Billi by Salma Syed – Episode 1

0

بلی از سلمیٰ سید قسط نمبر 1

مصنفہ سے ملیں : سلمیٰ سید

مجھے اس گھر میں ٹیوشن پڑھاتے آج پانچواں دن تھا اور میں ان پانچ دنوں میں اتنا عاجز آچکا تھا کہ گھڑی کی چوتھائی میں یہ نوکری چھوڑ دوں کیونکہ اس گھر میں ایک عجیب سی ناگوار بو تھی دیکھنے میں گھر بہت صاف ستھرا لیکن بلی کی موجودگی کی بدبو افففف ۔۔ اس کے علاوہ مسلسل بلی کے رونے کی آوازیں اور گھر کے مکین اتنے نارمل کے جیسے کوئی بات ہی نہیں ہے ۔
بلآخر میں تنگ آگیا اور میں نے مسز ہمدانی سے بات کرنے کا سوچا ظاہر ہے بدبو کا زکر تو نا مناسب سی بات ہے ہاں بلی کے رونے کی بابت استفسار ضرور کرونگا ۔ میں سید اذان شاہ بخاری مسز ہمدانی کے پوتوں کو ٹیوشن دینے آتا تھا ۔بچوں کی چھٹی کے بعد میں نے کہلا بھیجا کہ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں ۔۔
مسسز ہمدانی ایک پر وقار خاتون تھیں ان کا ایک ہی بیٹا تھا وجاہت ہمدانی جس کی شادی انھوں نے اپنی بھانجی زرنگار سے کردی تھی مسز ہمدانی کے تین پوتے تھے جنھیں میں پڑھاتا تھا ۔ میں نے دو تین بار ان سے پوچھا بھی کہ یہ بلی ہے کس کی ؟ کس نے پالی ہے ؟ جاؤ اسے بھگا کر آؤ مگر وہ دونوں عجیب طرح مسکراتے اور باہر سے ہو آتے مگر پھر تھوڑی دیر بعد آواز آنے لگتی ۔۔
گھر بہترین لوکیشن پر تھا اور اعلیٰ طرزِ تعمیر کا منہ بولتا نمونہ تھا مگر مجھے ان پانچ دنوں میں عجیب سی گھٹن محسوس ہوئی اور روشنی بہت مدہم ۔دبیز پردے ماحول کچھ عجیب اور پراسرار خاموشی۔ صرف بلی کے رونے کی آواز کبھی دھیمی تو کبھی تیز کبھی غراہٹ تو کبھی معصومیت ۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ میں نے آج تک وہ بلی دیکھی نہیں تھی مجھے لگتا کہ بلی کمرے سے باہر ہے مگر کبھی کمرے کے اندر داخل نہیں ہوئی میں اس کی منحوس آواز سے اتنا بیزار تھا کہ اگر وہ نظر بھی آجاتی تو اپنا ڈھائی کلو کا جوتا بغیر آسرا کئے اس کے سر دے مارتا ۔۔ مگر خیر یہ ہی سب سوچ رہا تھا کہ مسز ہمدانی کمرے میں آئیں اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتی ہوئی مخاطب ہوئیں ۔۔
ہاں تو میاں اذان خیر ہے سب ؟ ہمارے پوتوں کی کوئی شکایت ہو تو بلا خوف و خطر کہہ دیں ہم پڑھائی کے معاملے میں چھوٹ دینے کے عادی نہیں۔ بڑے پوتے کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر وہ بولیں۔
اسی اثناء میں خانساماں چائے لا چکا تھا میں نے مسکرا کے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگایا اور بات کرنے کے لئے مناسب الفاظ تلاش کرنے لگا ۔۔
مسز ہمدانی میں کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔ انھوں نے مجھے ٹوکا اور کہا کہ اذان میاں یہاں سب ہمیں آغاجان (شوہر) کی نسبت سے آغاجانی کہتے ہیں ہمیں خوشی ہوگی اگر آپ بھی ہمیں آغا جانی پکاریں ۔ وہ ایک وضع دار خاتون تھیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کا نام لینے میں مجھے ہچکچاہٹ ہورہی تھی مگر بات تو شروع کرنی ہی تھی بہرحال میں نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آغا جانی بات یہ ہے کہ میں جب سے یہاں آرہا ہوں میں نے ایک بات نوٹ کی ہے ۔ آغا جانی کے ماتھے پر پڑے بل بہت واضح تھے ۔۔
آغا جانی ایک بلی کے رونے کی آواز مسلسل آتی رہتی ہے میں بچوں کو پڑھاتے ہوئے بہت ڈسٹرب ہوتا ہوں کیا ایسا نہیں ہوسکتا کے میں بچوں کو کسی اور کمرے میں بیٹھ کر پڑھا دیا کروں ؟
آغا جانی کے چہرے پر حیرانی اور دکھ کے ملے جلے آثار دیکھ کر میرے لئے کسی نتیجہ پر پہنچا مشکل تھا ان کی آنکھیں نم تھیں ۔۔ ایک آہ بھری اور بولیں ۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: