Billi by Salma Syed – Episode 5

0

بلی از سلمیٰ سید قسط نمبر 5

مصنفہ سے ملیں : سلمیٰ سید

زیبی کے صحتیاب ہونے کے بعد میں نے غور کیا وہ اکثر بیٹھے بیٹھے چونک جاتے اور اپنے آگے پیچھے دیکھنے لگتے جیسے کچھ ڈھونڈ رہے ہوں ۔۔ کان لگا کر کچھ سننے کی کوشش کرتے ۔۔۔۔کبھی کمرے کھول کے تلاشی لیتے کبھی کھڑکی کھول کے دیکھتے راتوں کو اٹھ کر بیڈ کے نیچے صوفوں کے نیچے جھانکتے ۔۔ مجھے یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا ۔۔۔
ڈاکٹروں کی محنت کامیاب ہوئی زیبا رو بہ صحت ہونے لگی۔۔۔۔۔۔ آغاجان اسے ایک پل اکیلا نہ چھوڑتے ۔۔ ایک دن صبح کوئی گیارہ بارہ کا وقت ہوگا آغا جان اور زیبی معمول کے مطابق لان میں کھیل رہے تھے اور میں وجاہت کے ساتھ باہر گئی ہوئی تھی مجھے سپر اسٹور سے کچھ سامان خریدنا تھا ۔۔۔۔ جب میں واپس گھر آئی تو زیبا کیاری کے پاس بیٹھی نظر آئی آغا جان نہیں تھے ۔۔۔۔ میں اندر گئی دروازہ لاکڈ ۔۔۔۔ دروازہ بجایا آوازیں دیں تب کہیں جا کر آغا جان نے دروازہ کھولا۔۔۔۔ ۔ وہ بہت بوکھلائے ہوئے تھے۔۔۔دہشت چہرے سے عیاں ۔۔ان کا چہرہ زرد پڑ گیا تھا مجھے لگا انجائنا کا اٹیک ہے میں فون کرنے بھاگی مگر انھوں نے مجھے بازوؤں سے پکڑ لیا اور بولے ۔۔
وہ مری نہیں ہے ۔۔
وہ مری نہیں ہے۔۔۔
وہ یہیں ہے باہر لان میں ۔۔
دروازہ بند کردو ۔۔
وہ مجھے مار دے گی ۔۔
آغا جان ہذیان بکے جارہے تھے ۔۔۔ آغا ہوش کریں ۔۔۔۔
مجھے کچھ پلے نہ پڑا کون مری نہیں ؟
کون مار دے گی؟؟
کیا ہوگیا ہے آپ کو ؟
کیا بول رہے ہیں ؟
اتنے میں زیبا ہمارے پاس کھڑی تالیاں بجانے لگی اور کھلکھلانے لگی ۔۔
بابا جانی ڈر گئے بابا جانی ڈر گئے ۔۔
مما میں بلی بنی بابا جانی ڈر گئے ۔۔۔۔ ہی ہی ہی۔۔۔
میاؤں میاؤں میاؤں میاؤں ۔۔۔ ہی ہی ہی ۔۔۔۔
وہ ہنستی کھیلتی وجاہت کے ساتھ دوبارہ لان میں جا چکی تھی اور آغا جان پسینے میں شرابور ۔۔ انھیں تسلی دی پانی پلایا اوسان بحال ہوئے تو وہ رو پڑے ۔۔۔
میں نے زندگی میں پہلی بار اپنے شوہر کو بلکتے دیکھا تھا اذان میاں ۔۔۔۔۔ میرے لئے بہت بڑی بات تھی یہ میرا دل اندر سے بجھ گیا اور ایک خوف دل میں سما گیا کہ کچھ بہت برا ہونے والا ہے ۔۔ آغا جان گھر سے جا چکے تھے اور میں بچوں کے ساتھ مصروف ہوگئی ۔۔ وہ رات بہت دیر سے آئے ۔۔ بہت گم صُم تھے ۔۔ بچے سو چکے تھے ۔۔۔ وہ جب بستر پہ لیٹے مجھے یاد ہے ان کی آنکھیں متورم تھیں ۔۔ میں نے دریافت کیا تو بولے ۔۔ صبیحہ تم یقین نہیں کروگی۔۔۔ رہنے دو۔۔۔ میرے بہت اسرار پر انھوں نے بتایا کہ دوپہر تمھارے جانے کے بعد میں اور زیبا لان میں تھے ۔۔ میں اخبار پڑھ رہا تھا کہ میری نظر سامنے کیاری پر پڑی ۔۔ جہاں وہ بلی رہنے لگی تھی ۔۔ زیبا وہاں بیٹھی اپنے ہاتھ چاٹ رہی تھی ۔۔میں نے آواز دی بلایا مگر اس نے آن سنی کردی میں غصہ میں اٹھا اور اس کے قریب جاکر اسے اٹھانے لگا تو اس نے میرا ہاتھ جھٹک کر پیچھے کیا اور میری گردن پر ہاتھ مارا ۔۔ اس کا ہاتھ مجھے پنجے کے جیسا محسوس ہوا میں نے ہاتھ لگایا تو خون رس رہا تھا۔۔۔
پھر ایک دم زیبی زمین پر بل کھانے لگی اور وہی آوزیں نکالنے لگی جو اس وقت وہ زخمی بلی روتے ہوئے نکال رہی تھی وہ غرانے لگی۔۔۔۔ اور دوبارہ مجھ پر جھپٹی میں بھاگا اندر آ کر کمرہ لاک کرلیا ۔۔
تمھیں مجھ پر یقین ہے ناں صبیحہ ؟؟
میں بس انھیں بے یقینی کے عالم میں دیکھتی رہی۔۔ میں جانتا ہوں میری بات پر یقین کرنا مشکل ہے ۔۔ میں جھوٹ نہیں کہہ رہا تم تو میرا یقین کرو ۔۔۔ میں پاگل نہیں ہوں ۔۔ یہ دیکھو ۔۔۔ انھوں نے کالر ہٹایا تو واقعی تین خراشیں پڑی تھی جن پر خون ابھر کے سوکھ چکا تھا ۔۔میں حیرانی سے انھیں دیکھ رہی تھی ۔۔ مجھے اس کی آوازیں آتیں ہیں راتوں کو ۔۔ لگتا ہے وہ یہیں ہے ۔۔۔ اس کی چمکیلی آنکھیں مجھے گھور رہیں ہیں ۔۔۔ اس نے ہماری بچی پر قبضہ کرلیا ہے صبیحہ ۔۔۔
کتنی ہی دیر ہم ساتھ لگے روتے رہے ۔۔ ہمیں نہیں پتا تھا ہمیں کیا کرنا ہے ؟ کیا ہونے والا ہے ؟ یہ سب کیسے ٹھیک ہوگا؟ کیا آغا جان اس گلٹ میں مبتلا ہو کر نفسیاتی مریض بن چکے ہیں یا یہ کوئی اور معاملہ ہے اور وہ سچ کہہ رہے ہیں ؟؟ آغا جان اور زیبی میری روح کے دو حصے ہیں ۔۔ میں کسی کو کھونا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔
اتنا کہہ کر آغا جانی پھر پھوٹ پھوٹ کر رودیں ۔۔۔ اور میں ۔۔۔۔ میں اپنی کیا کیفیات بیان کروں ۔ یہ معاملہ الجھتا ہی جارہا تھا ان گنت سوال ۔۔۔اب بھی باقی تھے اور کہانی بھی ۔۔کہانی میرے اور آپ کے لئے مگر یہ آغا جانی کی آپ بیتی تھی جو نامکمل تھی اور ابھی مزید کیا کچھ ہونا باقی تھا وہ سب الگ ۔۔۔
آغا جانی میں سمجھ سکتا ہوں آپ اور آپ کا خاندان کس اذیت سے دوچار ہے لیکن جو بھی ہوا وہ اپنے بچاؤ کے لئے ہوا تو پھر یہ انتقام کیوں ؟ آغا جانی پانی کے گھونٹ بھرتیں ہوئیں بولیں اذان میاں یہ کوئی انسان نہیں تھی کہ قتل کا مقدمہ چلتا اور سیلف ڈیفنس ثابت کر کے ہم اپنے شوہر اور بچی کو بچا لیتے ۔ بلی کے روپ میں وہ کوئی اور مخلوق تھی جس کو نہ ہم سمجھا سکے نہ معافی تلافی کر سکے ۔ اول تو اس وقت ہم یہ سمجھے ہی نہیں تھے ۔ آغا جان کی گردن پر خراشیں دیکھ کر بھی ہمیں پختہ یقین نہ تھا ۔۔۔۔۔۔دوسرے دن ہم نے فیصلہ کیا ہم آغا جان کے ساتھ کسی اچھے ماہرِ نفسیات رابطہ کرتے ہیں ہو سکتا ہے بلی کی اچانک موت آغا جان کے ذہن میں بیٹھ گئی ہو اور یہ سب تماشے کروا رہی ہو ہم نے آغا جان کو راضی کیا یہ کہہ کر ہم زیبی کو ایگزامن کروانا چاہتے ہیں ڈاکٹر ہم سے بھی کچھ سوالات کر سکتا ہے تو گھبرائیے گا نہیں ۔۔ ماہرِ نفسیات نے بالترتیب ہم چاروں سے سوالات کئے مگر اصل چیک اپ آغا جان کا ہی تھا ۔۔مجھے شدید حیرت اس وقت ہوئی جب ڈاکٹر نے ہم چاروں کو نارمل قرار دیا ۔ ۔۔۔۔ تو اس کا مطلب ہے آغا جان زیبی کے بارے میں سچ کہہ رہے تھے۔۔۔۔ ان دنوں میں نے زیبی میں کوئی بدلاؤ نہ دیکھا ہاں وہ کبھی کبھی اپنے ہاتھ چاٹنے لگتی کھانے کے بعد اور اب دودھ بغیر ضد کئے پی لیتی تھی ۔
آغا جان کا دل گھر اور بچوں سے اچاٹ ہوگیا تھا وہ زیادہ وقت باہر رہنے لگے تھے ۔۔۔۔۔ زیبی سے بہت کم بات کرتے لیکن زیبی ان سے نزدیک ہونا چاہتی مگر وہ کوئی موقع نہیں دیتے ۔۔۔۔ زیبی کی طرف سے پھر کوئی ایسی بات نہیں ہوئی ہم مطمئن تھے مگر ایک بو اکثر آنے لگی تھی گھر سے ۔۔ ایک دن وہ کہنے لگے صبیحہ میرے دوست کے ایک دوست انڈیا سے آئے ہیں کاروباری دوست ہیں مگر دم تعویذ بھی کرتے ہیں میں چاہتا ہوں وہ کل کھانا ہمارے ساتھ کھائیں ۔۔۔۔۔مجھے کیا اعتراض ہوسکتا تھا ۔دوسرے دن جمعرات تھی آغا جان اور ان کے دوست عصر کے بعد ہی آگئے ۔۔ میں پہلی بار ملی تھی اچھے انسان تھے ۔ عبدالسلام بمبئی والے ۔ان نام تھا۔ درمیانہ قد زرا سانولا سا رنگ مگر چہرہ پرنور ۔۔۔۔۔۔ رسمی گفتگو کے دوران ہی بچے سو کر اٹھ گئے تھے بھائی عبدالسلام سے ملنے کے بعد کھیل میں لگ گئے اور میں خانساماں کے ساتھ کچن اور رات کے کھانے کی تیاری میں ۔۔۔۔۔ وہ آغا جان کے ساتھ لان میں ہی بیٹھے تھے کچھ دیر میں آغا جان نے مجھے آواز دے کر بلایا وجاہت کو اندر لے جانے کا کہا میں وجاہت کو اندر لے گئی ۔۔۔۔۔زیبی لان میں ہی تھی ۔۔ میں بھی ان کے ساتھ لان میں آ بیٹھی بھائی عبدالسلام پودوں کی آغا جان کی باغبانی کی تعریف کرتے کیاری کے نزدیک کھڑے ہوگئے ۔۔ مجھے لگا وہ کچھ پڑھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔آغا جان نے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور زیبی کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔۔ اذان میاں سن سکو گے جو میں کہنے لگی ہوں یقین کر پاؤ گے ؟
میں کیا جواب دیتا ۔۔ اب تک بھی جو سن چکا تھا دیکھ چکا تھا اس پر یقین کرنا مشکل ہی تھا۔ میں نے استہفامیہ نظروں سے انھیں دیکھا۔۔۔۔۔۔ اذان میاں زیبی میری بچی وہ اسی بلی کے انداز میں بیٹھی تھی مگر اس کا چہرہ ۔۔ زیبی کا نہیں تھا ۔۔ اسی کالی بلی کا تھا ۔۔۔میری چیخ نکل گئی آغا جان نے مجھے بازوؤں میں دبوچ لیا ۔ زیبی چلتی ہوئی کیاری کے پاس بھائی عبدالسلام کے نزدیک جا کر لوٹنے لگی اور رونے لگی اس کی آواز سے حویلی گونج رہی تھی چوکیدار بھی یہ تماشہ دیکھ کر حواس باختہ ہوگیا ۔ بھائی عبدالسلام زمین پر بیٹھ گئے جیسے اس عفریت کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں ۔۔ کافی دیر وہ عفریت غراتی رہی روتی رہی اور پھر زیبی بے ہوش پڑی تھی ۔۔ میں اس کی طرف لپکی ۔۔ وہ بے جان تھی میں اسے لپٹا کر رو دی ۔۔ مجھے آغا جان کے ساتھ ہوئے واقعے پر مکمل یقین ہو گیا تھا ۔۔۔۔ بھائی عبدالسلام نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تسلی دی بھابی فکر نہ کریں بچی ٹھیک ہے اندر لے جائیں ۔۔۔ میں کل شام پھر آؤنگا ۔۔ آپ زیبی کو کمرے میں لٹا آئیں مجھے کچھ بات کرنی ہے
ایک نرس نے آ کر اطلاع دی زیبا کو ہوش آگیا ہے وہ رو رہی ہے۔۔۔۔ آغا جان نے اسی ڈاکٹر کو کال ملا کر صورتحال بتائی ۔۔ نرس کی بات کروائی اور نرس زیبا کے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔۔مجھے نرس کے لئے بھی خوف آیا کہ خدا جانے زیبا ہوش میں ہے نرس کے ساتھ کیا کرے۔۔۔۔ ان عفریتوں کے لئے کونسا مشکل ہے کسی کی جان لینا یا نقصان پہنچا نا ۔۔۔۔ کہیں ایسا نا ہو وہ عفریت نرس میں منتقل ہو کر آزاد ہو جائے اور ہم زیبا کو قید کئے بیٹھے رہیں ۔۔ سوچ کی یلغار تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی صبح کے پونے پانچ بجے تھے فجر کا وقت تھا ۔۔۔۔۔ یہ آپ بیتی ادھوری چھوڑنا نہیں چاہتا تھا مگر نماز ذیادہ اہم تھی آغا جانی سے اجازت لیکر میں فجر ادا کرنے چلا گیا ۔۔ واپسی پر سوچا چائے کافی اور بسکٹ لے لوں آغا جانی بھی رات سے بھوکی تھیں اسپتال کی فارمیسی کے ساتھ ہی سبزہ اور چار چھے بنچیں تھیں میں نے سگریٹ سلگائی اوہ خدا۔۔۔ میرا فون ۔۔۔شائد ڈیڈ تھا ۔۔۔ امی ۔۔۔ امی کی کال آئی ہوگی رات کو ۔۔ پریشان ہونگیں ۔۔مجھے بلکل خیال نہیں رہا ۔۔۔میں نے فارمیسی والے لڑکے سے کہا ایمرجنسی کال کرنی ہے یار چارجر نہیں ہے کیا کچھ دیر موبائل چارج کردو گے ؟؟ اس نے ہامی بھر لی میں فون اسے دیکر واپس بینچ پر آ بیٹھا ۔۔۔ سر اور جسم بری طرح دکھ رہا تھا سارے دن کی نوکری کے بعد یہ افتاد پھر پوری رات کی جاگ کی وجہ سے اس قدر تھکن ہو رہی تھی کہ بیان نہیں کر سکتا۔۔ ٹھنڈی ہوا سر سہلانے لگی اور میری آنکھیں تھکن اور نیند کے خمار کے باعث بند ہوتی چلی گئی ۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: