Billi by Salma Syed – Episode 8

0

بلی از سلمیٰ سید قسط نمبر 8

مصنفہ سے ملیں : سلمیٰ سید

زیبی اس عفریت کا روپ دھارے منہ میں ادھ مرا کبوتر لئے الماری کے اوپر بیٹھی نظر آئی ۔۔ اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا اور چہرے پر خباثت ۔۔وہ کبوتر پنجوں میں دبائے منہ سے اس کا ایک ایک پر نوچ رہی تھی اور کبوتر ۔۔۔۔۔ بند کمرے میں کبوتر آیا کہاں سے ؟
بھائی عبدالسلام کچھ دیر پڑھن پڑھتے رہے اور وہ آرام سے کبوتر نوچ نوچ کے کھاتی رہی۔۔۔۔۔۔ اس کے پنجے اور منہ خون میں لتھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔ وہ اچھلتی کودتی الماری پر ٹہل رہی تھی ۔۔۔۔۔ اچانک اس نے ایک دلخراش چیخ ماری اور اچھل کر زمین پر آئی ۔۔۔ آغا جان کے سینے میں منہ چھپاتے ہوئے مجھے ان کی بے تحاشہ تیز دھڑکن سنائی دی ۔۔۔ وہ زمین پر اتر کے لوٹتی رہی اس کی منحوس چیخوں کے سوا دوسری کوئی آواز نہیں تھی۔۔۔۔۔ وہ رو رہی تھی ۔۔۔۔ روتے روتے اپنا منہ الماری پر رگڑنے لگی ۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے چہرے سے تمام بال جھڑ گئے ۔۔۔
اوہ میری بچی ۔۔۔ میری زیبی ۔۔۔ میرا دل چاہا بھاگ کے اسے سینے سے لگا لوں میں آگے بڑھی ۔۔۔ آغا جان نے مجھے دبوچ لیا ۔۔۔ بھائی عبدالسلام نے مجھے پیچھے مڑ کے دیکھا ان کی آنکھوں میں جلال دیکھ کر میرے قدم وہیں جم گئے ۔۔۔ اگلی نظر زیبی پر پڑی تو وہ اسی بلی کی صورت میں موجود رو رہی تھی ۔۔ بھائی عبدالسلام پڑھن پڑھتے رہے اور پھر ایک وقت آیا کہ اس کے رونے میں کمی آئی ۔۔۔ وہ پاؤں پسار کے بیٹھ گئی ۔۔۔ ہلکے ہلکے سانس لے رہی تھی ۔۔۔۔ پتا نہیں کیا اول فول بک رہی تھی۔۔۔ یہ شائد بات چیت پر آمادہ ہونے کا اشارہ تھا۔۔۔
لگ رہا تھا جیسے بہت سے لوگ کچھ بڑ بڑا رہے ہوں ۔۔ آواز گونج رہی ہو ۔۔۔۔۔مگر وہ کیا کہہ رہی تھی بلکل انجان بولی ۔۔۔ نامانوس زبان ۔۔۔۔۔
رابعہ نے کہا ہاں انکل یہ ایجپشین ہے ۔۔ اور ایجپٹ کی بھی بہت قدیم زبان میں بات کر رہی ہے ۔۔۔۔ بھائی عبدالسلام کے چہرے پہ فاتحانہ مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔۔بیٹی جو بھی میں کہوں آپ لفظ بہ لفظ وہی دہرائیں اس شاطر کی زبان میں۔۔۔۔۔ اور جو یہ کہے وہ ہمیں بتائیں۔۔۔ رابعہ نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔
وہ عفریت رابعہ پر لپکی مگر اتنی ہی تیزی سے دور جا کر گری ۔۔ یہ شائد تعویزات کی کرامات تھیں کہ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا پا رہی تھی وہ چوٹ کھا کے پھر تڑپ اٹھی ۔۔۔ وہ مستقل بول رہی تھی اور رابعہ نے بتانا شروع کیا ۔۔۔
کیا چاہتا ہے مجھ سے ؟؟؟
کیوں اس جسم میں قید کیا ہے مجھے ؟
مجھے جانے دے آدم زاد ۔۔۔ تیری میری کوئی دشمنی نہیں ۔۔۔
بھائی عبدالسلام بولے جسکا ترجمہ رابعہ نے کیا۔۔۔
اس معصوم کے جسم میں تجھے ہم نے بلایا ضرور ہے قید نہیں کیا ۔۔ بس ہمارے سوالات کا جواب دے اور دفعان ہوجا۔۔
کیا نام ہے تیرا اور کیوں اس بچی کو اپنا شکار بنایا ہے ؟
شکار ہاہاہاہا شکار ۔۔۔
تم آدم زاد کتنے بے رحم ہوتے ہو ۔۔
بے گناہ جان لے لیتے ہو اور جب اپنے اوپر بات آتی ہے۔۔۔۔۔ جرم چکانا پڑتا ہے۔۔۔۔ تو جان نکلنے لگی ہاہاہاہا
نہیں چھوڑوں گی کسی کو نہیں چھوڑوں گی میں ۔۔۔
مجھے بدلا چاہئے بدلا ۔۔۔
کیسا بدلا ؟
کیا نام ہے تیرا کیوں آئی یہاں کہاں سے آئی ہے ؟
وہ عفریت کمرے میں گشت کرتی رہی کوئی جواب دینے کو تیار نہیں تھی ۔۔
بھائی عبدالسلام نے جیب سے ایک بوتل نکالی اور چلّو میں پانی لیکر پڑھا اس کی طرف اچھالا ۔۔۔ وہ لوٹنے لگی اور بین کرنے لگی ۔۔۔ یوں لگتا پانی نہیں تیزاب اچھالا ہو ۔۔۔ اس کی جلد سے دھواں اٹھتا محسوس ہوا۔۔۔
ظالم آدم زاد مجھے مجبور نہ کر
یہ بچی میرا نشانہ نہیں ہے
میرا اصل انتقام اس سے ہے جو تیرے پیچھے چھپا ہے ۔۔ ڈر پوک نا مرد ۔۔۔۔ سامنے آ ۔۔۔۔۔
اس کے باپ نے مجھے قتل کیا ہے
میں اس کو نہیں بخشوں گی ۔۔۔
تیرے ان شعبوں سے بچی کی جان جائے گی ۔۔
یہ پانی مت اچھال مجھ پر
تجھے تباہ کر دوں گی میں۔۔۔
جو جو میں نے پوچھا ہے اس کا جواب دے پہلے ۔۔۔
غراہٹوں کے ساتھ اس نے بتانا شروع کیا ۔۔۔
اس کا نام ابایومی ہے اور وہ جناتوں میں سے ہے۔۔۔
جناتوں میں سے ہے تو انسانوں میں کیا کرنے آئی ہے
تجھے علم نہیں کہ انس وجن کے درمیان رب نے ایک فصیل بنائی ہے ….
ایک حد بندی قائم کی ہے سزا کی مستحق تو. تو ہے۔۔۔۔
تو نے حد توڑی ہے
اس میں آغا کا کوئی قصور نہیں…
تو نے اسے مجبور کیا کہ وہ تجھ پر حملہ کرے ۔۔
تو کیوں ان انسانوں کے اتنے نزدیک آئی اور اس بچی پر جھپٹی ؟
وہ تلملانے لگی ۔۔
میں نہیں جھپٹی ۔….
میں نے کوئی حملہ نہیں کیا…..
میں نے کوئی نقصان نہیں پہنچا یا پوچھ اس آدم زاد سے میں کتنے دن سے اس کے گھر آتی رہی ….
میں نے کبھی گھر کے اندر قدم رکھا؟؟؟
کوئی نقصان پہنچا یا ؟؟؟
ڈرایا دھمکایا کسی پر سوار ہوئی ؟؟؟
میں نہیں مانتی تیرا مذہب اور اس کے قانون۔۔۔۔
میری پوجا ہوتی رہی ہے مصر کے ایوانوں میں جا جاکر دیکھ میں دیوی ہوں ۔۔۔۔ ابایومی ۔۔۔۔۔
تو جھوٹ بولتی ہے مکار تو نے بچی پر حملہ کیا اور اس کے باپ نے اپنی بچی کے بچاؤ میں تجھے مارا
جس سے تیری جان گئی۔۔۔۔
وہ پھر غرائی ۔۔۔
میں نے حملہ نہیں کیا میں کھیلنے لگی تھی اس بچی کے ساتھ۔۔۔
میں مہینوں سے بیٹھ کر ان کا کھیل دیکھتی رہی ہوں اس دن ان کی بال میرے نزدیک آ گری اور میں آگے بڑھی کہ اس آدم زاد نے ہتھیار سے مجھ پر حملہ کیا ۔۔۔
اوہ میرے خدایا یہ مجھ سے کیا ہو گیا ۔۔۔
آغا جان سر پکڑ کر بیٹھتے چلے گئے۔۔۔۔ جانے انجانے انھیں لگا بلی حملہ آور ہوئی ہے مگر بقول اس کے وہ زیبی کے ساتھ کھیلنا چاہتی تھی۔۔۔
مگر کھیلا بھی کیوں چاہے کوئی جن انسان کے ساتھ ۔۔
آغا جان نے کہا۔۔۔۔۔۔ بھائی عبدالسلام میں ہاتھ جوڑ کر اس سے معافی مانگتا ہوں
مجھ سے غلطی ہو گئی
میں صرف اس کو اپنی بچی سے دور کرنا چاہتا تھا اس کی جان لینے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔۔۔
آغا جان ہاتھ جوڑ کر رو دیئے۔۔
رابعہ نے آغا جان کی کہی ہوئی بات دہرائی ۔۔
ابایومی ہنسنے لگی ۔۔
غلطی ہوگئی؟
میری جان گئی اور تیری غلطی ہوگئی؟
میں تجھے معاف نہیں کروں گی ۔۔۔۔
اب تو اپنی لڑکی میں ہمیشہ مجھے پائے گا اور تیری یہ غلطی تجھے برباد کردے گی ۔۔۔۔
اس عفریت کے قہقہے کمرے میں گونج رہے تھے ۔۔۔۔ وہ آوازیں کانوں کو چیر رہیں تھیں۔۔
اذکار کی کثرت اور خوف سے ہماری زبانیں خشک ہوئی جارہیں تھیں ۔۔۔
بھائی عبدالسلام نے کہا ۔۔
دیکھ ابایومی ۔۔۔
معاملہ صاف ہے ۔۔
جو ہوا حادثاتی طور پر ہوا ۔۔۔
آغا تیری جان لینا نہیں چاہتا تھا اور ویسے بھی تیری جان گئی تو نہیں۔۔۔۔
تو مری تو نہیں تو زندہ ہے اور قابص ہے دیکھ یہ معصوم بچی اسکا کیا قصور ہے چھوڑ جا اسے ۔۔۔
ویسے بھی وہ ایک جسم تھا جو مٹ گیا۔۔۔۔
تجھے جسموں کی کمی نہیں۔۔۔
معاف کردے انھیں ۔۔
تیرا تعلق جس بھی مذہب سے ہو کوئی مذہب بے گناہ کو سزا نہیں دیتا بات مان ۔۔۔
بے گناہ؟
یہ میرا گناہ گار ہے ۔۔۔
جسم کے بدلے جسم ۔۔
مجھے اس کی بچی کا جسم پسند آگیا ہے ۔۔۔۔ اس کی آنکھیں دیکھ ۔۔۔ کیسی بھوری بھوری ہیں ۔۔ اور اس کی جلد سفید۔۔۔ میرے جیسے سیاہ بال ۔۔۔ یہ میرے جیسی ہے ۔۔ مجھے اس کا جسم چاہیے ۔۔۔۔
بس اب مجھے آزاد کر۔۔۔۔ مجھے اس جسم سے نکلنے دے۔۔۔
ورنہ میں اس بچی کو مار دوں گی۔۔
اب پانی سر سے گزر چکا تھا اور بدلے کی آگ میں ابایومی اندھی ہوچکی تھی وہ کسی قیمت پہ زیبا کو چھوڑے گی۔۔۔۔۔۔ اس سے کوئی بعید نہیں تھی کہ وہ زیبا کو مار دیتی ۔۔۔۔
بھائی عبدالسلام کو بھی اس بات کا اندازہ تھا انھوں نے ایک آخری کوشش کی کہ ابایومی زیبا کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ جائے ۔۔۔۔ ہماری انجانے میں ہوئی خطا معاف کردے ۔۔۔۔ مگر وہ بضد تھی ۔۔۔ یہ مخلوق طاقت کے زعم میں ڈھیٹ ہوتیں ہیں ۔۔۔۔۔
بھائی عبدالسلام نے اذکار بلند کئے اور بوتل میں سے پانی کے چھینٹے پڑھ پڑھ کر زیبی کی طرف اچھالے وہ تڑپنے لگی جیسے پانی نہیں تیزاب کے چھینٹے ہوں اس کی جلد پر آبلے پڑنے لگے ۔۔۔ اوہ میری زیبی۔۔۔۔
مگر بھائی عبدالسلام نہیں رکے ہم سب کو ایک طرف کر کے وہ یہ عمل دہراتے رہے۔۔۔۔ بالآخر وہ بے دم ہوکے بیٹھ گئی ۔۔۔ بھائ عبدالسلام آگے بڑھے اور پڑھ پڑھ کر پھونکتے رہے وہیں اس کے پاس بیٹھ گئے ۔۔۔ وہ بے سدھ پڑی تھی ۔۔۔ پڑھن پوری کرتے کرتے ابایومی زیبی کا بدن چھوڑ کے جا چکی تھی زیبی اصل حالت میں آگئی ۔۔۔۔ بھائی عبدالسلام نے جیب سے ایک کالے رنگ کا چمڑے سے منڈھا تعویذ نکالا اور زیبی کے گلے میں ڈال دیا۔۔ ۔۔
تعویذ کے گلے میں پڑتے ہی ایک ان دیکھی نحوست چھٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔ کچھ روشن ہوا تھا۔۔۔
آغا جانی نے اپنی بات ختم کی اور میں نے بوتل سے منہ لگا کے بہت سا پانی حلق میں انڈیلا۔۔۔ یہ سب سن کر میں خود سانس لینا بھول گیا تھا حلق میں کانٹےپڑتے محسوس ہوئے ۔۔۔
شکر اللہ کا۔۔۔ اس عفریت سے جان چھوٹی ۔۔۔
مگر یہ بلی ؟؟ یہ کوئی نئی بلی آگئی کیا ؟ یہ ہی سب سوچتے ہوئے میں نے پھر سوال کیا۔۔۔۔
۔۔۔ پھر آغا جانی ۔۔۔ پھر کیا ہوا ؟
زیبا ٹھیک ہوگئی اس بلا سے ہماری جان بخشی ہو گئی بھائی عبدالسلام نے بتایا کہ یہ مخلوق بنی ہی آگ سے ہے اس کو جلایا یا مارا نہیں جاسکتا قید کیا جاسکتا ہے یا دور کیا جا سکتا ہے ۔ ۔اس کا واحد حل حفاظت کے تعویزات اور اذکار ہیں ۔۔۔
میں نے عملیات کے زور پر اسے دفعان کردیا ہے۔۔۔ بس اب یہ خیال رکھیں کہ یہ یہ اذکار آیات روز بلا ناغہ آپ یا آغا دم کریں ۔۔۔ اور چھینٹے دیں ۔۔۔ اس بات کو یقینی بنائیں کے یہ تعویذ کبھی گلے سے نہ اتارا جائے ۔۔۔اور ایک بات ۔۔جتنی جلد ہو سکے یہ حویلی چھوڑ دیں ۔۔۔
آغا جان اور میں رابعہ اور بھائی عبدالسلام کے بہت ممنون تھے ۔۔۔انھیں تحائف دینے چاہے ۔۔۔اذان میاں اگر وہ آغا جان سے ان کا سب کچھ بھی مانگ لیتے تو ہم انکار نہ کرتے بخوشی سب کچھ ان پر نچھاور کر دیتے مگر یہ ہی ظرف ہوتا ہے اللہ والوں کا ان میں طمع نہیں ہوتی لالچ نہیں ہوتا وہ اللہ اور اس کے محبوب کی خوشنودی کے لیے یہ سب کرتے ہیں دنیاوی مال و دولت ان کے لئے بیکار تھی ۔۔ وہ ہماری خوشی میں خوش تھے ۔۔۔۔۔ انھیں دعا کے سوا کوئی صلہ درکار نہ تھا ۔۔۔۔کہنے لگے ۔۔ صبیحہ بھابی دعوت ادھار ہے آپ پر۔۔۔۔ اب ایک کی جگہ تین مہمانوں کی مہمان نوازی کرنی پڑے گی آپ کو ۔۔۔
بیٹا تین کی کیا ؟؟ تین کے تین سو بھی ہوتے تو ہماری سر آنکھوں پہ تھے ۔۔ ہمارے گھر کی رونق لوٹائی تھی اللہ کے حکم سے ۔۔ ہم تو نہال تھے ۔۔۔
پہلی بار آغا جانی مسکرائیں تھیں۔۔۔مگر مسکراہٹ میں بھی درد تھا ۔۔۔فجر کی اذانیں ہورہیں تھیں وہ عبادت کے احاطے کی طرف روانہ ہوئیں اور میں مسجد ۔۔۔ فجر ادا کر کے میں یہ دعا کرتا رہا یارب اب بھی آج کی دنیا میں بھی کوئی ایسا اللہ والا ہے کوئی مرد مومن جو زیبا کو اس مصیبت سے نجات دلا سکے ؟ اے ربِ رحیم۔۔۔ تیرے قبضہ قدرت میں کیا نہیں ۔۔۔ غیب سے اسباب پیدا فرما ان کی مدد کر ۔۔۔۔۔
مومن کی دعا اگر مومن کے حق میں پیٹھ پیچھے خلوصِ دل سے مانگی جائے تو رب کبھی مایوس نہیں لوٹاتا اس بات پر مجھے یقینِ کامل ہے ۔۔۔ میں نے دیوار سے ٹیک لگا کے پاؤں سیدھے کئے اور پتا نہیں کب دل ہی دل دعا کرتے میری آنکھ لگ گئی۔۔۔۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: