Billi by Salma Syed – Episode 14

0

بلی از سلمیٰ سید قسط نمبر 14

مصنفہ سے ملیں : سلمیٰ سید

اچانک ایک ہنکارا بھرنے کی آواز میرے کانوں کو سن کر گئی ۔۔۔ یہ آواز ایک بچے کی تھی اس کی فیملی اسے لائی ہوئی تھی ابا بھائی یا کزنز ہونگے ۔۔۔ بابا نے کہا اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ لیں ۔۔۔ چھوڑنا نہیں ۔۔۔
ہاں بھئی جلدی جلدی بول کہاں سے اور کیوں آیا ہے ؟ اس بچے پر کیوں سوار ہے ؟؟
بچہ کوئی دس بارہ سال کا تھا مگر وہ زور اتنا لگا رہا تھا کہ اس کو چار ہٹے کٹے مرد قابو کئے ہوئے تھے ۔۔۔اور وہ سانپ کی طرح بل کھا رہا تھا اینٹھ رہا تھا اور مستقل ہنکارے بھر رہا ۔۔۔
اس نے زبان نہ کھولی۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔ نہیں بولے گا ۔۔۔ بھائی ان کی خاطر کا سامان لاؤ ۔۔۔
ایک بندہ انگیٹھی میں سلگتے کوئلے لے آیا ۔۔۔
بابا نے کسی چیز کی مٹھی بھری اور پڑھ کر کچھ پھونکا ۔۔۔ مٹھی کوئلوں پر ماری تو آگ بھڑک اٹھی ۔۔۔
نہیں بولے گا ابھی بھی سوچ لے ۔۔ پھر نہ کہیو کہ شاہ جی نے موقع نہ دیا ۔۔۔راہ نہ دی یہ دیکھ ۔۔۔
شاہ جی نے سلگتے انگارے ہتھیلی پر اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔
بڑا زعم ہے ناں تجھ کو ۔۔ تو آگ سے بنا ہے ہم خاک سے ۔۔ لا ہاتھ دے تیرا امتحان بھی تو لیں ۔۔۔ لا ہاتھ دے
وہ سلگتے لال انگاروں کو اپنے ہاتھ میں یوں لئے تھے جیسے انگارے نہیں بیر ہیں ۔۔۔
وہ ڈھیٹ بچہ نہ بولا بل کھاتا رہا ۔۔۔
اچھا اب سمجھا تجھے آگ سے کیا ڈرنا لاؤ بھئی لاو زرا چمٹا تو دینا میرا ۔۔۔ اس کے جسم کو پینتیس جگہ سے داغنا پڑے گا بھائی ۔۔۔ جب یہ جن جان چھوڑے گا اس معصوم بچے کی ۔۔۔
ایک لوہے کا بڑا سا چمٹا آگیا ۔۔۔ شاہ جی نے اسے کوئلوں پر رکھ کر تپایا جب وہ سرخ ہوگیا تو ہاتھ میں لے کر۔ اس کی نوک جو تپ تپ کے سرخ ہو رہی تھی اس پر اپنی زبان پھرائی ۔
اففففففف چُھن چُھن آواز آئی جیسے گرم توے پر پانی ڈالنے سے آتی ہے ۔۔۔
اب تیری باری ہے بیٹا ۔۔چمٹا تیار ہے۔۔۔ بھئی اس کے کپڑے اتارو کوئی ۔۔۔ دو لوگو نے اس کی قمیض اتاری ۔۔۔اتنے میں بچہ بول پڑا ۔۔۔
یہ نہیں کر میرے ساتھ ۔۔
تو جانتا نہیں مجھے ۔۔۔
میں تجھے جلا کر بھسم کردوں گا بڈھے ۔۔۔
اگر زرا سا بھی یہ چمٹا جمال کے بدن کو چھوا تو میں تجھے اندھے کنویں میں ڈال دوں گا ۔۔
چھوڑ مجھے ۔۔۔
باز آجا ۔۔۔
ارے ارے تو بھائی انتظار کیسا جلا مجھے ۔۔۔
میں بھی تو دیکھوں تو کتنا بڑا سورما ہے ۔۔
تو جلا ورنہ میں تو نہیں رکنے والا اب ۔۔۔
یہ کہہ کر شاہ جی اپنی جگہ سے اٹھے اور چمٹا انگیٹھی سے اٹھا کر بچے کے نزدیک پہنچے ۔۔
دیکھ آخری مشورہ ہے مان لے ۔۔۔ چمٹا نزدیک ہوا۔۔۔
رک رک ۔۔۔ رک جا ۔۔۔۔ مجھے معاف کردے ۔۔ میں جارہا ہوں ۔۔۔
نہیں بھئی اب تو تو مجھے اندھے کنوئیں میں ڈال یا جلا کر بھسم کر میں نہیں رکنے والا ۔۔۔۔
یا تو وعدہ کر کہ اس بچے کی جان چھوڑ دے گا واپس کبھی نہیں آئے گا ۔۔۔
ہاں ہاں میں وعدہ کرتا ہوں ۔۔۔
اب کبھی نہیں آؤں گا ۔۔۔
اور جو آیا تو ؟ قسم کھا اپنے باپ دادوں کی ۔۔۔
مجھے قسم ہے ہایان اور مالویکی کی ۔۔
میں اس بچے پر اب کبھی نہیں آؤں گا مجھے معاف کردے شاہ جی۔۔۔
ٹھیک ہے ابھی کے ابھی نکل اس کے جسم سے اور غارت ہو ۔۔پھر کبھی آیا تو موقع نہیں دوں گا ۔۔۔ تیزاب کا ڈرام دیکھ وہ رکھا ۔۔۔۔
اس میں ڈال دوں گا تجھے ۔۔۔ چل بھاگ ۔۔۔
خالد صاحب ۔۔۔ اگر یہ خبیث آپ کے بیٹے پر دوبارہ آئے ۔۔ تو کچھ مت کرنا ۔۔۔ پریشان نہ ہونا ۔۔۔ بس مل کے اس کے کپڑے اتار دینا ۔۔۔۔ اور جو وقت ہو صبح شام آدھی رات ۔۔۔ اس کو گھسیٹ کر گھر سے باہر نکال دینا ۔۔۔۔ بس ۔۔۔ باقی کام ہمارا ہے ۔۔۔
بچے نے درد بھری آوازیں نکالیں ۔۔۔ اینٹھا اور بے ہوش ہوگیا ۔۔۔
شاہ جی نے پانی منگایا کچھ پڑھا اور پانی بچے پر چھڑکا ۔۔۔
بچہ تازہ دم ہوگیا ۔۔۔
یہ میں کہاں ہوں ؟
ابو ۔۔۔۔ بھائی جی ۔۔۔
ہم کہاں ہیں ؟
شاہ جی زیرِلب مسکرائے ۔۔۔ کہا بیٹا اب تم ٹھیک ہو ۔۔۔ بچو بھائی کو لے جاؤ گاڑی میں بیٹھاو اب یہ بالکل ٹھیک ہے ۔۔ خالد صاحب آپ رکئے گا ۔۔۔۔۔
اسکے بھائی بچے کو لے گئے ۔۔بچہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ہر طرف دیکھتا چلا گیا ۔۔۔
میں یہ سب دم بخود بیٹھا دیکھ رہا تھا ۔۔۔عجیب جن ہے ۔۔۔ اور عجیب جن اتارنے کے طریقے ۔۔۔ کپڑے اتار کر گلی میں نکالنے سے جن ڈر جائے گا ؟؟؟ واپس نہیں آئے گا ؟؟ یا تیزاب سے ڈرے گا ؟؟ یار تیزاب سے تو بچے کا جسم جھلسے گا ۔۔ جن پر کیا فرق پڑے گا ؟؟؟
مجھے شاہ جی عجیب مسخرے سے لگے ۔۔۔ بات بات پر مسکرا رہے اور جن اتنی آرام سے اتار لئے ۔۔۔ مذاکرات کتنی آسانی سے کر لئے ایک گھنٹے میں جن قابو ۔۔۔ اگر زیبا کے ساتھ بھی ایسا ہو جائے تو کیا ہی بات ہے ۔۔۔
میں اور زاہد مزید قریب ہو کر بیٹھ گئے ۔۔۔ شاہ جی خالد صاحب سے کہہ رہے تھے ۔۔
بیٹا ذیادہ سختی سے کام نہ لو بچہ بہت حساس ہے نفسیاتی مریض بناؤ گے کیا اسے ؟
وہ خود پر جن چڑھا کر اس خول میں چھپ جاتا ہے اب تم پھرتے رہوں اس کے لئے خاک چھانتے ۔۔ اس عمر کے بچوں کو توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔ اپنا رویہ ٹھیک کرو پیار محبت کرو شفقت سے بات کرو ۔۔ سارے جن ون ختم ۔۔۔
خالد صاحب بولے ۔۔۔ شاہ جی اس کی ماں والا جن تھا اس پر سال پہلے وہ مر گئی تو جن اس کو چمٹ گیا ۔۔۔
ہاں خالد صاحب آپ کے خاندان میں حسن ہی بے پناہ ہے ۔۔۔کیا کریں جن بچارے ۔۔۔. وہ پھر مسکرائے۔۔۔
خالد صاحب شاہ جی کے ہاتھ جی جی کر کے چومتے رخصت ہوئے ۔۔۔اب ہماری باری تھی ۔۔۔
ہاں بیٹا آپ میں سے کس کو مسئلہ ہے ؟
میں یہ سارا تماشہ دیکھ کر اور شاہ جی کے ذو معنی مضحکہ خیز باتیں سن کر شش وپنج میں تھا کہ زیبا کی جو حالت ہے وہ کسی تجربے کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔۔۔ یہ تو ہنسے مسکرائے جارہے ہیں ۔۔ابایومی کو جھیل پائیں گے یہ ؟ وہ کہاں مہلت دے گی اتنی باتوں کی اور اردو میں مذاکرات وہ کر ہی نہ لے ۔۔۔ میں نے اپنا ارادہ بدل دیا ۔۔۔ اور کہا شاہ جی مجھے مسئلہ ہے ۔۔۔
میں چاہتا ہوں میری نوکری لاہور میں ہو جائے۔۔۔
وہ پھر مسکرائے ۔۔۔ اور ؟؟؟
بس شاہ جی
سوچ لے بیٹا ۔۔ آرام سے
بس شاہ جی یہ ہی مسئلہ ہے ۔۔ امی لاہور میں۔۔۔ میں نوکری کے لئے یہاں ۔۔۔ شاہ جی نے ہاتھ اٹھا کر مجھے چپ رہنے کا اشارہ دیا۔۔۔
بیٹا ہم تو جن اتارتے ہیں ۔۔۔ اگر تم پر کوئی جن ہے تو بتاؤ آگ گرم ہے ابھی اتار دیں ؟ یا کسی اور پر جن ہے تو اسے لے آؤ اس کے جن اتار دیں ۔۔۔
نہیں نہیں شاہ جی کسی پر جن نہیں ہیں ۔۔
اچھا میاں ۔۔۔ ہم تو سوچ رہے تھے انٹرنیشنل جنوں سے بھی کچھ راہ و رسم بڑھائیں مگر تمھاری مرضی ۔۔۔
میں جانے کے لئے کھڑا ہوگیا ۔۔ مصافحہ کیا تو کہنے لگے ۔۔۔۔
صرف پانچ دن ہیں ۔۔۔ زندگی چاہتے ہو تو لے آنا لڑکی کو ۔۔۔ تم اندازے بہت لگاتے ہو ۔۔۔
شاہ جی مسلسل مسکرائے جارہے تھے ۔۔۔
اور میں بت بنا حیران کہ ان کو کیسے پتا کہ میں کسی لڑکی کا مسئلہ لیکر آیا تھا ۔۔۔ اور دل۔میں ان کے لئے اندازے لگا کر بات گول کر گیا ۔۔۔
شاہ جی آپ ۔۔ زیبا ۔۔۔
ہاں اور تو محمد علی ؟؟؟
اور ہنس پڑے سب کے سب مجھ سمیت۔۔۔
بیٹا اتنے اندازے مت لگایا کر۔۔۔ جمال پر کوئی جن نہیں تھا ۔۔ اس نے آنکھ کھول کر ماں کے یہ ہی ناٹک دیکھے ہیں ۔۔۔ شوہر کی مار اور ذمہ داریوں سے بچنے کے لئے اکثر عورتوں کے پاس یہ ہی طریقہ ہوتا ہے۔۔۔
اماں کے مرنے کے بعد وہی نقلی جن اس پر عاشق ہو گیا پڑھائی سے بھی جان بچی اور مار پیٹ سے بھی گلو خلاصی ۔۔۔ ہر مرض پریت و آسیب نہیں ہوتے مگر جو ہوتے ہیں ان کی حالت تم نے دیکھ ہی لی ہے ۔۔ کوشش کرو بچی کو لے آؤ ۔۔
شاہ جی جب اتنا کچھ جانتے ہیں تو آپ کو علم ہوگا مشینوں میں جکڑی ہوئی ہے وہ ۔۔ موت اور زندگی کے بیچوں بیچ لٹک رہی ہے اس حال میں اسپتال سے چھٹی اور اس کی فیملی کیسے مانے گی ۔۔۔ کیا آپ میرے ساتھ نہیں چل سکتے ؟
بیٹا ہر کام کے کچھ اصول و ضوابط ہو تے ہیں ۔۔۔ معدے کا آپریشن نائی کی دوکان پر نہیں ہوتا اور قصائی کی دوکان پر شیو نہیں بنتی ۔۔۔ کام کرنے کی ایک مخصوص جگہ اور ماحول ہوتا ہے ۔۔۔جگہ کی سرزمین کی بھی اپنی ایک تاثیر ہوتی ہے ۔۔ بھئی ہم نے تو اپنی کہہ دی اب تم جانو اور وہ ۔۔۔۔
پسند ہے کیا ؟؟
نن نہیں تو شاہ جی ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔
اچھی بات ہے ۔۔ اصل سے خطا نہیں ۔۔۔کم نسل سے وفا نہیں ۔۔۔ تمھاری مخلصی مجھے بھا گئی ہے ۔۔ بے لوث خدمت کے جذبات آج کل کم ہی لوگوں میں ہیں مگر دنیا ابھی خالی نہیں ہوئی ایسے لوگوں سے ۔۔۔
اپنے بارے میں شاہ جی کے تاثرات جان کے بڑی خوشی ہوئی مجھے ۔۔۔ مولا نے بھرم قائم رکھا میرا ۔۔۔ بخدا ان دنوں میں نے کبھی زیبا کے متعلق ایسا نہ سوچا تھا ۔۔۔۔ مجھے ہمدردی تھی اس سے ۔۔۔ اس سے ذیادہ آغا جانی سے ۔۔۔ میری امی جیسی ہیں ۔۔ امی سے دوری شائد مجھے ان کے قریب لے آئی ۔۔۔ وہ ویسے بھی بہت شفیق خاتون ہیں ۔۔۔
واپسی پر عشاء میں نے اسپتال کی مسجد میں ادا کی ۔۔۔آغا جانی عبادت کے احاطے میں تھیں ۔۔۔ اب یہ ایک مشکل مرحلہ تھا کہ آغا جانی کو عظیم پورہ کے جانے کے لیے کیسے راضی کیا جائے ۔۔۔ میں ان کے پاس کچھ دیر بیٹھا رہا ۔۔۔ وہ اتنی مایوس تھیں کہ انھوں نے دریافت بھی نہ کیا کہ میں کیا خبر لایا ہوں ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد میں کینٹین سے چائے بسکٹ لے آیا اور آغا جانی کو باہر زیبا کے روم سے نزدیک بینچ پر بٹھایا ۔۔۔
آغا جانی وجاہت صاحب کی کال آئی ؟ وہ فیصل آباد پہنچ گئے ؟ انھوں نے گردن کے اشارے سے ہاں کی ۔۔۔
مجھ سے اور صبر نہ ہوا اور میں نے دن بھر کی رپورٹ آغا جانی کو پیش کردی ۔۔۔ شاہ جی کے بارے میں سن کر ان کی آنکھیں چمکیں مگر جب انھیں اس بات کا علم ہوا کہ شاہ جی یہاں نہیں آئیں گے بلکہ زیبا کو وہاں لے جانا پڑے گا ۔۔ تو وہ بجھ کر رہ گئیں ۔۔۔
اذان میاں آپ زیبی کی حالت دیکھ رہے ہیں ؟ مستقل مانیٹرنگ ہورہی ہے بلڈ پریشر ہارٹ بیٹ اس حالت میں زیبی کیسے جاسکتی ہے ۔۔۔
آغا جانی کچھ بھی کریں ایک بار میرے کہنے پر زیبا کو وہاں لے چلیں ۔۔۔ مجھے یقین ہے ہم وہاں سے نا امید نہیں ہوں گے ۔۔
اذان میاں مگر ۔۔۔
آغا جانی 5 روز کا وقت ہے ۔۔۔ مرشد فرقان نے بھی ایک ہفتہ کہا تھا ۔۔۔ زیبا اب بھی مشینوں پر زندہ ہے۔ ۔ یہ 5 دن گزر گئے تو پھر کوئی کچھ نہیں کر پائے گا اور زیبا یہاں رہی تو بھی کون سی ٹھیک ہو رہی ہے ؟ جب اس کی جان کے لالے ہیں ہی تو ایک بار کیوں نہ وہاں چل کر دیکھ لیں ۔۔ آغا جانی کہیں کوئی انہونی ہوگئی تو صرف پچھتاوے رہ جائیں گے جیسے آپ آج بھی سوچتی ہیں کہ کاش زیبی کے ساتھ آپ پارلر چلی جاتیں ۔۔۔
ایک آنسو آغا جانی کی آنکھ کی قید سے نکل کر چہرے پہ بہتا چلا گیا ۔۔۔ آغا جانی نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی ۔۔۔
آغا جانی آپ میرے لئے امی جیسی ہیں ۔۔۔ اور زیبا میری بہن ۔۔۔ وجاہت صاحب یہاں نہیں ہیں تو شائد اللہ نے مجھے اس کام کے لئے چنا اور یہ تمام حقیقت میرے سامنے افشاں ہوئی ۔۔۔۔ آپ خدا کے لیے مجھ پر بھروسہ رکھیں اللہ مدد گار ہے وہ چاہے تو کیا ممکن نہیں اس کو ہر امر پہ قدرت حاصل ہے ۔۔۔ اندھیرے کو روشنی میں بدلنے والے سے مجھے پوری امید ہے کہ اس بار جیت خیر کی ہوگی ۔۔۔
آغا جانی کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔۔۔ انھوں نے کہا میں وجاہت سے بات کرلوں ۔۔۔ میں تیار ہوں ۔۔۔ ہم زیبی کو عظیم پورہ ضرور لیکر جائیں گے ۔۔۔۔
افففف شکر خدا کا آغاجانی راضی ہو گئیں بس اب وجاہت صاحب مان جائیں تو کوئی مشکل نہ رہے ۔۔۔ مجھے شاہ جی سے ایک عقیدت اور امید محسوس ہورہی تھی ۔۔۔ میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ اب کچھ غلط نہیں ہوگا ۔۔۔
نرس پریشانی کے عالم میں دوڑتی ہوئی آئی اور اس نے مجھ سے کہا ۔۔۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: