Billi by Salma Syed – Episode 2

0

بلی از سلمیٰ سید قسط نمبر 2

مصنفہ سے ملیں : سلمیٰ سید

آغا جانی کے چہرے پر حیرانی اور دکھ کے ملے جلے آثار دیکھ کر میرے لئے کسی نتیجہ پر پہنچا مشکل تھا ان کی آنکھیں نم تھیں ۔۔ ایک آہ بھری اور بولیں ۔۔۔۔۔۔۔
خیر تو ہے اذان میاں ؟کن آوازوں کی بات کر رہے ہیں آپ ؟
کیا آپ نے ہمارے گھر میں آج تک کوئی بلی دیکھی ہے ؟
میں بری طرح سٹپٹاگیا ۔ چائے کا کپ میرے ہاتھ میں لرز کے رہ گیا تھا میں آغا جانی کو خاموش نظروں سے دیکھنے لگا ۔ مجھے لگا وہ مجھ سے نظر بچا رہیں ہیں پھر کہنے لگیں بہت ممکن ہے آواز کہیں باہر سے آتی ہو اور بیٹا بلی کی آواز ہی ہے ناں شیر کی تو نہیں ۔۔۔
وہ ایک پھیکی سی ہنسی ہنس دیں اور میں بھی بس جی جی کر کے رہ گیا چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے میں نے اجازت طلب نظروں سے انھیں دیکھا وہ کچھ کھوئی کھوئی محسوس ہوئیں اور میں سلام کر کے باہر نکل آیا ۔۔
راستے بھر اور گھر آنے کے بعد بھی ذہن کے گوشوں میں وہ منحوس آواز گونجتی رہی اور میں یہ سوچتا رہا کہ آغا جانی ٹھیک ہی کہتیں ہیں بلی ہی ہے کوئی شیر تو نہیں ۔ مگر بلییاں مستقل روتیں کب ہیں؟
آغا جانی کچھ چھپا تو نہیں رہیں ؟
مگر کیا ؟
اگر ان کے گھر بلی ہے بھی تو ان کو مجھ سے چھپانے کی کیا ضرورت تھی؟
اور وہ آوازیں مستقل کیوں ہیں؟
مجھے ہی کیوں آئیں؟
کیا کوئی اور انھیں سن پاتا ہے ؟ یا یہ میرا وہم ہے ؟
آغا جانی نے تو صاف انکار کردیا کہ ایسی کوئی آواز انھوں نے نہیں سنی مگر کچھ تو ہے جس کی چغلی کھا رہا تھا ان کا سفید پڑتا چہرہ اور لرزتا لہجہ۔۔۔ خیر یہ ہی سب سوچتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا کہ کل سے پڑھائی کے لیے دوسرا کمرہ منتخب کروں گا ۔
میں بنیادی طور پر لاہور کا رہائشی ہوں اور فاسٹ فوڈ فیکٹری میں بطور کوالٹی کنٹرولر مقرر ہوں ۔ملازمت میں تبادلے کے باعث کراچی میں مقیم ہوں فیکٹری سے چھٹی کے بعد میں ہمدانی ہاؤس ٹیوشن پڑھانے جاتا ہوں ۔ وجاہت ہمدانی کے آفس میں میرا دوست ثاقب نثار ملازمت کرتا تھا اس کی معرفت مجھے یہ ٹیوشن پڑھانے کی ملازمت ملی جس سے مزید آمدن بھی متوقع تھی اور میرا وقت بھی گزر جاتا مگر یہ آوزیں میرے سر کا درد بنی ہوئیں تھیں ۔۔
اگلی شام سوا چھے بجے میں ہمدانی ہاؤس پہنچا تو دیکھا مسز ہمدانی اور ایک مولوی قسم کا بندہ لان میں بیٹھے کچھ بات کر رہے تھے۔ مجھے لگا رشتے دار ہوں گے میری عادت نہیں ٹوہ لینے کی مگر مجھے اس گھر اور گھر والوں کے بارے میں تجسس ہوگیا تھا اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی سب کی حرکات و سکنات کا بغور مشاہدہ کرنے لگا ۔۔
آغا جانی کی بہو زرنگار ایک لاپروا عورت تھی جسے جدید طرز کے لباس اور گیجیٹس کا شوق تھا تین بچوں کی ماں ہونے کے باوجود وہ تقریباً روز ہی کسی تقریب میں جانے کو تیار ہوتی کھر میں نوکر چاکر تھے کام کاج سے بے بہرہ۔ وجاہت ہمدانی روائتی کاروباری شخصیت جسے دو جمع دو چار کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی کام نہیں تھا سو بچے مکمل طور پر آغا جانی کے دست شفقت میں تھے ۔۔
اگلے روز لان سے گزر کر میں جیسے ہی ہال میں داخل ہوا مجھے یاسر (بڑا پوتا) نظر آیا اور مجھے کہا سر اس طرف آجائیں سیڑھیوں سے چڑھ کر ہم ایک کوری ڈور سے گزرتے ہوئے خوبصورت کمرے میں داخل ہوئے کمرے میں سجاوٹ کافی کی گئی تھی یاسر نے بتایا کہ یہ کمرہ بابا کے مہمانوں سے ملنے کا ہے شائد اسی لئے قیمتی فرنیچر اور قالین سے مزین تھا کرسٹل فانوس بھی کمرے کی چھت پر جگمگا رہے تھے کمرہ اے سی تھا اور باہر کی گرمی سے اس ٹھنڈک میں آ کر میں بہت حد تک پرسکون محسوس کر رہا تھا اتفاق کی بات یہ تھی کہ آج وہ منحوس آواز بھی نہیں آرہی تھی ۔ یاسر نے بتایا کہ دادی نے کہا ہے آج سے ہم یہیں پڑھیں گے میں نے گردن ہلاتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا ۔۔
دل میں آئی کہ بچوں سے پوچھوں اس متعلق مگر پھر آغا جانی کی باتوں کو سچ مان کر بچوں کو پڑھانے میں خود کو مصروف کرلیا وقت اچھا رہا۔۔۔
گھر آنے کے بعد بھی بار بار وہ مولوی نما بندہ ذہن میں آئے جارہا تھا اس کا رازدارانہ انداز اور آغا جانی کے چہرے کی تشویش پریشانی اور خوف ۔۔
میں کیوں سوچ رہا ہوں یہ سب ؟
میرا کیا واسطہ ؟
ان کے گھر بلی ہو یا کتے مجھے پڑھانے جانا ہے بچوں کو اور بس ۔۔
ٹی وی آن کرنے کے بعد بھی اسی ادھیڑ بن میں لگا رہا ۔۔
فون کی گھنٹی بجی تو امی کی کال تھی ۔ جب سے کراچی آیا ہوں امی تقریباً روز ہی دس سے گیارہ کے درمیان کال کر کے خیریت لیتی تھیں

Read More:  Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 30

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: