Billi by Salma Syed – Episode 13

0

بلی از سلمیٰ سید قسط نمبر 13

مصنفہ سے ملیں : سلمیٰ سید

اوہ رات کے تین بجے ہیں سو رہیں ہوں شائد مگر اگلے ہی لمحے امی کی کال تھی ۔۔۔خیر خیریت کے بعد دم کروایا ۔۔۔اور پر سکون ہوگیا ۔۔۔ وہ تہجد کے لیے اٹھی ہوں گی ۔۔۔میں نے کہہ دیا تھا ایک دوست کی بہن اسپتال میں ہیں اس کے ساتھ رکا ہوں اس لئے میں بھی اس وقت تک جاگ رہا ہوں ۔۔۔
صبح فیکٹری گیا واپسی تین بجے تک اسپتال۔۔۔
آغا جانی منتظر تھیں انھوں نے بتایا کہ پیر صاحب شام پانچ بجے تک آئیں گے۔۔۔ شائد آج یہ معاملہ حل ہو جائے ۔۔
شام پانچ بجے طاہر علیمی ایک باریش بزرگ کے ساتھ آئے ۔۔ بعد مصافحہ طاہر علیمی نے تعارف کرایا وہ جامعہ نعیمیہ میں مدرس ہیں ۔۔اور عامل بھی ۔۔ پیر فرقان حیدر۔۔
فرقان صاحب نے آغا جانی سے زیبا کے متعلق معلومات لیں۔۔۔۔ پھر گویا ہوئے ۔۔۔
صبیحہ بہن یہ تمام معاملات مجھے طاہر کی زبانی معلوم ہوئے ہیں ۔۔۔ اور میں نے موکلات کے زریعے بھی معلومات اکھٹی کیں ہیں ۔۔۔۔ وہ عفریت اس وقت بہت طاقتور ہو چکی ہے ۔۔ کیونکہ اس وقت سے جب تک زیبا کے گلے میں وہ تعویذ تھا تب تک اس نے کوئی جسم اختیار نہیں کیا ہے وہ اس بلی کے جسم میں رہی ہے یا اب زیبا پر مسلط ہے ۔۔
اس کا وہ بلی کا جسم جہاں دبایا گیا ہے وہ بھی کوئی قبرستان ہے جو مزید بد روحوں کا گڑھ تھا ان کی تمام طاقتیں اب ابایومی کو حاصل ہیں ۔۔
کسی طرح اس جسم کو نذرِ آتش کرنا ہوگا ۔۔
مگر فرقان صاحب اس کا بدلہ تو پورا ہوگیا پھر وہ اس خاندان کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتی ؟ میں نے پوچھا۔۔
بیٹا یہ مخلوقات اور ان کے انتقام نسلوں میں سفر کرتے ہیں یہ اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتی۔۔ اللہ بچی کی عمر دراز کرے لیکن اگر وہ زیبا کو مارنے میں کامیاب ہوگئی تب بھی اس کی بد نظر اس خاندان پر رہے گی اور کوئی نہ کوئی بربادی دیکھنی پڑے گی ۔۔۔ میرے علم کے مطابق بس ایک ہفتہ اور ہے وہ کسی خاص دن کے انتظار میں ہے جب وہ زیبا کی روح کا تعلق اس کے جسم سے مکمل توڑ دے ۔۔۔۔۔
میں نے پھر سوال کیا کہ اس کا بدلہ آغا جان سے تھا ۔۔ اس نے زیبا کے شوہر کی جان کیوں لی ؟
وہ کچھ دیر خاموش رہے ۔۔ پھر بولے ۔۔۔ موکلات کی معلومات کے مطابق ۔۔۔
اس رات رضا جب کمرے میں گیا تو زیبا سورہی تھی اس کو یاد آیا کہ آج زیبا پر جو عملیات آغا جان نے بتائے تھے وہ نہیں کئے ہیں لہذہ رضانے وہ عملیات وظائف شروع کئے ۔۔۔ رضا کے وظائف سے زیبا اٹھ بیٹھی اور اس نے حد درجہ بہکانے کی کوشش کی مگر رضا کے مستقل پڑھتے رہنے سے وہ مشتعل ہو گئی ۔۔۔۔۔۔ رضا نے پانی پڑھ کر چھینٹے مارے تو اس کو آگ لگانے لگی اور وہ تڑپنے لگی ۔۔۔ رضا سے بس یہاں غلطی ہوگئی ۔۔۔۔ محبت میں رضا سے زیبا کی تکلیف برداشت نہ ہوئی اور اس نے عمل روک دیا۔۔۔۔۔۔
رضا نے آگے بڑھ کر اس کے زخم دیکھنا چاہے تو وہ اپنے روپ میں ظاہر ہوگئی۔۔۔۔۔۔ اور رضا کو شوہر کے ساتھ کوئی عامل سمجھی اور وار پر وار کرنے لگی رضا سنبھل نہیں پایا ۔۔۔اور ناگہانی اس عفریت کا شکار بن گیا ۔۔۔
اوہ ۔۔۔ رضا سنجرانی کی نا گہانی موت کا مجھے دل افسوس ہے ۔۔۔ محبت نے اس کی جان لے لی وہ بھی اتنی سفاکی سے ۔۔۔۔۔
تو اب آپ ہماری کیا مدد کر سکتے ہیں۔۔ فرقان بھائی میری بچی کی حالت نازک ہے کچھ کریں ۔۔
اتنا کہہ کر آغا جانی رونے لگیں ۔۔۔
فرقان صاحب کہنے لگے ۔۔۔
بہن آپ کی بچی کی روح اب اس عفریت کی قید میں ہے ۔۔اس کے جسم سے اس کا رشتہ ٹوٹ رہا ہے۔۔۔۔۔۔بیشک اللہ کے کلام میں بہت طاقت ہے بہت اثر ہے مگر ہم لا علم ہیں کہ اس کو کیسے قابو کیا جائے ۔۔۔ یہ کوئی چھوٹی موٹی چیز نہیں ہے بہن ۔۔۔ میں آپ کو کوئی امید نہیں دلا سکتا وہ عفریت بے حد قوتوں کی مالک ہے اور اس کی سفاکیت کا اندازہ ہے آپ لوگو کو ۔۔۔۔۔۔۔وہ پہلے ہی مصر کے جادوگروں کی ملکہ رہی ہے دیوی مانتے ہیں وہاں کے لوگ اسے ۔۔۔۔۔ اس کا چہرہ بلی اور دھڑ عورت کا ہوتا تھا ۔۔۔۔ اور اب بری طاقتوں اور شیطانی عملیات کی وجہ سے اس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ۔۔۔کوشش کر کے سب سے پہلے اس بلی کا جسم نظرِ آتش کروائیں ۔۔۔ شائد اس سے وہ کچھ کمزور پڑے ۔۔۔
یہ تمام باتیں سن کہ مجھ سمیت آغا جانی کی رہی سہی امید بھی ٹوٹ گئی …انھیں دلاسہ دیتا تو کیسے؟؟؟ مجھے خود بے حد افسوس تھا ۔۔ ہم تو یہ سوچ رہے تھے کہ مرشد فرقان شائد ابایومی سے نجات دلا سکیں ۔۔۔ مگر اب ۔۔۔
کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا…
میں اور آغا جانی کئے گھنٹے سن سناٹے میں بیٹھے رہے ۔۔۔ اچانک انھیں جیسے کچھ یاد آیا ۔۔۔ انھوں نے وجاہت کو کال ملائی ۔۔۔
وجاہت بیٹا آپ کہاں ہیں ؟ وہ سکھر میں تھا اور کل کراچی پہنچنے والا تھا ۔
وجاہت آپ کراچی نہ آئیں ۔۔ آپ فیصل آباد جائیں اور خیر دین سے ملیں ۔۔۔ اور اس سے پوچھیں اس منحوس کا جسم خیر دین نے کہاں دفنایا ہے ۔۔۔ اس کو تلاش کر کے نذزِ آتش کریں ۔۔۔ زیبی کی زندگی کے لیے بہت ضروری ہے ۔۔۔ وہ دیر تک روتی رہیں۔۔۔ وجاہت کو مرشد فرقان کی دی ہوئی معلومات فراہم کی ۔۔۔
میں نے دل سے دعا کی کہ وہ جسم مل جائے اور وجاہت اسے جلا سکیں۔۔
مغرب کی نماز کے بعد میں لان کی بینچ پر سگریٹ پی رہا تھا کہ فارمیسی پر ایک آدمی آیا ۔۔۔ غور کیا تو وہ زاہد تھا ہماری فیکٹری میں ورکر ۔۔۔ میں نے اسے آواز دی ۔۔۔
زاہد سب خیریت ؟ تم یہاں ؟ کون بیمار ہے ؟
بس یار خیریت ہی تو نہیں ہے ۔۔ بڑی آپا کی طبیعت خراب ہے ۔۔۔
کیا ہوا انھیں ؟
یار انھیں پانی کی کمی ہے ۔۔۔ ان کے ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہونے لگتے ہیں موسم بھی گرم ہے ۔۔۔ گردوں کی بھی تکلیف ہے جس کی وجہ سے آئے دن چہرہ آنکھیں ہونٹ سب سوج جاتے ہیں ۔۔۔ پہچانی نہیں جاتیں یہ بڑی آپا ہیں ۔۔
اوہ بہت افسوس ہوا سن کر ۔۔۔ کب سے یہ حالت ہے ؟
یار زمانہ ہوگیا ۔۔۔ میاں بچے سب عاجز ہیں در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ کوئی اُپری چکر نہیں ہے بلکہ قابلِ علاج بیماری ہے ۔۔تو اب یہاں لائے ہیں پہلے سے بہت بہتر ہیں ۔۔۔
اوہ تو تم لوگ سمجھتے رہے کہ کوئی اثرات ہیں ؟
ہاں یار ہمیشہ سے یہ ہی سنتے آئے ہیں فلاں پہ جن چڑھ گیا اس کے ہاتھ پاؤں مڑ گئے ۔۔۔ فلاں کی شکل بدل گئی ۔۔ فلاں کی آواز بدل گئی ۔۔۔ انہی واہیات بکواس کو ذہن میں رکھ کر کبھی تو فیق نہیں ہوئی یہ سوچنے کی کہ یہ بیماری بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔ کون سا مزار کون سا بابا کونسا عامل نہیں چھوڑا ہم نے ۔۔۔ مگر آج کل سب کے سب شعبدہ باز ہیں ۔۔۔ اگر تم بیمار نہیں بھی ہوگے نا یہ تمھیں ایسے راگ دیں گے کہ تمھارے کندھے بھاری ہونے لگیں گے ۔۔۔
ہم دونوں ہنس پڑے ۔۔۔
وہ تو شکر ہوا ہم ایک جگہ گئے ۔۔ تو انھوں نے ڈانٹ کر بھگایا کہ لے کر جاؤ انھیں ڈاکٹر کو دکھاؤ کوئی جن بھوت نہیں ہے اس پر ۔۔۔ وہ ہیں تو ایسے ہی مگر جن اتارتے ہیں بہت کامل ہیں ۔۔
یہ سن کر میرے کان کھڑے ہوگئے ۔۔۔
اچھا ؟؟ کہاں ہیں ؟؟ کیا مجھے ان کا ایڈریس دے سکتے ہو ؟
کیوں بھائی خیریت ؟
ہاں میں ملنا چاہتا ہوں ۔۔۔
مگر کیوں ؟
یار مجھے لگتا ہے مجھ پر کسی نے کچھ کرا دیا ہے ۔۔۔ بندش وغیرہ ۔۔۔ کام میں جی نہیں لگتا ۔۔۔ میں نے بہانہ گھڑا ۔۔۔
ارے یار وہ نہیں دیکھیں گے ۔۔ ان کے یہ کام ہی نہیں ۔۔۔ بیماری جھپیٹا جادو ساس نندوں کے جھگڑے بندش سب کو بھگا دیتے ہیں وہ ۔۔۔ وہ بس جن اتارتے ہیں ۔۔۔
اوہو تم اس بات کو چھوڑو یار وہ بھگاتے ہیں یا بیٹھاتے ہیں تم ایڈریس دو مجھے ملنا بہت ضروری ہے ۔۔
زاہد منہ کھولے مجھے دیکھنے لگا ۔۔ پھر ایڈریس سمجھایا ۔۔۔ کراچی ائیر پورٹ جاتے ہوئے ایک قبرستان پڑتا ہے ۔۔۔ عظیم پورہ قبرستان ۔۔ بس وہیں ان کی کٹیا ہے ۔۔دو بھائی ہیں وہیں رہتے ہیں۔۔۔
مجھے کیونکہ کراچی گھومنے اور یہاں کے راستوں کا اتنا علم نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ اس لئے ایڈریس ٹھیک سے سمجھ نہیں آیا ۔۔۔اور زاہد کا فون نمبر لے لیا ۔۔۔
کیا تم کسی دن مجھے وہاں لے جا سکتے ہو ؟ یار میں گھر سے نوکری ۔۔۔۔۔نوکری سے گھر والا بندہ ہوں مجھے اتنی دور کے راستوں کا پتا نہیں ۔۔۔ بھٹک گیا تو اور مصیبت ۔۔۔
ھمممم اچھا ۔۔۔ کل ظہر میں چلو ۔۔۔ فری ہو؟
ہاں مگر 3 بجے کے بعد کا رکھو ۔۔۔ فیکٹری سے آنے کے بعد ۔۔۔ مگر تمھاری چھٹی تو 8 تک ہوتی ہے ؟؟؟
ہاں مگر میں 4 دن کی چھٹی پر ہوں اس لئے کل دن میں تمھیں وہ جگہ دکھا دیتا ہوں ۔۔۔
مجھے امید بندھ گئی تھی ۔۔۔ اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں وہ مسبب الاسباب ہے کہیں سے ایک در بند ہو وہ سو راستے کھول دیتا ہے ۔۔۔ ظلم کی رسی چاہے جتنی دراز ہو جب اللہ رسی کھنچتا ہے تو ظلم کو کہیں جاہِ پناہ نہیں ملتی ۔۔۔ وہ رب رحمن و رحیم ہے ۔۔۔اس وقت زاہد کا یہاں اس طرح مل جانا شائد قدرت کا ایک اشارہ ہے ۔۔
میں ایک نئی امید کے ساتھ آغا جانی کی طرف روانہ ہوا ۔۔۔
نرس کہہ رہی تھی کہ اسے سمجھ نہیں آرہا بار بار مشین زیبا کو مردہ ظاہر کرتی ہے کچھ سیکنڈ کے لئے مگر پھر نارمل ۔۔۔ آپ دعا کریں ۔۔۔
آغا جانی کے آنسو بھی خشک ہوچکے تھے ۔۔۔ وہ خالی نظروں سے مجھے دیکھنے لگیں۔۔۔ میرا بھی دل بھر آیا ۔۔۔ میں ان کا ہاتھ تھام کے ان۔کے نزدیک بیٹھا اور زاہد سے ہونے والی تمام گفتگو ان کے گوش گزار کی ۔۔۔ مگر آغا جانی کی آنکھوں میں مایوسی کے سائے منڈلاتے دیکھے ۔۔۔ میں رات گئے تک تسلی دیتا رہا اور کل عظیم پورہ جانے کے بارے میں بتایا ۔۔۔
وہ بہت ٹوٹ چکیں تھیں بولیں اذان میاں آپ آرام کیجئے ہم عبادت کے احاطے میں آخری فریاد کرنا چاہتے ہیں اللہ ہماری مامتا کو صبر دے ۔۔۔۔
آغا جانی کی اس بات نے مجھے بھی رنج میں مبتلا کردیا تھا مگر اندر کہیں امید کا ایک دیہ جل چکا تھا۔ عظیم پورہ کا قبرستان۔۔۔۔
دوسرے دن فیکٹری کے بعد زاہد کو کال کر کے میں نے شاہراہِ فیصل بلا لیا اور وہاں سے ہم دونوں ساتھ عظیم پورہ روانہ ہوئے ۔۔۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کچھ لوگ پہلے سے آئے ہوئے تھے ۔۔۔ہم با ادب بیٹھ گئے۔۔ میں ان کا اور چاروں طرف کا جائزہ لینے لگا۔۔۔
بہت معمولی لباس میں دو باریش بزرگ تھے ۔۔ ایک قدرے چھوٹے لگ رہے تھے ایک چبوترے پر براجمان تھے ۔۔۔ اطراف پودے جھاڑیاں ۔۔۔۔۔۔ یہ کچھ جگہ بھی جھاڑیاں صاف کر کے ہی رہنے کے قابل بنائی گئی تھی ۔۔۔ یہ علاقہ قبرستان سے متصل تھا مجھے عجیب سا محسوس ہورہا تھا ۔۔بوسیدہ سی پرانی جُگّی۔۔۔ پتھروں اور شاخوں پر الٹی ہوئی پتیلیاں کچھ کپ ۔۔کیتلی ۔۔۔ رات میں یہ جگہ کسقدر خوفناک لگتی ہوگی ؟؟ ابھی بھی کچھ کم نہیں تھی ۔۔
اچانک ایک ہنکارا بھرنے کی آواز میرے کانوں کو سن کر گئی ۔۔۔ یہ آواز ایک بچے کی تھی اس کی فیملی اسے لائی ہوئی تھی ابا بھائی یا کزنز ہونگے ۔۔۔ بابا نے کہا اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ لیں ۔۔۔ چھوڑنا نہیں ۔۔۔

Read More:  Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 7

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: