Billi by Salma Syed – Episode 11

0

بلی از سلمیٰ سید قسط نمبر 11

مصنفہ سے ملیں : سلمیٰ سید

ہاں ہم دونوں اور وجاہت سکھر پہنچے ۔۔ وہاں پہنچ کر کیسے ہمارا استقبال ہوا ہوگا کیا کچھ ہمیں کہا سنا گیا ہوگا آپ سمجھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ جگ ہنسائی ہوئی ۔۔۔ تماشہ بن گئے تھے ہم ۔۔۔
زیبی گھر میں موجود نہیں تھی ۔۔۔۔
اوہ وہ کہاں گئیں ۔۔
ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی پولیس آچکی تھی ۔۔۔ہمیں بعد میں اطلاع دی گئی۔۔۔۔۔۔ وہاں نوکرانیاں کمروں کے باہر راہ داریوں میں ہی سوتی تھیں۔۔۔۔ کب بی بی صاحبوں کو کام ہو اور کب وہ حاضر ہو جائیں۔۔۔ زیبا کے کمرے کے باہر سوئی نوکرانی نے صبح ہوتے قریب 4 بجے عجیب سی آوازیں سنی ۔۔ غور کیا تو معلوم ہوا چھوٹے سائیں کے کمرے سے آرہیں ہیں قریب جا کر سنا تو سائیں کی چیخوں پکار سنائی دی ۔۔ نوکرانی نے صبح فجر کے بعد زیبا کی ساس کو بتایا ۔۔۔ انھوں نے اپنے شوہر کو اور وہ رضا کے کمرے کی طرف بڑھے ۔۔۔ دروازہ کھلا تھا اور رضا کی ادھڑی ہوئی لاش کے پیر میں زیبا کا دوپٹہ بندھا تھا اور وہ پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی ۔۔۔ جگہ جگہ سے اس کے جسم سے گوشت غائب تھا ۔۔۔ بیڈ کے دوسری طرف زیبی بیٹھی اپنے خون میں لتھڑے ہاتھ چاٹ رہی تھی ۔۔۔
رضا کے والد نے فوراً پولیس کو بلایا اور لاش پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دی ۔۔۔پولیس نے زیبی کو حراست میں لے لیا ۔۔۔ جب ہم پہنچے تو یہ تمام کاروائی ہو چکی تھی۔۔۔ اس ذلت و رسوائی کے بعد وہاں ٹھہرنا مشکل تھا ۔۔ دکھ سے ہم نڈھال تھے ۔۔۔مگر زیبی کے متعلق یہ سب اس کی سسرال والوں سے سن کر خوفزدہ بھی تھے ۔۔۔ میں اور آغا جان تعویذ کے بارے میں سوچ رہے تھے جبکہ وجاہت ان سب باتوں سے لا علم تھے ۔۔۔ دل اندر ہی اندر ڈوب رہا تھا اور کہیں نہ کہیں یہ ڈر غالب آگیا تھا کہ زیبی کا تعویذ اس کے گلے میں نہیں ہوگا ۔۔۔
انجان شہر میں تلاش کرتے کرتے پولیس اسٹیشن پہنچے ۔۔۔
آغا جان کی ہمت نہ تھی کہ اس حال میں بیٹی کو دیکھیں اور ہم دونوں کو کسی ثبوت کی ضرورت نہیں تھی کہ قاتل کون ہے ۔۔۔۔ تفتیشی افسرسلمان غوری کی اجازت سے ایک سپاہی مجھے اور وجاہت کو اس حوالات تک لے گیا جہاں زیبا تھی ۔۔۔دو دن میں ہی وہ پہچانی نہیں جارہی تھی ۔۔۔زرد رنگت ۔۔۔آنکھوں میں گڑھے ۔۔۔
زیب ۔۔ زیبی میری بچی یہاں آؤ ۔۔۔دیکھو ادھر ۔۔۔ مگر وہ گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھی رہی ۔۔
وجاہت نے بھی بہت پکارا مگر زیبی نے ایک نہ سنی ۔۔۔ وجاہت نے کہا یہ صدمے کا اثر ہے جبکہ میں اصل وجہ جانتی تھی ۔۔۔
میں نے اسے پکارا۔۔۔۔
۔۔۔ ابایومی ۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی چلتی ہوئی نزدیک آئی ۔۔۔ ہمارے درمیان حوالات کی سلاخیں تھیں ۔۔ ورنہ جن شعلہ بار نظروں سے اس نے مجھے دیکھا تھا شائد وہ ہمارا حال بھی رضا جیسا کرتی ۔۔۔
نزدیک آ کر وہ مجھے گھورنے لگی ۔۔۔ اور اچانک قہقہہ مار کے ہنسی۔۔۔ بہت خوفناک ہنسی ۔۔۔ میں نے دیکھا ۔۔۔ اس کی زبان اور دانتوں سے ابھی بھی خون جھلک رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اس کے گلے میں تعویذ نہیں تھا اور ابایومی کہنے پر اس کا ردِ عمل اس بات کا غماز تھا کہ یہ زیبی نہیں ۔۔۔ وجاہت کچھ نہ سمجھنے والی کیفیت میں ہمیں دیکھ رہا تھے ۔۔
ابایومی کی بک بک جاری تھی ۔۔۔ وجاہت کچھ سمجھ نہ پائے مگر میں جانتی تھی کہ اس نے گفتگو کے لئے اب بھی وہی پینترا اختیار کیا ہے ۔۔ یا اللہ مجھے بے اختیار رابعہ یاد آئی ۔۔۔۔۔۔
وجاہت تفتیشی افسر کے ساتھ بات کرنے رکے اور ہم گاڑی میں آ بیٹھے۔۔۔ آغا جان پریشانی کے عالم میں باہر ٹہل رہے تھے ہماری اُڑی رنگت نے انھیں حقیقت سے آگاہ کیا وہ بھی گاڑی میں آ بیٹھے ۔۔۔
کیا کہتی ہے ؟
بولنے کا یارا نہیں تھا ۔۔۔ ایک تو زیبی پھر کھو گئی تھی ۔۔۔ دوسرا رضا کی ناگہانی موت کا صدمہ اور تیسرا ڈر۔۔۔۔ آغا جان کی زندگی کو لاحق خطرہ ۔۔۔ ہم رو پڑے آذان میاں ۔۔۔کیا کہتے آغا جان سے کہ وہ کیا کہتی ہے ؟؟ دھمکانے کے علاوہ کیا کہا ہوگا اس نے ۔۔۔ اسی اثناء میں وجاہت ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھے اور بتایا کہ مراد سنجرانی نے قتل کی ایف آئی آر زیبا کے خلاف کروائی ہے ۔۔اس کی نوکرانی نے گواہی دی ہے ۔۔ یہ وڈیرے اپنی دولت کے بل پر سب خرید لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ انصاف کرنے والی ذات سب جانتی ہے ۔۔۔ آغا جانی زیبی اپنے ہی شوہر کا قتل کیوں کرے گی ؟؟ آپ نے دیکھی اس کی حالت ؟ آغا جان صدمے نے اس کے ہوش و حواس چھین لیئے ہیں ۔۔۔ اتنے بڑے حادثے پر کوئی نارمل لڑکی ایسا ری ایکٹ کرے گی ؟؟ اور آغا جانی آپ نے سنا وہ کیا بول رہی تھی ایک لفظ بھی سمجھیں ؟ آغا جان میں مراد سنجرانی کو چھوڑوں گا نہیں ۔۔۔۔ میں اس قتل کی تہہ تک جاؤں گا میں اپنی معصوم بہن کو ان وڈیروں کی دشمنی کی بھینٹ نہیں چڑھنے دوں گا ۔۔۔ ارے شادی نہیں کرنی تھی تو نہ کرتے اتنا بڑا جرم ۔۔ کسی کا گناہ زیبی پر کیسے ڈال سکتے ہیں یہ لوگ۔۔۔
ہم دونوں چپ چاپ وجاہت کی باتیں سن کر سوچ رہے تھے کاش ایسا ہی ہوتا مگر حقیقت کچھ اور ہی تھی جو وجاہت سے مخفی تھی ۔۔۔ وجاہت نے ہمیں تسلی دی کہ وہ دو تین روز میں بیل کرانے کی کوشش کریں گے ۔۔۔ تب تک ہم کسی ہوٹل میں ٹھہرنے کا بندوست کرتے ہیں۔۔۔
اذان میاں ہم پھر اسی دو دھاری تلوار پر آن کھڑے ہوئے تھے۔۔۔ آغا جان کو بچاتے تو زیب کو کھو دیتے اور زیبی کو بچاتے تو آغا جان کو کھو دیتے ۔۔۔ ایک مستقل اذیت میں تھے ۔۔۔ کیا کریں ۔۔۔ بیل کروائیں تو زیبی کو رکھیں گے کہاں ۔۔۔اور نہ کروائیں تو کیا مرنے کے لئے چھوڑ دیں ؟؟
واقعی آغا جانی یہ ایک مشکل مرحلہ تھا ۔۔۔ پھر آپ لوگ سکھر میں ٹھہرنے یا کراچی واپس آئے ؟
وجاہت چاہتے تھے کہ ہم رکیں ۔۔۔ مگر آغا جان نے کراچی آنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔کیونکہ وہ کوئی تدبیر کرنا چاہتے تھے ۔۔۔وجاہت سکھر میں رکے اور زیبی کی بیل کروانے کی سر توڑ کوشش میں لگ گئے ۔۔۔
کراچی آنے کے بعد آغا جان نے بھائی عبدالسلام سے رابطے کی کوشش کی مگر بے سود ۔۔۔ کچھ اور عامل حضرات سے رابطہ کئے مگر کوئی ایسا کامل نہ مل سکا ۔۔۔ ہم مایوس ہوگئے تھے۔۔۔۔
وہاں وجاہت کی مسلسل کوشش سے زیبا کی ضمانت کے آڈر مل گئے تھے کیونکہ جیل عدالت اور ڈاکٹرز سب ہی کو زیبا کی دماغی حالت پر شک تھا ۔۔ مراد سنجرانی زخمی شیر کی طرح بے کل تھے ۔۔۔ ان کا غم بھی کم نہ تھا ہمیں ان سے بھی دلی ہمدردی ہے ۔۔ اذان میاں لاشہ ۔۔۔اور جوان اولاد کا لاشہ اور اس کو یوں بیدردی سے قتل کیا گیا ہو ۔۔۔ برداشت کرنا کیا آسان کام تھا ؟
یہ سادات کا ہی حوصلہ تھا ۔۔۔ یہ مولا علیہ السلام کے ہی شانے تھے جو جوان لاشے اٹھاتے رہے ۔۔۔ قربانی پر قربانی دی ۔۔۔اور آج لوگ کہتے ہیں کیوں سوگ مناتے ہو ان کا وہ تو شہید ہوئے ۔۔۔۔ شہید کو مردہ جان کر ان کا سوگ نہ مناؤ ۔۔۔ آنسو نہ بہاؤ ۔۔۔۔ ارے عقل کے اندھوں سوگ ان کی شہادت کا نہیں ان کی مظلومیت کا ہے دکھ ان کی موت پر نہیں ان کے مصائب پر ہے۔ ۔۔۔ آنسو انکی اذیتوں پر ہیں ۔۔۔ شرمندگی کہ ان کو شہید کرنے والے بھی کلمہ گو تھے ۔۔۔ اذان میاں مولا ہی سہہ گئے کوئی اور ہوتا تو کلیجہ پھٹ جاتا ۔۔۔۔۔ ہم دیکھیں کہ سوگواری عزاداری کی ممانعت کرنے والوں ایسے کڑیل جوان تمھارے بیٹے بھائی اس بیدردی سے روندے جائیں ۔۔۔ ہم دیکھیں کہ تم کس طرح صبر کرو گے ۔ کیسے بین نہ کروگے ؟ ایک موت ہو جائے سالوں سال نہ بھولنے والوں ۔۔۔ کیسے کوئی ان کڑیل جوانوں کے سر بریدہ لاشے بازوں سینے بھول سکتا ہے ۔۔۔ بخدا ہم نہیں بھول سکتے کہ امت نے کیا ستم ڈھایا ۔۔۔ آہ مولا اپنے پیاروں کے صدقے ہماری مشکلیں آسان کریں۔۔۔۔
اتنا کہہ کر آغا جانی رو پڑی۔
اور میری آنکھ ان کی پیروی میں نم تھی ۔۔۔
اور دل میں بس یہ ہی دعا کہ ربِ رحیم اہلِ بیت کے صدقے ان کی مشکل آسان کردے ۔۔۔
آغا جانی کو پانی پلایا تسلی دی کے سامنے سے نرس آتی نظر آئی ۔۔۔
زیبا ہمدانی کے ساتھ آپ ہیں ؟
جی کہئیے ۔۔۔۔
میرے ساتھ آئیں ۔۔۔

جاری ہے

——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: