Chand Mera Humsafar Novel By Hina Khan – Episode 4

0

چاند میرا ہمسفر از حناء خان – قسط نمبر 4

–**–**–

 

وہ کمرے میں داخل ہوا تو کمرہ حسب معمول تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر کمرے کی لائٹس جلائی تو کمرہ روشنی میں ناہا گیا
وہ چہرے پر بازو رکھے سو رہی تھی پتا نہیں سو بھی رہی تھی یا صرف سونے کا بہانہ بنا رہی تھی کمرے کی حالت بہت ابتر بنی ہوئی تھی ڈریسنگ ٹیبل کی ساری چیزیں نیچے گری پڑی تھیں ڈریسنگ مرر کتنی ہی کرچیؤں میں بٹا ہوا تھا بیڈ شیٹ آدھی فرش پر اور ادھی بیڈ پر لٹکی ہوئی تھی
زین نے تاسف سے کمرے کی ایک ایک چیز کو دیکھا پھر اپنی بہن کو۔ جو ہنوز سونے کا بہانہ کرنے میں محو تھی زین نے گلہ کہنگہارا
یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تمنے یسرا کمرے کی ؟؟
وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر اآگے ہوکر عین سامنے کھڑا ہوکر یسرا کو گھور نے لگا
جب اسکی پوزیشن میں کوئی اثر نہ آیا تو زین نے اس کے چہرے سے اس کا بازو ہٹایہ
یسرا نے غصے بھری آنکھوں سے اپنے بڑے بھائی کو دیکھ اس کی آنکھوں سے سیاہ کاجل کی لکیر صاف دکھائی دے رہی تھی جس کا مطلب تھا وہ کسی بات پر شدید غصہ سے زین نے ٹھنڈی سانس لی اور اپنی بہن کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر دبایہ
کیا ہوا ؟؟
تم سارا دن کمرے سے باہر کیوں نہیں آئ طبیت ٹھیک ہے تمہاری زین می فکرمندی سے یسرا کا ماتھا چھوا !!!
یسرا نے غصے سے زین کا ہاتھ زور سے جھٹکا
بتاؤ گی کے کیا مسلہ ہے آخر تمنے کھانا بھی نہ کھایا زین نے یسرا کا غصہ نظر انداز کرتے ہوے اپنے سوال جاری رکھے
یسرا میں ۔تمسے بات کر رہا ہوں زین نے ٹھہر ٹھہر کر کہا
کیوں؟؟؟ مجھسے کس لیے بات کر رھے ہو تم ؟؟یسرا نے ہنوز غصے سے الٹا سوال کیا
کیوں کے میری جان مجھے تمہاری فکر ہے اس لیے زین نے مسکرا کر کہا
ہونہ !!! فکر اگر تمہیں میری اتنی ہی پرواہ ہوتی نہ زین تو تم کبھی میرے دشمن کی بہن سے شادی نہ کر رھے ہوتے یسرا نے غصے سے کہ کر اپنا ہاتھ زین کی گرفت سے آزاد کیا اور رخ موڑ کر بیٹھ گئی غصے سے اس کا چہرہ گلابی پڑنے لگا
زین نے گہری سان لی اور اٹھ کھڑا ہوا
میں…. بھی تمہارے دشمن کو اپنا دشمن ہی سمجھتا ہوں ۔۔۔جو کچھ میں کر رہا ہوں صرف اپنے دشمن کو سبق سکھانے کے لیے کر رہا ہوں پر تمھرے بیہیو سے لگتا ہے تمہیں میری باتوں پر۔ ذرا بھی ٹرسٹ نہیں اس نے کوٹ جھاڑا اور واپسی کے لیے مڑ نے لگا تبھی یسرا بول پڑی
اچھا ؟؟ اگر واقعی میں ایسا ہوتا نہ زین تو تم اس لڑکی کو کڈنیپ کر کے سہی سالم گھر نہیں جانے دیتے تماس کے بھائی سے ویسے بھی بدلہ لے سکتے تھے لیکن نہیں یہاں تو کوئی اور ہی مسلہ لگ رہا ہے مجھے یسرا نے سرخ پڑتی رنگت سے چبا چبا کر کھا
اچھا !!!
اور وہ مسلہ کیا ہے تمہاری نظر میں زین نے سینے پر بازو لپیٹ کر دلچسپی سے سوال کیا
یسرا اٹھا کر اس کے مقابل کھڑی ہو گئی بلیک جینس پر ریڈ ٹاپ میں مبلوس وہ اس وقت قدر ے بہتر لگ رہی تھی
بات یہ زین کے تم بھی اسکی خوبصورتی کے سامنے بے بس ہو گئے ہو
اس کی خوبصورتی نے تمہں کمزور بنا دےیا زین آفتاب تم پہگہل گئے تھے اس کے سامنے یسرا نے زین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
یسرا تم۔ ۔۔غلط سمجھ رہی ہو زین نے آگے ہوکر اسے کندھوں سے تھامنہ چاہا یسرا دو قدم پیچھے ہوئی اور ہاتھ اٹھا کر زین کو روکا
نہیں زین میں جو بھی سمجھ رہی ہوں سہی سمجھ رہی ہوں اور اب تومجھے تمہاری آنکھوں میں بھی وہی نظر آ رہی ہے
ایسی بات نہیں ہے یسرا ٹرائ ٹو انڈرستنڈ زین نے بے بسی سے ہاتھ اٹھا کر کہا
اچھا ایسی بات نہیں ہے؟؟
ایک منٹ ابھی ساری بات واضح ہو جاۓگی وہ اپنی وارڈروپ کی طرف بڑھی اور ڈور کھول کر کچھ کنگھالنے لگی پھر زین کی طرف مڑی
اگر تمہیں اس لڑکی میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے اور تم اسے شادی صرف بدلے لے کے لیے کر رھے ہو پھر یہ۔ ۔؟؟ کیا ہے زین
یسرا نے ہاتھ انچا کر کے ایک کنگن زین کے سامنے کیا
یہ ؟؟؟
زین کے ماتھے پر بل پڑے
یہ تمہاری وارڈ روپ کے پرسنل ڈور سے ملا ہے زین اس پرسنل ڈور سے جسے تم مجھے بھی ہاتھ نہیں لگانے دیتے یہ مرہا کا کنگن ہے۔ تمہارے پاس یہ کیا کر رہا ہے یسرا نے ضبط سے پوچھا
تمہیں منا بھی کیا تھا لیکن پھر بھی تم بعض نہیں آتی میرے پرسنل ڈور کو ہاتھ لگانے سے زین نے کہ کر رخ موڑ لیا
یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے آخر یہ کنگن کیوں۔ تم نے سمبھال کر رکھا ہے وہ بھی اپنے پرسنل ڈور میں
تم اس وقت غصے میں ہو بعد میں بات کرینگے یہ کہ کر زین کمرے سے باہر نکل گیا
زین!!!!!!!! یسرا نے زور سے پیر پٹہخا
میں تمہیں چھوڑونگی نہیں مرہا تم نے میرے بھائی کو بھی اپنی خوبصورتی کے جال میں پھسا دیا
وہ کنگن پھینکتی زین کی طرف بڑھی میری بات سنو تم ایسے میرے سوال کو اگنور کیے نہیں جا سکتے یسرا نے زین کا بازو پکڑ کر اسے اپنے سامنے کیا
یسرا طبیت خراب ہوجاۓگی تمہاری تم رلیکس کرو زین نے یسرا کو شانو سے پکڑا
تم اس لڑکی کا پیچھا چھوڑ دو کیوں کے ۔۔یسرا رکی
زین کی آنکھوں میں اجنبھا اٹھا
کیوں کے کیا ؟؟
کیوں کے وہ لڑکی کیا نام ہے اسکا یسرا نے کنپٹی پر انگلی رکھی
مرہا اسے پیار کرنے کے لیے کوئی اور موجود ہے اتنا ہی کافی ہے تم بس اپنے ٹارگٹ پر فوکس کرو سمجھے مرہا میں انٹرسٹ لینا چھوڑ دو پہلے سے ہی کوئی اسکے لیے مرا جا رہا ہے
یسرا کہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی
زین کی آنکھیں ضبط سے گلابی پڑنے لگیں وہ تیزی سے باہر نکلا اور دروازے کو زور سے ٹھوکر ماری
رات کے گیارہ بج رھے تھے سبھی رات کا کھانا کھا کر اپنے اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلے گئے تھے پورے گھر میں رات کی تاریکی اورسناٹا چھایا ہوا تھا وہ کروٹ بدلے ایک گالتلے ہتھیلی رکھے وہ کسی سوچ میں غم تھی کمرے میں گھپ اندھیرا تھا بالکونی کی سائیڈ والی کھڑکی سے تازہ ہوا اندر آ رہی تھی ایسے میں مرہا نے کسی کی آہٹ کمرے میں محسوس کی وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور سائیڈ لمپ جلانے کے لیے ہاتھ بڑھایا کمرے میں لمپ کی مدھم روشنی سے اندھیرا جھٹ گیا
مرہا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں سامنے صوفے پر ٹانگ پڑ ٹانگ جمائیے براؤن پینٹ کوٹ میں مبلوث کوٹ کی استین پیچھے کو موڑے وہ خاموشی سے آنکھوں میں غصہ لیے مرہا کو گھور رہا تھا
مرہا کی سانسیں اٹکنے لگیں
ت..تم ؟؟ مرہا نے اٹکی ہوئی آواز میں سوال کیا
وہ اٹھ کر مرہا کے بیڈ کے پاس آکر بیٹھ گیا مرہا بدک کر پیچھے ہوئی
تم یہاں پر کیسے آے اور میرے کمرے میں کیا کرنے آے ہو ؟؟؟ مینے ساری شرطیں تو ماں ماں لیں ہیں تمہاری سب کچھ تمہاری مرضی سے ہو رہا ہے پھر ؟؟؟ تم یہاں اس وقت کیوں مرہا کا دل دھڑکنے لگا وہ بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی
زین آگے ہوا اور سختی سے مرہا کی کلائی پکڑ لی
مرہا بھوکھلا گئی
ک کیا کر رھے ہو یہ؟؟!! چھ چھوڑو مجھے مرہا نے سرگوشی نمہ آواز میں کہا
تمہیں یہ یاد دلانے آیا ہوں کے اب تم میری جاگیر ہو اس لیے اب اپنے اس مجنو سے کہو کے تمہارا پیچھا چھوڑ دے
تم پر صرف میرا حق ہے سمجھی تم؟؟ زین نے اسکی کلائی کو زور سے دبایا
سی مرہا کرہا کر رہ گئی
اور آئندہ تم گھر سے باہر نہیں نکلوگی سمجھی زین نے تنبہیہ کیا
کلائی چھوڑو میری مرہا نے آواز میں سختی پیدا کرتے ہوے غرا کر کھا
اور ۔۔اگر نہ چھوڑوں تو زین نے ابرو اچکا کر کہا
مرہا نے زین کے ہاتھ پر اپنے دانت گاڑھ دئے
آہ جنگلی !!
زین نے مرہا کی کلائی چھوڑ دی اور اپنا ہاتھ سہلانے لگا جس پر مرہا کے دانتؤں کے نشان بن گئے تھے
آئندہ دور رہنا مجھسے اور میرے کریکٹر پر آئندہ انگلی اٹھانے سے پہلے خود کو ایک بار آئینے میں دیکھنے کی زحمت فرما دینا ۔
مرہا نے خونخوار نظروں سے زین کو گھورا
وہ تو میں روز دیکھتا ہوں وہ بیڈ سے اٹھ گیا اور اپنا کوٹ جھاڑا
مین کوئی جاگیر نہیں ہوں زین آفتاب یاد رکھنا تم مرہا نے دبی آواز میں باور کرایا
وہ کھڑکی کی طرف بڑھنے لگا
رکو تمہارے پاس میرے روم کے دروازے کی چابی کہاں سے آئ ؟؟
زین نے افسوس سے سر جھٹکا
مرہا بی بی جو تمہیں دن کے اجالے میں اٹھوا سکتا ہے رات کی روشنی میں تو وہ بہت کچھ کر سکتا ہے زین نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
وہ کہ کر کھڑکی سے باہر نکال گیا مرہا نے اس کے جاتے ہی تیزی سے کھڑکی لاک کر دی اور تیز تیز سانسیں لینے لگی
وہ گاڑی میں بیٹھا تو اس نے اپنا ہاتھ اٹھا کر دیکھا جس پر ابھی تک مرہا کے دانتؤں کے نشان بنے ہوے تھے
زین نے مسکرا کر سر سیٹ کی پشت سے ٹکا لیا
آج سنڈے تھا اور آسمان کو بادلوں نے گھیرا ہوا تھا تیز ہوا چل رہی تھی ایسے میں ہلکی ہلکی بارش کی بوندؤں نے موسم کو خاصا حسین بنا دیا تھا
وہ کچن میں دوپٹہ کمر سے باندھے پکوڑے تلنے میں مصروف تھی
کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ انسان بن کر نہیں بیٹھ سکتے تم؟؟؟
مرہا نے پکوڑے پلیٹ میں ڈالتے ہوے روحیل کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی جو سارے پکوڑے کیچپ میں ڈبو ڈبو کر کھاتا جا رہا تھا
لو !!! میں کیا کر ہا ہوں یہ پکوڑے خود ہی آ رھے ہیں میرے منہ میں دیکھو ابھی بھی یہ خود چل کر اے ہیں روحیل نے پلیٹ سے ایک پکوڑا اٹھا کر کھا
کیوں اب کیا پکڑون میں ٹانگیں لگ گئی ہیں
مرہا نے پھر سے روحیل کو گھورا جو پکوڑے کھا کر مرہا کو خاصا نظر انداز کر رہا تھا
کمال یحیٰ وہ شخص یار جس نے پکوڑا ایجاد کیا روحیل نے پکوڑے سے لطف اندوز ہوتے ہوے کہا
مرہا کی گھوری ہنوز جاری تھی
بالا خیر مرہا کمرے کی قید سے باہر آ ہی گئی تھی اور اب آہستہ آہستہ زندگی کی طرف لوٹ رہی تھی !!!!
روحیل کیوں تنگ کر رھے ہو اسے ؟؟؟ شگفتہ بیگم نے چائے کپؤں میں ڈالتے ہوے اپنے بیٹے کو ٹوکا
اچھا مرہا کل تم اور میں ریسٹورنٹ چلیںگے ٹھیک
روحیل ہاتھ ٹشو سے صاف کرتے ہوے بولا
وہ کس لیے ؟؟؟
مرہا نے ہاتھ دھوتے ہوے پوچھا ؛؛؛؛
وہ اس لیے کیوں کے ۔۔روحیل رکا کل میرا برتھڈے ہے روحیل نے مرہا کی طرف شکایاتی نظروں سے دیکھتے ہوے بتایا
مرہا نے زبان دانتؤں تلے دبائ
مجھے یاد تھا روحیل اس نے بر وقت بہانہ کسا
ہاں جانتا ہوں اس لیے تم کل تیار رہنا روحیل نے اپنی بات دوہرائ
مرہا سوچ میں پڑ گئی
کیا ہوا !؟؟
روحیل نے اسے چپ کھڑا پایا تو پوچھا
نہ نہیں کچھ۔ نہیں۔ میں چلوںگی کل تمہارے ساتھ
بس ٹائم بتا دینا ٹھیک مرہا نے ہاتھ پوچھتے ہوے حامی بھری
دروازے کی بیل بجی تو اس نے بکس رکھے
انہوں !! اس وقت ہی آنا تھا سب کو مناہل نے منہ بنایہ
دروازہ ہنوز بجا جا رہا تھا “””
آ رہی ہوں بہی صبر رکھیں تھوڑا
مناہل نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اس کا منہ خوش گوار حیرت سے کھل گیا
بھائی !!!!
مناہل چیخ مار کر عریش کے گلے لگ گئی جو براؤن شرٹ اور بلیک جینس پر بلیک جیکٹ پہنے آنکھوں پر سٹائلش چشمہ پہنے بہت ہنڈسم اور فریش لگ رہا تھا
ارے بھائی کون ہے جو تم چیخ مار مار کر پورے گھر کی جان نکال رہی ہو
عذرا بیگم (عریش کی امی) نے نہ گواری سے پوچھا
آپ خود ہی دیکھ لیں امی
عذرا بیگم نے مناہل کی بات پر اس کے عقب میں کھڑے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھا جو بازو سینے پڑ لپیٹے جاندار مسکراہٹ لبوں پر سجائے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا
عریش !!! عذرا بیگم کی
آواز بھیگنے لگی
امی! !!
عریش نے آگے آکر ماں کو گلے لگایا
کیسا ہے میرے جگر کا ٹکڑا ؟
عذرا نے عریش کا ماتھا چومتے ہوے پوچھا
بلکل فٹ اینڈ فریش آپ کے سامنے ہوں عریش نے ہنوز مسکرا کر کہا
ماشاءالله !!! اللہ‎ ایسے ہی سلامت رکھے چلو اب تم فریش آجاؤ میں تمہارے لیے کھانا بناتی ہوں
اففف امی کیا بتاؤں مینے دبئی میں آپ کے ہاتھ کا کھانا کتنا مس کیا عریش نے ماں کو کندھوں سے پکڑ کر گھمایہ
ارے ارے بس گر جاؤنگی میں بدمعاش آتے ہی بدمعاشی شروع کر دی تمنے اور تم تم تو دو دں بعد آنے والے تھے نہ؟؟
عذرا بیگم نے اسکے ساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوے پوچھا
امی اب بھائی کا دل کہان لگےگا دبئی میں اس لیے جلدی آ گئے ہونگے مناہل نے مسکراہٹ دبا کر کہا
کیا مطلب۔ عذرا بیگم نے نہ سمجھی سے عریش کو پھر مناہل کو دیکھا
کچھ نہیں امی یہ تو ویسے ہی کہ رہی ہے آپ اٹھیں کھانا لگائین بہت بوکھ لگی ہے عریش نے معصوم شکل بنا کر کہا
عریش نے آنکھ دکھا کر مناہل کو چپ کر وایا
وہ مناہل کو گھورتا تیز تیز سیڑیان پہلانگ نے لگا
مناہل نے سر جھٹکا اور کچن میں ماں کا ہاتھ بٹانے چلی گئی
مرہا جلدی کرو یار کتنا ٹائم لگےگا مزید روحیل نے نہ گواری سی کلائی میں پہنی گھڑی پر ٹائم دیکھا
بس دو منٹ آ رہی ہوں
مرہا نے کمرے سی ہانگ لگائی !!!
روحیل نے سر جھٹکا
چلیں !!؟؟
مرہا نے موبائل پرس میں رکھتے ہوے کہا
بلیک فراک پر بلیک سکارف پہنے نکھری نکھری رنگت کے ساتھ وہ روحیل کے سامنے کھڑی تھی
اچھی لگ رہی ہو۔ روحیل نے اس کی جانب دیکھ کر مسکرا کر اس کی تعریف کی
مرہا نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا !!!
وہ دونو کار میں بیٹھ گئے
روحیل نے ہاتھ بڑھا کر میوزک آن کیا
ہلکی ہلکی موسیقی کی دہن کار میں بج رہی تھی مرہا نے سارا راستہ ونڈ سکرین سی باہر دیکھا
کار فائیو سٹار ریسٹورنٹ کے سامنے رکی روحیل نے اپنی جانب کا دروازہ کھولا پھر مرہا کی سائیڈ کا
شکریہ مرہا نے مسکرا کر کہا
جب سے مرہا کے ساتھ وہ حادثہ ہوا تھا روحیل پہلے سے زیادہ مرہا کا خیال رکھنے لگا تھا مرہا بھی آہستہ آہستہ اپنی پرانی روٹین میں لوٹ رہی تھی جا میں سب سے زیادہ روحیل کا ہاتھ تھا
تم کیا آرڈر کروگی ؟؟ روحیل نے مینو دیکھتے ہوے مرہا سی پوچھا
میں سینڈوچ اینڈ چکن سوپ مرہا نے آرڈر بتا کر ادھر ادھر لوگوں کو دیکھا جو آپس میں خوش گپیؤں میں مصروف تھے
کیا یہ سب اندر سے بھی اتنے ہی خوش ہونگے جتنے باہر سی نظر آ رھے ہیں ؟؟
کیا ان کی زندگی میں کوئی غم نہیں ہے مرہا نے دل میں سوچا
پھر سر جھٹکا آرڈر آ چکا تھا وہ دونو کھانے میں مصروف ہو گئے
وہ دونو کھانے سی فارغ ہوے تو ویٹر کافی کو دو بھاپ اڑاتے کپ لے آیا
سوچ میں ڈوبی مرہا چھوٹے چھوٹے کافی کے سپ لینے لگی
روحیل تم یہاں؟ مرہا نے کوئی جانی پہچانی ہوئی آواز سنی اس نے اجنبہے سی کپ نیچے کیا اور سر اٹھا کر دیکھا تو اسکی رنگت فک پr گئی گلے میں کافی کا گھونٹ اٹکنے لگا
عریش !!! تم روحیل بھی اپنی سیٹ سی اٹھ کر عریش سے خوشی خوشی بلگیر ہوا
بلیک جینس بلیک ٹی شرٹ کے اوپر وائٹ جیکٹ پہنے بال ماتھے پر بکھرے آنکھوں میں خوش گوار حیرت لیے سامنے عریش کھڑا مسکرا کر روحیل سی مل رہا تھا
مرہا کی سانسیں اٹکنے لگیں دل بی تحاشا تیزی سے دھڑک رہا تھا
پلیز جوائن اس !! روحیل نے خوش دلی سے آفر کی
عریش شکریہ کہتا روحیل کے ساتھ والی کرسی اور بیٹھ گیا
روحیل نے عریش کے لیے کافی منگوائ اور وہ دونو باتوں میں مصروف ہو گئے
مرہا ادھر ادھر دیکھنے لگی گویا اسنے عریش کو دیکھا ہی نہ ہو !!!!
عریش کو اپنا آپ ایسے نظر انداز کرنا سخت برا لگا
دیکھ لونگا میں تمہیں عریش نے دل میں سوچا
مرہا کو اپنے اوپر کسی کی تیز نظریں محسوس ہوئیں لیکن وہ ہنوز لوگوں کو دیکھتی رہی گویا اسی کام کے لیے وہاں بیٹھی ہو
سنگدل کہیں کی!!؛؛
عریش نے دل ہی دل میں مرہا کو مخاطب کر کے کہا
اور بتاؤ تم جہاں کیسے کبھی ہمارے ساتھ تو ریسٹورنٹ میں نہیں اے عریش نے روحیل سے شکوہ کرتے ہوے پوچھا
بس یوں ہی دل کیا تو آگیا
اوہ میں ایک بات بتانا بھول گیا روحیل نے ماتھے پر ہاتھ مارا
دو دیں بعد نکاح ہے تم اپنی فیملی کے ساتھ ضرور آنا اسپیشلی انوائٹ کرتا ہوں تمہیں میں۔ روحیل نے عریش کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا
اوہ ہو بلے بہی بلے نکاح بھی فائنل کر دیا جناب نے عریش نے روحیل کو داد دیکر کہا
ارے میرا نہیں مرہا کا نکاح ہے دو دیں بعد روحیل نے تصیح کی
اور عریش کی مانو کسی نے جان مٹھی میں لے لی ہو
کیا ہورہا تھا لوگ کیا باتیں کر رھے تھے اسے کچھ سمجھ نہ . آرہا تھا وہ سکتے کے عالَم میں روحیل کی بات سن رہا تھا مرہا نے ایک اچٹی نگاہ عریش کے چہرے پر ڈالی تھوڑی دیر پہلے والے مسکراتے چہرے کی جگہ شاک اور سکتے نے لے لی تھی
کیا زین ٹھیک کہ رہا تھا عریش مجھسے ۔۔۔۔مرہا نے سر جھٹک کر رخ موڑ لیا
عریش آر یو اوکے ؟؟؟
اہاں ہاں آئ ام اوکے عریش نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا
مرہا نے عریش کی کپکپاہٹ واضح محسوس کی تھی
تبھی روحیل کا فون بجا ریسٹورنٹ میں شور بہت تھا اس لیے وہ موبائل کان سے لگاے باہر چلا گیا
مرہا بھی اٹھ کھڑی ہوئی وقتاً عریش نے اسکی کلائی پکڑ لی گرفت اتنی سخت تھی کے مرہا کو اپنی کلائی پر تپش محسوس ہونے لگی
اس نے غصے سے عریش کو گھورا
کیا بدتمیزی ہے یہ۔؟ہاتھ چھوڑو میرا سب دیکھ رھے ہیں
آئ جسٹ ڈونٹ کیئر
کیا کہ رہا تھا روحیل عریش نے کلائی پر زور دیتے ہوے پوچھا
جو بھی کہ رہا تھا تمہیں اس سے کیا مرہا نے سختی سے کہا
عریش نے گرفت مزید مضبوط کر دی
عریش ہاتھ چھوڑو میرا سب دیکھ رھے ہیں مرہا نے آس پاس نظریں ڈوراتے ہوے التجا کی
بیٹھو عریش نے کلائی پڑ زور دیتے ہوے کہا
اسکی آنکھوں میں تکلیف اور سرخی دیکھ کر مرہا کا دل ڈوبنے لگا
وہ چپ چاپ غصے سے بیٹھ گئی عریش نے اسکی کلائی چھوڑ دی جو اتنی سخت گرفت سے سرخ پڑنے لگی تھی
ایسے کیسے تم نکاح کر سکتی ہو جب کے تم میری فیلنگس جانتی ہو
مرہا خاموش رہی
کچھ پوچھا ہے مینے عریش نے ضبط کرتے ہوے بات دوہرائ
….تمہارے اس سوال کی جوابدہ نہیں ہوں سمجھے اس نے آواز میں سختی پیدا کرتے ہوے کھا
میں محبت کرتا ہوں تم سے پھر بھی تم میرے ساتھ یہ کر رھی ہو
لیکن میں تم سے محبت نہیں کرتی سمجھے تم ؟؟؟ نفرت کرتی ہوں میں محبت کے نام سے
محبت کے نام سے نہیں تمہیں مجھسے نفرت ہے عریش نے سرخ پڑتی رنگت کے ساتھ کہا
لیکن پھر بھی میں تم سے محبت کرتا ہوں اور تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی عریش کی آنکھوں میں سرخی اتر رہی تھی
مرہا نے دونو ہاتھ ٹیبل پر رکھے اور جھک کر عریش کی آنکھوں میں دیکھا
یہاں کوئی کسی سے محبت نہیں کرتا _سب جذبوں کے سوداگر ہوتے ہیں مینے محبت کو پائیدار نہیں خونخوار پایا ہے ….میرے نزدیک ….محبت صرف ….قاتل ہے قاتل اس نے اپنا پرس اٹھایا اور ریسٹورنٹ سے باہر نکال گئی
وہ وہیں بیٹھا رہا محفل سے دور بس تنہائی تھی اس کے ساتھ رات ہوگئی لیکن اس کی پوزیشن میں کوئی چینج نہیں آیا بس وہ وہی بیٹھا رہا مرہا کی باتوں میں اس کے خیالوں میں غم
دو دیں بعد
آج اسکا نکاح تھا لیکن صرف دوسروں کے لیے اس کے نزدیک یہ نکاح نہیں ایک ڈیل تھی اسے کچھ بھی محسوس نہیں ہوا تھا نہ خوشی نہ غم وہ بس اپنے کمرے میں ڈریسنگ مرر کے سامنے بیٹھی خود کو آئینے میں دیکھ رہی تھی
آج اس نے سرخ جوڑے کے بجاے سیاہ جوڑا پہنا تھا وہ اتنا سیاہ تھا کے مانو کسی کے سوگ منانے کے لیے پہن کر بیٹھی ہو
ہاں سوگ جو اج وہ اپنی بربادی کا منا رہی تھی وہ تیار نہیں ہوئی تھی نہ کوئی سنگار کیا تھا بس سرخ بڑا سا دوپٹہ اسنے اوڑھ لیا اور بیڈ پر بیٹھ گئی قاضی آ چکا تھا
شگفتہ بیگم اسے لینے کے لیے آئین تھیں نکاح میں۔ صرف زین اور مرہا کی فیملی شامل تھی بہت ہی سادگی سے سب تیاری کی گئی تھی
مرہا کو شگفتہ بیگم نے ساتھ لپٹایہ اور اسکا ماتھا اور گال چومنے لگی وہ اور بھی بہت کچھ کہ رہیں تھی لیکن وہ پتھر کا مجسما بنی ہوئی تھی بلکل خاموش اسکے ہاتھ ٹھنڈے پڑ رھے تھے بلکل برف کی مانند !!!!
بلیک پینٹ کوٹ میں مبلوس وہ قاضی صاحب کی کسی بات پر سنجیدہ چہرے سے سر ہلا رہا تھا
کالے لباس میں مبلوس سر کو سرخ دوپٹے سے ڈھانپے کلائی میں کالی چوڑیان پہنے شگفتہ بیگم نے زین کے سامنے والے صوفے پر مرہا کو بٹاھایا
قاضی نے نکاح کے کلمات شروع کیے لیکن مرہا کچھ نہیں سن رہی تھی اسے اپنے اوپر زین کی تیز نظریں محسوس ہوئیں
قاضی نے نکاح کی قبولیت کے لیے زین کی حامی چاہی
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟
قبول ہے قبول ہے قبول ہے زین نے بے تاثر آواز میں کہا
قاضی نے مرہا کی طرف دیکھا
بیٹا کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے
ہلکی سی دروازے پر چاپ سنائی دی مرہا نے نظریں اٹھائیں
دروازے کی چوکھٹ پر وہی تھا سیاہ لباس میں مبلوس اجڑی اجڑی رنگت کے ساتھ دو دنو میں بڑھی ہوئی شیو قاضی کی آواز پر وہ وہیں رک گیا دروازے کی چوکھٹ پر
مرہا نے آنکھیں بند کیں ایک کرب تھا جس کو اسنے ا پنے اندر ہی دفنایہ تھا
سب دم سادے مرہا کی ہاں کے منتظر تھے
قبول ہے قبول ہے قبول ہے
مرہا نےزین کا قید نامہ قبول کیا
دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے شخص کے قدم پیچھے کو مڑے بے جان شکستا قدم
سب ایک دوسرے کو مبارک بعد دینے لگے حمنہ بیگم نے اٹھ کر مرہا کو ساتھ لگایا شگفتہ بیگم اسے کمرے میں چھوڑ آئین
کچھ وقت میں مرہا کی رخصتی تھی
رات کے اس وقت سڑک سنسان تھی اس نے گاڑی روکی اور کار سے باہر نکال آیا
اسکے کانوں سے مرہا کے الفاظ ابھی ہہی ٹکرا رہے تھے
قبول ہے قبول ہے قبول ہے
وہ سڑک پر کھڑا ہوگیا اور زور سے چیخ ماری
کیوں !!!!!!!!!!!!!!!!!!!
اسنے آسمان کی طرف دیکھا آنکھوں میں نمی لیے دل میں درد لیے وہ چیخ رہا تھا دھاڑیں مار رہا تھا
ہاں وہ مرد تھا لیکن محبت کہاں کسی کی مضبوطی دیکھی تھی
ہاں مرد روتے ہیں لیکن تب جب اسکو محبت ہوتی ہے
ہاں مرد روتے ہیں جب اپنی آنکھوں کے سامنے وہی محبت کسی اور کی ہوجاتی ہے
ہاں مرد روتے ہیں
جب محبت میں جدائی آتی ہے تو مرد روتے ہیں
یہ جسم ہے تو کیا ۔۔؟؟؟
یہ روح کا لباس ہے ،،،
یہ درد ہے تو کیا۔۔ ؟؟؟
یہ عشق کی تلاش ہے ،،،
فنا کیا مجھے !!!
یہ چاہنے کی آس نے !!!
طرح ! طرح! شکست ہی ہوا _____
رضا ہے کیا تیری ۔۔؟؟؟
دل و جہاں تباہ کیا !!!
سزا بھی کیا تیری ۔۔؟؟؟
وفا کو بے وفا کیا __،!!!
واہ !!! رے زندگی سے یوں مجھے جدا کیا !!!____
کہاں کہاں پھروں میں ڈھونڈتا ۔۔۔؟؟
یہ جسم ہے تو کیا ؟؟؟
یہ روح کا لباس ہے !!!
سڑک پر گھٹنو کے بل بیٹھے وہ چیخ رہا تھا
رو رہا تھا
اپنا محبوب اپنی آنکھوں کے سامنے کسی اور کا ہوتے دیکھ وہ تڑپ رہا تھا
درد کی انتہا تھی
کرب سا کرب تھا
بے یقینی سی ب یقینی تھی !!!!

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: