Bloody Love Novel by Falak Kazmi – Episode 4

0
بلڈی لو از فلک کاظمی – قسط نمبر 4

–**–**–

عجیب پر اسرار سی رات تھی ۔۔
سناٹا معمول سے زیادہ محسوس ہور ہا تھا ساتھ ہی کونوں کھدروں سے سرسراہٹیں بھی سنائی دے رہی تھیں ۔۔
رات کے سوا ایک ہو رہے تھے ۔۔
پوری پووری حویلی اندھیرے میں ڈوبی تھی اور حویلی کے تمام مکین اپنے اپنے کمروں میں موجود تھے لیکن نیند سب کی آنکھوں سے کوں دور تھی ۔۔
سب کے کمرے پرسکون تھے ۔۔
لیکن دل و دماغ میں بے سکونی چھائی تھی ۔۔
کروٹ پر کروٹ لیتے ہوئے اچانک کوئی چونک کر اٹھتا اور آس پاس نظریں دوڑاتا ۔۔
کسی کی موجودگی کا احساس ہر کسی کو ہو رہا تھا اور مستقل ہو رہا تھا ۔۔
یونہی سرسراہٹ محسوس کرتی جویریہ بیگم بھی اچانک اٹھ بیٹھیں تو تیمور آفندی جو آنکھوں پر بازو رکھے اس رات کے غیر معمولی پن کو پوری گہرائی سے محسوس کر رہے تھے خود بھی اٹھ بیٹھے ۔۔
“سب خیریت ہے جویریہ ۔۔”
انہوں نے اپنی شریک حیات کے پسینے سے تر چہرے کو تشویش سے دیکھا ۔۔
“پتہ نہیں کیوں تیمور ۔۔
لیکن میرا دل شام سے بہت گھبرا رہا ہے اور اس وقت تو سانس بند ہو رہی ہے ۔۔”
جویریہ بیگم کے روہانسے ہو کر کہنے پر تیمور آفندی نے پرسوچ انداز میں نظریں کمرے کے چاروں طرف دوڑائی تھیں جب کان کے پردے ہی نہیں بلکہ دل بھی چیر دینے والی چیخ کی آواز پر وہ دونوں اچھل پڑے تھے ۔۔
اگلے ہی پل تیمور آفندی اور جویریہ بیگم بھی ہانیہ کے کمرے کی طرف دوڑے تھے ۔۔
کیونکہ چیخ کی آواز وہیں سے آرہی تھی ۔۔
ہانیہ کے کمرے کے باہر حمزہ اور حویلی کے کچھ مکین پہلے ہی پہنچ چکے تھے ۔۔
چیخ کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں ۔۔
حمزہ دروازہ توڑ دینے کے در پر تھا جبکہ تیمور صاحب جوش کی جگہ ہوش سے کام لیتے ہوئے بجلی کی تیزی سے راہداری عبور کر کے ہانیہ کے کمرے کی گیلری پر پہنچے ۔۔
گلاس ڈور اندر سے بند تھا ۔۔
انہوں نے گیلری میں رکھا ایک بھاری گملا اٹھا کر گلاس ڈور پر مارا تو وہ چھناکے سے ٹوٹ گیا ۔۔
کمرے کی لائٹ بند تھی زو تیمور آفندی کچھ دیکھ نہیں سکے لیکن ایک غراہٹ نے ان کے بڑھتے قدم روک دیئے تھے ۔۔
اگلے ہی پل پانچ بڑی بڑی سیاہ بلیاں ان کے اوپر سے جست لگا کر گیلری میں کود گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے درختوں کی ٹہنیاں چڑھتی نظروں سے اوجھل ہوگئیں ۔۔
سیاہ بلیوں کو دیکھ کر تیمور آفندی کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی ۔۔
جب تک انہوں نے آگے بڑھ کر لائٹ آن کی حمزہ وغیرہ بھی گیلری کے زریعے کمرے میں داخل ہوگئے ۔۔
اندر کا منظر دیکھ کر جویریہ بیگم اور حمنہ بیگم (حمزہ کی والدہ) کی چیخیں بلند ہوگئیں جبکہ حمزہ کے والد اور بڑے تایا سمیت حمزہ اور تیمور صاحب بھی سکتے میں چلے گئے تھے ۔۔
ہانیہ کی آنکھیں ابلی پڑی تھیں اور چہرہ بلکل بے رونق تھا اور تازہ آنسئوں سے تر تھا ۔۔
پورے بیڈ کی چادر خون سے لت پت تھی اور ہانیہ کا وجود جگہ جگہ سے بھنبھوڑ دیا گیا تھا ۔۔
جگہ جگہ سے گوشت غائب تھا جبکہ گردن شائد پوری ہی غائب ہوچکی تھی ۔۔
سب کے دل جیسے دھڑکنا بھول گئے تھے ۔۔
لیکن یہی آخری صدمہ نہیں تھا ۔۔
اچانک حویلی کے مختلف کمروں سے شور بلند ہوئے تھے ساتھ ہی بلیوں کی روتی غراتی آوازیں بھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہلا اپنے گھر لوٹ چکی تھی لیکن اس کے صبیح چہرے پر کوئی رونق نہیں تھی ۔۔
اس گھر سے اسے وحشت ہو رہی تھی ۔۔
لیکن یہاں رہنا اس کی مجبوری تھی ۔۔
وہ ساری زندگی دوسروں کے احسان تلے رہ کر نہیں گزار سکتی تھی ۔۔
اس کا ارادہ تھا فیروزہ خالہ کو آج رات اپنے ساتھ رکنے کو کہے گی لیکن اس نے کہا نہیں ۔۔
جب کل بھی تنہا رہنا ہے تو آج کیوں نہیں ۔۔
اگر وہ بلا یہاں آجاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے تو اس میں برا کیا ہے ۔۔
جب ایک دن مرنا ہی ہے تو جلدی کیوں نہیں ۔۔
زندگی میں یوں بھی اب رکھا ہی کیا تھا ۔۔
جس کمرے میں چاچی وغیرہ کی دہشت ناک لاشیں پڑی تھیں اس کمرے میں جانے کی اس میں ہمت نہیں ہوئی تھی ۔۔
اپنے کمرے کی صفائی ستھرائی کر کے وہ شام سے صحن میں پلنگ بچھائے اس پر ساکت و سامت بیٹھی تھی ۔۔
لائٹ گھنٹے بھر سے بند تھی ۔۔
اور مزید دو گھنٹے بند رہنے والی تھی ۔۔
سیاہ آسمان پر چودھویں کا چاند پوری آب و تاب سے جگمگا رہا تھا ۔۔
گرمیوں کی راتوں میں پلنگ پر چت لیٹ کر ستارے بھرے آسمان پر چمکتے چاند کو دیکھنا اس کا محبوب مشغلہ تھا ۔۔
اور ایسے میں ناصر اس کے بازو کے تکیے پر سر رکھے اس سے الٹے سیدھے سوال پوچھا کرتا تھا جس کے وہ ایک سے ایک فضول جواب دیا کرتی تھی ۔۔
چاچی ان کی باتوں سے اکثر نیند سے اٹھ کر ان پر چلایا کرتی تھیں ۔۔
کبھی کبھی جوتی بھی اٹھا کر اس کی طرف اچھال دیا کرتی تھی ۔۔
نازش اور نوید جو سوتے بنے ہوتے تھے دبی دبی ہنسی ہنسا کرتے تھے ۔۔
پھر چاچی کی توپوں کا رخ ان کی طرف ہوجاتا تھا ۔۔
خوش کن سوچوں کے زیراثر شہلا کے لب تو مسکرا رہے تھے لیکن آنکھوں سے آنسئوں کی جھڑیاں جاری تھیں ۔۔
ایک سسکی بھر کر اس نے اپنی خالی خالی نظریں اس کمرے کی سلاخوں والی کھڑکی پر جما دیں ۔۔
اچانک ہی اس کی آنکھیں خوف سے پھٹ گئیں ۔۔
وہ اچھل کر پلنگ سے اتری اور پلکیں جھپکے بغیر سانس روکے کھڑکی سے جھانکتی ان چھوٹی چھوٹی لال چمکیلی آنکھوں کو دیکھنے لگی ۔۔
لمحہ نہیں لگا اسے ان آنکھوں کو پہچاننے میں ۔۔
موت کا تصور کرنے میں اور موت کو سامنے دیکھنے میں فرق ہوتا ہے ۔۔
سو اس وقت خوف سے اس کا وجود جامد ہوگیا تھا ۔۔
اس کا سکتہ ابھی ٹوٹا نہیں تھا جب ایک اور حیرت انگیز منظر اس کی سیاہ بھیگی آنکھوں نے دیکھا ۔۔
کمرے میں ہلکی ہلکی چاندنی تھی جس کی وجہ سے ہیولے نظر آ سکتے تھے ۔۔
شہلا نے اس بلے کے ہیولے کو بڑا ہوتا اور ایک اونچے لمبے وجود میں ڈھلتا دیکھا تھا ۔۔
اب شہلا کو بیہوش ہوجانا چاہیے تھا لیکن شائد وہ مضبوط اعصاب کی تھی ۔۔
یا اتنا سب ہوجانے کے بعد ہوگئی تھی ۔۔
“حویلی واپس جائو ۔۔”
مدھم آواز غراہٹ سے مشابہ تھی ۔۔
شہلا کو اپنی سماعتوں پر شک ہوا ۔۔
“حویلی واپس لوٹ جائو ابھی اسی وقت ۔۔”
اس بار دل دہلاتی دہاڑ سنائی دی تھی ۔۔
شہلا کا سکتہ اچانک ٹوٹا اور وہ چیخوں پر چیخیں مارتے ہوئے گھر کا دروازہ کھول کر باہر بھاگی ۔۔
پیچھے وہ ہیولا پھر بلے کا روپ دھارتا دیواریں پھلانگنے لگا ۔۔
وہ جانتا تھا شہلا کہاں جانے والی تھی ۔۔
اسے شہلا سے پہلے وہاں پہنچنا تھا جو اس کے لیئے بلکل مشکل نہیں تھا ۔۔
شہلا جیسے ہی فیروزہ خالہ کے دروازے پر پہنچی غراہٹ کی آواز پر اچھل کر پیچھے ہوئی ۔۔
داخلی دروازے کی دیوار پر چڑھا وہ اپنی چنگاریاں نکالتی آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا ۔۔
اچانک اس نے زمین پر چھلانگ لگائی تو شہلا متوحش سی دوسرے پڑوسیوں کے گھر کی طرف دوڑی ۔۔
وہ وہاں بھی اس سے پہلے جا پہنچا ۔۔
اب ایک عجیب منظر دیکھنے میں آ رہا تھا کہ اطراف میں درختوں سے بھری چاندنی میں نہائی نسان گلی میں ایک لڑکی خوف سے نڈھال کبھی ایک طرف بھاگتی تو کبھی دوسری طرف ۔۔
اور ایک بڑا سا بلا اس کی ہر منزل پر پہلے ہی پہنچا ہوا ہوتا ۔۔
شہلا کے ذہن میں اچانک حمزہ کی آواز گونجی ۔۔
“اس بلے نے اسے زندہ کیوں چھوڑا ۔۔”
اب شہلا نے اپنے خوف پر کچھ کنٹرول کر کے غور کیا تو اندازہ ہوا ۔۔
وہ بلا اس کے گلی سے نکلنے والے راستے کے علاوہ ہر راہ میں آرہا تھا ۔۔
گویا وہ نہیں چاہتا تھا شہلا اس علاقے میں مزید رہے ۔۔
نہ اس بلے نے اسے نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش کی تھی ۔۔
صرف غرا کر یا میائوں کی آواز کے ساتھ اسے کسی کی مدد لینے کی کوشش سے باز رکھ رہا تھ ۔۔
کچھ سوچ کر شہلا اپنے گھر کی طرف دوڑی ۔۔
بلا پھر اس کے پیچھے تھا لیکن اسے اپنے گھر جاتا دیکھ کر رفتار کم رکھی ۔۔
شہلا نے پلنگ پر ہی پڑا تالا چابی اور موبائل اٹھایا اور لرزتے ہاتھوں سے دروازہ بند کر کے ایک خوف اور نفرت سے بھری نظر دیوار پر بیٹھے بلے پر ڈالی اور پھر اس گلی سے نکلتی چلی گئی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنی مشکلوں سے اس نے رات کے ڈھائی بجے رکشہ ڈھونڈ کر زندگی میں اتنا لمبا سفر کیا تھا وہ بھی تن تنہا رات کے ڈھائی بجے ۔۔
شہلا نہیں جانتی تھی “وہ” اس کے ساتھ ہی موجود تھا ۔۔
وہ اپنے تئیں تنہا سفر کر رہی تھی اور خوف سے پوری طرح پسینے میں بھیگی تھی ۔۔
رکشے والے کی حیرت بھری کھوجتی عجیب نظریں شہلا نے محسوس کیں تو اپنی بے بسی پر اور رونا آیا ۔۔
رات کے اس پہر حویلی کو روشنیوں سے منور پا کر شہلا کو حیرت ہوئی ۔۔
اچانک رکشے والے نے کرایہ مانگ کر اسے سوچوں سے باہر نکالا ۔۔
شہلا کے پاس اسے دینے کے لیئے کچھ نہیں تھا ۔۔
اچانک اسے اپنی سونے کی اکلوتی انگوٹھی کا خیال آیا جو اس کی ماں کی تھی ۔۔
پتھر دل کے ساتھ وہ انگوٹھی اسے دی اور آگے بڑھ گئی ۔۔
پیچھے انگوٹھی کا جائزہ لیتے رکشے والے نے “حساب کتاب” کرنا چاہا لیکن شہلا کو غائب دماغی سے آگے بڑھتے دیکھ کر اس کی آنکھیں لالچ سے چمکنے لگیں ۔۔
انگوٹھی جیب میں ڈال کر وہ جلدی سے رکشہ بھگاتا لے گیا ۔۔
ایسا کرتے ہوئے وہ نہیں جانتا تھا وہ اپنی موت کو دعوت دے رہا تھا ۔۔
رکشے کی سیٹ کے نیچے سے جھانکتی سرخ آنکھوں نے گھور کر اس کی آنکھوں کا لالچ دیکھا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“حویلی میں تو اس وقت تک سب سوجاتے ہیں ۔۔
پھر آج ساری حویلی کی لائٹس کیوں جلی ہیں ۔۔
یا اللہ سب خیریت رکھیے گا ۔۔”
حویلی کے گیٹ کے باہر کھڑی شہلا الجھن اور خوف سے بھری نظروں سے جگمگاتی حویلی کو دیکھ رہی تھی ۔۔
اندر جانے کا فیصلہ اسے مشکل لگ رہا تھا ۔۔
اگر اتنی رات نہ ہوتی تو شائد اندر جانا اتنا مشکل نہ ہوتے ۔۔
لیکن رات کے اس پہر اس کی واپسی ۔۔
نہ جانے سب کیا سوچیں ۔۔
انہیں سوچوں میں گھری وہ گیٹ کے باہر کھڑی تھی جب اچانک گیٹ کا چھوٹا دروازہ وا ہوا ۔۔
شہلا ڈر کر تین قدم پیچھے ہوئی ۔۔
باہر آنے والے ضبط سے سرخ آنکھیں لیئے تیمور آفندی تھے ۔۔
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بری طرح ٹھٹھک گئے ۔۔
“شہلا تم یہاں اس وقت ۔۔”
“تیمور انکل سب خیریت ہے نا ۔۔”
دونوں نے ایک ساتھ سوال پوچھے ۔۔
اس سے پہلے کے ان میں سے کوئی جواب دیتا ۔۔
دور سے آوازیں کرتی پولیس کی گاڑیاں اور ایمبیولینس اس طرف آنے لگیں اور آ کر گیٹ کے پاس ہی رک گئیں ۔۔
متوحش نظروں سے شہلا یہ سب کچھ دیکھتی رہ گئی تھی ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 13

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: