Billi by Salma Syed – Episode 4

0

بلی از سلمیٰ سید قسط نمبر 4

مصنفہ سے ملیں : سلمیٰ سید

ایمبولینس کے آتے ہی آغا جانی نے کہا ……اذان میاں آپ کو تھوڑی ہمت کرنی ہوگی…. وفاداری کی قسم لینی ہوگی گو کہ آپ پر بھروسہ کرنے کے علاوہ اس وقت کوئی چارہ نہیں….. آپ ہماری اولاد کے جیسے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں ہمارا تماشہ نہ بنے اس لئے اب جو بھی حالات آپ کے سامنے آئیں انھیں راز میں رکھنے کا وعدہ کیجیئے ۔۔…
میرے دل نے کہا۔۔ کسی معصوم کو قید کیا ہوا ہے اب یا تو وہ لڑکی مر گئی ہے یا اس کی حالت نازک ہے اور آغا جانی راز فاش ہونے کی وجہ سے مجھے اعتماد میں لے کر اس کی لاش ٹھکانے لگانا چاہتیں ہیں ۔۔۔۔ لیکن یہ وقت یہ سب سوچنے کا نہیں تھا ۔۔۔۔۔میں نے عجلت میں ہاں کی اور راز کو راز رکھنے کا یقین دلاتے ہوئے ان کے پیچھے اس کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔۔۔
اندر وہی نیم تاریکی اور ہوش سے بیگانہ کر دینے والی بدبو تھی۔۔۔۔۔ میری نگاہوں کے سامنے جو منظر تھا آج بھی یاد کروں تو جھرجھری سی آتی ہے ۔۔ سیاہ لباس میں ملبوس بال کھلے ایک چوبیس پچیس سال کی لڑکی تھی۔۔۔ ۔ زردی مائل رنگ اور آنکھیں باہر کو ابلی ہوئی۔۔۔چہرے پر وحشت برس رہی تھی ۔۔۔۔ اس کی آنکھیں بوری چمکدار بلکل بِلٌی جیسی۔۔۔۔ مگر اس کے بیٹھنے کا انداز سب سے عجیب تھا دونوں ٹانگیں موڑ کر پیچھے اور دونوں ہاتھ آگے کی طرف زمین پر رکھے وہ اپنی زبان سے لپ لپ کرکے کبھی اپنے ہاتھ چاٹ رہی تھی اور کبھی اپنا پاؤں ۔۔۔۔۔۔۔اس کے پاؤں میں زنجیر تھی۔۔۔۔ جس کے باعث بہت گہرا زخم ہوگیا تھا اور اس سے مواد رس رہا تھا جسے وہ مستقل چاٹ رہی تھی ۔۔۔۔۔ افففف خدا ۔۔۔۔ یہ کیا چیز ہے ۔۔ مجھے خوف کے ساتھ گھن آنے لگی ۔۔۔۔ ایک لمحے کے لیے مرد ہو کر بھی میں لرز گیا اور مجھے یہ قبول کرنے میں کوئی عار نہیں کہ مجھ پر اس کی دہشت سوار ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔ آغا جانی اس کو پچکارتی ہوئی اس کے قریب گئیں تو وہ بلی کی طرح ان کے پیروں میں لوٹنے لگی اور چاروں ہاتھ پیروں کے بل بلٌی کی طرح کھڑی ہوگئی ۔۔۔۔۔اس کی آواز دھیمی غراہٹ میں بدلتی گئی جیسے ہی مجھ پر اس کی نظر پڑی ۔۔۔۔۔میں دل ہی دل میں آیت الکرسی کا ورد کر رہا تھا ۔
آغا جانی نے اس کی زنجیر کا تالا کھولا اور مجھ سے کہا کہ اذان میاں یہ زنجیر پکڑیں جو ابھی تک اس کے پیر میں پڑی ہوئی تھی۔۔۔۔مجھے اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئیں مجبوراً میں نے وہ زنجیر تھامی مجھے لگا یہ بلی نما لڑکی ابھی مجھ پر جھپٹ پڑے گی مگر آغا جانی مسلسل اس کے سر اور کمر پر ہاتھ پھیر کر اسے پچکارتی رہیں اور ہم اسے کسی چوپائے کی طرح چلاتے ہوئے کمرے سے باہر لے آئے جہاں ایمبولینس کے ساتھ آئے رضا کار موجود تھے ۔۔۔۔۔۔۔اس لڑکی کے پاؤں میں زخم کی وجہ سے اس سے چلا نہیں جارہا تھا رضا کاروں نے آغا جانی سے کچھ بات کی اور ایک نے بڑھ کر اس لڑکی کی کمر سے نیچے ایک انجکشن گھونپ دیا ۔۔۔۔۔وہ غرائی اور اس پر جھپٹی میرے ہاتھ سے اس کی زنجیر چھوٹ گئی اور اس نے آن کی آن میں رضاکار کو اپنے سخت نوکیلے لمبے ناخنوں سے زخمی کردیا ۔۔۔۔ دوسرے رضاکاروں نے بڑھ کر اس لڑکی کو قابو کیا مگر اب تک انجکشن کے زیرِ اثر لڑکی کے اعصاب ڈھیلے پڑنے لگے اور وہ بے جان ہوگئی ۔۔۔۔۔
اس سارے عمل کے دوران میں تماشائی بنا کھڑا تھا مجھے یہ لڑکی اور یہ حالات ابھی تک سمجھ نہیں آرہے تھے ۔۔۔۔آغا جانی کی آنکھوں میں آنسو مجھے ہوش میں لائے اور میں نے بڑھ کر انہیں تسلی دینا چاہی وہ بزرگ خاتون پھوٹ پھوٹ کر رو دیں ۔۔۔۔۔۔
صورتحال ایسی تھی کہ اندازہ لگانا مشکل تھا اصل معاملہ کیا ہے ۔ اتنی دیر میں اس لڑکی کو اسٹریچر پر جکڑ کر ایمبولینس میں سوار کیا جا چکا تھا ۔ میں اور آغا جانی دوسری گاڑی میں اسپتال روانہ ہوئے ۔ سارے راستے وہ روتی رہیں میرے پاس ان گنت سوال تھے مگر یہ وقت مناسب نہیں تھا ۔۔۔ ۔۔ اسپتال پہنچ کر آغا جانی نے مطلوبہ ڈاکٹر سے رابطہ کیا اور اس لڑکی کو ایڈمٹ کرلیا گیا
اندر اس لڑکی کے زخم صاف کئے جارہے تھے اور میں آغاجانی کے ساتھ باہر بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔ آغا جانی نے کسی کو کال ملائی اور بات کرنے لگیں ۔۔۔۔۔ سلام دعا کے بعد کہنے لگیں زیبا کے پیر کا زخم ناسور بن رہا ہے ۔۔ میں وہاں سے اٹھ کر فاصلے پر جا کھڑا ہوا سگریٹ کی بہت طلب ہو رہی تھی رات کے نو بج رہے تھے مگر بھوک تو گویا اڑ ہی گئی تھی ہاتھوں کے طوطوں کے ساتھ ۔۔
تو اس لڑکی کا نام زیبا ہے ۔۔ ہوسکتا ہے یہ وجاہت ہمدانی کی پہلی بیوی ہو ۔۔
جسے قید کردیا گیا ہو اور دوسری شادی رچا لی ہو ۔۔
یا ہوسکتا ہے یہ کوئی نوکرانی ہو
جس کو اذیتیں دے کر اس حال کو پہنچادیا گیا ہو ۔۔
یا پھر یہ کوئی خالہ پھوپھی زاد ہو ۔
جس کے نام یہ تمام جائیداد ہو ہمدانی اس کے کئیر ٹیکر ہوں ۔۔۔۔
کچھ بھی ہو سکتا ہے آج کل کے بیمار معاشرے میں ایسے جرائم عام ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن اگر ایسا ہے تو اس مولوی کا کیا کردار ہوگا اس سارے کھیل میں ؟؟؟؟ اور اگر یہ سب جانتے بوجھتے ہو رہا ہے تو آغا جانی کا دکھ درد کس لئے ؟؟؟؟؟۔ سوچ سوچ کے میری کنپٹیاں دکھنے لگیں تھیں ۔۔ایک بار پھر اس کی وحشت ناک صورت میری آنکھوں میں تھی ۔۔۔۔۔۔ صاف رنگت چمکدار آنکھیں سیاہ لمبے بال اگر وہ نارمل ہوتی تو واقعی حسین دکھتی مگر اس موجودہ حالت میں اس کا تصور اور اس کا جھپٹنا نوچنا دل دہلانے کو بہت تھا ۔۔ سگریٹ ختم کرکے میں آغا جانی کی طرف پلٹا کال ختم ہو چکی تھی اپنی چادر سے آنکھوں کے کنارے خشک کر رہیں تھیں
میں اخلاقی اقدار بلکل ہی بھول بیٹھا تھا ان سے پانی جوس وغیرہ کا پوچھا تو انکار کر گئیں ۔۔۔۔ ایک یاسیت اور سوگواری ان کے چہرے پر نمایاں تھی مگر وجہ گمشدہ ۔۔۔۔۔ زیبا جس کمرے میں تھی اس کے دروازے کو گھورتی ہوئی گویا ہوئیں ۔۔
زیبا میری بیٹی ہے
بیٹی ؟
ہاں میری بیٹی ۔۔
وجاہت سے چار سال چھوٹی ۔۔
آپ اسی کشمکش میں ہیں کہ انھیں ایسا کیا ہوا ہے ان کی یہ حالت کیوں ہے اور یہ بات ہم نے آپ سے کیوں چھپائی ۔؟؟؟؟ اس پریشانی کے وقت میں آپ نے ہماری مدد کی ہے اذان میاں آپ ہمارے محسن ہیں …۔
جی آغا جانی میں شروع ہی سے اس معمے اس راز کی تہہ تک جانا چاہتا تھا مگر کیونکہ یہ آپ کا نجی معاملہ ہے تو میری ہمت نہیں ہو سکی ۔ کیا زیبا جی بیمار ہیں کوئی دماغی نفسیاتی بیماری ؟
آغا جانی کے چہرے پہ تاسف پھیلا صاف دکھائی دیا میری بات یقیناً دکھ دے گئی تھی اولاد کی یہ حالت ہو تو ماں پر کیا گزرے گی اس کا اندازہ مجھے سوال کرنے کے بعد ہوا ۔۔۔۔ مگر بات زبان سے پھسل چکی تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ گویا ہوئیں ۔۔ کاش اذان میاں ایسا ہی ہوتا ۔۔ یہ کوئی بیماری ہوتی تو ہم دنیا کے بہترین ڈاکٹروں سے رابطہ کرتے زیبا کو ٹھیک کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے مگر اب ہم نا امید ہو چکے ہیں ۔۔۔۔ یہ کوئی بیماری نہیں۔ ۔ نفسیاتی مریضوں کے گھر میں کیا ایسی ہی ناگوار بو ہوتی ہے ؟؟؟ جیسی آپ نے ہمدانی ہاؤس میں محسوس کی ہے ؟
آغا جانی ہر بات میرے سامنے صاف کرتی جارہیں تھیں ۔۔۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس آسیب کی خبر لوگوں کو ہو اور ہماری بیٹی کا تماشہ بنے وہ اور ہم پہلے ہی بہت ذلت سے دوچار ہو چکے ہیں ۔
کیسی ذلت آغا جانی ؟ اور یہ آسیب ؟
وہ سب کچھ بتانے پر آمادہ تھیں مگر میری بے چین فطرت سوال پہ سوال اٹھائے جارہی تھی ۔۔
ڈاکٹر نے آ کر بتایا زیبا کے پاؤں کی بینڈیج کردی گئی ہے مگر زخم سڑنے کی وجہ سے زیبا کو تیز بخار بھی ہے اور معدے میں انفکشن بھی ۔۔۔۔۔ ہمیں رات اسپتال میں رکنا تھا ۔۔
اس صورتحال میں آغا جانی کو تنہا اسپتال میں چھوڑ جانا بہت نامناسب سی حرکت تھی اور گھر جا کر بھی مجھے کونسا سکون مل جانا تھا ۔۔۔۔ رات اسی شش و پنج میں گزرتی اس لئے بہتر یہ ہی سمجھا کہ ان کے ساتھ رک جاؤں وہ بھی کچھ بتانا چاہتیں ہیں اور میں بھی معاملے کی تہہ تک جانا چاہتا ہوں سو میں نے ان سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو زیبا کے روم میں آرام کرلیں میں باہر بیٹھا ہوں ۔۔آغا جانی نے زیبا سے ملنے کی خواہش کی اور ہم اس کمرے کی طرف بڑھے میں باہر ہی رک گیا مگر انھوں نے اشارے سے مجھے ساتھ آنے کے لیے کہا ۔۔
اسپتال کے اس کمرے میں زیبا کی موجودگی کو بمشکل دو سے ڈھائی گھنٹے گزرے تھے مگر اس کمرے میں بھی وہی ناگوار بو بس چکی تھی یہاں ٹھہرنا محال تھا ۔۔ وہ بیڈ پر بھی شکنجوں میں کسی ہوئی تھی اس لئے کوئی خطرہ نہ تھا شائد سو رہی تھی آغا جانی محبت سے اس کے ماتھے اور سر پر ہاتھ پھیرتیں پیار کرتیں رہیں آنکھوں سے آنسوں رواں تھے میں نے خود کو اس لمحے بہت بے بس محسوس کیا ۔۔۔۔ ہم کمرے سے باہر آ گئے ۔۔۔۔ آغا جانی نے خود کو قدرے سنبھال لیا تھا ۔۔ اسی اثناء میں وجاہت ہمدانی کی دو کالز آچکیں تھیں اور زرنگار بھی گھر پہنچ کر کال کر چکی تھی ۔۔
میں اور وہ کمرے کے باہر بیٹھے تھے۔۔ آغا جانی نے زیبا کے بارے میں بات شروع کی ۔۔ کہنے لگیں ۔۔ میری بیٹی بہت لاڈلی اور نازو نعم میں جوان ہوئی ہے اور اب اس کی یہ حالت دیکھ کے میرا دل کٹ جاتا ہے ۔۔ اذان میاں اولاد اور جوان اولاد کا دکھ رب دشمن کو بھی نہ دے ۔۔۔۔
وہ بچپن سے ہی بہت ڈرپوک تھی اندھیرے اور اکیلے رہنے سے ڈرتی تھی ہر وقت میری جان سے لگی رہتی یا آغا جان کے ساتھ ۔۔ ہم فیصل آباد میں رہائش پذیر تھے بہت بڑی حویلی اور بہت حسین لان تھا ہمارا ۔آغا جان کو باغبانی کا بہت شوق تھا سارا لان ان کے ہاتھوں کا بویا تھا ۔۔۔ زیبا اس وقت 8 سال کی تھی۔۔ وجاہت 11 سال کا ۔ یہ دونوں بچے ہی ہماری زندگی کی رونق تھے ۔۔ گرمیوں کے دنوں میں اکثر ایک کالی بلی کا ہمارے لان میں آنا جانا رہنے لگا ۔۔ یہ اتنی کوئی خاص بات بھی نہیں تھی مگر آغا جان کو بلییوں سے چڑ تھی ۔۔ ان کی ناپاکی نجاست اور بدبو کسی کو بھی برداشت نہیں تھی مگر جانور کو کون روک سکتا تھا وہ بلی ہمارے لان کی کیاریوں میں اکثر بیٹھی ہوتی تھی ہم سب ہی نے ایک بات محسوس کی تھی کہ وہ ہمیں ٹکٹکی باندھ کے دیکھتی رہتی ہم جب بھی لان میں بیٹھیں یا بچے کھیل رہے ہوں ہمیں اس کا دیکھنا بہت پراسرار ناگوار لگتا ۔۔۔اسے بھگانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر کوئی طریقہ کار گر نہ ہوا۔۔۔۔اغا جانی کی غیر موجودگی میں اکثر خانساماں سے کہہ کر میں اسے دودھ ڈلوا دیتی ۔۔ بے زبان جانور ہے ۔۔ رحم آجاتا تھامجھے ۔۔۔ایک دن دونوں بچے فٹ بال سے کھیل رہے تھے کے بال اس منحوس کے پاس جا گری زیبا بال اٹھانے بھاگی آغاجان گملوں کی گوڈائی کر رہے تھے ان کے ہاتھ میں کھرپی تھی ۔۔ زیبا جیسے ہی بال لینے کیاری کے نزدیک گئی وہ بلی زیبا پر حملہ آور ہوئی اور آغاجان نے کچھ سوچے سمجھے بغیر ہاتھ میں پکڑی کھرپی اس بلی کو ماری ۔۔۔ نشانہ اتنا ٹھیک لگا کے کھرپی سیدھی بلی کی گردن پر لگی اور وہ گر کے کیاری کے پاس تڑپتی لوٹتی رہی بچے بری طرح سہم گئے تھے بلی رو رہی تھی وہی منحوس آواز ۔۔۔ سنی ہے ناں آپ نے ؟ میں نے کسی معمول کی طرح سر اثبات میں ہلایا ۔۔
بلی روتی رہی ہم میں سے کسی کی ہمت نہ تھی کہ اسے اٹھاتے۔۔۔۔۔ آغا جان نے چوکیدار سے کہہ کر ایک بوری منگوائی اور چوکیدار سے ہی اس بلی کو بوری میں ڈلوا کر کہیں پھنکوا دیا ۔۔ آغا جان اسے مارنا نہیں چاہتے تھے بس سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ سوچنے کا وقت ہی نہیں ملا ۔۔ اس رات زیبا بہت ڈرتی رہی اور اسے بخار نے آلیا ۔۔ ہم بہت پریشانی میں آگئے ۔ سارا ہفتہ ڈاکٹر حکیموں کے چکر کاٹتے گزرا۔۔ اسی دوران آغا جان کو کب وہم کی بیماری ہوئی پتہ ہی نہیں چلا۔۔ زیبا کے صحتیاب ہونے کے بعد میں نے غور کیا وہ اکثر بیٹھے بیٹھے چونک جاتے اور اپنے آگے پیچھے دیکھنے لگتے جیسے کچھ ڈھونڈ رہے ہوں ۔۔ کان لگا کر کچھ سننے کی کوشش کرتے ۔۔۔۔کبھی کمرے کھول کے تلاشی لیتے کبھی کھڑکی کھول کے دیکھتے راتوں کو اٹھ کر بیڈ کے نیچے صوفوں کے نیچے جھانکتے ۔۔ مجھے یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا ۔۔۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: