Chand Mera Humsafar Novel By Hina Khan – Last Episode 9

0

چاند میرا ہمسفر از حناء خان – آخری قسط نمبر 9

–**–**–

 

وہ دونو اب تک ٹیرس پر کھڑے تھے کتنا وقت بیتا
دونون چاند کو تکے رہے
زین ایک بات پوچھوں ؟؟؟
مرہا نے چاند سے نظریں ہٹا کر زین کو دیکھا ۔۔۔
ہاں پوچھو میری جان زین نے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔۔
آپ کو مجھسے محبت کب ہوئی زین ۔۔۔؟؟؟
زین پورا مرہا کی طرف گھوما پھر اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیے ۔۔۔۔
مجھے تم سے محبت تب ہوئی تھی جب پہلی بار مینے تمہیں دیکھا تھا تب تمہاری آنکھوں میں نا جانے ایسا کیا تھا کے میں اپنا دل تم پر ہار بیٹھا شاید دل ہارنے کوئی ہی محبت کہتے ہیں ۔۔۔تم نے پوچھا تھا نا مرہا کے مینے تم سے نکاح کیوں کیا ۔۔۔تو سنو جب مجھے پتا چلا کے یسرا نے تمہارے ساتھ غلط کیا ہے تب میں فورن وہاں پر پوھنچا پھر مینے جب تمہیں دیکھا تو میرا دل میرے بس میں نہیں رہا تمہیں کڈنیپ کر کے یسرا نے تمہارے کردار کو داغدار کر دیا تھا اگر دنیا میں یہ بات زیادہ پہل جاتی تو تمہاری بہت بدنامی ہوتی جب کے تم تو بے قصور تھی اور پھر جو ہوا مینے سوچ لیا کے میں یسرا کی غلطی کا کفارہ ادا کروں گا تمہیں اپنا کر تمہں اپنا نام دے کر ۔۔جب میں تم سے ملا تب میریزبان اور میرے دل پر صرف ایک ہی نام تھا مرہا صرف ایک ہی چہرہ تھا جو میری آنکھوں میں بس چکا تھا اور وہ تم تھی مرہا تم
تب مجھے احساس ہوا کے میرے دل کو تمہاری شدت سے ضرورت ہے اور مینے اپنے دل کے ہاتھوں تمہیں شرعی طریقے سے اپنا لیا اور اب ہر پل ہر دل ہر لمحہ میرے دل میں تمہاری محبت بڑھتی رہتی ہے ہے
اب تم مجھے بتاؤ کے تمہیں مجھسے محبت کب ہوئی ؟؟زین نے مرہا کو اپنے حصار میں لیتے ہوے پوچھا ۔۔۔
جب مجھے یہ پتا چلا کے میری زندگی آپ نے نہیں یسرا نے تباہ کی ہے آپ نے تو مجھے سب کے سامنے عزت دی ہے تب رفتہ رفتہ میرے دل میں اپ کے لیے محبت پیدا ہوتی گئی اور آج میرا اللہ‎ گواہ ہے کے میرے دل میں سب سے آعلیٰ مقام سب سے زیادہ محبت اگر کسی رشتے کی ہے تو وہ آپ کے اور میرے رشتے کی ہے اور آج میں یہ آپ کے سامنے قبول کرتی ہوں کے مجھے بھی آپ سے محبت ہے مرہا نے کہ کر اپنا سر زین کے بازو سے ٹکا لیا ۔۔۔۔
۔۔
وہ دلہن بنی بیڈ پر بیٹھی تھی جب دروازہ کھلا اور سفید شلوار کمیز کی استیں کو۔ کہنیؤں تک موڑے روحیل کمرے میں داخل ہوا لاریب کا دل زور سے دھڑکا ۔۔۔۔
اہم اہم!!! اسلام علیکم روحیل نے گلہ کہنگھار کر سلام کیا لاریب نے سر کا خم دیا ۔۔۔۔
وہ قدم قدم چلاتا اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔
سلام کا جواب منہ سے دیا جاتا ہے سر ہلامے سے نہیں ۔۔۔!!!
روحیل نے شرارتی انداز میں کہا
کچہ بولو یار کیا زبان کا استمال کرنا تمہیں نہیں آتا؟؟ روحیل نے خاموش بیٹھی لاریب کو چھیڑا !!!
الحمداللہ میری زبان صحیح سالم ہے لاریب بالا خیر برا مانتے ہوے بولی
شکر ہے موحترما آپ نے منہ کھولا مجھے تو لگا کے کوئی گونگی میرے سر سے باندھ دی گئی ہے
لاریب نے گھور کر روحیل کو دیکھا ۔۔۔۔
روحیل نے لاریب کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلادیا ۔۔۔۔
لاریب نے پہلے روحیل کو دیکھا پھر مطمئن ہوکر اپنا نازک ہاتھ روحیل کے ہاتھ میں دے دیا
روحیل نے جیب سے ایک مخمل کا کیس نکالا جس میں خوبصورت ڈائمنڈ کی رنگ چمک رہی تھی روحیل نے رنگ نکال کر لاریب کی انگلی میں پہنا دی
کیسی لگی؟؟ روحیل نے لاریب کی طرف دیکھتے ہوے پوچھا
بہت اچھی ہے لاریب نے اپنی انگلی میں پہنی رنگ کو دیکھتے ہوے کہا
لاریب آپ خوش تو ہیں نا ؟آئ مین ہماری شادی اتنی جلدی ہو گئی آپ نے مجھے شاید دیکھا بھی نہیں ہوگا ۔۔۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں آپ مجھے ایک بہتر ہمسفر پائینگی میں ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہونگا ۔۔۔۔روحیل نے لاریب کے ہاتھ تھام کر اسے یقین دلایا ۔۔۔۔
مجھے آپ پر یقین ہے روحیل اور جس حال میں بھی ہماری شادی ہوئی یہ سب ایسے ہی لکھا تھا اور جو قسمت میں لکھا ہو اس پر راضی ہوا جاتا ہے رہی بات آپ کو دیکھنے کی تو مینے ولیمے میں آپ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔ تب میں آپ کے بارے میں نہیں سوچ سکتی تھی کیوں کے آپ میرے لئے نا محرم تھے لیکن آج آپ میرے محرم ہیں اور مجھے آپ دل۔ سے قبول ہیں ۔۔۔۔
لاریب کیا تمہیں پتا ہے کی تمہاری بھن نے خود خوشی کرنے کی کوشش کیوں کی تھی روحیل نے سوالیہ نظروں سے لاریب کو دیکھا ۔۔۔۔
جی !!! زین بھائی نے مجھے بتایا تھا کے اس نے خود خوشی کرنے کی کوشش کی تھی آپ کو ۔۔۔۔کیسے پتا ۔۔؟؟؟
کین کے تمہاری بہن نے مجھسے بدلہ لینے کے لیے سب کیا تھا روحیل نے گہرا سانس لیا ۔۔۔۔۔
آپ سے بدلہ ۔۔۔؟؟؟ لیکن آپ کے ساتھ اسکی کیا دشمنی تھی لاریب نے نا سمجھی سے روحیل کی۔ طرف دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔
روحیل نے گہرا سانس لیا اور ساری کہانی لاریب کو بتا دی
لاریب منہ کھولی شاک کی کیفیت میں سب سں رہی تھی اسے یقین نہیں آ رہا تھا کے یسرا نے یہ سب کیا وہ بھی کس کے لیے روحیل کے لیے اس کے لیے جو آج اس کا محرم تھا ۔۔۔۔
لاریب نے بے اختیار منہ پر ہاتھ رکھا
یسرا اگر آپ میں انٹرسٹ رکھتی تھی روحیل پھر کیوں آپ نے مجھسے نکاح کے لیے حامی بھری لاریب بے یقینی کی کیفیت میں پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
میں اس میں انٹرسٹ نہیں رکھتا تھا لاریب !!! مجھے ایسی لڑکیاں نہیں پسند جو ہر کسی پر دل ہار جائیں خوبصورتی میرے لیے مائینے نہیں رکھتی میری نظر میں خوب سیرت ہونا بہتر ہے ۔۔۔۔اور تم سے مینے نکاح اس لیے کیا کیوں کے تم میرے گھر والوں کی پسند ہو اور اگر تم انکو پسند آئ تو ضرور انہوں نے تمہاری سیرت دیکھ کر تمہیں پسند کیا ہوگا ۔۔۔۔روحیل نے کہ کر ہلکے سے لاریب کا ہاتھ دبایہ ۔۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں ہم اس رشتے کو محبت اور یقین سے شروع کریں ۔۔۔کیا تم میرا ساتھ دو گی لاریب؟؟ روحیل نے تائیدی نظروں سے لاریب کی طرف دیکھا
لاریب نے سر اثبات میں ہلایہ ۔۔۔۔
میں آپ کے ہر قدم پر آپ کا ساتھ دونگی روحیل کہ کر لاریب نے روحیل کے چوڑے شانے سے سر ٹکالیا روحیل نے بھی مطمئن ہو کر آنکھیں موند لیں
زین مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے یسرا کیا ریایکٹ کریگی جب اسے پتا چلیگا کے روحیل کی شادی لاریب سے ہوئی ہے اور ۔۔وہ بھی تمہاری حامی سے مجھے بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے مرہا نے کمرے میں چکر کاٹتے ہوے پریشانی سے زین کی طرف دیکھتے ہوے کہا
وہ جو لیپ ٹاپ پر میل لکھنے میں مصروف تھا مرہا کی۔ بات سں کر اس کی انگلیان ایک لمحے کے لیے رکین ۔۔۔۔
اسے جو کرنا تھا وہ کر چکی ۔تمہیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں دیکھ لونگا اسے زین نے کہ کر پھر سے اپنا کام شروع کر دیا ۔۔۔۔
مرہا پریشانی سے زین کے قریب آئ ۔۔۔
لیکن زین آ پ میری بات کو۔ سیریس کیوں نہیں لے رھے اگر اس نے پھر سے میری فیملی میں سے کسی کو نقصان پوھنچا دیا یا پھر روحیل اور لاریب کی شادی شدہ زندگی میں کوئی بکھیڑا کھڑا کر دیا تب کیا ہوگا ۔۔۔۔؟؟؟
اف زین مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے
مرہا کے چہرے پر واضح پریشانی کے آثار نظر آ رھے تھے
زین نے گہرا سانس لیا اور لیپ ٹاپ کی سکرین بجھا کر لیپ ٹاپ سائیڈ پر کیا پھر مرہا کا ہاتھ تھام کر اے اپنے برابر میں بٹھایا
کہا نا جو ہونا تھا ہو چکا اسنے جو کرنا تھا وہ کر چکی اور اگر اسنے پھر سے کچھ کیا تو تم مجھے اپنے ساتھ پاؤگی مرہا ۔۔۔۔زین نے اس کا ہاتھ دبا کر اسے یقین دلایا ۔۔۔۔۔
مرہا بھی زین کی باتوں سے مطمئن ہو گئی ۔۔،۔
مجھے یقین ہے کے آپ جو کہ رہے ہیں ویسا ہی ہوگا کہ کر مرہا نے اپنا دوسرا ہاتھ زین کے ہاتھ پر رکھا ۔۔۔۔
وہ امریکا میں تھی جب اسے پتا چلا کے اس کی بہن کی شادی ہے ۔۔۔شادی بھی کس سے ؟؟ اس شخص سے جس کو حاصل کرنے کے لیے وہ اپنی ہر حد پہلانگ گئی تھی ۔۔۔اس شخص کے لیے وہ اتنی بری بن گئی اور آج وہی شخص کسی اور کو اتنی آسانی سے مل گیا کیوں۔ ۔۔۔؟؟؟ اس کے دماغ میں بہت کچھ چل رہا تھا غصہ احساس کمتری نفرت جیسے جذبات اس کے دماغ میں چل رھے تھے اس کا دماغ مائوف ہو چکا تھا جب سے اسنے یہ سنا تھا کے روحیل ملا بھی تو کس کو؟؟؟ اس کی اپنی بھن کو وہ بہن جس کو وہ یہ کہ کر ہرٹ کرتی تھی کے اس کے پاس حسن جیسی خوبی ہے پر آج اس کا حسن اسی کے پاس تھا قسمت نے آسانی سے لاریب کو وہ دے دیا تھا جس کے لیے وہ بری بنی تھی وہ یہ بھول گئی تھی کے خوبصورتی نہیں خوبسیرتی آج جیت گئی تھی ۔۔۔۔۔
ایئرپورٹ سے آتے وقت وہ کار میں بیٹھ گئی جو اس کے گھر سے آئ تھی ۔۔۔۔اس کا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا تھا دماغ میں صرف ایک ہی بات چل رہی تھی کے آج وہ ہار گئی تھی اسے اپنی ہار برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
دیکھ لوںگی میں تمہیں روحیل تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔۔۔ اس کا دماغ شیطانی چال چلنے لگا ۔۔۔۔پر وہ ایک بار پھر بھول رہی تھی کے غصہ ہمیشہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے دوسروں کا نہیں جو برا ہم دوسروں کے ساتھ کرنے کا سوچ رہے ہوتے ہیں وہی ہمارے ساتھ ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو گھنٹے بعد ۔۔۔۔
یار روحیل تم یہ کباب تو لو شرما کیوں رہے ہو اب تو ہمارا دوہرا رشتہ بن گیا ہے ۔۔۔زین نے کباب کی پلیٹ روحیل کی طرف کھسکا کر کہا ۔۔۔
یار بہت کھا چکا اب اگر کچھ کھا لیا نا تو چلنا محال ہو جاۓ گا میرا روحیل نے ہاتھ اٹھا کر کہا ۔۔۔۔
ارے کیوں بھائی شادی کیا ہوئی تمہارے تو نخرے آسمان کو چھونے لگے ہیں ویسے تو بہت کھایا کرتے تھے ادھر کھانا آیا نہیں ادھر تم نے پلیٹ صاف کی نہیں ۔۔۔اب کاہے کے نخرے دکھا رھے ہو کہیں لاریب بھابھی نے ڈائٹ وائٹ پر تو نہیں لگا دیا مرہا صوفے کی پشت سے دونو ہاتھ ٹکا کر پوچھنے لگی لاریب مرہا کی باتوں پر چہینبہ گئی جو اس وقت ڈارک مہروں سوٹ پر سجی سنوری دوسرے صوفے پر بیٹھی سب کی باتوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی ۔۔۔۔
واہ بہی واہ !! کیا کہنے آپ کے لاریب میڈم آپ شرماتی بھی ہیں زین نے دات دیتے ہوے کہا ۔۔۔۔
بھائی !!! لاریب نے گھور کر زین کو دیکھا ۔۔۔۔
سب ہی لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔۔۔
واہ !! واہ !! کیا سین ہے یسرا دروازے کی چوکھٹ پر کھڑی کیںا توز نظروں سے باری باری سب کو دیکھ رہی تھی
آواز پر سبھی نے چوںک دروازے کی طرف دیکھا سب کے چہروں۔ کی رنگت بدل گئی !!!!
یسرا بیٹا تم آؤ آؤ نا دیکھو تمہارے بہنوئی آئے ہیں حمنہ بیگم نے آگے بڑھ کر یسرا کو ساتھ لگایا ۔۔۔۔
وہ ہنوز آنکھوں میں نفرت لیے روحیل اور لاریب کو دیکھ رہی تھی پھر حمنہ بیگم سے الگ ہوئی ۔۔۔اور لاریب کی طرف بڑھی ۔۔۔۔
حیران کیوں ہو مجھے دیکھ کر کیا اب بھی مجھے نہیں آنا چاہیے تھا ۔۔۔؟؟؟ تم سب لوگوں نے تو مجھے ان سب سے دور رکھا لیکن دیکھو آخر کار مجھے پتا لگ ہی گیا
اور تم ۔۔۔بہت بھولی بن رہی ہو نا تم جیسے تمہیں کچھ پتا ہی نہیں ہو ہے نا ۔۔۔؟؟؟ کیون ؟کیون پتا نہیں تمہیں تمہارے چہیتے بھائی نے تمہیں نہیں بتایا کے جس کی تم دلہن بنی ہوئی ہو اس پر میرا دل پہلے آیا تھا مینے پیار کیا تھا روحیل سے مینے یسرا نے چیخ کر اپنی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔
لاریب نے بے بسی سے یسرا کو دیکھا اسکی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے ۔۔۔۔
اب یہ مگرمچھ کے آنسو بہا کر تم کیا ثابت کرنا چاہتی ہو کے تم بے گناہ ہو نہیں لاریب بی بی نہی۔ ۔۔تم بھی سب کی طرح میری خوشیوں کی دشمن ہو سمجھی تم۔ یسرا نے انگلی سے سب کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا
لاریب کے آنسوں تیزی سے اسکے گالوں پر بہ رہے تھے ۔۔۔
یسرا میری بات سنو لاریب نے بھیگی آواز میں کہ کر یسرا کو شانو سے تھامنا چاہا ۔۔۔۔
یسرا دو قدم پیچھے ہٹی اور ہاتھ اٹھا کر لاریب کو روکا
لاریب نے آنسوں سے بھری آنکھوں سے زین کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں شکوہ تھا ۔۔۔۔
دور رہو مجھ سے تم سمجھی ؟؟؟
یسرا تم اپنی لمٹ کراس کار رہی ہو روحیل نے سرخ پڑتی رنگت سے یسرا کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
یسرا نے سرخ آنکھوں سے روحیل کی طرف دیکھا ۔۔۔
میں لمٹ کراس کار رہی ہوں روحیل ؟؟ او ر جو تم نے میرے ساتھ کیا وہ۔ کیا تھا کچھ بھی نہیں ؟؟؟ تم جانتے تھے کے میں تم سے پیار کرتی ہوں ۔۔۔میرا دل آیا تھا تم پ
ر پر تم نے ۔۔۔تم نے مجھے ریجیکٹ کر کے میری ہی بھن سے شادی کر لی اور اب تم یہ کہ رھے ہو کے مین لمٹ کراس کر رہی ہوں ؟؟؟ یسرا نے زور دے کر کہا ۔۔۔
پیار کا مطلب بھی سمجھتی ہو تم ؟؟؟ اپنی ضد کو تم پیار کا نام مت دو یہ لفظ تمہارے منہ سے اچھا نہیں لگتا مس یسرا ۔۔۔۔
اور تمہیں یہ خوش فہمی کیوں ہے کے میں تم کو اپنائونگا؟ ؟، یہ جانتے ہوے بھی کے تم نے ہم سب کے ساتھ کیا کھیل کھیلے ہیں ۔۔۔میری ایک بات کان کھول کر سں لو یسرا لاریب اب میری بیوی ہے اور اس سے کوئی اس لہجے میں بات کرے میں ہرگز برداشت نہیں کرونگا روحیل نے انگلی اٹھا کر وارن کرتے ہوے کہا ۔۔۔۔
یسرا نے ہنکارا بھرا ۔۔۔۔
ہونہ بیوی ؟؟ مائے فوٹ میں اس کی جان لے لوںگی جو بھی میرے راستے میں آیا میں سب کی جان لے لوںگی یسرا دیوانی لگ رہی تھی غصے میں وہ لاریب کی طرف بڑھی اور اس کا گلہ دونو ہاتھوں سے سختی سے دبوچ لیا لاریب بوکھلا گئی اس کی سانس اٹک نے لگی ۔۔۔
اگر روحیل میرا نہیں ہو سکتا تو میں اس کو تمہارا بھی نہیں ہونے دونگی ۔۔۔۔یسرا آپے سے باہر لگ رہی تھی زین بھرتی سے یسرا کی طرف بڑھا اور لاریب کو اس کی گرفت سے آزاد کیا
زین نے ایک زور دار تماچہ یسرا کے گال پر رسید کیا روحیل نے لڑکھڑاتی لاریب کو دونو بازوؤں سے تھام کر صوفے پر بٹھایا ۔۔۔۔حمنہ بیگم سب سکتے کی حالت مین دیکھ رہیں تھیں
مرہا تیزی سے زین کی طرف بڑھی اور اس کا بازو تھام کر زین کو روکا جو سرخ چہرہ لیے یسرا کو دیکھ رہا تھا
زین کیا کر رھے ہیں اپ جوان بہنو پر اس طرح کوئی ہاتھ اٹھاتا ہے کیا مرہا پریشانی سے زین کو سمجھانے لگی ۔۔۔۔
کیسی بھن مرہا ؟؟ یہ بھن جس کو یہ تک پتا نہیں کے لاریب اس کی سگی بہن ہے ۔۔۔۔کیسی بھن ہے یہ جو ہر کسی کو موت کے منہ میں ڈالنا چاہتی ہے یہ بھن ہے ایسی ہوتی ہیں بہنیں ؟؟؟ ہونہ بھن زین نے غصے سے چبا چبا کر انگلی سے یسرا کی طرح اشارہ کرتے ہوے کہا ۔۔۔۔
ہاں ہاں نہیں ہوں میں تمہاری بھن اور تم نے بھی تو یہ ثابت کر دیا کے تم بھی میرے بھائی نہیں ہو تم صرف لاریب سے پیار کرتے ہو مجھسے نہیں ؟؟ مجھسے کوئی پیار نہیں کرتا کوئی بھی نہیں آج اگر بابا ہوتے تو وہ یہ . سب نا ہونے دیتے پر تم نے یہ سب کر کے واضح کر دیا کے باپ باپ ہوتا ہے!! اور بھائی بھائی کہ کر یسرا روتی ہوئی اپنے کمرے کی۔ طرف بھاگی ۔۔۔۔
زین کے اس کی طرف دیکھ کر تھکی ہوئی سانس خارج کی اور سر دونو ہاتھوں میں گرا کر صوفے پر بیٹھتا چلا گایا ۔۔۔۔
مرہا نے زین کے بازو پر ہاتھ رکھا اور اس کو دلاسا دینے لگی ۔۔۔۔
سب ٹھیک ہوجاۓ گا زین آپ فکر نا کریں ۔۔۔۔
بھائی !!! سب میری وجہہ سے ہوا ہے مجھے اس شادی کے لیے ہاں ہی نہیں کرنی چاہیے تھی لاریب جو اب سمبھال چکی تھی زین کی طرف دیکھ کر بولی پھر وہ رونا شروع ہو گئی ۔۔۔۔
زین نے سر اٹھا کر روتی ہوئی لاریب کو دیکھا ۔۔۔۔پھر اٹھ کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔۔
تمہاری وجہہ سے کچھ بھی بھی ہوا لاریب جو ہوا ہے وہ سب ایسے ہی ہونا تھا تم یہ میں اس کو بدل نہیں سکتے میری جان زین نے لاریب کے دونو ہاتھ تھام کر کہا ۔۔۔
پر بھائی یسرا تو مجھے اپنا دشمن سمجھتی ہے نا لاریب کے آنسوں ہنوز بہ رہے تھے ۔۔۔
وہ تو ہم سب کو ہی اپنا دشمن سمجھتی ہے لیکن تم تو جانتی ہو نا کے وہ غلط سمجھ رہی ہے اس لیے تم یہ رونا بند کرو اور رلیکس ہو سب ٹھیک ہو جایگا زین نے لاریب کے آنسوں صاف کرتے ہوے قدرے نرمی سے اسے سمجھایا ۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے ہمیں اب چلنا چاہیے روحیل نے اٹھتے ہوے کہا ۔۔۔
لاریب اور زین بھی اٹھ کھڑے ہوے ۔۔۔۔
ہاں تم لوگ جاکر ریسٹ کرو ویسے بھی جو کچھ ہوا ہے بہت ہی غلط ہوا ہے مرہا نے روحیل کی طرف دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔
میں نہیں جاؤنگی روحیل میں یہیں رہنا چاہتی ہوں آج میں یسرا کی غلط فہمی کو۔ دور کرنا چاہتی ہوں لاریب نے منت بھرے لہجے میں کہا
روحیل نے گہری سانس لیکر زین کی طرف دیکھا اور جانے کے لیے مڑا ۔۔۔۔
زین نے لاریب کو دونو شانو سے تھاما
میں ہوں نا یہاں میں سب ٹھیک کر دونگا تم فلحال روحیل کے ساتھ جاؤ ۔۔۔۔سب مجھ پر چھوڑ دو تم ہم ۔۔۔۔
پر بھائی یسرا ؟؟؟ لاریب نے بات ادھوری چھوڑتے ہوے کھا ۔۔۔
مینے کہا نا میں سب سمبھال لونگا تم جاؤ فلحال زین نے لاریب کے کندھوں پر ذرا دباؤ دیتے ہوے کہا ۔۔۔۔
تمہارا بھائی ٹھیک کہ رہا ہے لاریب ہم سب ہیں نا یہاں اور تم جاؤ روحیل کے ساتھ مرہا نے کہ کر لاریب کو ساتھ لگایا ۔۔۔
سب ٹھیک ہو جایگا ۔۔۔۔زین نے لاریب کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا ۔۔۔۔
انٹی آپ فکر نا کریں میں آپ کی بیٹی کا پورا پورا خیال رکھوں گا روحیل گھٹنون کے بل بیٹھ گیا اور حمنہ بیگم کے ہاتھ تھام کر انھیں یقین دلایا ۔۔۔
اللہ‎ تمہیں بہت خوش رکھے بیٹا کہ کر حمنہ بیگم نے لاریب کو ساتھ لپٹایہ ۔۔۔۔
اللہ‎ تم دونو کو بہت خوش رکھے حمنہ بیگم نے لاریب کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی ۔۔۔۔
روحیل نے لاریب کا ہاتھ تھاما اور باہر چل دیا ۔۔۔۔
اب کیا ہوگا زین؟؟؟
مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے کہیں پھر سے یسرا کچھ کر نا دے ؟؟؟
یا خدا خیر کرنا مرہا پریشانی سے بول رہی تھی
میں ہوں نا سب ٹھیک ہو جایگا زین نے مرہا کو دلاسا دیا ۔۔۔۔۔
زین بیٹا تم جاکر بات کرو نا یسرا سے تمہیں تو پ تا ہے نا کے کتنی ضدی ہے کہیں ضد میں آکر اپنے آپ کو ہی کوئی۔ نقصان نا پوھنچا دے حمنہ بیگم نے قدرے پریشانی سے کھا ۔۔۔۔۔
زین کے قدم تیزی سے یسرا کے کمرے کی طرف بڑھے مرہا او ر حمنہ بیگم بھی ساتھ یسرا کے کمرے کی طرف بڑھے ۔۔۔۔
وہ جب یسرا کے رومکے پاس پوھنچا تو کمرہ اندر سے لاک تھا ۔۔۔۔
زین نے زور زور سے دروازہ پیٹا لیکن جواب ناداراد !!!
یسرا دروازہ کھولو زین کے بلند آواز میں کہ کر پھر سے دروازہ پیٹا
لیکن جواب ناداراد
اب زین کو بھی پریشانی ہونے لگی
زین دروازہ ٹور دیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے کہیں یسرا نے غصے میں خد کو ہی کوئی نقصان نا پوھنچایہ ہو مرہا نے زین کا بازو تھامتنے ہوے فکر مندی سے کہا ۔۔۔۔۔
کیسی لڑکی تھی وہ اس کے لیے پریشان ہو رہی تھی جس نے اس کی زندگی خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی آج وہ اسی کے لیے وہ پریشان ہو رہی تھی زین مرہا کو دیکھتا رہ گیا
زین بیٹا دروازہ توڑ دو اب مجھے بھی پریشانی ہو رہی ہے پیچھے سے حمنہ بیگم کی لرزتی ہوئی آواز میں کہا ۔۔۔
زین پیچھے ہوا اور زور سے دروازے کو ٹورنے لگا
دو تین کوششؤں کے بعد ہی دروازہ نیچے جا گرا ۔۔۔
لیکن اندر کا منظر دیکھنے کے بعد تینو نفوس کی رنگت فک ہو گئی جیسے کسی نے ان کا سارا خون نچوڑ لیا ہو
یسرا منہ کے بل زمین پر گری تھی اسکی کلائی سے بہت زیادہ خون رس رہا کمرے میں خون کی بوندیں گری ہوئیں تھی پاس ہی ایک بلیڈ پڑا ہوا نظر آیا ۔۔۔۔۔
یسرا زین کا سکتا ٹوٹا تو بھاگ کر یسرا کی طرف پوھنچا یسرا کا سر اس نے اپنی گود میں رکھا
زین نے یسرا کا چہرہ تھپ تھاپایہ ۔۔۔لیکن کوئی جواب نہیں آیا یسرا بیہوش ہو چکی تھی حمنہ بیگم نے اس کا ہاتھ سہلایا ان کی آنکھوں سے زار و قطار آنسوں بہ رہے تھے ۔۔۔
زین ہوش کریں جلدی سے یسرا کو ہسپتال لے جانا ہوگا جلدی اٹھیں ورنہ دیر ہو جاۓگی مرہا نے جلدی سے کہا ۔۔۔
زین نے یسرا کو بازوؤں میں اٹھایا اور بھاگتا ہوا باہر کی طرف پوھنچا
حمنہ بیگم اور مرہا زین کی طرف لپکیں
زین نے یسرا کو گاڑی میں ڈالا
انٹی آپ آگے بیٹھ جائیں میں پیچھے بیٹھتی ہوں مرہا جلدی سے دروازہ کھول کر پیچھے بیٹھ گئی اور یسرا کا سر اپنی گود میں رکھا پھر اپنا دوپٹہ پھاڑ کر یسرا کی کلائی پر زور سے باندھا خون اب تک بہ رہا تھا
زین نے زن سے گاڑی سٹارٹ کی ۔۔۔
مرہا دل ہی دل مب درود کا ورد کرنے لگی ۔۔۔۔
ٹھیک 15منٹ بعد وہ سب سٹی ہسپتال پوھنچے
زین نے پھر سے بازوؤں میں یسرا کو اٹھایا ۔۔۔
مرہا اور حمنہ بیگم نے بھی جلدی سے اسکی پیروی کی
خون زیادہ بہنے کی وجہہ سے ایمرجنسی وارڈ میں یسرا کو داخل کیا گیا تھا ۔۔۔۔
ڈاکٹر پلیز میری بہن کو بچا لیں ۔۔۔زین نے کانپتی ہوئی آواز میں ڈاکٹر سے کہا ۔۔۔
ہم پوری کوشش کرینگے ڈاکٹر پیشہورانا الفاظ کہ کر آگے بڑھ گایا زین پاس ہی میں رکھی ایک بنچ پر بیٹھ گیا اور سر دونو ہاتھوں میں گرا دیا
حمنہ بیگم بھی بیٹھ کر ذکر کرنے لگیں
ایمرجنسی وارڈ کا دروازہ بند تھا اور لال بلب جلتا رہا
زین نے بنچ کی پشت سے سر ٹکا لیا
ٹھیک آدھے گھنٹے بعد دروازہ کھلا اور ڈاکٹر باہر آیا
زین مرہا اور حمنہ ڈاکٹر کی طرف بڑھین
ڈاکٹر کیسی ہے میری بہن ؟؟؟ زین نے ڈاکٹر کو کندھوں سے تھام کر پوچھا ۔۔۔۔
مرہا نے حمنہ بیگم کا ہاتھ تھام کر دبایہ ۔۔۔
شی اس ناؤ آئوٹ اوف ڈینجر ۔۔۔۔ ڈاکٹر نے مسکرا کار کہا سب کے زبان سے الحمداللہ کے کلمات نکلے
لیکن پیشن کا خون کافی بہ چکا ہے ہمیں فورن o پازیٹو بلڈ کی ضرورت ہے جو کے ہمارے پاس فل وقت موجود نہیں ہے آپ جلدی سے o پازیٹو بلڈ کا ارینجمنٹ کریں۔۔۔
O پازیٹو ۔۔۔؟؟ میرا بلڈ گروپ تو o نیگیٹو ہے زین نے پریشانی سے ڈاکٹر کو۔ کہا ۔۔۔۔
ڈاکٹر آپ میرا بلڈ لے لیں میرا o پازیٹو ہے مرہا آگے ہو کر بولی زین نے چوںک کر مرہا کو دیکھا ۔۔۔
آپ آئیں میرے ساتھ نرس نے مرہا سے کھا
مرہا نے سر ہلایہ ۔۔۔۔
مرہا ۔۔۔۔!!! زین بس اتنا ہی کہ سکا
زین!! مرہا نے پلکوں کو جنبش دے کر زین کو دلاسا دیا ۔۔۔۔
اور نرس کے ہمراہ ہو لی ۔۔۔
زین کی نظروں نے تب تک مرہا کا پیچھا کیا جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نا ہو گئی ۔۔۔۔
بہت اچھی بچی ہے مرہا دیکھو نا جس نے اس کے ساتھ اتنا کچھ کیا اسی کی جان آج مرہا بچا رہی ہے اللہ‎ اسے ہمیشہ خوش رکھے حمنہ بیگم نے مرہا کو دعا دی ۔۔۔
زین کے دل میں آج مرہا کی محبت نے اور بھی شدت اختیار کار لی تھی ۔۔۔
کیا ہو تم مرہا !!! زین دل میں سوچتا رہ گیا ۔۔۔۔۔
یسرا کو بلڈ لگ چکا تھا لیکن وہ اس بات سے انجان تھی کے اس کی جان آج اس نے بچائی تھی جس کی وہ کبھی جان لینا چاہتی تھی ۔۔۔!!!
ٹھیک چار گھنٹے بعد یسرا کو ہوش آیا ۔۔۔
اس کی پلکیں بھاری ہو رہیں تھیں اس نے آہستہ آہستہ پلکیں کھولین تو سامنے ہی بیڈ کے قریب حمنہ بیگم اور زین بیٹھے ہوے تھے ۔۔۔۔۔
یسرا نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن کمزوری اتنی تھی کے اس کو چکر آنے لگے ۔۔۔۔
اٹھو مت بیٹا لیٹی رہو ۔۔۔۔حمنہ بیگم نے بہت ہی پیار سے اسے پہر سے لٹایہ ۔۔۔۔
مجھے یہاں کیون لاے آپ لوگ ؟؟؟ مجھسے تو کوئی پیار نہیں کرتا نا پھر کیوں بچایا مجھے یسرا نے بھیگی آواز میں کہا ۔۔۔۔وہ کبھی کبھی روئی نہیں تھی لیکن آج رو رہی تھی ۔۔۔۔
اچھا !!! تم نے کہا کے ہم تم سے پیار نہیں کرتے تو وہ سچ ہو گیا زین کے سختی سے کہا ۔۔۔۔ یسرا نے رخ موڑ لیا
چلے جاؤ سب یہاں سے مجھے نہیں بات کرنی کسی سے کوئی نہیں ہے میرا ۔۔۔۔۔!!!!
زین کے گہرا سانس لیا اور یسرا کے بیڈ کے ایک کونے پر بیٹھ کر یسرا کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔۔
یسرا !!! میری جان ہم سب تم سے بہت پیار کرتے ہیں ہم کوئی تمہارے دشمن نہیں ہیں بھلا اپنوں کا بھی کوئی دشمن ہوتا ہے کیا ؟؟ یہ سب تو تمکو لگتا ہے نا ہمارے دل میں تو ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔تم کب بڑی ہو گی یسرا ؟؟ کب تم ہونا بچپنا چھوڑو گی ؟؟؟
یسرا خاموش رہی ۔۔۔
یسرا بیٹا زین سہی کہ رہا ہے کچھ چیزیں ہمارے اختیار اور نصیب میں نہیں ہوتین لیکن کیا ہر بار ہم اس طرح اپنی چاہت کے مطابق نا ملنے والی چیزوں پر یوں خود کو نقصان دینگے ؟؟ نہیں بیٹا ایسا نہیں ہوتا ہمیں صبر کرنا ہوتا صبر سےاللہ‎ ہمیں بہتر عطا کرتا ہے ۔۔۔۔
یسرا جو ہوا وہ ہو چکا ہے تم کو یہ بات اکسپٹ کرنا ہوگی کے روحیل تمہارے نصیب میں نہیں تھا ۔۔۔۔اب تمہیں صبر کرنا ہے یسرا دوسروں کو تکلیف دینے سے تم کبھی خوش نہیں رہ پاوگی یسرا تم یہ بات یاد رکھنا ۔۔۔۔
یسرا کے آنسوں خاموشی سے بہنے لگے ۔۔۔
تم نے مجھے کیوں بچایا زین مجھے مر جانا چاہیے تھا میں بہت بری ہوں مجھے زندہ نہیں رہنا چاہیے ۔۔۔یسرا کی آواز میں ندامت تھی زین اور حمنہ بیگم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا یسرا ہنوز رو رہی تھی لیکن روحیل کے لیے نہیں اپنی خطائون پر اپنے گناہوں پر ۔۔۔۔۔
زین نے گہرا سانس لیا ۔۔۔۔
یسرا اگر ہم سے کچھ غلط ہو جاۓ تو اللہ‎ پاک نے ہمیں توبہ کرنے کا کہا ہے اسنے ہمارے لیے توبہ کی راہ ہموار کی ہے اللہ‎ نے یہ نہیں کھا کے اگر آپ سے غلطی یا پھر گناہ ہو جاۓ تو اپ اس پشتاوے میں اپنی جان لے لیں نہیں یسرا !! گناہ پر نادم ہونے سے اور اپنے کیے کی مافی مانگنے سے اللہ‎ معاف کر دیتا ہے لیکن پشتاوے کی وجہہ سے یوں اپنی جان لے لینے سے اللہ‎ مزید ناراض ہو جاتا ہے اگر تمہیں پشتاوا ہے تو تم اللہ‎ سے بھی مافی مانگی اور جس کے ساتھ تم نے غلط کیا ہے اس سے بھی ۔۔۔۔کہ کر زین خاموش ہو گیا
یسرا نے آنسوؤں سے تر چہرہ اٹھا کر زین کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
میں بہت بری ہوں زین اللہ‎ مجھے کبھی معاف نہیں کریگا ۔۔۔۔
یسرا اللہ‎ کہتا ہے کے اگر تم میرے بندے کے گناہ گار ہو تو پھیلے اس سے مافی مانگو پہر مجھسے ۔۔۔۔
مرہا کے ساتھ تم نے سب سے زیادہ غلط کیا ہے لیکن پھر بھی اس نے تمہاری جان بچائی ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کے اس کے دل میں تمہارے لیے کچھ نہیں ہے کوئی شکوہ کوئی شکایات نہیں ہیں اس لیے تم اس سے مافی ماں لو وہ تمہیں ضرور معاف کار دیگی ۔۔۔
میری جان مرہا نے بچائی ۔۔ یسرا نے اجنبہے سے حمنہ بیگم اور زین کی طرف دیکھتے ہوے پوچھا ۔۔۔۔
حمنہ بیگم نے سر ہلایہ تمہیں بلڈ مرہا نے دیا ہے بیٹا زین ٹھیک کہ رہا ہے اس کا دل بہت بڑا ہے وہ معاف کر دیگی بجٹ اچھی بچی ہے وہ ۔۔۔۔
مرہا کہاں ہے زین ۔۔۔۔۔؟؟ مجھے ملنا ہے اس سے …یسرا نے منت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔۔
زین نے سر کو اثنات میں جنبش دی اور روم سے باہر نکل آیا
یسرا چھت کو گھورنے لگی ۔۔۔۔اسے وہ سب یاد آ رہا تھا جو اس نے مرہا کے ساتھ کیا تھا اس نے کرب سے آنکھیں میچیں بدلے کی آگ میں انسان کیا کچھ نہیں کر گزرتا ۔۔۔۔۔۔
مرہا ۔۔۔زین مرہا کے بیڈ کے قریب بیٹھ کر بولا ۔۔۔۔
مرہا نے آنکھیں کھول کر زین کو۔ دیکھا پھر مسکرائی ۔۔۔۔
کیسی ہے اب یسرا ؟؟؟
اللہ‎ کا شکر ہے بلکل ٹھیک زین نے مرہا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر اسے اپنے لبوں سے لگایہ ۔۔۔۔
مرہا یسرا نے تمہارے ساتھ جو بھی کیا کیا تم اس سب کے باوجود اس کو معاف کر سکتی ہو زین نے سوالیہ نظروں سے مرہا کی طرف دیکھتے ہوے پوچھا ۔۔۔
مرہا نے گہرا سانس لیا
اگر اللہ‎ پاک ہمارے ساری عمر کے گناہ صرف ایک بار معافی مانگنے سے معاف کر دیتا ہے تو پھر ہم انسان کیوں معاف نہیں کر سکتے یسرا نے جو کیا وہ سب ایسے ہی ہونا لکھا تھا زین مجھے اس سے کوئی گلا نہیں ہے مینے اس کو معاف کر دیا ہے مرہا ہلکا سا مسکرائی ۔۔۔
تم بہت اچھی ہو مرہا زین نے محبت سے اسکی تعریف کی ۔۔۔۔
آپ بھی بہت اچھے ہیں زین مرہا پھر سے مسکرائی !!!
یسرا تم سے ملنا چاہتی ہے کیا تم ملوگی ؟؟؟ اس سے ۔۔۔
مرہا کے سراثبات میں ہلایہ
کچھ دیر بعد یسرا کے روم کا دروازہ کھلا پہلے زین اندر آیا پھر مرہا !!!
مرہا یسرا کے بیڈ کے ایک کونے پر بیٹھ گئی
کیسی طبیت ہے اب تمہاری ؟؟؟
مرہا نے قدرے نرم لہجے میں پوچھا ۔۔
یسرا کی آنکھیں بھر آئین ۔۔۔
وہ خاموشی سے مرہا کو دیکھنے لگی آنکھوں میں آنسوں لیے ۔۔۔۔
مرہا نے اس کے ہاتھ پر دھیرے سے اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔
مجھر معاف کر دو مرہا مینے تمہارے ساتھ بہت بہت غلط کیا میں جانتی ہوں میرے گناہ معافی کے لائق نہیں ہیں لیکن پھر بھی تم مجھے معاف کردو
یسرا تم اس طرح مت روو تمہاری طبیت خراب ہو جاۓگی مرہا نے اٹھ کر یسرا کے آنسوں صاف کیے یسرا نے مرہا کا ہاتھ سختی سے پکڑ لیا ۔۔۔
تم مجھے معاف کر دوگی نا مرہا ۔۔۔امی کہتی ہیں کے تم بہت اچھی ہو اور جو اچھے ہوتے ہیں وہ معاف کر دیتے ہیں ہے نا ۔۔۔؟؟؟ پھر تم مجھے معاف کردو نا مرہا
مرہا نے مسکرا کر یسرا کی طرف دیکھا وہ بہت معصوم لگ رہی تھی ۔۔۔۔
مینے تمہیں معاف کر دیا ہے تم اب ٹینشں مت لو جب اللہ‎ تمہیں معاف کرنے کے لیے تیار ہے تو میں معاف نا کرنے والی کون ہوتی ہوں مجھے تم سے کوئی گلا نہیں ہے یسرا ۔۔۔۔
تھنک یو مرہا تم سچ میں بہت اچھی ہو ۔۔۔۔
لاریب نہیں آئ زین حمنہ بیگم نے زین سے پوچھا ۔۔۔۔
جی امی اصل میں مینے نہیں بتایا ان۔ کو ۔۔۔۔اس لیے وہ نہیں آئ ۔۔۔۔
مجھے لاریب سےملنا ہے امی پلیز اس کو یہاں بلوا لیں یسرا نے معصوم بچے کی طرح ضد کی ۔۔۔
حمنہ بیگم نے زین کی طرف دیکھا
زین نے سر کو خم دے کر موبائل نکالا اور روحیل کا نمبر ملانے لگا رابطہ ملتے ہی اس نے ساری صورتحال بتا کر موبائل جیب میں رکھ دیا ۔۔۔۔
آ رہی ہے لاریب تم تب تک یہ سوپ پی لو بیٹا حمنہ بیگم نے سوپ کا پیالہ آگے بڑھاٹی ہوے کہا ۔۔۔
تم پلادو نا مرہا ۔۔۔۔۔
مرہا نے مسکرا کر سوپ کا پیالہ تھام لیا اور یسرا کو سوپ پلانے لگی ۔۔۔۔۔یسرا کا دل بہت مطمئن ہو گایا تھا مرہا واقعی بہت اچھی تھی ۔۔۔
آدھے گھنٹے بعد دروازہ کھلا تو لاریب اندر داخل ہوئی
امی کیا ہوا ہے یسرا کو ۔۔۔
لاریب یسرا کے واس بیٹھ گئی
یسرا تم ٹھیک ہو لاریب نے فکر مندی سے پوچھا
ارے کچھ نہیں ہوا مجھے ٹھیک ہوں میں یسرا جو ٹیک لگائے بیٹھی تھی لاریب کے یوں پریشان ہونے پر مسکرا کر بولی
تمسچ میں ٹھیک ہو نا یسرا ؟؟؟ لاریب اب بھی پریشان لگ رہی تھی
میں ٹھیک ہوں لاریب ۔۔۔۔میں تم سے مافی مانگنا چاہتی ہوں مینے تمہارے ساتھ بھی بہت غلط کیا تم مجھے معاف کردو ۔۔۔۔
لاریب نے پہلے یسرا پھر حمنہ کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
تم ٹھیک ہو نا یسرا لاریب کو یسرا کی بات پر شعبہ ہوا ۔۔۔
ہاں میں ٹھیک ہوں تم مجھے معاف کر دوگی نا ؟؟؟
لاریب خاموشی سے یسرا کو دیکھنے لگی حمنہ بیگم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
لاریب کی آنکھوں سے نمی جھلکنے لگی ۔۔۔۔
اس نے دھیرے سے سر ہلا دیا ۔۔۔
یسرا نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔
تم بھی مجھے معاف کر دو روحیل تمہاری بھی گناہ گار ہوں میں ۔۔۔یسرا نے سر جھکا کر کہا ۔۔۔۔
اٹس اوکے اگر باکی سب نے تمہیں معاف کر دیا ہے تو میں بھی تمہیں معاف کر دیتا ہوں روحیل نے نرم لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔
یل سال بعد ۔۔۔۔
مرہا دیکھو نا اس کی آنکھیں کتنی پیاری ہیں اور اس کی ناک یہ تو بلکل میرے ناک پر گئی ہے یہ کتنا پیارا ہے نا ایک دم میری طرح بلکل میرے جیسا ھے یہ تو پھوپھو کی یسرا نے چھوٹے سے ارسلان کو باہوں میں اٹھاتے ہوے کہا
سب اس کی بات پر ہنس دئے ۔۔۔۔۔
روحیل کے یہاں بیٹی اور زین کے یہاں بیٹا پیدا ہوا تھا
مرہا دیکھو یہ بلکل تمہاری طرح رو رہی ہے روحیل کے چھوٹی سی نور کو اپنی باہوں میں اٹھاتے ہوے کہا ۔۔۔۔
مرہا نے منہ پھلیہ ۔۔۔۔سب اس کے ریایکٹ پر ہنس دئے ۔۔۔۔
سب ہی کے چہرے پر خوشی ہی خوشی تھی بالا خیر غموں کے موسم نے ان کی زندگی سے رخصتی لے لی تھی

 

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: