Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 16

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 16

–**–**–

یہ تنگ سے بازار تھا جس میں چھوٹی چھوٹی اندر کو زینے اترتی دوکانیں تھیں اور یہاں ایک ہی قطار میں بہت سے پنساری بیٹھے تھے ۔ گلی اتنی تنگ تھی کہ دن چڑھے بھی اندھیرا سا محسوس ہو رہا تھا ۔
لوگوں کے بولنے کی آوازیں ارد گرد سے کانوں میں گھس رہی تھیں اور جڑبوٹیوں کی تیز خوشبو ناک کے نتھنوں میں گھس رہی تھی ۔
دو قدم تیزی سے اس سرخ اینٹوں کی روش والے تنگ بازار میں آگے بڑھ رہے تھے ، کلاٸ میں چاندی رنگ کی گھڑی باندھ رکھی تھی اور تیز تیز قدم اٹھانے کے باعث ہاتھ ہل رہا تھا اور پھر وہ ایک دوکان کے سامنے رک گیا ۔
ٰناظم پنسار اور دوا خانہ ۔۔۔ گدلہ سا بورڈ تھا جو شاٸد پہلے سفید رنگ کا ہو کبھی لیکن اب تو میل کچیل اور مٹی سے اٹنے کی وجہ سی پیلے سے رنگ کا دکھاٸ دیتا تھا ، اس پر سرخ رنگ سے یہ نام پینٹ ہوا تھا ۔
وہ دو قدم بھی اب ناظم پنسار اور دواخانہ کے بورڈ لگی اس چھوٹی سی دوکان میں داخل ہوۓ تھے ۔
چھوٹے بڑے ڈبے دیوار میں بنی الماری کے خانوں میں ترتیب سے رکھے ہوۓ تھے ، ہر ڈبے کے اوپر چھوٹی سی کاغذ کی چٹ لگی تھی جس پر مختلف نام لکھے تھے ، دوکان کا دروازہ پورا لکڑی کا تھا لیکن اس کے اوپری حصے میں چوڑاٸ کی صورت شیشہ نصب تھا ۔ اور آگے شٹر تھا جو اس وقت اوپر اٹھا ہوا تھا ۔ جگہ جگہ چھوٹے بڑے تھیلے بھی پڑے تھے جن میں شاٸد مختلف جڑی بوٹیاں تھیں ۔ اوپر چھت پر پنکھا لگا تھا جس پر ایک دبیز تہہ مٹی کی جمی تھی ۔ دوکاندار اس نفس کے دوکان میں داخل ہوتے ہوۓ سیدھا ہوا اور پہچان کر مسکرا دیا ۔
” اسلام علیکم یہ لیجیے جتنے پیسے آپ نے کہے تھے میں لے آیا ہوں ، زہر تیار ہے ؟ “
دو قدم اب بلکل دوکاندار کے سامنے تھے اور پھر سفید رنگ کے کپڑے کو دوکاندار کی طرف بڑھایا ، دوکاندار نے بتیسی نکالی سر اثبات میں ہلایا پیسے جو کپڑے میں لپٹے تھے پکڑے اور مڑ کر لکڑی کی الماری کی طرف بڑھا واپس پلٹا تو ہاتھ میں ایک خاکی کاغذ تھا ۔ جسے اس نے سامنے کھڑے شخص کی طرف بڑھا دیا ، جسے پکڑتے ہوۓ اس کے ہاتھوں میں لمحہ بھر کو ہلکی سی لغزش آٸ ۔
”کام کرے گا یہ ؟ “
بے یقینی سے سوال پوچھا ، دوکاندار نے دانت نکالے
” کیسی باتیں کرتے ہو باٶ اتنی مہنگی جڑی بوٹی سے بنا ہے کام کیوں نہیں کرے گا بس دیکھو بہت کم مقدار دینی ہے ، اگر ذرا سی بھی زیادہ مقدار دی تو طبیعت بہت بگڑ جاۓ گی ، میں نے ہر ایک دن کے لیے ایک چھوٹی سی پڑی بناٸ ہے اور وہی دینی ہے روز “
دوکاندار نے چشمہ نیچے کرتے ہوۓ اس کی اوٹ سے دیکھتے ہوۓ جواب دیا ۔ اب سامنے بیٹھے شخص کے ہاتھ تیزی سے کاغذ کو لپیٹ رہے تھے ۔
” اچھا بہت شکریہ “
کاغذ کو چھپا کر تھیلے میں رکھتے ہوۓ وہ اپنی جگہ سےاٹھا ، دوکاندار اب تیزی سے پیسے گن رہا تھا ۔
” پورے ہیں ؟ “
سامنے کھڑے شخص نے پوچھا
” جی ۔۔۔جی ۔۔۔ بلکل پورے ہیں “
پنساری نے پیسے گنتے ہوۓ اوپر دیکھا اور دانت نکالے دو قدم تیزی سے دوکان سے باہر نکل گۓ تھے ۔ اور دوکاندار کے ہاتھ ابھی بھی پیسے گن رہے تھے ۔
********
مالا صحن سے برانڈے کے زینے چڑھتی ہوٸ اوپر آٸ تھی ، برانڈے میں سناٹا تھا ، وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی جو غزالہ اور نوازش کے کمرے کے ساتھ ملحقہ تھا ۔ کمرے کا دروازہ کھلا تھا ، سامنے پلنگ پر غزالہ اور نوازش سو رہے تھے وہ ان کے پاس سے گزرتی ہوٸ ان کے کمرے کے ساتھ ملحقہ دروازے کی طرف بڑھ گٸ ۔
جیسے ہی کمرے میں داخل ہوٸ بتی جلانے کو ہاتھ بڑھایا کمرے میں اندھیرا تھا ۔ بتی کے بٹن دبانے پر بھی بتی نہیں جلی تھی ، اندازے کے مطابق کھڑکی تک آٸ جہاں
موم بتی جلا کر جیسے ہی سر اوپر اٹھایا تو وہ کمرہ اس کا کمرہ تو نہیں تھا یہ تو تقی کا کمرہ تھا ۔
اتنی رات کو میں تقی کے کمرے میں کیا کر رہی ہوں الجھ کر سوچا شادی سے پہلے یوں تقی کے کمرے میں بی جی نے دیکھ لیا تو ۔۔۔۔ذہن میں اس خیال کے امڈتے ہی واپس پلٹنے کو قدم ابھی بڑھاۓ ہی تھے ، اچانک نگاہ سامنے اٹھی تو الماری کے پاس کوٸ کھڑا نظر آیا ، وہ الماری کے پٹ کھولے کھڑی تھی بال پشت پر بکھر کر ساری کمر کو ڈھکے ہوۓ تھے ۔ مالا آنکھوں کو سکیڑے آگے بڑھی کون تھی رملا تھی کیا ؟ ؟ وہ کیا نکال رہی ہے الماری میں سے ۔ پشت سے وہ رملا لگ رہی تھی ۔
” رملا۔۔ کیا دیکھ رہی ہو ؟ کیا چاہیے تمہیں ؟ تقی کے کمرے میں کیا کر رہی ہو ؟ “
مالا بہت سے سوال ایک ساتھ کرتی ہوٸ آگے بڑھی جیسے ہی اس کے قریب پہنچی تو اچانک رملا نے رُخ موڑا ، وہ رملا نہیں تھی وہ رمنا تھی ۔
” آپا ۔۔۔ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں “
مالا نے فوراً پہچان کر بھنویں سکیڑ کے پوچھا ۔ رمنا بے تاثر سفید چہرہ لیے کھڑی تھی ۔ اچانک ذہن میں آیا کہ رمنا آپا تو مر چکی ہیں ۔
” مالا اُسے بچا لو ۔۔۔ “
رمنا نے آہستگی سے کہا اور پھر مالا کے اور قریب آٸ تھی
” آپا ۔۔۔۔کسے۔۔۔؟ “
مالا نے حیرت سے رمنا کی طرف دیکھا ، رمنا نے غصے سے گھورتے ہوۓ منہ پوارا کھولا اور پھر اسے ایک زور کا دھکا دیا ۔ وہ اڑتی ہوٸ سیدھی دیوار کے ساتھ جا لگی
ایک جھٹکے سے اس کی آنکھ کھلی تھی ،وہ پلنگ پر لیٹی تھی ، خواب عجیب وحشت ناک تھا ، سب سے پہلی نگاہ مالا کی الماری کی طرف گٸ تھی ۔
دل خوف کی وجہ سے تیز دھڑک رہا تھا ، ذہن نے فوراً سے سب سلجھایا اس کی شادی ہو چکی ہے اوراس وقت وہ تقی کے ہی کمرے میں اس کے ساتھ پلنگ پر لیٹی ہے ۔
کمرے میں بہت اندھیرا تھا بس ہلکی سی صحن میں جلتی قندیل کی روشنی کے باعث کمرے میں نظر آ رہا تھا ، تقی کو بلکل اندھیرے میں نیند آتی تھی ، اس لیے وہ چھوٹا بلب نہیں جلاتا تھا۔
وہ تقی سے پہلے آ کر بستر میں لیٹ جاتی تھی جس وقت بتی جل رہی ہوتی تھی اس لیے آج پہلے دن وہ کمرے میں اس اندھیرے کو دیکھ رہی تھی ۔
رمنا کی آواز اور ہولناک دھکا دل لرزا گیا تھا ، خوف سے رونگٹے کھڑے ہونے لگے ۔ آج سے پہلے کسی خواب میں وہ یوں مالا پر غصہ نہیں ہوٸ تھی ، بے اختیار وہ کھسک کر تقی کے قریب ہوٸ ان دونوں کے درمیان کافی فاصلہ ہوتا تھا کیونکہ تقی پلنگ کے ایک کنارے سے لگ کر اس سے دوری بنا کر سوتا تھا ۔
مالا نے پاس ہو کر اس کی کمر کے گرد بازو حاٸل کر لیا وہ اسی کی طرف کروٹ لیے بے خبر سو رہا تھا ۔ بازو حاٸل کرتے ہی وہ اور قریب ہوٸ اور تقی کے سینے میں چہرہ چھپایا لرزتے دل اور خوف کے احساس کو کچھ سکون سا ملا ۔
گہری نیند میں تقی کو کسی کے ساتھ لگنے کا احساس ہوا تو آنکھ کھلی ، ذہن کو ایک دو سکینڈ سمجھنے میں لگے اور پھر ایک جھٹکے سے اس نے آنکھیں کھولیں یہ مالا تھی جو اس کے ساتھ لگی تھی اور کانپ رہی تھی ۔
”مالا ۔۔۔۔ “
تقی نے چہرہ نیچے کیے نیند سے بوجھل ہوتی آواز میں پکارا وہ اس کے سینے میں منہ چھپاۓ ہوۓ تھی اور کمر کے گرد بازو اوپری رُخ گھماۓ ہوۓ تھا ۔ تقی کی آواز پر مالا نے فوراً چہرہ اوپر اٹھایا ۔
” مالا کیا ہوا ۔۔ کانپ کیوں رہی ہو ؟ “
تقی نے آہستگی سے اپنے گرد اس کے حاٸل بازو کو اٹھاۓ اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب کرتے ہوۓ پوچھا ، مدھم سی روشنی میں اس کا چہرہ بہت کم واضح تھا لیکن وہ محسوس کر سکتا تھا وہ ڈری ہوٸ ہے ۔
” ڈر لگ رہا ہے مجھے ، خواب دیکھا ہے ایک “
مالا نے گھٹی سی آواز میں وضاحت دی ، آواز میں خوف کی جھلک ابھی بھی نمایاں تھی ۔ اس کی حالت گواہ تھی وہ واقعاتاً بہت بری طرح گھبراٸ ہوٸ تھی ۔
” مالا ڈرو مت خواب تھا بس ، ادھر اوپر دیکھو “
تقی نے آہستگی سے ایک ہاتھ میں اس کے ہاتھ کو لیا اور دوسرے ہاتھ کی مدد سے اس کے چہرے کو اوپر کرنے کی کوشش کی تھی جو وہ اس کے سینے میں پھر سے چھپا رہی تھی ۔
” مالا ۔۔۔ خواب تھا صرف اتنا کیوں گھبرا گٸ ہو “
تقی نے ملاٸم سے لہجے میں سمجھایا تھا ، پر اس کے ہاتھ جو اب تقی کے ہاتھ میں تھا ٹھنڈا ہو رہا تھا ۔
” بتی جلا دوں کیا ؟ زیادہ ڈر لگ رہا ہے تو “
تقی نے پھر سے آہستگی سے چہرہ نیچے کیے پوچھا ۔کیونکہ اس کے ساتھ لگے اس کے وجود کی لغزش وہ باخوبی محسوس کر سکتا تھا ۔
” آپ کو نیند نہیں آۓ گی ایسے “
مالا نے نادم سے لہجے اور گھٹی سی آواز میں جواب دیا ، وہ چہرہ اس کے سینے میں چھپاۓ بول رہی تھی ۔
” کوٸ بات نہیں تم جب سو جاٶ گی میں اس کے بعد سوٶں گا بتی جلا دیتا ہوں “
تقی نے آہستگی سے اپنا آپ اس سے الگ کیا تھا اور پھر پلنگ پر سے اٹھ کر چپل پاٶں میں پہنتا دیوار پر لگے بورڈ تک پہنچا اور بٹن دبایا خاموش کمرے میں بٹن نیچے گرنے کی آواز کے ساتھ ہی کمرہ ایک دم سے پیلی روشنی میں نہا گیا ، مالا نے آنکھیں چندھیا جانے کے باعث زور سے بند کی تھیں ۔
” اب تو نہیں لگے گا ڈر “
تقی نے پلنگ کے قریب آتے ہوۓ پوچھا اور پھر میز کے پاس آ کر اس پر پڑے جگ میں سے پانی گلاس میں انڈیلا ۔
” لو اٹھو پانی پی لو “
تقی نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا جو اب پلنگ پر لیٹی پوری آنکھیں کھولے الماری کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ مالا ہاتھوں پر دباٶ دیتے ہوۓ اوپر ہوٸ اور پھر تقی کے ہاتھ سے گلاس تھام کر پانی کے بس تین چار گھونٹ کے ساتھ گلے کو تر کیا اور گلاس واپس تقی کی طرف بڑھا دیا ۔ تقی بغور اس کے گھبراۓ سے چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔
” چلو اب ذہن سے جھٹک دو جو کچھ دیکھا ہے ، میں جاگ رہا ہوں تم سو جاٶ آرام سے“
اپناٸیت بھرے لہجے میں کہا اور خود میز کی طرف بڑھ گیا پھر کرسی کو ایک ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوۓ کرسی پر براجمان ہوا اور سامنے پڑی کتاب کھول لی مالا اس کی طرف دیکھتے ہوۓ لیٹ گٸ ۔
کچھ پل بعد ڈر کا احساس مندمل ہوا تو ایک انوکھا سا احساس میٹھی سی چبھن بن کر پورے وجود میں سراٸیت کرنے لگا ۔ کچھ دیر پہلے ڈر کے باعث جو جسارت سرزد ہوٸ تھی اس کے انوکھے سے احساس کی محسوسات اب کچھ اور ہی رنگ لے رہی تھیں ۔ شادی سے لے کر اب تک کہاں اس کے اور تقی کی بیچ اسطرح کی قربت ہوٸ تھی وہ لحاف میں سمٹ گٸ اور آنکھیں سر شاری سے موند لیں کچھ دیر پہلے کی قربت کی شرم اس کو اب آ رہی تھی ۔
سویا تو وہ کچھ دیر پہلے ہی تھا ، بارہ بجے تک وہ مالا کو پڑھاتا تھا پھر جب وہ بستر پر جا کر لیٹ جاتی تھی اس کے بعد وہ اپنے حساب کتاب میں لگ جاتا تھا ، شادی کو ایک ماہ تین دن ہو چکے تھے ، مالا اب پوری توجہ سے پڑھتی تھی اور تقی کا اندازہ بلکل درست تھا وہ فقط لاپرواہ تھی ، اب جب توجہ سے پڑھنے لگی تھی تو ہر چیز بہت جلدی نا صرف سیکھ رہی تھی بلکہ خود بھی محنت کر رہی تھی ۔
آج بھی ایک بجے کے قریب جب وہ پلنگ پر آیا تو وہ اپنے مخصوص انداز میں لحاف اوڑھے سو رہی تھی ۔ وہ بھی اپنی جگہ پر لیٹ کر سو گیا تھا لیکن اسے ابھی سوۓ ہوۓ گھنٹہ بھر ہی ہوا تھا جب مالا نے یوں ساتھ لگ کر پھر سے اٹھا دیا ۔
تقی نے کھلی کتاب پر سے نظر اٹھاٸ اور رُخ موڑے اس کی طرف دیکھا وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی چہرہ اب لحاف سے باہر تھا ۔
بالوں کی بہت سی لیٹیں بے ترتیب سی ہو کر چہرے کی اطراف کو ڈھک رہی تھیں ، لمباٸ رخ بھنویں اور ان کے نیچے اوپری رُخ ہلکی سی خم لیے ہوۓ پلکیں ، چھوٹی سی ناک جو اس کے گلاٸ صورت چہرے کی مصومیت میں اضافے کا باعث بنتی تھی ۔
مالا کو یوں دیکھنا دل کو رجھانے لگا تھا اور آج کی قربت نے ایک انوکھے سے احساس کو جنم دے دیا تھا ۔ اس کی قربت کو یاد کر کے دل کی دھڑکنیں رفتار کیوں بڑھا رہی تھیں ۔ تقی نے تین انگلیاں ماتھے پر رکھیں اور آہستگی سے پیشانی سہلاٸ ۔
سر کو بار بار جھٹکنا بھی آج کار آمد نہیں تھا ، آہستگی سے کرسی پر سے اٹھا اور پلنگ پر آ کر ساتھ لیٹ گیا کروٹ مالا کی طرف لے کر بازو کو فولڈ کرتے ہوۓ اس پر سر ٹکایا دیا اور نگاہیں اس کے چہرے پر جما دیں اس کو دیکھنا فرحت بخش احساس دے رہا تھا ۔ وہ لاکھ مضبوط سہی پر یہ میٹھا سا احساس جو اب مالا کے لیے اس کے دل میں جاگ رہا تھا اس کو اچھا لگنے لگا تھا اور پھر یونہی اسے دیکھتے دیکھتے آنکھ پھر سے لگ گٸ ۔
*********
آنکھ کھلی تو وہ پلنگ پر اکیلا لیٹا تھا ، دن چڑھ گیا تھا ، کمرہ کھڑکیوں کے پردوں سے اور روشن دان سے آتی روشنی کے باعث روشن تھا ۔
حاکم قصر کے مکینوں کی آوازیں پوری حویلی میں گونج رہی تھیں۔ مطلب اس کے سوا ہر کوٸ جاگ چکا تھا ، تقی نے گردن گھما کر دیوار پر لگی گھڑی کی طرف دیکھا صبح کے دس بج رہے تھے ۔
کل ساری رات مالا کی وجہ سے نیند نہیں پوری ہوٸ تھی اور پھر صبح جب آنکھ کھلی تو سر بوجھل تھا اور دل عجیب طرح سے بے ایمان ہسپتال جانے کا ارادہ ترک کرتا وہ پھر سے سو گیا تھا ۔ اور اب دن چڑھے جا کر آنکھ کھلی ۔ اٹھ کر پلنگ پر بیٹھنے کے بعد گردن کو داٸیں باٸیں جھٹکے دیتا اور بالوں میں ہاتھ پھیرتا اٹھا ، چپل پہن کر باہر آیا تو صحن میں رونق لگی ہوٸ تھی وہ شاٸد اس وقت گھر نہیں ہوتا تھا اس لیے یہ سماں دیکھنے کو نہیں ملتا تھا ۔
خدیجہ بیگم باہر چارپاٸ دھوپ میں ڈالے تاری بوا سے سر کی مالش کر وا رہی تھیں ، اریب پاس ہی ریڈیو کان سے لگاۓ بیٹھی تھی ۔
بلقیس اور غزالہ ایک طرف بیٹھی دوپہر کے کھانے کے لیے سبزی تیار کر رہی تھیں ، منہا ایک کرسی پر بیٹھی اخبار پڑھ رہی تھی اور اس کی نیند حرام کر دینے والی اور چین چرا لینے والی محترمہ درخت کے ساتھ بندھے جھولے پر بیٹھی گود میں رکھی کتاب پر سر جھکاۓ ہوۓ تھی۔ ہلکے گلابی رنگ کے جوڑے میں وہ سبز درخت کے نیچے بیٹھی قدرت کا حسین منظر لگ رہی تھی یا پھر اس کا ذہن اور دل رات متفق ہو کر اسے پوری دنیا کی حسین ترین دوشیزہ مان چکے تھے وہ تقی کو سکول نا جانے پر راضی کر چکی تھی وہ سکول نہیں جانا چاہتی تھی ، بس گھر رہ کر تیاری کرنا چاہتی تھی ۔
مرد حضرات گھر سے جا چکے تھے اور چھوٹے بچے سارے سکول گۓ تھے شاٸد اس لیے ان میں سے کوٸ بھی نظر نہیں آ رہا تھا ۔ تقی منہ ہاتھ دھونے کی غرض سے برانڈے کے زینے اترتا ہوا غسل خانوں کی طرف بڑھا ۔
” تقی ۔۔۔۔ ادھر آٸیو “
خدیجہ بیگم کی نظر جیسے ہی تقی پر پڑی تو آواز لگا دی ، مالا نے چونک کر سر اوپر اٹھایا
” اسلام علیکم ۔۔ جی بی جی “
تقی نے خدیجہ بیگم کے بلانے پر فوراً قدم واپس پلٹے تھے اور پھر ان کی چارپاٸ کے پاس آ کر رکا
” وعلیکم سلام جیتے رہو لال ، آج خیریت ہی ہووے نا بیٹا طبیعت ٹھیک ہے ؟ “
خدیجہ بیگم نے اس کے یوں گھر ہونے پر تشویش ظاہر کی اب مالا سمیت باقی سب بھی تقی کی طرف جواب طلب نگاہیں جماۓ ہوۓ تھے ۔
” جی بی جی بلکل خیریت ہے بس رات زیادہ دیر تک کام کرتا رہا اس لیے آنکھ نہیں کھلی “
تقی نے سنجیدگی سے جواب دیا ، جس پر خدیجہ بیگم کی تیوری چڑھی اور ناگوراری سے ناک اوپر اٹھاٸ
” یہ رات اللہ نے سونے کے لیے بناٸ ہے میاں ، رات بھر الو کی طرح مت جاگا کر سو جایا کر وقت پر “
خدیجہ بیگم کی پریشانی پل بھر کو ہوا ہوٸ تھی ، تقی مسکرا کر گردن کو ہاتھ سے دباتا غسل خانے کی طرف بڑھ گیا کچھ دیر بعد گیلے چہرے اور بالوں کے ساتھ وہ واپس سیدھا مالا کی طرف آیا تھا ۔
” کیا پڑھ رہی ہو ۔۔۔ ؟ “
پاس آ کر ، آبرٶ چڑھاۓ پوچھا ، مالا نے سر مزید نیچے جھکا لیا ، اس کا اپنی طرف آتا دیکھ کر ہی دل زور سے دھڑکنے لگا تھا ، رات والی حرکت کے بعد اب اسے یوں دیکھنا ، ہمت نہیں بندھ رہی تھی ، صبح جب اسے سوۓ دیکھا تب سے لے کر اب تک بس ذہن میں یہی بات تنگ کر رہی تھی کہ وہ کیا سوچ رہا ہو گا رات کی حرکت پر ۔
” ساٸنس کے دو پیپر تیار کر رہی ہوں آج رات کو ٹیسٹ دوں گی “
مالا نے سر جھکاۓ ہی جواب دیا وہ جھولا تھامے کھڑا تھا اور نگاہیں اس کی مانگ پر جمی تھیں ۔
” ہمممم۔۔۔ ٹھیک ہے ویسے آج میں گھر ہوں تو ہم ریاضی کے کچھ سوال کر لیں گے میں ناشتہ کر لوں پھر کمرے میں آجانا “
تقی نے آہستگی سے کہا وہ سر ہلا کر رہ گٸ ، مگر چہرہ اوپر نہیں اٹھایا
” تقی آ جا ناشتہ کر لے “
بلقیس نے صحن میں ایک چھوٹے لکڑی کے میز پر ناشتہ سجانے کے بعد آواز لگاٸ تھی ، تقی واپس پلٹا تو مالا نے سینے پر ہاتھ رکھے سانس خارج کیا ، شکر ہے تقی نارمل ہے ندامت تھوڑی کم ہوٸ
پھر وہ ناشتہ کرتے ہوۓ بھی بار بار چور نگاہوں سے مالا کو دیکھ رہا تھا جو اب اس کی نگاہوں سے بے نیاز تھی اور صحن میں چکر لگاتے ہوۓ پڑھ رہی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: