Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 1

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 1

–**–**–

یہ ہے سن 1986 اور یہ اندھیرے میں ڈوبا دنیا پور کے قریب کا ایک نواحی گاٶں مٹھن ہے ، جہاں کچی مٹی کی دھول اُڑاتی من من مٹی سے بھری گلیوں میں کچے مکان زیادہ اور پکے مکان کم ہیں پر انہی مکانوں میں اونچاٸ پر رکھ کر بناٸ گٸ ایک حویلی حاکم قصر کے نام سے مشہور پورے گاٶں میں اپنی مثال آپ ہے ۔
یہ خوبصورت شاہی طرز کی حویلی گاٶں کے لمبردار اور ناٸب ناظم چوہدری حاکم دین کی حویلی ہے اگرچہ بجلی تو گاٶں کے بیشتر گھروں میں گزشتہ تین برس سے آ چکی تھی پر پھر بھی اکثر جب جاتی تو پھر دورانیہ کٸ گھنٹوں سے کبھی کبھار دنوں پر مشتمل ہو جاتا تھا ۔
حاکم قصر کا لکڑی کا بنا پھاٹک نما گیٹ بہت بڑا تھا جس کے دونوں پٹ تو کبھی سالوں بعد حویلی کی کسی بڑی تقریب پر ہی کھلتے تھے اس کے باہر لمبی راہداری کے گرد بڑے بڑے مہمان خانے تھے جہاں چوڑے پاۓ والی اور موٹے بانس والی چارپاٸیاں جگہ جگہ سجی تھیں جہاں دن میں حاکم دین سے ملنے ملانے والوں کو ہجوم لگا رہتا تھا ۔
اس راہداری سے اور کھلے برانڈوں کے مہمان خانوں سے آگے داخلی بھورے رنگ کا بڑا پھاٹک تھا جس پر لوہے کے بڑے بڑے ابھار تھے اس میں داخل ہونے کے لیے ایک چھوٹا سا گیٹ رکھا گیا تھا جو صبح روشنی پھیلنے سے قبل فجر کی اذان کے ساتھ ہی کھل جاتا تھا اور پھر مغرب کے بعد اندھیرا ہونے اور تمام مکینوں کے گھر آ جانے پر بند ہوتا تھا ۔
گیٹ کھلتے ہی سرخ اینیٹوں کی قدرے چوڑی روش تھی جو ایک گیلری کی صورت میں گھر کے اندر پردہ پڑنے کی غرض سے رکھی گٸ تھی اس سے آگے گزرتے ہی ایک کشادہ سرخ اینٹوں کا صحن تھا ۔
اینٹوں کی رگڑاٸ اس سلیقے سے کٸ گٸ تھی کہ کوٸ اینٹ بھی اونچی نیچی نہیں تھی ۔ صحن میں تین جگہ بڑے بڑے درخت تھے دو نیم کے اور ایک پیپل کا ، درختوں کے پیچھے اینٹوں کو تکون رخ زمین میں گاڑ کر باڑ کی شکل دی گٸ تھی اور پیچھے لان بنایا گیا تھا جہاں گھاس کے بجاۓ زیادہ سبزیاں ہی اُگی ہوٸ تھیں ۔
صحن کے بلکل وسط میں ایک بڑا سا فوارہ تھا جس میں اس وقت ایک بڑی سی لالٹین لٹک رہی تھی ۔ یہ قندیل حویلی کی سب سے بڑی قندیل تھی اس لیے مغرب کے بعد اندھیرا ہوتے ہی تاری بوا اس کو فوارے کی نوک کے ساتھ لٹکا دیتی تھی ۔ قندیل کے گرد مچھر اور پتنگے قندیل کے بند شیشے سے ٹکرا کر فوارے کے خالی فرش پر گر رہے تھے ۔
تاری بوا حویلی کی پرانی ملازمہ تھی جو اپنی دو بیٹیوں ، شمو اور سکینہ کے ساتھ حویلی کے پچھلے حصے میں ڈالے گۓ چھوٹے سے کچے مکان میں رہتی تھی جہاں وہ بس سونے کی غرض سے ہی جاتی تھی باقی کا سارا وقت تو یہیں حویلی میں گزرتا تھا ۔
فوارے پر لٹکتی لالٹین کی روشنی لگ بھگ پورے صحن کو روشن کرتی تین زینے کی اونچاٸ پر کمرے کے آگے بنی لمبی اٹاری کو بھی روشن کیے ہوۓ تھی ۔
زینے چڑھ کر لمباٸ رخ بنی اس لمبی دہلیز میں حویلی کے تمام مکینوں کے کمرے تھے ۔ اور اٹاری کے دونوں اطراف چھت کو جاتے زینے تھے ۔
چوہدری حاکم دین جدی پشتی زمیندار اور لمبردار تھے ۔ پاک و ہند کی تقسیم کے وقت وہ ان خوش قسمت مسلمانوں میں شمار ہوۓ تھے جو پہلے سے ہی پاکستان کے رہاٸیشی تھے ۔
ہندوستان کو ہجرت کر جانے والے مٹھن گاٶں کے ایک خاندان کے تمام افراد ہلاک ہو گۓ تھے مسواۓ ایک بارہ سالہ بچی کے جسے اس وقت چوہدری حاکم کے والد اپنے ساتھ گھر لے آۓ تھے اور پھر اسے داٸرہ اسلام میں لانے کے بعد اسے خدیجہ کا نام دے کر اپنے اکلوتے سپوت حاکم دین کی زوجیت میں دے دیا تھا ۔
چوہدری حاکم نے خدیجہ کے بعد اپنی سابقہ مینگیتر عصمت آرا سے بھی شادی کی تھی جو ایک بیٹے نوازش کی پیداٸش کے بعد ہی انتقال کر گٸ تھی ۔ خدیجہ سے چوہدری حاکم کے تین بچے تھے ۔ جن میں سے بڑا بیٹا نقیب حاکم ، عصمت آرا کی کوکھ سے جنم لینے والے نوازش حاکم سے بڑا تھا ۔ خدیجہ کے سب سے بڑے بیٹے نقیب حاکم کے بعد دو بیٹیاں ، اریب اور زیب تھیں ۔
اگلی پیڑھی میں نقیب حاکم کے تین بچے تھے جن میں تقی نقیب سب سے بڑا تھا اس سے چھوٹی منہا نقیب اور سب سے چھوٹا بیٹا نقی نقیب تھا ۔ نوازش حاکم کی تین بیٹاں رمنا ، مالا اور رملا تھیں ۔ خدیجہ بیگم کی بڑی بیٹی اریب بیگم بھی شروع سے اپنے شوہر سمیت حویلی میں ہی رہتی تھیں جن کے دو بچے تھے بیٹی فرزانہ اور بیٹا فرہاد ۔
سرخ اینٹوں کے اس بڑے سے صحن کے اوپر چڑھتے ہی یہ لمبی اٹاری جس میں ایک کے بعد دوسرا کمرہ تھا اس کا فرش اس وقت کے جدید چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے پتھروں کا بنا تھا اور فرش پر جگہ جگہ پتھروں کو مختلف پھولوں کی صورت بنایا گیا تھا ۔ اس اٹاری میں کل ملا کے سات ستون تھے جو گول تھے اور گھر کے بچے اکثر ان کے گرد باہیں ڈال کر جھولتے پاۓ جاتے تھے ۔
ان سارے کمروں کے کواڑ کے آگے سفید رنگ کے ململ کے پردے ڈالے گۓ تھے اور دو پٹ والے لکڑی کے کواڑ اندر کو کُھلتے تھے ۔ اس وقت رات کے آٹھ بج رہے تھے اور یہ وقت مسواۓ تقی نقیب کے حویلی کے تمام مکینوں کے لیے آدھی رات کا وقت تصور کیا جاتا تھا اس لیے سب خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے ۔
تقی نقیب کے کمرے کے کواڑ پر جھولتا ململ کا سفید پردہ پیلی روشنی میں نہایا ہوا تھا ۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی ایک لکڑی کے پلنگ کے ساتھ کرسی اور میز رکھی گٸ تھی میز پر نہایت سلیقے سے کتابیں سجی تھیں اور وہیں بڑی سی موم بتی جل رہی تھی اور خود انیس سالہ میاں تقی نقیب کرسی پر براجمان اپنی کتاب پر سر جھکاۓ بیٹھا تھا ۔
سفید کرتا جس کے گلے پر تار کشی تھی پہنے ہوۓ سلیقے سے بال بناۓ ہلکی سی مونچھوں والا تقی خاندان بھر میں ایک ذہین و فطین اور میٹرک کے بعد تعلیم حاصل کرنے والا واحد چشم و چراغ تھا ۔ وہ پڑھاٸ کا اتنا شوقین تھا کہ میٹرک کے بعد اب آگے تعلیم کے لیے گاٶں سے شہر جاتا تھا ۔
وہ اریب پھپھو کی بیٹی فرازنہ کو چھوڑ کر عمر میں گھر کے تمام بچوں سے بڑا تھا ، سنجیدہ مزاج ہر وقت پڑھاٸ میں ڈوبا تقی نقیب صبح کالج کے لیے نکلتا اور پھر شام عصر کے وقت واپس آتا تھا ۔ اور پھر رات نو بجے تک وہ جاگ کر پڑھتا تھا۔
اب بھی وہ کتاب پر جھکا محو تھا جب کواڑ کے پردے کے پیچھے سایہ لہرایا اور پردہ دھیرے سے ہلا تقی نے ذرا کی ذرا گردن کو خم دیا ۔
” آ جاٶ ۔۔۔۔ “
بھاری سی مردانہ آواز اس کی بارعب شخصیت کا خاصہ تھی ، پردے کے پیچھے کا سایہ پردہ سِرکا کر نمودار ہوا ۔ رمنا کتاب سینے سے لگاۓ کھڑی تھی ۔
رمنا نوازش ، نوازش کی سب سے بڑی بیٹی جس کی عمر لگ بھگ پندرہ برس تھی ، رمنا کی پیداٸش کے بعد حویلی کے حالات میں سوتیلے بھاٸیوں کے درمیان کشیدگی کے باعث ایسا بھونچال آیا تھا کہ نوازش حاکم ناراض ہو کر حویلی اور اپنی بیوی بچی چھوڑ کر چلے گۓ تھے اور پھر آٹھ برس بعد جب گھر لوٹے تو چوہدری حاکم نے دونوں بھاٸیوں کی سنگینی ختم کرنے کے لیے تقی اور رمنا کی نسبت طے کر دی تھی ۔ نسبت کی یہ تقریب حویلی کی سب سے شاندار تقریب تھی ۔ تقی کو نا صرف خود پڑھنے کا شوق تھا بلکہ گھر بھر کی نٸ پیڑھی کو وہ اپنے جدی پشتی رسم و رواج سے نکالنے کے لیے پڑھانا چاہتا تھا ۔ اور اب یہی وجہ تھی اس سے چھوٹی رمنا جس کو چوہدری حاکم کے حکم پر آٹھویں جماعت کے بعد ہی گھر بیٹھا لیا گیا تھا اب تقی نقیب نے اسے میٹرک کروانے کی ٹھان لی تھی ۔
رمنا کتاب کو سینے سے لگاۓ آگے بڑھی اور پھر گردن موڑ کر پیچھے دیکھا غزالہ بیگم دروازے کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ رہی تھیں ۔
” بولو تیاری کیسی ہے پیپر کی ؟ “
تقی نے اپنے سامنے کھلی کتاب کو بند کیا اور پریشان سی کھڑی رمنا کی طرف دیکھا ۔ جس کے چہرے پر رقم تاثر صاف صاف بتا رہے تھے کہ وہ صرف تقی کی ضد پر آگے تعلیم جاری کٸیے ہوۓ ہے ۔
”ہاں کر لیا ہے ، تقی سنو دا جی کو کیا حویلی میں کسی کو خبر تک نہیں کہ میں نویں جماعت کے امتحان میں بیٹھنے لگی ہوں ، کیا یہ سب ٹھیک ہے مجھے تو رہ رہ کر ڈر آتا ہے “
رمنا نے بچارگی سے سامنے کرسی پر بیٹھے تقی کی طرف دیکھا ، تقی نے اس کے روز کے بولے ہوۓ راگ پر غصے سے گھورا
” پڑھنے کا شوق ہے نا بولو پھر کیوں ڈرتی ہو ، تم فکر نا کرو بس چچی جان کو کہنا وقت پر سارے کام نمٹا لیں اور تیار رہنا تم لوگ “
تقی نے ماتھے پربل ڈالے اسے صبح جانے کا سارا منصوبہ گوش گزار کیا ۔ گاٶں کا سکول مڈل تک تھا جس کی وجہ سے میٹرک کے امتحان دینے کے لیے اس کا سینٹر پاس کا گاٶں بنا تھا ۔
” بہادر کو کیا کہیں گے بولو ، تقی کیوں پنگے لے رہے ہو سب سے اور پھر یہ بھی تو دیکھو کہ پیپر کوٸ ایک روز تھوڑی نا ہے “
رمنا نے بچارگی سے اس کی طرف دیکھ کر اور ڈراٸیور کا نام لیا جو روز تقی کو شہر کالج لے کر جاتا تھا اور پھر واپس لاتا تھا ۔
” پنگے نہیں لے رہا ہوں بس تمہیں پڑھانا چاہتا ہوں تم اچھی ہو پڑھاٸ میں نہیں چاہتا حویلی کے ماحول میں پس کر ان پڑھ رہ جاٶ “
تقی نے فکر مندی سے کہا
” تم بہت عجیب ہو تقی ، سنو اماں مجھے کہہ رہی تھیں تقی کو اتنا ہی شوق ہے تمہیں پڑھانے کا تو شادی کے بعد پڑھا لے گا کچھ سالوں میں شادی تو ہو ہی جاۓ گی تم دونوں کی “
رمنا نے پھر سے منت سماجت کے لہجے میں اس سےگزارش کی۔
” نہیں ۔۔۔۔ کل ہم پیپر دینے جا رہے ہیں بس اور اگر تمہیں اپنی من مانی کرنی ہے تو کرو میں ویسے بھی ہوتا کون ہوں تمھارا “
تقی نے پل بھر میں منہ پھلا لیا تھا ، غصہ تو جیسے ناک پر دھرا رہتا تھا جناب کے اور بغاوت تو وہ جیسے لے کر پیدا ہوا تھا خون میں ۔
” اچھا بابا دے رہی ہوں پیپر ، ناراض تو مت ہو ، بس جلدی سے یہ تھوڑا سا سمجھا دو اماں کو آج نیند بہت آ رہی ہے زیادہ دیر باہر نہیں بیٹھیں گی “
رمنا نے کتاب کھول کر میز پر رکھتے ہوۓ کہا ، تقی نے ماتھے پر پڑے بل سیدھے کیے اور کتاب کو اپنی طرف گھسیٹا اسی طرح وہ پورا سال رات کو چھپ کر تقی سے پڑھتی رہی تھی اور غزالہ اس سب اس کا ساتھ دیتی تھی ۔اس وقت بھی وہ کمرے کے باہر پڑی لکڑٸ کی کرسی پر اونگھ رہی تھی ۔
*********
تاری تھپ تھپ بھاگتی صحن میں آٸ تھی اور پھر فوارے کے گرد پانچ سالہ ننھے سے وجود کے پیچھے بھاگ رہی تھی ۔ وہ بالوں کی دو چٹیا لہراتی پھرتیلی سی لڑکی پورے صحن میں تاری کو اپنے پیچھے بھگاۓ ہوۓ تھی ، دونوں ہاتھوں کی بند مٹھیوں کو زور سے بند کر رکھا تھا جس سے چینی کے ذرے زمین پر گر رہے تھے ۔
” شمو پکڑ اس بد ذات کو ۔۔۔۔ مجھ سے نہیں پکڑی جاتی یہ آفت “
تاری بوا نے صحن میں بنے چبوترے پر برتن دھونے کے لیے بیٹھی اپنی بیٹی کو آواز لگاٸ جو پہلے ہی اس سارے منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی اور یہ سب تو آۓ دن کا ماجرا تھا اس گھر میں ، تاری کے غصے سے گھورنے پر شمو ایک جھٹکے سے اپنے دوپٹے سے ہاتھ پونچھتے ہوۓ اٹھی ۔
” ارے تاری بوا کیوں واویلا مچا رکھا ہے صحن میں سویرے سویرے ، چاشت کی نماز بھی ڈھنگ سے نا پڑھنے دی “
خدیجہ بیگم اپنا پان دان سنبھالے اٹاری کے ستون کے پاس آٸیں ، اور صحن میں چیختی ہانپتی تاری کو دیکھ کر ہانک لگاٸ ۔ آج جمعہ کا دن تھا اور گھر میں مرد حضرات کے آ کر جمعہ کے لیے غسل کرنے سے پہلے ہی کام نمٹانا ہوتا تھا پر یہاں تو کام بڑھ گیا تھا ۔
” بی جی مت پوچھیے اس آفت کی پر کالا نے آج پھر چینی کی صندوقچی پر حملہ کر دیا ، پتہ نہیں نگوڑی کیا کرتی ہے صندوقچی الٹ ڈالی سارا باورچی خانہ چینی کا ریگستان بنا ہوا ہے “
تاری بوا نے روہانسے لہجے میں ہاتھ مڑوڑتے ہوۓ خدیجہ بیگم سے اپنی پریشانی کا اظہار کیا ۔
” کس نے مالا نے ؟ ۔۔۔۔ ہاۓ ۔۔۔۔ ستیاناش ، چھوٹی بہو۔۔۔۔۔ چھوٹی بہو ۔۔۔۔ “
خدیجہ بیگم نے خود ہی سوال کا جواب دے کر غزالہ کو اونچی آواز میں ہانک لگاٸ ۔ پیتل کی صندوقچی میں تقریباً چھ ماہ کی چینی بھر دی جاتی تھی جسے ایک لوہے کے بنے جنگلے پر رکھ دیا جاتا تھا ۔
مالا میٹھے کی بے حد شوقین تھی وہ جو جنگلے پر پاٶں دھر کر صندوقچی کو کھول رہی تھی تو صندوقچی ہی الٹا ڈالی
” آٸ بی ۔۔۔ جی ۔۔۔ “
غزالہ حواس باختہ بغل میں رملا کو دباۓ کمرے سے باہر آٸ تو سامنے اٹاری میں لگے تخت کی طرف بڑھتی خدیجہ بیگم نے شکن آلودہ پیشانی کے ساتھ گھورا
” جی ۔۔۔ کیا ہوا بی جی “
غزالہ کا اوپری سانس اوپر اٹک گیا تھا ، خدیجہ بیگم اتنے غصے میں جب آتی تھیں تو پھر سمجھو کسی کی شامت تو پکی تھی ۔
” یہ لڑکیوں کی بس فوج ہی پیدا کرنی آوے ہے تجھے سنبھالنا نہیں آتا کا ، “
خدیجہ بیگم اتنے غصے سے چیخ رہی تھیں کہ پان منہ کے کناروں سے باہر کو نکلنے لگا تھا ۔
” کیا ۔۔۔۔کیا ؟ ۔۔ مالا نے “
غزالہ نے چھاتی پر ہاتھ دھرے رونے جیسی صورت بناٸ ، آۓ دن کوٸ نیا تماشہ اس لڑکی کا ہی ہوتا تھا اس لیے بن بتاۓ ہی وہ سمجھ گٸ تھی یہ حرکت اس کی منجھلی بیٹی مالا کی ہے ۔
”چینی کی بھری مٹَی الٹ دی ہے ، جا کر دیکھ لو باورچی خانہ اگر یقین نا آۓ مجھ قسمت ماڑی پر “
تاری بوا تو دل برداشتہ ہوۓ کھڑی تھیں ، ہوتی بھی کیوں نا اب ساری صاف صفاٸ انہیں ہی تو کرنی تھی اور ساتھ باقی کام بھی
” اب کہاں کو گٸ ہے ، تاری بوا وہ “
غزالہ کی سہمی سی آواز نکلی تھی ۔ اور آنکھیں چرا کر آگ بگولہ کھڑی خدیجہ بیگم کو دیکھا
” شمو پیچھے بھاگی ہے پر کہاں ہاتھ آنے کی برساتی پر چڑھ گٸ ہو گی “
تاری بوا نے چھت کی طرف اشارہ کیا ، غزالہ تیزی سے برانڈے کے زینے اترتی تاری بوا تک آٸ
” تاری بوا یہ رملہ کو گود میں لینا کچھ دیر کو ، میں دیکھتی ہوں اس کو “
غزالہ نے دھپ سے دو سالہ رملا کو تاری بوا کے بازو پر دھرا اور خود تیزی سے زینے کی طرف بھاگی تھی چہرہ غصے سے لال بھبوکا ہو رہا تھا جیسے آج تو مالا کو جان سے ہی مار ڈالے گی ۔
” مالا ۔۔۔۔۔ مالا ۔۔۔ “
زینہ چڑھتے ہی اوپر چھت پر آ کر چیختی ہوٸ چھت کی برساتی کے قریب کھڑی شمو کی طرف بڑھی ۔ شمو بھی سورج کی روشنی سے بچنے کو ماتھے پر ہاتھ کی آڑ بناۓ برساتی کی طرف چہرہ اوپر کیے کھڑی تھی اور وہ پورے گھر کو سویرے ہی پریشانی میں ڈالے اب برساتی پر کھڑی شمو کو زبان نکال رہی تھی ۔
” اففف مالا اتر نیچے ۔۔۔ “
غزالہ نے گال پھاڑ کر کہا اور بازو لمبے کیے اسے نیچے آنے کا اشارہ کیا ۔ دور دھوپ میں بیٹھی رمنا بھی اب گردن اچک اچک کر تماشہ دیکھ رہی تھی ۔ وہ چھپ کر اوپر پڑھنے کو بیٹھی تھی ۔ وہ نویں جماعت کے امتحان دینے اور پاس ہونے میں کامیاب ہو گٸ تھی اور اب دسویں جماعت کی تیاری کر رہی تھی ۔
” اماں آپ ماریں گی میں نیچے نہیں آٶں گی “
باریک سی آواز میں وہ نیچے آنے سے انکار کیے مٹھی کو منہ تک لے جا کر چینی چاٹ رہی تھی ۔ رمنا کتابیں تکیے کے نیچے چھپا کر اٹھی ۔
” جب کام ایسے کرے گی تو مار تو کھاۓ گی نا اتر جا نیچے مجھ سے کھا لے نہیں تو شام کو اپنے ابا سے کھاۓ گی “
ٗغزالہ غصے کے مارے دانت کچکچا رہی تھی ۔ رمنا اب ان کی طرف آ رہی تھی اور بانس کی بنی کچی مٹی کے لیپ والی برساتی پر کھڑی مالا زور زور سے نفی میں گردن ہلا رہی تھی ۔
” اچھا اماں پیچھے ہو کر کھڑی ہو تھوڑا پھر اترتی ہوں “
مالا نے بلا کی معصومیت چہرے پر طاری کیے اپنی خواہش ظاہر کی۔ غزالہ نے ایک نظر مالا کی طرف دیکھا پھر سر ہلا کر شمو کی طرف دیکھا
” شمو اب کے بھاگنے نا پاۓ وہاں زینے کے آگے کھڑی ہو جا ذرا ، آج تو میں اس کمبخت ماری کا گلا ہی دبا دوں گی“
غزالہ نے شمو کو آہستہ آواز میں حکم دیا اور پھر خود مالا کے کہنے کے مطابق کچھ فاصلے پر کھڑی ہو گٸیں ۔
” جی باجی جی ۔۔۔“
شمو فوارً حکم کی تعمیل کرتی زینے کی طرف چل دی ۔ مالا جو اترنے کے لیے قدم بڑھا رہی تھی شمو کو زینے کی طرف جاتا دیکھ کر پھر رک گٸ ۔
” مالا اتر نیچے ۔۔۔۔ “
غزالہ اس کے رک جانے پر پھر سے چیخی تھی سانس غصےسے تیز تیز اندر باہر انڈیل رہی تھی
” اماں تو مارے گی جانتی ہوں میں “
مالا نے کمر پر ہاتھ دھرے تیکھی سی آواز میں کہا وہ ماں کے تیور بھانپ گٸ تھی ۔ اور پھر سے مٹھی میں بھری چینی کو منہ میں ڈالا
” اماں کیا شور ڈالا ہے ، پتا بھی ہے یہاں چھپ کر پڑھتی ہوں میں “
رمنا نے قریب آ کر ماں کے کان میں سرگوشی کی تھی ۔
” ارے پتا ہے سب پر یہ منحوس ماری ناک میں دم کیے رکھتی ہے پہلے بیٹیوں کی لاٸن لگانے کے طعنے ملتے ہیں اوپر سے یہ جان کا عزاب بن بیٹھی ہے “
غزالہ نے سوکھے ہونٹوں پر تاسف سے زبان پھیرتے ہوۓ دکھڑا رویا
” مالا نیچے آ مت تنگ کر اماں کو اچھی بہن ہے نا میری “
رمنا نے پچکارا
” آپا اماں بہت پیٹے گی “
مالا نے تیکھی سی آواز میں انکار کیا اور گردن زور زور سے نفی میں ہلا دی
” نہیں پیٹے گی میں ہوں نا “
رمنا نے لاڈ سے کہا
” رمنا اوپر جا کر لے کر آ اسے یہ ایسے ہاتھ نہیں آنے کی میرا تو بلڈ چڑھ رہا ہے “
غزالہ نے سر پر ہاتھ دھرے ضبط سے کہا
” مالا نیچے آ جا شاباش نہیں مارتی اماں ، میں بچاٶں گی تمہیں “
رمنا نے برساتی کے ستون سے نکلی اینٹوں پر قدم رکھے تھوڑا سا اوپر ہو کر مالا کو پچکارا ۔ مالا نے ننھی سی مٹھی میں بند چینی منہ میں ڈالی اور ہاتھ جھاڑے بنا رمنا کی طرف بڑھا دیے ۔
رمنا نے جیسے ہی اسے نیچے اتارا غزالہ نے اسے گردن سے ہی دبوچ لیا پھر تو پاٶں کی چپل اتارے اسے پیٹتے ہوۓ نیچے آ رہی تھی سارا غصہ اسی پر تو اتارنا تھا اور وہ بھی اب گلا پھاڑ پھاڑ کر رو رہی تھی ۔
اس کے گلا پھاڑ کے رونے کا یہی تو فاٸدہ ہوا اسے ، تقی نیند سے جاگ کر صحن میں آیا تھا ۔ اس کی تو یہ لاڈلی تھی مجال ہے وہ کسی کو اس کی شرارتوں پر اسے ہاتھ بھی لگانے دیتا ہو ۔
”چچی ۔۔۔۔ چچی جان رک جاۓ “
تقی ننگے پاٶں صحن میں آیا تھا اور پھر ایک جھٹکے سے غزالہ کے ہاتھوں سے مار کھاتی بلکتی مالا کو چھڑا کر گود میں اٹھا لیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: