Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 12

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 12

–**–**–

چمچاتی ، برقی قمقوں سے لدی حویلی ہر ذی روح کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی ، رشتے ، ناطے والے چھوڑ کر بھی لوگ آج حاکم قصر کی سجاوٹ اور شان و شوکت دیکھنے آ رہے تھے۔
آج حویلی میں موجود دونوں جوڑوں کی مہندی کی رات تھی ، حویلی اندر باہر سے مہمانوں سے کھچا کھچ بھری تھی دو شادیاں اکٹھی تھیں اس حساب سے مہمانوں کی تعداد بھی زیادہ تھی ۔
اریب منہ بناۓ کبھی کسی کمرے میں جا رہی تھی تو کبھی کسی کمرے میں ، جاڑے کے دن تھے اس لیے ہر کوٸ اٹاری اور کمروں میں گھس رہا تھا ، جگہ جگہ انگٹھیاں جلاٸ گٸ تھیں جہاں انگیٹھی دھر دی جاتی وہیں اردگرد مہمان اکٹھے ہو جاتے چاۓ کا پتیلا تو مانو چولہے سے اترا ہی نہیں تھا ۔
جہاں انگیٹھی ٹھنڈی ہوتی تاری بوا جھٹ چولہے سے دھکتے کوٸلے لا کر انگیٹھی میں رکھ دیتی ، فرہاد تو چہکتا پھر رہا تھا کبھی کہیں بیٹھا شغل لگا رہا ہوتا تو کبھی کہیں جبکہ تقی بیرونی برانڈوں میں گاٶں کے بہت سے سمجھدار بزرگوں کے ساتھ بیٹھا اپنے ہسپتال کی بیناد اور جگہ کے بارے میں باتیں کر رہا تھا ، کتنی ہی دفعہ باہر پیغام بھجوایا گیا کہ تقی میاں کو اندر بھیج دیں ان کی مہندی کی رسم کرنی ہے ، پر تقی میاں نے جواب بھیج دیا یہ کوٸ ضروری رسم نہیں ہے اس کے حصے کی مہندی بھی مالا کو ہی لگا دی جاۓ اس کے اس جواب پر جہاں بزرگ خواتین بڑبڑانے لگی تھیں وہاں جوان خواتین اور دوشیزایں منہ پر ہاتھ دھرے کھی کھی کرتی کانا باتی کرنے لگی تھیں ۔
مالا اپنے کمرے کے پلنگ پر ، سرخ سفید ملاپ کی گداز ہتھیلیوں اور پاٶں کی ایڑیوں اور انگلیوں پر گیلی مہندی لگاۓ بیٹھی تھی جو دیکھنے والے کی آنکھوں کو خوشنما اور ٹھنڈک جیسا احساس پیدا کر رہی تھی ۔
وہ پیلے جوڑے میں گلال ہوتی ، ہوش رباٸ کی آخری حدود کو چھو رہی تھی ، پیلے دوپٹے کے آگے لگی سنہری کرن چہرے کے چاروں اطراف ڈھال بناۓ ہوۓ تھی اور اس میں اس کی من موہنی صورت اور چمکتی آنکھیں اس کی خوشی کی عکاسی کر رہی تھیں ۔
اُسے تو پرواہ تک نا تھی کہ اس کے اردگرد موجود حویلی کے مکیں اور باقی لوگ کیا کہہ رہے ہیں کیا نہیں اُسے تو بس یہ خبر ہی سر شار کر رہی تھی کہ تقی رخصتی کے لیے بضد تھا اور کل اس کی زندگی کی سب سے حسین رات ہو گی ۔
اس کی سہیلیاں اس کے اطراف میں بیٹھی میٹھی میٹھی سرگوشیوں کو اس کے کانوں میں انڈیل کر اس کی دل کی دھڑکنیں بڑھا رہی تھیں جس کے سبب وہ کبھی تو شرما کے گلال ہوتی تو کبھی گال تپنے لگتے ۔ پورے کمرے چوڑیوں کی کھنک ، اور کھکھی کے ساتھ مہندی کی سوندھی سی خوشبو ناک کے نتھنوں میں گھس کر فرحت بخش احساس دے رہی تھی۔
” مانو نا مانو ۔۔سارا جادو اس من موہنی صورت کا چلا ہے ڈاکٹر صاحب پر “
ثریا نے تھوڑا سا آگے ہوتے ہوۓ مالا کے ٹھوڑی کو ہاتھ میں لے کر اس کے چہرے کو اوپر اٹھایا اور پھر شرارت سے ہلکا سا جھٹکا دے کر چھوڑ دیا ، وہ لجا کر سمٹی اور پھر مصنوعی گھور کر کھی کھی کرتی ثریا اور تبسم کی طرف دیکھا ۔
”آۓ ہاۓ شرمانا تودیکھو ہماری شہزادی کا ، آخر کو مار ہی ڈالا تمھارے حسن نے اس اکڑو ڈاکٹر کو “
تبسم نے بھی مالا کے کندھے پر شرارت سے اپنا کندھا مارتے ہوۓ چھیڑا تھا ۔ اور وہ مہندی کو بچاتے ہوۓ کبھی شرما رہی تھی تو کبھی مسکا رہی تھی اپنے ہاتھوں پر لگی مہندی کے خراب ہونے کی فکر اسے کھاۓ جا رہی تھی ۔
” ہاۓ مالا اب تو آگے پیچھے پھریں گے تقی بھاٸ ، یہ نۓ نۓ جوتے کپڑے ہوں گے تیرے پاس ، تو اب ریڈ لپسٹک بھی آرام سے لگا سکے گی “
ثریا کے لہجے میں حسرت بھری تھی ، وہ اب غیر مرٸ نقطے کو دیکھتے ہوۓ اسے حسین خواب دکھا رہی تھی جو اس کے کل شادی کے بعد سے تقی کے سنگت میں حقیقت میں بدلنے والے تھے ۔
” اور تجھے تو اب پڑھنا بھی نہیں پڑے گا مالا تیری تو جان چھوٹی قسم سے “
تبسم نے اداس صورت بناۓ اسے ایک اور خوشخبری سنا دی ، شادی کے بعد لڑکیاں بلکل پڑھاٸ لکھاٸ چھوڑ دیتی ہیں اور بس بال بچے اور شوہر میں لگ جاتی ہیں یہ بات تو وہ باخوبی جانتی تھیں ۔
“ افف میری شادی کب ہو گی “
تبسم نے حسرت سے کہا ، اور پھر گہری سانس لی جس پر مالا اور ثریا تو کھلکھلا دیں۔ ثریا نے بمشکل ہنسی روکی اور تبسم جو خلا میں حسرت سے گھور رہی تھی اس کے کندھے کو ہلایا
” بچو ابھی کوٸ آثار نہیں ہر کوٸ مالا کی طرح خوش قسمت تھوڑی نا ہوتا ہے ، اتنا پڑھا لکھا ڈاکٹر شوہر اور ایسے۔۔۔ے۔۔۔ے۔۔۔ے مر مٹا کہ ۔۔۔ پورے گھر والوں سے کہہ کر تین دن میں رخصتی رکھوا دی “
ثریا نے منہ پر ہاتھ رکھے شرارت سے مالا کی طرف دیکھا ، مالا کے تو جیسے پنکھ نکل آۓ تھے اور خیالوں میں وہ آسمان تک کی پرواز کر آٸ تھی ۔
ثریا اور تبسم کی باتوں نے تو اسے ایسے حسین خواب دکھاۓ کہ اس کی دل کی دھڑکن نے سانس لینا ہی کٹھن بنا دیا ۔
” اب بس بھی کرو تم دونوں میرا ابھی سے سانس رک رہا ہے “
مالا نے لجاۓ سے لہجے میں جملا ادا کیا اور مسکراہٹ کو روکنے کی ناکام کوشش کی
” ہاۓ ۔۔ دیکھ تو کیسے گلابی ہوۓ چلی جا رہی ہے رہبر ناول کی نجمہ کی طرح “
ثریا نے شریر سے لہجے میں کہتے ہوۓ اسے چھیڑا اور مشہور ناول کی ہیروٸین کا نام لیا جس پر کہانی کا ہیرو بری طرح مرمٹا تھا ۔ وہ بہت دیر سے یونہی مالا کے گرد بیٹھیں باتیں کر رہی تھیں ۔ مالا نے اپنے ہاتھوں کی مہندی کی طرف دیکھا
”اچھا سن ذرا باہر سے مٹھاٸ لا کر میرے منہ میں ڈال دے “
مالا نے بیچارگی سے ساتھ بیٹھی ثریا سے فرماٸش کی
” لو سن لو ان کو اب بھی مٹھاٸ کی پڑی ہے میں ہوتی تو بھوک پیاس ہی مر جاتی “
تبسم نے مسکراہٹ دباۓ کہا جبکہ ثریا مالا کے پھر سے گھورنے پر اٹھ کر باہر چل دی ۔ مالا اپنی مہندی کو دیکھ کر مسکرانے لگی ۔
**********
مسہری کی لڑیاں جو کاغز کے رنگ برنگ کے پھولوں اور سنہری پنوں کی مدد سے بنی ہوٸ تھیں اوپر چھت سے جڑی پلنگ کے ارد گرد نیچے لٹک رہی تھیں ۔
اور پلنگ پر مالا سرخ رنگ کا جوڑا زیب تن کیے بیٹھی تھی ، ریشمی جارجٹ کا قمیض شلوار تھا جسے کے گلے اور پانچوں پر گوٹے کی بس تین تین لاٸن لگی تھیں ، سرخ کریب کا دوپٹہ تھا جس پر گوٹے کا کام تھا اور کناروں پر سنہری کرن تھی ۔ چار دن کے قلیل وقت میں تیار کیا یہ عروسی جوڑا اس کے پہنتے ہی اپنی قدرو قیمت بڑھا گیا تھا ۔
غزالہ کا سونے کا ہار گلے میں اور ماتھے پر بڑا سا ٹیکا لگاۓ اور ناک میں بلقیس کی دی ہوٸ سونے کی باریک سی چوڑی نتھ پہنے ہلکا سا فرزانہ آپا کے ہاتھ سے کیے ہوۓ سنگہار نے اس کے حسن کو دوبالا کر دیا تھا ۔ شام چار بجے وہ ایک کمرے سے رخصت ہو کر تقی کے کمرے میں آ گٸ تھی اور یہاں چار بجے سے اب چھ بجے تک عورتوں کا ہی جھمگٹا لگا رہا تھا ، پھر مغرب کی اذان کے بعد ہی کھانے اور چاۓ کے بعد اب سارے اپنے اپنے کمروں میں دبک گۓ تھے ۔
تاری بوا کچھ دیر پہلے آ کر اس کے کمرے میں تازہ کوٸلوں سے دھکتی انگیٹھی رکھ گٸ تھیں جس سے اب کمرہ کافی حد تک گرم محسوس ہو رہا تھا ۔
کمرے سے باہر اب کافی خاموشی ہونے لگے تھی کچھ دیر پہلے بلقیس کمرے میں آ کر اس کے دوپٹے کو آگے کرتے ہوۓ گھونگھٹ نکال گٸ تھی کہ بس تقی اب کمرے میں آنے والا ہے ۔ اس کو ساتھ لگا کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کمرے سے باہر نکل گٸیں ۔
گھونگھٹ جیسے ہی چہرے کے آگے آیا ہلکا سا اندھیرا سا چھا گیا گوٹے کے کام سے لدا سرخ دوپٹہ تھا جس کے باعث باہر کمرے کی پیلی روشنی اب سرخ رنگ کی ملگجی سی روشنی میں تبدیل ہو گٸ تھی ۔ وہ پوری آنکھیں کھولے ڈیلے پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی تھی کہ اسی لمحے تقی کمرے میں داخل ہوا ، سفید کُرتا اور شلوار پہنے بالوں کو سلیقے سے اطراف کی مانگ میں سجاۓ وہ مخصوص سنجیدہ سی صورت کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا ۔ مالا اب گھونگھٹ کی اوٹ سے دھیمے دھیمے مسکراتے ہوۓ اس کو دیکھ رہی تھی ۔
کمرے کا دروازہ بند کیے وہ آگے بڑھا تو اس کے ہر قدم کے ساتھ مالا کی دھڑکن کی رفتار بھی بڑھی ، ایسا لگ رہا تھا آج تو دل کمبخت پسلیاں توڑ کر باہر نکل آۓ گا ۔
تقی جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا مالا سرخ رنگ کی پوٹلی صورت پلنگ پر بیٹھی تھی دوپٹہ کھینچ کر لمبا سا گھونگھٹ نکال رکھا تھا ۔ تقی نے ایک سرسری نگاہ اس پر ڈالی اور پھر سیدھا کتابوں والے میز کی طرف بڑھا ۔
مالا کو گھونگھٹ کی اوٹ میں کھٹ پٹ کی آوازیں سناٸ دے رہی تھیں ، تقی میز پر سے کچھ اٹھا رہا تھا اور پھر ہاتھ میں کچھ پکڑے جیسے ہی پلنگ کی طرف آیا مالا نگاہیں جھکاۓ سمٹ سی گٸ وہ پلنگ پر بلکل سامنے بیٹھ چکا تھا ۔
افف وہ گھڑی آن پہنچی تھی جس کو چار دن میں پتا نہیں کتنی بار سوچتی رہی تھی ، تقی گھونگھٹ اٹھاۓ گا ، پھر محبت سے اس کے چہرے کو ٹھوڑی سے پکڑ کر سیدھا کرے گا ۔۔۔۔ سفید مہندی لگے ہاتھوں میں پسینہ سا آنے لگا تھا ۔
”مالا ۔۔ “
تقی نے ہاتھ میں پکڑی کاپی کو کھولتے ہوۓ مگن سے لہجےمیں پکارا ، تقی کی زبان سے اپنا نام سن کر مالا کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے رہی تھی ۔ وہ تو اب آنکھییں جھکاۓ اس کے گھونگھٹ اٹھانے کے منتظر تھی ۔
گھونگھٹ کی اٶٹ میں ہی پلکیں زور سے میچ کر وہ ایسے بیٹھی تھی جیسے تقی اسے پٹ کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہو ۔
” مالا۔۔۔۔ اٹھاٶ یہ دوپٹہ یہ دیکھو ادھر “
اوراق پلٹنے کی آواز کے ساتھ تقی نے اب کی بار رعب دار لہجے میں کہا تو مالا جو شرماۓ ، لجاۓ بیٹھی تھی ،اس کے رعب پر آہستگی سے ہاتھ سے دوپٹے کے کنارے تھامے گھونگھٹ کو اوپر اٹھایا ، وہ اپنے پورے جلوے سمیت سامنے بیٹھا تھا ، اگر چندن روپ وہ دھارے ہوۓ تھی تو کم تو وہ بھی نہیں لگ رہا تھا ، مالا نے محبت سے دیکھا پر یہ کیا وہ اس کی طرف تو نہیں بلکہ نیچے کھلی کاپی پر نظریں جھکاۓ بیٹھا تھا ۔
مالا نے اس کی نظروں کے تعاقب میں نگاہ نیچے کی تو دل دھک سے رہ گیا ، اور آنکھیں پوری پھٹنے کی حد تک کھل گٸیں یہ اس کی ریاضی کی کاپی تھی جس میں جگہ جگہ سرخ کاٹے کے نشانات لگے تھے ۔
” یہ تمھاری کاپیاں ہیں اور ٹیسٹ ہیں ؟ “
تقی نے نگاہ اٹھاۓ سپاٹ لہجے میں لب بھینچے اس سے سوال کیا تو وہ جو ناسمجھی اور حیرت کے ملے جلے اثرات میں بیٹھی تھی ، گڑبڑا گٸ چوڑی دار نتھ کے نیچے لب ادھ کھلے رہ گۓ ۔ پھر تقی کے یونہی سوالیہ انداز میں گھورنے پر بمشکل آواز نکلی ۔
”ج۔۔جہ۔۔ جی ۔۔۔۔۔ “
بے ربط سی پھیکی آواز ابھری ، تقی نے بغور اس کے چہرے کو دیکھا جس پر اب ہواٸیاں اڑی ہوٸ تھیں ۔
جس دن وہ حویلی پہنچا تو اس کے کمرے میں بلاوجہ کا دوسرے کمروں کا بھی بہت سا سامان پڑا تھا جن کو غصے سے اٹھا کر باہر نکالتے ہوۓ اچانک مالا کے بستے میں سے اس کی کاپیاں نکل کر نیچے تقی کے قدموں میں گر گٸیں ، اور پھر کاپیاں دیکھ کر تو اس کی آنکھیں کھل گٸیں مالا اس کی سوچ سے بھی زیادہ نالاٸق تھی ۔ وہ یہ کیسے برداشت کر سکتا تھا کہ اس کی زندگی کا اہم حصہ بننے جانے والی لڑکی سولہ سال کی عمر میں بھی دسویں جماعت پاس نا کرتی ، پتہ نہیں استانی جی اور سکول والے اسے کیا پڑھاتے تھے لیکن اب نکاح کے بندھن میں رہتے ہوۓ تو وہ اسے پڑھا نہیں سکتا تھا کیونکہ گھر والے اس بات کو معیوب سمجھتے تھے ، بس پھر کیا تھا صبح اٹھتے ہی تقی میاں نے رخصتی کا علان کر دیا ۔
مالا دم سادھے ، ورطہ حیرت میں تقی کی طرف دیکھ رہی تھی جس کی آنکھوں میں محبت کے کوٸ آثار نہیں تھے وہ اتنی ہوش ربا لگ رہی تھی پر سامنے بیٹھے تقی نے اس کے ہوش اڑا دیے تھے ، اپنی شادی کی پہلی رات وہ اسے اس کے ٹیسٹ کی کاپیاں کیوں دکھا رہا تھا ، نا پیار سے دیکھا نا تعریف کی نا ہاتھ پکڑا اور نا کوٸ اور جسارت
” تمہیں واقعی میں کچھ بھی نہیں آتا ۔۔۔ مطلب نا ریاضی ، نا یہ دیکھو انگلش ۔ ہر ٹیسٹ میں زیرو ۔۔۔ایک ۔۔۔ دو سے زیادہ نمبر نہیں ملے ہوۓ تمہیں“
تقی کی پیشانی پر اب بل پڑے تھے ، وہ ساتھ ساتھ کاپی کے اوراق پلٹ رہا تھا اور ساتھ ساتھ غصے سے سامنے عروسی جوڑے میں بیٹھی اپنی دلہن کو جھاڑ رہا تھا ۔
” ٹینس نہیں آتے ، سپلنگز اتنے غلط ہیں اور پھر یہ ساٸنس کی کاپی ، املا کا حال دیکھو اپنا “
تقی نے انگلش کی کاپی غصے سے ایک طرف پٹخی اور ساتھ پڑی ایک اور کاپی اٹھاٸ اور اس کے اوراق تیزی سے پلٹتے ہوۓ کہا۔
” تمہیں پتا بھی ہی دسویں جماعت کے امتحان میں کتنے مہینے باقی ہیں ؟ “
تقی نے گھور کے سوال پوچھا ، وہ تو ہونق بنی بیٹھی تھی ، خوف زدہ چہرے کے ساتھ تقی کو دیکھا
”صرف تین ۔۔اور تمھاری تیاری یہ ہے تم تو فیل ہو جاٶ گی بورڈ کے امتحان میں ، اور استانی جی ۔۔۔۔۔پتہ نہیں وہ کیا پڑھاتی رہی ہیں تمھیں “
تقی نے جھنجلا کر کاپی ایک طرف رکھی ، مالا کا سانس خشک تھا اور آنکھیں ابھی بھی بے یقینی سے تقی کو دیکھ رہی تھیں ۔ جو اب ماتھے پر بل ڈالے اس پر پورا حق جتا رہا تھا ۔
” یہ تمھارا بستہ میں نے اس رات دیکھا جب میں لاہور سے واپس آیا تھا ، مجھے اتنی پریشانی ہوٸ تم اتنی نالاٸق ہو میں تو تمہیں پتا نہیں کتنا پڑھانے کا سوچے بیٹھا تھا اور تم ہو کو میٹرک فیل کا ٹھپا لگانے کے لیے تیار بیٹھی تھی “
تقی نے تاسف سے لب بھینچے ایک غصیلی نگاہ اس پر ڈالی وہ اب نادم اور ڈری سی بیٹھی تھی ۔
” اب ویسے تو تمہیں پڑھا نہیں سکتا تھا اس لیے سوچا رخصتی کروا لوں اور ان تین مہینوں میں ، میں خود تمہیں پڑھاٶں گی تیاری کرواٶں گا ایک تو ویسے ہی میٹرک کی عمر سے زیادہ عمر ہے پھر اب کی بار بھی فیل ہو جاٶ گی تو آگے کیسے پڑھو گی “
تقی غصے میں بھرا بول رہا تھا اور وہ جس کے ارمانوں پر اوس نہیں منوں مٹی پڑی تھی حواس باختہ تقی کو دیکھ رہی تھی ۔ تقی نے پاس پڑے کچھ کاغذ اٹھاۓ جو وہ ایک خاکی رنگ کے لفافے میں سے نکال رہا تھا ۔
” یہ پچھلے پانچ یا چھ سالوں کے امتحانی پرچے ہیں “
تقی نے پرچے ایک ایک کر کے الگ کرتے ہوۓ اسے دکھاۓ ۔ مختلف سالوں کے دسویں جماعت کے پرچے تھے
” ان تین مہینوں میں تمہیں ان سے تیاری کرواٶں گا ، بس یہ پرچے تیار کر لو پاس ہو جاٶ گی ان شاء اللہ ، روز رات کو جو کچھ میں دیا کروں گا سمجھایا کروں گا ، وہ اگلی رات سنا بھی کروں گا اور لکھوا کر بھی دیکھوں گا “
تقی ہدایات جاری کر رہا تھا اور وہ ویسے ہی بیٹھی تھی ، کر بھی کیا سکتی تھی جا بھی کہاں سکتی تھی ، سب کچھ ایک چھناکے سے ٹوٹ گیا تھا ، تقی کہاں اس کے حسن میں گرفتار ہوا تھا وہ تو اس کی نالاٸقی میں گرفتار ہوا تھا اور نکاح کا حکم جاری کر دیا ۔
شادی کی پہلی رات جہاں دوسری دلہنوں کو محبت بھرے جملے اور لمس ملتے ہیں وہاں اسے ڈانٹ مل رہی تھی پرچے مل رہے تھے ۔ دل کر رہا تھا اپنے سامنے بیٹھے اپنے اس شوہر کو جھنجوڑ کر رکھ دے کہ پورا گاٶں آج اس کے حسن کے قصیدے پڑھتے گیا ہے وہ خود آٸینے میں اپنا عکس دیکھ کر ششدر رہ گٸ تھی کہ اس پر کتنا روپ آیا ہے پر یہاں اس کھڑوس کو اس کے زیرو نمبر والے پرچے نظر آ رہے تھے لیکن اس کا دو آتشہ حسن نظر ہی نہیں آ رہا تھا ۔
” آج رات تو بہت دیر ہو گٸ ہے کل سے ٹھیک سات بجے تم کمرے میں ہوگی ، بہت کچھ سیکھانے والا ہے تمہیں “
تقی نے کاپیاں سمیٹتے ہوۓ رعب سے حکم جاری کیا اور وہ تو سر بھی نا ہلا سکی ۔
” سکول بھی جاٶ گی تم کوٸ چھٹی نہیں ہو گی اور رات کو جب میں واپس گھر آٶں تب تک سب کچھ یاد ہونا چاہیے سمجھی “
تقی اب انگلی کھڑے کیے اسے خبردار کر رہا تھا چوڑی لبوں سے ٹکرا رہی تھی ، اور اس حسن کی دیوی کے اتنی سردی میں بھی ہاتھ پاٶں سامنے بیٹھے تقی کے رعب سے گرم ہو گۓ تھے۔ اتنا رعب تو آج تک کسی نے نہیں چلایا تھا اس پر ایک وہی تو تھا اس کے دل کے تخت کا مالک جو یوں اسے چاروں شانے چت کیے ہوۓ تھا ۔
”سو جاٶ اب آرام کرو شاباش “
تقی نے اس کی کتابیں سمیٹیں مصروف انداز میں ایسے کہا جیسے وہ کوٸ بچی ہو ، کتابیں اٹھا کر میز پر اپنی کتابوں کے ساتھ رکھیں اور خود سامنے کرسی پر بیٹھ کر کچھ کاغذات دیکھنے لگا ۔
مالا نے ایک خفا سی نگاہ اس پر ڈالی ، وہ تو پتہ نہیں کیا نقشے کھول کر بیٹھا تھا پتا نہیں ہسپتال کے تھے ۔ زیور ، ہار سنگہار سب گیا بھاڑ میں ، مالا نے دل مسوس کر سوچا ۔ ایسے تو نہیں سو سکتی میں ، زیور اتارنا پڑے گا یہ سوچ کر تھوڑا سا ہلی تھی کہ خاموش کمرے میں چھن ، چھم ، چھن کی کتنی آوازیں گونج اٹھی ، تقی نے سر اوپر اٹھایا اور اس کی طرف دیکھا ۔
” ہاں کیا ہوا ؟ سو جاٶ اب ۔۔۔ “
بڑے ملاٸم سے لہجے میں کہا اب کی بار ، پر مالا کا دل کیا مسہری نوچ ڈالے اس کا سر پھوڑ ڈالے ، سامنے کوٸلوں سے دھکتی انگیٹھی اس پر الٹا دے پر وہ یہ سب صرف سوچ سکتی تھی جب وہ نگاہ اٹھاتا تھا اس کی گھگھی بندھ جاتی تھی ۔
” مجھے یہ اتارنا ہے سب ۔۔ “
مالا نے معصوم سی صورت بناۓ تقی کی طرف دیکھتے ہوۓ اپنی الجھن کا سبب بتایا ۔
” ہاں اتار لو ۔۔۔ “
آرام سے جواب دیا اور پھر جناب کھڑوسِ اول نقشے پر سر جھکا چکے تھے ۔ اور وہ اپنی قسمت کو کوستی ہوٸ پلنگ پر سے اتری اور سامنے دیوار میں نسب شیشے کے سامنے جا کھڑی ہوٸ ۔
جیسے ہی نگاہ سامنے اپنے عکس پڑی دل خون کے آنسو رویا کیا کوٸ اتنا بھی سنگ دل ہو سکتا ہے کہ اس کے اس روپ کے آگے نا جھکا ، لبوں کو رونے کے انداز میں باہر نکالے زور زور سے زیور اتار کر ایک طرف لگے چھوٹے سے میز پر پٹخا تھپ تھپ زمین پر پاٶں مارتی پلنگ تک آٸ ۔ اور لحاف سر تک تان کر لیٹ گٸ ۔
اس کے لیٹتے ہی تقی نے چور سی نگاہ اس طرف ڈالی وہ لحاف سر تک اوڑھ چکی تھی ، وہ کہاں ابھی اس کو اس کم سنی میں ہی رخصت کر کے لانا چاہتا تھا اور ویسے بھی اس کو مالا کی عادات پسند نہیں تھیں وہ بلکل سنجیدہ مزاج ، شاٸستہ اور سمجھدار نہیں تھی جبکہ تقی کو ذاتی طور پر ایسی لڑکیاں ہر گز پسند نہیں تھیں ۔
تقی نے گہری سانس خارج کی اور اپنی جگہ سے اٹھ کر پلنگ تک آیا ، سب سے بڑا مسٸلہ تو اب سامنے آیا تھا ، مالا کے ساتھ یوں ایک ہی پلنگ کو بانٹنا جو کہ اس کے شاٸستہ مزاج کے بلکل برخلاف تھا اس کو پاس کروانے اور پڑھانے کی نا ٹھان لی ہوتی تو وہ کبھی بھی اسے ابھی اس کمسن سوچ کے ساتھ نا بیاہ کر لاتا ۔
لحاف کا ایک کونا اٹھایا اور ایک کونے میں سمٹ کر لیٹ گیا، جیسے ہی وہ لیٹا تو لحاف میں وہ سمٹ رہی تھی ، شاٸد اب بھی جاگ رہی تھی ، تقی نے آنکھوں پر بازو دھرا اور ذہن کو پرسکون کرتے ہوۓ کب آنکھ لگی خبر ہی نا ہوٸ ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: