Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 13

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 13

–**–**–

فرہاد نے اپنے کمرے کے دروازے کو آہستگی سے کھول کر قدم اندر رکھا ۔ کمرے میں منہا کے داج کی ہر چیز نٸ تھی پلنگ ، سنگہار میز ، لکڑی کا صوفہ ، اس کے آگے پڑی لکڑی کی میز ، مسہری کی لڑیاں لکڑی کے پلنگ کے ارد گرد پھیل کر اسے چاروں اطراف سے ڈھانپے ہوۓ تھیں ۔
اور ان کے بیچ منہا آتشی ، سبز ، اور ہلکے نیلے رنگ کے ملاپ والے جوڑے میں بیٹھی تھی ۔
فرہاد مسکراتا ہوا آگے بڑھا اور مسہری کی لڑیوں کو انگلیوں کی جنبش سے ہٹاتا ہوا پلنگ پر براجمان ہوا ، منہا سے محبت کی تکمیل کی رات نے اسے کے انگ انگ کو خوشی سے سرشار کر رکھا تھا ۔
اس کے بیٹھتے ہی گھونگھٹ سے چہرہ چھپاۓ بیٹھی منہا نے پیروں کو اندر کی طرف اکٹھا کیا ، مہندی لگے پاٶں اب دوپٹے کی اوٹ میں چھپ چکے تھے ، اس کی اس حرکت پر فرہاد کے لبوں پر بےساختہ مسکراہٹ ابھری تھی اس کا یہ لجایا سا روپ فرہاد کے اندر سکون اتار گیا کیونکہ نسبت طے ہونے سے لے کر اب تک اس نے منہا سے کوٸ بات نہیں کی تھی ۔
اسی دلکش مسکراہٹ کو لبوں پر مزین کیے اس نے آگے ہوتے ہوۓ گھونگھٹ کو دونوں ہاتھوں کی مدد سے الٹ دیا تھا ۔ منہا سپاٹ چہرے کے ساتھ نگاہیں جھکاۓ بیٹھی فرہاد کے دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر گٸ تھی ۔ وہ سانولے رنگ و روپ کی پرکشش لڑکی تھی ۔
فرہاد اب محبت پاش نگاہیں اسے دلہن کے روپ میں بدلے خوبصورت چہرے پر مرکوز کیے خاموش بیٹھا تھا ، منہا نے الجھ کر پلکیں گالوں پر کپکپاٸیں تھی وہ کچھ بول کیوں نہیں رہا تھا ۔ چند لمحے یونہی گزرنے کے بعد فرہاد کی آواز نے کمرے کی خاموشی کے سکوت کو توڑا ۔
” آج بھی یوں ہی چہرہ غصے والا رکھو گی اب تو مسکرا دو “
فرہاد کی آواز میں دنیا بھر کی مٹھاس گھلی تھی ، وہ جواب کی منتظر مخمور نگاہیں اب اس پر گاڑے بیٹھا تھا پر منہا نے نا تو کوٸ جواب دیا تھا اور نا ہی چہرے کے تاثرات تبدیل ہوۓ ۔
فرہاد نے کُرتے کی جیب سے مخمل کے کپڑے سے ڈھکی چھوٹی سی سرخ ڈبیا نکالی اور پھر مسکراہٹ کو مزید گہرا کرتے ہوۓ اسکا گھٹنے پر دھرا مہندی لگا ہاتھ تھاما وہ اس جسارت پر ہلکا سا کسمساٸ تھی ۔ سونے کے نقش و نگار والے جال کی چھوٹی سے گول انگوٹھی تھی جس کے نقش و نگار کے بیچ میں چھوٹا سا سرخ نگینہ جڑا تھا۔
” یہ انگوٹھی ابا کے ساتھ خود جا کر بنوا کر لایا تھا “
فرہاد نے سونے کی انگوٹھی کو اس کی انگشت انگلی کے ساتھ والی انگلی میں پہناتے ہوۓ محبت سے کہا اور پھر ہاتھ کو ہلکا سا ہلاتے ہوۓ اس کی طرف بھنویں اچکا کر دیکھا
” بتاٶ تو تمہیں پسند آٸ ؟ “
فرہاد نے تھوڑا سا جھکتے ہوۓ محبت سے پوچھا ، منہا نے ایک نظر انگوٹھی پر ڈالی اور لب بھینچے سر کو اثبات میں ہلانے ہر اکتفا کیا
”اتنی خاموش تم ہو تو نہیں جتنی آج بیٹھی ہوٸ ہو کچھ تو بولو چلو لڑ ہی لو مجھ سے “
فرہاد نے اس کے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں میں پھناساۓ کھیلتے ہوۓ کہا ۔
” م۔۔مجھے نیند آ رہی ہے سونا ہے مجھے “
منہا نے سپاٹ لہجے میں کہا اور ہاتھ فرہاد کے ہاتھ سے کھینچ لیا تھا ، وہ جو منہا کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر بیٹھا تھا اس کے ہاتھ یوں ہی ہوا میں ہی معلق رہ گۓ ، پھر گہری سانس لے کر پاس پڑے گاٶ تکیے پر بازو دھرا
” آج تو نہیں سونے دوں گا“
فرہاد نے شریر سے لہجے میں کہا ، منہا اس کی اس معنی خیز جملے پر عجیب طرح سے جزبز ہوٸ ، پھر فرہاد کی خماری جھلکاتی نگاہوں سے بے نیازی برتتی پلنگ سے اترنے کے لیے آگے ہوٸ ۔
” منہا ۔۔ کیا ہوا ؟ “
فرہاد نے فوراً سیدھے ہوتے ہوۓ پریشان سے لہجے میں پوچھا ، منہا کا متواتر یہ روکھا پن اب عجیب طرح سے کھل گیا ۔ جسے وہ جھجک سمجھ رہا تھا وہ تو اس کی خفگی نکلی
” کچھ نہیں سونا ہے مجھے بہت تھک گٸ ہوں “
منہا کا لہجہ ہنوز روکھاٸ لیے ہوۓ تھا ، وہ فرہاد سے متواتر نگاہیں چرا رہی تھی ، اک ان چاہ رشتہ اتنی جلدی وہ اور اسکا ذہن کیسے قبول کر لیتے ۔
” منہا مانتا ہوں بچپن سے اب تک بہت تنگ کرتا آیا پر یہ بھی سچ ہے بہت محبت کرتا ہوں میں امی سے لڑ لڑ کر یہ رشتہ کروایا ہے میں نے “
فرہاد محبت بھرے لہجے میں اپنی سارے جذبے اس کے گوش گزار کر رہا تھا ، جو وہ کبھی کر نہیں پایا تھا اور در حقیقت وہ کرنا بھی نہیں چاہتا تھا جب تک کہ وہ پورے حق سے اس کی ہو نہیں جاتی ۔
”فرہاد میں بہت تھکی ہوٸ ہوں “
منہا کی آواز کپکپا گٸ تھی ، اس کی یوں بھاری سی بے زار آواز فرہاد کو نادم سا کر گٸ ، ایسا لگا بے تابیاں اور پہلی رات کے ملن کی خوشی بس اسے ہی ہے ۔
“ اچھا ۔۔۔ پریشان ہو ؟ سر دبا دوں تمھارا “
محبت سے اس کے قریب ہوتے ہوۓ پیش کش کی ، جس پر وہ اور بےزار ہوٸ
” نہ۔۔۔نہیں سر میں درد نہیں ہے بس نیند آ رہی ہے سونا چاہتی ہوں “
منہا نے نظریں چراتے ہوۓ روکھاٸ سے جواب دیا اور پھر فوراً پلنگ سے اٹھ کھڑی ہوٸ ۔ چھن چھن کی آواز کے ساتھ سنگہار میز تک پہنچی اور پھر زیور اتار کر سنگہار میز کے دراز میں رکھنے لگی ۔
فرہاد کچھ دیر یونہی دیکھتا رہا پھر سر جھٹک کر خود کو جھٹلاتا ہوا پلنگ سے اٹھ کر اس کے قریب آیا ، فرہاد اس کے عقب میں آ کر کھڑا ہوا دونوں ہاتھوں سے اس کے کندھے تھام کر قریب ہوا ، اس کے یوں قریب آنے پر منہا فوراً پلٹی۔
” سوٸیں اب ۔۔۔۔ ۔۔۔ “
پلکیں لرزاتے ہوۓ پھیکی سی آواز میں کہتی وہ اس کے پہلو سے نکل کر آگے بڑھی اور پھر فرہاد کو وہیں چھوڑ کر ، پلنگ کے لحاف کو کھینچتی ہوٸ بستر پر لیٹ گٸ ، فرہاد کچھ دیر وہیں کھڑا رہا پھر دل میں سر اٹھاتی الجھن کے سبب شکن پیشانی پر ابھارے پلنگ پر آیا ۔پلنگ پر بیٹھتے ہی کہنی کے بل منہا پر جھکا ، اور لحاف اس کے چہرے پر سے ہٹایا
” منہا ۔۔۔ “
محبت بھری سرگوشی تھی جس کے جواب میں اس نے آنکھیں کھولنی بھی گوارا نہیں کی تھی ۔ فرہاد اسی طرح کہنی پر سے وزن اٹھاتا سیدھا ہوا تھا اور پھر تکیے پر سر رکھے اوپر ساکن پنکھے کو گھورتے ہوۓ ، پورے منظر کو پھر سے دہرا کر اپنی غلطی کو تلاش کرنے لگا ، وہ اس رشتے سے نا خوش نہیں اس سے ناخوش لگتی تھی ، کتنی ہی باتیں اور وسوسے دماغ میں گھومتے رہے اور کب نیند کے جھونکے نے اسے لیپیٹ میں لیا خبر نہیں ہوٸ ۔
********
ارحمہ پلنگ پر بے سدھ سو رہی تھی ، کچھ دور لیٹی رملا ہلکی سی غنودگی میں تھی ، پورے کمرے میں مالا کی سسکیوں کی آواز متواتر گونج رہی تھی ، پلنگ پر ایک ٹانگ اوپر کیے اور ایک ٹانگ نیچے لٹکاۓ غزالہ اپنے سامنے بیٹھی مالا کو گھور رہی تھی ۔
جو آلتی پالتی مارے پلنگ پر ارحمہ کے قریب بیٹھی تھی اور بچوں کی طرف سسکیوں صورت روۓ جا رہی تھی ۔
گہرے فیروزی رنگ کے جوڑے میں سفید موتیوں کے بیچ لگے سونے اور نگینوں والا ہار گلے میں ڈالے اور چھوٹی ، چھوٹی جھمکی والے جھمکے کانوں میں ڈالے وہ رو رو کر ناک سرخ کر چکی تھی ، ویلیمے کی تقریب کے بعد جیسے ہی مہمان رخصت ہونا شروع ہوۓ تھے وہ مغرب کی نماز پڑھتے ہی ماں کے کمرے میں آن دھمکی تھی اور کل رخصتی کے وقت ایک بھی آنسو نا بہانے والی مالا اب چپ ہی نہیں کر رہی تھی ۔
” مالا اب یہ ٹسوے بہانے بند کرے گی تو ہی کچھ بتا سکے گی نا مجھے کہ آخر کو ہوا کیا ہے ؟ “
غزالہ نے اسے کندھے سے پکڑ کر اپنی طرف گھمایا تھا اور تشویش ظاہر کی جو روتے ہوۓ رخ پھیر رہی تھی کبھی گھٹنوں میں منہ دے رہی تھی تو کبھی چہرہ اوپر اٹھا رہی تھی ۔
” شادی کے بعد پڑھتا ہے کیا کوٸ ۔۔۔ ؟ “
مالا نے ہچکیوں میں شکوے بھری نگاہ غزالہ پر ڈل کر خفگی سے سوال کیا لبوں کو دانتوں میں بے دردی سے کچل ڈالا آنسو کسی صورت نا تھم رہے تھے ، غزالہ کے ماتھے پر ناسمجھی کے بل پڑے
” کیا ۔۔ کیا مطلب تقی پڑھانا چاہتا ہے تمہیں ؟ “
غزالہ نے فوراً اس کی بات سمجھ کر اس سے سوال پوچھا جو اب رونے کے ساتھ ساتھ پیشانی پر بل ڈالے غصے میں اضافہ کرتی جا رہی تھی ۔
” پڑھانا کیا ۔۔۔ انہوں نے تو شادی ہے ۔۔۔۔ مجھے میٹرک کی تیاری کروانے کو کی ہے “
مالا نے روتے ہوۓ غصے سے ماتھے پر بل ڈال کر اپنا دکھ سنایا ، انداز نروٹھا تھا ایسے جیسے سب نے زبردستی اس کی شادی کر دی تھی ۔
” تو ۔۔ ۔۔ تم کیوں اتنا رو رہی ہو ، کچھ اچھا ہی سوچا نا تقی نے لو بھلا سب کیا ۔۔ کیا۔۔۔ بکواس کر رہے تھے ، پر وہ ہیرے جیسی سوچ کا ہی مالک نکلا “
غزالہ نے مسکراتے ہوۓ فخر سے گردن اٹھاۓ تقی کی شان میں قصیدے پڑھے جو مالا کو کسی صورت نہیں بھاۓ تھے ۔
”اماں ۔۔۔ بس کر دے۔۔ مجھے نہیں پتا کچھ بھی ، اٹھو میرے ساتھ چلو ، تقی کو بولو نا جا کر مجھے نہیں پڑھنا ہے آگے وہ یہ ضد چھوڑ دیں “
مالا نے بچوں کی طرح فرماٸیش کی اور پاس ہو کر غزالہ کا گھٹنا تھام لیا چہرے پر التجا رقم تھی ، غزالہ نے بغور اس کے چہرے کا جاٸزہ لیا ایسے جیسے اسے بیوقوف سمجھ رہی ہوں
” مالا اگر تو بتا رہی ہے اس نے شادی ہی میٹرک کی تیاری کروانے کے لیے کی ہے ، تو تھوڑی سی محنت کر لے اس کی خواہش پر ، جہاں اتنی محبت ہو وہاں بیویوں کو شوہر کی خواہشات پر سر جھکانے پڑتے ہیں “
غزالہ نے اس کی فرماٸش پر زور زور سے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ اس کا ساتھ دینے کے بجاۓ اسے الٹا سمجھایا تھا جس پر وہ غصے سے غزالہ کے گھٹنے چھوڑ کر پیچھے ہوٸ
”اتنا۔۔ کتنا ۔۔ اماں ، ان کو اتنا ،جتنا ، کتنا بھی پیار نہیں ہے مجھ سے وہ تو آج بھی وہی تقی ہیں جنہوں نے زبردستی دوسری جماعت میں داخل کروا دیا تھا مجھے اور اب مجھے سولہ سال کی ہونے پر طعنے دے رہے تھے رات ، بھلا بتاٶ تو ۔۔۔جو خود چودہ سال میں کر لیا تھا میٹرک تو کیا اب سب اسی میں کریں یہ کہاں کا اصول ہوا “
خفگی بھرے لہجے میں مالا رات کے سارے شکوے شکاٸیتیں ماں سے کر رہی تھی ، غزالہ نے اس کی طرف ناگواری سے دیکھا
”مالا مجھے بہت برا لگ رہا ہے جو تو یوں پہلی رات کے بعد ہی آ کر مجھ سے اپنے شوہر کے رویے کے رونے رو رہی ہے ، اچھی بیٹیاں کبھی میکے میں آ کر اپنے شوہر کی شکاٸتیں نہیں کیا کرتی ہیں اور رہی بات تقی کو سمجھانے والی تو میں ہر گز ہرگز نہیں تمھارے اور اس کے معاملے میں بولوں گی مجھے اس پر یقین ہے اس نے کچھ بہتر ہی سوچا ہو گا “
غزالہ ماتھے پر بل ڈالے جھاڑنے کے انداز میں اسے سمجھا رہی تھیں ، اور وہ ہونق بنی ماں کے اس رویے کو دیکھ رہی تھی جس نے ایک دن میں ہی اسے خود سے پرایا کر دیا تھا اور تقی کے حوالے کر دیا تھا ۔
”ٹھیک ہے مجھے یہی امید تھی اماں ۔۔۔ تو کبھی میرا ساتھ نہیں دے گی ، میں خود دا جی سے بات کروں گی “
مالا نے آنسو صاف کرتے ہوۓ دو ٹوک لہجے میں خفگی کا اظہار کیا ۔
” بکواس نا کر چپ ۔۔۔ بلکل چپ ۔۔۔۔خبردار اگر دا جی کے سامنے کچھ بھی اول فول بکا ہو تو تقی کے بارے میں ، وہ رمنا کو بھی پڑھایا کرتا تھا اسے میٹرک کروا رہا تھا اپنی فیس کے پیسوں سے اور اسی طرح اب تمھارے بارے میں فکر مند ہے “
اچانک مالا کو سمجھاتے سمجھاتے غزالہ کا لہجہ رمنا کو یاد کر کے بھیگ گیا ۔ مالا ویسے ہی شکوے بھری نگاہوں سے گھور رہی تھی ۔
” رات بہت ہو گٸ ہے چل شاباش تقی کمرے میں انتظار کر رہا ہو گا ، اور اس کا ہر حکم ماننا اچھی بیوی بن کر وہ پڑھاۓ گا تو ، تو پڑھ جاۓ گی مجھے یقین ہے “
غزالہ نے اس کے روہانسی صورت کو ہاتھوں میں لے کر تسلی دی پر وہاں تو کوٸ اثر نہیں تھا
” میں نے آج وہاں نہیں سونا کل بھی ساری رات مجھے ان کے پلنگ پر نیند نہیں آٸ میں یہاں ارحمہ کے ساتھ سو جاتی ہوں “
مالا نے بڑے مزے سے جانے سے انکار کرتے ہوۓ پلنگ پر ٹانگیں سیدھی کی ، غزالہ اس کے اس انداز پر گڑ بڑا کر سیدھی ہوٸ اس کا بازو تھاما
” ادھر آ ۔۔ بند کر یہ حرکتیں بچی نہیں رہی اب شادی ہو گٸ ہے چل جا اپنے کمرے میں اٹھ یہاں سے تقی انتظار کر رہا ہوگا “
غزالہ نے غصے سے اس کا بازو جھنجوڑ کر رکھ دیا ، مالا نے خفا سی نگاہ ڈالی اور پھر ایک جھٹکے سے اپنا بازو سہلاتے ہوۓ پلنگ پر سے اٹھ کر کمرے کے دروازے کی طرف قدم بڑھا دیے ۔
***********
تقی کے کمرے کا دروازہ بند تھا سردی کے باعث حویلی کے تمام کمروں کے دروازے اس وقت بند ہی تھے وہ اب کمرے کے بند دروازے کے آگے کھڑی تھی ۔ دل کل کے رویے سے ایسا نالاں تھا کہ یہاں سے بھاگ جانے کو دل چاہا
آہستگی سے کواڑ کو اندر کی طرف دھکیلتی ہوٸ کمرے میں جیسے ہی داخل ہوٸ تقی سامنے کرسی پر براجمان تھا ۔ ہلکے سے نیلے رنگ کے قمیض کے اوپر سیاہ رنگ کی جرسی پہنے وہ کسی کتاب کے مطالعے میں مگن تھا ، جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوٸ تقی نے سر اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا ۔ ایک دم سے نگاہوں کا تصادم ہوا تقی کی آنکھیں ہی بتا گٸیں کہ وہ اس کے یوں دیر سے کمرے میں آنے پر غصہ ہے ، مالا نے غصہ محسوس ہونے کے باوجود ہمت مجتمع کیے قدم پلنگ کی طرف بڑھاۓ
” ادھر آٶ ۔۔“
وہ پلنگ کی طرف آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی جب تقی کی پکار پر قدم یک لخت تھم گۓ ۔ پل بھر کو وہ تھمی پھر اس دشمن جاں کے حکم پر اس کے بلکل پاس آ کر کھڑی ہو گٸ ۔ میز کے سامنے والی کرسی پر وہ خود براجمان تھا ، اور ایک کرسی کو میز کے اطراف میں دیوار کے ساتھ لگایا ہوا تھا ۔
” یہاں بیٹھو ۔۔۔ “
تقی نے آنکھوں سے ہی دیوار کے ساتھ لگی کرسی کی طرف اشارہ کیا تھا ، آج سارا دن وہ باہر برانڈوں میں ہی رہا تھا اس لیے اب جا کر وہ نظر آٸ تھی ۔ کھانے کے بعد وہ کمرے میں اسی غرض سے آیا تھا کہ وہ موجود ہو گی لیکن وہ کمرے میں نہیں تھی ۔
” مالا ہمارے پاس دن بہت کم ہیں اور ہماری تیاری بہت زیادہ پڑی ہے اس لیے تم یہ سستی ختم کر کے سنجیدہ ہو جاٶ “
تقی نے ماتھے پر بھنویں ڈالے اسے غور سے دیکھتے ہوۓ خبردار کیا تھا ، فیروزی رنگ کے جوڑے میں ملبوس گلابی گالوں پر پلکیں جھکاۓ وہ بہت مٶدبانہ اس کے سامنے بیٹھی تھی وہ کل کی نسبت آج زیادہ کم عمر لگ رہی تھی کل شاٸد ہار سنگہار اسے اس کی عمر سے زیادہ بڑا دکھا رہے تھے ۔
” آج پہلے تو ہم مضامین کو تقیسم کر لیں گے ویسے تو تقسیم مشکل اور آسان مضامین کو رکھ کر کیا جاتا ہے پر یہاں تمھارے لیے تو سبھی ہی مشکل ہیں “
تقی نے پنسل سے کاغذ کے بلکل وسط میں ایک لمبی لاٸن لگاٸ تھی، مالا نے اس کے طنز پر نگاہ اٹھاۓ اس کو دیکھا تھا ۔ سر جھکاۓ بڑے انہماک سے وہ پنسل سے کاغذ پر لاٸن لگاتا مالا کو تپا گیا تھا کتنا جذبات سے عاری شخص تھا وہ ۔
” انگریزی ، ساٸنس اور اردو یہ ایک دن اور ۔۔۔۔“
تقی نے لاٸن کے ایک طرف یہ سارے مضامین لکھے ، مالا اس کی پلکیں دیکھ رہی تھی اس کی پلکیں گھنی تھیں اور آنکھیں سیاہ تھیں ۔
” ریاضی ، مطالعہ اور اسلامیات یہ دوسرے دن مطلب ایک دن تین یہ کتابیں اور اگلے دن تین یہ کتابیں ان کو پڑھیں گے ہم “
تقی نے لاٸن کے ایک طرف نمبر دیتے ہوۓ الگ الگ کتابوں کی تقسیم کو لکھا اور نگاہ مالا پر ڈالی وہ تو کاغذ کی طرف نہیں اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” سمجھ میں آیا کچھ ۔۔۔ ؟ “
تقی نے تھوڑا سا چہرہ قریب کیے سوال کیا تو وہ جو بڑے انہماک سے اس کی پلکوں کا گھنا ہونا ، اس کی آنکھوں کا سیاہ ہونا ، بالوں کا ماتھے پر گرنا ، ناک کا تیکھا ہونا اور ہلکی سی بڑھی شیو دیکھ رہی تھی ایک دم سے گڑ بڑا گٸ، اور سر زور سے اثبات میں ہلا دیا ۔
” اچھی بات ہے ، اب آج ہم ریاضی والے دن سے شروع کریں گے کتاب نکالو اور پرچہ بھی نکالو کوٸ پرانا ریاضی کا “
تقی نے ریاضی کی کتاب کو میز پر اپنی طرف کھسکاتے ہوۓ مگن سے لہجے میں حکم جاری کیا ، مالا نے بدمزہ سی صورت بناۓ اس کو دیکھا جس کو اس کے دل کی حالت کی ذرا پرواہ نہیں تھی ۔
تقی نے ریاضی کی کتاب کھولتے ہی الجبرا کے فارمولا پر ہاتھ رکھا اور مالا کی طرف دیکھا ، مالا نے جلدی سے اس کے یوں دیکھنے پر اپنی صورت پر سے بدمزگی کو ختم کیا
” فارمولہ سناٶ تو یہ آتا ہے کیا ؟ “
تقی فارمولا پر ہاتھ رکھے ہوۓ تھا ، اور اسے اب فارمولا تو آتا نہیں تھا تقی کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی اس کے ہتھیلی چھوٹی اور انگلیاں زیادہ لمبی تھیں اور ہاتھ بہت مضبوط تھا جرسی کے نیچے سے بازو پر موجود بال بھی نظر آ رہے تھے ۔
تقی اس کے جواب کا انتظار کر رہا تھا اور وہ اس کے ہاتھ کو بغور دیکھ رہی تھی ، تقی کو اتنے قریب سے اور اتنی تسلی سے آج سے پہلے کبھی اس نے دیکھا بھی نہیں تھا
” مطلب حد ہوتی ہے ، اب پہلے آج تو یہ سارے فارمولے لکھ رہا ہوں یہاں کاغذ پر کل یہ انگلیوں پر یاد ہونے چاہیے سمجھی “
تقی نے اس کی خاموشی سے ہی اندازہ لگایا کہ اسے یہ فارمولا نہیں آتا ہے اور گھورتے ہوۓ اب سفید رنگ کے کاغذ پر وہ بڑی مہارت سے فارمولے لکھ رہا تھا ، وہ اتنی روانی سے سارے فارمولے لکھ رہا تھا کہ ساتھ بیٹھی مالا کو حیرت کا دھچکا لگا ۔ کیا وہ اس سے بھی یہی توقع رکھے گا کہ وہ یوں فر فر فارمولے لکھے گی ۔
مالا نے تھوک نگلا الجبرا کتنا برا لگتا تھا اسے اور تقی نے اسی سے ہی شروعات کی تھی ۔ اب پتا نہیں وہ اسے کون سے سوال کو سمجھا رہا تھا مالا کی تو آنکھیں بند ہونے لگی تھیں ۔ اور پھر ایک دم سے مالا نے سر میز پر دھر دیا ۔
” اب کیا ہوا ۔۔۔؟ “
ٹھپ کی آواز پر تقی اس کی طرف متوجہ ہوا اور سوالیہ نگاہیں اس پر جماۓ پوچھا ، جو ہاتھوں کو اوپر نیچے میز پر دھر کر اب سر اس پر ٹکاۓ ہوٸ تھی ، مالا نے دھیرے سے چہرہ اوپر اٹھایا معصوم سی صورت اور آنکھیں نیند سے کچھ یوں بوجھل تھیں کے پوری کھل بھی نہیں رہی تھیں ۔
” نیند آ رہی ہے ۔۔۔“
بیچارگی سے جواب دیا ، تقی نے بغور اس کے چہرے کی طرف دیکھا وہ جھوٹ نہیں بول رہی تھی ۔اس کی ادھ کھلی آنکھیں گواہ تھیں وہ بمشکل جاگ رہی ہے
” ہممم یہ نیند کا بھی کچھ کرنا پڑے گا ، کل سے تم دوپہر کو نیند لو گی خوب کیونکہ رات پڑھاٸ کی ہو گی “
تقی نے پنسل کو انگلی میں پکڑ کر ہوا میں جھلاتے ہوۓ اسے مشورہ دیا تھا ، مالا پر نیند کا ایسا غلبہ تھا کہ بے اختیار سچ بول گٸ
” میں تو کبھی نہیں سوٸ دوپہر کو “
معصومیت سے اپنی خوبی سے آگاہ کیا ، جبکہ نیند نے دماغ کی سمجھ کے شٹر گرا دیے تھے۔ تقی نے لب بھینچے
” تو کل سے عادت بدلو نا ، بلکہ کل سے کیوں آج سے ہی۔۔۔۔ چاۓ بنانی آتی ہے ؟ “
تقی نے آبرو چڑھاۓ سوال کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں۔۔۔۔۔
مالا نے ناک اور اوپری ہونٹ ایک ساتھ اوپر اٹھایا ، وہ اب کیا کرنے والا تھا اس کے ساتھ ، دل تو چاہ رہا تھا اٹھ کر زور سے چیخ کر کہے ، نہیں آتی چاۓ بنانی مجھے سونا ہے تم نے کیا شادی کر کے مجھے کٹھ پتلی سمجھ لیا ہے ظالم ، اکڑو ، کھڑوس ، ۔۔۔۔ لیکن یہ سب دل بس دماغ کو سنا رہا تھا پر وہ تقی کو کہہ نہیں سکتی تھی ۔
آہستگی سے سر اثبات میں ہلایا عزت کا معاملا تھا کیا سوچے گا تقی پڑھاٸ میں بھی نکمی اور چاۓ بھی نہیں بنانی آتی ۔
” اچھا ۔۔۔ تو چلو اٹھو چاۓ کی ایک پیالی پیو آج زیادہ دیر جاگو گی تو کل دوپہر کو خود بخود نیند آۓ گی “
تقی نے پنسل ایک طرف رکھے اسے اٹھنے کا اشارہ کیا ، مالا نے رونے جیسے صورت بناٸ وہ جتنا نرم دل اوپر سے دکھاٸ دیتا تھا ویسا بلکل نہیں تھا کتنا ظالم تھا وہ ۔ مطلب کی اب وہ اس کی بچپن کی عادت ایک دن میں بدلے گا ۔۔۔ کیا مصیبت تھی ۔۔۔۔ مالا دل میں خون کے آنسو رو دی
” میں تو رات کو دودھ پیتی ہوں چاۓ نہیں پیتی “
بیچارگی سے اپنی اگلی خوبی سے آگاہ کیا کہ شاٸد جان خلاصی ہو جاۓ
” تم کیا کرتی تھی ، کیا نہیں کرتی تھی ، سب اٶٹ پٹانگ حرکتیں بدلو آج سے ، اٹھو جاٶ چاۓ بنا کر لاٶ ایک پیالی میرے لیے بھی “
تقی نے اب کی بار گھورتے ہوۓ حکم صادر کیا ، کیا چیز تھی وہ ساری عادات اس سے یکسر مختلف تھیں ، اور ڈھیٹ ایسی کہ نکمے پن سے بھی کچھ ہاتھ آگے
” میں تو رات میں کبھی صحن میں نہیں گٸ مجھے فوارے کے پاس سے ڈر لگتا یے “
اگلی خوبی بڑی مصومیت سے بتاٸ جو تقی کے دل میں اس کی رہی سہی عزت پر بھی پانی پھیر گٸ اسے ڈرپوک لوگ بلکل پسند نہیں تھے ۔ گھور کر غصے سے اسے دیکھا ، معصوم چہرہ بمشکل آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” چلو میں ساتھ چلتا ہوں اٹھو ، تقی نے ایک دم سے کرسی پیچھے کی اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا ، مالا نے بے زار صورت بناٸ اور اٹھ کر کھڑی ہو گٸ، مجال ہے یہ شخص ذرا سا بھی احساس کرے اسے ڈاکٹر نہیں ہونا چاہیے تھا اسے تو فوج میں ہونا چاہیے تھا مالا نے گھور کر اس کی پشت کو دیکھا وہ اس کے آگے چل رہا تھا ۔
تقی اسے اپنے ساتھ باورچی خانے تک لے آیا تھا اور مالا نے شکر ادا کیا سردی کی وجہ سے مٹی کے بنے چولہے میں کوٸلے پہلے ہی دھک رہے تھے نہیں تو اسے آگ بھی جلانے کا حکم صادر ہونا تھا ۔
سٹیل کی چھوٹی سے دیگچی کو اٹھایا ، اس میں پانی انڈیلا اور اسے چولہے پر رکھ کر کوٸلوں پر پھونکنے سے پھونک مار کر آگ کو سلگایا کوٸلے دھک کر اب آگ پکڑ رہے تھے تقی پاس ہی ہاتھ باندھے کھڑا اسے بغور دیکھ رہا تھا ۔ کچن کا کام تو بڑی مہارت سے کر رہی تھی۔
” پتی زیادہ ڈالو اور قہوہ زیادہ پکاٶ “
وہ چھوٹے سے ڈبے میں سے چمچ کی مدد سے پتی پانی میں ڈال رہی تھی جب تقی نے سر پر کھڑے حکم دیا ، مہندی لگے ہاتھ آج دوسرے دن ہی چولہے میں جوھنکے ہوۓ تھے ، وہ سر پر کھڑا تھا مالا کا دل کیا جلتا کوٸلہ اٹھا کر اس کے پاٶں پر دھر دے ، چاۓ کو دو پیالیوں میں ڈال کر وہ کمرے میں آۓ تھے ۔
تقی نے اسے چاۓ پینے کا کہا اور خود چاۓ کی پیالی ایک طرف رکھے اسے پھر سے پڑھانے میں مگن ہو چکا تھا ۔ کبھی چاۓ کی چسکی لیتا اور پھر پڑھانے لگتا اور مالا پڑھنے سے زیادہ اس کے ہلتے ہاتھ اور اس کے مسلسل بولتے لبوں کو دیکھ رہی تھی وہ ریاضی سمجھاتا کبھی ماتھے پر انگلی پھیر رہا تھا کبھی پرسوچ انداز میں لبوں کو منہ کے اندر لے جا کر سوچ رہا تھا ، کبھی قلم کو انگلی میں جھلا رہا تھا ۔ مالا تو یہ سب دیکھنے میں مصروف تھی اور اسے یہ سب دیکھنے میں ہی مزہ آ رہا تھا ۔
چاۓ کا اثر بھی مالا پر کوٸ پندرہ منٹ ہی رہا تھا اور پھر اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں ۔ تقی نے اسے یوں بند آنکھوں کے ساتھ دیکھا تو اسے سر سے پکڑتے ہوۓ چہرہ اوپر کیا ۔
” مالا ۔۔۔ آنکھیں کھولو “
ملاٸم سے لہجے میں کہا ، پر وہاں اب کوٸ پیش رفت نہیں تھی وہ گہری نیند میں تھی ۔
” چلو سو جاٶ ۔۔ “
تقی نے کتاب بند کرتے ہوۓ کہا اور گہری سانس لیے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا دی ۔ وہ میز پر ہی سر رکھ چکی تھی ۔تقی جھنجلا کر اپنی جگہ سے اٹھا کیا عجیب تحفہ ہے یہ لڑکی منہ میں بڑ بڑاتا ہوا اٹھا اور پھر اسے بازو سے پکڑ کر سیدھا کیا ۔
مالا یہاں نہیں پلنگ پر چلو شاباش“
اسے بازو سے تھام کر وہ پلنگ تک لایا تھا اور پھر لیٹتے ہی مالا تو ایسے نیند میں گٸ اسے خود کا ہوش ہی نہیں رہا ۔
تقی نے کتابیں سمیٹی ایک طرف رکھیں کچھ دیر اپنا کام مکمل کرنے کے بعد وہ جب پلنگ پر آیا تو مالا تقریباً اس کی جگہ پر کروٹ لے کر لیٹی تھی ، آہستگی سے اس کا رخ موڑ کر جگہ بنانے کی غرض سے اسے پلٹا تو جھمکا اس کے گداز گال پر پیوست ہو کر اپنی گہری چھاپ چھوڑ ہوۓ تھا ۔
اچانک سے تقی کے ذہن میں آیا کہ وہ کل زیور اتار کر سوٸ تھی ، اسی بات کے ذہن میں آتے ہی وہ اب نرمی سے اس کے کانوں میں سے جھمکے اتار رہا تھا ۔ جھمکے ایک طرف رکھے اور سیدھا ہو گیا ۔
بہت کچھ عجیب تھا اس کے لیے لیکن یہ سب کرنے میں اس کا اپنا ہاتھ تھا ، مالا کو تیاری کروانی تھی اسے ہر حال میں میٹرک پاس کروانا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اب کی بار وہ فیل ہو گٸ تو سب کہیں گے کہ چھوڑ دے اس کو مت پڑھاۓ اور وہ خود اور ڈھیٹ ہو سکتی تھی جبکہ وہ ایسا نہیں چاہتا تھا ۔ ۔۔۔
اس پر لحاف درست کرنے کے بعد وہ خود کروٹ لے چکا تھا ۔
*********
حاکم قصر کے پچھلے صحن سے دھواں اٹھ رہا تھا ، سکینہ نے جھاڑو ایک طرف رکھا اور صحن کی طرف قدم بڑھا دیے ، شدید سردی کا دن تھا دھوپ نکلی نہیں تھی اس لیے سب کمروں میں بند تھے ، سکینہ نے پچھلے صحن کا دروازہ جیسے ہی کھولا بھاگتی ہوٸ آگے بڑھی سامنے مالا زمین پر آگ جلاۓ کھڑی تھی اور اس میں سارے ایک سال میں جمع کیے ہوۓ رسالے پھینک رہی تھی ۔
پچھلا صحن کا فرش مٹی والا تھا ، جہاں ایک طرف بھینسوں کے لیے بڑے بڑے کمرے بناۓ گۓ تھے اور ایک طرف چھپڑ ڈال کر چارہ کترنے کی مشینیں رکھی ہوٸ تھیں ۔
صحن میں جگہ جگہ بھنیسوں کے چارہ کھانے کے لیے کھرلیاں رکھی گٸ تھیں جن کے ساتھ ان کو باندھنے کے کھونٹھے تھے صحن کی دیواروں پر بھنسیوں کے گوبر کو پیڑوں کی شکل دے کر قطار در قطار چپکایا گیا تھا ۔
سکینہ بھاگتی ہوٸ اب مالا کے پاس آ گٸ تھی ۔
” مالا۔۔۔ پاگل ہو کیا ۔۔۔ یہ کیا کر رہی ہو ؟ “
سکینہ نے کندھے سے پکڑ کر زور سے اسے پیچھے کھینچا وہ ہلکا سا لڑکھڑاٸ
” دکھ نہیں رہا تمہیں اندھی ہو کیا ، یہ جھوٹ کے پلندے جلا رہی ہوں ، جھوٹ لکھا ہے ان میں سب کا سب ، لڑکی خوبصورت اور لڑکا اس کے حسن کا دیوانہ “
مالا نے نخوت سے ناک چڑھا کر کہا اور ہاتھ میں پکڑے رساے کے دو ٹکڑے کر کے آگ میں پھینک دیے ، سیاہ رنگ کی شال کو کندھوں پر اوڑھے وہ سرخ ناک لیے غصے میں بھری کھڑی تھی ۔
” پاگل کہیں کی چھوڑ ، کیوں یہ قصے کہانیاں جلا رہی ہے جھوٹ کے پلندے ہوں یا جو بھی وقت تو گزرتا ہے مجھے دے دے خود کو تو اب تقی مل گیا “
سکینہ نے اس کے ہاتھ سے رسالہ چھنتے ہوۓ کہا
” تقی مجھے نہیں ملا میں انہیں مل گٸ پتہ نہیں کس کس بات کے بدلے مجھ سے لے رہے ہیں وہ “
مالا نے غم و غصے کے ملے جلے لہجے میں کہا ویسے بھی سکینہ سے کب وہ کوٸ بات چھپاتی تھی دو دن سے تقی اسے فارمولے یاد کر رہا تھا اور آج رات آخری رات تھی اس نے خبردار کیا تھا کہ آج ہر حال میں فارمولے یاد ہونے چاہیے نہیں تو اس سے برا کوٸ نہیں ہو گا ۔۔
جس پر وہ دل میں سوچ کر ہی رہ گٸ اس سے برا ابھی بھی کوٸ نہیں اس کے لیے اور اب وہ سکینہ کے سامنے پھٹ پڑی تھی ۔
”جو ملے بس اس کو پڑھانے بیٹھ جاتے ہیں ، میں تو یہ سمجھی تھی وہ ڈاکٹر بننے تک ہی پڑھاٸ کے کیڑے ہیں پر نہیں بھٸ ان کو تو پڑھاٸ کا ایسا خبط ہے جب کوٸ مریض بھی ان کے پاس آۓ گا کہیں گے پہلے الجبرا کے سارے فارمولے سناٶ ، ٹینس بتاٶ پھر چیک اپ کروں گا “
مالا دانت پیستے ہوۓ جلے دل کے پھپھولے پھوڑ رہی تھی ۔ سکینہ نے بمشکل اپنی ہسنی دباٸ
” مالا ایسے کوسنے سے اچھا ہے تو بات کر تقی بھاٸ سے کہ تجھے بلکل نہیں پڑھنا “
سکینہ نے مسکراہٹ چھپا کر شاٸستگی سے سمجھایا
” کیا کہتی اس سے پہلے ہی رات کہہ دیا ، خبردار ۔۔۔۔ اگر یہ سوچا بھی تو “
مالا نے بھاری سی آواز میں تقی کی نقل اتاری اور گردن کو تقی کی ہی طرح اکڑایا وہ ابھی دنیا پور جاتا تھا اور پھر واپس آ کر ہسپتال کی تعمیر میں لگ جاتا تھا ۔ شادی کو آج چوتھا دن تھا اور فارمولے سنانے کا آخری دن
” تو پھر تو میں یہی کہوں گی دل لگا کے پڑھ لے “
سکینہ نے لب بھینچے اس کا مسٸلہ حل کیا ، جو ناک پھلاۓ کھڑی تھی ، تقی پر تو بس چلتا نہیں تھا سو سارا رسالوں پر چلا لیا تھا
” دل ایک ہی جگہ لگایا جا سکتا ہے ایک وقت میں اور میرا ان کے ساتھ لگ چکا ہے اب پڑھاٸ میں خاک لگے گا “
مالا نے نخوت سے ناک چڑھاٸ ، وہ کرتی بھی کیا تقی اسے پڑھانے بیٹھتا تھا اور وہ بس اسے دیکھے جاتی تھی نتیجہ یہ کہ آج چوتھا دن تھا تقی کی نرمی کا ناجاٸزہ فاٸدہ اٹھاتے ہوۓ ۔ وہ جلتے کاغزوں پر نگاہیں جماۓ کھڑی ان کے ساتھ خود بھی سلگ رہی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: