Chand Mera Humsafar Novel By Hina Khan – Episode 8

0

چاند میرا ہمسفر از حناء خان – قسط نمبر 8

–**–**–

 

وہ فرنٹ سیٹ پر اس کے ساتھ بیٹھ گئی زین کی۔ مسکراہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی وہ بہت خوب صورت لمحہ تھا زین کا دل چاہ رہا تھا چیخ چیخ کر ساری دنیا کو بتائے کے آج اسکی محبت اسکے ساتھ ہے ۔۔۔۔
ہاں وہ آج اس کے ساتھ تھی اور اس کا ساتھ وہ بہت انجوے کر رہا تھا دوریاں اب نزدیکیوں میں بدل رہیں تھیں جہاں نفرت تھی وہاں اور اب محبت کے پھول کھلنے شروع ہو رھے تھے ایک سکوں سا تھا جو اس وقت زین اپنے اندر محسوس کر رہا تھا
وہ کھڑکیوں کے پار بھاگتے ڈوڑتے منظر دیکھنے میں محو تھی اسے نہیں سمجھ آ رہا تھا کے اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟؟۔۔ کیوں وہ زین کو کسی اور کے ساتھ دیکھ کر اچھا محسوس نہیں کرتی ؟؟اسے کیا ہوجاتا ہے جب کوئی اور زین کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔
یا اللہ‎ کیوں مجھسے برداشت نہیں ہوتا؟؟ کیوں مجھے اچھا نہیں لگتا مرہا نے دل ہی دل میں سوچا
محبت کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کے آپ اپنی محبت کو کسی اور کے ساتھ دیکھ کر اچھا محسوس نہیں کرتے ہاں آپ خود اس بات سے نا واقف ہوتے ہیں کے آپ کے دل میں محبت کیسے جذبے نے جنم لے لیا ہے بعض دفع ہماری جلن دوسرے کو یہ باور کرا دیتی ہے کے ہمیں بھی محبت ہو چکی ہے ۔۔۔اور جب محبت ہوجاۓ تب ضروری تو نہیں کے زبان سے بھی اقرار کیا جاۓ ۔۔۔۔
محبت محبت ہے صاحب کسی کو بھی ہو سکتی ہے پھر وہ تو ایک مقدس رشتے میں بندھے تھے ہاں انکے رشتے میں مجبوریان تھیں لیکن اب محبت بھی تو تھی ۔۔۔۔
تو حسینہؤں کہاں جانا ہے آپ نے ؟؟؟ زین نے بلند آواز میں پوچھا
بھائی میری فرینڈ کا گھر یہاں سے لفٹ سائیڈ پر ہے آپ مجھے اس کے گھر ڈراپ کر دیں لاریب نے فون سے سر اٹھ کر کہا
لیکن لاریب ۔۔تم تو ہمارے ساتھ چل رہی تھی نا ؟؟ مرہا نے گردن گھما کر کہا
ہاں بھابھی لیکن اب آپ دونو جائیں میں واپسی میں خود گھر چلی جاؤنگی لاریب نے اپنا بیگ اٹھایا اور کار سے باہر نکال گئی
زین نے پھر سے کار سٹارٹ کردی
گاڑی واپس گھر لے چلئے مجھے گھر جانا ہے مرہا نے منہ پھلا کر کہا
اور اگر میں ایسا نا کروں تو ؟؟ زین نے ڈرائیونگ کرتے ہوے پوچھا
آپ اپ اپنی۔ مرضی اپنے پاس رکھیں مجھے بس گھر چھوڑدیں مرہا نے بد ضد ہوتے ہوے کہا
زین ہنوز ڈرائیونگ کرتا رہا گویا مرہا کی بات سنی ہی نہیں
آپ نے سنا نہیں مینے کیا کھا ؟؟؟
مرہا نے زور دیتے ہوے کہا
سن رہا ہوں ۔۔۔زین نے سادگی سے جواب دیا
سن رھے ہیں تو گاڑی واپس موڑیں مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا
جانتا ہوں یار تمہیں میرے ساتھ نہیں جانا بس ایک ضروری بات کرنی ہے تم سے پھر چلی جانا جہاں مرضی ہو زین نے سکوں سے جواب دیا
کیون مجھسے کیوں بات کرنی ہے آپ کو وہ ہے نا پردیسی تتلی جس کے آپ صدا سے مجنو بنے ہوے تھے اس سے کر لیں نا ۔۔نیں مٹکا مجھسے کیوں بات کرنی ہے آپ کو؟؟ مرہا نے بالا خیر اپنے اندر کی بھڑاس نکالتے ہوے کہا
واٹ ؟؟ یہ نیں مٹکا کیا ہوتا ہے زین نے نا سمجھی سے کہا
کیوں جب کرتے ہیں تو تب تو سب کچھ پتا ہوتا ہے اب اتنے معصوم کیوں بن رھے ہیں مرہا نے ہنو
ز اسی لہجے میں کہا
یار کیا کہ رہی ہو کچھ سمجھ نہیں آ رہا مجھے اور مجنو ؟؟؟ میں کبمجنو بنا زیں نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوے پوچھا
یہ آپ اپنی اس محبوبہ سے جا کر پوچھیں نا مجھسے کیوں پوچھ رھے ہیں ابھی بھی تو اس سے ملنے جا رھے تھے نا تبھی اتنے تیار ہوکر جا رھے ہیں
زین نے حیرانی سے اپنے حلیے کو دیکھا پھر نا سمجھی سے مرہا کو
تیار ۔۔۔؟؟؟
یار تیار ہونے میں کیا ہے وہ تو میں روز ہوتا ہوں زین نے پریشانی سے کہا
ہاں ہاں وہ چڑیل آئ ہے نا اس لیے اتنے تیار ہوتے ہیں میرے لیے تو کبھی نہیں ہوے نا آپ نے تو مجھے اپنے روم میں بھی مجبوری میں رکھا ہے مرہا نے یہ کہ کار زار و قطار رونا شروع کر دیا
اور زین تو اس کو ہوںکون کی طرح اجھنبھے سے دیکھنے لگا اسکے پلے کچھ نہیں پڑرہا تھا کس کا مجنو ؟کون سا نیں مٹکا ؟اور تیار تو وہ روز ہی مرہا کے سامنے ہوتا تھا زین کا دماغ گھومنے لگ اس نے غصے سے کار کی رفتار ہائی کار دی گاڑی اب ہوا سے باتیں کار رہی تھی
ہاے میرے اللہ‎ تو اب آپ مجھے گاڑی تیز چلا کر مارنا چاہتے ہیں تاکے آپ اس چڑیل سے شادی کر لیں مرہا نے پھر سے حلق پھاڑ کر رونا شروع کر دیا
زین کا دل کیا اپنا ہی سر پیٹ لے
خدا کے لیے کچھ دیر چپ رہو کہ کر زین نے ایک خوبصورت بیچ کے سامنے کار روکی
مرہا نے منہ سے ہاتھ ہٹا کر اس جوش مارتے سمندر کو دیکھا
اب آپ مجھے اس لیے جہاں لے کر آے ہیں کے مجھے مار کر سمندر میں پھینک دیں ۔!!اور گھر جاکر آپ سب سے یہ کہیں کے میں خود ہی مر گئی امی !!! مرہا ہچکیان لیکر پھر سے رونے کے شغل میں مصروف ہو گئی
زین نے زچ ہوکر کار کا دروازہ کھولا اور باہر نکال آیا اس کا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا تھا پتا نہیں کس نے مرہا کے دماغ میں الٹی سیدھی باتیں ڈال دیں تھیں
باہر آؤ زین نے مرہا کی سائیڈ کا دروازہ کھول کر کہا
نہیں میں نہیں آؤنگی آپ ایسے مجھے سمندر میں نہیں پھینک سکتے میں آپ کو اس چڑیل سے شادی نہیں کرنے دونگی مرہا نے سرخ پڑتی ناک اور گیلی آواز میں کہا
تم باہر آ رہی ہو یہ سچ میں ۔میں تمہیں سمندر میں پھینک آؤں زین اس بار غصے سے کہا
میں نا کہتی تھی ضرور اس چڑیل نے کوئی جادو ٹونا کر دیا ہے آپ پر تبھی آپ مجھے سمندر میں پھینک رھے ہیں مجھے بچا لیں میرے خدا میرے شوہر پر اس چڑیل نے کوئی جادو کار دیا ہے مرہا نے ہاتھ اٹھا کر کہا
زین نے گہرا سانس لیا اور سر جھٹکا پھر گود میں مرہا کو اٹھا کر باہر نکالا
نہیں چھوڑیں مجھے!!!! آپ مجھے اس طرح نہیں پھینک سکتے!!! اس چڑیل کے لیے چھوڑیں مجھے مرہا نے زین کی گرفت سے نکلنا چاہا
زین نے اس کو نیچے اتارا اور بازو لپیٹ کر ہونٹ بہیںچے مرہا کو دیکھنے لگا
ایسے کیا دیکھ رھے ہیں آپ؟؟؟ مرہا نے سوں سوں کرتے پوچھا
یا خدا آپ مجھ اور دم کر رھے ہیں تاکے میں خود سمندر میں گوتے لگا کر مرنے چلی جاؤں
امی !!! مرہا بیچ پر نیچے بیٹھ کر حلق پھاڑ کر رونے لگی
زین نے غصے سے دانت کچکائے اور مرہا کی کلائی تھام لی اور اسے لیکر ایک بڑے سے پتھر پر اس کے سامنے بیٹھ گیا
مرہا کا رونا ابھی بھی جاری تھا
اب بتاؤ کیا مسلہ ہے زین نے سکوں سے پوچھا
آپ مجھسے بلکل پیار نہیں کرتے میں ہی پاگل ہوں جو آپ کو معاف کرنے کے لیے تیار ہو گئی میری ہی غلطی تھی کے میں آپ۔ کے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے جا رہی تھی مرہا نے آنسوں پوچھتے ہوے کہا
یار تم پہلے یہ رونا بند کرو مجھے تمہاری کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی کیا کہ رہی ہو کیا سبھا سبھا بھنگ چڑھا کر آئ ہو یہ دماغ خالی کروا کر آئ ہو زین نے مرہا کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوے پوچھا
مرہا نے سرخ پڑتی آنکھیں اٹھا کر زین کی طرف دیکھا
ایسے کیا ادیکھ رھے ہیں سہی تو کہ رہی ہوں آپ مجھسے بلکل پیار نہیں کرتے نا ہی آپ کو میری ضرورتنہیں ہے اب مرہا نے نم لہجے میں کہا
زین نےتھکی تھکی سانس لی اور مرہا کی طرف دیکھنے
اور تمہیں کس نےکہا یہ ۔۔؟؟ کے میں تم سے پیار نہیں کرتا نا ہی مجھے تمہاری ضرورت ہے
کسی کو کہنے کی کیا ضرورت ہے میں خود اندھی نہیں ہوں جو دیکھ نہیں سکتی آپ مجھے اس لیے جہاں لاے ہیں کے مجھے مار کر آپ اس چڑیل سے شادی کرلیں جس کے مجنو آپ چار سال سے بنے ہوے ہیں مرہا کے آنسوں پھر سے بہنے لگے
اور زین کو جیسے کوئی شاک لگا ہو مجنو ؟؟؟ وہ بھی زین آفتاب چار سال سے وہ کب مجنو بنا تھا کسی کا زین نے اجنبہے سے مرہا کو دیکھا
کس کا مجنو بنا ہوا ہوں میں اور تمہیں کس نے کہا میں دوسری شادی کر رہا ہوں زین نے سینے پر بازو لپیٹ کر پوچھا
اس چڑیل سے پوچھیں جو آسٹریلیا سے آئ ہے جس سے آپ چار سال تک عشق ماشوقی کرتے اے ہیں مرہا نے سوں سوں کرتے ہوے کہا
چڑیل ؟؟ کون ثمن ؟؟؟ تم ثمن کی بات کر رہی ہو ؟؟ میں اس کا مجنو ہوں میں زین آفتاب ؟؟ زین نے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کیا
ہاں اور نہیں تو کیا آپ ہی تو اس میں انٹرسٹڈ تھے اور ابھی بھی ہیں جب کے اپ کی مجھسے شادی ہو چکی ہے بیوی کس کو اچھی لگتی ہے وہ بھی تو گھر کی مرگی دال برابر کی طرح لگتی ہے نا
ہا مینے خود کو دال کھا یا خدا میرا دماغ خراب ہوگیا ہے
اب یہ لوگ مجھے پاگل کھانے بھیج دینگے
یار مرہا تم کیا بول رہی ہو۔ زین کے اس کے دونو ہاتھ تھام لیے
مرہا مے ناراضگی سے رخ موڑ لیا
تمہیں کیوں لگتا ہے کے میں ایسا کرونگا ؟؟
میں کیوں تمہارے ہوتے کسی اور سے شادی کرنے لگا یار ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے ہمارے بیچ ٹرسٹ می ہم صرف اچھے فرینڈز ہیں میں اس میں کبھی انٹرسٹڈ نہیں تھا نا ہی مجھے اس سے شادی کرنی ہے زین نے نرمی سے اسے سمجھایا
اگر اس میں انٹرسٹ نہیں آپ کو تو کیون آپ چار سال آسٹریلیا میں رہے اس چڑیل کے ساتھ ؟؟؟
زین نے گہری سانس لی
اور تمہیں کس نے کہا کے میں اس چڑیل کے ساتھ ہی رہا ہوں چار سال آسٹریلیا میں۔۔۔؟؟
زین نے مرہا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے پوچھا
لاریب نے مرہا نے مختصر سا کہا
لاریب نے ۔۔۔؟؟ زین کے ماتھے پر بل پڑے پھر سر جھٹکا
تم نے یقین کر لیا جو اس نے کہا ؟؟ زین نے اسکا چہرہ تکتے ہوے پوچھا
تو اور کیا کرتی بہں ہے وہ آپ کی اسی نے بتایا مجھے سب اور پھر آپ بھی تو سارا دں اس کے ساتھ رہتے تھے ۔۔۔مرہا نے سر جھکا کر کہا
یار اس نے بس تمہیں جلانے کے لیے کہا ہوگا ۔۔۔اور جو کچھ بھی کہا ہے اس میں بلکل بھی سچائی نہیں ہے اب اگر کوئی مہمان گھر اے گا تو اس کو کمپنی تو دینی ہوگی نا ۔۔۔؟؟؟
اور تمہیں مجھسے زیادہ لاریب کی باتوں پر یقین ہے میری باتوں کی کو اہمیت نہیں نا ویری بیڈ
مرہا نے خفا خفا سی نظر زین پر ڈالی
اور آپ کو موحترما ایسا کیوں لگتا ہے کے میں آپ سے پیار نہیں کرتا ؟؟؟
اس کے سوال پر مرہا سٹ پٹا گئی
پتا نہیں کیون لگتا ہے
۔۔۔اور اگر پیار کرتے تو ایسا کیوں کرتے پیار ہوتا تو بتا دیتے نا مرہا نے منہ پھلا کر کہا
زین نے مرہا کے ہاتھ چھوڑ دئے اور اس کا چہرہ دونو ہاتھوں مےں تھام لیا
کیا میری آنکھیں نہیں کہتی کے میں تمسے کتنا پیار کرتا ہوں زین نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا
مرہا نے کوئی جواب نہیں دیا بس آنکھیں جھکا لیں
پھر کچھ دیر بعد بولی زین
. . آپ یہ مجبوری کا رشتہ کیوں نبھا رھے ہیں جب کے آپ نے تو کچھ نہیں کیا پھر کیوں آپ نے مجھسے نکاح کیا ؟؟؟مریہ نے پھر سے سوال کیا
تمہاری نظر میں یہ رشتہ مجبوری ہوگا مرہا میری نظر میں نہیں ۔۔۔اور اب تو اس رشتے میں یک طرفہ محبت بھی شامل ہو چکی ہے میں تمہیں خود سے الگ نہیں کر سکتا چاہے تم اسے میری خود غرضی سمجھو یہ پھر ۔۔۔۔مجبوری زین نے کہ کر اس کا چہرہ چھوڑ دیا
پھر اٹھ کھڑا ہوا اور دور تک پھیلتے سمندر کو دیکھنے لگا
پر مجھے لگتا ہے کے تمہارے لیے یہ رشتہ ایک مجبوری ہے اسی لیے شاید تم اس رشتے کو مجبوری سمجھتی ہو اب تک ۔۔۔
مجھے لگا آپ کو یہ رشتہ مجبوری لگتا ہے مرہا نے زین کی پشت کی طرف دیکھتے ہوے کہا
میں تم سے محبت کرتا ہوں مرہا اتنی سی بات ہے ۔۔۔اور میں چاہتا ہوں کے تم بھی مجھسے محبت کرو یہ میرا حکم سمجھو یہ پھر التجا زین پھر سے گھٹنون کے بل بیٹھ گیا اور مرہا کے ہاتھ تھام کر کہا
میں چاہتا ہوں مرہا کے ہم اس رشتے کو مجبوری میں نہیں۔ ایک دوسرے کی محبت میں نبھائین ۔۔۔میں تمہارا ہو چکا ہوں مرہا ۔۔اور اب میں چاہتا ہوں تم مجھے اپنا بنا لو ۔۔۔ رشتہ تو ہمارے بیچ بن چکا ہے بس تم اس رشتے کو قبول کرلو ۔۔۔میری محبت کو قبول کر لو ۔۔۔کیا تم یہ کر سکتی ہو میرے لیے ۔۔۔کیا تم اس رشتے میں محبت لا سکتی ہو
مرہا نے نم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلایہ ۔۔۔ اور اپنا ہاتھ زین کے ہاتھ پر رکھ دیا
لیکن آپ سچ میں کسی کے مجنو نہیں تھے نا مرہا نے پھر سے پوچھا
اور زین نے نفی میں سر ہلادیا پھر اٹھ کھڑا ہوا اور اپنا رخ سمندر کی طرف کر کے گویا ہوا
زین آفتاب صرف مرہا کا مجنو ہے تا عمر تک اس نے بلند آواز میں کہا اس کی آواز دور تک پھیلے بیچ میں گونجنے لگی مرہا نے اس کی کمر کے گرد بازو حائل کر دئے
میں نے بھی تا عمر آپ کو اپنا مجنو بنادیا
بالا خیر انکے رشتے میں مجبوری کی جگہ محبت آ چکی تھی
زین نے اپنا ہاتھ مرہا کے سامنا کیا ہوا سے مرہا کے بال اڑ رھے تھے اس نے مسکرا کر اپنا ہاتھ زین کے ہاتھ میں دے دیا مجبوری میں نہیں ۔۔۔محبت میں وہ دونو قدم قدم سمندر پر پھیلی ریت اور چلنے لگے ہاتھوں میں ہاتھ لیے آنکھوں میں ایک دوسرے کی محبت لیے مجبوری کو وہی پر چھوڑتے ہوے وہ دونو محبت کو ساتھ لیے چل رھے تھے
ایک ساتھ بہت پاس
ﮐﮩﺎ ﻧﺎﮞ ، ﭘﯿﺎﺭ ﮬﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺿﺪ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮬﮯ
ﮐﮧ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻮﮞ ﺗﻢ ﺳﮯ
ﯾﮩﯽ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮬﻮ ﻟﺐ ﭘﮧ
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮬﮯ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮬﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﻣﺤﺒﺖ ﺗﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮬﮯ
ﯾﮧ ﺗﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﮭﺘﯽ ﮬﮯ
ﺣﺴﯿﮟ ﺳﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ
ﺍﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍ ﺗﺎ ،،
ﺑﮩﺖ ﭼُﭗ ﭼﺎﭖ ﺟﺬﺑﮧ ﮬﮯ
ﺩﺑﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﮨﯽ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﮯ ،،،
ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﻧﻘﺶ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﮔﮩﺮﮮ ﮬﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍ ﺗﺎ
ﻣﮕﺮ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﻮﺧﯽ ﺳﮯ
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺿﺪ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮬﮯ
ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻮﮞ ﺗﻢ ﺳﮯ
ﯾﮩﯽ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮬﻮ ﻟﺐ ﭘﮧ
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮬﮯ
ﻣﮕﺮ ﺗﻢ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮬﻮ ﻧﺎﮞ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﻝ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﻮﮞ
ﭼﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮬﻮﮞ
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮬﮯ
مجھے تم سے محبت ھے ۔۔۔۔۔۔
اب گھر چلیںگے یا یہی پر بیٹھنے کا ارادہ ہے مرہا نے بال کان کے پیچھے اڑستے ہوے پوچھا
میرا تو دل کر رہا ہے تمہیں یہاں سے کہیں دور لے جاؤں زین نے مرہا کی طرف محبت بھری نگاہ سے دیکھتے ہوے کہا
اچھا ؟؟ اور وہ کہیں دور کہاں تک ہے ؟
مرہا نے دلچسپی سے پوچھا
زین نے دلکش مسکراہٹ سے مرہا کی طرف دیکھ کر آنکھیں ڈبٹین
۔۔۔بھاڑ میں جاناں کہ کر زین نے زور دار قهقا لگایا
مرہا نے منہ بنایا اور یکے بعد مکے زین کے چوڑے شانے پر برسانے لگی
اچھا وہ خوبصورت الفاظ تو ذرا دوہرانا جس کو سننے کے میرے کان عادی ہو چکے ہیں زین نے کار سٹارٹ کرتے ہوے کہا
کون سے الفاظ
مرہا نے گھور کر زین کو دیکھا
بدلے میں زین نے مرہا کی طرف فلائینگ کس پاس کی ۔۔۔
مرہا کی ہنسی چھوٹ گئی
اور وہ بھی ہنستے ہوے کار چلانے لگا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو ہفتے بعد ۔۔۔۔
زین اٹھ جائیں نا مرہا نے اس بار بڑی ضبط سے اسے اٹھایا تھا جو منہ پر تکیہ رکھے ای سی کو فل سپیڈ پر کھولے سکوں سے سونے میں بزی تھا مرہا نے کوئی ساتویں مرتبہ اسے آواز دی تھی لیکن مجال ہے جو وہ اٹھے مرہا نے ادھر ادھار دیکھ کر ایسی کا ریموٹ ڈھونڈ کر زور سے ای سی بند کی دسمبر کی سردیان عروج اور تھیں اور یہ نواب ایسی آں کر کے سوتے ہیں۔۔
ہونہ اچہا بھلا بندا ایسے ہی مر جاۓ سردی میں کانپ کانپ کر ہونہ
خود کو تو کوئی فکر نہیں ہے مرہا نے ایسی کا ریموٹ ٹیبل پر رکھا اور زین کا تکیہ کھینچا
اٹھ جائیں نہیں تو میں بیڈ سے نیچے گرا دونگی آپ نے زین مرہا نے غصے سے کھا
زین نے منہ بنایا اور بلنکٹ ہٹا کر اٹھ بیٹھا
بیٹھنے کے لیے نہیں اٹھایا مینے آپ کو اٹھیں تیار ہوں مرہا نے کمر پر ہاتھ باندھ کر حکم سادر کیا ۔۔جو اس وقت بلیک اور پنک کلر کے کنٹراس ڈریس میں بہت ہی پیاری لگ رہی تھی
جا رہا ہوں یار زین نے منہ بنایا اور واشروم میں گھس گیا
مرہا نے سکوں کا سانس لیا اور نیچے اس کا ناشتہ بنانے چلی گئی زین ہر سبھا مرہا کے ہاتھ کا بنا ناشتہ ہی کھاتا تھا
بلیک جینس پر بلیک شرٹ . پہنے وہ سامنے سے چلا آ رہا تھا
گڈ مارننگ مائے وائف زین نے مسکرا کر مرہا سے کہا جو اس کے سامنے ناشتہ لگا رہی تھی
جلدی ناشتہ کار لیں باتیں پھر کبھی کر لیجئے گا ۔۔۔۔
ہیں ؟؟ کیوں بہی کوئی جن آیا ہوا ہے کیا جو میں ناشتہ جلدی کروں زین نے مسکرا کر بریڈ پر بٹر لگاتے ہوے کہا
جن کی پرواہ آپ نا کریں یہاں پر پہلے سے ہی جنوں کے سردار موجود ہیں کہ کر مرہا کچن میں چلی گئ
زین نے مسکرا کر سر جھٹکا
جی امان میں آجاؤنگی آج آپ فکر نا کریں مرہا نے کہ کر موبائل سائیڈ پر کیا
زین آج امان کی طرف لے چلیں وہ کب سے کہ رہی ہیں مجھے لیکن اپ تو ایک کان سے سں کر دوسرے کان سے میری بات نکال دیتے ہیں آج مجھے کیسے بھی کر کے لے چلیں نہیں تو میں خود چلی جاؤنگی بس مرہا نے دو ٹوک انداز میں کھا
وہ جو اس کے سامنے کمر پر ہاتھ باندھ کر کھڑی تھی زین کے کھینچنے پر بوکھلا گئی
زین نے کھینچ کر اسے اپنے باہوں کے حصار میں لے لیا
یا خدا ایسے کھینچا تو نا کریں بہ خدا میرا بازو واضو ٹوٹ گیا تو اپ کو تو موقع مل جایگا اس چڑیل سے شادی کرنے . کا مرہا نے ہونا بازو سہلاتے ہوے کہا
یار تم اب تک اس خوف میں کیوں ہو کے میں دوسری شادی کرونگا بھلا میں کیسے کرونگا مجھسے تو ایک نہیں سمبھالی جاتی دوسری کو کہا بٹھاہونگا اپنے سر اور کہ کر زین نے اس کے سر پر چپٹ رسید کی
باتیں چھوڑیں مجھے امان کے گھر چھوڑ آئین مرہا نے اٹھتے ہوے کہا
زین نے منہ بنایا نہیں چھوڑ سکتا نا میرا دل اداس ہوجاتا ہے تمہارے بنا زین نے معصوم شکل بنا کر کہا
بہانے نا بناۓ مجھے لیکر چلیں نہیں تو میں خود چلی جاؤنگی کہ کر مرہا نے بیگ اٹھا لیا
اچھا بابا ٹھیک ہے لیکن آج شام تک واپس آجاؤ گی تو چھوڑ ہونگا ورنہ نہیں زین نے دو ٹوک انداز میں کہ کر چابی اٹھائی
مرہا نے اسے دیکھ کر سر جھٹکا یہ بھی غنیمت تھی کے اس نے شام تک کا ٹائم دیا تھا
مرہا!!
زین نے اسے پکارا ۔۔۔
جی ؟؟ وہ جو باہر دیکھنے میں مصروف تھی اسکی بات پر اسکی طرف متوجہ ہوکر زین کی طرف دیکھنے لگی
جلدی آجانا زین نے اداسی سے کہا
اوہو زین آپ بھی نا آجاؤں گی آ پ ایسے کہیںگے تو میں کیسے جا پاؤںگی بھلا
زین نے مرہا طرف دیکھ کر منہ بنایا
تمہیں کیا پتا کے جب محبوب آنکھوں کے سامنے نا ہو تو کیسا لگتا ہے تم پر گزرتی تو پتا چلتا نا ۔۔۔ہونہ پیار تو مینے کیا ہے تم سے تمہیں کیا خبر میرے حال کی کہ کر زین نے آہ بھری
مرہا کو اسے دیکھ کر ہنسی آ گئی سریوسلی !!! زین آپ اتنے بڑے بزنس مین ہو کر ایسی رومانٹک باتیں کیسے کار لیتے ہیں ۔۔۔مرہا نے دلچسپی سے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا
اب ایسے تو مجھے مت کہو گاڑی میں ہیں ہم اب تمہیں میں کیسے باتوں کے میں کتنا رومانٹک ہوں زین نے معنیٰ خیزی سے کہا
مرہا نے سٹپٹا کر باہر دیکھنا شروع کر دیا کچھ بعید نہیں تھا اس شخص سے ۔۔۔۔
زین نے اس کی خاموشی پر مسکرا دیا ۔۔۔۔
اچھی لگتی ہو شرما کر ۔۔۔زین نے سادگی سے مرہا کی تعریف کی ۔۔۔۔
چپ کر کے گاڑی چلائیں ہر وقت پتا نہیں کیا کہتے رہتے ہیں بندا تھوڑا خاموش بھی ہونا چاہیے پر نہیں یہاں پر اگر آپ نا بولیں تو دنیا ادھر کی ادھر ہو جاۓ مرہا نے کہ کر خفگی سے سر جھٹکا ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ دونو گھر کے میں ڈور کے سامنے تھے مرہا نے بیل بجائی
کچھ دیر بعد ملازما نے آکر دروازہ کھولا ۔۔۔۔باری باری مرہا سب سے ملی
زین بیٹا آپ کچھ دیر بعد چلے جانا میں آپ کے لیے چائے بنا لوں شگفتہ بیگم نے خوش اخلاقی سے کہا
نہیں انٹی میں بس چلتا ہوں آپ مل لیں اپنی بیٹی سے زین نے بھی خوش اخلاقی سے جواب دیا ۔۔۔۔
وہ تو ہم مل لینگے آپ اسکی فکر نا کریں مرہا نے ایک ادا سے کہ کر شگفتہ بیگم کے کندھے کے گرد بازو حائل کر دئے ۔۔۔۔
چلیں امان مرہا کہ کر شگفتہ بیگم کے ساتھ کچن میں چلی گئی روحیل عظیم صاحب اور زین آپس میں باتیں کرنے لگے ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد شگفتہ بیگم مرہا کے ساتھ چائے کے ساتھ دیگر لوازمات لیکر آ گئیں ۔۔۔۔
شگفتہ بیگم ایک دوسری طرف رکھے صوفے پر بیٹھ گئیں مرہا سب کو چائے پیش کرنے لگی زین کے مسکرا کر کپ تھاما ۔۔۔۔
زین بیٹا آپ سے ایک ریکویسٹ تھی شگفتہ بیگم نے تحمید باندھی ۔۔۔۔
ارے انٹی ریکویسٹ کی کیا بات ہے آپ تو میری امیکی طرح ہیں حکم کیجئے آپ ۔۔۔زین نے مسکرا کر ساعتمندی سے کہا
بیٹا میں چاہتی ہوں کے آج مرہا ہمارے ساتھ یہاں رہے شگفتہ بیگم نے نرم لہجے میں کہا
زیں اور مرہا کی نظر بیک وقت ملی مرہا نے جلدی سے نظریں موڑلیں زین کو ساری بات سمجھ میں آ گئی
جی انٹی جیسی آپ کی مرضی رہ لیں آپ اپنی بیٹی کے ساتھ ویسے بھی آپ کا حق ہے یہ مجھے کوئی مسلہ نہیں ہے زین نے دل پر جبر رکھ کے یہ الفاظ کہے ۔۔۔۔
مرہا کو بے اختیار ہنسی آئ ۔۔۔
آپ کا بہت بہت شکریہ بیٹا شگفتہ بیگم نے خوشی سے کھا
کوئی بات نہیں انٹی زین چائے پی نے لگا ۔۔۔۔
چائے ختم ہوئی تو اس نے جانے کے لیے اجازت چاہی ۔۔۔۔
اب اجازت دیں مجھے زین نے ایک غصیلی نگاہ مرہا پر ڈالی ۔۔۔۔جیسے کہ رہا ہو دیکھ لونگا تمہیں کرلو مزے ۔۔۔
آپ فکر نا کرئے گا میں آرام سے رہ لونگی یہاں مرہا نے معصومیت کا ریکارڈ توڑتے ہوے کہا
زین نے ضبط سے صرف سر ہلایہ
مرہا نے بےاختیار اپنی ہنسی دبائ ۔۔۔۔
زین چلا گایا اور وہ اپنے کمرے میں آ گئی ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد شگفتہ بیگم بھی اس کے اس آ کر بیٹھ گئیں ۔۔۔
مرہا ۔۔۔بیٹا تم خوش تو ہو نا ؟؟شگفتہ بیگم نے تشویش سے پوچھا
مرہا ہلکا سا مسکرا دی اور اپنا ہاتھ شگفتہ بیگم کے ہاتھ پر رکھا
اللہ‎ کا شکر ہے امان میں بہت خوش ہوں سب اچھا جا رہا ہے اللہ‎ نے میرے لیے آسانیاں فرما دی ہیں میں تو شکر کرتے نہیں تھکتی امان زین بہت کیئرنگ ہیں آپ بے فکر ہو جائیں اور اپنے اس ضدی بیٹے کے سر پر اب صحرا باندھنے کی تیاری کریں۔ غضب خدا کا میں اس سے چھوٹی ہوکر شادی شدہ ہوں اور وہ جناب ابھی تک بیٹھے ہوے ہیں کیا آسمان سے کسی حور کے اترنے کا انتظار کر رہا ہے وہ؟ آج اچھی طرح خبر لیتی ہوں میں اس کی بخدا اس عمر میں تو لوگوں کے بچے ہوجاتے ہیں اور یہ نواب پتا نہیں کس کے انتظار میں ہیں مرہا پھر سے اپنی پرانی جوں میں بولتی چلی گئی شگفتہ بیگم نے اسکی دائمی خوشیوں کی دعا کی ۔۔۔۔
بیٹا وہ تمہاری نند نہیں ہے جو اس دن تمہارے ساتھ تھی کیا نام ہے اسکا شگفتہ بیگم نے سوچتے ہوے کہا ۔۔۔۔
آپ لاریب کی بات کر رہی ہیں امان ؟؟؟
ارے ہاں وہی ۔۔۔کتنی پیاری بچی ہے نا مجھے تو بہت ہی اچھی لگی وہ۔ میں سوچ رہی تھی کیوں نا روحیل کا رشتہ لیکر چلیں تمہارا کیا خیال ہے ؟؟؟
امان لاریب بہت اچھی ہے لیکن آپ اپنے بیٹے سے کوئی امید نا رکھیں آپ پل میں اس کی پسند بدل جاتی ہے کیا گارنٹی ہے اپ کو اسکی ادھر ہم رشتہ لیکر چلے جائیں یہاں پر یہ نواب انکار کر دیں ہائے امان پہلے آپ اپنے لاڈلے سے پوچھ لیں ۔۔۔۔مرہا نے پاؤں اوپر کرتے ہوے ہاتھ جھلا کر کہا
تو بات کرنا اس سے تم دونو میں اچھی انڈرستنڈنگ ہے ۔۔۔۔
ٹھیک ہے امان کرتی ہوں میں آپ کے بیٹے سے بات آگے وہ جانے اس کا کام جانے مرہا کہ کر روحیل کے روم کی طرف بڑھ گئی
وہ اپنے روم میں بیڈ پر بیٹھا موبائل پر انگلیان چلا رہا تھا جب مرہا نے دروازہ نوک کیا روحیل نے سر اٹھا kr اسکی طرف دیکھا اور مسکرایہ
آجاؤ ۔۔۔روحیل نے موبائل آف کرکے جیب میں رکھا
مرہا قدم قدم چلتی اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
کیسی ہو؟ روحیل نے خوش گوار موڈ میں پوچھا
ہمیشہ کی طرح بہت اچھی ہوں اور تم سے تو اور بھی زیادہ اچھی ہوں مرہا نے سینے اور بازو لپیٹ کر کہا
وہ تو ہے۔ روحیل نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
یہ کیا بات ہوئی روحیل میں تم سے چھوٹی ہوکر شادی شدہ ہوں اور تم ابھی تک کنوارے بیٹھے ہوے ہو کیا کسی حور کا انتظار کار رھے ہو؟؟
اوہ بھائی حور کو چھوڑو نور کو ڈھونڈو اب امان بیچاری تمہارے سر پر صحرا باندھنے کے لیے کب سے ترس رہی ہین لیکن تمہیں تو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ۔۔۔مرہا نے منہ بنا کر روحیل کی کلاس لی
اچھا تو امان نے بھیجا ہے تمہیں ۔۔۔
امان کیوں بھیجیںگی میری اپنی بھی خوائش ہے کے تمہیں دلہا بنتے دکھوں
تو آج پکا تم میرا رشتہ فکس کرکے ہی جاؤگی ؟؟
روحیل نے آنکھیں چھوٹی کر کے مرہا کو دیکھتے ہوے پوچھا
بلکل اچھا بتاؤ تمہیں کوئی پسند ہے یہ یہ کام بھی ہم کریں ؟؟؟
اب تم رشتے کی بات کر رہی ہو تو یقیناً تمہاری نظر میں ہی کوئی نا کوئی ہوگی روحیل نے صاف الفاظ میں کہا
واہ روحیل واہ کیا عقل ہے تمہاری اب لگتا ہے کے تم میرے بھائی ہو مرہا نے کہتے ہوے خد کو دات دی ۔۔۔۔
روحیل نے گھور کر مرہا کو دیکھا ۔۔۔۔
روحیل وہ میں چھ رہی تھی کی تم کیوں نا میری نند سے شادی کرلو وہ بہت اچھی ہے ۔۔۔۔ تم دونو کافی اچھے لگوگے ایک ساتھ ۔۔۔
کونسی نند ہے بہی تمہاری؟؟ مجھے بھی تو پتا چلے روحیل نے دلچسپی سے پوچھا
مرہا نے تھوک نگلا
میری دو نندیں ہیں ایک لاریب اور دوسری ۔۔۔۔مرہا نے رک کر روحیل کو دیکھا ۔۔۔
دوسری روحیل نے ابرو بہیںچ کر پوچھا
دوسری یسرا مرہا نے گہرا سانس لیتے ہوے گویا روحیل کے اوپر بم پھوڑا
روحیل جلدی سے سیدھا ہوا
یسرا ؟؟؟ کون یسرا ؟؟ کیا تم یسرا آفتاب کی بات کر رہی ہو ؟؟ روحیل کے ماتھے پر بل پڑنے لگے
مرہا نے اثبات میں سر ہلایہ
ہاں یسرا آفتاب وہی یسرا جو تمہارے کلینک میں تمہاری ہیلپر تھی ۔۔۔جس نے تم پر سوسائیٹ کا الزام لگایا تھا ۔۔۔اور میری کڈنیپنگ میں بھی وہی مبلوس تھی کہ کر مرہا نے گہری سانس لیکر گویا اپنے دل کا بوجھ ہلکا کیا
روحیل بے یقینی سے مرہا کو دیکھے گیا ۔۔۔
تمہیں ۔۔۔یسرا نے کڈنیپ کیاتھا ؟؟۔۔۔اور زین اس کا بھائی ہے مطلب وہ بھی ان سب میں شامل تھا اور تم مجھے اب بتا رہی ہو مرہا سب کچھ جانتے ہوے بھی تم نے اس شخص سے نکاح کیا کیوں مرہا کیوں روحیل بیڈ سے اٹھ گیا اس کا چہرہ غصے سے لال ہونے لگا تھا
مرہا اٹھی اور روحیل کے مقابل کھڑی ہو گئی ۔۔
زین ان سب میں شامل نہیں تھا روحیل مرہا نے سکوں سے کہا پھر اس نے ساری کہانی مں و عین روحیل کو بتا دی ۔۔۔۔
اپنی بھن کے گناہ کا کفارہ ادا کیا تھا زین نے مجھسے نکاح کرکے اور آج روحیل میں تم سب کے سامنے ہوں خوش اپنی زندگی کو جی رہی ہوں مرہا نے روحیل کے کندھے پر ہاتھ رکھے
روحیل نے گہرا سانس لیا ۔۔۔وہ جانتا تھا کے مرہا سب سچ کہ رہی ہے اس نے بھی خاموشی میں عافیت سمجھی
روحیل زین کی بھن بہت اچھی ہے میں چاہتی ہوں کے تم اس سے نکاح کرلو
اتنا سب ہونے کے بعد تم کہ رہی ہو کے میں اس سائکو سے شادی کر کے خود بھی پاگل بن جاؤں ۔۔۔نہیں مرہا معاف کرو مجھے میں نہیں کر سکتا یسرا سے شادی روحیل نے صاف انکار کیا
ہیں ۔۔۔ یسرا سے شادی کرنے کو کون کہ رہا ہے میں تو لاریب زین کی چھوٹی بہن کی بات کار رہی ہوں مرہا نے نا سمجھی سے کہا
کون لاریب ؟؟
زین کی بہن میری دوسری نند اور کون ۔۔۔وہ بہت اچھی ہے روحیل یسرا سے بلکل الگ ہے تم دونو کا کپل بہت اچھا رہے گا
ٹھیک ہے پھر جیسا تم لوگوں کو ٹھیک لگے مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے روحیل نے ہاتھ اٹھا کر کہا
مرہا نے خوشی سے چیخ ماری اور روحیل کے گلے لگ گئی
۔۔۔۔۔۔۔
وہ خوشی سے چهکتے ہوے ہونے کمرے میں آئ تو موبائل اور میسج ٹوں بجی
مرہا کی بچی دیکھ لونگا میں تمہیں زین کا غصے بھرا میسج سکرین پر جگمگا رہا تھا ۔۔۔
مرہا نے مسکرا کر میسج پڑھا اور موبائل سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔۔
روحیل اور لاریب کا رشتہ سب نے خوشی خوشی قبول کیا تھا سب کو راضی کرنے والا ہی زین تھا مرہا بہت ہی خوش تھی آج شام کو دونو کا نکاح تھا
یار مرہا میری شرٹ کہان رکھی ہے تم نے بلیو والی؟؟ زین عجل میں لگ رہا تھا
اف اللہ‎ کوئی چیز نہیں ملتی آپ کو مرہا نے کہ کر اسے شرٹ پکڑائ اب مجھے کام کرنے دیں کہ کر مرہا پھر سے کام میں لگ گئی
اج شام کو نکاح تھا اور وہ سب میں گھن چکر بنی گھوم رہی تھی
وہ کمرے میں آئ تو اپنی وارڈ روپ سے شام کے لیے ڈریس نکالنے لگی جیسے ہی اس نے وارڈ روپ کھولی وہ ٹھٹک گئی وارڈ روپ۔ میں ہر رنگ کی بہت سی چھوڑیان رکھی ہوئیں تھین
ہیں یہ اتنی ساری چوڑیاں یہاں پر کیسے آئین پھر اس کی نظر سامنے رکھے ایک چھوٹے سے کارڈ پر پڑی وہ زین کی ہینڈ رائٹنگ تھی
بیوٹیفل گفٹ فور بیوٹیفل گرل ایور مرہا کارڈ پر لکھی تحریر پڑھ کر مسکرا دی ۔۔۔
اس نے اپنا ڈریس اٹھایا اور واش روم میں چینج کرنے چلی گئی ۔۔۔۔
جب وہ باہر آئ تو زین ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا بالوں میں برش پھیر رہا تھا
مرہا کو دیکھ کر مسکرایا
دیکھیں موحترما آپ کے حکم کے مطابق آج مینے وائٹ سوٹ ہی پہنا ہے
مرہا مسکرا دی بہت شکریہ آپ کا میرے حکم کی تکمیل کی آپنے ۔۔۔مرہا نے بھاؤ کھانے والے انداز میں کہا
اتنی ساری چوڑیان لینے کی کیا ضرورت تھی زین ؟؟؟
یار مجھے سب اچھی لگیں تو میں سب لے آیا وہ موبائل پر انگلیان چلا تھا کہ رہا تھا
مرہا نے سر جھٹکا
مرہا زین اس کے پاس کھڑا ہوگیا اور اپنے ہاتھ کرسی کی پشت پر ٹکا دئے
جی مرہا نے آئینے میں دیکھتے ہوے کہا وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا
میں چاہتا ہوں اج تم دلہن کی طرہ تیار ہو ہمارے نکاح پر بھی تم نے ریڈ سوٹ نہیں پہنا تھا نا ہی دلہن بنی تھی آج میں تمہیں دلہن بنے دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔کیا تم میری یہ وش پوری کروگی ؟؟؟
مرہا نے سر اثبات میں ہلایہ
۔۔۔۔۔۔
نکاح شروع ہوا تو روحیل نے نکاح نامے اور سائن کیے
پھر لاریب نے سائن کیے پھر سب ایک دوسرے کو مبارک بعد دینے لگے ۔۔۔۔
اس طرح دونوھوں ایک مضبوط بندھن میں بندھ گئے
زین نے مرہا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا وہ بلکل دلہن کی طرح تیار ہوئی تھی ریڈ سوٹ میں کلائیان بھر کر چوڑیاں پھنے وہ بہت حسین لگ رہی تھی زین بس اسے دیکھ جا رہا تھا
بس کریں زین اور کتنا دیکھیں گے مجھے مرہا نے عاجز آتے ہوے کہا
یار میرا دل کرتا ہے میں تمہیں ساری زندگی یوں ہی دیکھتا رہوں زین نے محبت سے چور لہجے میں کہا
وہ دونو ٹیرس پر کھڑے تھے آمنے سامنے ہاتھوں میں ہاتھ لیے آنکھوں میں محبت لیے چاند اپنی پوری روشنی لئے ان دونو کے سامنے کھڑا تھا
چاند آج کتنا خوب صورت لگ رہ ہے نا زین؟؟ مرہا نے چاند کی طرف دیکھتے ہوے کہا زین نے بھی چاند کی طرف دیکھا
ہاں بہت خوب صورت لگ رہا ہے تمہیں پتا ہے مرہا آسمان پر موجود چاند ستاروں کا ہمسفر ھے
لیکن میرے ساتھ جو چاند اس وقت موجود ہے۔۔۔۔
وہ چاند میرا ہمسفر ہے زین نے کہ کر مرہا کی صبیح پیشانی اور اپنے لب رکھے
آج انکی محبت کامیاب ہو چکی تھی….

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: