Bloody Love Novel by Falak Kazmi – Episode 10

0
بلڈی لو از فلک کاظمی – قسط نمبر 10

–**–**–

شام ڈھلے کا وقت تھا ۔۔
موسم ابر آلود تھا ۔۔
گیلری میں کھڑی وہ سرمئی بادلوں پر نظریں ٹکائے طوبی کے متعلق ہی سوچ رہی تھی جب امتل نے آ کر اسے تیمور صاحب کا بلاوا پہنچایا ۔۔
شہلا غائب دماغی سے سر ہلا کر اس کے پیچھے نکل گئی لیکن لائبریری کے دروازے پر پہنچ کر اچانک ذہن میں کچھ کلک ہوا ۔۔
“کہیں تیمور انکل ۔۔
شمعون کے بارے میں تو ۔۔
اففف ۔۔
کیسے جواب دوں ۔۔
تیمور انکل کیا سوچ رہے ہونگے ۔۔
اتنا بڑا حادثہ ہوا ہے ان کے خاندان میں ۔۔
اور میں ان کی حویلی میں رہ کر کیا کیا گل کھلاتی پھر رہی ہوں ۔۔”
اپنی سوچوں میں گم اسے احساس نہیں ہوا کہ شمعون اس کے بلکل قریب آ چکا ہے ۔۔
شہلا کے شانے کے اوپر سے اپنا چہرہ آگے کر کے شمعون کچھ دیر تک شہلا کے ترچھے چہرے پر آتے جاتے رنگ دیکھتا رہا پھر اس کے کان کے قریب ہونٹ کر کے مدھم گمبھیر آواز میں التجائیا گویا ہوا ۔۔
“ہاں کہنا شہلا ۔۔
پلیز ۔۔”
کان پر گرم سانسوں کا احساس ۔۔
اور یہ التجا ۔۔
شہلا اچھل کر پیچھے ہوئی تو نظریں شمعون کی آنکھوں سے ٹکرائیں ۔۔
جو ہمیشہ کی طرح آج بے تاثر نہیں تھیں ۔۔
کچھ کہہ رہی تھیں ۔۔
کچھ پوچھ رہی تھیں ۔۔
اکسا رہی تھیں ۔۔
شہلا کو اپنے گال تمتاتے محسوس ہوئے تو خود سے ہی گھبراتی ہوئی وہ جلدی سے لائبریری میں گھس گئی ۔۔
پیچھے شمعون شاد سا مسکرا دیا ۔۔
وہ اب مطمئین تھا ۔۔
کیونکہ وہ اپنا کام کر چکا تھا ۔۔
اسے سو فیصد یقین تھا کہ شہلا اب ہاں ہی کرے گی ۔۔
وہ کچھ وقت کے لیئے اس کے ذہن کو اپنے سحر میں لے چکا تھا ۔۔
شہلا اگرچہ خود بھی “ہاں” کہنے کا فیصلہ کر چکی تھی ۔۔
لیکن شمعون جانتا تھا ۔۔
انسان اپنی باتوں پر کم ہی قائم رہتے ہیں ۔۔
پھر اس کا دل بھی ایک بے نام سے خوف کا شکار رہتا تھا ۔۔
شہلا کی طرف سے ایک دھڑکا لگا رہتا تھا ۔۔
سو اس نے اپنا سحر چلانا ضروری سمجھا تھا ۔۔
اوپر جانے والی سیڑھیوں پر بیٹھ کر شمعون نے اپنی نظریں لائبریری کے بند دروازے پر جما دی تھیں ۔۔
سگرٹ کے کش لیتا حمزہ جب اپنے کمرے سے نکلا تو شمعون کے چہرے پر پھیلی گہری مسکان دیکھ کر حیران ہوا ۔۔
شمعون کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنا ایسا ہی تھا جیسے رات کے وقت سورج دیکھنا ۔۔
“چاچو ۔۔”
حمزہ نے شمعون کے قریب جا کر پکارا ۔۔
شمعون کی مسکراہٹ معدوم ہوگئی اور اس نے سپاٹ نظروں سے حمزہ کو دیکھا ۔۔
“خوش لگ رہے ہیں ۔۔”
حمزہ نے ابرو اچکا کر پوچھا ۔۔
“تو ۔۔؟
تکلیف ہو رہی ہے تمہیں ۔۔”
شمعون کی طرف سے طنزیہ جواب ملنے کی ہی امید تھی ۔۔
اور وہی ملا بھی ۔۔
حمزہ کوفت سے اسے دیکھتا ہوا پلٹنے لگا جب لائبریری کا دروازہ کھلا ۔۔
پہلے شہلا نکلی ۔۔
بڑی جلدی میں لگتی تھی ۔۔
سیڑھیوں پر شمعون کو دیکھا تو سٹپٹا کر لان میں بھاگ گئی ۔۔
شمعون بے ساختہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا ۔۔
حمزہ چونک کر ٹکر ٹکر کبھی شمعون کو دیکھتا تو کبھی اس راہ کو جہاں سے شہلا گئی تھی ۔۔
ابھی وہ الجھا ہوا سا شہلا کے پیچھے جانے کا سوچ ہی رہا تھا جب اندر سے بڑبڑاتی ہوئی جویریہ بیگم بھی نکلیں ۔۔
ان کے ساتھ تیمور آفندی بھی تھے ۔۔
“تیمور آپ ایک بار ۔۔
شہلا کو شمعون کی حقیقت تو بتا دیتے ۔۔
ایسے ہی جلد بازی میں رشتہ جوڑ دیا ۔۔
کل کو وہ لڑکی گلا کرے کہ مجھے ایک حرام ۔۔”
جویریہ بیگم کی چلتی زبان شمعون کی چڑھی تیوری دیکھ کر رک گئی ۔۔
گڑبڑا کر وہ سر جھٹکتی ہوئی حویلی کی باقی خواتین کو اس نئے رشتے کے بارے میں بتانے بھاگ نکلیں ۔۔
جبکہ تیمور آفندی شمعون کی طرف بانہیں پھیلا کر بڑھ گئے ۔۔
شمعون مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ ان کے گلے لگ گیا ۔۔
پیچھے کھڑا حمزہ خود کو دنیا کا سب سے بیوقوف انسان محسوس کر رہا تھا ۔۔
بالآخر تیمور آفندی کو اس کا دھیان بھی آ ہی گیا اور وہ ایسے ہی بانہیں پھیلائے پھیلائے اس کی طرف بڑھے ۔۔
حمزہ خجل سا ہو کر ہنس پڑا ۔۔
“اب بتائیں ناں ۔۔
کیا ہو رہا ہے ۔۔
چاچی کیوں بگڑ رہی ہیں ۔۔”
“ارے تمہاری چاچی کب نہیں بگڑتیں ۔۔
اسے چھوڑو ۔۔
بات یہ ہے کہ ۔۔
شمعون اور شہلا کی شادی کا فیصلہ کیا ہے ہم نے ۔۔
سب اسی مہینے ہوگا سادگی سے ۔۔
کمپنی کے کام سے شمعون پھر کینیڈا چلا جائے گا ۔۔
بہت وقت لگ جائے گا اگر اس کی واپسی کا انتظار کیا ۔۔
اور یہ ہوا جا رہا ہے بے صبرا ۔۔”
آخر میں تیمور آفندی نے شرارت سے شمعون کو دیکھا تو وہ اس بار اپنی ہنسی روک نہیں سکا ۔۔
ان دونوں کے ہنستے مسکراتے چہروں کو دیکھتے ہوئے حمزہ کو اپنا آپ بلکل خالی خالی محسوس ہو رہا تھا ۔۔
ابھی تو اس کے دل میں محبت کی ننھی سی کونپل پھوٹی تھی ۔۔
زیادہ وقت تو نہیں گزرا تھا ۔۔
ایک یہی تو شغل تھا اس کا آج کل صرف ۔۔
چوری چوری شہلا کو دیکھنا ۔۔
ڈانٹ ڈپٹ کر اسے اپنی طرف متوجہ رکھنے کی کوشش کرنا ۔۔
(خواہ برا ہی سوچے ۔۔
لیکن سوچے تو سہی ۔۔)
محبت ہوگئی تھی ۔۔
لیکن پہلی پہلی نئی نئی تھی ۔۔
ابھی محبت نبھانے کا سلیقہ نہیں آتا تھا ۔۔
پھر جو حالات چل رہے تھے حویلی میں ۔۔
کیا ایسے میں اس کا اظہار محبت اچھا لگتا ۔۔؟
بلکل نہیں ۔۔
لیکن اس بیچارے کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ۔۔
کہ اس کا تکلف ۔۔
اس کی خاموشی ۔۔
اس کا اتنا بڑا نقصان کر دے گی ۔۔
اور وہ بیٹھا دیکھتا رہ جائے گا ۔۔
جیسے ہی یہ خبر حویلی میں پھیلی ۔۔
ایک شور سا مچ گیا تھا ۔۔
کوئی ناگواری کا اظہار کر رہا تھا تو کوئی حیرت کا ۔۔
کوئی کوئی خوش بھی لگ رہا تھا ۔۔
“چلو کوئی تو خوشی کی گھڑی نصیب ہوئی ۔۔”
جعفر صاحب کی بیوہ شمائلہ بیگم کی عدت بھی کچھ دن پہلے ہی ختم ہوئی تھی ۔۔
انہوں نے اپنا واویلا شروع کر رکھا تھا ۔۔
ایسے میں سیڑھیوں پر شاک کی کیفیت میں بیٹھے حمزہ پر توجہ کسے دینی تھی ۔۔
گم صم سا وہ سب کو دیکھتا رہا ۔۔
پھر پھیکی سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: