشش کی ہو۔
“ہاں کیوں نہیں۔” سال عمر نے جلدی سے ایک بورڈ پر پنوں سے کاغذ کی شیٹ لگائی اور اس سے ذرا فاصلے پر بیٹھ کر اسے سکیچ کرنے لگا۔ پنسل سے کاغذ پر اس کے نقش ابھارنے لگا۔
اچانک اسے احساس ہوا کہ عذرا بہت دیر سے ساکت بیٹھی ہے۔ وہ ذرا سا بھی نہیں ہلی تھی۔ تب اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھا پھر دیکھتا رہا۔ وہ اسے کئی منٹ تک دیکھتا رہا۔ عذرا اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ بغیر پلکیں جھپکاۓ اسے دیکھے جا رہی تھی۔
وہ بورڈ اور پنسل ایک طرف پھینکتے ہوئے چیخا۔ ’’عذرا ۔‘‘
اس کی چیخ سننے کے باوجود عذرا ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اس کی کھلی آنکھوں میں بھی کوئی حرکت نہ ہوئی۔ وہ اسے ساکت بیٹھی کھلی آنکھوں سے گھورتی رہی۔ وہ بیٹھے بیٹھے پتھر ہو گئی تھی۔
عذرا نے ساحل کے نام ایک خط لکھا تھا۔ یہ خط اس نے مرجینا کے حوالے کرتے ہوۓ ہدایت کی تھی کہ وہ صبح ساحل عمر کو دے دے..
ساحل عمر سٹوڈیو میں موجود تھا۔ وہ پوری رات یونہی بیٹھا رہا تھا۔ وہ بس ایک ٹک عذرا کو دیکھے جاتا تھا۔ تب مرجینا نے دھیرے سے وہ گلابی رنگ کا بند لفافہ ساحل عمر کے سامنے کر دیا۔ ساحل عمر نے لفافہ چاک کر کے خط پڑھا لکھا تھا۔
’’میری زندگی. میرے ساحل. میں وقت کا کھلونا ہوں جس طرح کسی بولنے والی گڑیا کے سیل ختم ہونے پر وہ بولنا چھوڑ دیتی ہے کچھ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا ہے۔ یوں سمجھ لو کہ میرے جسم میں لگے سیل بھی اب ختم ہو گئے ہیں۔ اور میں بے جان ہو گئی ہوں۔ میرے والدین مجھے لینے آئے تھے وہ چاہتے تھے کہ میں ان کے ساتھ اپنی بستی میں چلی جاؤں اور اپنی زندگی بچا لوں لیکن ساحل میں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ میں سب کچھ چھوڑ سکتی ہوں تمہیں نہیں چھوڑ سکتی۔ تمہاری خاطر میں نے اپنی زندگی ہار دی ہے لیکن یہ خوشی میرے لئے کیا کم ہے کہ میں ہر وقت تمہارے سامنے رہوں گی۔تم مجھے دیکھو گے تو مجھے یوں محسوس ہو گا جیسے میں تمہیں دیکھ رہی ہوں۔ میں پتھر بن گئی ہوں لیکن ہوں تو تمہارے پاس تمہارے گھر میں۔۔۔۔ میں تمہارا شاہکار ہوں۔ ایک انوکھا مجسمہ. ایسا انوکھا مجسمہ کسی نے آج تک کہاں تراشا ہو گا۔”
خط پڑھتے پڑھتے اس کے لفظ دھندلانے لگے۔ پھر خط اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر عذرا کے قدموں میں جا گرا۔
⁦←←⁩⁦←←⁩⁦→→⁩⁦→→⁩
کئی روز سے مسلسل ایسا ہو رہا تھا۔ وہ آتی بیل بجاتی. مرجینا دروازہ کھولتی تو وہ آنکھیں اٹھا کر چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتی۔ پھر بڑے کرب آمیز لہجے میں کہتی ۔’’پیاسی ہوں۔”
”اچھاٹھہرو۔ میں پانی لاتی ہوں۔”
جب مرجینا پانی سے بھرا گلاس لے کر دروازے پر جاتی تو وہ جا چکی ہوتی اور اگر بھی ٹھہری بھی ہوئی ہوتی تو چند لمحے خالی نگاہوں سے گلاس کو دیکھتی اور بغیر کچھ کہے ایک طرف کو چل دیتی۔
مرجینا اسے حیرت سے دیکھتی رہ جاتی۔
جب کئی روز تک ایسا ہوتا رہا تو مرجینا نے اس انوکھی فقیرنی کے بارے میں ساحل عمر کو بتایا اور کہا۔
’’صاحب جی پہلے تو وہ کبھی کبھی آتی تھی مگر اب تو وہ کئی دن سے روز آ رہی ہے۔”
’’اچھا اب آۓ تو مجھے بتانا۔‘‘ ساحل عمر نے اسے ہدایت کی۔
پھر اگلے دن کھنٹی بجی۔ مرجینا دوڑی ہوئی دروازے پر گئی۔ وہ دروازے پر موجود تھی۔ اس نے اس کربناک لیجے میں کہا۔ ’’میں پیاسی ہوں۔”
“پانی لاتی ہوں..تم ٹھہرو دیکھو چلی مت جانا۔‘‘ مرجینا نے اسے تاکید کی۔
گھر میں آ کر مرجینا نے ساحل عمر کو بتایا کہ وہ دروازے پر موجود ہے۔
مرجینا نے ساحل عمر کے ہاتھ میں پانی سے بھرا گلاس دے دیا۔ ساحل عمر گلاس لے کر دروازے پر پہنچا۔
کالے کپڑے پہنے ایک عورت سر جھکائے کھڑی تھی۔ اس کے بال بے ترتیب تھے جیسے مہینوں سے نہ سنوارے گئے ہوں۔ کالا لباس سفید ہو رہا تھا جیسے ایک لمبے عرصے نہ دھویا گیا ہو۔ اچانک اس نے اپنا چہرہ اٹھایا۔ اس کے چہرے پر وحشت برس رہی تھی
ساحل عمر نے اسے غور سے دیکھا تو اندر ہی اندر لرز اٹھا۔ یہ وہ چہرہ تھا جسے کوئی ایک بار دیکھ لیتا تھا تو پھر پلکیں جھپکانا بھول جاتا تھا اور اب اسے ایک نظر دیکھنا مشکل تھا۔ وہ ورشا تھی.
”میرے رانجھن…” اس کے کانوں میں ایک آواز گونجی۔
ساحل عمر کو دیکھتے ہی وہ چیل کی طرح جھپٹی۔ اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر گلاس کو ڈرا سا ٹیڑھا کر کے اسے اپنے ہونٹوں سے لگا لیا۔ اس نے بڑی بے قراری سے پانی پیا۔ پھر اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ اس کی آنکھوں کے دیئے ایک دم جگمگا اٹھے۔ وہ اسے ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہی جیسے اپنی آنکھوں میں اس کی تصویر اتار لینا چاہتی ہو۔ پھر وہ ایک جھٹکے سے مڑی اور سڑک پر دوڑتی چلی گئی۔ ساحل عمر نے دیکھا وہ ننگے پاؤں تھی۔ وہ ورشا کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
⁦⁦✧✧✧✧✧✧✧✧
اب اس واقعہ کو گزرے تین برس ہو چکے ہیں۔ عذرا کا مجسمہ اس کے سٹوڈیو میں اسی جگہ جوں کا توں موجود ہے۔
وہ آج بھی اس مجسمے کے سامنے بیٹھا اس کی تصویر بناتا رہتا ہے لیکن یہ تصور آج تک مکمل نہیں ہوئی۔ تصویر مکمل کیے ہو؟ وہ ادھوری تصویر بورڈ سے اتار کر جو ایک طرف ڈال دیتا تھا اور نیا کاغذ لگا کر پھر نئے سرے سے تصویر بنانے لگتا تھا۔
ناصر مرزا روز شام کو اس کے پاس آتا ہے۔ مسعود آفاقی بھی آ تا رہتا ہے لیکن اپنی مصروفیت کی وجہ سے روز نہیں آ پاتا۔ وہ دونوں اسے اسٹوڈیو سے نکال لاتے ہیں اور زبردستی باہر لے جاتے ہیں۔
مرجینا اس گھر میں بدستور موجود ہے۔ اس کا باپ کئی بار اسے لینے آ چکا ہے۔ وہ اس کی شادی کرنا چاہتا ہے لیکن مرجینا نے ساحل عمر کا گھر چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اگر میں بھی اس کے گھر سے چلی گئی تو صاحب جی جو پہلے ہی مرے ہوۓ ہیں اکیلے کتنے دن زندہ رہیں گے۔ میں صاحب جی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی۔ میں انہیں مرنے نہیں دوں گی۔
ناصر مرزا اور مسعود آفاقی نے کتنی مرتبہ کوشش کی ہے کہ وہ عذرا کے اس مجسمے کو یہاں سے ہٹانے کیلئے راضی ہو جاۓ۔ اسے زمین کے سپرد کرنے پر آمادہ ہو جائے….لیکن وہ اس طرح کے ذکر پر بھی زور سے چیخ پڑتا ہے۔
“نہیں۔ میری عذرا کو مجھ سے کوئی جدا نہیں کر سکتا۔”
شاید اسے امید ہے کہ یہ موم کی گڑیا ایک دن خودبخود بول اٹھے گی۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: