Billi by Salma Syed – Episode 15

0

بلی از سلمیٰ سید قسط نمبر 15

مصنفہ سے ملیں : سلمیٰ سید

افففف شکر خدا کا آغاجانی راضی ہو گئیں بس اب وجاہت صاحب مان جائیں تو کوئی مشکل نہ رہے ۔۔۔ مجھے شاہ جی سے ایک عقیدت اور امید محسوس ہورہی تھی ۔۔۔ میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ اب کچھ غلط نہیں ہوگا ۔۔۔
نرس پریشانی کے عالم میں دوڑتی ہوئی آئی اور اس نے مجھ سے کہا ۔۔۔
پلیز جلدی آئیں ۔۔۔ زیبا ہمدانی کو خون کی ضرورت ہے ۔۔۔
زیبا میں خون بتدریج کم ہورہا تھا مگر شہاب الدین غوری کے مطابق آج ہی آج میں زیبا کے جسم میں خون میں موجودہ مقدار میں 20٪ تک کمی ہوئی ہے ۔۔ اس کی کوئی وجہ سامنے نہیں آرہی تھی ۔۔۔ کومہ کے مریض سالہاسال یا مہینوں بے ہوش رہتے ہیں مگر ان میں خون کی کمی لاحق نہیں ہوتی ۔۔۔ یہ عجیب بیماری تھی جو ڈاکٹر کی سمجھ سے باہر تھی اور وہ یہ ہی کہتا ۔۔۔ ہوسکتا ہے اس کی وجہ فلاں ہو یا ہو سکتا ہے فلاں ہو ۔۔۔ جب آج کے دن تک وجہ ہی نہیں معلوم ہو پائی تو علاج کیا خاک کریں گے ۔۔۔
نرس نے میرا خون میچ کیا اور زیبی کو میرا خون دیا جانے لگا ۔۔۔۔ وہ پیلی پڑ رہی تھی اس کے دانت بھی قدرے باہر آنے لگے تھے ۔۔۔انکھیں مزید سکڑ کر دھنس گئی تھیں ۔۔۔ وہ ایک عمر رسیدہ عورت لگنے لگی تھی اس سے ذیادہ پر رونق آغا جانی کا چہرہ تھا ۔۔۔
میں نے منہ دوسری طرف پھیر لیا ۔۔ آغا جانی کے لب ساکت تھے ۔۔۔ دل محوِ دعا ہوں تو ہوں مگر وہ اتنی دل بر داشتہ ہو گئیں تھی کہ انھوں نے اب اذکار چھوڑ دیئے تھے ۔۔۔ ہم تینوں نے رات ایک ساتھ آئی سی یو میں گزاری ۔۔ ۔ صبح ہوتے وجاہت کی کال آئی ۔۔۔ آغا جانی نے انھیں طبعیت سے آگاہ کیا ۔۔۔ اور کچھ بات بھی ہوئی مگر میں غنودگی میں تھا ۔۔۔
ظہر کے وقت میری آنکھ کھلی تو آغا جان ظہر ادا کر کے میرے سرہانے کھڑی مجھ پر دم کر رہیں تھیں۔ ۔ مجھے بے اختیار امی یاد آئیں ۔۔۔ آج پھر میں فیکٹری نہیں جاسکا تھا ۔۔۔ اور مجھے یقین ہو چلا تھا کہ بیٹا نوکری اب کچھ ہی دن کی ہے ۔ ۔ جس حساب سے میں غیر حاضر ہوں فیکٹری والے کہیں گے بیٹا گھر میں رہ آرام کر ۔۔ خیر دیکھا جائے گا ۔۔۔
میں ظہر ادا کر کے آیا تو آغا جانی نے ایک اچھی خبر دی کہ وجاہت نے خیر دین کی مدد سے ابایومی کی لاش کا سراغ لگایا اور اسے نذرِ آتش کردیا ہے ۔۔۔ وجاہت صاحب اور خیر دین کو بھی اس کام میں کافی دشواری کا سامنا رہا ۔۔۔ خیر دین کا ہاتھ ٹوٹ گیا ہے مگر شکر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ وہاں مرشد فرقان حیدر کے ایک شاگرد ان کی مدد کے لیے موجود رہے ۔۔۔
اوہ ۔۔۔ یا اللہ تیرا شکر ہے ۔۔۔ اب اس کی طاقت میں شائد کوئی کمی آئی ہو ۔۔۔ لیکن یہ واقعہ اگر کل رات کا ہے تو ابایومی اپنا مردہ جسم تو نہ بچا پائی لیکن اس نے زیبا کو بہت تکلیف دی ہے ۔۔۔ پتا نہیں زیبا کو مار کر اس کو کیا مل جائے گا ۔۔بدلہ تو لے چکی ہے ۔۔۔ اور مارنا چاہتی ہے تو اتنی مہلت اور اذیت کیوں ۔۔۔؟؟
آغا جانی نے بتایا کہ وجاہت رات تک کراچی پہنچ جائیں گے ۔۔۔ آغا جانی شاہ جی کے متعلق وجاہت سے بات کر چکی ہیں ۔۔ اور وجاہت ڈاکٹر شہاب الدین غوری سے بھی بات کر کے دیکھ چکے جنہوں نے زیبا کی بابت کوئی امید افزاء خبر نہیں دی ۔۔۔ اس لئے وجاہت بھی زیبا کو شاہ جی کے پاس لے جانے کے لیے راضی ہوگئے ۔۔۔۔
اللہ کا احسان ہے راستے کھلتے چلے جارہے ہیں اور اس عفریت کے گلے پڑی رسی اب بس کسنے کو ہی ہے ۔۔۔ وجاہت رات میں آئے ۔۔۔ ہم اسپتال میں ہی تھے ۔۔۔وہ گھر جانے کے بجائے سیدھے اسپتال آرہے تھے۔۔۔۔ ان کے چہرے پر پریشانی اور فکر نمایاں تھی ۔۔۔۔ آغا جانی سے دعا اور پیار کے کر وجاہت نے زیبا کے بارے میں سوال کیا ۔۔۔
بیٹا ہم نہیں جانتے کچھ بھی ۔۔۔۔ اذان میاں ہے پوچھ لیں ۔۔۔
وجاہت صاحب میری طرف گھومے۔۔۔ میں نے ان کو زیبا کی اسپتال کی تمام رپورٹس اور ڈاکٹر کے اندازے لگانے اور تجربات کی بابت بتایا ۔۔۔ میری بات مکمل ہوئی تو وجاہت صاحب نے آگے بڑھ کے مجھے گلے لگایا اور شکریہ ادا کیا کہ اس مشکل وقت میں ان کی فیملی کا ساتھ دیا ۔۔۔
وجاہت صاحب ۔۔۔۔ آغا جانی میری ماں کی طرح ہیں ۔۔۔میں نے کوئی احسان نہیں کیا ۔۔۔۔ دل سے اپنی محبت سے آپ کے گھر والوں کا ساتھ دیا ۔۔۔ زیبا میری بہنوں جیسی ہے ۔۔۔میری طرف سے کبھی کسی غلط خیال کو دل میں جگہ نہیں دیجیئے گا۔۔۔۔۔ وجاہت صاحب نے مجھے گلے لگایا تو ہماری آنکھیں بھیگ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔
تو ہم نے اگلے دن ظہر کے بعد شاہ جی کی جُگّی جانے کا فیصلہ کیا ۔۔۔
زیبا کی طبیعت کے پیشِ نظر وجاہت نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے زیبا کو ایمبولینس میں لے جانے کے انتظامات کئے اور یوں ہم ڈاکٹر شہاب الدین غوری کے منع کرنے کے باوجود زیبا ڈسچارج کرا کے عظیم پورہ روانہ ہوئے ۔۔۔ آج بس ٹھان لی تھی آر یا پار۔۔۔ ویسے بھی زیبا کا شمار اب نہ زندوں میں ہے نا مردوں میں ۔۔۔ وجاہت بار بار شاہ صاحب کی تفصیلات پوچھے جارہے تھے ۔۔ ان کے بار بار پوچھنے میں بہن کے لئے فکر مندی کی جھلک تھی۔۔
زیبا سمیت چار ہم لوگ اور دو نرسیں ساتھ تھیں۔۔ تین سوا تین کے قریب ہم شاہ صاحب کی جگی پہنچے ۔۔ وجاہت اور آغاجا نی پہلی بار مل رہے تھے آغا جانی کی کوشش تھی کے سارے واقعات شاہ جی کو سنا دیں زیبا کی ساری باتیں بتادیں اور وجاہت بس شاہ جی کو جانچ رہے تھے کہ زیبا کو یہاں لا کر جو رسک لیا ہے شاہ جی کہیں مایوس تو نہیں کریں گے ۔۔
بہرحال وجاہت نے اسٹریچر باہر نکلوانی چاہی ۔۔
شاہ جی نے منع کردیا ۔۔۔ وہ خود ایمبولینس کے اندر گیئے۔ زیبی پر پانی پڑھ کر چھینٹے مارے ۔۔۔ لیکن اس میں رتی برابر جنبش نہ ہوئی ۔۔۔ وہ مسکرائیے اور ایک تعویذ نکال کر زیبا کے بازو پر باندھا اور ماتھے پر شہادت کی انگلی سے کچھ لکھا اور ایمبولینس سے باہر نکل آئے ۔۔۔۔
شاہ جی نے کہا۔۔۔
وہ جانتی ہے کہ تم یہاں آئے ہو ۔۔۔ بچی کی طرف سے بے فکر ہو جاؤ اب اس پر مسلط نہیں ہو پائے گی وہ ۔۔۔
نرسیں ایمبولینس میں تھیں اور ایمبولینس بند کر دی گئی ۔۔۔شاہ جی نے ایمبولینس کے دروازے پر بھی انگلی سے کچھ لکھا ۔۔۔ اور ہاتھ میں چونے کا تھال لے کر گاڑی کے اطراف گھوم کے نشان لگایا۔۔۔۔ شائد حصار کھینچا تھا ۔۔۔
اب سب شاہ جی کے اطراف تھے ۔۔
صبیحہ بہن اور وجاہت ۔۔۔ آپ چاہیں تو جگی میں انتظار کریں میں حصار قائم کر دیتا ہوں ورنہ کاروائی دیکھنا چاہیں تو بسم اللّٰہ ۔۔۔
شاہ جی میں اس کا انجام دیکھنا چاہتی ہوں میرا گھر برباد کرنے والی کو میری زیبی کو اس حال میں پہنچانے والی کو میں تڑپتا دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔
بہتر ۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر شاہ جی نے ہم سب کے گرد بھی چونے کا گھیرا ڈال لیا اور کہا کہ اس حصار میں وہ آپ میں سے کسی پر اثر انداز نہیں ہوسکتی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔۔۔ اس لئے اس دائرے کے باہر جانے کی کوشش نہ کی جائے۔۔۔
دل عجیب طرح ڈر رہا تھا ۔۔۔ میں یہ سب دیکھنا نہیں چاہتا تھا مجھے کوئی دل چسپی نہیں تھی ابایومی میں لیکن بس میں چاہتا تھا زیبی ٹھیک ہو جائے ۔۔۔ شاہ جی کامیاب ہوں ۔۔۔ آج کوئی انگیٹھی کوئلہ چمٹا کچھ نہیں تھا ۔۔۔
ہمارے حصار میں دو بڑے ڈرم تھے جسمیں شائد دودھ تھا اور ایک تھال میں مردہ چڑیاں تھیں ۔۔ شاہ جی نے ہر چڑیا کی چونچ میں ایک کاغذ کی گولی پھنسائی ۔۔ ایک تھال میں گوشت کے بڑے پارچے تھے جس پر شاہ جی نے کچھ پڑھ کر ہاتھ پھیرا ۔۔۔
ہم سب یہ دیکھ رہے تھے ۔۔۔ شاہ جی بولے ۔۔۔ ارے بھئی مہمان ہے خاطر داری تو کرنی پڑے گی ناں ۔۔۔۔اکیلی نہیں ہے ۔۔۔ باراتی ساتھ لائے گی ۔۔۔ اسی کی ضیافت کا اہتمام ہے یہ سب ۔۔۔ وہ مسکرائے ۔۔ میں نے سوچا ہنس لو ۔۔۔ پھر موقع ملے نہ ملے ۔۔۔ مگر دل سے چاہتا تھا کہ کامیاب شاہ جی ہوں ۔۔۔
باراتی ساتھ لائے گی مطلب ؟؟

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: