Billi by Salma Syed – Episode 6

0

بلی از سلمیٰ سید قسط نمبر 6

مصنفہ سے ملیں : سلمیٰ سید

۔۔۔ سر اور جسم بری طرح دکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ سارے دن کی نوکری کے بعد یہ افتاد پھر پوری رات کی جاگ کی وجہ سے اس قدر تھکن ہو رہی تھی کہ بیان نہیں کر سکتا۔۔ ٹھنڈی ہوا سر سہلانے لگی اور میری آنکھیں تھکن اور نیند کے خمار کے باعث بند ہوتی چلی گئی ۔
اچانک بلییوں کے غرانے سے میری آنکھ کھلی۔۔۔۔ سرہانے لڑ رہی تھیں ۔۔۔ میں جوتا مارنے ہی والا تھا کہ ہاتھ وہیں کا وہیں رہ گیا یہ سوچ کر پتہ نہیں یہ نارمل بلی ہے یا اس کی کزن وزن ۔۔۔۔ اپنی ہی سوچ پر ہنسی آگئی۔۔۔۔۔ دن نکل آیا دھوپ چڑھ گئی تھی نجانے کتنی دیر سویا رہا اب مجھے احساسِ ندامت نے گھیر لیا آغا جانی انتظار میں ہوں گی ۔۔ میں نے فار میسی سے اپنا چارج موبائل واپس لیا جوس چپس اور کچھ بسکٹس لے کر اندر روانہ ہوا ۔۔۔۔۔ زیبا کے کمرے کے باہر کوئی نا تھا شائد آغا جانی اندر ہوں مگر میری بلکل ہمت نہ ہوئی اندر جانے کی اور میں نے انتظار مناسب سمجھا۔۔۔۔ اس دوران امی کو کال کر کے اپنی خیریت سے آگاہ کیا اور دم کروالیا ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں یاسر اور طلحہ (چھوٹا پوتا) آتے نظر آئے ان اس پیچھے آغا جانی اور زرنگار تھیں ۔۔
میں اپنی جگہ سے اٹھ گیا ۔۔۔ آغا جانی کو ناشتے کے لئے جوس دینا چاہا تو انھوں نے بتایا زرنگار ان کے لئے لنچ لائی تھی دن کے دو بج رہے تھے۔۔۔۔۔۔ وہ چیزیں میں نے بچوں کو دے دیں ۔۔۔آغا جانی نے بتایا وہ بھی پرے ایریا میں کچھ دیر سوگئی تھیں ۔ چلو اچھا ہوا ورنہ میں تو زمین میں گڑا جا رہا تھا کہ ان کو انتظار میں بیٹھا کر خود پورا دن سو کر آگیا ۔۔۔۔
زرنگار کی موجودگی میں کیا کرتا میں وہاں ۔۔۔میری ان سے اسلام دعا بھی نہیں تھی ۔۔۔جس کرو فر سے اس کی گردن تنی رہتی تھی صاف ظاہر تھا وہ یا تو خوبصورتی کے زعم میں مبتلا تھی یا اپنے اسٹیٹس کو لیکر قدم زمین سے نہیں لگتے تھے ۔۔۔ لوگوں کو یوں دیکھتی جیسے کیڑے مکوڑے ہوں ۔۔۔ حد درجہ مغرور ۔۔۔ مجھے الجھن ہونے لگی ۔۔۔
فیکٹری سے کال پر کال آرہیں تھیں میں باہر نکل آیا اور باس سے کہا کچھ نجی مسائل ہیں اسپتال میں ہوں کوئی قریبی رشتے دار بیمار ہے ایمر جنسی ہے میں نہیں آ سکوں گا۔۔۔ دوسرے دن وقت پر پہنچنے کی تاکید کرتے ہوئے باس مطمئن ہوگئے ۔۔۔
میں واپس اندر آیا تو آغا جانی رنجیدگی سے زیبا کا حال زرنگار کو بتا رہیں تھیں اور وہ سپاٹ چہرہ لئے فون میں سکرولنگ۔۔۔مجھے کہنے لگیں اذان میاں چاہو تو جا سکتے ہو شام تک زرنگار یہاں ہیں شام کو انہیں جانا ہوگا تو کیا آپ رات میں یہاں آ سکتے ہیں ؟ وجاہت یہاں ہوتے تو میں آپ کو زحمت نہ دیتی ۔۔
ارے آغا جانی بیٹا کہہ کر اب زحمت کی بات تو نہ کریں ۔۔ اسپتال میں ایک مرد کا ساتھ ہونا ضروری ہے ۔۔ میں عشاء کے بعد آجاؤں گا .. ان سے رخصت لے کر فیکٹری جانے کا ارادہ کیا مگر ابھی ابھی باس کو اتنی راگ پٹی دی ہے سب جھوٹ سمجھتا ۔۔۔کہ لو ابھی تو ایمرجنسی اسپتال میں تھا اب کیسے فیکٹری آگیا؟؟ اگر مجھے پہلے علم ہوتا زرنگار شام تک رہے گی تو میں باس سے کہہ دیتا کہ کچھ دیر کے لئے آ جاتا ہوں ۔۔۔۔ مگر اب نہیں۔۔۔۔ رات پھر جاگنا تھا ۔۔۔مجھے نہیں لگتا زیبا کو دو چار روز سے پہلے چھٹی ملے تو سوچا گھر جا کر آرام کرنا بہتر ہے
گھر پہنچ کر فریش ہوا ظہر ادا کی شام کے لئے کپڑے استری کئے ذہن انہی ساری باتوں کو دہراتا رہا اور بس لیٹ گیا ۔۔۔سوچتے سوچتے سوگیا ۔۔۔۔۔ شام کا جھٹپٹا ہونے لگا تھا جب آنکھ کھلی۔۔۔۔ نوکری کی وجہ سے میری ایک روٹین تھی۔۔۔ جلدی سونا جلدی اٹھنا ۔۔ مگر بے وقت سونے جاگنے سے طبیعت میں بھاری پن محسوس ہورہا تھا کچھ دیر نیوز دیکھیں کسی کام میں ذہن حاضر نہیں تھا مغرب ادا کر کے میں اسپتال کے لئے روانہ ہوگیا راستے سے دو پیکٹ بریانی لے لی۔۔۔۔۔ زیبا کی حالت کچھ بہتر ہوئی تو آغا جانی کے حلق سے نوالہ اتر سکے گا اللہ پاک اس لڑکی کو شفا دے غیر ارادی طور پر دل اس کے لئے دعا گو تھا ۔۔
اسپتال میرے گھر سے دور تھا راستے میں عشاء ہوگئی ۔۔۔ اسپتال کی مسجد میں ہی عشاء ادا کی اور وارڈ کا رخ کیا ۔۔۔ آغا جانی اور وہی مولوی بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔ آج پہلی بار آغا جانی نے اس بندے سے میرا تعارف کرایا ۔۔۔ اسکا نام طاہر علیمی تھا اور وہ جامعہ نعیمیہ میں پڑھاتا تھا ۔۔۔۔عمر کچھ اتنی زیادہ بھی نہیں تھی لیکن حلیئے سے بڑا لگ رہا تھا مجھ سے مل کر اس نے رخصت چاہی تو آغا جانی نے روک لیا اور کہا کہ بات پوری کر کے جائیں اذان میاں سب جانتے ہیں ۔۔۔ طاہر علیمی ایک عامل بھی تھے اس لئے زیبا کی جان اس عفریت سے بچانے کے لیے ان کا ہمدانی ہاؤس میں آنا جانا رہتا تھا۔۔ طاہر علیمی نے بتایا کہ وہ عفریت کسی قیمت پر زیبی کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ وہ بات نہیں کرتی یا شائد کسی ایسی زبان میں بات کرتی ہے جس کا مجھے علم نہیں ہے ۔۔۔۔۔میں اتنا کوئی بڑا عالم نہیں ہوں بس بچی کے سکون کے لئے اسے دم کر دیا کرتا ہوں مگر اب یہ معاملہ میرے ہاتھ سے نکلتا محسوس ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ایک تو عفریت انتقام پر آمادہ ہے دوسری غلطی زیبا کی شادی کر کے ہوئی ۔۔ جب زیبا نے شادی سے انکار کردیا تھا تو آپ کو زور زبردستی نہیں کرنی چاہئے تھی ۔۔۔۔۔
زیبا کی شادی ؟؟
کب ؟؟
کس سے ؟؟؟
اس حالت میں شادی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔
میں نے شادی کے ذکر پہ آغا جانی کی سمت دیکھا تو انھوں نے آنکھوں کے اشارے سے مجھے چپ رہنے کو کہا ۔۔ میں طاہر علیمی کی بات سنتا رہا ۔۔آغا جانی نے ان سے دعا کی درخواست کی اور طاہر نے اپنے پیر صاحب سے رابطہ کرنے کی یقین دہانی کروا کر رخصت لی ۔۔۔۔
میرے ذہن کے پرزے ایک بار پھر حرکت میں آچکے تھے اور دھڑا دھڑ بے حساب سوال پہ سوال گھڑنے لگے ۔۔۔ آغا جانی سے زیبا کی طبیعت دریافت کی ۔۔ انھوں نے بتایا زخم بہتر ہے اور معدے میں معمولی انفکشن تھا وہ اب پہلے سے بہتر ہے مگر ڈسچارج کل صبح کریں گے البتہ پاؤں کی بینڈیج روز ہونی ہے جو گھر میں بھی ہو سکتی ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر چونکہ وجاہت کا دوست ہے اور اتنا ہی جانتا ہے کہ وجاہت کی بہین کو کوئی دماغی عارضہ ہے اس لئے ہر ٹریٹمنٹ زیبا کی بے ہوشی میں ہو ورنہ وہ ہائپر ہو جاتی ہے ۔۔ اس لئے زیبا جب سے ایڈمٹ تھی اسے مستقل ذہنی سکون کی ادویات دی جارہی تھیں اسی لیے وہ تمام وقت نشے کی حالت میں رہی ہے۔۔۔ وجاہت ہمدانی کی کال آئی تو میں اٹھنے لگا مگر آغا جانی نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔ میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔ مجھے اچھا نہیں لگتا کوئی فون پر بات کرے تو اس کے منہ کے آگے بیٹھے سب سنتے رہو مگر اس وقت آغا جانی نے خود بیٹھے رہنے کا کہا تھا ۔۔۔

Read More:  Churian Drama by Saadat Hasan Manto Read Online – Episode 2

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: