Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 10

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 10

–**–**–

وہ تقی کی تصویر کو گھنٹوں دیکھتی تھی ۔ پہلے جن باتوں کی طرف اس نے کبھی توجہ تک نہیں دی تھی وہ اب ان باتوں پر غور کرنے لگی تھی ان سب تبدیلیوں میں اس کی سہیلیوں کا بہت ہاتھ تھا ۔ وہ اس سے اپنے قصے بیان کرتی تھیں اور اسے چھیڑنے لگی تھیں ، اسے چوری چھپے محبت سے بھری کہانیاں لا کر دینے لگی تھیں نصاب کی کتابیں تو وہ پہلے ہی بہت کم پڑھتی تھی اب تو ان میں رسالے رکھ کر پڑھنے لگی تھی اور ایسا چسکا پڑا تھا کہ بس ہر کہانی میں وہ لڑکے کے کردار میں تقی کو ہی دیکھنے لگی تھی ۔
فرزانہ آپا کے شوہر حسن میاں کی فرزانہ آپا کے لیے والہانہ محبت ، شمو کے شوہر اللہ دتے کا شمو کو دیکھنا ، فرہاد کا منہا کو چوری چوری دیکھنا یہ سب سے اسے ایک الگ ہی دنیا کا باسی بنا رہا تھا ۔
تقی اچھا لگنے لگا تھا ، محبت کے تو الف سے بھی وہ واقف نہیں تھی پر اپنے ارد گرد موجود شادی شدہ جوڑوں کی خوبصورتی اسے اندر ہی اندر ایک میٹھی سی خوشی دینے لگی تھی ۔
غزالہ کا نوازش کو کھانا دینا ، کپڑے استری کر کے دینا ، فرزانہ آپا کا حسن میاں کے لینے آنے پر گلال ہوۓ پھرنا ، فرہاد کا منہا کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھنا ، وہ خود کو تقی کے ساتھ ان سب لمحوں میں رکھ رکھ کر سوچنے لگی تھی اور اب گڑیا سے کھیلنے کے بجاۓ ، اور سکینہ سے اٶٹ پٹانگ باتیں کرنے کے بجاۓ وہ تقی کے متعلق باتیں کرنے لگی تھی ۔
*********
یہ گاٶں کی رہاٸشی آبادی سے کچھ دور لوگوں کا زمینی علاقہ تھا جہاں کھیت کھیلان اور باغ تھے ، چوہدری حاکم کے کھیت اور باغ بھی یہیں موجود تھے جن کی تعداد یہاں موجود باقی لوگوں کی باغوں سے کہیں زیادہ تھی ۔
حاکم قصر کے پچھلے صحن میں رکھی گٸ بھینسوں ، بکریوں کا چارہ روزانہ لڈن یہیں کھیتوں سے کاٹ کر لے جاتا تھا ، اور اکثر مالا ، سکینہ نقی اور رملا بھی اُس کے ساتھ بیل گاڑی پر بیٹھ کر یہاں باغوں میں آ جاتے تھے اور پھر تازہ پھل توڑ کر کھاتے ،ٹویب ویل پر بچے نہاتے اور کچھ دیر رُک کر واپس حویلی چلے جاتے تھے ۔
اور آج بھی وہ دوپہر کو لڈن کے ساتھ کھیتوں میں آۓ تھے جہاں اب مالا اور سکینہ ، نقی ، رملا اور ارحمہ کو ٹیوب ویل پر چھوڑ کر خود لڈن سے آنکھ بچاۓ کسی اور کے باغ میں آ گٸ تھیں ، یہاں گھنے جھکتے درختوں سے بھرے باغ میں کچی مٹی کی پگڈنڈیاں چلنے کے لیے بناٸ گٸ تھیں اور جگہ جگہ پانی کے نالے بہہ رہے تھے جن میں گدلہ میٹھا پانی اپنے اندر درختوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے والے پتوں کو بہاۓ لیے جا رہا تھا ، یہ گاٶں کے ماسٹر صاحب کا باغ تھا جہاں وہ دونوں اب چوری چھپے داخل ہوٸ تھیں ۔
سکینہ نے ماتھے پر سے پسینہ صاف کیا اور ارد گرد چور سی نظروں سے دیکھا ، باغ میں مکمل خاموش تھی بس کہیں کہیں چڑیوں کے چہچانے کی آوازیں تھیں اور اوپر درخت کے پتوں کے سرکنے کی آوازیں تھیں ۔
یہ آم کا درخت تھا جس کے نیچے سکینہ کھڑی تھی اور درخت کے اوپر پندرہ سالہ مالا چڑھی آم توڑ کر ہاتھ میں پکڑے کپڑے کے تھیلے میں ڈال رہی تھی ۔
” مالا ۔۔۔ مالا ۔۔ بس کر اتر جا نیچے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اس دفعہ پتا نہیں کیوں “
سکینہ نے چور سی نگاہیں ارد گرد پھر سے دوڑاتے ہوۓ مالا کو نیچے اترنے کے لیے کہا جو بڑے مزے سے درخت کے موٹے تنے پر بیٹھی اچک اچک کر ایک کے بعد دوسرا آم توڑ رہی تھی اور پھر تھیلے میں ڈال رہی تھی ،سکینہ کی چھٹی حس آج بار بار خطرے کی گھنٹی بجا رہی تھی۔
” تو ڈرتی رہ ۔۔۔ ڈرپوک کہیں کی ابھی توڑ تو لینے دے کچھ اور زیادہ ان کا تو مربا بھی سہی سے نہیں بنے گا ۔۔ “
مالا نے اسے غصے سے جھاڑا تھا ، یہ کچے آم تھے جن کا وہ مربا بنانا چاہتی تھی ۔
” مالا عجیب منطق ہے تیری قسم سے اپنے باغ پھلوں سے بھرے پڑے ہیں ، تجھے پتا نہیں کیوں دوسروں کے باغ سے پھل توڑنے کی یہ گندی عادت ہے “
سکینہ نے غصے سے اوپر دیکھتے ہوۓ اس کی اس عادت سے اپنی چڑ کو ظاہر کیا ، لیکن وہ اپنے کام میں مگن تھی ۔
” تو نہیں سمجھ سکتی ۔۔۔ مس سکینہ دوسری پاس ۔۔۔ جو مزہ دوسروں کے باغوں میں سے پھل توڑ کر کھانے کا ہے وہ اور کہاں “
مالا نے لہک کر ایک ہاتھ اوپر اٹھاۓ سرگوشی نما آواز میں اسے اپنی اس عادت کے پیچھے موجود لذت کے بارے میں آگاہ کیا جس پر سکینہ نے کوفت سے ایک نگاہ اس پر ڈالی اور پھر ارد گرد دیکھا ۔
” ہاں اور ان کا مزرعہ میں سے کوٸ آ گیا نا جو ڈنڈے کھانے کا مزہ ہو گا نا اس کا مجھے بہت پتا ہے جلدی کر اب “
سکینہ نے اسے ان کے باغ میں رہاٸش پزیر اور باغ کی دیکھ بھال کرنے والے باشندوں سے آگاہ کیا جن کے چھوٹے چھوٹے کچے گھر یہیں باغوں میں بنے ہوتے ہیں ۔
مالا نے اس کی بات پر نخوت سے ناک چڑھاۓ اسے گھورا اور پھر سے آم توڑنے لگی ۔
اچانک قریب ہی کسی کے قدموں کی چاپ سناٸ دی ، وہ جو کوٸ بھی تھا آم کے سوکھے پتے اس کے پاٶں کے نیچے دب کر آواز پیدا کر رہے تھے ، سکینہ کا سانس خشک ہوا اوپر دیکھا تو مالا بے خبر آم توڑے میں مگن تھی ۔
” مالا۔۔۔۔۔۔۔ کوٸ آ گیا ۔۔ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!“
سکینہ نے حد درجہ آواز کو دھیما رکھتے ہوۓ خوف زدہ آواز میں ابھی مالا کو آگاہی دی ہی تھی کہ چند قدم سے آنے والی بازگشت نے تو سکینہ کی روح ہی فنا کر دی ۔
” کون ہے وہاں ۔۔۔ کون ہے ؟ کیا کر رہے ہو یہاں ؟ “
سکینہ نے زبان دانتوں میں دباۓ پیچھے مڑ کر دیکھا تو ہاتھ میں ڈنڈا پکڑے ایک چالیس ، انتالیس سالہ آدمی غصے سے آنکھیں سکوڑے ان کی طرف آرہا تھا ۔
” مالا اتر ۔۔۔۔ بھاگ “
سکینہ نے چیخ کر درخت پر چڑھی مالا سے کہا اور خود ایک طرف کو دوڑ لگادی، مالا نے گڑبڑا کر ایک ہی جست میں نیچے چھلانگ لگاٸ تو نیچے کچی مٹی کی پگڈنڈی پر پاٶں ایسا ڈگمگایا کہ کو وہ ایک طرف کو جھکی اور پاٶں کے مڑتے ہی اس کا اپنا سارا وزن پاٶں پر آ گیا اور پھر پاٶں نیچے اور وہ خود اپنے پاٶں کے اوپر آموں کےتھیلے کے ساتھ ڈھیر تھی ۔
” آہ ۔۔۔۔ مر گٸ ۔۔ی۔ی۔ی۔ی۔ی۔۔ی۔۔۔ “
تکلیف کے باعث ایک ہولناک چیخ ابھری تھی ، سکینہ جو اندھا دھند بھاگی جا رہی تھی فوراً پلٹی تب تک مزراعہ بھی مالا تک پہنچ چکا تھا ۔ جو اب اپنے ہاتھ پر ڈانڈا مارتا ہوا مالا کے سر پر کھڑا اسے گھور رہا تھا ۔
مالا زارو قطار رونا شروع ہو چکی تھی ۔ سکینہ نے واپس دوڑ لگاٸ اور پھر بڑی مشکل سے وہ دونوں معافی تلافی اقر منت سماجت کے بعد ، آم واپس کر کے وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوٸ تھیں ، سکینہ بڑی مشکل سے مالا کو سہارا دے کر اپنی بیل گاڑی تک لاٸ تھی جہاں لڈن چارہ کاٹنے کے بعد انہی کے انتظار میں بیٹھا تھا۔
مالا بمشکل بیل گاڑی پر سوار ہوٸ ، ٹخنے کی تکلیف بڑھتی جا رہی تھی اور وہ لب بھینچے اسے برداشت کرنے میں لگی تھی ۔
*********
غزالہ نے تیزی سے تقی کے کمرے کا کواڑ کھولا اور پھر تقیریباً بھاگتی ہوٸ اس کے پلنگ تک آٸ تھی ، وہ جو کچھ دیر پہلے ہی حویلی پہنچا تھا ابھی غنودگی میں ہی گیا تھا ، غزالہ کے یوں بدحواس سے انداز میں اندر آنے پر نیند سے بوجھل آنکھیں بمشکل کھولیں ۔
” تقی ۔۔۔ وہ مالا کو چوٹ آ گٸ ہے بہت رو رہی ہے آ کر دیکھنا ذرا “
غزالہ کی آواز اس کے دماغ کے سوۓ جاگتے پردوں سے ٹھک ٹھک ٹکراٸ تھی ، وہ پریشان حال تھی ، دوپہر کا وقت تھا اوپر سے تپتی دوپہر کے تین بج رہے تھے ، حویلی کے سب مکیں کمروں میں پنکھے چلاۓ لیٹے تھے ۔ اٹاری میں سن پڑا تھا ۔
تقی بہادر کی شادی کے سلسلے میں حویلی آیا تھا اس کی ڈاکٹری کی پڑھاٸ تو مکمل ہو چکی تھی لیکن اب وہ لاہور میں ہی ہاٶس جاب کے بعد ہی جاب کر رہا تھا ۔ گھر میں کسی کو خبر نہیں تھی کہ وہ بہادر کی شادی پر آنے والا ہے کیونکہ اب کی بار اس کا چکر پورے ڈیڑھ سال بعد لگا تھا ۔ بہادر اگرچہ نا صرف ان کا ڈراٸیور تھا بلکہ تقی کے ساتھ ایک دوستی کا بھی رشتہ تھا بس اس کی ناراضگی کے ڈر سے ہی اسے یوں اچانک آنا پڑا تھا ۔ اور ابھی آ کر کھانا کھانے کے بعد وہ لیٹا ہی تھا جب غزالہ یوں اس کے کمرے میں آ گٸ تھی ۔
” کہاں ہے وہ “
تقی نے بھنویں چڑھاۓ تھکے سے لہجے میں پوچھا سفر کی تھکان نے چور رکھا تھا ۔ وہ بکھرے بالوں اور تھکے سے چہرے کے ساتھ اٹھ کر بیٹھا ۔ غزالہ کی پریشانی بتا رہی تھی کہ مالا کو واقعی زیادہ چوٹ آٸ ہے ۔
” وہ کمرے میں ہے آ کر دیکھنا بیٹا بہت تکلیف ہے اسے روۓ جا رہی ہے “
غزالہ کے چہرے پر مالا کی تکلیف کے آثار واضح تھے ، تقی فوراً اُٹھ کھڑا ہوا ، پلنگ کے سرہانے پر لٹکتا کُرتا ہاتھ سے کھینچ کر اتارا۔
” چلیں ۔۔۔ چوٹ آٸ کیسے ہے اسے ؟ “
غزالہ کی پریشانی کے پیش نظر جلدی جلدی کرتا پہنتے ہوۓ متوازن لہجے میں سوال کیا اور کُرتے کے بازو اندر کو موڑتے ہوۓ غزالہ کی طرف سوالیہ دیکھا
” وہ ۔۔۔ کھیت گٸ تھی ، سکینہ کے ساتھ وہیں کہیں گری ہے “
غزالہ نے بیچارگی سے عجلت میں جواب دیا ، مالا کی حرکتوں سے وہ ویسے بھی پریشان رہتی تھیں اور آج تو اس کے رونے سے ہاتھ پاٶں پھول گۓ تھے ۔
” اچھا چلیں پریشان نا ہوں میں دیکھتا ہوں کیا ہوا “
تقی نے غزالہ کے چہرے کی پریشانی کو بھانپ کر تسلی آمیز لہجے میں جواب دیا اور کمرے کے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور خود غزالہ کے پیچھے چل دیا ۔
وہ جب بھی حویلی آتا تھا چند روز کے لیے آتا تھا اور پھر ان چند روز میں بھی وہ کبھی مالا سے آمنا سامنا ہونے پر بھی اسے نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا ، دوسروں سے زیادہ وہ خود اس بات کو معیوب سمجھتا تھا بے شک وہ اس کے نکاح میں تھی لیکن اس کی عمر اور اس رشتے کا پاس تقی جیسے لڑکے کو خوب رکھنا آتا تھا ۔ اور اب اتنے سالوں کے بعد یوں باقاعدہ اس کے سامنے جا رہا تھا جس کی وجہ فقط مالا کی چوٹ تھی ۔
*******
پلنگ کے سرہانے سے ٹیک لگاۓ ، ٹخنے پر ہاتھ دھرے تکلیف کو برداشت کرتے ہوۓ وہ لب بھینچے ہوۓ تھی ، پر تکلیف ایسی تھی کہ اتنی برداشت کے باوجود اسکی آنکھوں میں پانی کی تہہ چمکنے لگی تھی ۔
ہلکے سے زرد رنگ کے جوڑے میں تکلیف سے چہرہ بھی زرد ہو رہا تھا ۔ بالوں میں گالوں پر جگہ جگہ گیلی مٹی ابھی تک لگی تھی جو اس وقت نیچے گرنے پر لگی تھی ۔
ٹھک کی آواز سے کمرے کا دروازہ کھلا ، مالا نے یوں ہی تکلیف سے لب بھینچے نگاہ اٹھاٸ تو دل دھک سے رہ گیا ، ہاتھ ٹخنے پر رہ گیا اور آنکھیں بنا جھپکے پوری کھلی کی کھلی رہ گٸیں ، وہ تصویر سے نکل کر سامنے کھڑا تھا ۔
تقی نے ایک نگاہ اس پر ڈالی ، دماغ نے پہچاننے سے صاف انکار کر دیا ، یہ تو کوٸ اور ہی لڑکی پلنگ پر ٹخنہ تھامے بیٹھی تھی ۔
جب وہ کمرے سے نکل کر اس طرف آ رہا تھا پتا نہیں کیوں تین ، چار سال پہلے والا اس کا سراپا دماغ میں تصویر بنا رہا تھا جب گیند سر میں لگنے پر اس نے اسے بھاگتے ہوۓ غور سے اسے دیکھا تھا ، پر آج جو سامنے بیٹھی تھی وہ تو کوٸ اور ہی تھی ۔ بالوں کی لمبی چوٹی جس میں سے جگہ جگہ بال باہر نکلے ہوۓ تھے کافی موٹی تھی۔
مالا کی نگا ہوں سے ایک دن تصادم ہوا تو تقی نے فوراً نگاہوں کا زاویہ بدلہ اور سنجیدگی سے آگے بڑھا ، پر وہ تو مورت بنے بیٹھی اپنی طرف بڑھتے تقی کو دیکھ رہی تھی ۔ کتنے مشورے تبسم اور ثریا نے اسے دیے تھے اور کتنا کچھ اس نے سوچا ہوا تھا کہ اب کی بار تقی آۓ گا تو یہ والا جوڑا پہنوں گی درمیان سے مانگ نکالوں گی پر یہاں تو وہ سر جھاڑ منہ پھاڑ بیٹھی تھی ۔
” کس پاٶں میں درد ہے “
تقی نے اس کے ہونق بنے چہرے سے بے نیازی برتتے ہوۓ سنجیدگی سے اسے پاٶں کے پاس پلنگ پر بیٹھ کر سوال کیا ، وہ تقی کی آواز پر طلسم سے باہر آٸ ۔ دل اتنی زور سے دھک دھک کرنے لگا تھا کہ وہ پریشان ہو گٸ تھی۔
ایسا سب تو بس پڑھ رکھا تھا اس نے قصے کہانیوں میں پر محسوسات آج مل رہی تھیں ۔ پتا نہیں کیسا عجیب سا احساس تھا کہ وہ اس کے یوں سامنے بیٹھنے پر سمٹ گٸ تھی ۔ تقی نے اس کے جواب کا انتظار کیا لیکن جواب نداد پھر خود ہی ٹخنے پر دھرے اس کے ہاتھ سے انداز لگایا اور پھر اس کے پاٶں کو تھام کر اپنی طرف سرکایا ۔
وہ جو دم سادھے سامنے بیٹھے اپنے اس ساحر کے طلسم میں جکڑی ہوٸ تھی اس کے یوں اچانک پاٶں پکڑ کے کھینچنے پر تکلیف سے بلبلا اٹھی اور پھر متواتر اس کے ہر دباٶ پر چیخیں مار رہی تھی ۔
سامنے بیٹھے تقی نے نا تو اسے مخمور نگاہوں سے دیکھا تھا اور نا تو کہانیوں کے ہیرو کی طرح مسکرایا تھا وہ تو سپاٹ چہرہ لیے اس کے ٹخنے کو دبا کر اسے تکلیف دے رہا تھا جس پر وہ بھی خواب سے نکل کر اب حقیقت میں واپس آ چکی تھی اور چیخوں کے ساتھ ساتھ بھل بھل آنسو بہنے لگے تھے تقی نے ایک دو دفعہ پاٶں کو موڑ کر اٹھا کر دیکھا اور جتنی دفعہ اس نے یہ عمل دھرایا مالا کی فلک شگاف چیخ ابھری تھی ۔
تقی کے کانوں کے پردوں نے بمشکل اس کی اس طوفانی چیخوں کو برداشت کیا تھا ، وہ تو صرف قد کاٹھ میں بڑی ہوٸ تھی انداز تو سارے وہی تھے پاگلوں والے۔
” چچی برف ملے گی تھوڑی سی “
تقی نے تھوڑا رخ موڑے پاس کھڑی غزالہ سے پوچھا ، غزالہ جلدی سے سر ہلاتی باہر نکل گٸ ، مالا ابھی بھی ہلکی ہکلکی چیخیں مارتے ہوٸے رو رہی تھی ۔
” کہاں سے گری تھی ؟ مطلب کتنی اونچاٸ سے “
اچانک تقی نے اس سے سوال کیا تو اس کی رونے کو ایسے بریک لگی جیسے مصنوعی رو رہی تھی ، وہ اس سے سوال کر رہا تھا ، کان تو جیسے دل بن کر دھڑکے تھے ۔
” میں تم سے پوچھ رہا ہوں کتنی اونچاٸ سے گری تھی ؟ “
تقی نے اس کے جواب نا دینے پر پھر سے سوال کیا ، اب کی بار وہ گڑ بڑا گٸ ۔
” د۔۔۔درخت سے ۔۔۔ “
مالا نے بمشکل الفاظ ادا کیے ، پلکیں جھک گٸ تھیں کیونکہ اب وہ باقاعدہ اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔تقی نے ماتھے پر ناسمجھی کے بل ڈالے
” درخت سے گری ہو تم ۔۔۔ ؟ وہاں کیا کر رہی تھی ؟ “
تقی نے بے ساختہ اگلا سوال پوچھا لیا ، مالا کے چہرے پر تو جیسے ہواٸیاں اڑ گٸیں ۔
” وہ۔ وہاں ۔۔۔ ۔ ۔۔ آم ۔۔۔ آم توڑ رہی تھی “
مالا نے سر نیچے جھکاۓ آہستگی سے بے ربط الفاظ کے ساتھ جواب دیا ، تقی نے بے یقینی سے اس کے چہرے کے طرف دیکھا تھا وہ اب بھی درختوں پر چڑھتی ، کودتی ہے ۔ عجیب لڑکی ہے
تقی کے یوں گھورنے پر وہ بس گالوں پر پلکیں لرزا رہی تھی ، دروازہ ہلکا سا دیوار پر لگا اور غزالہ ایک سٹیل کے پیالے میں برف لے کر اندر داخل ہوٸ ۔
” تقی ہوا کیا ہے ؟ “
غزالہ نے برف کا پیالہ تقی کی طرف بڑھاتے ہوۓ پریشانی سوال کیا
” چچی پریشان ہونے کی بات نہیں ہے معمولی سی موچ آٸ ہے ٹخنہ سوج گیا ہے یہ دیکھ لیں جیسے اب میں برف کی مساج کر رہا ہوں ایسے آپ کو کرنی ہے دن میں تین چار بار “
تقی نے مالا کے ٹخنے پر برف آہستگی سے رکھ کر مساج شروع کی تو وہ پھر سے چیخ اٹھی تقی نے جھنجلا کر اسے غصے سے گھورا ۔
” مالا ۔۔۔ صبر کرو “
غزالہ نے پریشان ہو کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ اسے دلاسہ دیا ، جبکہ وہ تو اب خفگی سے تقی کی طرف دیکھ رہی تھی جو متواتر اس کے پاٶں کو پیچھے کھینچنے کو ناکام بناۓ برف کی مساج کر رہا تھا ۔
” اماں بہت زور سے دبا رہے ہیں “
مالا نے تکلیف دہ آواز میں غزالہ کی طرف دیکھتے ہوۓ شکوہ کیا جس پر تقی کے ماتھے پر اور بل پڑ گۓ ۔ وہ رمنا سے کس قدر مختلف تھی رمنا بہت شاٸستگی سے بات کرنے والی اور خاموش طبع سمجھدار لڑکی تھی اور اس کے سامنے بیٹھی یہ لڑکی تو بلکل بچی تھی۔ تقی نے اس کا پاٶں آہستگی سے پلنگ پر رکھا ، پاس پڑے دوپٹے سے گیلے ہاتھ صاف کیے اور اٹھ کر کھڑا ہوا گیا ۔
” چچی پانی لا دیں اسے اور آٸیں آپ کو ایک دوا دیتا ہوں اسے کھلا دیجیے گا تکلیف کم ہو جاۓ گی “
تقی نے سنجیدگی سے غزالہ سے کہا اور پھر بنا مالا کی طرف دیکھے کمرے سے باہر نکل گیا ، اور وہ اب روتے ہوۓ اس کے رویے کے بارے میں سوچ رہی تھی ایسا تو کوٸ ہیرو نہیں کرتا کسی کہانی میں اپنی ہیروٸن کے ساتھ جیسے تقی نے کیا تھا ۔
*****
بلقیس منہا کے کمرے میں داخل ہوٸ تو اندھیرے میں ڈوبے کمرے میں سسکیوں کی آواز واضح سناٸ دے رہی تھی ۔ مغرب کا وقت تھا جس کے باعث کمرہ گھپ اندھیرے میں ڈوبا تھا ۔ کواڑ کھلنے کی وجہ سے اٹاری میں جلتے بلب کی روشنی کواڑ سے اندر داخل ہو کر فرش پر بلقیس کا سایہ بنا گٸ تھی ۔
منہا نے آج دوسرے دن بھی رات کا کھانا نہیں کھایا تھا ، حاکم قصر میں عصر کے بعد اندھیرا ہونے سے پہلے ہی رات کا کھانا کھا لیا جاتا تھا ۔ مالا دو دفعہ منہا کو اٹھانے آٸ تھی پر وہ باہر سب کے ساتھ دسترخوان پر آج بھی نہیں آٸ تھی ۔
بلقیس نے ہاتھ بڑھا کر کمرے کی دیوار پر لگے سوٸچ بورڈ پر سے بتی کا بٹن دبایا تو کمرہ ایکدم سے بلب کی پیلی روشنی میں نہا گیا ۔ اور پلنگ پر سمٹ کے لیٹی منہا نے ٹانگیں کچھ اور اندر کو سمیٹ لی تھیں ۔ وہ بازو سے چہرے کو ڈھکے رو رہی تھی ۔
تقی اب لاہور ہسپتال کی جاب چھوڑ کر جاب یہیں دنیا پور کے ہسپتال میں کرنا چاہتا تھا ۔ اور ساتھ ساتھ گاٶں میں ہسپتال کی تعمیر شروع کرنا چاہتا تھا ۔
چوہدری حاکم نے حکم جاری کر دیا تھا کہ چار ماہ بعد مالا کی رخصتی اور ساتھ ہی منہا اور فرہا د کی شادی ہو گی ۔
پر تقی نے فوراً خط لکھ بھیجا کہ مالا ابھی سولہ کی ہو گی وہ بہت چھوٹی ہے وہ دوسال بعد رخصتی کرے گا ، کوٸ اس کی اور مالا کی رخصتی کے بارے میں ابھی بلکل نہیں سوچے گا ، تقی کی بات بھی جاٸز تھی اس لیے چوہدری حاکم خاموشی اختیار کر گۓ لیکن فرہاد اور منہا کی شادی ملتوی نہیں کی گٸ تھی ، بس یہ خبر تھی کہ منہا نے دو دن سے رو رو کر اپنا برا حال کر رکھا تھا ۔ فرہاد سے رشتے پر وہ پہلے ہی ناخوش تھی اوپر سے شادی بھی اتنی جلدی رکھ دی گٸ تھی ۔
وہ تو سوچے ہوٸ تھے کہ پہلے تقی کی شادی ہوگی بعد میں کہیں جا کر اس کی شادی ہو گی لیکن یہاں تو تقی کی شادی سے پہلے اس کی شادی کی تیاریوں نے عروج پکڑ لیا تھا ۔بلقیس آہستگی سے چلتی ہوٸ پلنگ کے پاس آٸیں اور منہا کے قریب ٹانگیں نیچے لٹکاۓ بیٹھ گٸیں ۔
” منہا دیکھ تیرے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں یہ سب ٹسوے ، یہ بہانے بند کر دے بیٹا ، بیٹیاں یہ سب کرتی اچھی نہیں لگتی ہیں “
بلقیس نے اپنے ہاتھ منہا کے آگے کرتے ہوۓ التجاٸ لہجہ اپنایا تھا ۔ جس پر منہا نے بیزار سی صورت بناۓ آنکھوں پر سے بازو ہٹا کر اپنی ماں کی طرف دیکھا ، آنکھوں کے پپوٹے سوزش زدہ تھے اور ناک سرخ ہو رہی تھی ۔
” اماں ۔۔۔۔ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی ہے “
منہا کی کل سے بس یہی رٹ تھی ، اور ویسے بھی وہ شروع سے ہی اس رشتے کے خلاف منمناتی رہی پر یہاں چوہدری حاکم کے کیے فیصلے کے آگے جہاں تقی کی اپنے نکاح کے وقت لڑکا ہو کر نہیں چلی تھی وہاں منہا کی کیا چلنی تھی منہا کا بس تو بلقیس پر ہی چلتا تھا ۔
” کل ہو یا آج شادی تو ہونی ہی ہے ، فرہاد بہت اچھا محبت کرنے والا لڑکا ہے ، خوش رکھے گا تجھے ، دس پڑھا ہے اپنے باپ کے ساتھ بیوپار کرتا ہے “
بلقیس اسے سمجھا رہی تھی جو تین ماہ کے بعد بھی اس رشتے کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھی اور آج یوں اس کے رونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کی شادی تقی کی شادی سے پہلے ہی کیوں کرنے لگے ہیں جب اس نے اپنی شادی دو سال بعد کرنے کا حکم دے دیا تھا تو اس کی کیوں کرنے جا رہے تھے جبکہ فرہاد ، تقی سے چھوٹا تھا ۔
ہر کوٸ بس یہ دیکھ رہا تھا کہ فرہاد اس سے کتنی محبت کرتا ہے کہ اس نے اریب کی مخالفت مول لے کر اس سے رشتہ کروایا تھا ۔ لیکن اس کے بارے میں کوٸ ایک فرد بھی نہیں سوچ رہا تھا کہ وہ کیا چاہتی ہے اس نے تو فرہاد کے بارے میں کبھی ایسا سوچنا گوارا تک نہیں کیا تھا اس کی مرضی کے بنا زبردستی رشتہ اور اب شادی بھی رکھ دی گٸ تھی ، اریب پھپھو کا رویہ اس کے ساتھ اب اور سخت ہو گیا تھا وہ اپنے سارے کام اس سے کہنے لگی تھیں جیسے اس کو فرہاد سے نسبت کے بعد سے ہی خرید لیا ہو ۔
وہ پھر سے اوندھے منہ بازو کو سر پر تانے سسکیاں بھرنے لگی تھی اور بلقیس کچھ دیر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے رہنے کے بعد اُ ٹھ آٸیں تھیں ، منہا کا یوں رونا دھونا کسی کے لیے غیر معمولی نہیں تھا بہت سی لڑکیاں اپنی شادی سے پہلے یونہی روتی دھوتی رہتی تھیں ۔ اس لیے بلقیس بھی اسے کچھ دیر چپ کروانے کے بعد وہاں سے اٹھ آٸیں تھیں ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Surkh Gulab Novel by Farhat Nishat Mustafa – Episode 5

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: