Billi by Salma Syed – Episode 17

0

بلی از سلمیٰ سید قسط نمبر 17

مصنفہ سے ملیں : سلمیٰ سید

ہم نے دیکھا کہ کچھ ہی دیر میں وہ چیلیں کرلانے لگیں اور ان کے پر ٹوٹ ٹوٹ کر جھڑنے لگے ۔۔ وہ اب ننگے جسم لئے ایک دوسرے کو نو چنے لگیں ۔۔۔ ان کے جسموں سے سیاہ رنگ کا سیال مادہ بہہ رہا تھا اور آوازیں کانوں کو چیرتی محسوس ہورہی تھی۔۔
وہ اسی طرح ایک دوسرے کو نوچتے نوچتے ہلاک ہوئیں اور جگہ جگہ بدبودار گوشت کے لوتھڑوں میں تبدیل ہوگئیں ۔۔ یہ تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود ناقابلِ یقین تھے ۔۔
ابایومی کا ہر وار خالی جارہا تھا اور اس کے غیض و غضب میں تیزی آرہی تھی لگ یوں رہا تھا کہ وہ بھرپور مقابلہ کرنے کے ارادے سے آئی ہے کیونکہ وہ بھی جانتی تھی آج ناکامی کا کیا انجام ہونا ہے اور وقت مزید اس کے پاس نہیں تھا ۔۔۔
وقت تو ہمارے پاس بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔ لاپرواہی زرا بھی ہوتی تو اس کے قہر کے نشانے پر اب صرف زیبا ہی نہیں ہم سب بھی تھے ۔۔ شاہ صاحب اب تک بہت عمدگی سے ڈٹے ہوئے تھے اور ابایومی مستقل اپنے جادو اور شیطانی عملیات کے ذریعے تابع کئے شیطانوں کو مقابلے کے لیے لا رہی تھی۔ یہ تھے تو شیطان مگر جانور کے روپ میں ان کی فطری جبلت شکار اور خوراک ان پر غالب آجاتی اور اس کا علم شاہ صاحب کو پہلے ہی ہوگا ۔۔ جب ہی انھوں نے یہ پکوان ان کے لئے رکھے تھے ۔۔۔
ابایومی ہر گوشت کے لوتھڑے کو سونگھتی اور اپنی شکست کے ماتم میں منحوس بین کرتی ۔۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ ہر پرندہ جھلس چکا ہے تو اس نے نیا وار کیا اور زمین پر چت لیٹ گئی ۔۔ اپنے ہاتھ پاؤں آسمان کی طرف کئے اور اپنا منہ موڑ کر ہماری جانب پھنکارنے لگی ۔۔اس کے اس عمل پر اطراف دھول کا چکر سا بننے لگا اور یہ چکر آسمان تک بلند ہوتا نظر آرہا تھا۔۔۔
اسی اثناء میں شاہ جی کے چھوٹے بھائی نے ہمارے گرد ایک اور حصار چونے کے تھال سے کھینچ لیا ۔۔۔ دور دور تک دھول اڑ رہی تھی مگر مجھے ایسا لگتا تھا کہ ہم کسی شیشے کی بال میں بیٹھے یہ مناظر دیکھ رہے ہیں کیونکہ وہ دھول ہم تک نہیں پہنچ سکی۔۔۔ اچانک کتوں کی سی آوازیں آنے لگیں جیسے کئی کتے ایک ساتھ بھونک رہے ہوں ۔۔۔ دھول چھٹی تو حصار سے باہر کتے یا بھیڑیئے نما انسانوں کا ایک قافلہ تھا ۔۔
وہ کتے رال ٹپکاتے حصار کے اطراف ٹہلنے لگے دم خشک ہورہا تھا کہ پتا نہیں یہ کب جھپٹ پڑیں اور ہمیں چیر پھاڑ دیں مگر دل میں اللہ پر یقین اور شاہ جی پر بھروسہ تھا ورنہ ان عفریتوں کے درمیان بیٹھنا اور اتنے نزدیک سے دیکھنے پر ہی حرکتِ قلب بند ہو سکتی تھی۔۔ ان کی خونخوار آنکھیں لمبے دانت اور کریہہ صورتیں ۔۔ منہ سے بہتی رال ۔۔۔ بے حد خوفناک منظر تھا ۔۔
شاہ جی نے بھائی کو اشارہ کیا اور انھوں نے گوشت کے پارچوں پر ایک بوتل انڈیلنی شروع کی ۔۔۔ یہ خون کی بوتل تھی ۔۔۔ خون میں لت پت پارچے ۔۔ اب انھوں نے یہ اٹھا کر دور جھاڑیوں میں پھینکنے شروع کئے ۔۔۔ اور نتیجہ شاہ جی کی سوچ کے عین مطابق رہا ۔۔۔ تمام کتے تازہ خون اور گوشت کی مہک پر لپکے اور ان پارچوں کو بھنبھوڑنے لگے ۔۔ کان پڑی آواز نہیں آرہی تھی ۔۔۔
ابایومی ایک ایک کتے پر حملہ کرنے لگی … وہ چاہتی تھی کتے راتب سے دور ہو جائیں کیونکہ یہ راتب ان کی موت ثابت ہوتا ۔۔۔ مگر وہ کتنوں کو روکتی اور ایک کتا چھوڑتا تو دوسرا بھنبھوڑتا بالآخر کتوں کا گھمسان تھما تو ان کے منہ سے رال کی جگہ خون ٹپکنے لگا یعنی اب کتوں کو بھی اپنی پڑ گئی تھی ۔۔۔ کھایا ہوا گوشت کِلا ہوا تھا اور اس پر عمل بھی کیا گیا تھا ۔۔ ان کی سرخ آنکھیں باہر نکل آئیں لگتا تھا کہ کوئی ان کا گلہ دبا رہا ہے ۔۔ کتوں کے حلق سے آواز نکلنا بند ہو گئی اور ان کی آنکھیں زمین پر گر پڑیں ۔۔
کتے زمین کے ساتھ اپنے جسموں کو رگڑنے لگے جیسے انھیں شدید خارش ہو رہی ہے اور نظر نہ آنے کی وجہ سے بد حواس ہو کر دوڑنے لگے ۔۔۔ اس وقت میری روح فنا ہوگئی جب یہ قد آدم کتے میں نے اپنی طرف لپکتے دیکھے آغا جانی اور وجاہت بھی دہشت زدہ تھے ۔۔ آغا جانی کی چیخیں بلند ہونے لگیں اور ہم ممکنہ خطرے کے پیش نظر اٹھ کھڑے ہوئے ۔۔
مگر حیرت انگیز طور پر جیسے ہی ایک کتے کا پیر حصار پر پڑا وہ راکھ میں تبدیل ہو کر ہوا میں تحلیل ہوگیا ہم دم بخود کھڑے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے ۔۔ جیسے جیسے کتے اتفاقیہ طور پر حصار کے نزدیک آتے ان کا یہ ہی حشر ہوتا ۔۔۔ میری نظر ابایومی پر پڑی ۔۔۔ پتا نہیں کیوں اس وقت وہ بہت چھوٹی نظر آئی ۔۔ یا شائد یہ میرا وہم تھا ۔۔
مگر اس کے جسم پر اب وہ لبادہ نہیں تھا اور سارا جسم سیاہ بالوں سے ڈھکا تھا ۔۔۔ کتوں کی یہ درگت بنتی وہ بھی دیکھ رہی تھی مگر لگتا تھا کہ اب وہ اگلے وار کی تیاری کر رہی ہے ۔۔۔
لیکن اگلے ہی لمحے وہ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو چکی تھی ۔۔ میں نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔ شکر وہ غارت ہوئی ۔۔۔ سب قدرے مطمئن تھے ایمبولینس کے دائیں طرف سے زیبا ہماری طرف آتی نظر آئی ۔۔
آغا جانی ۔۔۔
بھائی جان ۔۔۔
مجھے سہارا دیں ۔۔۔
میں گر جاؤں گی ۔۔۔
میری مدد کریں ۔۔
وجاہت بے اختیار بہن کی طرف بڑھے مگر ایک تھال اڑتا ہوا آیا اور ان کے گھٹنے سے لگا وہ وہیں کراہ کے منہ کے بل گر پڑے ۔۔ تھال شاہ جی نے کھینچ مارا تھا جس کا واضح اشارہ حصار سے باہر نہ نکلنا تھا مگر زیبی مستقل رو رہی تھی پکار رہی تھی۔۔ بلارہی تھی ۔۔ وجاہت پھر اٹھے مگر اس بار شاہ جی کے بھائی نے وجاہت کو جکڑ لیا ۔۔۔ وجاہت بہت مزاحمت کر رہے تھے اور آغا جانی رو رہی تھی ۔۔۔
ارے چھوڑ دو میرے بچوں کو ۔۔
چھوڑ دو میرے وجاہت کو۔۔۔
آغا جانی زیبی کی مدد کے لئے آگے بڑھنے لگیں ۔۔۔ شاہ جی نے انگارہ ہوتی نظروں سے مجھے دیکھا ۔۔میں سمجھ گیا مجھے کیا کرنا ہے ۔۔ میں لپک کر آغا جانی کے آگے آگیا اور انھیں روکنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔ آغا جانی غمزدہ مجھ سے منت کرنے لگیں ۔۔۔۔
بیٹا میری زیبی کو بچا لو مجھے جانے دو۔۔۔
یہ جانور اسے پھاڑ کھائیں گے ۔۔۔
شاہ جی رحم کریں ہمارے حال پر ۔۔
شاہ جی کے بھائی چلائے ۔۔۔
یہ زیبا نہیں ہے ۔۔۔
یہ دھوکہ ہے ۔۔۔
یہ سازش ہے اس مکار کی ۔۔۔
حصار توڑنا چاہتی ہے یہ ۔۔۔
تاکہ ہم پر غالب آجائے ۔۔
بے وقوفی مت کریں ۔۔۔
زیبی خیریت سے ہے ایمبولینس میں۔ ۔
شاہ جی نے حصار کیا ہوا ہے ۔۔
وہ زیبی تک نہیں پہنچ سکتی ۔۔
آپ لوگ عمل خراب نہ کریں ورنہ زیبا کی جان کو خطرہ ہے ۔۔۔
اففففف یہ سن کر سب اپنی جگہ ساکت ہوگئے ۔۔۔ اور ابایومی جو زیبا کی شکل میں ہم پر ظاہر ہوئی تھی اب زمین سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ بے انتہا غصہ ۔۔۔ اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکلتی محسوس ہورہیں تھیں ۔۔۔
وہ ہو بہو زیبا تھی ان شیطانی طاقتوں کی مدد سے وہ کیا کیا کھیل ہمیں دکھا رہی تھی ۔۔ مگر ہر وار خالی جا رہا تھا اب اس نے نیا داؤ کھیلا اور اپنی پوری قوم کو دعوت دی ۔۔ وہ اب بھی زیبی کی شکل میں ہمارے اطراف گھوم رہی تھی اور اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سب کو تہس نہس کر ڈالے۔۔۔
اس کے پاس شائد یہ آخری حربہ تھا اور اس طرح کی مخلوقات انسانی فطرتوں بھی آگاہ ہوتی ہیں وہ ہمارا اور شاہ جی کا دھیان بہکانے کی ہر ممکن کوشش کر چکی تھی ۔۔۔ اس کے شیطانی عملیات میں اب اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ شاہ جی کا مزید مقابلہ کرتی ۔۔۔
وہ زمین پر ہاتھ مارتی اور اپنے سینے پر ۔۔ اس کے ہاتھ مارنے سے اس کے جسم پر موجود اسپتال کے گاؤن کے ٹکڑے اڑنے لگے ۔۔۔ یہ اسکا آخری حملہ تھا جو ہم سمیت شاہ جی کے نفس پر تھا ۔۔۔ مسلسل اپنے جسم پر ہاتھ مارتی جاتی اور منتر پڑھتی جاتی اس کی بکواس سمجھ سے باہر تھی مگر بہت وحشت ناک تھی ۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے جسم پر کوئی کپڑا باقی نہ رہا اور ایک ساتھ بہت سی بلیوں کی آوازیں آنی شروع ہوگئیں۔۔۔
یہ روح فرسا منظر اس وقت بھی میری آنکھوں میں گھوم رہا ہے

 

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: