Chand Mera Humsafar Novel By Hina Khan – Episode 2

0

چاند میرا ہمسفر از حناء خان – قسط نمبر 2

–**–**–

 

جس وقت وہ لوگ کار میں واپسی کے لیے بیٹھے تب عریش نے مرہا کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا مرہا نے دانت پیس کر رخ موڑ لیا….
وہ چھوٹے چھوٹے قدم چلتا روحیل کی کار کے قریب آیا
مرہا کو تو اس کا آنا ایک آنکھ نہ بھایا اسنے “ہونہ کرکے” سر موبائل میں گھسا دیا…..؛؛؛؛؛؛
رات اتنی گہری نہیں ہوئی تھی لیکن سڑک پر ٹریفک نہ ہونے کے برابڑ تھا – مرہا کو شادی کی تقریب نے خاصا تھاکہ دیا تھا خصوصن اس لوفر پلس بدتمیز عرف ”عریش” نے .
اسکا موڈ خراب تھا….روم میں آکر اس نے اپنے کمرے کی لائٹس اون کیں اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ کر چوڑیان اور جھمکے اتارے جب وہ فریش ہوکر باہر آئ تو اسکی موبائل پر میسج ٹون بجی اسنے بالوں کو جوڑے میں باندھا اور دوپٹہ شانون پر درست کرکے کمرے سے باہر آئ حسب معمول روحیل اپنے بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ ٹانگوں پر رکھے سکرین کی طرف متوجہ تھا اس کی انگلیان مسلسل کچھ ٹائپ کرنے میں لگی ہوئیں تھی
مرہا نے گہری سانس لی …. اور سر جھٹک کر روحیل کا پھیلا ہوا سمیٹنے لگی موبائل پر بھی روحیل نے وہی میسج کیا تھا….
یار ایک کپ کافی کا تو بنا دو روحیل نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹاے ببنا مرہا کو حکم دیا …..
وہ جو شادی سے تھکی ہاری اپنے روم میں جا رہی تھی روحیل کی بات پر ایک گھوری دکھا کر کچن میں چلی گئی …..
اسنے کچن کی لائٹس جلائی اور روحیل کی من پسند کافی بنانے لگی وقتاً مرہا کی نظر کچن کاؤنٹر پر رکھے سرخ گلابوں کے پھولوں پر گئی مرہا کی آنکھیں اجنبہے سے چھوٹی ہوئیں اس نے قریب جاکر سرخ پھولوں کا بوکے اٹھایا !!!!
پھولوں کی خوشبو سے لگتا تھا کے یہ پھول کچھ دیر پہلے ہی یہاں رکھے گئے ہیں اسنے بوکے کو الٹ پلٹ کر دیکھا تپ گلابی رنگ کا چھوٹا سا کارڈ نکالا ؛؛؛؛
For Mrs ego active….”Rohail!!!
مرہا نے سر جھٹک کر بوکے نیچے رکھا اور کافی بنانے میں لگ گئی … اس نے کافی کپ میں ڈالی اور ایک ہاتھ سے کپ کو سمبھالے دوسرےہاتھ میں بوکے لیے وہ روحیل کے پاس گئی ….
وہ نائٹ ٹی شرٹ پر ٹائوزر پہنے ایک ہاتھ ٹاؤزر کی جیب میں ڈالے دوسرا ہاتھ کھڑکی کی دیوار پر جماے اندھیرے میں کسی غیر معرقی نکتے کو گھور رہا تھا
تمہاری کافی””
مرہا کی بات پر وہ چوںک کر مڑا تو اس کے ہاتھوں میں بوکے دیکھ کر ٹہٹہکا،،،…. یہ کیا ہے ….؟؟؟
”تمہارے لیے ہے”
مجھے کیا پتا مرہا نے لاتعلقی سے کندھے اچکائے! !!
میرے لیے؟؟؟
روحیل نے اجنبہے سے مرہا کے ہاتھوں سے بوکے لیا ”’۔
یہ کسنے بھیجا ہے روحیل نے الٹ پلٹ کر دیکھا تو گلابی رنگ کا وہی چھوٹا کارڈ نظر آیا روحیل نے دو انگلیون سے کھینچ کر کارڈ باہر نکالا ….
کارڈ پر لکھی تحریر پڑھ کر روحیل کے چہرے پر نہ سمجھی کے اثار تھے
کیا ہوا کس نے بھیجا ہے ؟؟ مرہا نے روحیل کو دیکھتے ہوے سوال کیا
مجھے نہیں پتا !!!
ہسپتال میں سے کسی نے تھنکس کہنے کے لیے بھیجا ہوگا مرہا نے روحیل کے ہاتھوں سے بوکی لیکر سائیڈ ٹیبل پر رکھا
انہون! میرے کام مینے صرف اپنے ہسپتال تک محدود رکھے ہیں سب یہ بات جانتے ہیں روحیل نے تھوڑی کھجاتے ہوے کلیر کیا
اچھا اب تم کافی پی کر سو جاؤ کل پتا کر لینا وہ کہتی ہوئی روحیل کے روم سے چلی گئی روحیل سر جھٹک کر کافی پینے لگا ۔۔۔۔۔۔
************ ***********
************* **********
صبح حسب معمول وہ اپنے کلینک میں بیٹھا تھا جب چپراسی نے اسے بتایا کے ان سے کوئی ملنے آیا ہے روحیل نے لیپ ٹاپ بند کیا اور سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر انگوٹہے اور دو انگلیون سے پیشانی کو مسلنے لگا
ٹھیک ہے بھیجدو _،،
روم کا دروازہ ہلکے سے نوک ہوا تو روحیل نے یس کہ کر کمر سیدھی کی
بلیو جینس پر بلیک ٹاپ پہنے بالوں کو پونی میں باندھے سن گلسس پہنے وہ روحیل کے روم میں داخل ہوئی
روحیل کے ماتھے پر اسے دیکھ کر بل پڑے
گڈ مارننگ ڈاکٹر روحیل! وہ کہتی ہوئی اسکے سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گئی روحیل نے گہری سانس لی
یس اس نے خشک لہجے میں کہا
امید کرتی ہوں میرے بھیجے گئے پھول آپ کو با آسانی مل گئے ہونگے اوہ ٹانگ پر ٹانگ جما کر مسکرا کے روحیل کو دیکھنے لگی
روحیل نے تعجب سے یسرا کو دیکھا جو بے اختیار مسکراے جا رہی تھی
روحیل نے نہ گواری سے سر جھٹکا رات میں وہ پتا کروا چکا تھا کے پھول یسرا نے بھیجے تھے !!
اچھا !!
ور وہ کس خوشی میں آپنے مجھے بھیجے مس یسرا ؟؟؟
روحیل کے لہجے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی وہ ہنوز ماتھے پر بل ڈالے یسرا سے پوچھ رہا تھا
وہ اس لیے یسرا کی مسکراہٹ گہری ہوئ…..کیوں کے یسرا آفتاب کا آپ پر اسنے انگلی سے روحیل کی طرف اشارہ کیا … دل آگیا ہے وہ آگے کو جھک کر روحیل کی آنکھوں میں دیکھ مسکرا رہی تھی
پھر بات مکمل کرکے پیچھے ہوئی اور روحیل کو بولنے کا موقع دیا، ،،،
سیریسلی ! …؟؟؟ روحیل نے ایک ابرو اٹھا کر پوچھا
جواب میں یسرا نے پلکیں ڈبڈبائین
روحیل بے اختیار ہنس پڑا اسکی ہنسی دیکھ کر یسرا کی مسکراہٹ غائب ہوئی
لیکن میرا….ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے یسرا بی بی ،،، نہ ہی مجھے آپ میں انٹرسٹ ہے سو آپ اپنا وقت مجھ پر ضایح کرنے کے بجاے کسی اور پر صرف کریں کیوں کے…. میں روحیل نے سختی سے میں پر زور دیا جانتا ہوں کے آپ کا سابکا بوئے فرینڈ آپ کے پیچھے ابھی تک ہے لہذا یہاں واپس آنے کی زحمت نہ کیجئے گا
وہ اپنی سیٹ سے اٹھی اور اس کے مقابل جا کھڑی ہوئی اس کے چہرے پر غصّے کے اثار بلکل واضح دکھائی دے رہے تھے
تم یسرا آفتاب کو یوں ریجیکٹ نہیں کر سکتے روحیل عظیم تمہیں پتا نہیں تو یہ جان لو کے ایک بار میرا دل جس چیز پر آجاے میں وہ حاصل کرکے ہی دم لیتی ہوں چاہے مرضی سے یہ پھر….زبردستی اسنے گلابی پڑتی آنکھوں سے روحیل کو تنبیہ کی____
چچ چچ چچ!! یسرا آفتاب روحیل نے افسوس سے سر جھٹکا
میں کوئی چیز نہیں ہوں بی بی !!
اور میں….اسنے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کیا میں دوسروں کی مرضی سے نہیں چلتا سمجھی آپ….؟؟
وہ روحیل کی طرف لپکی اور بھرتی سے دونون ہاتھوں سے اسکا کالر پکڑ لیا روحیل کو اسکی حالت پر شعبہ ہوا
تم مجھے ریجیکٹ نہیں کر سکتے روحیل سمجھے تم ؟؟؟
تم جانتے نہیں میں کیا کر سکتی ہوں ؛؛؛
روحیل نے اپنا کالر یسرا کی گرفت سے آزاد کیا اور اسکی آنکھوں میں دیکھ کر چبا چبا کر کہنا شروع کیا !!!!!
میں…تمہیں ریجیکٹ کر چکا ہوں ناؤ گیٹ لوسٹ فروم مائے روم اسنے یسرا کو بازو سے پکڑ کر دروازے کی طرف دھکا دیا …….
جب وہ روحیل کے روم سے نکلی تو اسکی آنکھیں ضبط سے سرخ پڑ گئیں تھیں وہ اپنی کار میں بیٹھی اور روش سے کار بھگا دی اسکے دماغ میں صرف روحیل کی باتیں گردش کر رہیں تھی یسرا ایک ایسے گھر سے تعلّق رکھتی تھی جہاں پر کسی نے بھی اسکو کسی بات کے لیے منا نہیں۔ کیا تھا جو وہ چاہتی تھی اسے حاصل کر لیتی تھی یسرا کے ماں باپ نہیں تھے بس ایک بھائی تھا دولت اور خوبصورتی کے نشے میں اسنے ہر شے کا لحاظ کرنا چھوڑ دیا تھا وہ ایک انتہائی خود سر اور ضدی لڑکی تھی روحیل کے ریجیکشن نے اسکا دماغ گھما کر رکھ دیا تھا وہ جیسے ہی اپنے گھر پوھنچی کار کا دروازہ دھڑام سے بند کیا اور پتلی حیل سے ٹک ٹک کرتی سیڑیان پہلانگ نے لگی اپنے روم میں آکر اسنے غصے سے اپنے ڈریسنگ ٹیبل کی ساری نایاب اور قیمتی چیزیں زمین بوس کر دیں اس کا بس نہیں چل رہا تھا کے روحیل کا قتل کر دے وہ غصے میں پاگل ہورہی تھی
کیسے ؟؟ آخر کیسے اس دو کوڑی کے ڈاکٹر نے مجھے….مجھے یسرا آفتاب کو ریجیکٹ کیا ہاو ڈیئر ہی دڈو ڈیٹ ہاو ؟؟….
وہ چیخ پڑی کمرے میں ساری چیزیں نیچے پڑی تھیں اس نے اپنے بال مٹھییوں میں جکڑ لیے وہ پاگل ہو رہی تھی روحیل کے ریجیکشن نے اسے آپے سے باہر کر دیا تھا
اس نے موبائل اٹھایا اور کال ملانے لگی
کال جلد ہی اٹھا لی گئی
جی کیا حکم ہے میڈم !!؟
فون پر کسی کی بھاری مردانہ آواز آ رہی تھی
ایک تصویر بھیج رہی ہوں مجھے اس کی ساری ڈیٹیل رپورٹ چاہیے یہ کہ کر اسنے زور سے سرخ بٹن دبایہ اور کمرے میں چکر کاٹنے لگی
تمہیں تو میں برباد کر دونگی روحیل
تب تمہیں افسوس ہوگا کے کیوں تمنے مجھے ریجیکٹ کیا اس کے لہجے میں سے انتقام کی بو آ رہی تھی
مغرب ڈھلی تو سورج نے آسمان کو ہلکا جامنی رنگ چڑھا دیا تھا
مرہا نے اپنے پاؤں اوپر کیے اور ٹی وی ون کر کے چپس کھانے لگی ٹی وی پر اسکا من پسند ٹاک شو چل رہا تھا وہ دلچسپی سے آگے ہوکر بیٹھی
تبھی لوائنچ میں رکھا ٹیلیفون بجنے لگا مرہا نے منہ ببنایا اور چپس کا پیکٹ صوفے پڑ رکھ کر فون اٹھانے چلی گئی
ہیلو !!! روحیل گھر پر ہے کسی کی مردانہ آواز مرہا کی سماعت سے ٹکرائی” “”
روحیل بھائی گھر پر نہیں ہیں جب وہ آجائیںگے تو میں آپ کی کال کا بتا دونگی مرہا نے کہ کر فون بند کرنا چاہا
لیکن مجھے جس سے بات کرنی ہے وہ دشمن جان تو گھر پر ہی ہے نہ…؟؟؟
مرہا نے اجنبہے سے فون کو دیکھا !!
آپ۔ روحیل کے دوست ہی ہیں نہ؟
نہیں !!! ۔… اب میں روحیل کا جیجا بننے والا ہوں فون سے اسکے ہنسنے کی آواز آئ
مرہا کا چہرہ سرخ پڑنے لگا
کون ہیںآپ اور انسانون کی طرح بتا دیں مرہا نے چباچبا کر کہا
میں…. عریش اور موحترما اپکا فیوچر ہسبنڈ ؛؛!!!
مرہا کو اسکا نام سن کر گویا سانپ سونگھ گیا ہو وہ اسکی گفتگو منہ کھولے سن رہی تھی
اول نمبر کے بدتمیز لوفر اور چھچھورے انسان ہو تم ،،،پتا نہیں روحیل نے کس طرح تم جیسے بدتمیز انسان کو اپنا دوست بنایا ہوا ہے مرہا نے جل کر کھا
جواب میں اسکا حلق پھاڑ قهقا سنائی دیا !
مرہا نے بدتمیز کہ کر کھٹاک سے فون رسیور پر پٹخا
اس کا موڈ عریش کی وجہہ سے خاصا خراب ہوگیا تھا کچھ بعید نہیں تھا کے وہ اسکا سر پھاڑ دیتی اگر وہ اس کے سامنے ہوتا …..
یار تمہیں دبئی نہیں جانا چاہیے روحیل کار کی سیٹ سے کمر ٹکاے عریش کو دیکھتے ہوے کہ رہا تھا
ایک ویک کے لیے جا رہا ہوں کچھ پیپر ورک رہتا ہے پھر بابا کے بزنس کو بھی مجھے ہی سمبھالنہ ہے آکر عریش نے مسکرا کر اسکے شانے پر ہاتھ رکھا
ٹھیک ہے تیری مرضی روحیل نے نرمی سے کہا
اچھا اب شادی وادی کا کوئی ارادہ ہے بھی یہ ابھی تک نہیں روحیل کے سینے پر بازو لپیٹتے ہوے دلچسپی سے عریش سے پوچھا
ہے تو سہی عریش نے شانے اچکا کر اظہر کیا
اچھا”’ کون ہے وہ ہمیں بھی تو پتا چلے
انہون …. آکر بتاؤں گا ابھی میری فلائٹ کا ٹائم ہوگیا ہے عریش نے نے کلائی پر بندھی گھڑی دیکھتے ہوے کہا
ٹھیک ہے بائ پھر وہ دونو ایک دوسرے سے بلگیر ہوے
اور عریش اپنی کار میں بیٹھ گیا روحیل نے ہاتھ ہلا کر اسے الوداع کہا
______________________________________________
اس کے فائنل پپیرس چل رہے تھے وہ بری طرح زچ تھی سارا دن کمرے میں بند رہ رہ کر اسے غصہ آرہا تھا
پہلے سارا لیکچرز اٹینڈ کرو پھر اسائمنٹ بناؤ پھر نوٹس میں دماغ کھپاو پھر ان پپیرس میں سر کھپا کر مار جاؤ ہونہ وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی!!!
تبھی فون کی گھنٹی بجی اسنے ہاتھ اٹھا کر دیکھا پھر اسکی آنکھیں اجنبہے سے چھوٹی ہوئیں
“All the best…..from future husband
اسنے غصے میں آکر موبائل ہی اوف کر دیا بدتمیز کمینہ لوفر کہیں کا ہونہ …
اللہ‎ اللہ‎ کر کے اس کے پپیرس ختم ہوے اور اسکی جان چھوٹی اسنے تو خوب آرام کرنے کا پلان بنا رکھا تھا
وہ موبائل دونو ہاتھوں میں پکڑے ٹائپنگ کرنے میں مصروف تھی جب روحیل کو دروازے کی چوکہٹ پر کھڑا پایا !؛؛
مرہا نے ہلکی سی مسکراہٹ سے روحیل کو دیکھا وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسکے پاس آیا اور بیڈ پر اس کے ساتھ بیٹھ گیا
کیسے رہے تمہارے ایکزمس ؟؟؛؛
بہت اچھے ماشاءالله ابا کی زمیںون کو سمبھالنے کا ڈر اتنا حاوی تھا کے سارے ایکزمس پاس کر دئے
مینے مرہا نے جاندار مسکراہٹ سے روحیل کو چمک کر اپنا عظیم کارنامہ سنایا، ،،
ہم! تو اب ابا کو چاہیے کے تمہارے ہاتھ پیلے کرے روحیل نے ہنسی دبا کر کہا
مرہا کے ماتھے پر بل پڑے اسنے منصوئی غصے سے روحیل کو گھورا
میری فکر نہ کریں آپ ابھی مجھے آپ کے بچوں کی چڈیان بھی دھوکر سکھانی ہے مرہا کی بات پر دونون ہنسنے لگے !!
ابا مرہا نے دروازہ نوک کیا !!
عظیم صاحب آنکھوں اور نظر کا چشمہ پہنے کسی کتاب کا مطالع کرنے میں لگے تھے جب مرہا کی آواز سنائی دی
انہوں نے اسے اجازت دی اور چشمہ اتار کر کتاب کے ساتھ سائیڈ ٹیبل پر رکھا
مرہا نے عظیم صاحب کے قریب بیٹھتے ہوے ایک نظر شگفتہ بیگم کو دیکھا جو مصلے پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں یہ وقت انکے وظیفے کا تھا مرہا نے سر جھٹکا اور عظیم صاحب کی طرف دیکھا جو اسے دیکھ کر ہلکا سا مسکراے
ابا کل مجھے ھما کی طرف جانا ہے اپنی بکس اور کچھ ضروری چیزیں لینے میں چلی جاؤں ؟؟
مرہا نے دھیمی آواز میں پوچھا! !
ہاں چلی جانہ
جی شکریہ وہ اٹھ کھڑی ہوئی !!!،،
دوپہر شروع ہو چکی تھی اور وہ ھما کی طرف جانے کے لیے تیار کھڑی تھی ڈرائیور نے اسکے کار میں بیٹھتے ہی کار چلا دی تھی
وہ ھما کے گھر سے تکریباً تین بجے نکلی تھی اس نے ٹائم دیکھا تو ھما سے ضروری چیزیں لیکرمعذرت کرتی کار میں بیٹھ گئی
وہ کار میں خاموشی سے بھاگتے دوڑتے درختوں اور اونچی عمارتوں کو دیکھ رہی تھی جبھی جھٹکے سے گاڑی رکی مرہا کا سر کار کی پچھلی سیٹ سے لگتے لگتے بچا
اسنے سمبھلتے ہوے بوکھلا کر آگے دیکھا جہاں کچھ نقاب پوش آدمی ڈرائیور کو باہر کی طرف انے کا کہ رھے تھے مرہا کا حلق تک سوکھ گیا اسکا دل سوکہے پتے کی طرح کانپ اٹھا
اسنے جلدی سے موبائل نکال کر روحیل کا نمبر ملانے کی کوشش کی لیکن ایک نقاب پوش نے اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور اسکے ہاتھ سے جھپٹ کر موبائل کھینچا
مرہا کرنٹ کا کر پیچھے ہوئی
ک… کون ہو تت تم لوگ… اور کیوں مجھے لے جا رھے ہو مرہا نے اٹک اٹک کر کہا تبھی ایک آدمی نے اس کو بالوں سے کھینچ کر باہر نکالا اور اسکے منہ پر نشہآور رومال رکھا جس سے کچھ ہی وقت میں وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئی اسکی آنکھوں کے سامنے گھپ اندھیرا تھا صرف اندھیرا !!
بیہوشی کا اثر ہٹا تو اس نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولین سر بہت بھاری ہو رہا تھا کیا ہورہا تھا وہ اس وقت کہاں تھی اسے کچھ یاد نہ تھا
آہستہ آہستہ اسکے دماغ نے کام کرنا شروع کی تو اسے یاد آیا کے وہ ھما کی طرف اپنی کچھ چیزیں لینے گئی تھی اور راستے میں کچھ لوگوں نے اسے زبردستی اپنی وین میں بٹھایا تھا اور اسکے بعد اسنے اپنے سر کو دونو ہاتھوں سے پکڑ لیا جیسے ہی یاد آیا کے وہ اگوا ہو چکی ہے اس نے فورن سے آنکھیں کھولین وہ فورن کھڑی ہوگئی اندھیرے میں ادھر ادھر ہاتھ مارا تو کمرے میں مدھم روشنی جل اٹھی اسنے اپنے آپ کو ایک بند کمرے میں پایا کمرہ نہایت چھوٹا مگر صاف ستھرا تھا اسکی نظر اپنے بیگ پر پڑی مرہا فورن اپنے بیگ کی طرف لپکی اسنے اپنے بیگ کی ساری چیزیں نیچے گرادی بیگ خالی تھا موبائل اس میں نہیں تھا !!!
بے بسی اور خوف کا یہ عالم تھا کے اس کا دماغ بلکل ماؤف ھوگیا تھا وہ زمیں پر نیچے بیٹھتی چلی گئی اگوا ہونے کا نام ہی اسکے جسم کا خون نچوڑنے کے لیے کافی تھا اس کا چہرہ بلکل سفید ہو چکا تھا ایسے جیسے
مارو تو جان نہیں !!!
کاٹو تو لہو نہیں !!!
اسنے سر گھٹنو میں گرا دیا آور حلق پھاڑ کے رونے لگی جب رو کر تھک گئی تو دروازے پر آہٹ سنائی دی وہ بدک کر پیچھے ہوئی وہ بہت سہمی ہوئی تھی عجیب وسوسون نے اسے گھیرا ہوا تھا اسکا جسم کانپ رہا تھا
دروازہ خلا تو کمرے میں ایک اڈہیڑ عمر عورت ٹرے میں کھانا لے کر آ رہی تھی مرہا فورن اس عورت کی طرف لپکی
کیوں بند کیا گیا ہے مجھے یہاں ہاں ؟؟؟
آخر کون ہو تم لوگ مجھے کیوں یہاں لایا گے ہے پلیز مجھے جانے دو میرے گھر والے پریشان ہو رھے ہونگے مجھے جانے دو وہ آنسوؤں کے درمیان چیخ کے کہ رہی تھی
اڈہیڑ عورت نے کوئی جواب نہ دیا بس ٹرے ٹیبل پر رکھی اور جس بے تاثر چہرے کے ساتھ آئ تھی ویسے ہی واپس چلی گئی دروازہ بند ہوگیا اور وہ پھر سے اس ویران کمرے میں بند ہوگئی (اکیلی ….تنہا )
وہ نیچے بیٹھ کر پھر سے زارو قطار رونے لگی رونے سے اسکا جسم کانپ رہا تھا اسکی آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں اکیلے کمرے سے اسے بے حد وحشت ہو رہی تھی مرہا کی نظر تبھی کونے میں ایک چوہے پر پڑی اسکی حلق پھاڑ چیخ برآمد ہوئی وہ تیزی سے بیڈ پر بیٹھ گئی اسکے رونے میں پھر سے روانی آ گئی تھی !!!
شام ڈھلنے کو تھی جب ڈرائیور ہاتھ باندھے اور سر جھکاے روحیل سے مخاطب ہوا
چچا مرہا کہاں ہے روحیل نے کپ لبوں سے لگا کر پوچھا
روحیل بابا وہ وہ مرہا بیبی کو راستے میں لوگ اپنی وین
میں بیٹھا کر لے گئے ڈرائیور ہاںپتا کانپتا ابتا رہا تھا روحیل صوفے پر بیٹھا تھا شگفتہ بیگم عظیم صاحب کو چائے سرو کر رہی تھی ڈرائیور کی بات پر سب نےحیرت سے ڈرائیور کی طرف دیکھا روحیل فورن ڈرائیور کی طرف لپکا اور اسکو شانون سے پکڑ لیا
کیا بول رھے ہیں سلمان چچا آپ روحیل نے سختی اور حیرانی سے پوچھا
شگفتہ بیگم سینے پر ہاتھ رکھے بیٹھتی چلی گئیں
ڈرائیور انکا پرانا ملازم تھا ڈرائیور نے مں و عین ساری بات روحیل کو بتا دی روحیل کا دماغ بھگ سے اڑ گیا عظیم صاحب دم سادہے ڈرائیور کو سن رہے تھے شگفتہ بیگم نے رو رو کر برا حال کر دیا تھا
روحیل پولیس کو فورن فون ملاؤ عظیم صاحب اٹھ کر روحیل کے مقابل کھڑے ہوے
امان مرہا کو کچھ نہیں ہوگا میں اسے کچھ بھی نہیں ہونے دونگا روحیل نے کہ کر موبائل جیب سے نکالا پھر ٹہٹک کے رک گیا اسکے کلینک سے کال آ رہی تھی اسنے یس کا بٹن دبایہ
سر مس یسرا نے سوسائیٹ کرنے کی کوشش کی ہے ہے اور…اور انہوں نے اسکا زمیدار آپ کو ٹھہرایہ ہے
روحیل کا دماغ چکرا کر رہ گیا اسے یسرا کی اس دن والی باتیں یاد آئیں ہو نہ ہو یہ سب یسرا کا ہی کام ہے روحیل نے ہونٹ بہینچ لیے اس نے بنا کچھ کہے فون بند کردیا
اسے صرف مرہا کی فکر تھی دنیا بہت ظالم تھی اور اسکی بہیں بہت معصوم
وقتاً ڈور بیل بجی گھر کے ملازم نے جکڑ دروازہ کھولا
صاب باہر پولیس کھڑی ہے اپکا پوچھ رہی ہے ملازم نے جھکے سر کے ساتھ روحیل کو مخاطب کیا
یہ کیا ہو رہا ہے روحیل ؟؟
پولیس یوں ہمارے گھر میں کیوں آئ ہے سب ٹھیک ہے نہ روحیل شگفتہ بیگم نے آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے پوچھا
کچھ نہیں ہوگا امان ابھی مجھے ان لوگوں کے ساتھ جانا ہوگا میں واپس آکر بتاتا ہوں سب !!!
روحیل ماں کو دلاسا دیکر باہر چلا گیا عظیم صاحب بھی اسی کے ہم راہ باہر چلے گئے
یا اللہ‎ میرے بچوں کی حفاظت کر نہ جانے میرے گھر کو کس کی نظر لگ گئی شگفتہ بیگم نے ہاتھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے ہوےدعا کی
رات کا وقت ہوا تو مرہا کی آواز کھٹکے سے کھلی اسنے آنکھیں ملتے ہوے ادھر ادھر دیکھا
بلیو سوٹ کی استین کہنیون ٹک فولڈ کیے ٹائی کی نوٹ ڈھیلی کیے وہ سپاٹ چہرہ لیے اندر داخل ہوا مرہا سہم کر پیچھے ہوئی
رلیکس! میں بس تم سے بات کرنے آیا ہوں
وہ صوفے پر بیٹھتے ہوے ٹانگ پر ٹانگ جماتے ہوے مرہا پر نظریں مرکوز کیے بولا
ک….کون ہو تم ؟؟ کیوں تمنے مجھے یہاں پر بند کیا ہوا ہے مرہا نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا خوف اسکی آواز سے واضح ہو رہا تھا
اسنے سگریٹ کا گہرا کش لیا اور سانس سے دھوان اندر اتارا
مرہا نے بے بسی سے اسکی طرف دیکھا
آخر تم بتاتے کیوں نہیں کیوں تمنے مجھے یہاں بند کیا ہے وہ چیخ کر بولی !!!
اسنے سگریٹ کو بوٹ سے مسلہ اور چھوٹے چھوٹے قدم چلتا اس ک قریب آیا مرہا بدک کر پیچھے ہوئی !!!
دد دور…..دور رہو مجھسے اسنے سختی سے کہ کر اسے اسے خود سے دور کیا
روحیل” روحیل عظیم !! جانتی ہو اسکو اسنے پینٹ کی جیبون میں ہاتھ ڈالتے ہوے پوچھا
روحیل مرہا نے آہستگی سے زیر لب دوہریا
تم …. تم میرے بھائی کو کیسے جانتے ہو اسنے سمبھل کر سرخ آنکھوں سے پوچھا
اسنے مڑ کر آنکھوں میں غصہ لیے مرہا کو دیکھا
تمہارے بھائی کی وجھہ سے صرف اس کی وجہہ سے آج میری بہیں نے سوسائیٹ کرنے کی کوشش کی ہے اس نے مرہا کا بازو دبوچ کر اسے اپنے قریب کیا
میرے بھائی کی وجھہ سے ؟؟؟ اس نے جیسے کچھ غلط سنا ہو
لیکن اس میں میری کیا غلطی ہے جو تم نے مجھے یہاں بند کیا ہے تمہاری بہن خد میرے بھائی کے پیچھے پڑی تھی میرا بھائی تو اسکی طرف دیکھتا تک نہیں تھا مرہا نے اپنا بازو چھڑانے کی صحیح کی
اسنے گرفت مزید سخت کی اور کینا توز نظروں سے مرہا کو گھورا
وہ میری …. اکلوتی بہن تھی تمہارے بھائی نے اسے ہرٹ کیا اسی وجہہ سے آج وہ اس حالت میں ہے
میرا بھائی ایسا نہیں ہے سمجھے تم ؟؟؟تمہاری بہن ہی ایک کمزور کردار کی ….
چٹاخ! !!!!!
زین نے اس کے گال پر ایک تماچہ رسید کیا وہ اس کے لیے بلکل تیار نہیں تھی اس لیے زمین بوس ہو چکی تھی وہ گال پر ہاتھ رکھے بے یکینی سے زین کو دیکھ رہی تھی
زین نے اس کو بالوں سے پکڑا وہ کرہا کے رہ گئی
تمہارا بھائی اس غلطی کی سزا چکائے گا سمجھی؟؟
وہ بھی تو جانے کی بہن کو جب تکلیف ہوتی ہے تپ کیسا لگتا ہے؟؟ وہ آنکھوں میں خون لیے چبا چبا کر کہ رہا تھا
لکین تم نے مجھے کیوں اس کی سزا دی ہے؟؟
جو منے کیا ہی نہیں آخر اس سب میں میرا کیا قصور ہے؟؟؟ بولو مرہا نے روتے ہوے پوچھا
جب تمہیں تکلیف ہوگی نہ تب تمہارے بھائی کو علم ہوگا ک بہن ک آنسوں ایک بھائی کو کسی طرح توڑ تے ہیں زین نے گھور کر کہا
نہ نہیں میرا بھائی مجھے یہاں سے ضرور نکال لیگا سمجھے تم اس نے زور دے کر کہا
تمہارا بھائی !! زین اسکی بات پر ہنسنے لگا !!
مرہا کو اسکی ہنسی پر اجنبھا ہوا
تمہارا بھائی اس وقت ….. وہ مرہا ک قریب آیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا وہ اس وقت جیل میں ہے
مرہا ششدر اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے زین کو دیکھ رہی تھی
تم تمنے میرے بھائی کو جیل میں ڈالا تم نے ؟؟؟
اسنے زین کا کالر پکڑ لیا
زین نے جھٹکے سے اس کی کلائی پکڑی اور اس کا گال دبوچا !!
تم اور تمہارا بھائی میری قید میں ہو سمجھی؟؟ اس لیے اپنے جذبات پر ذرا قابو رکھو ورنہ ایسا نہ ہو کے تمہیں تمہاری عزت اور اپنے جان سے پیارے بھائی سے ہاتھ دھونا پڑے زین نے اسے جھٹکے سے چھوڑا !!
نہیں تم تم میرے بھائی کو کچھ بھی نہیں کرو گئے
سیرئیسلی! !؟؟
اگر میں ایسا کروں تو __؟؟
وہ پھر سے ٹانگ پر ٹانگ جماکر صوفے پر بیٹھا تھا اس کے قدم مرہا کے قریب تھے
تم ایسا نہیں کر سکتے میں …. میں تمہیں تمہاری بہن کا واسطہ دیتی ہوں مجھے جانے دو اور میرے بھائی کو چھوڑ دو میرے بھائی کی وجھہ سے تمہاری بہن پر یہ مصیبت نہیں آئ وہ خود اپنی وجہہ سے اس مصیبت میں پپھنسی ہے مرہا نے رندھی ہوئی آواز میں کھا
ہوں زین نے ہنکار بھرا !!!
لیکن یہ سب کر کے میرے دل کو۔ سکوں نہیں ملےگا اس لیے میری ایک شرط ہے زین نے شیطانی مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوے کہا
مرہا نے نہ سمجھی سے اس کو دیکھا
کیا؟ ؟
تمہارا بھائی آزاد ہو جاۓگا اور تم بھی با حفاظت اپنے گھر جا سکتی ہو لیکن ….’ میری _ ایک شرط تمہیں ماںناہوگی! !
تمہیں …. مجھسے نکاح کرنا ہوگا زین نے اس کے قریب جھکتے ہوے کہا
مرہا کے ہونٹ بے یقینی سےکھلے اس نے زین کو دیکھا
لیکن تم تو ہمیں اپنی بہن کی حالت کے زمیںدار سمجھتے ہو پھر تم مجھسے نکاح کیوں کرنا چاہتے ہو ؟؟؟
زین نے دلچسپی سے مرہا کو دیکھا
کیوں کے مرہا عظیم ….. تمہیں جب تکلیف ہوگی تو تبھی تمہارے بھائی کو پتا چلیگا کے اپنوں کی تکلیف کیا ہوتی ہے ؟؟اس نے اپنی بات پر زور دے کر کہا
یہ میرا نمبر ہے اگر تم چاہتی ہو کے تمہارا بھائی جیل سے رہا ہو جاۓ تو تمہیں میری بات ماںنا ہوگی میں تمہارے بھائی کا کیس بھی واپس لے لونگا اگر …. تمنے میری بات مانی تو ___
یہ کہ کر وہ چلا گیا …. وہ بس بے یقین نظروں سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی..

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: