Blogs Umme Muhammad Abdullah

کارٹون بنتا معاشرہ از ام محمد عبداللہ

Written by Peerzada M Mohin
کارٹون بنتا معاشرہ از ام محمد عبداللہ

–**–**–
”امی امی جان مجھے بہت غصہ آرہا ہے۔ کاشف غم و غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ رہا تھا۔ اس فرانسیسی صدر کی اتنی ہمت کیوں ہوئی کہ وہ پیارے رسول خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام اپنی گندی زبان سے لے۔ امی امی جان میں کیا کروں؟“ وہ سراپا سوال ہوا۔ ”پیارے کاشف! جب پست اور گھٹیا ذہنیت کے لوگ دلیل کے ساتھ بات نہیں کر سکتے تو وہ ایسی ہی نیچ حرکتیں کرتے ہیں۔ ہمیں تحفظ ناموس رسالت کے لیے توہین رسالت کے مقابلے میں توصیف رسالت کو عام کرنا ہے۔ درود پاک کی کثرت کرنا ہے۔ آو ¿ وضو کر کے درود شریف پڑھتے ہیں۔“ امی جان کاشف کو وضو کروا کے درود شریف پڑھوانے لگیں۔ ننھے سے بے قرار دل کو درود شریف پڑھنے سے سکون ملنے لگا تھا۔ ”کاشف کبھی ہم رسول خدا کے دور میں ہوتے۔ میں اور تم حضرت معاذ اور حضرت معوذ رضی اللہ عنھما ہوتے اور ابو جہل کا سر کاٹ ڈالتے۔“ سلمان درود شریف پڑھتا پڑھتا کاشف کے قریب آن بیٹھا تھا جب سے گستاخانہ خاکوں کی بات چلی تھی اس کے دل میں تو گویا آگ لگی تھی۔ کسی پل چین نہیں تھا۔ ”سلمان بیٹے آج نماز عصر کے بعد مال روڈ پر تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے جلسہ ہے تم اس میں چلے جانا میں بھی دفتر سے واپسی پر وہیں آو ¿ں گا پھر اکھٹے گھر آجائیں گے۔ ان شائ اللہ۔“ ”جی بہتر ابا جان۔“ سلمان نے سعادت مندی سے جواب دیا۔
مال روڈ پر ہزاروں کا مضطرب ہجوم تھا۔ خطیب صاحب مائیک پر جذبہ ایمانی سے بھرپور خطاب کر رہے تھے۔ جوش سے کانپتے ان کے الفاظ فضا میں گونجے آج یہاں اسی وقت میں اپنے رب سے عہد باندھتا ہوں آپ بھی عہد کیجیے۔ رسول اللہ پر قربان ہو میری جان اور خون، میرے ماں اور باپ، میرا خاندان اور اولاد اور میرا تمام مال اور جو کچھ اللہ نے مجھے عطا کیا ہے۔ ہزاروں کا مجمع اپنی سانس سانس قربان کرنے کو تیار خطیب صاحب کے الفاظ دہرا رہا تھا۔ فضا گونج رہی تھی۔ ہمارے خون، ہماری جانیں، ہماری اولادیں، ہماری زندگی کی کوئی قیمت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وقار، رسول اللہ کی ناموس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شرافت کے سامنے اور جو ہم بول رہے ہیں اس پر خدا گواہ ہے اور ہمارے شہدا کے خون گواہی دیں گےاور ہمارے جانبازوں کے زخم گواہی دیں گے اور ہمارے ویران گھر گواہی دیں گے اپنے خون کے آخری قطرے تک ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ہماری یہ صدا فضاو ¿ں میں گونجتی رہے گی۔ حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے۔ “
سلمان کے سینے میں گویا آگ لگی ہوئی تھی، آنکھوں سے آنسو رواں تھے ہاتھوں میں سبز پرچم لہرا رہا تھا اور رندھے ہوئے گلے سے صدا بلند ہو رہی تھی۔ حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے کہ دفعتاً اس کی نگاہ مال روڈ پر لگے بل بورڈ پر پڑی۔ شیمپو کے اشتہار میں ایک حسین دوشیزہ کی لمبی گھنی سیاہ زلفیں لہراتی بل کھاتی ایک خوبرو نوجوان کے چہرے کو چھو رہی تھیں۔ تھوڑے ہی فاصلے پر نازیبا لباس میں عجب بے باکی لیے چند ایک اور بل بورڈز پر امت کے جوانوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔ چکراتے دل و دماغ کے ساتھ سلمان نے نگاہیں جھکا لی تھیں۔ باہر لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگ رہے تھے اور سلمان کے دل کی دنیا میں اک نیا ہنگامہ بپا ہو چکا تھا اسے لگا بل بورڈز پر آویزاں تصاویر کے سب جوان جلسے میں آن شامل ہوئے ہیں وہ سب سلمان کے گرد ناچتے چیخنے لگے تھے ہم حیا نہیں کریں گے جو ہمارا جی چاہے گا ہم کریں گے۔ جیسے چاہیں گے جئیں گے۔ ان تصاویر میں سے ایک تصویر اس کی جانب بڑھی۔ ”تم بھی جیو من چاہی زندگی۔“ ”نہیں، نہیں۔ حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے۔“ اس نے اپنا دھیان ان بل بورڈز پر سے ہٹانا چاہا۔ ”یہ تو شو بز انڈسٹری کے چند نوجوان لڑکے لڑکیاں ہیں ان کا ساری قوم سے کیا لینا دینا؟ حرمت رسول پر،“ اس نے مجمعے کی آواز میں آواز ملائی۔ ”ہم چند ایک نہیں ہیں۔ بڑے بڑے شاپنگ پلازہ سے لے کر منگل بازار تک، آئس کریم پارلر سے لے کر قلفی کی ریڑھیوں تک، مخلوط تعلیمی اداروں سے لے کر مخلوط شادی بیاہ کی تقریبات تک، گلی محلے سڑکوں بازاروں میں فیشن زدہ اسلامی پہناوے کی نفی کرتے عورتوں کے لباس اور مردوں کی کئی کئی بار اٹھتی بے باک نگاہیں ہم چند ایک کی نہیں۔اب اس قوم کی اکثریت ہم میں سے ہے۔“ بل بورڈ کی ایک تصویر نے سلمان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ سب تصویریں بورڈوں پر سے اتر آئی تھیں۔ ان کے چہروں کی رعنائی ختم ہو چکی تھی۔ وہ سب مسخ شدہ کارٹون بن چکے تھے۔ سلمان کے گرد ناچتے وہ ایک ہی اعلان کر رہے تھے۔ ”ہم حیا نہیں کرتے۔ ہمارا جو جی چاہتا ہے کرتے ہیں۔“ دفعتاً سلمان کو محسوس ہوا وہ اس بھرے ہجوم میں تنہا رہ گیا ہے۔ جہاد کے لیے ایمان لازمی جزو ہے اور ایمان تو حیا سے ہے۔ نہیں نہیں میں اپنے ایمان کا محافظ بنوں گا، میں اپنی حیا کی حفاظت کروں گا، میں ناموس رسالت کا رکھوالا ہوں۔ وہ ان مسخ شدہ کارٹونوں سے اپنا دامن چھڑانے لگا تھا۔ ”اپنی حیا ہمیں دے دو۔ آو ¿ ایک گانا سن لو، ایک فلم ایک ڈراما دیکھ لو ، ایک کارٹون مووی دیکھ لو اور کچھ نہیں تو چند اشتہار دیکھ لو۔“ اسے لگا وہ سب تصویریں کارٹون بن کر اس کے پیچھے لگ گئے ہیں۔ وہ ان سب سے جان بچاتا ہانپتا کانپتا جلسے سے نکل آیا تھا۔ ایک ذیلی سڑک پر دوڑتے دوڑتے وہ بہت دور نکل آیا تھا لمحہ بھر کو رک کر اس نے اپنے اطراف دیکھا۔ سڑک کے دونوں جانب درخت لگانے کی مختص کردہ جگہیں ویران پڑی تھیں۔ کہیں کوئی سبزہ نہ تھا۔ کوڑے کے ڈھیر سڑک کے اطراف زرعی زمین کا منہ چڑا رہے تھے۔ فضا میں عجب خاموشی، عجب ویرانی تھی۔ مگر اس نے محسوس کیا اس سکوت میں کوئی سسکیوں بھری آواز تھی۔ ہاں دور ایک اکیلا اداس درخت کھڑا تھا۔ اسے لگا وہ درخت اسے ہی پکار رہا ہے۔ وہ تھکا ماندہ اسی جانب چلنے لگا تھا۔ سسکیوں کی آواز واضح ہونے لگی تھی۔ اس نے سننے کی کوشش کی فضا سوگوار آواز کی لہروں کو منتشر کر رہی تھی۔
تلاشنا ہے اسی وطن کو
اساس جس کی لا الہ تھی
حصول تھا جس کا دیں کی خاطر
انتہا جس کی لا الہ تھی
وہ جس کی خاطر ضیعف ماو ¿ں نے اپنے بیٹے فدا کیے تھے
تلاشتا ہوں جب اس وطن کو
تو ایسے لگتا ہے دیس میرا وہ کھو چکا ہے
چہار جانب سیاہ اندھیرے ہیں
میری جانب جو بڑھ رہے ہیں
ان اندھیروں میں رقص کرتے ہوئے درندے ہیں
جن کے ہاتھوں سے خون انساں ٹپک رہا ہے
وہ میری جانب ہی بڑھ رہے ہیں
میں ان لٹیروں میں گھر چکا ہوں
جومجھ سے میری متاع ایماں چھین لینے کو مضطرب ہیں
وہ کہہ رہے ہیں مفاہمت ان سے کر کے ہتھیار پھینک دوں میں سارے
وہ مجھ کو آسائشیں بھی دیں گے
وہ میری قیمت لگا رہے ہیں
سیاہ تاریک راستوں میں وفا کے دیپک بجھا رہے ہیں
تلاشنا ہے اسی وطن کو
سلمان کے دل میں ہوک سی اٹھ رہی تھی۔ سر بری طرح چکرا رہا تھا۔ اس نے درخت کے تنے کا تھام لینا چاہا مگراس سے پہلے کے ہاتھ تنے کو لگتےوہ لہراتا ہوا زمین پر آ پڑا تھا۔ ”سلمان! سلمان میرے بچے آنکھیں کھولو۔ امی جان اس کی ہتھیلیاں سہلا رہی تھیں۔ بابا جانی بھی فکر مند سے اس کے سرہانے کھڑے تھے۔“ اس نے آنکھیں کھول کر اپنے مہربان والدین کو دیکھا۔ ”سلمان تم اس ویران سڑک پر کیا کر رہے تھے۔ میں نے تو اتفاقا جلسے میں شرکت کے لیے اس راستے کا انتخاب کیا تھا کہ تمہیں چکرا کر وہاں گرتے دیکھا۔ کیا تم راستہ بھول گئے تھے؟“ بابا جانی تشویش زدہ لہجے میں سلمان سے مخاطب ہوئے۔ سلمان خالی خالی نظروں سے انہیں گھور رہا تھا۔
حرمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جان بھی قربان ہے، ہم حیا نہیں کریں گے، من چاہی زندگی جئیں گے۔فرانس میں میں گستاخی رسول، بل بورڈز پر امت کے کارٹون بنے نوجوانوں اور ان کارٹون نوجوانوں کی تقلید کرتا کارٹون معاشرہ۔ سلمان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے،آواز رندھ گئی تھی۔ ”میں راستہ بھول گیا بابا، ہم سب راستے سے بھٹک گئے بابا، ہم سے منزل گم ہوگئی، ہم نے اپنی منزل کھوٹی کر ڈالی، ہم ان کو کیسے روکیں بابا ،ہم سب تو خود کارٹون بن گئے۔ وہ رونے لگا تھا۔ بابا میں جلسے میں اکیلا رہ گیا تھا، سب ساتھ چھوڑ گئے تھے، وہ بل بورڈ سے اتر کر مجھے ڈرانے لگے تھے، آپ بھی جلسے میں نہیں آئے بابا، میں تنہا رہ گیا تھا۔بالکل اکیلا۔“ بابا اور امی جان حیرت سے سلمان کو دیکھ رہے تھے۔ اس کے بے ربط جملے، آنسو اور ہچکیاں وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہے تھے۔
”کیا ہوا سلمان کسی نے ڈرایا تھا۔ جلسے میں تو بہت لوگ تھے۔ تم کیا کہہ رہے ہو۔“ بابا جانی نے پریشانی کے عالم میں سلمان سے پوچھا۔
بابا جانی جس دیس کی اساس لا الہ ہو، جس کا حصول دین کی خاطر ہو اس دیس کے جوان ہرطرف اپنے دین، اپنے نظریے، اپنے ایمان ، اپنی حیا سے ہٹ کر بل بورڈز پر سج جائیں۔ شہر کے اطراف میں چہار جانب نظر آئیں تو کفار ہمارے دین کا تمسخر نہ بنائیں تو اور کیا کریں بابا؟“ وہ بہت دل گرفتہ تھا۔ بابا جانی نے چند لمحوں کے لیے اپنی آنکھیں موندتے ہوئے گہری سانس لی۔ وہ سمجھ چکے تھے سلمان نے آج کس حساسیت کے ساتھ معاشرے میں پھیلتی بے حیائی کو نوٹس کر لیا ہے۔
”سلمان میرے بچے! انہوں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اس امت کو پھر سے احیائے ایمان، تجدید ایمان کرنا ہے اور جب ہم اپنے ایمان کو زندہ کریں گے ، اسے بڑھائیں گے تو ہمیں حیا بھی نصیب ہو گی کیونکہ حیا ایمان سے ہے۔ ہمیں اپنے دین کا مبلغ بننا ہے اپنے ہر ہر عمل سے اور ہمیں جہاد کرنا ہے صرف ان گستاخوں کے خلاف ہی نہیں، اپنی امت میں در آئی ہر برائی کے خلاف بھی۔“ بابا جانی نے سلمان کی طرف محبت سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ”پھر ہمیں مضبوط ایمان عطا ہوگا اور حیا بھی۔ پھر ہمارے دین کا تمسخر اڑانے کی کسی کو جرات نہ ہو گی۔ ہے ناں بابا جانی۔“ سلمان نے نم آنکھوں اور پرامید لہجے میں بابا جانی سے پوچھا۔ان شاءاللہ۔ بابا جانی نے مضبوط آواز میں جواب دیا۔ ان شاءاللہ

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: