Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 14

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 14

–**–**–

ساٸیکل کچی مٹی سے بھری سڑک پر چل رہا تھا ، ساٸیکل کے پہیے کے ساتھ مٹی گھوم کر دھول اڑا رہی تھی ،اور ساٸیکل سڑک کے داٸیں باٸیں کچے پکے مکانوں کو پیچھے چھوڑتی ہوٸ آگے بڑھ رہی تھی ، کچھ خواتین سروں پر کچی مٹی کے گھڑے رکھے باتیں کرتے ہوۓ جارہی تھیں ، عصر کے بعد کا وقت تھا اور چکی کی مدھر سی کوک پورے گاٶں میں گونج رہی تھی ۔
لڈن ہلکے بھورے رنگ کے قمیض کے اوپر سرخ سویٹر پہنے اور کانوں اور منہ کو اچھی طرح گرم مفلر سے لپیٹ ، نیچے تہبند باندھے ساٸیکل کے پیڈل پر زور سے پاٶں مار کر چلا رہا تھا ۔
اس نے حویلی کے بیرونی گیٹ کے آگے ساٸیکل روکا اور پھر ساٸیکل کا ہینڈل تھامے باغوں کے درمیان راہدری پر چلتا ہوا آگے بڑھا ۔ دور سے ہی بیرونی برآمدے میں گاما رجسٹر نما کھاتوں پر جھکا کچھ لکھنے میں مصروف نظر آ رہا تھا ، اور کچھ دور چارپاٸیوں پر عمر رسیدہ دو آدمی حقوں کے کش لگاتے باتوں میں مصروف تھے ۔
لڈن نے ساٸیکل برآمدے کے بلکل سامنے پیپل کے درخت کے ساتھ کھڑا کیا اور پھر سست روی سے چلتا ہوا برآمدے میں آ کر گامے کی کرسی میز کے ساتھ رکھی ہوٸ چارپاٸ پر بیٹھ گیا ۔
” تھک گیا میں تو اب اوپر سے تقی میاں کی ڈانٹ الگ سننے کو ملے گی “
لڈن نے اپنے کندھے پر ڈالا منڈاسا اپنا چہرے پر پھیرتے ہوۓ افسردگی ظاہر کی ، گامے کے کانوں میں اس کی آواز پڑی جو اب بھی سر جھکاۓ کچھ لکھنے میں مگن تھا اس کا تاسف بھرا لہجہ گامے کو اس کی طرف متوجہ کر گیا ۔
” تقی میاں سے کس بات کی ڈانٹ بھٸ ، لڈن خیر تو ہے ان کا کوٸ کام تو خراب نہیں کر بیٹھے کہیں “
گامے نے سر اوپر اٹھاۓ عینک کو ناک پر انگلی سے تھوڑا نیچے کٸے غور سے لڈن کی طرف دیکھتے ہوۓ سوال کیا ، جو پریشان صورت لیے بیٹھا تھا ۔
” کام خراب تو نہیں کیا چاچا گامے پر کام کر بھی نہیں سکا اللہ قسم دوپہر کا نکلا سارے گاٶں کی دوکانیں دیکھ لیں اور پھر وہ سڑک پار جو دو دوکانیں ہیں ان کو بھی دیکھ کر آ رہا ہوں پر نہیں ملا قلم تقی میاں کا ، اب ڈانٹ پڑے گی ان سے “
لڈن نے اپنی ساری آج کی آپ بیتی گوش گزار کی اور مایوسی سے کندھے گراۓ ، گامے نے ناسمجھی کے شکن ماتھے پر سجاۓ
” ہیں ایسا کونسا قلم منگوا لیا تقی میاں نے جو پکی سڑک والی دوکانوں سے بھی نہیں ملا “
گامے نے تشویش ظاہر کی
” مجھے اسی بات کا پہلے ہی ڈر تھا اسی لیے میں ان کا پرانا قلم دیکھ کر بھی گیا انہوں نے کہا تھا ایسا لے کر آنا پر ملا نہیں ویسا “
لڈن نے گردن نیچے جھکاۓ مایوسی سے بتایا، تقی نے لڈن کو قلم لانے کے پیسے دیے تھے ، لڈن کیونکہ اکثر کچھ کا کچھ اٹھا لاتا تھا اس لیے لڈن نے تقی سے کہا کہ جیسا قلم چاہیے تقی میاں وہ ایک دفعہ مجھے دکھا دیں تقی نے جیب سے پرانا قلم نکال کر لڈن کو دکھایا کہ یہ دیکھو بلکل ایسا قلم لانا ہے ، پر لڈن کو کہیں سے ویسا قلم نہیں ملا تھا ۔
”ایسا کونسا قلم ہے تقی میاں کے پاس ، دیکھو ایسا تو نہیں تھا کہیں “
گامے نے حیرت ظاہر کی ، اور اپنے ہاتھ میں پکڑا قلم سامنے کیا یہ ڈالر کا سیاہی والا قلم تھا ، لڈن سر ہلاتا ہوا آگے ہوا
” نہیں ایسا نہیں تھا جو تقی بھاٸ نے دکھایا تھا مجھے ، اسکا جو ڈھکن ہے نا اس کے اوپر سوراخ تھا اب یہ کسی قلم میں نہیں ملا مجھے “
لڈن نےگامے کے ہاتھ سے قلم پکڑا اور اس کے اوپری ڈھکن پر اپنی انگلی رکھتے ہوۓ ، گامے کو پوری بات سمجھاٸ
، گامے نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور پھر آگے ہوتے ہوۓ افسوس سے اس کے ہاتھ سے قلم پکڑی
” لڈن جب اللہ عقل بانٹ رہا تھا تو سچ بتا تو کیا کر رہا تھا اس وقت ، یہ قلم کے اوپر ڈھکن ایسا ہی ہوتا ہے تقی میاں نے جو قلم تجھے دکھایا ہو گا اس کے اوپری ڈھکن پر سے یہ قلم کا ہینڈل ٹوٹ گیا ہوگا جس کی وجہ سے سوراخ ہو گیا جیسے دیکھ یہ میرے پرانے قلم کے اوپر بھی سوراخ ہے “
گامے نے نگاہیں جھکاۓ پاس پڑی ٹوکری میں سے ایک قلم نکال کر لڈن کے سامنےکیا تو لڈن میاں پہلے تو کچھ دیر دونوں قلم دیکھتا رہا پھر بتیسی نکالی اور ٹوپی اتار کر اپنی گنج پر خارش کرنے لگا ۔
” وہ بس چاچے گامے میں اوپر سوراخ کو ہی ذہن میں نشانی بنا کر لے گیا تھا اس لیے ایسا ہوا میرے ساتھ سوراخ والا کوٸ تھا ہی نہیں “
لڈن نے ہنستے ہوۓ اپنی بات مکمل کی ، جبکہ گاما اب متواتر ہنسے جا رہا تھا ۔
********
حاکم قصر اب مکمل اندھیرے میں ڈوب گیا تھا ، مغرب کے بعد ہی رات کے کھانے کا دسترخوان بچھ جاتا تھا اور اب کھانے کے بعد چوہدری حاکم دسترخوان پر ہی بیٹھے منیر میاں سے بیوپار کے بارے میں محو گفتگو تھے ۔ پاس ہی نقیب اور نوازش بھی بیٹھے ان کی گفتگو میں کہیں کہیں حصہ لے رہے تھے ۔
تاری بوا اب برتن دسترخوان پر سے اکٹھے کر رہی تھیں اور سکینہ بھاگ بھاگ کر برتنوں کو باورچی خانے تک لے جا رہی تھی ۔ بلقیس اور غزالہ باورچی خانے میں گھسی چاۓ بنا رہی تھیں ، سردیوں میں کچھ لوگ رات کے کھانے کے بعد لازمی چاۓ لیتے تھے ، ویسے تو سونے سے پہلے گرم دودھ کا بڑا گلاس چھوٹے بڑے سب مکیں کو پیش کیا جاتا تھا۔
تقی کھانے کے کچھ دیر بعد ہی ، دسترخوان سے اٹھ آیا تھا اسے ہسپتال کی مرمت کا سارا حساب کتاب اس وقت کرنا ہوتا تھا اور ساتھ ساتھ وہ مالا کو بھی پڑھاتا تھا ۔
آج اسے کمرے میں آۓ آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا لیکن مالا آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ، اچانک تقی کو یاد آیا کہ تین دن سے وہ اسے الجبرا کے کلیے یاد کروانے میں لگا تھا اور کل رات اس نے سختی سے اسے کہا تھا کہ یہ کلیے اگر کل اسے یاد نا ہوۓ تو اس کو سزا ملے گی ۔ وہ ان تینوں دنوں میں اس بات کا باخوبی اندازہ لگا چکا تھا کہ مالا ذہنی طور پر بلکل کمزور نہیں ہے وہ فقط حد سے زیادہ لاپرواہ ہے اور اس کا دماغ صرف اس کے دل کی سنتا ہے اور اس کا پڑھاٸ کے علاوہ ہر اوٹ پٹانگ کام میں لگ جاتا ہے ۔
آدھے گھنٹے سے بھی اوپر وقت جانے لگا تھا تقی ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا اور باہر نکلا ، باہر نکلتے ہی قدم تھم گۓ آج تو حویلی کے تمام مکیں اٹاری کے دسترخوان پر محفل جماۓ بیٹھے تھے شاٸد اس کی وجہ منیر میاں کی چار دن کے بعد شہر سے واپسی تھی ، تقی نے نگاہیں گھماٸیں تو اس کی زوجہ محترمہ بھی منہا کے ساتھ گاٶ تکیے پر مہرانی کی طرح کہنی ٹکاۓ بیٹھی تھی اور اب تقی کو دیکھ کر بھی ان دیکھا کر رہی تھی ۔ گہرے سبز رنگ کے ویلویٹ کے جوڑے پر ٹشو کا سنہری کناری والا دوپٹہ اوڑھے وہ بڑے انہماک سے سب کی باتوں کو سن رہی تھی ۔
فارمولے تو سرے سے یاد ہی نہیں کیے تھے ، جب کتاب لے کر بیٹھتی کبھی کچھ ذہن میں آنے لگتا تو کبھی کچھ اور ایسے کرتے ہی صبح سے شام ہو گٸ تھی اور اب قید و مشقت کا وقت شروع ہو گیا تھا جس میں جانے کو اس کا بلکل دل نہیں تھا وہ تو اچھا ہوا سب بڑے باتوں میں لگ گۓ اور وہ بھی ان کے ساتھ جم کر بیٹھ گٸ ، پر اب چانک تقی کمرے سے باہر آ کر اسے گھور رہا تھا ، کچھ دیر تو وہ ان دیکھا کرتی رہی پھر اچانک نظر اٹھی تو تقی اس کو ہی گھور رہا تھا جیسے ہی نظر ملی تقی نے آنکھوں کو گھماتے ہوۓ مالا کو کمرے میں جانے کا اشارہ کیا پر وہ تو ایسے لاپرواہی ظاہر کر گٸ جیسے دیکھا ہی نا ہو، جلدی سے رخ موڑے باتوں میں مگن ہو گٸ اچھا ہے جتنا وقت ایسے گزر سکتا ہے گزر جاۓ اس جن نما شوہر سے سے بچی رہوں میں ۔
” مالا ۔۔۔۔ “
تقی نے اچانک پکارا تو مالا نے چونک کر سر اوپر اٹھاۓ اس کی طرف دیکھا ، سب کے بیچ بیوی کو بلا کر کمرے میں لے جانا بہت معیوب حرکت تھی اسی بات کا فاٸدہ تو وہ اٹھا رہی تھی ۔
” جی ۔۔ “
بڑے پریم سے جی کہا اور تقی کی طرف دیکھا جو آج بھی پتلون اور شرٹ میں ہی ملبوس تھا وہ اکثر شہر سے واپس آ کر فوراً کپڑے تبدیل نہیں کرتا تھا اور آج بھی نہیں کیے تھے ۔
” میری ایک کتاب نہیں مل رہی ہے میز پر ہی رکھی تھی آ کر دیکھ کر دو ذرا “
تقی نے رعب سے سب کے بیچ حکم صادر کیا جسے وہ کسی صورت ٹال نہیں سکتی تھی کیونکہ خدیجہ بیگم سمیت اب سب بڑے اسے گھور رہے تھے ، وہ منہ بسورتے ہوۓ اپنی جگہ سے اٹھی اور تقی کے پیچھے چل دی جو اسے حکم صادر کرتے ہی کمرے کی طرف پلٹ گیا تھا ، کمرے میں داخل ہوتے ہی تقی اس کی طرف مڑا ، وہ اتنی لمبی ہونے کے باوجود تقی کے بس کندھے تک آتی تھی تقی یوں پلٹنے پر وہ ایک دم رکی اور نگاہیں اس کے سینے پر جما دیں
” جب میں سب کے بیچ آنکھوں سے اشارہ کیا کروں تو فوراً اٹھ کر کمرے میں آ جایا کرو وقت مت ضاٸع کیا کرو “
تقی نے گھور کر تنبہیہ کی ، آنکھوں سے اشارے بڑی محبت بھرے کرتے ہیں نا جو میں فوراً حکم کی تعمیل کیا کروں ۔۔۔۔۔ مالا نے جل کر سوچا اور تقی کے پلٹتے ہی اسے گھور کر دیکھا جو اب میز کے پاس جا کر کرسی پیچھے دھکیل رہا تھا ۔
” چلو نکالو اب کاپی اور سناٶ اور پتا ہے نا آج اگر فارمولے نا یاد ہوۓ تو سزا ملے گی “
تقی نے کرسی پر بیٹھتے ہوۓ اسے یاد دہانی کرواٸ ، مالا خوفزدہ سا چہرہ لیے اسکے اشارے پر کرسی کھینچی اور اس پر بیٹھ گٸ ، میز پر پڑی اپنی ریاضی کی کتاب کو اٹھایا ، تقی نے اس کے ہاتھ سے کتاب کو پکڑا اور تیزی سے صحفے پلٹ کر اپنے سامنے کیے ۔
” چلو بتاٶ ، اے پلس بی پلس سی کا مربع کس کے برابر ہوتا ہے “
تقی نے فارمولا بول کر اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ، مالا نے لبوں کو آپس میں جوڑے پیشانی پر پرسوچ شکن ابھارے
ایک تو سب سے مشکل والا پوچھتے ہیں جب پوچھتے ہیں اب یہ تو دو تھے ایک میں تین اے ،بی ، سی آتا ۔۔۔ اللہ یہ کونسا ہے ملا نے جھنجلا کے ذہن پر زور دیا اور پھر تقی کے گھورنے پر جلدی سے بولنے کے لیے لب کھولے
” اممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے پلس بی پلس سی کا مربع ، یہ ۔۔۔ اے کا مربع جمع بی کا مربع جمع سی کا مربع ۔۔۔“
مالا نے رک کر تقی کی طرف دیکھا ، تقی سپاٹ چہرہ لیے بیٹھا تاسف سے اس کو دیکھ رہا تھا ، مالا نے زبردستی لبوں پر مسکراہٹ سجاٸ
” کوٸ اور پوچھ لیں یہ تھوڑا مشکل ہے “
مالا نے انگلی دانتوں میں دباۓ کندھے اچکا کر معصومیت سے فرماٸش کی ، تقی کا دل کیا کتاب اس کے بجاۓ اپنے سر میں مار دے سامنے بیٹھی یہ لڑکی مکمل طور پر اسے پاگل کر دینے کےدر پر تھی ۔
” مالا میں تنگ آ گیا ہوں تمہیں کیوں نہیں یاد ہوتے یہ ، آج تین دن ہو گۓ ہیں ہم انہی فارمولوں پر بھٹک رہے ہیں ، آگے نہیں بڑھ رہے ہیں “
تقی نے اونچی آواز میں جھاڑا تھا اور تاسف سے اس کی طرف دیکھا ، جو اس کے اچانک یوں غصے میں آ جانے پر بدک کر سیدھی ہوٸ ۔
” تمھاری سزا یہ ہے اب تم ہر کلیہ سو دفعہ لکھو گی سمجھی کیونکہ یہ کلیے یاد ہوں گے تو ہی سوال سمجھ میں آٸیں گے “
تقی نے غصے سے اس کے سامنے کتاب میز پر مارتے ہوۓ سزا سناٸ تو وہ ایک لمحے کے لیے ساکن ہو گٸ لیکن اگلے ہی لمحے لکھنے کے خیال سے ہی سکینہ کا چہرہ ذہن میں لہرا گیا ، لکھنے کی سزا تو بری نہیں تھی ۔
” ہاں لکھ دوں گی کل رات کو دینے ہیں “
مالا نے اس کے غصے سے ڈرتے ہوۓ منمنا کر اس کی سزا قبول کی اس وقت تو اس کا ذہن ریاضی کے ان فارمولوں سے ہٹانا تھا کیونکہ باقی مضامین کا سبق وہ یاد کر چکی تھی ۔
تقی اسے جواب دینے کے بجاۓ اس کے بستے سے کچھ نکالنے میں مصروف تھا اور پھر خاکی کاغذ میں لپٹی ہوٸ کاپی نکال کر اس کے صحفے پلٹے۔
” اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل پھر تم اس سے لکھوا لو گی ساری سزا ہیں ناں ؟ ؟ ؟ “
تقی نے کاپی کھول کر اس کے بلکل سامنے پٹخی اور سکینہ کی لکھاٸ پر انگلی دھر کر اسے خونخوار نگاہوں سے گھورا مالا نے حیرت سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا وہ آنکھوں کو مکمل طور پر سکوڑے ہوۓ تھا۔
ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا چیز تھا اس کے سامنے بیٹھا یہ شخص وہ مجرم بنی کٹہرے میں کھڑی تھی اور اس کے ڈاکٹر صاحب اب کالا کوٹ پہنے اس سے سوال پوچھ رہے تھے ۔
” کس کی لکھاٸ ہے یہ ؟ “
پھر سے غصے سے سوال کیا ، تقی گھور رہا تھا اور انگلی لکھاٸ پر دھری ہوٸ تھی ، مالا نے تھوک نگلا ، آج تو وہ کچھ زیادہ ہی غضبناک ہو رہا تھا روز یوں تو نہیں پڑھاتا تھا۔
” مہ۔۔۔میری ہے ۔۔۔ اور کس کی ہوگی “
گڑبڑا کر بے ربط جملوں سے جھوٹ بولا اور نظریں اس کی گھورتی نظروں سے نا ملانے کی بھرپور کوشش کی
” جھوٹ مت بولو مجھ سے ، تمھاری لکھاٸ یہ والی ہے یہ کس کی ہے سچ بتاٶ جس سے ہوم ورک کرواتی تھی ، جماعت کے کام میں تو تمھاری لکھاٸ اور ہے “
تقی نے بھنویں سکیڑ کرسوال کیا اور پاس پڑی دوسری کاپی کو اس کے سامنے رکھا ، وہ اس کے سکول کی کوٸ استانی نہیں تھا جو جھانسے میں آجاتا ۔
” سک۔۔سکینہ کی “
مالا نے سر نیچے جھکایا اور جواب دیا ، تقی کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا ، پھر غصے سے آگے ہوا
” لکھو ابھی سارے فارمولے ، چاہے ساری رات لگ جاۓ ایک فارمولا سو دفعہ جلدی کرو “
تقی نے لب بھینچے اور پھر اونچی آواز میں حکم صادر کیا ، مالا نے زور سے آنکھیں بند کی ۔ اور پنسل تیزی سے کاغذ پر چلنے لگی تھی ۔
دل میں تقی کے لیے آج سے پہلے اس نے اتنی نفرت کبھی محسوس نہیں کی تھی جتنی آج کر رہی تھی وہ خود اب یوں ہی ماتھے پر بل ڈالے کچھ لکھنے میں مگن تھا ۔
مالا کا دل کیا پنسل کو اچھی طرح تراش کرے اور تقی کے ہاتھ میں زور سے مار دے اسے بچپن سے ہی لکھنے سے بے انتہا الجھن تھی اور آج جو کام دیا تھا وہ تو اس کے لیے سوہان روح تھا ۔
اس کے ہاتھ درد کرنے لگے تھے پر تقی نے جان نہیں چھوڑی ، رات کے پتا نہیں کس پہر اس کو مالا کے اونگھنے پر ترس آیا تھا اور پھر رعب سے سونے کا حکم جاری کیا ۔
” چلو سو جاٶ اور ابھی سکول سے چھٹیاں ہیں میں جانتا ہوں سارا دن گھر میں فارغ ہی ہوتی ہو یہ سزا پوری کرو گی “
تقی نے انگلی ہوا میں اس کے سامنے معلق کیے اسے خبردار کیا اور پھر اشارہ پلنگ کی طرف کر دیا اور وہ غصے سے تقی کو گھورتے ہوۓ پلنگ کی طرف چل دی اس کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہونے کو تھا ۔ پلنگ پر لیٹتے ہی غصے سے جلتی آنکھیں بند کر لیں ۔
*********
اچانک ماچس کی تیلی کا شعلہ نمودار ہوا اور پھر فرہاد نے ہاتھ میں پکڑی تیلی سے سنگہار میز پر دھری موم بتی کو شعلہ دیا ، موم بتی جلتے ہی ہلکی سی پیلی روشنی کمرے میں پھیلی گٸ تھی ۔
وہ سر شار سا مسکراتا ہوا پلنگ کی طرف واپس پلٹا ، جہاں منہا لیٹی تھی ،فرہاد جیسے ہی پلنگ کے پاس پہنچا چہرے پر رقم کچھ دیر پہلے والی خوشی آہستگی سے غاٸب ہوٸ منہا اب آنکھوں پر بازو دھرے لاپرواہی سے لیٹی تھی ، وہ جو اب اس تکمیل کے بعد بہت ساری باتیں کرنے کی غرض سے پلٹا تھا اس کا یہ انداز دیکھ کر بجھ سا گیا ۔ پلنگ پر لیٹتے ہی کروٹ اس کی طرف لی تھی ۔ اور پھر محبت سے اس کی آنکھوں پر سے بازو کو ہٹایا ۔
” منہا ۔۔۔ تم خوش نہیں ہو کیا ؟ “
فرہاد نے آہستگی سے پوچھا ، منہا نے اپنے اوپر جھکے اس کے چہرے کو بغور دیکھا ، آنکھوں کے بجھے دیوں میں کچھ پل پہلے کی کوٸ خوشی رقم نہیں تھی ۔
” میرا خیال ہے آج تو یہ پوچھنا نہیں چاہیے تمہیں “
منہا نے روکھاٸ سے جواب دیا اور پھر دھیرے سے بازو اس کی گرفت سے آزاد کیا ، فرہاد نے بھنویں نا سمجھی سے سکیڑیں
” تم ہو کر بھی نہیں تھی “
فرہاد نے اس کے قریب ہو کر سرگوشی کی تھی جس پر وہ ایک لمحے لیے جز بز ہوٸ اور پھر غصے سے پیشانی پر بل ڈالے
” میں تمھارے ذہن کا کچھ نہیں کر سکتی کل تک تمہیں کسی اور بات پر اعتراض تھا ، میں نے آج وہ دوری بھی ختم کر دی اور آج تم یہ کہہ رہے ہو کہ میں ہو کر بھی نہیں تھی “
منہا نے جھنجلا کر جواب دیا نگاہیں وہ اب بھی فرہاد سے نہیں ملا رہی تھی ،جس کی وجہ سے فرہاد عجیب کشمکش کا شکار ہو رہا تھا ۔ پر منہا کا یوں خفگی بھرا انداز دیکھ کر جلدی سے بات کو بدلہ شاٸد وہ ہی غلط سوچ رہا ہے ۔
” اچھا ناراض تو نہیں ہو میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا ، میں تو یہ کہنا چاہتا تھا کہ میں کبھی یوں زبردستی تو حاصل نہیں کرنا چاہتا تھا تمہیں “
فرہاد نے گڑ بڑا کر اپنی بات کا پنترا بدلہ تھا ، منہا نے گھور کر اس کی طرف دیکھا
” میں زبردستی نہیں تھی اپنی رضا سے تھی اور اب مجھے سونا ہے ، خدارا ۔۔۔ سونے دو “
منہا نے نخوت سے جواب دیا اور ہاتھ ہوا میں معافی کی صورت جوڑے فرہاد کے چہرت پر یک لخت ندامت لہرا گٸ
” ہممم ۔۔۔ سو جاٶ ۔۔ “
آہستگی سے اجازت دی ، منہا فوراً بازو پھر سے آنکھوں پر دھر چکی تھی ، اور وہ پریشان سا خلا میں گھور رہا تھا ۔
موم بتی کا شعلہ دھیرے دھیرے ہل رہا تھا اور دیوار پر کمرے کی کتنی ہی چیزوں کے ہیولے بن رہے تھے ۔
پر فرہاد کا دل آج سب پا لینے کے بعد بھی بجھ سا رہا تھا ۔
*********
تقی جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوا سامنے پلنگ کے منظر نے اس کا دماغ گھما دیا ، مالا آج پھر لحاف میں گھسی سو رہی تھی ، کمرے کے اندر بلب روشن تھا وہ چہرہ تک لحاف میں چھپاۓ ہوۓ تھی ۔ یہ دوسرا دن تھا وہ رات کا کھانا نہیں کھا رہی تھی اور چھ بجے ہی سو جاتی تھی ۔
پہلے دن تو تقی نے اسے نہیں جگایا تھا کہ شاٸد تھکی ہوٸ ہے کوٸ بات نہیں اگر ایک دن کی چھٹی ہو بھی جاتی ہے تو پر یہ کیا وہ تو روز کا معمول بنارہی تھی اس حرکت کو ، وہ ایک ہفتے سے اس پر سر کھپا رہا تھا لیکن سب بے سود تھا وہ جتنی اس پر محنت کرتا وہ اتنا ڈھیٹ ہو جاتی تھی ۔ اور اب تو وہ روز یہ سونے والا کام کر کے اسے مزید تنگ کر رہی تھی ۔
سکول سے سردیوں کی دس چھٹیاں تھیں تقی چاہتا تھا وہ ان چھٹیوں کا فاٸدہ اٹھا کر اسے زیادہ زیادہ پڑھا لے گھر پر ایک ہفتہ بے کار گزرا تھا ۔ تقی لب بھینچے پلنگ کے پاس گیا اور لحاف کو اس پر سے اٹھایا ۔ وہ لحاف اٹھانے پر بھی نہیں اٹھی تھی ایک طرف کروٹ لیے بے خبر سو رہی تھی ۔
” مالا ۔۔۔ مالا اٹھو ۔۔۔“
تقی نے جھک کر اسکے کندھے کو دھیرے سے ہلاتے ہوۓ پکارا ، مالا نے آنکھیں اور زور سے بند کر لیں اس وقت اٹھ جانا اپنی جان کو عذاب میں ڈالنے کے مترادف تھا وہ اس قید اور مشقت سے بری طرح تنگ آ چکی تھی اور کل یہ سونے کا ناٹک کار آمد ثابت ہوا تھا اس لیے آج پھر یہی دہرا لیا ۔ تقی دن بدن اس پر پڑھاٸ کی سختی زیادہ کر رہا تھا جو اس کی برداشت ختم کر رہی تھی ۔
” مالا دیکھو دو دن ہو گۓ ہیں تم یوں جلدی سو جاتی ہو ، اٹھو آج پڑھنا ہے لازمی “
تقی نے غصے سے اس کے کندھے کو پھر سے ہلاتے ہوۓ کہا ، لیکن وہاں تو کوٸ اثر نہیں تھا ، پیچھے ہوا کمر پر ہاتھ دھرے اسے بغور دیکھا اور پھر ایک دم سے میز پر سے پانی کا پورا بھرا ہوا جگ اٹھا کر اس پر اُلٹ دیا پانی چھپاک کی آواز سے گرا اور اسے سارا بھگو گیا ۔
” آہ۔۔ہ۔۔۔ہ۔۔۔“
وہ بوکھلا کر اٹھی ، اتنی سردی اور ٹھنڈا پانی وہ کمر تک بھیگ گٸ تھی اور بال اور منہ سے پانی نچڑ رہا تھا حیرت اور غصے سے تقی کی طرف دیکھا ، وہ سخت تھے پر ایسا تشدد مالا کی نسیں ابھرنے لگیں ۔
” اٹھو اب ، شرافت سے میز پر آٶ پڑھنا ہے “
تقی نے حکم صادر کیا اور قدم میز کی طرف بڑھا دیے ، مالا کا ضبط جو کے آخری حدود تک تو تین دن سے پہنچا ہوا تھا آج سرے سے ختم ہوا
” نہیں پڑھنا ہے مجھے ۔۔۔۔۔ “
مالا کی سپاٹ آواز ابھری تقی جو میز پر کتابیں نکال رہا تھا پلٹ کر اس کی طرف دیکھا ، وہ ماتھے پر بل ڈالے رعب سے بیٹھی تھی انداز ایسا تھا جیسے اس کے اندر کوٸ بدروح گھس گٸ ہو
” پڑھنا ہے اٹھو پہلے کپڑے تبدیل کرو ، آٶ سناٶ جو پرسوں پڑھایا تھا “
تقی نے اس کے غصے اور اس کےلہجے کی پرواہ نا کرتے ہوۓ متوازن لہجے میں اگلا حکم صادر کر دیا اور پھر سے میز کے اوپر اپنے کاغذ کھول کر رکھنے لگا
” میں نے کہا نا مجھے نہیں پڑھنا اور اب کپڑے بھی تبدیل نہیں کرنے یونہی گیلے کپڑوں میں سونا ہے مجھے “
مالا نے بچوں کی طرح ضد باندھی اور لحاف اٹھاۓ اپنے اوپر اوڑھ لیا ، تقی نے مڑ کر دیکھا تو وہ پھر سے لحاف اپنے اوپر اوڑھ چکی تھی ۔ تقی تپاک سے آگے بڑھا اور ایک جھٹکے سے پورے کا پورا لحاف اس کے اوپر سے کھینچ لیا ۔
” کیا بدتمیزی اور ڈھیٹ پن ہے یہ اٹھو “
تقی اب غصے سے گھور رہا تھا ، اور وہ جو پہلے ہی سرخ چہرہ لیے لیٹی تھی ایک جھٹکے سے اٹھی ، سیاہ رنگ کے جوڑا تھا گلے میں گلاٸ صورت سرخ دھاگے سے شیشے جڑے تھے جو اب گیلے ہو گردن سے چپک رہے تھے ۔
” ڈھیٹ میں نہیں آپ ہیں ، آپ ظالم ہیں ، میں جب پڑھنا نہیں چاہتی تو کیوں زبردستی مجھے پڑھانے پر تلے ہیں “
مالا اونچی آواز میں چیخی تو تقی تلملا کر آگے بڑھا آج سے پہلے مالا کیا کسی نے اس سے اس قدر بدتمیزی اور اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی وہ شاٸستہ مزاج تھا اور اسی طرح کے لوگ اسے پسند تھے ۔
” آواز نیچی رکھو جاہل کہیں کی باہر جا رہی ہے کمرے سے “
لبوں پر انگلی دھرے اسے آہستہ بولنے کے لیےکہتا وہ بلکل پاس آ گیا تھا ، غصہ اسے کم آتا تھا پر آج مالا کی یہ بدتمیزی اسے بری طرح کھل گٸ تھی ۔
” اور ہاں زبردستی پڑھانا ہے مجھے تمہیں ، اٹھو اب “
تقی نے غصے سے لال چہرہ لیے اس بازو سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے نیچے اتار تھا ۔ وہ چھوٹی سی گڑیا کی طرح اس کے بازو سے جھولتی ہوٸ بیڈ سے نیچے آ گٸ تھی
” نہیں پڑھنا مجھے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ سنا تھا ڈاکٹر بے حس ہوتے ہیں آج دیکھ بھی لیا ، مجھے نہیں پڑھنا اور نا امتحان دینے ہیں “
مالا نے ایک جھٹکے سے بازو چھڑوایا تھا اور سختی سے تقی کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑیں ، وہ چھٹانک بھر کی لڑکی جسے وہ معصوم سی بچی سمجھ سمجھ کر پڑھا رہا تھا آج اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بڑے وثوق سے کھڑی تھی ۔ تقی کو عجیب سا احساس ہوا شادی کے ایک ہفتے بعد وہ یوں اس کو بچی اور خود سے بے حد چھوٹی نہیں لگی تھی ۔ مالا ناک اور منہ پھلا کر پھر سے پلٹی تھی ۔ تقی نے اس کے پلٹنے سے پہلے ہی بازو کو جھٹکا دیا تھا وہ لڑکھڑا گٸ تھی ۔ تقی نے جھٹکا دے کر اپنے قریب اور سامنے کیا تھا
” بات سنو میری غور سے مجھے یہ بدتمیزی ، بچوں کی طرح ضد یہ سب پسند نہیں سمجھی اور تم یہ سب کر کے مجھے غصہ دلا رہی ہو “
تقی نے دانت پیستے ہوۓ اس کے باغی سے چہرے پر نگاہیں گھماٸیں ، مالا کی آنکھیں بازو پر موجود ہاتھ کی گرفت کی وجہ سے پانی سے بھرنے لگا تھا
” آپ کو اگر اتنا کچھ نا پسند ہو سکتا ہے تو کیا میں انسان نہیں مجھے بھی کچھ نا پسند ہو سکتا ہے میرا خیال نہیں آپ کو “
مالا کی آواز اچانک آنسوٶں سے بھاری ہو گٸ تھی ، چمکتی گہری نیلی آنکھیں ایک پل میں آنسو چھلاکا گٸیں اور جیسے ہی اس کے گال پر آنسو گرا تقی کی گرفت فوراً اس کے بازو پر ڈھیلی ہوٸ
” مجھے نہیں پڑھنا ہے میرا دل نہیں لگتا ہے پڑھاٸ میں اور نا مجھ سے پڑھا جاتا ہے ، ہاں آپ پڑھ گۓ ہیں تو کیا اب زبردستی سب کو پڑھاٸیں گے اس کی مرضی کے بنا “
مالا اب ہچکیوں میں رونے لگی تھی تقی اس کے یوں رونے پر ایک دم سے پریشان ہو کر پلکیں جھپکانے لگا ، وہ روتے ہوۓ عجیب سا احساس دلا گٸ تھی ۔
وہ نا صرف رو رہی تھی بلکہ بھیگنے کی وجہ سے کپکپا بھی رہی تھی ، اور وہ جو اس کے یوں رو دینے اور حق سے لڑنے پر عجیب طرح کے احساس سے دو چار ہوا تھا گنگ کھڑا تھا ۔
پتہ نہیں کیوں پر ایک لمحے کو دل چاہا اسے کھینچ کر اپنی باہوں میں بھرے اور اس کے آنسو صاف کر دے یہ خیال آتے ہی تقی نے عجیب طرح سے دماغ کو جھٹکا تھا سامنے کھڑی یہ لڑکی جو اس کے نکاح میں تھی اس کی بیوی تھی اب وہ ننھی سی مالا تو نہیں تھی جس کے رونے پر وہ اسے گود میں اٹھا لیتا تھا اپنے ساتھ لگا لیتا تھا ۔ کچھ تھا پر عجیب تھا ۔
” ٹھیک ہے مت پڑھو جاٶ سو جاٶ “
تقی اچانک سپاٹ چہرے کے ساتھ پلٹا تھا اور پھر میز پر جا کر بیٹھ گیا اور وہ ششدر وہاں کھڑی تھی ننگے پاٶں ، گیلے کپڑوں کے ساتھ کانپتی ہوٸ ۔
کچھ دیر یونہی کھڑی تقی کی پشت کو گھورتی رہی اور پھر آہستگی سے الماری کی طرف بڑھی اور کپڑے نکالے یقین نہیں آ رہا تھا اس نے کہہ دیا تھا مت پڑھو بار بار وہ پیچھے مڑ کر تقی کو دیکھ رہی تھی ۔ پھر کپڑے اٹھاۓ کمرے سے باہر نکل گٸ ۔
اس کے باہر نکلتے ہی تقی نے سر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑ لیا تھا ، کیا ہوا تھا یہ سب اس کی سمجھ سے باہر تھا ۔ ذہن کو جھٹکا اور پھر سے حساب کی طرف اپنی پوری توجہ مبذول کی
کپڑے تبدیل کرنے کے بعد جب وہ واپس کمرے میں آٸ تقی اسی طرح میز پر بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا ، مالا اس کے پاس سے گزرتی پلنگ تک آٸ ، کیا تھا عجیب پر اب خوشی کیوں نہیں ہو رہی تھی وہ مان تو گیا تھا کہ مت پڑھو پھر اب کس بات کی بے چینی تھی دل کو ۔
کیا تقی مجھ سے ناراض ہو گۓ ، چور سی نگاہ تقی پر ڈالی وہ مگن تھا گھنی پلکیں اٹھی ہوٸ تھیں اور چہرہ بلکل بے تاثر تھا ۔ اسی طرح خود سے الجھتے تقی سے کی گٸ بدتمیزی پر نادم ہوتے کب اسے نیند آٸ خبر نہیں ہوٸ۔
تقی نے ساری رات کرسی پر گزار دی تھی ، وہ جیسے ہی ذہن کی مصروفیت کم کرتا تھا ایک دم سے کوٸ احساس گھیرنے لگتا تھا اور مالا کا روتا چہرہ سامنے آ جاتا تھا ۔ صبح جب ہاتھ اور پاٶں کی اکڑنے کے احساس سے آنکھ کھلی تو دیکھا وہ میز پر ہی سر رکھے سو رہا تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: