Billi by Salma Syed – Last Episode 18

0

بلی از سلمیٰ سید آخری قسط نمبر 18

مصنفہ سے ملیں: سلمیٰ سید

دیکھتے ہی دیکھتے اس کے جسم پر کوئی کپڑا باقی نہ رہا اور ایک ساتھ بہت سی بلیوں کی آوازیں آنی شروع ہوگئیں۔۔۔
یہ روح فرسا منظر اس وقت بھی میری آنکھوں میں گھوم رہا ہے … کیونکہ وہ زیبا کے روپ میں تھی تو مجسم عورت تھی اور اس کا اس طرح بے پردہ ہوجانا وجاہت اور آغا جانی کے لیے بے حد تکلیف کا باعث تھا ۔۔ وہ شیطان تھی مگر شاہ جی کے عملیات کے آگے اس کی ایک نہ چلی تو وہ ان اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ۔۔۔ وہ چاہتی تھی کہ شاہ جی اس کے ظاہری جسم سے متاثر ہو کر عمل سے بہک جائیں اور وہ وار کر سکے ۔۔۔۔
آغا جانی وجاہت کے سینے میں منہ چھپائے سسک رہیں تھیں اور وجاہت آنکھیں بھینچے ورد کئے جارہے تھے شاہ جی کے چھوٹے بھائی نے کہا کہ اس کی طرف مت دیکھو ۔۔ زمین دیکھو اور بس اذکار سے زبان تر رکھو ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں دعوت کا فسوں ہے تمھارے قدم آپ ہی آپ اس کی طرف بڑھنے لگیں گے یہ تم میں سے کسی کو بھی مہرہ بنا کر عمل روکنا چاہتی ہے ۔۔۔
وہ اس برہنہ حالت میں حصار کے گرد ناچ رہی تھی اور حتی الامکان اس کوشش میں تھی کہ ہم میں سے کوئی اسے دیکھے ۔۔ یہ وار شاہ جی کے نفس پر تھا مگر شاہ جی نفس کے غلام نہ تھے ۔۔۔ غصے کی وجہ تھی یا جلال شاہ جی کا چہرہ تپ کے سرخ ہورہا تھا ۔۔ اور تسبیح کے دانے مستقل حرکت میں تھے ۔۔۔
ابا یومی کے اس ناچ کے دوران سینکڑوں غلام بلییاں آن موجود ہوئیں اور اس ناچ میں اس کا ساتھ دینے لگیں ۔۔۔ کچھ انسانی شکل میں بھی موجود تھیں جو ابایومی کی طرح ہی لباس سے آزاد تھیں اور حصار کے گرد انتہائی بیہودہ حرکات میں مصروف تھیں ۔۔۔
کچھ بلییوں کی شکل میں حصار کے نزدیک آنے لگیں اور حصار پر موجود دودھ کے پیالوں میں منہ ڈال کر بیٹھ گئیں ۔۔۔ ابا یومی اور اس کے غلاموں کے اس وحشت ناک ناچ میں تیزی آگئی اور ان کے بین ان کی غراہٹوں سے فضا گونجنے لگی ۔۔۔
وہ تمام بلییاں جو دودھ پی چکیں تھیں ان کا رخ اب ابایومی کے لشکر کی طرف تھا وہ بلییاں ان برہنہ غلاموں پر جھپٹ پڑیں ۔۔ شائد دودھ کی تاثیر تھی کہ وہ اب شاہ جی کے تابع ہو گئیں تھی۔۔۔ اس کی اپنی قوم اس پر حملہ آور تھی ۔۔۔
عجیب صورتحال تھی ۔۔۔تمام غلام بلییاں اب شاہ جی کے تابع اور مددگار ہو گئیں۔۔۔ ان بلییوں اور برہنہ غلاموں کی جنگ جاری تھی بلییاں عورتوں کے جسموں پر لپک رہیں تھیں ۔۔ اور وہ ارواح بد بلییوں کے حملے سے بچاؤ کے لئے چیختی چلاتی خود کو بچاتی ہمارے چاروں طرف دوڑ رہیں تھیں ۔۔
کچھ بلییاں ابایومی کے جسم سے چپکی اسے نوچ کھسوٹ رہیں تھیں اور تھوڑی ہی دیر پہلے حسن اور بیہودگی کے پیکر اب بد صورت زخمی گنجی بھوتنییوں میں بدل چکے تھے ۔۔۔ یہ ایسا منظر تھا کہ آج بھی بھلائے نہیں بھولتا ۔۔۔
شاہ جی کی برداشت اب جواب دینے لگی تھی اور ابایومی زخمی حالت میں بلییوں سے نبردآزما تھی ۔۔۔ شاہ جی کھڑے ہوئے تسبیح رکھی اور پاس پڑے پانی کے گیلن پر پھونکیں ماریں ۔۔۔ شاہ جی کے چھوٹے بھائی نے وہ گیلن سنبھالا اور اس میں سے ایک کٹورہ بھر کے شاہ جی کو پیش کیا ۔۔۔ اب شاہ جی تیز آواز میں عمل پڑھ رہے تھے ۔ ۔۔ اور ان منحوس کی آواز اذکار کی آواز میں دب گئی تھی ۔۔۔
تمام غلام بد ارواحیں زمین پر پڑی تڑپ رہیں تھیں اور ابایومی غصے میں حملہ آور بلییوں سے جان چھڑانے کی کوشش میں لگی تھی ۔۔۔ شاہ جی ہم سب کو گھور کر حصار کو توڑتے ہوئے آگے بڑے اور بد ارواحوں کے زخمی وجود پر پانی چھڑکتے آگے بڑھے ۔۔۔ انکے جسم پانی پڑنے سے موم کی طرح پگھل کر بہہ رہے تھے ان سے دھواں اٹھتا محسوس ہوتا تھا۔۔۔
تمام پر پانی چھڑکنے کے بعد شاہ جی ابایومی کی طرف بڑھے تمام بلییاں دور ہٹ گئیں ۔۔۔ ابایومی زخمی زمین پر لوٹ رہی تھی جیسے اسے جلتے توے پر لٹایا گیا ہو ۔۔۔ شاہ جی نے دونوں ہاتھ بلند کئے تو ہمارے پاس جھاڑیوں میں ہلچل پیدا ہوئی اور ان جھاڑیوں سے کانٹے دار چھالوں سے بنی رسیاں خوبخود چلتی ہوئی ابایومی کی طرف بڑھنے لگیں اور اس کا جسم اب ان خاردار رسیوں میں جکڑا ہوا تھا ۔۔۔
رسیاں مستقل اس کے جسم پر کستی جارہی تھی اور وہ کانٹے ابا یومی کے جسم میں پیوست ہوچکے تھے اب وہ درد سے کراہ رہی تھی ۔۔۔ شاہ جی نے پانی اس پر چھڑکا اور اب اس نے بلی کی شکل اختیار کرلی تھی ۔۔۔ کالی منحوس زخمی بلی۔۔۔۔
شاہ جی کے ہونٹ حرکت میں تھے پانی کے چھینٹوں سے یوں سمجھیں کہ اسے آگ لگ رہی تھی ۔۔۔ اس نے بولنا شروع کیا ۔۔۔ وہی نامانوس بکواس ۔۔۔
شاہ جی نے عمل نہ روکا ۔۔۔ وہ کہنے لگی ۔۔۔ مجھے چھوڑ دو ۔۔ مجھے جانے دو ۔۔ مجھے معاف کردو ۔۔ میں باز آئی ۔۔
شاہ جی مسکرائے ۔۔۔
ارے واہ تو تو ہماری زبان پر اتر آئی ۔۔ اتنا نیچے کیسے آنا ہوا دیوی جی ؟
آپ تو پوجا کے لائق ہیں ۔۔۔ بس اتنی ہی رعایا تھی یا اور ہیں ؟
بلا سارے لگتے سگتوں کو ہم بھی دیکھیں تیرے چڑیا گھر میں کتنے بندر ہیں ۔۔۔
دیکھ عالم ۔۔ میری تیری کوئی دشمنی نہیں ہے مجھے اذیت سے نکال ۔۔۔ مجھے صرف اس لڑکی کا جسم درکار تھا اور اب میں اس سے بھی دستبردار ہوتی ہوں ۔۔ مجھے نکال اذیت سے آزاد کر ۔۔ مجھے معاف کر ۔۔
معاف کروں ؟ جانتی بھی ہے معافی ؟ لڑکی کے باپ کو معاف کردیا تھا تو نے ؟ کیا کیا تھا اس نے ؟؟
لڑکی کے خاوند کو بخشا تو نے ؟؟ کیا بگاڑا تھا اس جوان نے تیرا ؟؟
تو نے معاف کیا اس خاندان کو ؟ اپنی ہوس اور شیطانیت میں بچی کی زندگی خاندان سب برباد کردیا اور تو جو اب اس اذیت میں نہ ہوتی تو کیا میری درخواست پر معاف کر دیتی ان بے قصور لوگوں کو؟؟ آئی بڑی معافی کی طلب گار۔۔
یہ بارات لے کر تو معافی مانگنے آئی تھی ؟
درکار ۔۔ دستبردار ۔۔۔ واہ مولوی عبد الحق بابائے اردو۔۔۔ تیری جیسی مکار اور دھوکے باز سے مجھے خیر کی امید نہیں۔۔ تو جانتی ہے میں تا حیات تجھے اسی کیفیت میں رکھ سکتا ہوں ۔۔ بہتر یہ ہی ہے کہ اپنے وجود کو چھوڑ کے کر میری تحویل میں آ ۔۔ ورنہ میں تو اب نہیں رکنے والا پھر ۔۔۔ سوچ سمجھ لے ۔۔۔ ہفتہ بھر کافی ہے یا اور وقت لے گی ؟؟
مجھے وقت دو ۔۔
ہاں تیرا نکاح پڑھوارہے ہیں ہم ۔۔
تجھے فیصلہ کرنے کے لئے وقت دیں ۔۔
دو منٹ کے اندر بک ورنہ انجام سے باخبر ہے تو۔۔۔
ابایومی خاموش رہی۔۔ شاہ جی نے پانی کا کٹورہ اٹھایا اور قرآنی آیات کا ورد شروع کیا ۔۔۔ ہر چھینٹے پر ابایومی کے بدن پر آبلے پڑنے لگے اور اس کی کھال جھلس کر بہنے لگی ۔۔ اس کی چیخ و پکار سے ساتھ شاہ جی کے اذکار۔۔۔ دوسری کوئی آواز کانوں میں نہیں۔ آرہی تھی ۔۔ ہم سن بیٹھے یہ مذاکرات دیکھ رہے تھے۔۔۔
بے حد ڈھیٹ تھی وہ ۔۔ بالآخر بولی ۔۔ رک جا ۔۔۔ میں تیار ہوں ۔۔۔ میں تیار ہوں ۔۔۔ اس کے جسم سے کھال پگھل کر بہہ رہی تھی اور فضا میں ہڈیاں جلنے کی بو پھیلی ہوئی تھی۔۔
شاہ جی بولے ۔۔ لاؤ بھئی لاؤ ۔۔۔ قاضی کو لاؤ ۔۔ دلہن تیار ہے ۔۔
شاہ جی کے بھائی ایک بوتل لے کر آگے بڑھے ۔۔۔ وہ بوتل شاہ جی نے ابایومی کے منہ کے نزدیک کی اور کہا ۔۔۔
ابھی کے ابھی بغیر کسی مکر و فریب کے تین سانسوں میں یہ نجس جسم چھوڑ کر اس بوتل میں آجا اس عہد کے ساتھ کہ تاحیات میری یعنی پیر سبغط اللہ شاہ کی غلام رہے گی ۔۔ اور جو کبھی سر تابی تو نے کی تو فنا کے سوا دوسری کوئی بات نہ ہوگی ۔۔۔
ابایومی نے عہد کیا ۔۔۔ اور ایک لمبی سانس بھری کہ اس کا جسم دگنا پھول گیا ۔۔۔ اور بوتل کے منہ کے نزدیک پھنکاری ۔۔۔ میں نے دیکھا ۔۔۔ اس کے منہ اور بوتل کے منہ تک چنگاریوں کے ایک لائین چل رہی تھی ۔۔۔ وہ چنگاریاں بوتل میں بھر گئیں ۔۔۔ یہ ہی عمل ابایومی نے تین بار کیا ۔۔۔ اس کے بعد شاہ جی نے بوتل کے منہ پر کچھ پڑھ کر پھونکا اور بوتل کو بند کر کے بھائی کو پکڑائی۔۔۔
لو بھائی ۔۔۔ بندھ گئی بلی کے گلے گھنٹی ۔۔۔
شاہ جی فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ ہماری طرف بڑھے ۔۔حصار میں آ کر شاہ جی نے عمل مکمل کیا اور ہم سب کے لئے حصار کھلنے کی اجازت دی ۔۔۔
شاہ جی کی اپنی حالت غیر ہورہی تھی ۔۔ یہ جنگ خیر اور شر کی تھی جسمیں جیت بالآخر خیر کی ہی ہونی تھی ۔۔۔
آغا جانی رو رہیں تھیں ۔۔
صبیحہ بہن خدا کا شکر ادا کریں اس نے آپ اور آپ کے خانوادے پر کرم کیا ہے ۔۔ آپ کی بیٹی آب آذاد ہے ۔۔ اس کی جان کو کوئی خطرہ نہیں اب ۔۔۔میرے ساتھ آئیں ۔۔۔ ہم سب ایمبولینس کی طرف بڑھے ۔۔
زیبا ابھی تک بے ہوش تھی اور نرسیں ایک دوسرے سے جڑی سمٹی بیٹھیں تھیں ۔۔ شائد کھڑکی سے انھوں نے تمام مناظر دیکھے تھے وہ خوفزدہ تھیں ۔۔ شاہ جی نے ان پر دم کیا اور تسلی دی کہ اب سب ٹھیک ہے ۔۔
شاہ جی نے زیبی کہ بازو پر باندھا تعویذ کھول لیا ۔۔۔ اور وجاہت سے کہا ۔۔
بیٹا اب یہ ٹھیک ہے کوئی اثر اثرات نہیں ہیں ۔۔ ہاں کمزوری بہت ہے ۔۔ اب زیبا کو صرف علاج کی ضرورت ہے ۔۔ ان شاءاللہ میرے رب کے حکم سے دو ہفتے میں بہت بہتری آئے گی۔۔ اسے اب اسپتال لے جائیں۔۔۔ آغا جانی تشکر اور ممنونیت کے اشک نچھاور کرتی زیبی کو پیار کر رہیں تھیں۔۔
سب نے بہت شکریہ کے ساتھ شاہ جی سے اجازت چاہی۔۔۔ وجاہت اور آغا جانی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا وہ بار بار کبھی شاہ جی کے گلے لگتا کبھی ان کے ہاتھ چومتا ۔۔ کبھی میرے گلے لگتا سبھی کی آنکھیں نم تھیں اور دل خوشی سے لبریز ۔۔۔ مغرب کا بعد ہوگیا تھا ہم نے شاہ جی سے اجازت چاہی ۔۔۔۔ شاہ جی نے سب کو دعاؤں میں رخصت کیا ۔۔۔
میں مصافحہ کرنے لگا تو بولے ۔۔ تم ؟
تم بھی جارہے ہو کیا ؟ تم تو رکو ۔۔۔۔
ان کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی اور میری تشویش ۔۔۔۔
بلی اپنے انجام کو پہنچی

 

ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: