Billi by Salma Syed – Episode 9

0

بلی از سلمیٰ سید قسط نمبر 9

مصنفہ سے ملیں : سلمیٰ سید

صبح گیارہ بجے میری آنکھ کھلی ۔۔۔۔۔کوئی بہت خوبصورت آواز میں کلام پاک کی تلاوت کرہا تھا ۔۔۔اتنی میٹھی آواز اتنی حسین قرآت۔۔ لہجہ میں محبت ۔۔۔ بہت پر سکون ماحول تھا ۔۔ فون کی بیل بجی ۔۔۔وجاہت ہمدانی ؟؟ مگر کیوں ؟؟
جی سر ؟؟
اذان صاحب آپ کہاں ہیں آغا جانی کے پاس آپ کا نمبر نہیں ہے انھوں نے مجھے کال کر کے کہا ۔۔۔ آپ گھر پر ہیں کیا؟؟
نہیں نہیں میں مسجد میں ہوں میں سوگیا تھا معزرت خواہ ہوں۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں ۔۔۔
جائیں وہ آپ کا انتظار کر رہیں ہیں ۔۔۔۔
اوہ شائد زیبی کو ڈسچارج کر رہے ہوں ۔۔۔۔
جی جی میں جاتا ہوں اسپتال کی مسجد میں ہی ہوں میں ۔۔۔ کال منقطع۔۔۔
عجیب آدمی ہے ۔۔
میں وارڈ کی طرف روانہ ہوا آغا جانی میری منتظر تھیں ۔۔۔اذان میاں خوب نیند آئی آپ کو ؟؟
معذرت آغا جانی ۔۔۔
ارے نہیں بیٹا ۔۔ہمیں احساس ہے ۔۔یہ آپ کی اعلی ظرفی اور بہترین تربیت ہے جو آپ نے بغیر کسی مطلب کے بے لوث ہماری مدد کی ہماری وجہ سے ہمارے ساتھ پریشانی جھیلی ۔۔۔۔انھوں نے بڑھ کر میرے سر پر ہاتھ پھیرا مجھے امی کی بے حد یاد آئی میں نے نم آنکھوں سے ان کے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دیا ۔۔۔۔
خوش رہیں ۔۔۔بہت ترقی کریں اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔۔۔آپ یہ ہی سمجھیں ایک ماں آپ کی کراچی میں بھی ہیں ۔۔۔دل چھوٹا نہ کریں ۔۔ ہم جو ہیں ۔۔ کتنی شفیق مہربان مسکراہٹ تھی ۔۔۔ مائیں ایک سی ہوتیں ہیں آغا جانی کو اندازہ ہو گیا تھا میں امی کو یاد کر رہا ہوں ۔۔
یہ کام روزگار کی دوڑ دھوپ نہ ہو تو میں ایک دن مزید کراچی میں رہنا گوارہ نہ کروں مگر نوکری ہے مجبوری ہے ورنہ اولاد چاہے خود والدین کیوں نہ بن جائے کبھی ماں کی نرم آغوش چھوڑنا نہیں چاہتی ۔۔
ڈاکٹر .. زیبا کی ڈسچارج شیٹ تیار کر چکا تھا ۔۔وہ ابھی بھی بے ہوش تھی مجھے اس کی حالت پر بہت ترس آیا ۔۔۔ بے جان نازک بدن اسٹریچر کے شکنجوں میں جکڑا ہوا ۔۔اللہ اس پر رحم کر ۔۔۔
اگلے ہی لمحے رضا کار پر کیا گیا حملہ ذہن میں گھوم گیا اور ان شکنجوں پر شکر ادا کیا ۔۔۔
ایمبولینس میں زیبا اور میری گاڑی میں آغا جانی ۔۔ ہم ہمدانی ہاؤس پہنچے رضا کاروں نے ادھ مری لڑکی کو اسی تعفن زدہ کمرے میں ڈال دیا ۔۔۔اور آغا جانی نے اس کے دوسرے پاؤں میں زنجیر۔۔۔
مقفل۔۔
آج اتوار کا دن تھا فیکٹری تو جانا نہیں تھا میں آغا جانی سے اجازت لیکر گھر روانہ ہوا ۔۔۔ بے حد تھکن تھی ۔۔ لنچ کے بعد سونا چاہا مگر اب سوگیا تو رات جاگتے گزرے گی اور اکیلے جاگنے سے مجھے ویسے ہی وحشت ہوتی تھی کچھ دیر ٹی وی دیکھا ۔۔۔ پھر سوچا امی سے بات کروں ۔۔ بہت مس کر رہا تھا ۔۔۔
کیسی ہیں امی ؟
مولا کا کرم ۔۔ تم بتاؤ ۔۔ کیسے ہو طبعیت ٹھیک ہے ؟ کیا بات ہے بیٹا ؟
کچھ نہیں امی ۔۔۔۔ میری آواز بھاری ہونے لگی ۔۔
اذان میرے بچے مجھے بتاؤ کیا بات ہے ۔۔ دیکھو یوں پریشان مت کرو مجھے ۔۔
امی کچھ نہیں ناں ۔۔۔ بس آپ کی کمی محسوس کر رہا ہوں فیکٹری میں درخواست دیتا ہوں چھٹی کی ….چکر لگاتا ہوں گھر ۔۔ بہت دن ہوگئے ۔۔۔۔
مجھے پتا ہے امی مسکرائیں ہیں۔۔۔
ہاں میری جان چھٹی لو اور آجاؤ میں تو کہتی ہوں یہیں نوکری دیکھ لو ۔۔۔
جی امی ۔۔اتا ہوں پھر دیکھتے ہیں ۔۔ اور سنائیں ۔۔۔
بہت دیر تک امی سے باتیں کر کے دل ہلکا پھلکا سا ہوگیا ۔۔۔
اتوار کا دن ہی ایسا ہے کہ جی بھر کے بات ہو پاتی ہے۔۔۔
پیر کی صبح فیکٹری پہنچا تو اکثر لوگوں نے میرے اس رشتے دار کی خیریت دریافت کی اور صحتیابی کیلئے دعا دی ۔۔ میں دل ہی دل مسکراتا رہا ۔۔۔ کام دگنا ہو گیا تھا دو دن کی چھٹی سے ۔۔۔میں چھٹی کرتا ہی نہیں تھا یہاں ایسا کچھ تھا ہی نہیں نہ کوئی رشتہ دار نہ دوست نہ تقریبات چھٹی کرکے بھی کیا کرتا ٹی وی دیکھنے کے لئے ایک دن کی مزدوری کٹوانا حماقت کے سوا کیا تھا سو میری غیر حاضری سبھی نے محسوس کی ۔۔۔
روز کی طرح آج بھی چھے بجے میں ہمدانی ہاؤس میں تھا اور شائد اب مجھے اس بدبو کی عادت ہی پڑ گئی تھی جبھی کم محسوس ہورہی تھی ۔۔ آغا جانی ہال میں ہی تھیں سلام دعا کر کے خیریت لی اور زیبا کے بارے میں پوچھا ۔۔۔
بیٹا کیا کہیں ۔۔ کیسی بے ۔۔ گھر تو لے آئے ہیں بینڈیج بھی بے ہوشی میں ہو سکتی ہے ۔۔ مگر دوا کیسے دیں؟
یہ واقعی ایک غور طلب بات تھی ۔۔
آغا جانی زیبا کے کھانے میں ملا دیں دوا۔۔
آپ کو لگتا ہے وہ کھانا کھاتی ہوگی ؟
وہ صرف دودھ پر زندہ ہیں ۔۔ کبھی میں دم کیا ہوا پانی بھی دودھ میں شامل کردوں تو پیالہ الٹ دیتی ہیں۔۔۔
پھر کیا کیا جائے ۔۔ معدے کے انفکشن کے لئے دوا لازمی ہے اسپتال میں تو ڈرپ کے زریعے دی جاتی رہی ہے۔۔مگر گھر میں ڈرپ بھی ممکن نہیں ۔۔ ذہنی سکون کی ادویات کے بنا کوئی بھی ٹریٹمنٹ نہیں دی جاسکتی ۔۔
انھیں اسی سوچ میں مبتلا چھوڑ کہ میں بچوں کو پڑھانے کی اجازت لے کر اوپر آگیا ۔۔ پہلے ہی دو روز کا ناغہ ہو چکا تھا اور امتحان سر پر ہیں۔۔
پوچھنے اور جاننے کی تو ایک سو ایک باتیں ہیں میرے پاس ۔۔۔ سب سے ذیادہ تجسس زیبا کی شادی کو لیکر ہے ۔۔ کیا شادی بھی بے ہوشی کی حالت میں کی ہوگی ؟؟ لیکن وہ تو ٹھیک ہوگئی تھی نا ۔۔۔ تو اب یہ سب کیا ہے ؟؟
بچوں کو پڑھانے کے بعد نیچے اترا تو اسپتال سے نرس اور رضا کار ہال میں موجود تھے ۔۔ میں نے آغا جانی کی طرف رخصت طلب نظر ڈالی تو انھوں نے مجھے بلایا ۔۔ اور بتایا کہ زیبی کی طبیعت پھر بگڑ گئی ہے واپس اسپتال لے جانا ہے ۔۔۔
میں ساتھ چلوں آغا جانی؟
اذان میاں آپ کو زحمت ہوگی ۔۔۔۔ زرنگار سے کہہ کر ہم نے انتظام کرلیا ہے ۔۔
تو کیا مسز وجاہت آپ کے ساتھ رک رہیں ہیں ؟
نہیں بیٹا وہ کیسے رک سکتیں ہیں ۔۔ وہ مصروف ہیں آج بھی ۔۔۔
پھر میں چلتا ہوں آپ کے ساتھ۔۔۔
اذان میاں آپ کو نوکری پیاری نہیں؟؟
آغا جانی ۔۔۔ ماں کو سہارا دینے سے زیادہ کچھ اہم نہیں ۔۔۔
جیتے رہیں مولا خوش رکھے ۔۔۔
زیبا کے کمرے میں اسی روز کی طرح میں اور آغا جانی تھے ۔۔وہ بہت لاغر ہوگئی تھی ۔۔۔ آغا جانی نے زنجیر میرے ہاتھ میں دی اور تالا کھولا اور ہم آہستہ آہستہ اسے چلاتے باہر لائے
آج میرے ہوش و حواس ٹھکانے پر تھے اور مجھے اندازہ تھا کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔ رضاکار نے انجکشن گھونپا اور میں نے زنجیر کو ہاتھ کے گرد بل دیئے ۔۔۔۔ وہ غرا کے پلٹی مگر حملہ نہ کر سکی ۔۔۔۔ زنجیر اس کے پیر میں تن گئی ۔۔۔ اس نے میری طرف دیکھا ۔۔۔ وہ لپکی ۔۔ افففف میں لرز گیا۔۔۔ آغا جانی زیبی زیبی پکارتی رہیں. پچکارتی رہیں۔۔۔ مگر وہ جست لگا کر مجھ پر چڑھ چکی تھی۔۔۔۔ خوف کے مارے میری آنکھیں بھنچ گئیں وہ میرے سینے اور پیٹ پر چڑھی تھی بدبو اور خوف سے میں نے خود کو بے ہوش ہونے کے قریب پایا ۔۔۔
وہ تمام خوفناک واقعات لمحہ بھر میں ذہن نے دہرا دیئے ۔۔ اس نے اپنی لپلپی تھوک میں لپٹی زبان میرے منہ پر پھیری ۔۔۔۔
استغفار استغفار۔۔
ایک بوجھ میرے سینے پر آگرا ۔۔ دل بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔۔ وہ بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔
میں نے یکدم اسے نیچے دھکیلا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔۔ میری ٹانگوں میں جان نہیں تھی ۔ سب کچھ سن ہوگیا ہر آواز ہر حرکت ۔۔۔۔ سائیں سائیں گونج رہی تھی اور زبان کی لپ لپ ۔۔۔ استغفار۔۔۔
اذان میاں پانی لیں ۔۔۔ آپ ٹھیک ہیں ؟ کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہوا ۔۔
میں نے سر جھٹکا حواس بحال ہوئے وہی پانی چہرے پر ڈالا مجھے خود سے گھن آرہی تھی ۔۔۔
کچھ دیر لگی مجھے نارمل ہونے میں ۔۔۔
ہم اسپتال روانہ ہوئے ۔۔۔
وجاہت کی پہچان کے باعث زیبی کا ٹریٹمنٹ ہمارے جانے سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا ۔۔۔ مجھے چپ لگ گئی ۔۔۔
اذان میاں ۔۔۔ آپ ٹھیک ہیں ؟؟
جی ۔۔۔ جی بہتر ہوں میں ۔۔ مگر چہرے پر بارہ بجے ہر دیکھنے والا دیکھ سکتا تھا ۔۔۔
اذان میاں ہم معذرت خواہ ہیں ۔۔۔
ارے نہیں نہیں آغا جانی ۔۔
اذان میاں جو کچھ آج ہوا ہے ۔۔ ہمیں ڈر تھا کہ یہ سب اس وقت ہونا تھا جب آپ سے زنجیر چھوٹی تھی ۔۔۔تب ہی ہم نے آپ سے کہا تھا کہ زرا ہمت کرنا ہوگی ۔۔۔
آغا جانی مجھے بلکل ایسی توقع نہیں تھی میں اچانک حملے سے بوکھلا گیا تھا۔۔
آغا جانی زیبا ٹھیک ہوگئی تھی تو پھر اب ان کی یہ حالت کیوں ہے ؟ مجھے سوال کرنے کا جواز مل گیا ۔۔
بیٹا زیبی کچھ ہی دنوں میں بلکل ٹھیک پہلے جیسی ہوگئی ۔۔ آغا جان نے پراپرٹی ڈیلر سے کہہ کر حویلی اونے پونے میں فروخت کی اور ہم کراچی آ بسے ۔۔۔ اللہ کے کرم سے یہاں چھوٹی سی پریس کی بنیاد رکھی اور اب کاروبار آپ کے سامنے ہے ۔۔۔ وقت گزرتا گیا بچے بڑے ہوگئے اور ہم یہ سب بھول بھال گئے ۔ ۔ مگر آغا جان کبھی زیبی پر اذکار اور پانی کے چھینٹے دم کرنا نہیں بھولتے تھے ۔۔ آغا جان اکثر فیصل آباد جاتے آتے رہے کام کے سلسلے میں اور اس حویلی کا چوکیدار ہمارا پرانا ملازم اکثر آغا جان سے مل کر ہماری خیر خیریت دریافت کرتا رہتا ۔۔۔۔
ایک روز آغا جان کو پتا نہیں کیا یاد آیا آغا جان نے اس سے پوچھا کہ ۔۔
خیر دین ۔۔۔ وہ بلی یاد ہے ؟
جی ۔۔۔ آغا صاحب ۔۔ وہ سب بھلائے نہیں بھولتا ۔۔
خیر دین تمھیں ڈر نہ لگا اس وقت ؟
لگا تھا صاحب جی مگر کیا کرتا ۔۔۔
کہاں پھینک کر آئے ؟
پھینکی نہیں صاحب ۔۔ کوئی دیکھ لیتا تو پکڑا جاتا ۔۔ بات کھلتی ۔۔۔ میں نے وہ بوری گوروں کے قبرستان میں دبادی ۔۔۔گورے پسند کرتے ہیں نا زندگی میں کتے بلی ۔۔ میں نے انہیں مرنے کے بعد بھی بلی دے دی۔۔
آغا جان خوب ہنسے ۔۔۔
مجھے بھی ہنسی آگئی ۔۔۔
زیبی کالج جانے لگی تھی ۔۔اتنے سال پتہ ہی نہیں لگے بچے کب جوان ہوئے اور ہم بوڑھے ۔۔۔ بچوں کے خواب پورے کرتے والدین خود کو یوں پسِ پشت ڈال دیتے ہیں کہ انھیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کمر جھک گئی ہے ۔۔۔
ان ہی دنوں ہمیں اندازہ ہوا کہ ہماری بھانجی وجاہت میں دل چسپی رکھتی ہے ۔۔۔زرنگار ہمیں بھی پسند تھی ۔۔۔ ہم نے آغا جان سے بات کی اور وجاہت کی شادی کی تیاری شروع کردی ۔۔ اسی دوران ہم سے کوتاہی ہوئی اور ہم شادی کی تیاریوں اور شادی میں یوں مگن ہوئے کہ ہمیں اندازہ نہیں ہوا ۔۔۔
ہماری زیبی جوان اور بے حد خوبصورت تھیں ۔۔۔خاندان میں کئی نوجوان زیبی سے شادی کے خواہشمند تھے ۔۔مگر زیبی ابھی پڑھنا چاہتی تھی ۔۔۔ اس نے شادی سے انکار کردیا ۔۔۔ وجاہت کی شادی کے بعد ہم اور مصروف ہو گئے اور ہمیں علم نہ ہو سکا کہ زیبی کسی کو پسند کرنے لگی ہے۔۔۔۔
رضا سنجرانی ۔۔۔۔۔ اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک وڈیرے کا بیٹا تھا ۔۔۔ بہت سلجھا ہوا بہت محبت کرنے والا بچہ تھا ہماری زیبی کی پسند لاکھوں میں ایک تھی چاند سورج کی جوڑی تھی ہم سب بہت خوش تھے ۔۔۔ آغا جانی کی خوشی تو مت پوچھو اذان میاں ۔۔۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا بیٹی کے جہیز میں کائنات وار دیں۔۔۔
کراچی میں بھی اب ہماری حیثیت بہت مستحکم تھی ۔۔ہم وڈیرے نہیں مگر آغا جان بھی رضا کے والد سے اثر رسوخ میں کچھ کم نہیں تھے ۔۔۔ الغرض خاندان کی باہمی رضا مندی سے یہ رشتہ طے پاگیا ۔۔۔
آغا جان بے حد خوش تھے ۔۔۔ بس ایک فکر لاحق تھی ۔۔۔اذکار ۔۔۔دم۔۔۔۔ پانی کے چھینٹے۔۔ یہ سب کون کرے گا سسرال میں۔۔۔

Read More:  Purisrar Kitab by Ramsha Iftikhar – Episode 2

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: