Billi by Salma Syed – Episode 12

0

بلی از سلمیٰ سید قسط نمبر 12

مصنفہ سے ملیں : سلمیٰ سید

اتنا کہہ کر آغا جانی رو پڑی۔
اور میری آنکھ ان کی پیروی میں نم تھی ۔۔۔
اور دل میں بس یہ ہی دعا کہ ربِ رحیم اہلِ بیت کے صدقے ان کی مشکل آسان کردے ۔۔۔
آغا جانی کو پانی پلایا تسلی دی کے سامنے سے نرس آتی نظر آئی ۔۔۔
زیبا ہمدانی کے ساتھ آپ ہیں ؟
جی کہئیے ۔۔۔۔
میرے ساتھ آئیں ۔۔۔
اوہ خدا رحم ۔۔
نرس ہمیں ڈاکٹر شہاب الدین غوری کے روم تک لے گئی ۔۔۔ شہاب الدین غوری وجاہت ہمدانی کے دوست ہیں ۔۔۔ اور زیبا کی ٹریٹمنٹ کے انچارج۔۔
تشریف رکھئیے ۔۔۔
مسز ہمدانی آپ کو زحمت یوں دی ہے کہ میں آپ کو بتا سکوں…. زیبا کی حالت نازک ہے…… اس میں خون بتدریج کم سے کم ہوتا جا رہا ہے ۔۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ فیملیز مطمئن نہیں ہوتیں اور مریض کو دوسرے اسپتال منتقل کرا لیتی ہیں ۔۔۔
اور پھر کیس کر دیتی ہیں کہ ڈاکٹروں کی غفلت کے باعث یہ ہوگیا وہ ہوگیا ۔۔۔
خون چوری کر لیا گیا مریض تو بے ہوش تھا……
ہمیں تو پتا نہیں ڈاکٹروں نے کیا کیا …..
نتیجاً اسپتال بدنام ہوتا ہے ۔۔۔
زیبا ہمدانی کی مکمل ٹریٹمنٹ بے ہوشی کی حالت میں ہو رہی ہے ۔۔۔
ملاقات کے کوئی مخصوص اوقات نہیں ہیں سب کچھ آپ کے سامنے شفاف طریقے سے ہورہا ہے ۔۔
مسز ہمدانی وجاہت میرا دوست ہے آپ کے علم میں ہے یہ بات اور آپ کا مجھ پر بھروسہ ہی آپ کو یہاں لاتا ہے ۔۔۔ مگر اسپتال کے کچھ قائدے قانون ہیں مجبوراً مجھے ان کی پاسداری کرنی پڑے گی ۔۔۔
زیبا کے معدے میں زخم ہے اور مسلسل خون کی کمی کے باعث اس کی حالت مزید بگڑنے کا ڈر ہے ۔۔۔
آپ پلیز اس فارم کو فل کردیں ۔۔۔
کہ کسی بھی انتہائی صورتحال میں اسپتال ذمہ دار نہیں ہوگا ۔۔۔
مجھ پر بھروسہ رکھیں میں پوری کوشش کروں گا کہ زیبا جلد از جلد صحتیاب ہو جائے ۔۔
یہ بس ایک رسمی کاروائی سمجھیں ۔۔۔
آغا جانی نے میری طرف فارم بڑھا کر تصدیق چاہی۔۔۔ فارم میں زیبا کی موجودہ حالت درج تھی اور تقریباً وہی باتیں جو شہاب الدین غوری نے کی تھیں ۔۔۔ آغا جانی نے اس پر دستخط کر دیئے۔۔۔ ان کے ہاتھوں کی لرزش واضح ثبوت تھی کہ اب وہ زیبا کی صحت کی طرف سے بھی نا امید ہو چکی ہیں ۔۔۔
ہم واپس وارڈ میں آگئے ۔۔۔ تبھی آغا جانی کو طاہر علیمی کی کال آئی اور انھوں نے بتایا کہ ان کے مرشد پاکپتن سے کراچی آئے ہوئے ہیں ۔۔۔اگر ان سے ملاقات کا ارادہ ہو تو کس وقت وہ اسپتال آ سکتے ہیں ۔۔۔ آغا جانی نے انھیں کل شام عصر کا وقت دیا ۔۔۔
رضا بے قصور ہوتے ہوئے بھی اس عفریت کا شکار بن گیا تو جس سے اس کی دشمنی تھی اس کی موت کی وجہ بھی یہ ہی رہی ہوگی ۔۔۔
آغا جانی جب زیبا کی بیل ہوگئی اور ان کی ملاقات وجاہت صاحب سے ہوئی تب ان کی کیا حالت تھی ؟؟
اذان میاں ہم یہاں گھلے جارہے تھے کہ اگر زیبی کی بیل ہوگئی تو وہ یہاں آ کر کیا قہر ڈھائے گی۔۔۔۔۔۔ اور جو بیل نہ ہوئی تب بھی ہم اپنی بچی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے ۔۔۔ آگے کنواں پیچھے کھائی ۔۔۔ کیا کریں عجیب پریشان کن صورتحال تھی ۔۔۔
زیبی کی بیل کی خبر بھی ہمیں راحت نہ دے سکی اور ہم سراپا سوال بنے آغا جان کے ساتھ تھے کہ اب کیا ہوگا ؟ وجاہت راستے میں ہیں ۔۔۔
گھر آ کر زیب دوڑ کر ہمارے سینے سے لگ گئی اور بے تحاشہ رونے لگی ۔۔ رضا کی نا گہانی موت اور جیل کی صعوبتوں نے اسکا برا حال کردیا تھا ۔۔۔
آغا جان سے بھی گلے لگی اور شکایتیں کرنے لگی ۔۔۔
آغاجان آپ ہمیں لینے کیوں نہ آئے ؟؟؟
ٹھیک کہتے تھے رضا کے والدین سفید رنگ واقعی منحوس ہے ۔۔۔۔۔
یہ سفیدی کھا گئی ہمارے سہاگ کو ۔۔۔
ہم نے زیبا کو سہارا دیا اور کمرے میں آرام کی غرض سے لٹا آئے ۔۔۔
ہم دونوں ہی حیران تھے کہ لگتا تھا سب ٹھیک ہے ۔۔۔
گھر میں سوگواری طاری تھی مگر کیونکہ گھر بچوں والا تھا تو ماحول کچھ ہی دن میں بہتر ہوگیا ۔۔ ایک دن آغا جان نے کہا۔۔۔۔۔
صبیحہ ہو سکتا ہے وجاہت ٹھیک کہہ رہے ہوں مراد نے پیسے کے زور پر زیبی کو اس قتل میں ملوث کیا ہو ۔۔۔۔
اصل حقائق کچھ اور ہوں ۔۔۔۔۔۔
ہو سکتا ہے جب آپ زیبی سے ہوں وہ واقعی صدمے کے زیرِ اثر ہو؟
ہمیں بھی لگا۔۔۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔ شائد کیونکہ زیبی اب نارمل تھی ۔۔ اور گھر کا ماحول بھی ۔۔۔۔ زیبی کی بیل ہو گئی تھی کیس ختم نہیں ہوا تھا ۔۔۔
زیبی ہر وقت رضا کو یاد کرکے روتی رہتی تھی مگر پھر بچوں کے ساتھ اپنا غم غلط کرنے کی کوشش کرتی ۔۔۔ اور رات میں اکثر ہمارے کمرے میں آجاتی جب تک اسے نیند نہ آتی یا ہم اس کے کمرے میں بیٹھے رات گزار دیتے ۔۔۔۔
اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی بخار رہنے لگا تھا ۔۔۔ انھی دنوں خبر آئی کے ہماری چچازاد کلثوم کو دل کا دورہ پڑا ہے وہ اسپتال میں ہیں ۔۔۔
ہمیں جانا تھا ۔۔ وجاہت کو بھی ایک میٹنگ پر جانا تھا تو آغا جان نے کہا کہ صبیحہ آپ کو وجاہت ڈراپ کر دیں گے ہم زیبی کے پاس رکتے ہیں تیز بخار ہے اکیلا چھوڑ جانا ٹھیک نہیں زرنگار بھی اپنے والدین کی طرف ہیں ۔۔
دل نہیں مان رہا تھا مگر گھنٹہ دو گھنٹہ کی بات ہے ۔۔۔ وجاہت واپسی پر ہمیں اسپتال سے لے آئیں گے ۔۔۔
ہم اپنی بہن کی عیادت کو اسپتال آگئے مگر دل گھر میں ہی پڑا تھا۔ دوبار ہم نے کال کی آغا جان کو انھوں نے تسلی دی کہ سب ٹھیک ہے ہم مطمئن ہو گئے ۔۔ قریب ڈیڑھ گھنٹے کے بعد وجاہت ہمیں لیکر گھر آئے ۔۔۔ رات کے آٹھ بجے کا وقت تھا ۔۔۔ وجاہت کے ساتھ ہم گھر میں داخل ہوئے تو وہی ناگوار بدبو ۔۔۔
بیٹا ہماری حالت غیر ہو گئی ۔۔۔
وجاہت بھی محسوس کر رہے تھے ۔۔۔
ہم آغا جان کے کمرے کی طرف دوڑے اور وجاہت ہمارے پیچھے ۔۔۔
آغا جان وہاں نہیں تھے ۔۔۔۔
وجاہت زیبی کے کمرے کی طرف گئے ۔۔۔
اور ۔۔ ۔۔۔ امی ۔۔۔۔۔۔۔کہہ کر رہ گئے ۔۔۔
ہمارا دل بند ہونے کو تھا ۔۔۔۔
کمرے کا منظر ہم آپ کو کیا بتائیں اذان میاں ۔۔۔
پورا کمرہ خون میں رنگا ہوا تھا ہمارے آغا جان کا خون ۔۔۔
ان کی لاش دونوں ٹانگیں بندھی ہوئی تھیں اور ہاتھ بھی ۔۔۔
گردن کمر کی طرف گھومی ہوئی تھی
اور زیبا آغا جان پر چڑھ کر ان کی آنکھیں نوچ کر کھا رہی تھی ۔۔۔
وہی رضا کی طرح ادھڑی ہوئی لاش۔۔۔
اور وہی بک بک جاری تھی ۔۔۔۔اس نے اپنا بدلہ لے لیا تھا ۔۔۔
افففف میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے کہ یہ معصوم کمزور نظر آنے والی لڑکی کس قدر سفاک ہے ۔۔۔ اپنے شوہر اور پھر اپنے باپ کا بہیمانہ قتل۔۔
کس قدر تشدد پسند ہے ۔۔ مگر نہیں ۔۔۔۔ یہ لڑکی نہیں ۔۔۔۔ وہ ابایومی ۔۔۔ وہ ہے قاتل ۔۔۔وہ ہمیشہ سے اپنی موت کا بدلہ لینا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔
یہ داستان سنانے کے بعد آغا جانی کے چہرے کی اذیت ناقابلِ بیان ہے ۔۔۔
اس واقعے کے بعد ہمیں ابایومی سے کوئی بعید نہ رہی کہ وہ کس کس کا کیا حشر کرے گی۔۔۔۔۔ اگلے دن زیبی پھر نارمل تھی اور باپ کی موت پر بے حال تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ وجاہت اب بھی اسے بیمار سمجھ رہے تھے مگر اس بات پر یقین کر چکے تھے کہ رضا کا قتل بھی زیبی نے ہی کیا ہے اور مراد سنجرانی کس حد تک حق پر ہیں ۔۔۔۔
وہاں مراد سنجرانی کو آغا جان کے قتل کی خبر ہوئی تو وہ تعزیت کے لئے آئے۔۔۔۔۔۔۔۔ وجاہت کے رویئے میں لچک تھی اور باہمی گفتگو سے دونوں میں قصاص کا معاملہ طے پا گیا۔۔۔؟۔۔ کیونکہ اب مراد سنجرانی جانتے تھے کہ زیبا شدید ذہنی عارضے میں مبتلا ہے اور جب اسے دورہ پڑتا ہے تو وہ اس سفاکیت پر اتر آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
آغا جان کی موت کے بعد ہم تو نصف ہی رہ گئے تھے ۔۔۔بچوں کا گھر تھا مبادا زیبی پھر کسی کو نقصان پہنچاتی ہم نے فیصلہ کیا کہ اب زیبی کو زنجیر ڈالنی پڑے گی ۔۔۔
اب ہم کسی اور کو رونے کی متحمل نہیں تھے ۔۔
وجاہت ہمارے فیصلہ کے خلاف تھے ۔۔۔ انھیں لگتا تھا زیبی کو علاج کی ضرورت ہے ۔۔۔
مگر ایک رات وجاہت نے بھی اپنی آنکھوں سے ابایومی کا اصل روپ دیکھ لیا جب وہ اپنے کمرے میں بلی کی صورت لئے ہماری بربادی کا جشن منا رہی تھی ۔۔
وجاہت نے زیبا کو لاک کیا اور ہمارے پاس آ کر ساری بات بتائی ۔۔۔ اور پوچھا کہ ایسا کیوں ہے یہ سب کیا ہے ؟ جو راز اب تک مخفی تھا وہ آج کھل گیا تھا اور آدھا سچ وجاہت کے لئے بھی نقصان دہ ہوتا لہذا ہم نے تمام تفصیلات وجاہت کو بتادیں ۔۔۔۔۔۔
یقین کرنے کے علاوہ وجاہت کے پاس کوئی راستہ نہ تھا ۔۔ بہت محبت کرتا ہے زیبی سے ۔۔ وہ ہی کیا ہم سب ۔۔۔ لیکن اس عفریت نے ہماری زیبی ہم سے چھین لی ۔۔۔ تب سے اب تک زیبی زنجیر میں جکڑی اپنے کمرے میں رہتی ہے ۔۔۔۔ بہت تھوڑے وقت کے لئے ابایومی اس کا جسم چھوڑ بھی جاتی ہے مگر زیادہ تر وہ زیبی پر مسلط رہتی ہے ۔۔۔
مگر وہ روتی کیوں ہے اب تو اپنا بدلا لے چکی ہے ؟
وہ زیبی روتی ہے ۔۔۔۔
اپنے حال پر ۔۔
رضا کی موت پر ۔۔
اپنے باپ کی موت پر ۔۔۔۔
اپنے اجڑ جانے پر۔۔۔۔۔
اپنی قید پر ۔۔۔۔
اپنی بربادی پر۔۔۔۔
مگر اس کی آواز اسی منحوس بلی جیسی ہے ۔۔ سنی ہوگی آپ نے ۔۔۔ کبھی انسانی کبھی بلی نما آوازیں ۔۔۔۔
جی آغا جانی سنی ہیں ۔۔۔۔
ہمیں نہیں لگتا زیبی بچ پائے گی ۔۔۔۔
لیکن ہم ایک آخری کوشش ضرور کریں گے ۔۔۔کل طاہر علیمی کے مرشد سے مل کر ۔۔۔۔ وجاہت ساتھ ہوتے تو بہتر تھا ۔۔۔
آغا جانی ان حالات میں انھیں ساتھ ہونا تھا۔۔۔۔۔
میں چاہ کر بھی یہ بات کہنے سے خود کو نہ روک پایا ۔۔۔ شروع دن سے یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی تھی کہ اور اب بھی ۔۔۔
یہ سب سن کر کہ وجاہت بہن سے بہت پیار کرتے ہیں ۔۔ میں خود کو نہ روک پایا ۔۔۔۔۔ یہ کیسا پیار ہے ؟؟
وجاہت پہلے فیصل آباد گئے ہوئے تھے وہاں کچھ زمین کے سودے کرنے تھے ۔۔۔ قصاص کی رقم بہت رکھی ہے مراد سنجرانی نے ۔۔۔ وجاہت ہر قیمت پر یہ کیس ختم کروا کر ہی لوٹیں گے ۔۔۔ زمینیں بیچ کر وہ اب سکھر گئے ہوئے ہیں ۔۔
اوہ میرے خدا ۔۔۔۔۔ میری سوچ کس قدر غلط تھی وجاہت کے بارے میں ۔۔۔ تمام حقیقت سے انجان میں وجاہت کو پہلے دن سے لا پرواہ بے حس اور نجانے کیا کیا سوچ رہا تھا۔۔۔سچ ہے مکمل آگاہی سے پہلے کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم کر لینا کتنی بری بات ہے ۔۔میں دل ہی دل میں شرمندہ ہوا تھا ۔۔۔
داستان مکمل طور پر اب میرے سامنے تھی ۔۔۔ ایک بے ارادہ کی گئی غلطی اور اس انتقام کی آگ میں جلتی ابایومی ۔۔۔ ایک پورا گھرانہ اجاڑ چکی تھی اور اب بھی جان چھوڑنے پر تیار نہ تھی ۔۔ خدا جانے ہمدانی اس عذاب سے کیسے نکل سکیں گے۔ ۔۔۔ اللہ کرے طاہر علیمی کے مرشد کچھ کرسکیں۔۔ میرا تجسس قدرے کم تھا کئی سوالوں کے جواب مل چکے تھے ۔۔اس لئے طبعیت میں بحالی محسوس ہوئی۔۔
رات کے تین بج چکے تھے ۔۔
میں نے آغا جانی سے اجازت لیتے ہوئے کہا کہ مجھے آفس میں ضروری کام ہے کل دن میں دو ڈھائی بجے تک واپس آجاؤں گا ۔۔۔
میرا نمبر سیو کرلیں ۔۔۔
اگر ضرورت ہو تو کال کر لیجئے گا ۔ ۔
میں کچھ گھنٹے سو لوں ۔۔۔
آپ بھی آرام کرلیں ۔۔۔
آغا جانی دعائیں دیتی زیبی کے کمرے کی طرف بڑھیں اور بولیں ۔۔۔ اذان میاں جیتے رہیں آپ آرام کریں ۔۔ہم زیبی کو دیکھ لیں پھر عبادت کے احاطے میں ارام کے لئے جائیں گے ۔۔۔
شب بخیر کہہ کر میں لان میں آ کر ہری گھاس پر لیٹ گیا ۔۔۔
کھلی زمین اور کھلا آسمان ۔۔۔ کس قدر وسعت لیے بے اپنے اندر ۔۔۔دنیا ۔۔دنیا میں ایک اور دنیا ۔۔۔انسان اور بیشمار رب کی تخلیقات۔۔۔کون کون سی مخلوق کس۔ روپ میں ہے کون جان سکتا ہے ۔۔۔ وہ جو نظر آتیں ہیں ۔۔۔اور جو نظر نہیں آرہیں آن سے کیسے بچا جا سکتا ہے ۔۔ یہ خیال آتے ہی میں نے امی کو کال کی ۔۔۔ بیل جا رہی تھی مگر امی نے کال ریسیو نہیں کی ۔۔۔اوہ رات کے تین بجے ہیں سو رہیں ہوں شائد مگر اگلے ہی لمحے امی کی کال تھی ۔۔۔خیر خیریت کے بعد دم کروایا ۔۔۔اور پر سکون ہوگیا ۔۔۔ وہ تہجد کے لیے اٹھی ہوں گی ۔۔۔میں نے کہہ دیا تھا ایک دوست کی بہن اسپتال میں ہیں اس کے ساتھ رکا ہوں اس لئے میں بھی اس وقت تک جاگ رہا ہوں ۔۔۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: