Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 15

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 15

–**–**–

عصر کی اذان کے بعد اب سرمٸ شام اپنے ڈیرے ڈال رہی تھی ، حاکم قصر کی دیواریں اوپری حصے پر دھوپ کو رکھے الودع کہہ رہی تھیں ۔
صحن میں رات کے کھانے کے لیے ہلچل سی شروع ہو گٸ تھی ۔ اٹاری کے زینے چڑھتے ہی یہ داٸیں طرف کا تیسرا کمرہ تھا جو منہا اور فرہاد کا کمرہ تھا ، شادی کو ابھی دو ہفتے ہی گزرے تھے ، مسہری کو پلنگ کے کونوں پر اکٹھا کر دیا گیا تھا لیکن اتارا نہیں تھا ، چمچاتا فرنیچر جو کے جدید طرز پر تیار کروایا گیا تھا کمرے کی شان میں اضافہ کر رہا تھا ۔
پلنگ پر منہا اور فرزانہ سرہانے سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھیں ، پلنگ کے وسط میں فرزانہ کا تیسرے نمبر والا بیٹا علی حسن لیٹا تھا جس کی عمر چھ ماہ تھی ، اس سے بڑے فرزانہ کے دو بچے تھے ایک بیٹا اور ایک بیٹی جو باہر ارحمہ کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھے ۔
مالا پلنگ پر لیٹے علی حسن پر جھکی ہوٸ تھی ، ارحمہ کے بعد اب جا کر اسے کوٸ کھیلانے کو مل جاتا تو وہ اس بچے کے بوسے لے لے کر اسے تنگ کر دیتی تھی اور اب یہی حال وہ علی حسن کا کر رہی تھی ۔
مالا بار بار علی حسن کے ننھے سے پیٹ پر سے قمیض اٹھاۓ وہاں ہونٹ رکھ کر پھونک مار رہی تھی ، جس کے باعث وہ ننھی ننھی ٹانگیں مارتے ہوۓ ہننسے لگتا ، کمرے میں علی حسن کی قلقاریاں گونج رہی تھیں ۔ وہ صحت مند بھرے بھرے جسم کا بچہ تھا جس کو دیکھتے ہی پیار آ جاۓ
فرزانہ ، منہا کے ساتھ آہستہ آہستہ کچھ باتیں کر رہی تھی ، جن سے مالا یکسر بے نیازی برتے ہوۓ تھی ، کچھ دیر وہ شادی شدہ سمجھدار بن کر ان کے بیچ بیٹھی پر پھر ان کی باتیں کچھ خاص سمجھ نا آنے پر وہ ذہن پر زور دینے کے بجاۓ علی حسن کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہو گٸ تھی ۔
مالا اب علی حسن کے گال کو لگاتار بوسے دے رہی تھی اس کا نرم گداز سا گال بوسے دینے پر ایک فرحت بخش احساس دلا رہا تھا اسی لیے وہ علی حسن کے تنگ آ جانے کو بھی محسوس نا کر سکی پتہ تب چلا جب فرزانہ آپا نے اسے ایک چپت لگاٸ ۔
” مالا توبہ ہے کتنا چومتی ہے بچے کو بس کر اب “
فرزانہ آپا نے ہنستے ہوۓ اسے کندھے سے پیچھے کیا ، مالا نے سیدھے ہو کر گہرا سانس لیا اور پیار سے علی کی طرف دیکھا
” آپا یہ ہے ہی اتنا پیارا ماشاءاللہ ، دیکھو تو ذرا ، دل کرتا ہے کھا جاٶں اس کے گال “
مالا نے دانتوں کو زور سے ایک دوسرے میں پیوست کیے اپنی خواہش کا اظہار کیا اور پھر ننھے علی پر جھک کر اس کے گداز گالوں پر پھر سے مِٹھی دینے لگی ۔
” میری تو دعا ہے اللہ تم دونوں کو بھی جلدی سے دے ایسے کھلونے “
فرزانہ آپا نے شرارت سے پہلے منہا اور پھر مالا کی طرف دیکھ کر اپنی خواہش کا اظہار کیا ، مالا اس بات پر گلال ہوتی ہو سیدھی ہوٸ ۔ فرزانہ آپا اس کے اس طرح شرمانے پر محظوظ ہوٸیں اور تنگ کرنے کے سلسلے کو بڑھایا
” مالا تجھے بیٹا چاہیے یا بیٹی “
فرزانہ آپا کے چھیڑنے پر وہ بے حال سی ہوٸ اور پھر جلدی سے علی حسن کو اٹھایا
” آپا مجھے علی حسن دے دو بس “
مالا نے مسکراہٹ دباۓ بات کو گول کیا اور پھر سے دانت زور سے بند کیے اسے پیار کرنے لگی اس کی ننھی ہتھیلوں کو کھول کھول کر وہ ان پر بوسے دے رہی تھی ۔
” اچھا ۔۔۔ مالا ایک کام کر تو علی کو لے کر اپنے کمرے میں چل میں بھی آتی ہوں کچھ دیر میں ، تقی سے بھی ڈھیر ساری باتیں کرنی ہیں “
فرزانہ نے اسے علی کو اپنے کمرے میں لے جانے کا کہا تو وہ دھیرے سے سر ہلاتے ہوۓ دروازے کی طرف بڑھ گٸ اور پھر علی حسن کو گود میں لیے کمرے سے باہر نکل گٸ ۔ اس کے جاتے ہی فرزانہ غور سے منہا کی طرف دیکھتے ہوۓ اس کے اور قریب ہوٸ ۔
” منہا ۔۔۔ تم سے کچھ بات کرنی ہے مجھے “
فرزانہ نے پریشان لہجے میں بات شروع کی تھی منہا نے چہرہ کچھ یوں اوپر اٹھایا جیسے سمجھ گٸ ہو کیا بات کرنی ہے ۔ نگاہیں چراٸیں جبکہ چہرہ بے تاثر تھا
” منہا ویسے تو یہ تم دونوں کا آپسی معاملا ہے مجھے اس میں بات نہیں کرنی چاہیے ، لیکن میں کیا کروں فرہاد میرا بھاٸ بھی ہے اور میری بہن کی طرح ہمراز بھی “
فرزانہ نے مسکراتے ہوۓ کہا منہا نے سر آہستگی سے ہلا کر جھکا دیا ، فرزانہ آپا کی سب چھوٹے بہت عزت کرتےتھے ، پر اب جو بات وہ کر رہی تھیں منہا کو بہت ناگوار گزر رہی تھی
” تمہیں کیا فرہاد اچھا نہیں لگتا شادی کے بعد بھی ؟ “
فرزانہ نے شاٸستگی سے سوال کیا تھا جس پر منہا کے چہرے پر ایک رنگ سا لہرا گیا ۔
”ن۔۔۔نہیں آپا ایسی بات نہیں ہے فرہاد بہت اچھے ہیں پر آپ جانتی ہیں میں ۔۔۔“
منہا نے بات ابھی مکمل نہیں کی تھی کہ فرزانہ نے اس کی بات کو اچک لیا
” ہاں جانتی ہوں تم بہت کم گو ہو گٸ ہو کچھ سالوں سے اور فرہاد بہت شوخ سا ہے لیکن اچھی بیوی وہی ہوتی ہے جو شوہر کے رنگ میں خود کو ڈھال لے “
فرزانہ نے محبت سے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھایا ، منہا نے چہرہ فرزانہ کی طرف موڑا
” کیوں آپا بیوی ہی کیوں شوہر بھی تو ڈھل سکتا ہے نا اس کے رنگ میں “
منہا نے درشتی سے جواب دیا تھا جس پر فرزانہ ایک دم سے چپ ہوٸ ، اس کا لب و لہجہ فرزانہ کو اچھے سے باور کروا گیا تھا کہ وہ فرزانہ کی ان کے تعلق میں مداخلت کو پسند نہیں کر رہی ہے ۔
” ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو میں اسے سمجھاٶں گی ، اچھا اب دکھاٶ تو جو وہ کل جوڑا لے کر آیا تمھارے لیے شہر سے کہہ رہا تھا آپ کو پسند آیا تو ایک آپ کے لیے بھی لاٶں گا “
فرزانہ نے جلدی سے بات کا رخ بدلہ تھا منہا نے مسکرا کر دیکھا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر الماری کی طرف بڑھ گٸ اور فرزانہ خود کو ہی کوسنے لگی اسے فرہاد کی باتوں میں آکر منہا کو نہیں سمجھانا چاہیے تھا ۔
************
علی حسن کو گود میں اٹھاۓ اور ایک ہاتھ سے دروازے کے کواڑ کو اندر کی طرف دھکیلتی وہ کمرے میں داخل ہوٸ اور اندازے کے عین مطابق تقی کرسی پر براجمان تھا، اور اس کے دروازہ کھولنے پر لمحہ بھر کو اس کا کاغذ پر چلتا ہاتھ تھما اور پھر سے لکھنے میں مصروف ہو گیا اس نے مالا کی طرف نہیں دیکھا تھا۔
آج تین دن ہو گۓ تھے اس بے رخی کو اپناۓ ہوۓ ، وہ مالا کو بلانا تو دور کی بات اس کی طرف دیکھتا تک نہیں تھا ، پہلے چاہے وہ اسے ڈانٹتا تھا ، سختی سے پڑھاتا تھا پر وہ اس سے بات کرتا تھا اسے دیکھتا تھا یوں خفا نہیں تھا ، مالا کی پڑھاٸ سے تو جان چھوٹ گٸ تھی۔ لیکن وہ حیران تھی اسے اب ساری رات نیند کیوں نہیں آتی تھی ، لحاف کی اٶٹ سے بس تقی کو دیکھتی رہتی تھی دل عجیب طرح سے بجھا بجھا رہنے لگا تھا ۔ نا کھانا اچھا لگتا تھا نا پینا بس تقی کی بے اعتناٸ بری طرح پریشان کر رہی تھی ۔ بارہا دل کو سمجھایا کہ پڑھاٸ سے جان چھوٹی اور کیا چاہیے تھا اسے پر بے کلی تھی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔
مالا علی حسن کو اٹھاۓ پلنگ پر آگٸ تھی اگرچہ تقی علی حسن کو بہت پیار کرتا تھا لیکن اس وقت پتا نہیں کیوں وہ علی حسن سے بھی مکمل بے رخی برت رہا تھا ۔
اس دن مالا کے یوں رو دینے پر بچپن سے لے کر اب تک کے سارے مناظر اس کے ذہن میں گھوم گۓ تھے ، ہاں رمنا سے جب اس کی نسبت طے تھی تب وہ لڑکپن سے جوانی میں آیا تھا اور ایک عقیدت جیسے جذبات اس کے رمنا سے جڑ گۓ تھے ، لیکن پھر اس کے یوں اچانک چلے جانے کے بعد وہ خود کو ان جذبات سے بہت دور رکھنے لگا تھا کیونکہ یہ جذبات انسان کو کمزور بنا دیتے ہیں اور اس کے مقصد سے دور کر دیتے ہیں ایسا وہ رمنا کے انتقال کے بعد اپنے ایک سال ضاٸع کر دینے کی وجہ سے سوچتا تھا اور پھر اس کے بعد اس نے کبھی کسی بھی لڑکی کے لیے اپنے دل میں ایسے جذبات پنپنے نہیں دیے تھے ۔
شیریں کی طرح کالج اور ملازمت کے دوران بہت سی لڑکیوں نے پیش رفت کی تھی کیونکہ وہ ایک خوبرو نوجوان تھا لیکن وہ ان سب جذبات میں بہہ کر اپنے آپ کو کمزور نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
اور مالا سے شادی سے پہلے بھی اس کے ذہن میں اسے پڑھانے اور میٹرک کروانے کے علاوہ اور کوٸ سوچ نہیں تھی ، اس کا ماننا یہ تھا کہ اللہ نے ہر انسان کو دماغ ایک جیسا ہی دیا ہے بس کوٸ اسے کم استعمال کرتا ہے اور کوٸ زیادہ ۔
ہر کسی کے اندر کوٸ خوبی ہوتی ہے لیکن بہت سے لوگ اس خوبی کے ساتھ محنت کو جوڑ کر اسے برٶے کار لانے کی کوشش نہیں کرتے یہی وجہ تھی اس نے مالا کو پڑھانے کی ٹھانی تھی پر مالا نے بری طرح اس کی ہر کوشش کو نا صرف ناکام کر دیا تھا بلکہ اس رات اس کے دل پر دستک دے کر اسے پریشان کر دیا تھا ۔ اسی پریشانی کے تحت وہ فوراً اس پر سے ہاتھ کھینچ کر پیچھے ہوا تھا اب ایک جنگ تھی جو تین دن سے دماغ میں چل رہی تھی ۔
دل مالا کے ساتھ جڑے رشتے کی خوبصورتی کی وجہ سے جھکنے لگا تھا جبکہ دماغ اسے اب بھی یہ احساس دلانے پر تلا ہوا تھا کہ وہ چھوٹی ہے ، ان سب باتوں اور اسطرح کے رشتے کے لیے وہ اس سے کمسن ہے ، بس یہی کشمکش میں وہ مالا کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا ۔
اور وہ اتنا مضبوط تھا کہ اپنے دل کو اپنے دماغ کے ذریعے قابو میں لا کر زیر کر دینے کی طاقت رکھتا تھا اور اب بھی تین دن سے وہ یہی کر رہا تھا ۔
مالا علی حسن کو پلنگ پر لٹاۓ اس پر جھک کر اسے پیار کر رہی تھی ، تقی نے نا چاہتے ہوۓ بھی نگاہ اٹھاۓ ادھر دیکھا تھا کیونکہ علی حسن کی قلقاریاں اتنی خوبصورت تھیں کی تقی کی توجہ اس طرف مبذول ہوٸ ۔
وہ کاسنی رنگ کے جوڑے میں آج بالوں کو بس اوپر ایک کلپ سے باندھے باقی کے بال کھلے چھوڑے ہوۓ تھی جبکہ اکثر ان بالوں کی چٹیا ہی گوندھ کر رکھتی تھی ۔ علی حسن پر جھکے ہونے کے باعث اس کے بال آگے کی طرف اس کی کمر پر آبشار کی طرح بکھرے ہوۓ تھے ۔
وہ بھری جسامت اور گداز گالوں والی دوشیزہ تھی یہی وجہ تھی وہ اپنی عمر سے بڑی لگنے لگی تھی ، تقی نا چاہتے ہوۓ بھی آج اس کے سراپے کو دیکھ رہا تھا آج سے پہلے اس نے کبھی کسی لڑکی کو یوں اتنے غور سے نہیں دیکھا تھا اور آج بھی یہ سب لا شعوری طور پر ہو رہا تھا ۔
” اہم۔۔اہم۔۔۔۔ “
فرزانہ کی کھنکار پر تقی نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا فرزانہ پتا نہیں کس لمحے کمرے میں آٸ تھی اور پھر تقی کو یوں مالا کی طرف دیکھتے ہوۓ دیکھ کر معنی خیز گلا کھنکارا تھا ۔ تقی نے فوراً چہرے کے تاثرات بدلے ۔
فرزانہ اب اندر داخل ہو رہی تھی اور معنی خیز نگاہوں سے مالا کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ جو اس کے بیٹے پر جھکی اسے مسلسل بوسے دے رہی تھی ۔
” ارے بھٸ اتنی مِٹھی کر رہی ہو میرے بیٹے کو ، کس کو دکھا رہا ہو ؟“
فرزانہ مالا کو چھیڑتے ہوۓ آگے بڑھی تو ، مالا تو اس بات پر ایسی گلال ہوٸ کہ فوراً مسکراتے ہوۓ علی حسن کو اٹھا کر اپنے چہرے کے آگے کر لیا جبکہ تقی نے چہرے پر سنجیدگی طاری کی
” آٸیے فرزانہ آپا ۔۔۔“
تقی نے ہمیشہ کی طرح کھڑے ہو کر فرزانہ کو سامنے کرسی کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا
” نہیں جی ہم تو اپنی چھوٹی سے بھابھی کے ساتھ پلنگ پر ہی بیٹھیں گی “
فرزانہ نے شرارت سے گردن کو گھماتے ہوۓ کہا اور ہنستے ہوۓ آ کر مالا کے سامنے پلنگ پر بیٹھ گٸ اور تقی فرزانہ کے بیٹھتے ہی کرسی کا رخ پلنگ کی طرف موڑے سیدھا ہوا
” ہاں ویر جی کہاں تک پہنچا ہسپتال ؟ “
فرزانہ نے مسکراتے ہوۓ اس سے ا سکے ہسپتال کی تعمیر کے بارے میں سوال کیا
” آپا ہسپتال کی تعمیر تو بہت پڑی ہے ابھی تو شروعات ہے پر سوچا یہی ہے کہ پہلے کلینک بنا لوں گا اور زیر تعمیر ہسپتال کے کلینک میں بیٹھنا شروع کردوں گا ان شاء اللہ “
تقی نے مبہم سی مسکراہٹ سجاۓ اپنے ارادے سے آگاہ کیا ، فرزاانہ بھی مسکرا دی اور پھر علی حسن کی چہک پر گردن موڑے مالا اور علی کی طرف متوجہ ہوٸ
” تقی تمھاری بیوی کو بچے بہت پسند ہیں “
فرزانہ نے شریر سے لہجے میں کہا اور پھر تقی کی طرف دیکھا جو بے ساختہ مالا اور علی کی طرف متوجہ ہوا تھا
” بچوں کو بچے پسند ہوتے ہیں “
تقی نے سپاٹ سے لہجے میں فوراً کہا تو مالا نے چونک کر تقی کو دیکھا ، کتنی چڑ تھی اسے تقی کے اس خیال سے
” ارے واہ ۔۔۔۔ اب بھی اتنی لاڈلی رکھی ہوٸ کہ بچی ہی لگتی ، اوہ ہاں یاد آیا مالا کیسی جا رہی ہے تیاری کچھ ماہ ہی رہتے ہیں دسویں جماعت کے پرچوں میں منہا بتا رہی تھی تم نے پڑھنا ہے آگے “
فرزانہ نے بات کو ادھوارا چھوڑے جیسے ہی مالا سے سوال کیا مالا گڑبڑا کر سیدھی ہوٸ چور سی نگاہوں سے تقی کی طرف دیکھا جو بے حد سنجیدہ بیٹھا تھا ۔ جواب مالا کی جگہ تقی کی طرف سے آیا تھا
” نہیں ۔۔۔ نہیں دے رہی امتحان “
تقی نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا تو فرزانہ نے حیرت سے ایک نظر مالا کی طرف دیکھا اور پھر تقی کی طرف
” کیوں ۔۔۔۔ تقی تم کیسے مان گۓ ؟ “
لہجے میں حد درجہ حیرت تھی کیونکہ وہ جانتی تھی تقی جس نے اپنی بہن اور اپنے کذن حتی کے اس کو بھی پڑھانے پر اتنی محنت کی تھی وہ اپنی بیوی کو کیسے آٹھویں جماعت تک رکھ سکتا ہے
” پسند نہیں ہے اسے ہر کسی کی اپنی مرضی ہوتی ہے ، میں کیا لگتا ہوں اس کا جو اس پر اپنی مرضی چلاتا پھروں “
تقی نے لب بھینچے کہا اور پھر ایک دم سے اٹھا ، چہرے پر غصے کے آثار تھے
” آپا علی حسن پکڑاۓ گا مجھے “
فرزانہ کو کہا اور بازو آگے کیے حالانکہ علی مالا کی گود میں تھا ، مالا کو بری طرح اس کی خفگی محسوس ہوٸ ، فرزانہ نے مسکراتے ہوۓ علی حسن پلنگ سے اٹھا کر تقی کی طرف بڑھا دیا تقی علی حسن کو لے کر باہر کی طرف قدم بڑھا دیے اور فرزانہ نے غور سے مالا کے جھکے سر اور روہانسی صورت کی طرف دیکھا
” ناراض ہو گیا ہے تم سے “
فرزانہ نے آہستگی سے باہر جاتے تقی کی پشت کو دیکھتے ہوۓ پوچھا ، فرزانہ کا ایسے کہنا ہی تھا کہ مالا اچھل کر فرزانہ کے گلے لگی اور ہچکیوں صورت رونے لگی
” ارے پگلی ۔۔۔۔ رو کیوں رہی ہے شوہر ناراض ہو جایا کرتے ہیں پھر مان بھی جاتے ہیں “
فرزانہ نے اسے خود سے الگ کیا اور محبت سے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں لیا ، مالا نے آہستگی سے سر اثبات میں ہلا دیا اب وہ فرزانہ کو کیا بتاتی کہ تقی اس سے کتنا زیادہ خفا ہے تین دن بعد آج شدت سے اس کی ناراضگی کا احساس ہوا پھر رات بھر بھی وہ چھپ کر بار بار تقی کی طرف دیکھ رہی تھی جو بے تاثر چہرہ لیے ہوۓ تھا۔
*********
دوپہر کا وقت تھا اور حویلی کے زیادہ مکیں صحن میں چارپاٸ ڈال کر بیٹھے تھے ، خدیجہ بیگم لحاف اوڑھے تخت پر بیٹھی تھیں جہاں تاری بوا پتہ نہیں ان کو کیا گاٶں کا قصہ سنا رہی تھی ۔
اور تخت سے تھوڑا دور ہی موجود کمرے میں مالا پلنگ پر چت لیٹی تھی ، سر تکیے پر رکھا تھا آنکھیں موندی ہوٸ تھیں ، ایک بازو اوپر کیے سر کے گرد گھمایا ہوا تھا دونوں سفید کلاٸیوں میں سرخ کانچ کی چوڑیاں جچ رہی تھیں اور تقی کی میز پر رکھے ریڈیو سے گیت کی آواز نکل کر پورے کمرے میں گونج رہی تھی ۔
آج تم غیر سہی ۔۔۔۔۔
پیار سے بیر سہی ۔۔۔۔۔
آج تم غیر سہی۔۔۔۔۔۔
پیار سے بیر سہی ۔۔۔۔۔
تیری آنکھوں میں پیار کا کوٸ پیغام نہیں ۔۔۔۔
تجھ کو اپنا نا بنایا تو میرا نام نہیں ۔۔۔
پلنگ پر ایک ٹانگ پر ٹانگ رکھے وہ سفید پاٶں کو گیت کے بولوں کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ جھلا رہی تھی ، ذہن میں تقی کی صورت اس کا غصہ اور کل فرزانہ آپا کے سامنے کہے گۓ الفاظ گونج رہے تھے ۔
اچانک باہر سے شور کی آواز پر وہ پیشانی پر بل ڈالے اٹھ کر بیٹھی ، شور میں تقی کی آواز پہچانتے ہی وہ ننگے پاٶں ریڈیو کی آواز بند کرتے ہوۓ جیسے ہی برآمدے میں آۓ تو پردہ ہاتھ میں رہ گیا ، صحن میں تقی ، نقی کو بری طرح پیٹ رہا تھا اور وہ اونچی آواز میں رو رہا تھا۔
” ارے سٹیا گیا ہے تقی چھوڑ دیو اس کی جان کو ، کاہے کو مارے چلے جا رہا ہے اسے “
خدیجہ بیگم تخت پر بیٹھے ہی بازٶ لمبا کیے چیخ رہی تھیں جبکہ بلقیس مسکین سی صورت لیے تقی کے پاس کھڑی تھی جو غصے میں پیشانی پر بل ڈالے نقی کی گردن کو دبوچے ہوا تھا ۔اور بار بار اسے جھکا کر اس کی پیٹھ پر تھپڑ مار رہا تھا ۔
بلقیس تھوڑا سا آگے ہوٸ تو تقی نے فوراً خبردار کرنے کو انگلی ہوا میں ان کے سامنے کھڑی کی ، سرمی رنگ کے کرتا شلوار میں ملبوس اس کا چہرہ غصے سے لال بھبوکا ہو رہا تھا کرتے کی آستین اپنے مخصوص انداز میں آگے سے موڑ رکھی تھی ۔
” اماں پیچھے رہیں آپ ایک تو بگاڑ کر رکھ دیا ہے سب گھر والوں نے اسے ، پڑھتا یہ نہیں اور اب سگریٹ اتنی سی عمر میں “
تقی نے غصے سے کہا اور پھر تیرہ سالا نقی کو مارنے لگا ، وہ اتفاق سے تقی کو دوستوں کے ساتھ اسطرح کی حرکت کرتے ہوۓ نظر آ گیا تھا ، پھر کیا تھا ، کھیل کے میدان سے وہ اسے یونہی مارتا ہوا گھر لے کر آیا تھا ۔
” بھاٸ معاف کردو اب سے نہیں کروں گا “
نقی ہاتھ جوڑے معافی مانگ رہا تھا ، پر تقی کو تو پتا نہیں کس کس بات کا غصہ تھا جو وہ نقی پر اتارے چلے جا رہا تھا ۔
” پڑھتا تو نہیں ہے تجھے صابر کے پاس پڑھنے کے لیے ڈالا تھا میں نے شام کو جاتا کیوں نہیں اس کے پاس اگر فیل ہوا نا اس سال دیکھنا کیا حال کرتا تیرا “
تقی نے پھر سے اس کا گریبان پکڑ کر غصے سے جھنجوڑ ڈالا ، اس نے آج تک سگریٹ نہیں پی تھی اور اپنے سے اتنے چھوٹے نقی کو سگریٹ پیتا دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گۓ تھے ۔
” آۓ ۔۔۔ ہاۓ۔۔۔ چھوڑ دے اس کی جان کیا آج ہی بی اے پاس کروا دے گا ، کاہے کو آج سانڈ کی طرح اس پر غصہ اتارے جا رہا ہے “
خدیجہ بیگم نے غصے سے ہانک لگاٸ ، وہ مکمل طور پر ایک لڑکا پرست خاتون تھیں اور نقی تو ویسے بھی ان کا لاڈلا تھا۔
” بی جان آپ تو چپ کریں ، بھاٸ ہے میرا چھوٹا ، کیا اس کو بھی کچھ نا کہوں ، فرض ہے میرا اس کو سمجھانا اچھے برے کی تمیز سیکھانا “
تقی نے غصے سے کہا اور نگاہ اچانک تخت کے بلکل پیچھے کھڑی مالا پر پڑی اور پھر ایسی ناگوار نگاہ اس نے مالا پر ڈالی کہ وہ نادم سی ہو کر نظریں جھکا گٸ ۔
مطلب وہ اسے جتا گیا تھا وہ جن کو اپنا سمجھتا ہے انہی پر حق جتاتا ہے اور مالا کے ساتھ پڑھاٸ کے معاملے میں زبردستی کا مطلب یہی تھا وہ اسے اپنا سمجھتا تھا ۔
صحن میں نقی کی سگریٹ پینے کو لے کر شور و غل برپا تھا اور وہ بجھی سی صورت لیے کمرے میں آ گٸ ۔ اور پھر نگاہ میز پر پڑی کتابوں پر ٹک گٸ ۔
***********
رات کا سناٹا حویلی کو جیسے ہی لپیٹ میں لے گیا تھا ، سب مکیں کمروں میں گھس گۓ تھے اور وہ ارحمہ کو سلا کر اب اپنے کمرے کی طرف آ رہی تھی ۔
ارحمہ بعض اوقات اس کے ساتھ سونے کی ایسی ضد ڈال لیتی تھی کہ پھر غزالہ کی بھی نہیں سنتی تھی اس لیے مالا اس کے ساتھ لیٹ کر اسے اپنے ساتھ لگا کر سلاتی تھی ۔
کمرے کا دروازہ معمول کے مطابق بند تھا اور کمرے کی بتی جل رہی تھی جو دروازے کی ہلکی سی اوٹ سے چھن کر باہر آ رہی تھی ، مطلب تقی کمرے میں موجود تھا ، مالا نے ہمت باندھی اور دروازہ کھولا کیونکہ آج وہ جو کرنے والی تھی اس کے لیے ہمت ہی چاہیے تھی ، دروازہ کھول کر اندر داخل ہوٸ تو معمول کے مطابق تقی نے اس کی طرف نہیں دیکھا تھا ۔
وہ آج بھی کل والا سرمٸ کُرتا ہی زیب تن کیے ہوۓ تھا جو شام کو آ کر تبدیل کیا تھا، مالا نے پلنگ کے بجاۓ قدم میز کی طرف بڑھا دیے اور پھر آ کر کرسی کو سیدھا کرنے لگی ۔ کلاٸیوں میں پہنی چوڑیاں شور کرتی کمرے کی خاموشی کو توڑ گٸ تھیں جو پانچ دن سے اس کمرے میں موجود نفوس میں قاٸم تھی ۔
تقی نے پلکیں پھڑپھڑاٸیں پر اس کی طرف دیکھا نہیں اتنے دن سے یہی تو غصہ تھا ۔ مالا نے بیٹھ کر پاس پڑی اپنی کاپی اٹھاٸ اور پنسل کو تراش کرنے لگی ، تقی مکمل طور پر اس سے بے اعتناٸ برتے ہوۓ تھا ۔
مالا نے پنسل تراش کرنے کے بعد کاپی کو میز پر رکھا اور پھر الجبرا کے کلیے لکھنے شروع کیے وہ ایک کے بعد دوسرا کلیہ فر فر لکھ رہی تھی ، آج صبح سے شام تک اس نے ہر کلیہ پچاس پچاس دفعہ لکھ کر یاد کیا تھا ۔ اور جب آپ کی لگن سچی ہو تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہو جاتا ہے ۔
تقی نے ایک چور سی نگاہ اس کی کاپی پر ڈالی وہ سر جھکاۓ انہماک سے لکھنے میں مصروف تھی اور اتنی روانی سے لکھ رہی تھی کہ ایک بھی کلیہ غلط نہیں تھا تقی کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا وہ یونہی اس کو دیکھ رہا تھا جب اچانک مالا نے مکمل لکھنے کے بعد چہرہ اوپر اٹھایا ۔
تقی نے فوراً نگاہوں کا زاویہ بدل کر چہرہ سپاٹ کیا ، جبکہ دل کو عجیب خوشگوار حیرت نے آن گھیرا تھا ، مالا نے کاپی تقی کے بلکل آگے رکھ دی ، تقی نے ہاتھ سے کاپی کو پیچھے کسکھا دیا اور پھر سے اپنے سامنے کھلی کتاب پر نگاہیں جما دیں ، تھوڑی خفگی ظاہر کرنا بنتا تھا کیونکہ اگر وہ غلط نہیں سوچ رہا تھا تو یہ سب اس کی اتنے دن کی بے اعتناٸ کا نتیجہ تھا ۔
مالا نے کاپی اٹھا کر اس کی کتاب کے اوپر رکھ دی ، تقی نے نگاہیں اٹھاٸیں اور اس کی طرف دیکھا ، دل موہ لینے والی صورت لیے وہ اس کی طرف دیکھ رہی تھی چہرہ اداس تھا ، درمیان میں مانگ نکلانے کی وجہ سے چہرہ زیادہ ہی گول اور معصوم لگ رہا تھا ۔
” فارمولے یاد ہو گۓ ہیں آگے پڑھیں اب “
مدھر سی آواز ابھری تھی ، وہ جھجکتے ہوۓ آہستہ آواز میں کہہ رہی تھی ۔
” تمہیں تو پڑھنا نہیں تھا رو رو کر اس دن یہی کہا تھا تم نے مجھے “
تقی نے ہنوز سپاٹ چہرے کے ساتھ اب لہجہ بھی سپاٹ رکھا ہوا تھا ، کیونکہ اب بھی اسے تھوڑا رعب دکھانا لازمی تھا کیونکہ اس کی تھوڑی سی بھی ڈھیل پر اور خوشی ظاہر کرنے پر وہ پنترا بدل سکتی تھی ۔
” ہاں کہا تھا پر اب مجھے پڑھنا ہے “
مالا نے ملاٸم سے لہجے میں التجا کی اور دھیرے سے نچلے لب کو اس کی خفگی کے پیش نظر دانت میں دبا کر چھوڑا ، وہ اتنا خفا تھا کہ اب اس کے پڑھنے پر آمادہ ہونے کے بعد بھی اسے پڑھانا نہیں چاہتا تھا
” کیوں اب کیا ایسا ہوا ہے جو پڑھنا ہے تمہیں “
تقی نے بھنویں اچکاۓ سوال کیا ، نرم سے نگاہیں اس کے ہر نقش کو بغور دیکھ رہی تھیں ، وہ بہت حسین تھی آج سے پہلے کبھی توجہ ہی نہیں گٸ تھی اس طرف
” کیونکہ ۔۔۔۔ “
مالا نے سر نیچے جھکا لیا تھا ، تقی نے مسکراہٹ دباٸ اسے وہ یوں نادم سی اچھی لگ رہی تھی لیکن اپنی سختی اسے برقرار رکھنی تھی ۔
” کیونکہ میں آپ کو ناراض نہیں کر سکتی “
مالا کی آواز بہت آہستہ تھی اور پلکیں ہنوز جھکی ہوٸ تھیں ۔ اس کی یہ بات تقی کو اندر تک سرشار کر گٸ اور اسے اپنے اندر ہونے والے اس انوکھے سے احساس نے حیران کر دیا ۔
” نہیں صرف میری ناراضگی کو لے کر تم اتنی بڑی قربانی مت دو “
تقی نے اپنے سامنے کھلی اس کی کاپی کو بند کرتے ہوۓ سنجیدہ سے لہجے میں کہا اور کتاب کی طرف متوجہ ہوا ، مالا نے بیچارگی سے دیکھا اس کی ناراضگی سوہان روح تھی ۔
” کیوں نا کروں ناراضگی کی پرواہ کروں گی میں “
مالا نے ایک دم سے چہرہ اوپر اٹھاۓ وثوق سے کہا نگاہیں سیدھا تقی کی نگاہوں سے ملیں تھیں ۔
” پر میں اب تمہیں پڑھانا نہیں چاہتا “
تقی نے لب بھینچے مصنوعی روکھے سے لہجے میں جواب دیا تو مالا کی منہ کھل گیا پھر آنکھیں سکوڑ کر تقی کی طرف دیکھا ۔
” آپ نا پڑھاٸیں یہیں پاس بیٹھ کر پڑھتی رہوں گی “
مالا نے ناک پھلاتے ہوۓ کہا اور پھر جلدی سے انگلش کی کتاب کھول کر اپنے سامنے رکھی اور پڑھنا شروع کر دیا ۔
تقی نے بے اعتناٸ برتتے ہوۓ اپنی کتاب پر نگاہ جماٸ ، پر وہ اتنے غلط تلفظ ادا کرتے ہوۓ پڑھ رہی تھی کہ تقی کی برداشت جواب دے رہی تھی ۔ تقی نے کھینچ کر کتاب اپنے پاس کی
” سارا غلط پڑھ رہی ہو کرسی پاس کرو “
تقی نے رعب سے کہا تو مالا بے ساختہ مسکرا دی اور پھر کرسی قریب کرتے ہوۓ نظریں کتاب پر جما دیں اب تقی اسے پڑھا رہا تھا اور آج پہلے دن وہ تقی کے بجاۓ کتاب پر مکمل توجہ دیے ہوۓ تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: