Billi by Salma Syed – Episode 10

0

بلی از سلمیٰ سید قسط نمبر 10

مصنفہ سے ملیں : سلمیٰ سید

آغا جان بے حد خوش تھے ۔۔۔ بس ایک فکر لاحق تھی ۔۔۔اذکار ۔۔۔دم۔۔۔۔ پانی کے چھینٹے۔۔ یہ سب کون کرے گا سسرال میں۔۔۔
نئے رشتوں میں ایسی باتیں پہلے دن سے دراڑ ڈال دیتی ہیں ۔۔ لیکن یہ سچائی بتائے بغیر رشتہ طے کردینا بھی مناسب نہیں تھا ۔۔۔ مکمل نہیں مگر کچھ تو آگاہی ضروری تھی ۔۔۔ اسی بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم نے رضا کو گھر بلا کر بات کرنے کا سوچا ۔۔۔
اور کسی کو نہیں ۔۔۔ مگر رضا کے علم میں یہ بات ہونی چاہیئے تھی ۔۔۔ پھر اس کا نتیجہ کچھ بھی ہو ۔۔۔کیونکہ سوال زیبا کی حفاظت کا تھا آغا جان کوئی پہلو تہی نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔۔
رضا کو اعتماد میں لیکر آغا جان نے کچھ واقعات سے رضا کو آگاہ کیا ۔۔ وہ زیبی کو اتنا چاہتا تھا کہ یہ سب سن کر بھی اس کی دیوانگی میں کمی نہ آئی اور اس نے وعدہ کیا کہ کل تک وہ عملیات آپ کی زمہ داری تھے اور شادی کے بعد سے میری ۔۔۔ آپ بے فکر ہو جائیں اور اس بات کا ذکر میری فیملی سے مت کیجئے گا ۔۔۔۔ زرا پرانے خیالات کے ہیں شائد آپ کی بات نہ سمجھ پائیں ۔۔۔ اور پھر اس طرح کی باتیں ایک سے دوسرے کو پتہ چلتیں ہیں بے وجہ تماشہ بنتا ہے ۔۔۔ میں نہیں چاہتا زیبی کی سمت کوئی اشارہ بھی کرے ۔۔۔
اذان میاں اور ہمیں کیا درکار تھا ؟؟ ہم شادی کی تیاریوں میں جت گئے ۔۔۔ بالآخر وہ دن بھی آگیا ۔۔۔ آغا جان نے اس روز آخری بار وہ عملیات کئے ۔۔۔ اور مطمئن ہوگئے کہ بیٹی محفوظ ہاتھوں میں دے رہے ہیں ۔۔۔
مہمانوں کی گہما گہمی ۔۔۔ زر نگار کی تیاریاں ۔۔۔ یاسر طلحہ کو دیکھنا ۔۔۔ ہمارے پاس تو وقت ہی نہیں تھا ۔۔۔ زیبا ۔۔۔ چاند کا ٹکڑا تھی ۔۔۔ اس کی کالج کی بہت سی دوستیں موجود تھیں جو بضد تھیں کہ زیبا کو دلہن بنانے کے لئے پارلر جانے کی اجازت دی جائے ۔۔۔۔ اذان میاں عموماً ہمارے خاندان میں یہ رواج نہیں تھا ۔۔۔ مایوں کی دلہن ابٹن تیل عطر میں بسی ہوتی ہے ۔۔۔ اس حالت میں باہر جانا ۔۔۔کسی کی نظر گزر میں آجانا ۔۔۔ کوئی چیز لانگ پھیلانگ جانا ۔۔۔ کیا ضرورت ہے بھئی مصیبتوں کو خود آواز دینے کی ؟؟ مگر آج کل کی لڑکیاں سنتی کب ہیں ۔۔ پھر زیبا کی بھی خواہش تھی ۔۔۔ آغا جان کیسے منع کرتے ۔۔۔ہم نے بھی اجازت دے دی۔۔۔ اور وجاہت زیبا کو اس کی سہیلیوں کے ساتھ با حفاظت پارلر چھوڑ آئے ۔۔۔۔
عصر کا بعد تھا ۔۔۔۔ 9 بجے ہال پہنچنا تھا ۔۔۔ زیبی کو سجایا جارہا تھا ۔۔۔ روایت کے برخلاف ۔۔۔ رضا کی پسند پر زیبی کی بارات کا جوڑا سفید تھا ۔۔۔ رضا کے والدین کو بھی اعتراض تھا مگر بیٹے کی خواہش پر خاموش تھے ۔۔۔۔۔ زیبا بے حد حسین لگ رہی تھی ۔۔۔سسرال سے آئے ہیروں کا ہار گردن میں جگمگا رہا تھا ۔۔ اس کی سہیلیوں نے مشورہ دیا کہ سفید لباس اور اتنے خوبصورت سیٹ کے ساتھ یہ کالا ڈورا گلے میں بہت برا لگ رہا ہے ۔۔۔
ساری زندگی سے پہنی ہو ۔۔۔۔ساری زندگی پہنوگی ۔۔۔
اگر کچھ گھنٹوں کے فوٹو سیشن کے لئے اتار دوگی تو کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔
پرس میں رکھ لو اگر اتنی ہی ڈر پوک ہو ۔۔۔
اففف توبہ زیبی اتنا پڑھ لکھ کر بھی آج کے دور میں اتنی توہم پرستی ؟؟
دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی ہے اور ہمارے والدین ابھی تک ڈراتے ہیں پرفیوم نہ لگاؤ ۔۔۔جن عاشق ہو جائیں گے ۔۔۔۔ مشترکہ قہقہہ۔۔۔
بس اذان میاں وہ لمحہ۔۔۔ اس وقت ہم میں سے کسی کو زیبی کے ساتھ ہونا تھا ۔۔۔ اس ایک لمحہ کی غفلت نے سب برباد کردیا ۔۔۔ ان کی باتوں سے متاثر ہو کر زیبی نے سوچا کہ کچھ گھنٹوں کی تو بات ہے اور تعویذ اتار کر کلچ میں رکھ لیا ۔۔۔۔
برسوں کی سوئی بد نصیبی کی نیند ٹوٹی اور اسے موقع مل گیا ۔۔۔۔ سالوں سے وہ گھات لگائے بیٹھی تھی کہ کب ہم سے کوئی چوک ہو اور کب وہ اپنا وار کرے ۔۔۔ اور اب اس کا داؤ چل گیا تھا وہ حفاظتی تعویذ گلے میں نہیں تھا وہ پوری طاقت سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
9 بجے وجاہت زیبی اور سہیلیوں کو لے کر پارلر پہنچے۔۔۔۔۔۔۔ ہم سب ہال میں انتظار کر رہے تھے ۔۔۔ زیبی پر بار بار غشی کے دورے پر رہے تھے اور ہم سمجھے میکہ چھوڑنے کے صدمات یوں بھی نو عمر لڑکیوں کو آدھ موا کئے دیتے ہیں ۔۔۔ بڑی مشکل سے نکاح ہوا ۔۔۔ رضا بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔ وہ نہال تھا اس کے گھر والے اس رشتے پر بہت مسرور ۔۔ زیبی کی طبیعت کے باعث رخصتی میں جلدی کی گئی ۔ ۔ رخصت ہو کے زیبی سسرال پہنچی تو اس سے پہلے اس کے استقبال کے لئے جانتے ہو کون موجود تھا وہاں ؟
کون ؟
اس منحوس کی غلام بلییاں ۔۔۔ کئی سو کی تعداد میں ۔۔ حویلی کی باہر ہی رستہ روکے کھڑی گاڑی کے اطراف منڈلا رہیں تھیں۔ رضا کو عجیب خار چڑھی ہوئی تھی ۔۔۔ ہم نے زیبی پر جان لیوا اثرات کا ذکر رضا سے کیا تھا مگر بلی ۔۔جن۔۔۔ ابایومی سے متعلق کوئی بات نہ کی تھی ۔۔
رضا کو اچانک ہی بہت غصہ آنے لگا اور اس نے گاڑی سے نکل کر راستے سے ان بلییوں کو بھگایا مگر وہ گاڑی کے ساتھ گیراج میں بھر گئیں ۔۔۔۔۔ زیبی بے ہوش تھی رضا نے بہت مشکل سے نوکروں کی مدد سے ان سب کو بھگایا اور زیبی کو گود میں اندر تک لے گیا ۔۔۔ رشتے داروں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے ۔۔۔ رضا کی آبائی حویلی سکھر کے نواح میں تھی جہاں اس کی دادی اور دو پھوپھیاں قیام پذیر تھی ۔۔۔ اگلی صبح زیبی کو انھیں سلامی دینے سکھر روانہ ہونا تھا مگر طبعیت سنبھلے تو ۔۔۔
سندھیوں کی روایات کے مطابق دلہن کی آمد پر کوئی رسم نہ ہو پائی اور دلہن کو سیج پر پہنچادیا گیا ۔۔۔ آرام کرے گی تو ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔ دوستوں سے فارغ ہو کر رضا قریب تین بجے اپنے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔ ایک ناگوار بدبو نے اس کا استقبال کیا ۔۔ اذان میاں دلہنوں کے کمرے مہینوں خوشبوؤں سے مہکتے رہتے ہیں مگر وہاں ایسی بدبو تھی جیسے بلییوں کی نجاستیں۔۔۔
جیسے تیسے وہ رات کٹی ۔۔۔ صبح سکھر روانہ ہوئے اور دو تین گھنٹے میں سکھر پہنچ گئے ۔۔۔ زیبی بہت چپ چپ سی تھی ۔۔ رضا سارا وقت چھیڑ چھاڑ کرتا رہا مگر زیبی گم رہی اور غشی طاری رہی ۔۔۔سسرالی تھکن سمجھ کہ چپ تھے ۔۔ دادی پھوپھیوں سے سلامی کے بعد ان کو ایک سجے سجائے کمرے میں آرام کرنے کی غرض سے بھیج دیا گیا ۔۔۔ زیبی نے کسی سے ملنے جلنے میں کوئی دل چسپی نہ لی ۔۔دن بھر مہمان عورتوں کا رش لگا رہا ۔۔۔ ہر کوئی چھوٹے سائیں کی دلہن دیکھنے آتا رہا ۔۔۔ زیبی سارا دن زنان خانے میں گزار کر تھک گئی اور اجازت لیکر مغرب کے بعد کمرے میں آ کر سو گئی۔۔۔۔۔۔۔
رضا نے زیبی کو اٹھانے کی کوشش کی ہوگی یہ ہمارا قیاس ہی ہے ۔۔۔ پتہ نہیں اس رات اس کمرے میں ایسا کیا ہوا ہوگا کوئی نہیں جانتا ۔۔ لیکن اگلے روز ایک دلخراش خبر ہماری منتظر تھی ۔۔۔۔
صبح نو بجے کے قریب زیبی کے سسر کی کال آئی ۔۔۔ ہم بے خبر سوئے ہوئے تھے ۔۔ان کی کال سے ہی جاگے ۔۔۔
مراد سنجرانی صاحب آپ کیا بک رہے ہیں ہوش میں تو ہیں ؟؟؟ آغا جان دھاڑے ۔۔۔
میری بھی آنکھ کھل گئی ۔۔۔ کیا ہوا ہے؟؟
جلدی اٹھیں صبیحہ زیبی کے گھر جانا ہے۔۔۔
آغا جان ہوا کیا ہے ؟؟
عجیب بے یقینی کی کیفیت میں آغا جان نے مجھے دیکھا اور دل پر ہاتھ رکھ کر بیٹھتے چلے گئے ۔۔۔
صبیحہ رضا۔۔۔۔
کیا ہوا رضا کو ؟
رضا کی تشدد زدہ لاش ملی ہے ۔۔۔
اوہ میرے خدا ۔۔۔۔۔ کہاں کیسے ؟
ہمارے ذہن مفلوج ہو کر رہ گئے ۔۔۔ ایک روز پہلے جس بیٹی کو دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا تھا اسی کا گھر اجڑنے کی خبر سے دن کا آغاز ہوا ۔۔۔۔۔ اوہ میری زیبی ۔۔۔
آغا جانی کے اس انکشاف پر میرا منہ بھی کھلا کا کھلا رہ گیا تھا ۔۔۔ رضا کی تشدد زدہ لاش؟؟
ہاں اذان میاں ۔۔۔
مگر کہاں ؟ کوئی خاندانی تنازعہ ؟
ہاں ۔۔۔۔ خاندانی دشمنی ۔۔۔۔ مگر رضا کی نہیں ۔۔۔۔ زیبی کی ۔۔۔
رضا کی تشدد زدہ لاش اس کے کمرے سے برآمد ہوئی ۔۔۔ اور کمرے کے اندر صرف زیبی تھی ۔۔۔
پھر ؟ آپ لوگ سکھر گئے ؟
ہاں ہم دونوں اور وجاہت سکھر پہنچے ۔۔ وہاں پہنچ کر کیسے ہمارا استقبال ہوا ہوگا کیا کچھ ہمیں کہا سنا گیا ہوگا آپ سمجھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ جگ ہنسائی ہوئی ۔۔۔ تماشہ بن گئے تھے ہم ۔۔۔
زیبی گھر میں موجود نہیں تھی ۔۔۔۔

Read More:  Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 19

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: