Chand Mera Humsafar Novel By Hina Khan – Episode 1

0

چاند میرا ہمسفر از حناء خان – قسط نمبر 1

–**–**–

 

خبر نہیں مُجھ کو
یہ کونسا درجہ عشق ہے
کہ لفظ سب میرے ہیں
اور ذکر بس تمہارا ہے..!!
********——————————************
——————————***
یار!!!!!!!! اور کتنا ٹائم لگنا ہے تمکو مرہا ؟؟؟ کب سے تم سے چائے کا ایک کپ مانگا ہے لیکن تم ہو کی اول درجے کی نکمی کام چور اور صدا کی سست….””’ کچھ نہیں ہو سکتا تمہارا روحیل نے ٹی وی کے چنیل بدلتے ہوے زچ آکے غصّے میں مرہا کو سخت سست سنائی….،،،،،
زیادہ گلہ پھاڑنے کی زحمت نا کرو سمجھے سن سکتی ہوں میں بہری نہیں ہوں جو اتنا زور زور سے مجھے سنا رہے ہو مرہا نے چائے کپ میں انڈیلتے ہوے دانت پڑ دانت جما کر کہا__
ایک تو تمہیں چائے چاہیے پھر اچھی بھی چاہیے اور جلدی بھی چاہیے ہونہ مرہا نے چائے کا کپ روحیل کو پکڑاتے ہوے گھور کر کھا “”؛؛؛؛؛؛
روحیل نے شکریہ کہ کر سر کو ہلکی سی جنبش دی ۔۔۔۔۔
انہون…..چینی زیادہ ڈال دی ہے تم نے روحیل نے اپنی ہنسی دباتے ہوے مرہا کو چیھڑا ۔۔۔،،،،
وہ جو دوسرے صوفے پڑ مزے سے دونوں پاؤں اوپر کیے چائے سے لطف اندوز ہو رہی تھی روحیل کی بات پر تپ کر اس کی طرف دیکھا پھر چائے کا کپ رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی___ ایک تو مینے تمہارے لیے چائے بنائی اوپر سے میرا احسان ماننے کے بجاے تم میری ہی کمییاں نکال رہے ہو مرہا نے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کیا ********
ہاں تو جو بات ہے وہ بتاؤنگا نہیں تو تم تو کل کبار کو سسرال جاکر ہماری ناک کٹوا دوگی نا….. اس لیے تمہاری اصلاح کے لیے تمکو بتانا لازمی ہے میری بہن روحیل نے با مشکل اپنے قهقے کا گلہ گھونٹا
وہ ایک ہاتھ کمر پر باندھے دانت پر دانت جما کر کمال مہارت سے اپنے بڑے بھائی کو ایسے دیکھ رہی تہی جیسے ابھی اسکو آنکھوں سے ہی جلا دیگی !!!!!!
اگر اتنے ہی دانت باہر نکل رہے ہیں نا تمہارے روحیل تو بتا دو میں ایک ہی بار میں تمہاری بتیسی کو تمہارے منہ سے فارغ کر دوں مرہا نے دانت کچکاے
روحیل نے اپنے چائے کا کپ ختم کیا اور اسکے پاس آکر اسکے کندھے پر اپنا بازو پھیلا دیا
مرہا نے منہ بنایا…… ہونہ پہلے غصہ دلاؤ پھر آجاؤ محبت جھاڑ نے مرہا نے پھولے منہ سے کہا،،،،
یار میں تو تم سے صرف مذاق کرتا ہوں میری جان چائے واقعی بہت زبردست بناتی ہو تم قسم سے موڈ فریش ہوجاتا ہے میرا روحیل نے پیار سے اسکا موڈ ٹھیک کرنا چاہا …..
اچھا اب زیادہ مکھن نا لگاؤ …. مرہا نے اسکا بازو ہٹا کر ایک ادا سے کہا
روحیل سر جھٹکتا اپنی روم کی طرف بڑھ گیا پھر رک کر مرہا کو آواز دی
اچھا سنو ،،،!!!! تمہارے لیے ایک آفر ہے روحیل نے چمک کر کہا
وہ جو ٹی وی کا رموٹ اٹھا رہی تھی روحیل کی بات سن کر اسکو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی “”””___
کیا ….؟؟؟
تم نا ماسی بن کر ببہت اچھی لگوگی روحیل نے جھٹ سے دروازہ بند کر دیا
وہ جو اسے مارنے لپکی تھی ضبط کے گھونٹ بھر کر رہ گئی
مرہا اور روحیل دو بہن بھائی تھے مرہا کے والد عظیم اطہر ایک زمیںدار آدمی تھے اپنی زمینون کی دیکھ بھال وہ خود کیا کر تے تھے شگفتہ (مرہا کی والدہ ) ایک ہاؤس وائف تھی روحیل اپنے شہر کے نامور ڈاکٹر میں سے ایک تھا مرہا اس سے تین سال چھوٹی تھی جو یونی کے لاسٹ ایئر میں تھی ……
پڑھائی کرنا اسکا سب سے بڑا مسلہ تھا کیوں کے مرہا کے ابا کے مطابق اگر اس نے پڑھائی میں۔۔۔اچھے نمبر نہیں لیے تو اسے ابا کی زمیںون کا حساب کتاب کرنا تھا افففف!!!!! یہ زمیںیں اسکو سخت الجھن ہوتی تھی یہی ڈر اس کو پڑھائی کرنے پڑ مجبور کرتا تھا
***************** *****************
تمہاری پڑھائی کیسے چل رہی مرہا …؟؟؟ عظیم صاحب نے اپنی عینک اتار کر سائیڈ پر رکھتے ہوے پوچھا
آپ بے فکر رہیں ابا آپ کی زمیںون کو سمبھالنے کی نوبت نہیں آئے گی دیکھیے گا اس بار بھی رسلٹ بہت ہی اچھا آئے گا میرا مرہا نے ان کے پاس بیٹھتے ہوے انھیں یقین دلایا
عظیم صاحب نے مسکرا کر اسکے سر پر ہاتھ رکھا
بیٹا میں تو یہ چاہتا ہوں کے روحیل کی طرح تم بھی کسی اچھی پوسٹ پر ایڈجسٹ ہوجاؤ ویسے بھی بیٹا ضروری نہیں نہ کے آپ ڈاکٹر ہی بنیں …..عظیم صاحب نے لاڈ سے اسے سمجھایا
ابا آپ روحیل سے تو کبھی ایسے نہیں کہتے تھے بلا وجہہ مجھے ہی شوشے میں ڈالا ہوا ہے اب پڑھائی تو میں کر رہی ہوں نہ مرہا نے خفگی سے انکی بات کا جواب دیا
عظیم صاحب دھیرے سے ہنس دئے….
انہون !!!،،، ابا میں بھول گئی کے امان بلا رہیں ہیں آپ آکے کھانا کھا لیں مرہا نے سر پر ہاتھ مارا….
ٹھیک ہےعظیم صاحب بھی اسکے ہم راہ چل دئے ،،،،،
ابا آپ کا کام کیسا جا رہا ہے روحیل نے سالن کھاتے ہوے پوچھا ؟؟؟!!!!
ٹھیک چل رہا ہے بیٹے آپ کا کام کیسا جا رہا ہے..؟؟؟ عظیم صاحب نے لقمہ منہ میں ڈالتے ہوے پوچھا ؟؟؟
پرفیکٹ ایز آلویز روحیل نے فخر سے جواب دیا مرہا نے پہلو بدلہ اسے ذرا اچھا نہ لگتا تھا کام کی باتیں ڈسکس کرنا ہونہ پہلے پڑھائی کے شوشے اٹھاؤ ….اور پھر لگ جاؤ کام کرکے اپنے پڑھے لکھ ہونے کا ثبوت دینے
کھانا ختم کر کے سب اپنے کمرے میں چلے گئے مرہا بھی سونے کے لیے اپنے روم میں چلی گئی ،،،،
. _______________*********_____________
صبح فجر کی نماز پر ہی سب لوگ اٹھ جاتے تھے مرہا بھی نماز پڑھ کر کچن میں شگفتہ بیگم کا ہاتھ بٹانے آ گئی
ناشتہ کر کے فورن اس نے الماری سے سفید رنگ کا سوٹ نکالا جس کے دامن اور پانچوں پر گلابی رنگ کا کام ہوا وا تھا سفید رنگ اس کی نکھری اور بے داغ رنگت کو مزید حسین بنا رہا تھا اس نے بیگ اٹھایا اور خدا حافظ کہ کر باہر کی طرف بھاگی”””””’ کیوں کے روحیل ہاروں پر ہارون دے رہا تھا جس کا مطلب تھا آج پھر اس نے دیر کر دی تھی !!!
وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی اور روحیل نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کر دی …..
آج چھٹی میں میں تمہیں لینے آؤنگا ٹھیک ہے روحیل نے سامنے دیکھتے ہوے مرہا کو مخاطب کیا *****
وہ جو کار سے شیشے سے باہر بھاگتی ہوئی چیزوں کو دیکھ رہی تھی روحیل کی بات پر چوںک کر اسکی طرف دیکھنے لگی ….. شکریہ تمہیں یاد تو رہی میری بات مرہا نے روحیل پر طنز کر کے کہا
روحیل نے صرف اسکی بات پر سر جھٹکا-“
کلاس کے ساری لیکچرس سن کر تو مرہا کا سر گھومنے لگا وہ اپنی کتابیں اور بیگ سمبھال کر کلاس کے باہر آ گئی روحیل کو آنے میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا تھا وہ یونی کے گراؤنڈ میں ہی ایک بنچ پر بیٹھ گئی
افففف کیا مسلہ ہے ان بکس کے ساتھ بھی مرہا نے عاجز آکر بکس کو بیگ میں ٹھوسا اور روحیل کا نمبر ملانے لگی ..دو بیل پر کال اٹھا لی گئی روحیل نے راستہ میں ہوں کا کہ کر کال بند کر دی مرہا نے گہری سانس لی اور سر جھٹک کر اٹھ گئی کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد روحیل یونی کے گیٹ پر پوھنچ گیا اسنے جیب سے موبائل نکال کر مرہا کو کال ملائی لیکن مرہا کا فون اوف جا رہا تھا روحیل نے نہ گواری سے فون جیب میں ڈال دیا اور یونی کے اندر چلا گیا تبھی مرہا روحیل کی طرف آتی دکھائی دی چلیں ؟؟؟ روحیل نے اسکا بیگ لیتے ہوے پوچھا_
ڈاکٹر روحیل آپ کوڈاکٹر سفیر اپنے روم میں بلا رہیں ہیں نرس نے آکر روحیل کو اطلاح دی ؛؛؛
وہ جو ابھی ابھی مریضون کودیکھ کر آیا تھا نرس کی بات پر بے دلی سے اٹھ کر ڈاکٹر سفیر کے روم میں چلا گیا…
یس ڈاکٹر روحیل نے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کہا
ڈاکٹر سفیر ایک اڈیہڑ عمر کے آدمی تھے ساںولی سنگت درمیانہ قد سفید بال اور سفید داڑھی ولی ایک خوش اخلاق آدمی
وہ جو آپریشن ہم نے کل کرنا ہے آپ نے اس کی تیاری کر لی ہوگی پھر بھی ایک اور بار آپ اس آپریشن کے حوالے سے یہ فائل ریڈ کر لیں ڈاکٹر سفیر نے ایک بلیو رنگ کی فائل روحیل کی طرف بڑھائی ۔
اوکے سر روحیل نے فائل تھامتے ہوے کہا
وہ یک ٹک روحیل کو دیکھ جا رہی تھی روحیل کو اپنے آپ پر کسی کی گہری نظر کا احساس ہوا اس نے پاس بیٹھی لڑکی کی طرف دیکھا پھر ایک ابرو اٹھا کر ڈاکٹر سفیر کو دیکھا
یہ یسرا بخاری کل کا جو آپریشن ہے اس میں یہ تمہاری ہیلپر ہے ڈاکٹر سفیر نے روحیل کا اشارہ سمجھتے ہوے کلیر کیا
وہ جو ٹائٹ جینسپر ٹاپ پہنے بالوں کیاونچی پونی باندھے سن گلاسس کو سر پر جما رکھا تھا دلچسپی سے اس وجیہ مرد کو دیکھ رہی ڈاکٹر سفیر کو دیکھ کر سر کو جنبش دی بلیک جینس پر بلیک شرٹ پہنے استین کہنیون تک موڑے پینٹ کی جیبون میں ہاتھ ڈالے سپاٹ چہرے پر نہ گواری لیے ڈاکٹر سفیر کی بات سن رہا تھا
یسرا یک ٹک اس کھرے کھرے نقوش والے خوبرو شحص کو دیکھے جا رہی تھی ڈاکٹر سفیر کی بات پوری ہوئی تو روحیل گلہ کہنگار کر بولا ۔۔۔وہ جو اسکو دیکھنے میں مصروف تھی چوںک کر سیدھی ہو بیٹھی
ڈاکٹر میرا وارڈ نمبر بارہ کے راؤنڈ کا وقت ہوگیا ہے میں….چلتا ہوں روحیل بے تاثر لہجے میں کہتا بنا ایک غلط نظر بھی یسرا پر ڈالے اپنے روم کی طرف بڑھ گیا
وہ جو اس سے بات کرنے کے لیے بے تاب ہو رہی تھی روحیل کے یوں نظر انداز کرنے پر بری طرح سلگ کے رہ گئی
ہونہ لڑکے تو لڑکے اب لڑکیاں بھی گھورنے پر اتر آئ ہیں روحیل نے نہ گواری سے دل میں سوچا اور اپنے مطلوبا وارڈ کی طرف بڑھ گیا …..
آج اسکی یونی سے چھٹی تھی اس لیے اس نے دیر تک سونے کا ارادہ بنایا ہوا تھا صبح کے 11 بجے تو اسکی آنکھ شگفتہ بیگم کی آواز پر کھلی اس نے آنکھوں کو مسلہ اور اٹھ کر واشروم میں چلی گئی فریش ہوکے نیلے رنگ کا فراک زیب تن کیا اور ناشتہ لیکر دونو پاؤں صوفے پر اوپر کر کے بھاپ اڑاتی چائے کے سپ لینے لگی
عظیم صاحب زمیںون پر چلے گئے تھے شگفتہ بیگم اپنے کسی رشتےدار کی عیادت کے لیے گئی ہوئی تھیں روحیل بھی چلا گیا تھا صرف وہ ہی گھر پر اکیلی بیٹھی ہوئی تھی
اسنے چائے کا کپ ختم کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور کچن میں آکر ملازمہ کے ساتھ دوپھر کے کھانے کی تیاری کرنے لگی ۔۔،،”’
کچن سے فارغ ہوکر اس نے دم بریانی کو پیک کیا اور روم میں آکر اپنا حلیہ سہی کیا پھر کندھوں پر سیاہ شال لپیٹ کر ملازمہ کو گھر کی دیکھ بھال کی ھدایت دے کر کار میں بیٹھی اور ڈرائیور کو مطلوبہ جگہ بتا کر اسنے روحیل کو کال ملائی
اسلام و علیکم ؛؛؛ کال ملتے ہی روحیل کی خوش گوار آواز آئ ۔لگتا ہے آج آپریشن کامیاب گیا ہے جناب کا مرہا نے بھی بھلے موڈ سے پوچھا ،،،
ہاں وہ تو ہے تم سناؤ کیسے فون کیا روحیل نے مصروف سے انداز میں پوچھا
ہاں وہ تم فری ہو نہ اس ٹائم…؟؟؟ مرہا نے خوش دلی سے پوچھا
ہاں فری ہوں کیوں ….؟؟
بس بتاتی ہوں بعد میں مرہا نے کہ کر فون بند کر دیا ۔۔
گاڑی سے اتر کر اسنے چہرے کو دوپٹے سے چھپا لیا روحیل کے کیبن کے پاس پوھنچ کر اس نے دروازہ نوک کیا یس کی آواز پر وہ اندر چلی گئی*****
وہ جو فائلس سے ابھی فری ہوا تھا مرہا کو دیکھ کر خوش گوار حیرت سے اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا
تم؟؟؟….یہاں اور یہ کیا ہے روحیل نے مرہا کے ہاتھ میں پکڑے ڈبے کی طرف اشارہ کیا
دم بریانی ہے تمہارے لیے بنائی ہے اس لیے تمہیں دینے آ گئی مرہا نے بریانی روحیل کو پکڑوائی
تھنکس یار!!!!!!!!! روحیل خوشی سے چہک کر بولا مرہا نے مسکرا کر سر جھٹکا
بریانی بہت ہی مزے کی ہے سچ میں یار ،،،
روحیل نے بریانی ختم کرتے ہوے کہا اچھا چلو ابھی میرا کام ختم ہوگیا ہے ساتھ میں گھر چلتے ہیں روحیل اٹھ کھڑا ہوا ٹھیک ہے مرہا نے اثبات میں گردن ہلآئ وہ بیگ اٹھا کر اٹھ کھڑی ہوئی وہ ساتھ میں ہی روم سے نکلے
مرہا نے باہر نکلتے ہوے پھر سے منہ پر دوپٹہ دے دیا
اوہ شٹ !!!!! فون بھول گیا میں تم چلو میں لیکر آتا ہوں!!؛؛—– روحیل کہتا ہوا روم کی طرف تیز تیز قدم اٹھانے لگا
وہ سر جھٹک کر مڑی تو کسی کے شانے سے اس کا ماتھہ زور سے ٹکرایہ ٹکر اتنی شدید تھی کے اس کے چہرے سے دوپٹہ چھوٹ گیا وہ ہاتھ سر پر رکھے آنکھیں میچے اپنا سر سہلا کے رہ گئی ،،، ….. کیا مسلہ ہے دن میں بھی آپنے نظر نہیں آتا__ ہونہ جان بوجھ کر ہی ٹکراے ہونگے آپ جیسے لوگوں کا یہی تو کام ہے یہاں کوئی حسین لڑکی دیکھی وہی پر آپ کی لفنگی اور چھچھوری حرکتیں شروع ہوجاتی ہیں…… ہونہ بدتمیز انسان مرہا کا دل کر رہا تھا کے سامنے کھڑے اس شخص کا سر پھاڑ دے
لیکن وہ تھا کے اس کی آنکھوں سے نظر ہی نہیں ہٹا پایا
مرہا نے غصے سے اسکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایہ اوہ ہیلو ”’
اب کیا اندھے کے ساتھ بھرے بھی ہو مرہا نے دانت پر دانت جما کر کہا
اہاں نہ نہیں سوری ایکچولی میری غلطی تھی آئ ام سو سوری عریش نے جھٹ سے بات سمبھالی
وہ صرف ہونہ کہ کر پیر پٹخ کر وہاں سے چل دی اور وہ ……بس اس لڑکی کو دیکھتا رہ گیا
ارے روحیل تم؟؟؟ عریش نے روحیل کو سامنے آتے دیکھا تو خوش گوار حیرت سے اسکے پاس چلا آیا
عریش!!!!!! تم؟؟؟!!! یہاں میرے کلینک میں واٹ اے پلیزانٹ سرپرائز یار ،،،، روحیل اس کے گلے ملتے ہوے خوشی اور حیرت سے ملے جلے تاثرات سے بولا
تم کب اے انگلینڈ سے ؟؟؟ روحیل اس کے ساتھ چلتے ہوے پوچھنے لگا ۔۔بس کل ہی آیا ہوں یہاں سے گزر رہا تھا تو تمہارے کلینک کا بورڈ پڑھا باہر سے تو تم سے ملنے چلا آیا عریش بھی خوشی سے اسے بتانے لگا
یار کالج کے بعد سے تو تم اچانک ہی غایب ہی ہو گئے روحیل نے شکوہ کنان نظروں سے عریش کو گھورا
بس!!! یار یوں ہی ویل تم سے مل کر بہت خوشی ہوئی یار وہ دونو کار کے پاس اے تو مرہا کی نظر روحیل کے ساتھ اس لڑکے پر پر گئی جس کے ساتھ اس کا زبردست ٹکر ہوا تھا
اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ہیں !!!! یہ روحیل اس لڑکے کے ساتھ ….. لگ تو ایسے رہا ہے جیسے اسکو جانتا ہو مرہا آنکھیں چھوٹی کر کے دیکھنے لگی ہائے اللہ‎ کہیں یہ لڑکا میری شکایت تو نہیں کر رہا نہ؟؟؟ اففف کیا ضرورت تھی اس کے ساتھ اتنی زبان چلانے کی وہ بڑبڑا کر کار کی سیٹ سے ذرا نیچے ہوگئی جس سے ان دونو کی نظر سے وہ اوجھل ہوگئی روحیل کار میں بیٹھا تو مرہا ہ کو اس حالت میں دیکھ کر ٹھٹکا
یہ تم…… ایسے کیوں بیٹھی ہو؟؟؟
وہ میں ….موبائل اٹھا رہی تھی گر گیا تھا نہ مرہا ںے خود کو کمپوز کرتے ہوے بہانہ کسہ ***
گاڑی آگے بڑھی تو مرہا کی رکی ہوئی سانس بھال ہوئی
ہونہ بدتمیز نہ ہو تو مرہا نے دل ہی دل میں عریش کو سنائی……
*****
رات کے کھانے کے لیے سب خاموشی سے کھا رہے تھے جبھی شگفتہ بیگم نے مرہا کو پکارا
وہ جو کھانے کے ساتھ انصاف کر رہی تھی شگفتہ بیگم کی آواز پر چوںک کر انھیں دیکھنے لگی جی؟؟؟
شہناز کے بیٹے کی شادی ہے ہم سب کو انوائٹ کیا ہے تمہارے ابا تو نہیں چل سکتے تم میں اور روحیل کو چلنا ہے پرسوں انکی شادی میں شگفتہ بیگم نے اپنی بات پوری ہونے پر اسکی طرف دیکھا
امان مجھسے نہیں اٹینڈ کی جاتی یہ شادی وادی آپ اور روحیل چلے جائیں مرہا نے عاجز آتے ہوے وجہہ بتائی
نہیں اس بار تمہاری کوئی چوں چران نہیں چلے گی
سمجھی____؟؟؟
انہوں نے سختی سے مرہا کو تنبہ کیا
مرہا نے خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھی
اور تم روحیل شگفتہ بیگم اب روحیل کی طرف متوجہہ ہوئیں جی اماں میں چلنے کے لیے تیار ہوں بس آپ ٹائم بتا دیجئے گا
مرہا نے خونخوار نظروں سے روحیل کو گھورا روحیل نے بے بسی سے شانے اچکائے
نہیں امان میں اتنا کام والا سوٹ کیسے سمبھالوںگی اففف!!!! اماں مجھسے نہ ہو پاے گا مرہا نے ایک سوٹ کو ہاتھ میں لیکر دیکھا پھر کوفت سے واپس رکھ دیا بڑی مشکل سے اس کو ایک سفید رنگ کاسوٹ پسند آیا
ماشاءالله ماشاءالله بہت پیاری لگ رہی ہو اللہ‎ میری بچی کو نظر بد سے بچاے شگفتہ بیگم نے مرہا کی بلائین لیتے ہوے اسکی پیشانی چومی مرہا چہینب گئی
چلیں امان روحیل وائٹ شلوار کمیز پہنے نک سک سا تیار کھڑا تھا
شادی کی تیاری عروج پر کی ہوئی تھی پورا حال روشنیون اور پھولون سے سجا ہوا تھا ہر طرف لوگ ہاتھوں میں گلاس تھامے خوش گپییوں میں مصروف تھے ہر طرف ہنسی سر گوشیان قہقے اور مذاق کا ماحول لگا ہوا تھا ….
کار کو پارک کرتے ہوے روحیل تو فون پر لگ گیا البتہ مرہا کا اتنی رش دیکھ کر ہی سر گھومنے لگا…
شگفتہ بیگم تو شہناز بیگم کے ساتھ مصروف ہوگئی
مرہا بھی ایک ٹیبل پر بیٹھ گئ اور موبائل نکال کر سلفی لینے لگی پھر آتے جاتے لوگوں کو دیکھنے لگی!!!!!!
وہ جو پھولوں کی ٹوکری ہاتھون میں اٹھاے کندھے اور کان کے بیچ موبائل رکھے کسی سے تیز تیز بات کرنے میں مصروف تھا کرسی سے ٹکر لگنے سے پھولوں کی ٹوکری سے گلاب کی پتیان گرنے پر شدید کوفت سے اسنے پھولوں کی بھری ٹوکری پاس سے گزرتے ایک کام والے لڑکے کو پکڑوا دی موبائل بند کرکے اس نے جیب میں رکھ دیا اور باہر کی جانب بڑھنے لگا کے یونہی ایک نگاہ اسکی سامنے سلفی لیتی لڑکی پر پر گئی اس کے لب خود بخود ایک خوبصورت مسکراہٹ میں ڈھل گئے
بہورے بالوں کا جوڑا بناے جس کی دو لٹیں گہنگریالے کی ہوئی تھیں کانوں میں ڈامنڈ کے ٹاپس مکیپ سے پاک دمکتی دودھیہ سفید ملائی جیسی رنگت کلائی میں سرخ رنگ کی کانچ کی چوڑییاں پہنے سرخ رنگ کی لپسٹک لگاے وہ عریش کے حواسون پر پوری طرح چہائ ہوئی تھی آس پاس کیا ہو رہا تھا اس کو کچھ خبر نہیں تھی وہ بس سامنے بیٹھے اس دشمن جان کو دیکھنے میں مگن تھا جو سخت عاجز اور بیزار لگ رہی تھی اس نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور زوم کر کے دور بیٹھی مرہا کی تصویر کلک کر کے اپنے پاس سیو کر لی ؛؛؛؛؛؛؛
افففف یہ روحیل کہاں رہ گیا اس نے زچ آکر موبائل ہاتھ میں پکڑے کلچ میں ڈال دیا
وہ اٹھ کر روحیل کے پاس جانے لگی جو ایک ٹیبل پر آس پاس سے بے نیاز موبائل میں گھسا ہوا تھا
راستے میں اس کے پاؤں پر کسی چیز کی ٹھوکر لگی جس سے وہ لڑ کھڑا گئی اگر کوئی اسے نہ تھامتا تو بری طرح زمیں بوس ہو چکی ہوتی سدا شکر کے وہ بچ گئی اور اسکا مذاق نہیں بنا
شکریہ___ اسے لگا روحیل نے اسے تھام لیا ہے اس کی نظر جیسے ہی سامنے والے نقوش پر پڑی اسکا چہرہ غصے سے لال ہوگیا اس کا پارہ عریش کو دیکھ کر ہائی ہوگیا اس نے جھٹکے سے اپنا بازو عریش کی گرفت سے آزاد کیا اور سرخ چہرے سے اسے گھور نے لگی
تم؟ ؟؟؟ تم نے کیا ٹھیکہ اٹھایا ہوا مجھسے ٹکررانے کا تمہاری آنکھیں کام نہیں کرتی کیا اندھے کہیں کے مرہا نے چباچبا کر عریش کو جھاڑا;;;;;;;
ہونہ بدتمیز نہ ہو تو””
اسکا بس نہیں چل رہا ٹھ کے سامنے کھڑے شخص کا خون کر دے ….
ارے؛؛؛؛ تم یہاں واٹ اے پلیزںٹ سرپرائیز! !!! روحیل گرم جوشی سے عریش سے بلگیر ہوا ..,,,,,
عریش شی از مائے سسٹر روحیل نے مرہا اور عریش کو ایک دوسرے سے متعارف کر وایا پر وہ بے خبر تھا کے ان کے بیچ دوسری جنگ اے عظیم ہوتے ہوتے رہ گئی ہے ؛؛!!!!!
اسلام علیکم !!! ….میں روحیل کا کالج فرینڈ ہوں عریش نے کمال بے نیازی سے مرہا کو اپنا تعارف کر وایا ….اور آپ ؟؟؟ عریش نے بہ مشکل ہنسی ضبط کرکے پوچھا
وہ جو رخ موڑے اسکو نظرانداز کر رہی تھی اس کے یوں مخاطب ہونے پر بری طرح جل کر اسکی طرف دیکھنے لگی غصے سے اسکی ڈارک براؤن آنکھیں اور بھی اس کو حسین بنا رہیں تھی کیا خوبصورتی کیا نزاکت تھی اس میں عریش بس اسے دیکھتا رہ گیا ،،،،
میں ؟؟؟ مرہا نے صبر کے گھونٹ بھرتے ہوے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کیا ،،،
جی آپ…؟؟؟
میں جھانسی کی رانی !!!!
ہونہ وہ پیر پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی روحیل تو حقہ بکا اسے جاتا دیکھتا رہ گیا !!!؛؛؛
جب کے عریش ……. . وہ بس اس کے انداز پر اپنی دنیا اس پر ہار بیٹھا ……
اب میری نگاہوں میں ججتا نہیں کوئی،
جیسا میرا محبوب ہے ایسا نہیں کوئی،

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: