Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 11

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 11

–**–**–

وہ ہاتھ میں ایک تحفہ پکڑے تیز تیز قدم اٹھاتا لان کی طرف بڑھ رہا تھا ، جہاں شیریں نے اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر شرمانا شروع کر دیا تھا ۔ شورو غل ہلکی سی موسیقی اور جدید طرز کے ملبوسات زیب تن کیے لوگ لان میں ٹولیاں بناۓ کھڑے تھے ۔
وہ آج بھی یہاں موجود تمام لوگوں میں سب سے منفرد تھا ، وہی بارعب انداز وہی خوبرو چہرہ اور وہی ساحر انگیز شخصیت جس نے اسے کالج میں پانچ سال دیوانہ بناۓ رکھا تھا۔ پتلون کی ایک جیب میں ہاتھ ڈالے اور دوسرے ہاتھ میں سرخ رنگ کے کاغز میں لپٹا تحفہ پکڑے وہ بڑے وثوق سے قدم اس طرف بڑھا رہا تھا ۔
میڈیکل کالج لاہور میں یہ ایک بہت بڑی تقریب رکھی گٸ تھی جس میں سابقہ طلبہ کو بھی مدعو کیا گیا تھا ، ڈاکٹری کی ڈگری پانے کے بعد اب سب پاکستان کے مختلف ہسپتالوں میں ڈاکٹری کے عہدے کے فراٸض سر انجام دے رہے تھے ۔ اگرچہ تقی نے جان بوجھ کر ہاوٸس جاب کے بعد بھی لاہور کے مشہور ہسپتال میں ملازمت بھی کی جہاں شیریں نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا وہ اور بلال بھی وہیں اس کے ساتھ ڈاکٹری کے فراٸض انجام دیتے رہے تھے ، لیکن اب اسے گاٶں میں جا کر اپنے ہسپتال کی بنیاد رکھنی تھی اور ساتھ ہی اس کی تقرری دنیا پور کے سرکاری ہسپتال میں ہو چکی تھی ۔
تقی اب بلکل شیریں کے سامنے کھڑا تھا ، سیاہ رنگ کی ساڑھی زیب تن کیے اور ہر طرح کا ہار سنگہار کیے وہ آج بھی محفل کی جان لگ رہی تھی ۔ اپنے گھر والوں کو وہ تقی کے لیے راضی کر چکی تھی بس اب تو تقی کی ہاں کی دیر تھی ۔ اتنا لمبا عرصہ انتظار بہت تھا اور اسے یقین تھا تقی اسی کا ہے وہ مسرور سی کھڑی تھی ۔
” شیریں ۔۔۔ میں یہ تحفہ نہیں لے سکتا ہوں “
تقی نے پرسکون لہجے میں کہتے ہوۓ سامنے کھڑی شیریں کی طرف تحفہ بڑھایا تھا ۔ شیریں کے لبوں پر مزین مسکراہٹ پل بھر میں ہی غاٸب ہو چکی تھی ۔
” پر ۔۔۔ تقی میں نے یہ بہت دل سے لیا آپ کے لیے “
شیریں نے ملاٸم سے لہجے میں محبت پاش نگاہوں سے دیکھتے ہوۓ جواب دیا ، جاب کے دوران وہ تقی کے ساتھ بہت آرام سے بات کرنے لگی تھی ۔
” جی اسی لیے میں اسے بلکل نہیں رکھ سکتا میں آپ کے دل سے لیے اس تحفے کو رکھ کر آپ کے دل میں کسی بھی قسم کی کوٸ امید نہیں جگانا چاہتا ، آپ یہ رکھ لیجیے پلیز “
تقی نے پاس پڑی کرسی پر تحفہ دھر دیا تھا اور جانے کے لیے قدم بڑھاۓ ، اگرچہ کے ہسپتال جاب میں شیریں سے اچھی بات چیت ہو جاتی تھی لیکن وہ نا تو کبھی اپنی بناٸ گٸ حدود سے باہر نکلا تھا اور نا کبھی شیریں کے حوصلے بڑھاۓ تھے وہ تو خود ہی یہ تصور کیے بیٹھی تھی کہ تقی اس کے حسن سے دل کے قفل کھول ہی چکا ہو گا ۔
” تقی ۔۔۔ مجھ میں کمی کیا ہے آخر ۔۔۔ میں نے دس سالوں سے اس لمحے کا انتظار کیا کیونکہ میں جانتی تھی تم عام لڑکوں جیسے نہیں ہو اس لیے سیدھا میرے گھر رشتہ بھیجو گے “
شیریں کی آنکھوں میں نمی تھی ۔ اس نے تقی کے لیے کیا کچھ کیا تھا وہ جانتی تھی پچھلے تین سالوں سے وہ اپنے کتنے اچھے رشتے ٹھکرا چکی تھی صرف اس لیے کہ تقی کو واپس اپنے گاٶں جانا ہے وہ وہاں جاۓ گا تبھی اس کے لیے رشتہ بھجواۓ گا لیکن یہاں تو وہ آج بھی دس سال پیچھے کھڑی تھی ۔ تقی نے گہری سانس لی تھی پھر پرسکون لہجے میں گویا ہوا
” دیکھیں شیریں ۔۔ آپ اس بات کو بڑھا رہی ہیں ، میں کبھی اپنی پرسنل لاٸف کسی سے نہیں شٸیر کرتا لیکن آج آپ نے مجبور کر دیا ہے ، اس لیے میں آپ کو صاف صاف بتا ہی دیتا ہوں میرا نکاح ہو چکا ہے ، جب میں یہاں پڑھنے آیا تھا اس سے بھی پہلے اور ہمارے ہاں ہم ایسے رشتوں کی پاس داری رکھنا خوب جانتے ہیں ، امید کرتا ہوں اب آپ بھی اپنا پاگل پن چھوڑ کر سکون میں رہیں گی “
تقی اپنی بات کہہ کر وہاں رکا نہیں تھا اپنے مخصوص انداز میں وہاں سے جا چکا تھا ، اور وہ جو دس سال تک تقی کے لیے خواب بنتی رہی تھی وہ یونہی تہی دست کھڑی تھی ۔
*******
مالا غسل خانے سے باہر بنے وضو خانے میں وضو کر رہی تھی ، وضو کے بعد پانی کا نل بند کر کے وہ پلٹی تو احساس ہوا وہ آج ننگے پاٶں ہی وضو خانے میں آ گٸ تھی عجیب طرح سے الجھن ہوٸ جلدی سے وضو خانے سے باہر نکلی ساتھ ساتھ دوپٹہ سر پر نماز کی صورت باندھ رہی تھی ۔ وضو خانہ نیم کے درختوں کے پیچھے غسل خانوں سے باہر بنایا گیا تھا ، وہ جیسے ہی وضو خانے سے باہر قدم نکالے درختوں تک پہنچی تو اندھیرا پھیلا ہوا تھا ۔
اوہ قضا کر دی میں نے نماز دل میں اداسی سی بھری، مغرب کی نماز پڑھنی تھی اس کو اندھیرا دیکھتے ہی ذہن میں یہی خیال اٹھا تھا ، درختوں کی اٶٹ سے نکل کر صحن میں پہنچی تو منظر بدل گیا اور قدم تھم گۓ ۔
انتہاٸ دلکش منظر تھا ، برقی قمقوں سے حویلی سجی ہوٸ تھی اور حویلی کے صحن میں فوارے کے بلکل قریب کرسی رکھی گٸ تھی اور وہاں کرسی پر سرخ رنگ کے جوڑے میں دلہن بیٹھی تھی ۔
مالا کو وہ اتنی دور سے سہی سے نظر بھی نہیں آ رہی تھی ، منہا آپا کی شادی اور میں ابھی تک تیار بھی نہیں ہوٸ ۔۔۔ مالا الجھتی سے جیسے جیسے صحن کی طرف آ رہی تھی لوگوں کا ہجوم بڑھتا جا رہا تھا ۔ اتنے لوگ جمع ہو چکے تھے دلہن کے ارد گرد ، کہ اس کے پاس پہنچنے تک دلہن اس ہجوم میں غاٸب ہو چکی تھی ۔
” ہٹو تو پیچھے ۔۔ ہٹو بھٸ مجھے دلہن دیکھنی ہے ۔ “
مالا ہجوم میں سے گزرتی آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھی پر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ایسے جڑ کر کھڑے تھے ۔ کہ وہ بمشکل آگے بڑھ رہی تھی دل میں یہ بھی احساس تھا کہ سب لوگ اتنے تیار ہیں زرق برق لباس پہنے ہوۓ ہیں اور ایک وہ ہے پاٶں میں جوتے بھی نہیں تھے ، وہ ننگے پاٶں پرانے سے جوڑے میں تھی ۔
اچھا منہا آپا کو ایک نظر دیکھ لوں وہ کیسی لگ رہی ہے پھر بدلتی ہوں جوڑا وہ ذہن میں سوچتی آگے بڑھ رہی تھی ۔
ایک دم سے لوگوں کے ہجوم سے نکل کر جب وہ فوارے کے قریب پہنچی تو پاٶں تلے سے زمین نکل گٸ وہاں کوٸ دلہن کرسی پر نہیں بیٹھی تھی بلکہ وہاں تو کفن میں لپٹا جنازہ پڑا تھا اور لوگ اس کے گرد کھڑے رو رہے تھے جو زرق برق لباس میں ملبوس نہیں تھے بلکہ سفید جوڑے تھے۔ الله أكبر ،،،الله أكبر،،،،الله أكبر،،،،
الله أكبر کی صداٸیں گونج رہی تھیں لیکن لوگ تو بلکل خاموش کھڑے تھے ۔
مالا اب گھوم گھوم کر پوری آنکھیں کھولتے ہوۓ منظر کے یوں بدل جانے کو دیکھ رہی تھی حویلی میں قمقوں کی جگہ چراغ جلنے لگے تھے ۔ جگہ جگہ چراغ پڑے تھے ۔
مالا جلدی سے آگے بڑھی کیونکہ کفن میں لپٹا جو کوٸ بھی تھا اسکا چہرہ ڈھکا ہوا تھا ۔ مالا نے پاس آ کر سفید لٹھے کے کے کپڑے کو اس کے منہ پر سے اٹھایا تھا ۔
کفن میں لپٹی رمنا تھی ، سفید چہرہ ۔۔۔۔ اور ناک سے بہتی ہلکی سی خون کی لکیر جو آہستہ آہستہ اس کے لبوں تک آ رہی تھی ۔
مالا لڑ کھڑا گٸ تھی جلدی سے ڈر کر پیچھے ہوٸ تو رمنا کا ہاتھ جو اوپر تھا چارپاٸ سے نیچے کو لڑھکا اس کی بند مٹھی کھلی اور بٹن نیچے زمین پر گر کر لڑھکتا ہوا مالا کے قدموں کے پاس آ گرا ۔
مالا نے تجسس سے نیچے جھک کر بٹن اٹھایا
، الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر
صداٸیں ہر طرف گونج رہی تھیں لوگ جنازہ کندھے پر اٹھا رہے تھے اور مالا کے ہاتھ میں بٹن تھا ، اچانک بٹن سے خون نکلنے لگا ۔ مالا نے ڈر کر بٹن کو پھینکا اور چیخ مارنے کی کوشش کی ۔
چیخ نہیں نکل رہی تھی اس کی آواز بند تھی وہ پوری قوت لگا رہی تھی ۔ مالا نے پورا زور لگایا ایک جھٹکے سے آنکھ کھلی وہ اپنے بستر پر تھی ساتھ لیٹی سات سالہ ارحمہ اس کے سینے پر بازو رکھے اور پیٹ پر ٹانگ رکھے لپٹ کر سو رہی تھی۔ وہ اس کی ایسی ہی لاڈلی تھی رات کو بھی اس سے لپٹ کر سوتی تھی ۔
کمرے میں سرخ رنگ کے چھوٹے سے بلب سے نکلتی سرخ روشنی کے باعث پورا کمرہ ملگجے سے سرخ رنگ میں نہایا ہوا تھا ۔ اتنی سردی ہونے کے باوجود وہ پسینے میں نہاٸ ہوٸ تھی ۔
ارحمہ کے بازو کو سینے پر سے اور ٹانگ کو پیٹ پر سے اٹھا کر وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی گردن کے پسینے کو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوۓ گہرے سانس لیے آج کتنے سالوں بعد اسے یہ خواب پھر سے آیا تھا،شاٸد تیسری دفعہ ایک دفعہ تو وہ بہت چھوٹی تھی پر وہ باورچی خانے کا خواب آج پھر ذہن میں گھوم گیا تھا اور پھر دوسرا خواب ۔۔۔جب وہ استانی جی کے گھر سے ٹیوشن کے لیے واپس آ رہے تھے اور کار میں اس کی آنکھ لگ گٸ تھی ، تب وہ پانچویں جماعت میں تھی اور ایک آج مالا پیشانی پر بل ڈالے بیٹھی تھی ۔ اسے بہت کم خواب آتے تھے زندگی میں یہ تین خواب ایسے تھے جو اسے من عن یاد تھے ۔ ہر خواب میں ایک بات مشترک تھی ، رمنا آپا اور بٹن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج جب وہ سولہ کی ہوٸ تھی تو ذہن سارے خوابوں کی کڑی کو ملا رہا تھا ۔ عجیب سا احساس تھا خوف اور دکھ کا ملا جلا احساس وہ جھٹکا کھا کر پلنگ پر سے اُٹھی اور پھر کمرے میں بنی لکڑی کی الماری کے دونوں کواڑ کھولے ، پاس پڑے موڑھے کو گھسیٹا ، موڑھے پر کھڑے ہو کر مٹی سے اٹا وہ ڈبا اٹھایا جو تین سال پہلے وہ الماری کے سب سے اوپری خانے میں رکھ کر اپنی نٸ زندگی جینے لگی تھی۔
گڑیا کے ساتھ کھیلنا اب دل کو نہیں لبھاتا تھا اب تو قصے کہانیاں پڑھنا ، ریڈیو پر گانے سننا ، تقی کی یادوں میں کھوۓ رہنا ، دوستوں سے اس کے متعلق باتیں کرنا ، آٸینے کے سامنے گھنٹوں کھڑے ہو کر اپنے آپ کو سنوارنا ، نۓ کپڑے سلوانا ان کو پہننا یہ سب شوق تھے اب اس کے ۔
سفید ڈبے پر مٹی کی ایک دبیز تہہ جمی تھی ۔ اس نے مٹی جھاڑے بنا ہی آہستگی سے ڈبے کا ڈھکن اٹھایا ۔ ڈبے میں کپڑے کی گڑیا اور اس کے گلے میں بٹن کو دھاگے میں پرو کے بنا ہوا ہار دنوں ویسے ہی تھے ۔
مالا نے گڑیا اٹھا کر کانپتے ہاتھوں سے بٹن کو اپنی انگلی کی پوروں کے درمیان میں جکڑا تھا ، آپ جب بڑے ہو جاتے ہیں تو آپ کے بچپن کے کٸ پل آپ مکمل بھول چکے ہوتے ہیں اور کچھ خاص پل آپ کے ذہن سے کبھی معدوم نہیں ہو پاتے وہ پل اکثر گہرے غم اور بہت خوشی کے پل ہوتے ہیں۔
اور اس کی آنکھوں کے سامنے بھی آج سے گیارہ سال پہلے کے وہ پل گھوم گۓ تھے جب اس نے رمنا کے ہاتھ سے یہ بٹن اٹھایا تھا ۔
********
فجر کی اذان گونجتے ہی وہ گڑیا کو ڈبے میں واپس رکھ چکی تھی جسے وہ دو گھنٹوں سے اپنے ہاتھوں میں لیے بے کل سی بیٹھی تھی ، تینوں خواب دہرا دہرا کر دماغ کی نسیں دکھنے لگی تھیں اور آنکھیں جلنے لگی تھیں جبکہ لحاف کے بنا یوں کمرے میں بیٹھے جسم برف ہونے لگا تھا ۔
مولوی رقت آمیز لہجے میں اذان دے رہا تھا ، ساتھ والے کمرے سے کھٹ پٹ کی آوازیں ابھرنے لگی تھیں یقیناً نوازش حاکم اور غزالہ نماز کی تیاری میں تھے ۔ وہ یونہی موڑھے پر منجمند بیٹھی تھی ۔ نا تو نیند آ رہی تھی اور نا ہی دل کی بے چینی ختم ہو رہی تھی ۔
اچانک کچھ خیال آنے پر پھر سے گڑیا کو ڈبے میں سے اٹھایا اور کمرے سے ملحقہ کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھولتی جب وہ کمرے میں آٸ تو غزالہ نماز کے لیے جاۓ نماز پر کھڑی ہو چکی تھی اور نوازش بستر پر نہیں تھے اس کا مطلب تھا وہ مسجد جا چکے تھے ۔
غزالہ کے جاۓ نماز کے بلکل پاس وہ پلنگ پر بیٹھ گٸ تھی ہاتھ میں وہی گڑیا تھی ، اچانک بتی گل ہوٸ اور لالٹین کی روشنی کمرے کو ہلکے زرد رنگ کی روشنی بخشنے لگی ، غزالہ کو شاٸد بجلی جانے کے اس وقت کی خبر ہوتی تھی ، کیونکہ روزانہ صبح تڑکے اس وقت بجلی جاتی تھی اسی لیے وہ احتیاطً لالٹین روشن کر کے نماز کے لیے کھڑی ہوتی تھی ۔ غزالہ نے پہلی دو رکعت کے بعد سلام پھیرا ۔
” اماں ۔۔۔ “
مالا نے آہستگی سے پکارا تھا ، غزالہ نے جیسے ہی سلام پھیرا تو مالا بلکل اس کے پاس بیٹھی تھی ۔ پلنگ پر بنا سویٹر کے ننگے پاٶں نیچے لٹکاۓ ، ہاتھ میں کپڑے کی گڑیا تھامے
” کیا ہوا ۔۔۔ ایسے کیوں بیٹھی ہو یہاں؟ “
غزالہ نے پریشان سے لہجے میں سوال پوچھا کیونکہ مالا کے چہرے کی پریشانی اور الجھن عجیب سی تھی ۔
” اماں پوری نماز پڑھ لے پہلے مجھے بات کرنی ہے “
آہستگی سے اُسے لہجے میں کہا
” اچھا تو بھی اٹھ نماز پڑھ پہلے اور دور رکھ اس منحوس ماری گڑیا کو ، صبح صبح نماز نا قرآن اس بت کو ہاتھ میں لے کر بیٹھی ہے “
غزالہ نے اب ماتھے پر بل ڈال کر ڈپٹا تھا ، مالا جیسے ہی وضو کی غرض سے اٹھنے لگی تو چند گھنٹے پہلے کا خواب ذہن میں گھوم گیا ، غزالہ پھر سے نماز شروع کر چکی تھی ۔ مالا ویسے ہی پریشان حال پاس بیٹھی رہی ، غزالہ نے جیسے ہی دو رکعت کے بعد پھر سے سلام پھیرا تو غصے سے گھور کر مالا کی طرف دیکھا۔
” جب سے بڑی ہوٸ ہے ، نماز سے بہت دور ہو گٸ ہے تو کسی دن اچھے جوتے لگاٶں گی نا تب جا کر عقل آۓ گی “
غزالہ نے اس کی پریشانی اور خوف زدہ چہرہ سے بے اعتناٸ برتتے ہو غصے سے ڈپٹا ۔
” اماں مجھے خواب آیا ہے آج ۔۔۔ “
کھوۓ سے لہجے میں وہ غزالہ کی باتیں سنی ان سنی کر کے گویا ہوا ، غزالہ نے سوالیہ انداز میں دیکھا
”کیسا خواب ۔۔۔ ؟ “
جاۓ نماز کا کونہ موڑا اور پاس پڑی تسبیح کو اٹھا کر ہاتھ میں ڈال لیا ، تسبیح غزالہ کے ہاتھ میں لڑھک کر سیدھی ہوٸ ۔ اور چھوٹے چھوٹے گول دانوں والی تسبیح اب غزالہ کے ہاتھوں میں گھومنے لگی تھی ۔
” اماں رمنا آپا آٸ ہے میرے خواب میں “
مالا نے کرب ناک سی آواز میں بتایا اور پھر آہستہ آہستہ وہ غزالہ کو اپنے تینوں خواب اور بٹن کے بارے میں بتاتی چلی گٸ ۔ اب بٹن غزالہ کے ہاتھ میں تھا ، دھاگے میں پرویا ہوا شربتی بٹن جس پر باریک باریک کالے رنگ کی لاٸنز لگی تھی ۔ غزالہ نے کچھ دیر یونہی بٹن کو گھورنے کے بعد مالا کی طرف دیکھا جو پریشان حال بیٹھی تھی تسبیح ایک طرف رکھی ۔
” تو نے بچپن سے ہی یہ ذہن میں رکھا کہ آپا کے ہاتھ میں یہ بٹن تھا ، اس لیے کسی دن وہ یہ وہ لینے آۓ گی ، بس انہی سوچوں کی وجہ سے تجھے ایسے خواب آتے ہیں ، خوابوں کا حقیقت سے نہیں آپ کی سوچوں سے تعلق ہوتا ہے ، جو کچھ سوچتے رہو گے وہی خواب بن کر آۓ گا “
غزالہ نے بٹن اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ اسے سمجھایا تھا ۔ مالا نے بٹن غزالہ کے ہاتھ سے تھاما اور پھر اسے غور سے دیکھنے لگی ۔
” اماں لیکن یہ کیوں تھا آپا کے ہاتھ میں ؟ ، یہ کس کا بٹن ہو گا ؟ اس وقت آپا کے ہاتھ میں کیوں تھا “
مالا نے الجھے سے لہجے میں وہ سوال پوچھ لیے جو تین گھنٹے سے اس کے ذہن کو تنگ کیے ہوۓ تھے ۔
” آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ جانے کیا کرتی پھر رہی تھی شاٸد کسی کا بٹن ٹوٹ گیا ہو ، ہاتھ میں لیے ٹانکنے کو بھاگی پھر رہی ہو ، سارا دن تو ادھر اُدھر مہمانوں کے کاموں میں بھاگی پھرتی تھی پگلی میری “
غزالہ کا لہجہ بھیگا ہوا تھا ، ایسے جیسے مالا نے اس کے پرانے زخم کو کُرید کر پھر سے تازہ کر دیا ہو ، مالا نے حیرت سے ماں کی طرف دیکھا ، بٹن سے خون نکلنا ، رمنا کی پیٹھ کے پیچھے پیوست خنجر ، اس کا دلہن سے کفن میں لپٹی میت میں تبدیل ہو جانا یہ سب خواب پھر اتنے عجیب و غریب کیوں تھے ۔
” چل اب اٹھ جا نا ۔۔۔ نماز کا وقت گزرا جا رہا ہے ، بہن کو پڑھ کر کچھ بخش دے اسی لیے خواب میں آتی ہے “
غزالہ نے زور سے مالا کا کندھا ہلایا تھا ، وہ جو کھوٸ سی بیٹھی تھی ہل گٸ ۔
” چل اٹھا جا اب ۔۔۔ میں رملا کو بھی اٹھاٶں “
غزالہ نے جاۓ نماز سمیٹتے ہوکہا
” اماں ۔۔۔ وضو خانے تک چلو میرے ساتھ مجھے ڈر لگ رہا ہے “
مالا نے خوفزدہ لہجے میں غزالہ سے التجا کی ، غزالہ نے تاسف سے پیچھے مڑ کر دیکھا
” اچھا چل ۔۔۔ “
غزالہ نے ٹھنڈی سانس خارج کی ، وہ خواب سے ڈر گٸ تھی اور ابھی اٹاری اور صحن سب اندھیرے میں ڈوبے ہوۓ تھے ۔ وہ غزالہ کے ساتھ وضو کر کے آٸ اور پھر نماز پڑھ کر ، دعا مانگ کر دل کو تھوڑا سکون ملا ۔۔۔ اب باقاعدگی سے نماز پڑھوں گی اللہ میاں ایک بھی نہیں چھوڑوں گی بس مجھے ایسا کوٸ خواب نا آۓ دوبارہ اللہ سے گڑ گڑا کر دعا مانگنے کے بعد وہ پرسکون ہو گٸ تھی ۔
********
حاکم قصر کی در و دیوار نۓ رنگ و روغن ہونے پر چمچم کر رہی تھیں ، پچھلے دس دن سے حویلی میں معمولی مرمت اور دیواروں پر رنگ و روغن ہو رہا تھا ، منہا اور فرہاد کی شادی کو بس ہفتہ بھر باقی تھا ۔
باہر مزدور نردبانوں کو دیوار سے ٹکاۓ اس پر چڑھ کر حویلی کی دیواروں کو رنگ و روغن کر رہے تھے ، سارا سامان بکھرا ہوا تھا ، کچھ کہیں اور کچھ کہیں ، خواتین کمروں میں مزدوروں سے پردہ کیے سارا دن بیٹھی رہتی تھیں اور عصر کے بعد مزودروں کے جانے پر ہی باہر نکلتی تھیں ۔
تاری بوا نے شمو کو بھی اس کے سسرال سے بلا لیا تھا ، وہ خود تو اب بہت نحیف البدان ہو گٸ تھی اس لیے شمو اور سکینہ زیادہ کام کرتی تھیں ، شمو ، تاری اور سکینہ سارا دن مزدوروں اور گھر والوں کے کاموں کے لیے پھرکی کی طرح حویلی میں گھومتی پھرتی تھیں۔
آج بس یہ رنگ و روغن کا آخری دن تھا اور کل منہا کو مایوں بیٹھانا تھا ، اب بھی خدیجہ بیگم کے بڑے کمرے میں زمین پر چادر بچھاۓ سب لوگ ایک ہی جگہ جمع تھے زیب آج صبح ہی اپنے بال بچوں سمیت حویلی پہنچی تھی ، اور اب کمرے میں ایک طرف چٹاٸ بچھاۓ مالا ، رملا ، زیب کی بیٹی انعم منہا کے بازٶں اور ٹانگوں پر ابٹن ملنے میں مصروف تھیں ۔
رنگ برنگی چٹاٸ پر بازو اور ٹانگیں ارد گرد بیٹھی لڑکیوں کے ہاتھوں میں دیے منہا اداس صورت لیے بیٹھی تھی ، آنکھیں سوزش لیے ہوۓ تھیں اور ناک سرخ ہو رہا تھا ۔
کچھ دور پلنگ پر بیٹھی اریب اور زیب مونگ پھلی کھانے میں مصروف تھیں اور ایک طرف غزالہ اور بلقیس تاری بوا کے ساتھ مل کر لڈو بنا رہی تھیں ۔ اریب نے زیب کی طرف کن اکھیوں سے دیکھا وہ متواتر مسکاۓ جا رہی تھی ۔
” تو کیا من ہی من ہنسے جا رہی کیا دیکھ رہی ہے اُدھر “
اریب نے زیب کو بازو سے ہلکا سا ٹہوکا تو وہ جو سامنے چٹاٸ کی طرف دیکھ کر ہنس رہی تھی اریب کی طرف متوجہ ہوٸ ۔اور آنکھ کے اشارے سے پہلے اریب کو سامنے چٹاٸ کی طرف متوجہ کیا پھر اس کے کان کے قریب ہوۓ سرگوشی کی
” آپا میں سوچ رہی تھی اللہ کی شان بھی نرالی ہے جوڑ بناتا بھی ہے اور پھر ایسے ان کو تکمیل دیتا ، وہ دیکھ ذرا سامنے مالا کہیں سے لگ رہی منہا سے آٹھ سال چھوٹی ہے ، یہ قد کاٹھ نکالا ہے ، اور وہاں ہمارے تقی میاں ابھی بھی بیس کے لگتے “
زیب کی سرگوشی پر اب اریب بھی سامنے بیٹھی مالا کو نظروں میں جانچنے لگی تھی ، وہ سبز رنگ کے جوڑے میں کھلتا گلابی گلاب لگ رہی تھی ، کمر تک آتی موٹی بالوں کی چوٹی آگے کر رکھی تھی ، منہا کے کان میں باتیں کر کے ہنستی ہوٸ مالا کہیں سے بھی منہا سے چھوٹی نہیں لگ رہی تھی۔
” ارے تقی اور منہا تو اپنی ماں پر ہیں چوہے ۔۔۔ موہے ۔۔۔ ، میرے بیٹے کو پتانہیں اس سانولی سی منہا میں کیا سُرخاب کے پر لگے نظر آتے ہیں جو یوں دیوانہ ہو گیا اس کے پیچھے “
اریب نے کٹیلے لہجے میں ناک چڑھا کر کہا اور پھر ایسے ٹھنڈی آہ بھری جیسے پتا نہیں کتنے ارمان مر گۓ ہوں ۔
” ارے آپا ۔۔۔ تقی تو اتنا خوبصورت ہے رنگ بھی صاف بلکل ابا جی پر ہے وہ بھی تو کہاں لگتے اپنی عمر جتنے ، عمر چور ہیں اور یہ مالا تو مرحوم چھوٹی اماں پر گٸ ہے ہو بو ہو ۔۔“
زیب نے مونگ پھلی منہ میں ڈال کر سرگوشی کی ، اریب نے گردن کو داٸیں باٸیں خم دیا۔
” اتنا میٹھا کھاتی ہے اللہ رے توبہ ۔۔۔ جس رفتار سے یہ قد کاٹھ نکال رہی ہے مان نا مان اگلے دو سالوں میں تو تقی کی اماں لگے گی “
اریب نے بے زار سی صورت بناۓ مالا کے دلکش سراپے پر ایک نظر ڈالے جل کر اپنے خیالات بتاۓ جس پر زیب کا تو قہقہ امڈ آیا ۔
*******
یہ خدیجہ بیگم کا کمرہ تھا جس کے وسط میں فرش پر بنے پتھروں کے رنگ برنگے پھلوں کے اوپر رکھی گٸ انگیٹھی میں کوٸلے دھک رہے تھے ، سیاہ کوٸلوں میں سرخ ، نارنجی روشنی اور نارنجی رنگ کے چھوٹے چھوٹے ذرارات پٹک۔۔۔ پٹک ۔۔۔۔ کی مدھم سی آواز کے ساتھ ہلکے ہلکے اوپر کو اٹھ رہے تھے ۔
کوٸلے دھکنے کی خوشبو کمرے کے ہر کونے سے آ رہی تھی۔ خدیجہ بیگم اپنے پلنگ پر کمخواب کپڑے کے کور والے لحاف میں ٹانگیں چھپاۓ بیٹھی تھیں اور پلنگ کے پاس رکھے حقے کی نلی کو منہ میں ڈال رکھا تھا ۔ پورے کمرے میں گُڑ۔۔ڑ۔ڑ ۔۔۔ گڑ۔۔۔۔ کش لگانے کی آواز گونج رہی تھی ، پلنگ کے بلکل پاس موڑھے پر غزالہ پریشان حال صورت لیے براجمان تھی ۔
منہا اور فرہاد کی شادی کو چار روز باقی تھے ، دو دن پہلے تقی اپنے سارے سازو سامان کے ساتھ حویلی پہنچا تھا اور اگلے ہی روز اس نے شور ڈال دیا کہ مالا کی بھی رخصتی کی جاۓ منہا اور فرہاد کی شادی کے ساتھ ہی ۔ غزالہ کے تو ہاتھ پاٶں پھول گۓ تھے ، نا کوٸ تیاری نا کچھ پر تقی تھا کہ کسی کی بھی سننے کو تیار نہیں تھا بضد بس کے رخصتی کروا دیں ۔
” بی جی آپ بات کریں اسے سمجھاٸیں ، ابھی سولہ کی ہوۓ کو بھی کچھ ماہ گزرے ہیں ، پہلے تو کہتا تھا بیس کی ہو جاۓ اب کیا ہو گیا جو کسی کی سن ہی نہیں رہا “
غزالہ نے التجاٸ لہجے میں کہا اور پھر ڈرتے ہوۓ ، سامنے ماتھے پر بل ڈالے بیٹھی خدیجہ بیگم کی طرف دیکھا ۔ خدیجہ بیگم نے حقے کو ھاتھ سے گھمایا اور نخوت سے دہانہ ہاتھ اوپر اٹھایا
” میں کیا سمجھاٶں اس نگوڑ مارے کو ، تیری چنڈال بھی تو نہیں رُکتی یہ قد کاٹھ ، رنگ و روپ نکالا ہے اور پھر اس کے سامنے کبھی ادھر کبھی اُدھر ، ہزار بار سمجھایا ہے تقی جب آوۓ اس کو کہا کر ٹک کر رہے پر نہیں ، جوان خون ہے اب بُھگت “
خدیجہ بیگم نے تو کبھی کسی کا لحاظ نہیں کیا تھا ناک بھینچے غزالہ کو ہی سنا دیں غزالہ گڑ بڑا گٸ ۔
” بی جی شادی والا گھر ہے کام کاج اتنے ہیں وہ کون سا جان بوجھ کر تقی کے سامنے جاتی تھی “
غزالہ نے سر جھکاۓ مالا کی سفارش کی ، تقی کے یوں شادی پر بضد ہو جانے کی ساری وجہ مالا کو کہا جا رہا تھا ، جتنے منہ تھے اتنی باتیں کہ تقی نے پہلے دیکھا نہیں تھا دور بیٹھا اکڑ دکھا رہا تھا کہ شادی دو سال بعد کرے گا اب آ کر ایسا دیوانہ ہو گیا کہ ایک دو ماہ بعد کے لیے بھی نہیں مان رہا تھا ۔
” تو اب مسٸلہ کاہے کا ہے تجھے ، پہلے بھی تو اس کی رخصتی منہا ، فرہاد کی شادی کے ساتھ ہی طے پاٸ تھی نا اب کاہے کی فکر کھاۓ جاوے ہے تجھے ؟ “
خدیجہ بیگم نے الجھ کر اس کی پریشان حال صورت کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا کیونکہ سب سے زیادہ غزالہ ہی رخصتی ابھی نا کرنے کا کہہ رہی تھی ۔
” بی جی ، بھاٸ جی نے داج بنانا تھا ، پہلی بھانجی ہے وہ اب چار دن میں کیسے کریں سب کچھ “
غزالہ نے ہاتھ مڑوڑتے ہوۓ اپنی پریشانی ظاہر کی ، غزالہ کے دو بھاٸ تھے ، رسم و رواج کچھ ایسا تھا کہ بہن کی سب سے بڑی بیٹی کے داج میں ننھال نے حصہ ڈالنا تھا ، اب غزالہ کے میکے والے اس بات کو لے کر پریشان تھے کہ وہ چار دن میں کیسے سب کچھ کریں گے ۔
” تجھے عقل اللہ نے ہی کم دی ہے ، میں تو تیرے اماں باوا کا قصور سمجھتی رہی ، داج کیا بعد میں نا بن سکے گا ، اللہ کا نام لے اور بیٹی کی رخصتی کی تیاری پکڑ بنتا رہے گا داج ، پھری سی بُدھی کا تقی ہے اب کہہ رہا ہےرخصتی تو کر دیو ، پیچھے بھی دو لاٸن لگاوے بیٹھی ہیں جن کا کرنا بھی باہر ہووے گا “
خدیجہ بیگم نے دو ٹوک لہجے میں اپنی بات مکمل کی اور حقے کی نلی کو منہ میں دبا لیا اب غزالہ بس حقے کی گُڑ گُڑ ہی سن رہی تھی ۔ افسردگی سے سر کو اثبات میں ہلا کر اٹھی اور باہر نکل گٸ ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: