Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 17

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 17

–**–**–

یہ سبز گنبد والی پکی اینٹوں سے تعمیر کی ہوٸ خوبصورت مسجد گاٶں کی سب سے بڑی مسجد تھی ۔ جس کے لکڑی کے بنے بڑے سے گیٹ کو بھی سبز رنگ کیا ہوا تھا ۔
غزالہ نے مالا کا ہاتھ تھام رکھا تھا وہ سیاہ برقعہ زیب تن کیے ہوۓ تھی اور مالا نے بڑی سی سیاہ شال اپنے ارد گرد لپیٹ رکھی تھی ۔ دونوں اب مسجد کے گیٹ کے پاس پہنچی تھیں ۔ مسجد حویلی سے زیادہ دور نہیں تھی اس لیے وہ دونوں پیدل ہی آٸ تھیں ۔
یہاں مسجد میں دینی تعلیم کے ساتھ پانچویں جماعت تک طلبہ بھی بٹھاۓ جاتے تھے جن کو درسی تعلیم بھی دی جاتی تھی اس لیے یہ مسجد مکتب تھا ،ابھی بھی دوپہر کا وقت تھا اور بچے چھٹی کے بعد مکتب سے نکل رہے تھے گھروں کے ہی کپڑوں میں ملبوس ، کپڑے کے بنے بستے پشت پر ڈالے ، کتابیں اور تختی ہاتھ میں تھامے کتنے ہی بچے مکتب سے بھاگتے ہوۓ باہر نکل رہے تھے ۔
مسجد کے اندر داخل ہوتے ہی راہداری سے ایک چھوٹا سا گیٹ اندر کی طرف جاتا ہے جہاں مولوی روح اللہ کی رہاٸیش گاہ تھی وہ مسجد کے امام تھے ۔ مالا نے رات آنے والے خواب کا ذکر پھر سے غزالہ سے کیا تو اب کی بار غزالہ بھی پریشان ہو گٸ تھی کیونکہ مالا بہت ڈری ہوٸ تھی ۔ اسی لیے وہ اب مالا کو لے کر گاٶں کے مولوی کے پاس آٸ تھی جو دم درود کرتے تھے اور دینی مساٸل میں رہنماٸ بھی کرتے تھے ۔
راہداری سے آگے آتے ہی غزالہ مالا کا ہاتھے تھامے اس چھوٹے سے لکڑی کے دروازے میں سے گزرتی ہوٸ اندر داخل ہوٸ ۔ سامنے ہی کچے صحن کے درمیان میں گھنے نیم کے درخت کے نیچے چند بچے قرآن پاک پڑھنے میں مصروف تھے ۔ صحن کو گیلی مٹی اور توڑی کے ملاپ سے اچھی طرح لیپ کیا گیا تھا ۔ درخت کے نیچے بیٹھے بچے ایک قطار میں کجھور کے خشک پتوں سے بنی چٹاٸ پر بیٹھے قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کے پیچھے درخت کے نیچے چارپاٸیاں لگی تھیں۔ کچھ دوری میں دو تین زینے چڑھ کر چبوترا بنایا گیا تھا جہاں دو کمرے تھے ، غزالہ اب مالا کا ہاتھ تھامے صحن عبور کرتی ان بچوں کے پاس آ چکی تھی ۔
” بچو قاری صاحب کہاں ہیں ؟ “
تھوڑا سا جھکتے ہوۓ مولوی صاحب کے بارے میں دریافت کیا ،ایک بچے نے قرآن کو بند کیے ان کی طرف نگاہ اٹھاٸ
” ہجرے میں گۓ ہیں خالہ آپ بیٹھو میں ابھی بلا کر لاتا ہوں “
بچہ فوراً اٹھا اور مولوی کو اطلاع دینے کی غرض سے کچھ دور بنے کمروں کی طرف بھاگ گیا ، اور غزالہ مالا کے ساتھ چارپاٸ پر بیٹھ گٸ ، کچھ دیر بعد ہی مولوی صاحب کمرے سے باہر نکلے ، سفید داڑھی اور سر پر سیلقے سے ٹوپی سجاۓ وہ بہت نفیس شخصیت کے حامل انسان تھے سفید رنگ کے ڈھیلے سے کرتا شلوار میں ملبوس وہ اپنے کندھے پر ہلکے سرخ رنگ کا چیک والا منڈاسا رکھے ہوۓ تھے اور شلوار ٹخنوں سے اوپر تھی ۔ جیسے ہی وہ درخت کے پاس لگی چارپاٸیوں کے پاس آۓ غزالہ عقیدت سے کھڑی ہوٸ
” اسلام علیکم مولوی صاحب “
احترام سے سلامتی بھیجی ، مولوی صاحب نگاہیں جھکاۓ ہوۓ تھے ، وہ اسی طرح خواتین کے ساتھ نگاہیں ملاۓ بنا نگاہیں جھکا کر ہی بات کرتے تھے ۔
” وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ بیٹھو بیٹا “
انہوں نے بڑے شاٸستہ لہجے میں سلام کا جواب دیا اور ہاتھ کو اُٹھاۓ دو آمنے سامنے رکھی گٸ چارپاٸیوں میں سے ایک چارپاٸ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
غزالہ مالا کا ہاتھ تھامے چارپاٸ پر بیٹھی تو مولوی صاحب بھی بلکل سامنے براجمان ہوۓ ۔ بیٹھتے ہی غزالہ نے ایک پل کی توقف کے بعد اپنی مدعا پیش کی
” قاری صاحب ایک پریشانی درپیش ہے ، یہ میری دوسرے نمبر والی بیٹی ہے مالا ، اس سے بڑی بیٹی کا گیارہ سال پہلے انتقال ہو گیا تھا ، آپ نے ہی جنازہ پڑھایا تھا شاٸد یاد ہو آپ کو “
غزالہ نے اپنی بات کی تہمید باندھی ، مولوی صاحب بڑے تحمل سے بات سن رہے تھے ۔
” جی ۔۔ بچے بلکل یاد ہے اللہ بیٹی کے درجات بلند کرے ، چوہدری حاکم صاحب کی بڑی پوتی تھی “
قاری صاحب نے نگاہیں جھکاۓ ہی غزالہ کی بات کی تاٸید کی ، غزالہ نے دکھ سے سر ہلایا اور پھر گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا ۔
” قاری صاحب اس کو اس کی بہن خواب میں دکھاٸ دیتی ہے بار بار اور یہ بہت زیادہ ڈرنے لگی ہے بچپن سے ہی رات کو صحن میں نہیں جاتی تھی جہاں فوارے کے پاس وہ گری تھی اور اب تو رات کو اٹھ کر بیٹھ جاتی ہے بہت خوف ناک سے خواب آتے ہیں اور متواتر ایک ہی قسم کے خواب “
غزالہ نے پیشانی پر شکن ڈالے پریشان سے لہجے میں مولوی صاحب کو ساری بات بتاٸ ، مولوی صاحب آہستگی سے جھکے سر کو اثبات میں جنبش دے رہے تھے ۔
”بیٹا جی بہن کس حالت میں دکھاٸ دیتی ہے جب خواب میں آتی ہے ؟“
مولوی صاحب نے براہراست مالا کو مخاطب کیا ، مالا نے ایک نظر غزالہ کی طرف دیکھا اور پھر اس کے آنکھوں کے اشارے کو سمجھتے ہوۓ سر پر دوپٹہ درست کرتی گویا ہوٸ
” قاری صاحب وہ ہمیشہ روتے ہوۓ نظر آتی ہے اور ایک بٹن ہے جو ہمیشہ اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے ، وہ بٹن میں نے اٹھایا تھا اس کے ہاتھ سے جب وہ چھت سے گری تھی “
مالا نے خوفزدہ سے لہجے میں ساری بات قاری صاحب کے گوش گزار کی ، اور پھر ساتھ ہی اپنے تمام خواب بھی سناۓ ۔ قاری صاحب خواب سننے کے بعد کچھ پل پرسوچ انداز میں خاموش رہے پھر گہری سانس خارج کی ۔
” ہممم ۔۔۔ بیٹا بات یہ ہے کہ خواب کی تین اقسام ہوتی ہیں ، ایک خواب آپ کے روز مرہ کے امور پر منحصر ہوتا ہے جن کاموں میں آپ مشغول رہتے ہو جو باتیں ذہن پر سوار رکھتے ہو ، وہی رات کو خواب میں آتی ہیں “
وہ بوڑھے سے جھری دار ہاتھوں کو آپس میں ملاۓ بہت شاٸستگی سے بات کر رہے تھے ، مالا ہم تن گوش ان کی بات کو غور سے سن رہی تھی ۔
” دوسری قسم شیطانیت کے غلبے کی ہوتی ہے جب آپ نماز اور قرآن سے دوری اختیار کرتے ہیں تو آپ کو ڈراٶنے خواب دکھاٸ دیتے ہیں ، عجیب و غریب جانور جیسے کے سانپ ، بچھو “
انہوں نے آہستگی سے ہاتھ اٹھا کر اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا تھا اور پھر بات جاری رکھی
” اور خواب کی تیسری قسم وہ ہے جسے منجانب اللہ بشارت کہا گیا ہے ، یہ خواب ایسے ہوتے ہیں جس میں اللہ جسے چاہتا ہے آنے والے واقعات کے بارے بشارت ، آگاہی ، اشارات دیتا ہے ، یہ اشارے ان باتوں کے بارے میں ہوتے ہیں جو آگے وقوع پزیر ہونے ہوتے ہیں ، اس کی زندگی میں یا پھر اس کے کسی پیارے کی زندگی میں ، اس کے لیے اللہ تعالی مختلف طرح کے اشارے دیتا ہے ، یہ کسی خوشی کے بارے میں بھی ہو سکتے ہیں کسی غم کے بارے میں بھی یا پھر کسی مصیبت کے بارے میں جو درپیش آنے والی ہو “
انہوں نے جڑے ہوۓ ہاتھوں کو الگ کیا اور ہاتھوں کو داٸیں باٸیں کرتے ہوۓ اقسام بتاٸیں۔
” اب جیسے تم نے اپنے خواب بیان کیے اس میں ایک بات تو یہ ہو سکتی ہے کہ تم اپنی بہن کی بخشش کی دعا نہیں کرتی ہو اور دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے اللہ تمھیں آنے والے وقت سے آگاہی دے رہا ہے “
قاری صاحب نے بات مکمل کی اور خاموشی اختیار کی ، مالا نے آہستگی سے سر نفی میں ہلایا
” قاری صاحب میں تو نماز قرآن پابندی سے پڑھتی ہوں اور اس کی بخشش کی دعا بھی کرتی ہوں لیکن سمجھ نہیں آتا کہ ایسے خواب کیوں آتے ہیں اس کے متعلق “
مالا نے پریشان سے لہجے میں کہا ، قاری صاحب نے اثبات میں سر ہلایا جیسے اس کی بات سمجھ گۓ ہوں
” ہممم۔۔۔۔ بیٹا فی الوقت تو کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ خواب بہت عجیب ہیں کوٸ سرا نہیں ان کا ، آپ صدقہ دو اپنا بھی اپنے شوہر کا ، روز سورة بقرہ کی آخری تین آیات کی تلاوت با آواز بلند کرو ، با وضو رہو “
قاری صاحب بہت شاٸستگی سے اسے سب سمجھ رہے تھے ، اور پھر آنکھیں بند کیے کچھ پڑھنے لگے ان کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا تھا جسے وہ بار بار صاف کر رہے تھے ، پھر انہوں نے آنکھیں کھولیں ۔
” بچی بہت بری بد نظری کا بھی شکار ہے ، اس کا فوراً صدقہ دو اور چاروں قُل کا پانی پر دم کر کے دو ہر فجر کی نماز کے بعد اللہ پاک بہتری لاۓ گا “
قاری صاحب نے اپنے کندھے پر رکھے پٹکے سے اپنی آنکھیں صاف کیں ، جو دم کرتے ہوۓ نم ہو گٸ تھیں۔
” بہت شکریہ قاری صاحب “
غزالہ نے مشکور لہجے میں کہا اور پھر مالا کو اٹھنے کا اشارہ کیا
” اللہ حافظ “
غزالہ نے حدیہ ایک طرف رکھتے ہوۓ خدا حافظ کہا اور مالا کے ساتھ بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گٸ ۔
**********
دوپہر کا وقت تھا اور جاڑے کا موسم اب اپنا زور کم کر چکا تھا ، نیم کے دونوں درخت ہلکی ہلکی ہوا کے زور پر رقص کرتے ہوۓ جھول جھول کر ایک دوسرے کو بوسے دے رہے تھے ۔
اب دھوپ میں بیٹھنا محال ہو جاتا تھا لیکن چھت کے پنکھے ابھی چلنا شروع نہیں ہوۓ تھے ، دوپہر کے کھانے کے بعد جہاں دسترخوان سمٹ رہا تھا وہاں چوہدری حاکم اب اٹھ کر بیٹھک میں سستانے کے لیے جانے والے تھے ۔
خدیجہ بیگم کا کھانا اب الگ سے تخت پر ہی لگتا تھا کیونکہ ان کی بوڑھی ہڈیوں میں اب اتنا دم خم نہیں تھا کہ زمین پر بیٹھ کر باآسانی اٹھ سکتیں۔ تقی بڑے مگن سے انداز میں نوازش اور نقیب کے ساتھ اپنے ہسپتال کے معاملات کے متعلق گفتگو کر رہا تھا ۔
شادی کو ڈھاٸ ماہ ہو چکے تھے اور ان ڈھاٸ ماہ میں جہاں تقی اور مالا میں تھوڑی سی بے تکلفی ہونے لگی تھی وہاں دوسرے جوڑے کے ہاں تو خوشخبری کی نوید بھی سنا دی گٸ تھی ۔
منہا غسل خانوں کے پاس دل متلانے کی وجہ سے بے حال بیٹھی تھی تو فرہاد اس کے پاس کھڑا اس سے بھی زیادہ بے حال لگ رہا تھا ۔ یہ منظر برآمدے میں بیٹھی خدیجہ بیگم کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا ۔
” ارے دیکھیو ۔۔ نا شرم نا لحاظ ۔۔۔۔ نگوڑ مارا کیسے اس کے چا لاڈ کرنے میں لگا ہے ایک ہمارا زمانہ تھا بچہ ہو بھی جاتا تھا تو پانچ ، چھ مہینے تو بچے کے باوا بزرگوں سے شرم کے مارے بچے کو اٹھاتے تک نا تھے ، اور یہاں دیکھو “
خدیجہ بیگم نے ناگواری سے ناک چڑھاٸ ، غزالہ اور بلقیس نے بمشکل اپنی ہنسی چھپاٸ ۔
” یہاں نا دید نا لحاظ ، وہ کھڑا ہے اپنی زوجہ کے پاس “
خدیجہ بیگم نے ہاتھ جھلاتے ہوۓ کہا ، ساتھ بیٹھی اریب نے تو اور جل کر پہلو بدلہ
” اماں اس کا بس چلے تو اس کے ہر قدم کے نیچے اپنا ہاتھ رکھ دے اور ایک وہ ہے ہر دم بس سڑی صورت بناۓ گھومتی ہے “
اریب نے ناگواری سے ماں کا ساتھ دیا اور فرہاد کی بیوی سے محبت کو جتایا ، مالا جو کچھ دور ہی موڑھے پر بیٹھی تھی ، حسرت سے سامنے دیکھا تھا جہاں فرہاد منہا پر صدقے واری جا رہا تھا
یہاں دو مہینوں میں تقی ہنسنے بھی لگا تھا باتیں کرنے لگا تھا لیکن منہا اور فرہاد کو دیکھ کر اکثر اس کے دل میں بھی ایسی خواہشات سر اٹھانے لگتی تھیں ۔
اکثر محسوس ہوتا تھا کہ تقی اسے محبت سے دیکھ رہا ہے لیکن جیسے ہی وہ نگاہ اٹھاتی وہ نظروں کا زاویہ بدل لیتا تھا ۔ اب بھی وہ سامنے بیٹھے تقی کو بار بار دیکھ رہی تھی جو پتہ نہیں کونسی اہم گفتگو میں مصروف تھا ۔ آج جمعہ کا دن تھا اور وہ سفید کرتے میں ملبوس تھا اور باتوں میں اس درجہ مگن کہ اس کے یوں دیکھنے پر بھی متوجہ نہیں ہو رہا تھا ۔ اچانک تقی نے اس کی طرف دیکھا تو مالا نے گڑ بڑا کر نظروں کا زاویہ بدلہ
” مالا ۔۔۔ وہ میرے میز پر سے خاکی رنگ کا لفافہ اٹھا کر لانا “
تقی کے اچانک حکم پر وہ جو کھوٸ سی بیٹھی تھی ، گہری سانس لے کر اٹھی ، اتنا ہی بہت تھا کہ وہ اب اس کی بچوں جیسی حرکتوں پر غصہ نہیں کرتا تھا ہنس دیتا تھا اس کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کا احترام کرتا تھا ۔
اور وہ بھی اس کی خواہش کا احترام کرتی تھی وہ اس کو پڑھا لکھا دیکھنا چاہتا تھا اور اس کے لیے بہت محنت کرنے لگی تھی ۔
آپ کے اندر موجود خوبی ، مہارت اس وقت تک بے کار ہے جب تک آپ ان دونوں چیزوں کے ساتھ محنت کو نہیں جوڑ لیتے ، کامیابی کو حاصل کرنے کے لیے خوبی اور مہارت دونوں کے ساتھ محنت کو ضرب دینا پڑتا ہے تب جا کر کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے اور مالا اب محنت کرنے لگی تھی ۔
مالا نے کمرے میں جا کر میز پر سے کاغذ اٹھاۓ وہ باہر آٸ اور لا کر تقی کو تھما دیے وہ کاغذ کھول کر اب نوازش اور نقیب سے باتیں کر رہا تھا ، اور مالا سر جھٹک کر کتابیں اٹھاتی کمرے میں چل دی ۔
**********
چاند کی آخری تاریخوں کی سیاہ رات میں ڈوبے حاکم قصر کے صحن میں فوارے کے اوپر لٹکی قندیل جل رہی تھی اور مسواۓ ایک کمرے کے باقی تمام کمروں کی بتی گُل تھی ، اس کمرے میں بلب کی پیلی روشنی کمرے کے ہر کونے کو روشن کیے ہوۓ تھی
کمرے میں موجود لکڑی کی میز پر سُرخ رنگ کا گتے کا چکور ڈبہ تھا اور اس میں گہرے بھورے رنگ کے رس دار گلاب جامن تھے جن پر شیرہ چمک رہا تھا اور کہیں پستہ لگا تھا کہیں بادام ۔ تقی سامنے والی کرسی پر بیٹھا تھا اور مالا اطراف کی کرسی پر براجمان منہ میں گلاب جامن ڈالے بیٹھی تھی ، شہد رنگ جوڑے میں چہرہ دمک رہا تھا اور آنکھیں گلاب جامن کی لذت کو محسوس کرتے ہوۓ پوری کھلیں تھیں ۔
مالا نے اب تیسری گلاب جامن اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا، جب ہاتھ ڈبے کے بجاۓ سیدھا لکڑی کے میز پر جا لگا ۔ مالا نے چونک کر اوپر نگاہ اٹھاٸ تو تقی ڈبے کو میز سے اٹھاۓ اوپر کر چکا تھا ۔
” بس کرو مالا ۔۔۔۔۔ ہر چیز کی مناسب مقدار صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے تم دو گلاب جامن کھا چکی ہو “
تقی نے ماتھے پر شکن ڈالے اسے کھانے سے منع کیا ، جو اس بات پر روہانسی ہو گٸ اور بدمزہ سی صورت بناۓ تقی کو دیکھا
” تو صرف دو ہی تو کھاٸیں ہیں ، آپ نے خود کہا تھا یہ پورا ڈبہ تمھارا ہے “
مالا نے بیچارگی سے کہا اور پھر نچلے لب کو دانتوں میں دباۓ پرجوش انداز میں گلاب جامن اٹھانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا جسے تقی نے ڈبہ اور اوپر کرتے ہوۓ ناکام بنا دیا ۔
تقی نے نٸ گاڑی خریدی تھی ، گھر میں موجود دو گاڑیاں بہت مصروف رہنے لگی تھیں ایک گاڑی پر بہادر کبھی کسی کو تو کبھی کسی کو گھماۓ پھرتا تھا اور دوسری نقیب کے پاس ہوتی تھی ، تقی کو شہر جانے میں مسٸلہ ہوتا تھا کیونکہ اس کی واپسی شام کو ہوتی تھی اسی وجہ سے وہ اپنی ذاتی گاڑی خرید چکا تھا ، جس کی خوشی میں وہ آج مٹھاٸ لے کر آیا تھا جہاں حاکم قصر کے باقی سب مکینوں کے لیے ایک مٹھاٸ کا ڈبہ تھا وہاں وہ مالا کے میٹھے سے محبت کو دھیان میں رکھتے ہوۓ اس کے لیے الگ سے ایک ڈبہ لے کر آیا تھا اور مالا تو اسے یوں کھا رہی تھی جیسے آج ہی ختم کرنا فرض ہو اس پر ۔
” تقی ایک اور دے دیں بس پھر نہیں مانگوں گی “
وہ اب آگے ہو رہی تھی اور چہرے پر التجا سجی تھی تقی نے زور سے نفی میں سر ہلایا اور ڈبے کو اس سے بچاتے ہوۓ اٹھ کھڑا ہوا ۔
” دیکھو مالا تمھارا ہی ہے ، الماری میں رکھ لو لیکن ذرا تحمل سے کھاٶ روز کی بس دو گلاب جامن “
تقی نے اسے تنبہیہ کیا جو دیوانی ہو رہی تھی اور اب اس کے سامنے کھڑی اچک کر اس کے ہاتھ سے ڈبہ لینے کی کوشش کر رہی تھی وہ جس طرف کو اوپر ہوتی تقی اسی طرف سے ڈبے کو دوسری طرف کر دیتا ۔ تقی اس سے لمبا تھا اس لیے وہ ایڑیوں کے بل اچک اچک کر مٹھاٸ کھانے کی کوشش میں تھی ۔
وہ بے اختیار ڈبہ لینے کے لالچ میں تقی کا ایک بازو قابو کیے اتنا قریب تھی کہ اسے خبر تک نہیں تھی وہ اوپر ڈبے پر نگاہ رکھے ہوۓ تھی جبکہ تقی اب اس کے چہرے پر نگاہیں جماۓ ہوۓ تھا ۔
شادی کو تین ماہ ہو چکے تھے ،دسویں جماعت کے امتحانات قریب تھے جہاں مالا دن رات پڑھاٸ میں جتی رہتی تھی وہاں وہ مالا کے لیے اپنے دل میں انگنت جذبات پنپ چکا تھا ، وہ چھوٹی سی لڑکی جہاں اپنی تمام عادات اس سے مختلف رکھتی تھی وہاں ایک بہت پیارا سا دل بھی رکھتی تھی جس میں اس کی محبت کے ساتھ فکر ، عزت اور احترام بھی تھا ۔
وہ حیران ہوا تھا کہ جس نے ساری عمر پڑھاٸ نا کرنے کی تگ و دو کی تھی اس کے لیے خود کو کتنا بدل لیا تھا ۔
تقی کے دل کے قفل کھولنے میں جہاں اس کے دو آتشہ حسن کا کمال تھا وہاں اس کے محبت کرنے والے دل نے بھی بہت کمال دکھایا تھا ، لیکن تقی نے ابھی اپنے جذبات اس پر آشکار نہیں کیے تھے وہ جانتا تھا وہ اس سے بہت محبت کرتی ہے اور جس دن اس نے بھی اپنے جذبات ظاہر کر دیے اس کی توجہ پڑھاٸ پر سے کم ہو سکتی ہے جو کہ وہ ہر گز نہیں چاہتا تھا ۔
” آں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ بس کریں نا بس ایک دے دیں اس کے بعد نہیں لوں گی ، وعدہ ہے پکے والا “
مالا اب بچوں کی طرح ضد پر اتر آٸ تھی، اور بے اختیار تقی کے اتنا قریب آ گٸ تھی کہ خبر نا ہوٸ احساس تو تب ہوا جب اس کی نگاہوں کی تپش کو اپنے چہرے کے ہر خدوخال کو چھوتے ہوۓ محسوس کیا پھر مالا کی نگاہ بھی ڈبے پر سے ہٹتی اس کی نگاہوں تک آن پہنچی تھی جہاں اس کے خواب حقیقت کا لبادہ اوڑھے کھڑے تھے ، تقی کی گہری سیاہ آنکھوں میں بے پناہ محبت جھلک رہی تھی ایسی محبت جو اس نے کبھی قصے کہانیوں میں پڑھی تھی وہ اس کے چہرے کو آج جس نظر سے دیکھ رہا تھا آج سے پہلے یوں نگاہوں کے تصادم کی سنگت میں نہیں دیکھا تھا۔
وہ تو ہر بار مالا کے دیکھنے پر نگاہ چرا لیتا تھا ۔ تقی کو اچانک احساس ہوا وہ اس پر اپنی بے تابی ظاہر کر رہا ہے تو فوراً گڑبڑا کر پیچھے ہوا ۔ وہ یوں پیچھے ہوا تو مالا بھی اس بےباکی پر نادم سی ہوتی نگاہیں جھکا گٸ ، وہ جو ہر روپ میں اسے بھاتا تھا اس لمحے اس سیاہ کُرتے میں اس کے دل کی دنیا اتھل پتھل کیے ہوۓ تھا ۔
” اچھا ٹھیک ہے لے لو لیکن بس ایک “
تقی نے مسکراتے ہوۓ ڈبہ اس کے سامنے کیا ، اس نے ہاتھ بڑھایا اور ایک کے بجاۓ دو گلاب جامن اٹھا لیے اور بے ساختہ کھلکھلا دی ۔ اس کی ہنسی کی کھنک پورے کمرے میں جلترنگ بجا گٸ تھی۔ اور شہد رنگ جوڑے میں چہرک گلابی ہو گیا تھا ۔
” اوہ۔۔۔ دھوکا۔۔۔۔۔ سہی ہے وہ جو کہا تھا کہ گاڑی پر بیٹھ کر سیر پر لے جاٶں گا وہ اب بلکل نہیں “
تقی نے خفگی سے ڈبہ بند کرتے ہوۓ مصنوعی ناراضگی دکھاٸ تو مالا جو پوری گلاب جامن کو منہ میں ڈال چکی تھی ہاتھ ہی ہلاتی رہ گٸ کیونکہ بول تو پا نہیں رہی تھی تقی اب الماری کی طرف بڑھ رہا تھا اور مالا اس کے پیچھے پیچھے تھی ۔ بمشکل گلاب جامن نگلی ۔
” یہ بات غلط ہے وہ وعدہ آپ پہلے لے چکے ہیں “
مالا نے خفگی سے کہا تقی اب الماری کھولے ڈبے کو وہاں ایک طرف رکھ رہا تھا ۔ مالا کی نظر الماری پر پڑی تو تیوری چڑھ گٸ لکڑی کی ایک طرف بنی یہ چھوٹی الماری تقی کی کتابوں اور کاغذات سے بھری ہوٸ تھی اور ساتھ موجود لمبے والے پٹ میں کپڑے تھے جہاں زیادہ تقی کے کپڑے تھے اس کے تو اکا دوکا جوڑے یہاں ہوتے تھے اور باقی سب سٹور میں موجود ٹرنک میں ہوتے تھے اور اب تقی کی الماری کی اتنی ابتر حالت دیکھ کر مالا کو شدید افسوس ہوا تھا ۔
” اللہ۔۔۔۔۔ تقی الماری کتنی گندی ہو رہی ہے آپ کی صفاٸ کروں گی امتحانات کے بعد “
مالا نے ہنوز ناگواری سے بے ترتیب الماری کو دیکھتے ہوۓ کہا
” نہیں بلکل نہیں ، بہت اہم کتابیں پڑی ہیں اور کچھ کاغذات بھی آج تک نہیں ہاتھ لگانے دیا کسی کو میں نے “
تقی نے الماری کو بند کیا اور پھر کمر الماری کے ساتھ ٹکا دی ۔
” میں تو ساری صفاٸ کروں گی اب یہ کمرہ صرف آپ کا تھوڑی ہے میرا بھی تو ہے اپنی مرضی سے ہر چیز سیٹ کروں گی “
مالا نے بچوں کی طرح چہکتے ہوۓ اپنی خواہش کا اظہار کیا تو وہ بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا جس نے اس کی بے رنگ زندگی میں کتنے ہی رنگ بھر دیے تھے ۔
کچھ مہینے پہلے وہ اسے اپنے گلے میں زبردستی پہناٸ ہوٸ مالا لگ رہی تھی جسے وہ بس گلے میں لٹکاۓ پھرتا تھا پر آج اس مالا کو اور اس کے اندر پروۓ ہوۓ ہر پھول ہر کلی کو اپنے اندر سمونا چاہتا تھا وہ اسے بہت عزیز ہو گٸ تھی مگر پیش رفت میں عجیب سی جھجھک آڑے آ جاتی تھی ۔
مالا اب پھر سے میز پر بیٹھ کر اپنی کتاب کھول چکی تھی ، تقی نے بھی گہری سانس لیتے ہوۓ قدم میز کی طرف بڑھا دیے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: