Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 18

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 18

–**–**–

سفید رنگ کے کاغذ پر نیلی سیاہی کے قلم سے لکھے گۓ الفاظ ایک قیامت برپا کر گۓ تھے ۔ لفظ لفظ ہر پڑھنے والے کے لیے حیران کر دینے والا تھا ۔
آداب
ایک بہت ہی اہم خبر آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں ، بہت شرمندہ ہوں یہ خبر پہنچانے میں بہت تاخیر کر دی پر اب سمجھتا ہوں نا بتا کر نا انصافی کروں گا ، میاں منیر اختر آپ سب کو دس سال سے دھوکے میں رکھے ہوۓ ہیں ، انہوں نے لاہور شہر میں پانچ سال پہلے ایک طواٸف سے نکاح کیا تھا اور اب اس میں سے دو بچے بھی ہیں ، وہ بیوپار کے سلسلے میں جو ہفتہ ہفتہ بھر شہر گزارتے ہیں دراصل آپ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ،پہلے پانچ سال تک وہ حاکم قصر کے بیوپار سے کمانے والا پیسہ رانی نامی طواٸف پر خرچ کرتے رہے اور پھر پانچ سال پہلے اسے اپنے نکاح میں لے آۓ اور دنیا پور لے آۓ اب وہیں اس کے ساتھ اور اپنے دو بچوں کے ساتھ رہتے ہیں ۔ جانتا ہوں میرا یقین کوٸ نہیں کرے گا اس لیے ساتھ ایک عدد تصویر بھی بھیج رہا ہوں ۔
حاکم قصر کا خیر خواہ
اللہ حافظ
خط پر لکھے الفاظ پیٹھ پر مارے جانے والے خنجر کے مترادف تھے ، خط اب فرہاد ، اریب ، نوازش اور نقیب کے ہاتھ سےگزرتا ہوا چوہدری حاکم کے ہاتھ میں آیا تھا۔
حاکم قصر کے اٹاری میں تو جیسے ایک قیامت سا سماں بندھ گیا تھا ، اریب بے حال تخت پر بیٹھی بین کر رہی تھی ، بال بکھر کر چٹیا سے نکلے ہوۓ تھے رو رو کر آنکھیں لال ہو رہی تھیں ، پاٶں میں جوتا تک نا تھا وہ ننگے پاٶں لٹکاۓ تخت پر خدیجہ بیگم کے پاس بیٹھی تھی ۔
نقیب ، نوازش ، منہا، فرہاد، غزالہ ، بلقیس ، نقی، رملا، ارحمہ ، سکینہ اور تاری بوا سب موجود تھے کوٸ ستون کو تھامے کھڑا تھا تو کوٸ تخت کے گرد کھڑا تھا سب حیران و پریشان تھے ۔تقی ہسپتال میں تھا اور مالا پیپر دینے گٸ تھی ، اریب بیگم کی سسکیاں بار بار گونج رہی تھیں جو ماحول کو اور سوگوار بنا رہی تھیں ۔
اب چوہدری حاکم سفید رنگ کا کاغذ ہاتھ میں تھامے کھڑے تھے اور جھری دار پپوٹوں کے نیچے شیر جیسا رعب رکھنے والی آنکھیں کاغذ پر لکھی سطروں کا عکس آنکھوں کی پتلیوں میں بنا رہی تھیں ۔
چوہدری حاکم نے تحریر ختم کی تو نوازش نے ان کی طرف تصویر بڑھاٸ ، تصویر آج سے پانچ سال پہلے کی تھی ، تصویر میں سرخ غرارے میں ملبوس انیس بیس سالہ جوان دوشیزہ منیر میاں کے پہلو میں کھڑی تھی اور منیر میاں سو روپے کی نوٹوں کو تکون رخ جوڑ کر بناٸ جانے والی مالا گلے میں پہنے پوری بتیسی کا نماٸش کرتا ہوا چوہدری حاکم کی رگوں میں بہتے خون کو نا صرف گرم کر گیا تھا بلکہ خون کی رفتار بھی بڑھا گیا تھا ۔
” اماں میں نا کہتی تھی اتنے دن لگا آتے ہیں شہر کچھ تو چکر ہے ، دل کو تو بہت عرصے سے کھٹکا تھا بس چپ رہی آپ لوگوں کی عزت کی خاطر “
آنسوٶں سے بھیگی آواز میں اریب بلبلا اٹھی ، بار بار دوپٹے کے پلو کو اٹھا کر آنسو پونچھ رہی تھی اور خدیجہ بیگم بیٹی کے اس حال پر بے حال بیٹھی تھیں، جھری زدہ چہرہ بیٹی کے غم سے دل پر گزرنے والی قیامت کی عکاسی باخوبی کر رہا تھا ۔
” یہ خط بھیجنے والا کون ہے کچھ پتا چلا “
نقیب ، نوازش کی طرف دیکھتے ہوۓ آگے ہوا اور چوہدری حاکم کے ہاتھ سے خط تھام لیا ، نوازش نے آہستگی سے سر جھکا کر نفی میں گردن ہلا دی ۔
” یہ کون ہے اس کا پتا کرنے کے بجاۓ اس خبیث کی مُنڈی دبوچنی ہے ، میری پیٹھ پر ہی خنجر گھونپے کھڑا رہا اتنے سال سے ناہنجار ، نقیب بہادر کو کہو گاڑی نکالے ابھی اور اسی وقت جانا ہے شہر “
چوہدی حاکم نے غم اور غصے کے ملے جلے لہجے میں لب بھینچے پاس کھڑے نقیب کو حکم صادر کیا
”ابا جی بہادر کو کہنا مناسب نہیں ہے، اسے کیوں گھر کے مسٸلوں میں الجھاٸیں ، میں گاڑی چلا لوں گا آپ ساتھ چلیں “
نقیب نے گردن نفی میں ہلاتے ہوۓ چوہدری حاکم سے کہا
” او نیں ۔۔۔۔ بہادر کو اس کے دوستوں کی رہاٸیش گاہ کا پتہ ہے ، تو مجھے بہادر کے ساتھ ہی جانے دے “
چوہدری حاکم نے نقیب کی بات کی نفی کی اور دور درخت کے پاس کھڑے لڈن کو اشارے سے اپنی طرف بلایا جو اشارہ ملتے ہی مٶدب انداز میں بھاگتا ہوا اٹاری کے زینے کے قریب آیا ۔
” لڈن میاں کہو بہادر کو گاڑی تیار کرے “
چوہدری حاکم نے پاس کھڑے لڈن کو اشارہ کیا تھا ، لڈن جلدی سے سر ہلاتا ہوا گیٹ کی طرف چل دیا ، اب سب کی نگاہیں چوہدری حاکم پر جمی تھیں
” کاہے کو جا رہے ہیں اس سانپ کے پاس آپ ؟ اب کیا فاٸدہ دکھ جو دینا تھا دے دیا ، میں تو کہیے دیتی ہوں حویلی کی دہلیز میں قدم نا رکھے وہ لُچا ۔۔لٹیارا “
خدیجہ نے دلگیر لہجے میں غصہ نکالا اور پھر سے دوپٹے میں منہ چھپاۓ روتی اریب کو دکھ بھری نگاہوں سے دیکھا
” کیوں نا جاٶں ۔۔۔ وہ وہیں طلاق دے گا اس عورت کو یہ کیا کوٸ چھوٹی موٹی بات ہے ، چوہدری حاکم کی بیٹی کے سر وہ سوکن لا کر بیٹھا دے گا وہ بھی طواٸف اور میں چپ سادھ لوں گا ہو ہی نہیں سکتا “
چوہدری حاکم نے غصے میں دانت پیستے ہوۓ ایسے کہا کہ ان کا پورا وجود غصے سے کانپ اٹھا اور سفید رنگت پل بھر میں ہی سرخ ہونے لگی ۔
” ابا جی بال بچے ہیں اس میں سے بھی ایسے کیسے طلاق دے گا اب “
نوازش نے پریشان سے لہجے میں کہتے ہوۓ گفتگو میں حصہ ڈالا ، چوہدی حاکم نے ایسی خونخوار نگاہ نوازش پر ڈالی کہ وہ فوارً نگاہیں جھکا گیا ۔
”تو یہاں کیا۔۔۔ یہ دونوں اس کے بچے نہیں ہیں ، اس کی اچھی خبر لوں گا میں یہ صلہ دیا ہماری بے لوث محبت کا اس نے ، اپنے کاروبار کو میں نے اسے ایسے سونپ دیا تھا جیسے وہ میرا تیسرا بیٹا ہو ، اور اس نے میری ہی بیٹی کو دکھ دے دیا “
چوہدی حاکم کا چہرہ سرخ تھا اور جھری دار کنپٹی کی نسیں بھی غصے کے سبب باہر کو ابھر رہی تھیں ۔ اور پھر وہ وہاں رُکے نہیں تھے تیز تیز قدم اٹاری کے زیننے اترنے لگے پیچھے نقیب اور نوازش بھی اسی رفتار سے قدم بڑھا چکے تھے اور اٹاری میں سب نفوس دم سادھے کھڑے تھے بس اریب کا بین گونج رہا تھا ۔
” کبھی خوشی نا دی ۔۔۔۔ اس شخص نے مجھے ۔۔۔۔ ہاۓ ۔۔۔۔ ساری عمر کاٹ دی اپنے میکے میں ۔۔۔۔۔ سفید ہوتے ہوۓ بالوں میں یہ کھے ڈال گیا ۔۔۔۔۔ “
*******
چھت پر لگا پنکھا درمیانی رفتار میں چل رہا تھا اور پنکھے کے گھومتے پر گیں۔۔۔۔ گیں۔۔۔ کی آواز کے ساتھ پورے کمرے میں ہوا بکھیر رہے تھے ، ہوا نیچے میز پر رکھی کتاب کے اوراق کو اُڑا رہی تھی اور کتاب کے ساتھ میز پر کہنی کے بل ہاتھ پر چہرہ ٹکاۓ مالا کتاب سے بے نیاز اداس چہرہ لیے خلا میں گھور رہی تھی ۔
تقی سامنے کرسی پر بیٹھا کسی کتاب کو پڑھنے میں محو تھا ۔ مالا جب پیپر دے کر واپس آٸ تو پورا حاکم قصر ایسے دل دہلا دینے والے سناٹے میں ڈوبا تھا کہ وہ پریشان ہو گٸ بعد ازاں غزالہ سے اسے سارے ماجرے کی خبر ہوٸ ۔ چوہدری حاکم منیر کو زبردستی اس کے شہر والے گھر سے اٹھا لاۓ تھے اور اب منیر میاں کو کہاں رکھا گیا تھا حویلی کے مکیں ابھی اس بات سے بے خبر تھے ۔
کتاب کے اوراق پھڑپھڑانے کی آواز مسلسل تقی کے کانوں میں پڑی تو اس نے سر اوپر اٹھایا ، مالا اداس صورت اور پر سوچ نگاہیں لیے خلا میں گھور رہی تھی ۔کرمزی رنگ کے جوڑے میں وہ اس جوڑے پر بنے چھوٹے چھوٹے سرخ پھولوں کی ہی مانند لگ رہی تھی۔ بالوں کا وہی مخصوص انداز درمیان میں مانگ اور چوٹی کندھے سے آگے کی طرف گراۓ ، لمبی گھنی پلکیں جھپکے بنا وہ سامنے غیر مرٸ نقطے کو گھورتے ہوۓ پتا نہیں کیا سوچ رہی تھی۔
” مالا ۔۔ کیا ہوا ؟ “
تقی نے آہستگی سے پکارا تو وہ پلکیں جھپکا کر ہوش میں آٸ ۔ ہتھیلی پر سے ٹھوڑی اٹھاۓ اور جلدی سے ایک نظر کتاب کی طرف اور پھر تقی کی طرف دیکھا ۔
” کہ۔۔۔کچھ نہیں “
بے دلی سے جواب دیا اور نگاہیں کتاب پر جما دیں ، تقی نے بغور اس کے چہرے کو دیکھا جو الجھن کا شکار تھا ۔
” کچھ تو ہے بتاٶ تو کیا آج والا پرچہ اچھا نہیں ہوا ؟“
تقی نے آبرٶ چڑھاۓ تشویش سے سوال کیا جس پر وہ فوراً نفی میں سر ہلا گٸ ۔
” پیپر بہت اچھا ہوا ہے پر میں یہ سوچ رہی ہوں منیر پھپھا نے دوسری شادی کیوں کی آخر ؟ اریب پھپھو اتنی پیاری تو ہیں “
مالا نے دکھ بھرے لہجے میں اپنی اداسی کا سبب بتایا تو تقی نے مسکراتے ہوۓ کتاب بند کی اور بغور اس کے چہرے کی طرف دیکھا معصوم صورت اور پیشانی پر الجھی سی لکیریں موجود تھیں ۔
” اس کا تعلق خوبصورتی سے تو نہیں ہوتا ، اس کا تعلق تو محبت سے ہوتا ہے ، جس مرد کو اپنی بیوی سے محبت نہیں ہوتی وہی اپنی بیوی کو ایسا دکھ دیتا ہے کیونکہ اس کے احساسات اس کے لیے ختم ہو جاتے ہیں “
تقی نے شاٸستگی سے جواب دیا ، مالا نے روہانسی صورت بنا لی لیکن تقی اُسکی حالت سے بےنیاز بس بولے جا رہا تھا ۔
” دیکھو دوسری شادی ویسے تو مرد کر سکتا ہے اسے اجازت ہے، پر اس کی بہت سی شراٸط ہوتی ہیں جو آجکل کے بہت سے مرد کبھی پوری نہیں کر سکتے اور جس طرح منیر پھپھا نے دوسری شادی کی یہ غلط ہے اس میں انہوں نے اپنی بیوی کو دھوکا دیا چھپ کر شادی کی اور یہ ثابت کر دیا انہیں اریب پھپھو سے محبت نہیں تھی “
تقی نے ایک لمحے کا توقف کیا ، وہ دم سادھے تقی کو سن رہی تھی اور دل میں عجیب سے وسوسے اور خوف سر اٹھانے لگا تھا ۔
” کیونکہ ہم بیوی کو دکھ دینے کا صرف اس وقت سوچ سکتے ہیں جب ہمارے دل میں اس کی محبت ختم ہو جاۓ مطلب ہم اس کے احساسات کی پرواہ نا کریں ، اور دوسری عورت سے شادی کر لیں ۔“
تقی نے بغور اس کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں خوف کے سایے لہرا رہے تھے ۔ مالا نے بھنویں سکیڑیں اور ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنساۓ میز پر رکھا ، لبوں کو آپس میں ملا کر ہمت جتاٸ ۔
” تو کیا آپ بھی دوسری شادی کر لیں گے ؟ “
سہمے سے لہجے میں سوال کیا ، جبکہ نگاہیں نیچے جھکا رکھی تھیں ، تقی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا جو رونے جیسی صورت بناۓ بیٹھی اس سے سوال کر رہی تھی ۔
” کیا۔۔۔۔ ؟ “
تقی بے ساختہ اس کی بات پر ہنس دیا اور سر ہوا میں تاسف سے مارا ، بمشکل اپنی ہنسی کو روکا ، اچھا تو یہ تب سے یہ سوچے جا رہی ہے ۔
” ہاں آپ بھی تو مجھ سے محبت نہیں کرتے تو کیا دوسری شادی کر لیں گے “
خفا سا لہجہ تھا اور خالصاتاً بیویوں جیسا شکوہ ، تقی نے محبت سے اسکی طرف دیکھا جس کو اپنی فکر پڑ گٸ تھی۔
” تمہیں کب میں نے کہا کہ میں تم سے محبت نہیں کرتا؟ “
مسکراہٹ کو لبوں میں بمشکل دباۓ مالا سے سوال کیا ، نگاہوں سے اس کے چہرے کے ہر ہر نقوش کو چھو لیا ، وہ یوں اس کی محبت کو کھو دینے کا خوف لیے بیٹھی اس کے دل میں اپنی جڑیں اور پھیلا رہی تھی ۔
مالا نے پلکیں گالوں پر لرزاٸیں وہ چہرے پر ایسے نگاہیں گاڑے بیٹھا تھا کہ سامنے دیکھنا محال تھا ، لجاٸ سی آواز میں اگلا شکوہ کیا
” تو آپ نے یہ کب کہا کہ آپ محبت کرتے ہیں “
لہجہ ہنوز خفگی بھرا تھا اور چہرے پر انگنت رنگ رقص کنعاں تھے ۔
” تو محبت کیا بتانے سے ہی ظاہر ہوتی ہے اعمال سے نہیں ہو سکتی کیا ؟ “
تقی نے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوۓ مخمور لہجے میں کہا تو مالا نے الجھ کر نگاہ اٹھاٸ کون سے اعمال آج تک میرا ہاتھ تک تو پکڑا نہیں ۔۔۔ دل نے دماغ سے ہی شکوہ کر ڈالا
” میں تمہارا اتنا خیال کرتا ہوں ، تمہاری ہر خواہش کا خیال کرتا ہوں کیا یہ محبت نہیں “
تقی نے بھنویں اچکاۓ سوالیہ نگاہوں کو اس کے چہرے پر جماۓ پوچھا جو اب اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔
”تو آپ پھر دوسری شادی نہیں کریں گے نا “
بے یقینی سے پوچھا ، نگاہیں ہنوز تقی کی گہری سیاہ آنکھوں میں جھانک رہی تھیں اور دل ہولے ہولے میٹھا سا ارتھ رگ و پے میں دروڑانے کا سبب بن رہا تھا اور ایسا ہی کچھ حال سامنے بیٹھے تقی کا تھا ، اس کی ہر ادا پر دل ہار رہا تھا وہ پر دل اسے تنگ کرنے پر اکسانے لگا
” جس دن تم نے کہا تھا مجھے نہیں پڑھنا اس دن میں نے سوچا تھا ویسے کہ دوسری شادی کر لوں گا کسی پڑھی لکھی ، کسی ڈاکٹر سے “
تقی نے مسکراہٹ دباۓ اسے چھیڑا تھا ، حالانکہ جس دن اس نے پڑھنے سے انکار کیا تھا اسی دن تو اس سے محبت کے انوکھے جذبے سے وہ آگاہ ہوا تھا ، تقی کی اس بات پر اسکا پورا منہ کھل گیا ، دل ڈوب گیا اور آنکھیں اداس ہو گٸیں
” اگر میں نا پڑھتی تو آپ شادی کر لیتے “
دلگیر لہجے میں معصوم رونی صورت بناۓ سوال کیا
” ہاں سوچا تو تھا ایسا “
تقی نے کندھے اچکاۓ اور مسکراہٹ کو امڈنے سے زبردستی روک کر سنجیدگی اختیار کی اور یہ کرنا اس کے لیے مشکل تو نہیں تھا ۔
” آپ نے تو ابھی کہا تھا کہ مرد دوسری شادی اس وقت کرتا ہے جب اسے پہلی بیوی کے دکھ کا احساس نہیں ہوتا ، تو آپ صرف اس وجہ سے کر لیتے کہ میں پڑھ لکھ نہیں رہی تھی “
مالا کی آنکھیں بھیگ گٸ تھیں ، تقی فوراً کرسی کو دونوں ہاتھوں سے گھسیٹ کر اس کے قریب ہو ا اب وہ بلکل مالا کی کرسی کے سامنے اپنی کرسی کچھ یوں رکھے ہوۓ تھا کہ مالا کے گھٹنوں کے سامنے اس کے گھٹنے تھے ۔
” ادھر دیکھو میری طرف ، تمہیں پتا ہے میں کیوں چاہتا ہوں تم پڑھ لکھ جاٶ “
تقی نے اس کا خفا سا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا ، وہ خفا سی تقی کی آنکھوں میں جھانک رہی تھی نیلی پتلیوں والی آنکھوں میں آنسوٶں کی دبیز تہہ چمک رہی تھی ۔ تقی نے سنجیدگی سے بات شروع کی
” میں تم سے عمر میں اتنا بڑا ہوں کہ کل اگر جلدی اس دنیا سے چلا جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
مالا چونک کر اس کی بات مکمل ہونے سے پہلٕے ہی تقی کے منہ پر ہاتھ رکھ چکی تھی ، تقی نے محبت سے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں دبا لیا
” روکو مت مالا سنو ، ہاں میں چاہتا ہوں اگر میں تم سے پہلے اس دنیا سے چلا جاٶں تو نا تو تم کسی کی محتاج ہو اور نا ہمارے بچے “
مالا حیرت سے اس کے آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ، جو بڑے آرام سے اس طرح کی باتیں کرتا ہوا اس کے دل کو دبوچ رہا تھا شدت سے احساس ہوا کہ وہ اسکا کیا ہے اس کی ایسی بات پر ہی سانس رکنے لگی تھی ۔
ہاں یہی وہ محبت ہے جو اللہ عورت کے دل میں شوہر کے لیے پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے منہ سے ایسی بات سن تک نہیں سکتی ،اسی لیے وہ شریک حیات کہلاتی ہے ۔
” ایسے باتیں کیوں کر رہے ہیں ، اللہ نا کرے آپ کو کچھ ہو کبھی ، میری عمر بھی آپ کو لگ جاۓ “
مالا نے بھیگی سی آواز میں اپنی عمر سے بڑی بات کر دی تھی اور یہ سب بے ساختہ اس کے دل سے نکلا تھا وہ تقی سے بے پناہ محبت کرنے لگی تھی ۔ اور یہ محبت شادی سے پہلے والی محبت سے بہت مختلف تھی اسے اب شادی کے بعد تقی اپنے ہی جسم کا کوٸ حصہ لگتا تھا جس کے بنا جینا وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی ۔
” غلط بات ، ایسے نہیں کہتے ، جانا سب نے ہے ایک دن ، میں تو ایک حقیقت بتا رہا ہوں تمہیں کیونکہ تم بہت چھوٹی ہو مجھ سے “
تقی نے محبت سے کہتے ہوۓ اس کے ملاٸم سے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی ، مالا نے غصے سے ہاتھ پیچھے کھینچے
” چھوٹی ہوں ۔۔۔ چھوٹی ہوں ۔۔۔ میں نہیں ہوں چھوٹی آپ کی بیوی ہوں بس ، چھوٹی بڑی کا نہیں پتا مجھے “
مالا کے لہجے میں خفگی تھی وہ رو دی تھی ، تقی بے ساختہ اس کی اس بات پر قہقہ لگا گیا
” ٹھیک ہے مان لیا تو بیوی جی ، آنسو پونچھ ڈالیے ، میں دوسری شادی کبھی نہیں کروں گا ، اب کچھ پڑھ لیں صبح پرچہ بھی ہے تمھارا “
تقی نے اس کی چھوٹی سی ناک کو پکڑ کر محبت سے داٸیں باٸیں ہلایا تو وہ اس کے محبت بھرے لمس پر جھینپ گٸ پھر گلابی گالوں پر بکھرتے رنگ لیے نگاہیں کتاب پر جھکا دیں ۔
تقی نے مسکراتے ہوۓ اپنے سامنے پڑی کتاب پھر سے کھول لی ۔ جس طرح کا اظہار مالا چاہتی تھی شاٸد اسے ویسا اظہار کرنا نہیں آتا تھا ۔ وہ عمر کے اس حصے میں تھی جہاں لڑکیوں کی خواہشیں لفظوں کی محتاج ہوتی ہیں جبکہ وہ عمر کے اس حصے میں تھا جہاں وہ سمجھتا تھا لفظوں سے زیادہ اعمال سے محبت جتانی چاہیے ۔
***********
قندیل فوارے سے لٹکے جل رہی تھی ، شیشے کے بنے گول سے شمع دان میں شمع آہستہ آہستہ جلتے ہوۓ ہل رہی تھی ، صحن ملگجی سی روشنی میں نہایا ہوا تھا جبکہ اٹاری میں سو واٹ کے بڑے بلب کی پیلی روشنی پھیلی ہوٸ تھی ، رات کے اس پہر پہلی دفعہ حویلی کی اٹاری میں سب نفوس جاگ رہے تھے ، رات کے سات بجتے ہی جو بے سدھ سو رہے ہوتے تھے آج رات دس بجے بھی جاگ رہے تھے ۔ صرف بچے تھے جو کمروں میں سو رہے تھے اور منیر میاں کو جان بوجھ کر بچوں کے سو جانے کے بعد حویلی میں لایا گیا تھا ۔
اٹاری کی رنگ برنگی ابھرے ابھرے نقش و نگار والی چھت سے لٹکتے تینوں پنکھے چل رہے تھے ،تخت پر خدیجہ بیگم اریب کے کندھے تھام کر بیٹھی تھیں ، چوہدری حاکم کرسی پر بیٹھے تھے اور سامنے موڑھے پر منیر اختر مجرموں کی طرح سر جھکاۓ بیٹھا تھا اس کے منہ پر جگہ جگہ نیل کے نشان تھے آج تیسرے دن اسے حویلی میں لایا گیا تھا ۔
منیر میاں کو اس کے شہر والے گھر سے اٹھا کر سیدھا ڈیرے لے جایا گیا تھا جہاں اس کی اچھی خاصی خدمت کے بعد اس کے گھر والوں کو بھی بلایا گیا ، منیر میاں نے کہا وہ حویلی جا کر اپنا فیصلہ سناۓ گا ۔ اور اب تمام نفوس اس کی بات پر پوری آنکھیں کھولے کھڑے تھے ۔
بات ہی کچھ ایسی تھی سب کا یوں ششدر ہو جانا بنتا تھا ، منیر میاں سر جھکاۓ جو کہہ رہا تھا وہ کہاں قابل قبول تھا۔
” ہاں میری شرط یہی ہے میں رانی کو طلاق دینے کے لیے تیار ہوں ، پر وہ دونوں بچے ان کو میں اپنے ساتھ رکھوں گا “
منیر نے سر نیچے کیے اپنا فیصلہ سنایا ، اریب نے نگاہیں اٹھاٸیں اور چیخ پڑی ، وہ خدیجہ بیگم کے پاس بے حال بیٹھی تھی تیز تیز سانس لیتی بال بکھراۓ بیٹھی اریب کا بس نہیں چل رہا تھا وہ منیر پر جھپٹ پڑے اور اس کا گریبان پکڑ کر جھنجوڑ دے ۔
” تو اب عمر کے اس حصے میں ۔۔۔ میں اپنی سوکن کے بچے پالوں گی یہ صلہ دیا تو نے میری وفا کا ، میری محبت کا “
اریب نے دکھ سے چیختے ہوۓ شکوہ کیا اور پھر دوپٹہ منہ میں لے کر اونچا اونچا رو دی ۔
” چپ کرو اریب ، آواز نا نکلے تمہاری “
چوہدی حاکم نے گھورتے ہوۓ اریب سے کہا اور پھر گہری سانس لیتے ہوۓ منیر کی طرف متوجہ ہوۓ ، اس وقت اپنی بیٹی کا گھر بچانا ان کے لیے سب سے اہم تھا ۔
” ہاں ۔۔۔ ہمیں شرط منظور ہے تم اس عورت کو طلاق دو ، لیکن اریب اور تم ادھر ہی رہو گے حویلی میں تو اس لیے تمھارے وہ بچے بھی ادھر ہی آٸیں گے “
چوہدری حاکم نے ناک پھلاۓ فیصلہ سنایا ، تو خدیجہ بیگم غصیلی نگاہوں سے منیر کو گھورتے ہوۓ گویا ہوٸیں ۔
” تجھے تو یہ دید نا آوۓ آستین کے سانپ ، اتنے اتنے سے تو تیرے نواسی نواسے ہیں ، کچھ تو حیا کرتا یہ خاک ڈالنے سے پہلے “
خدیجہ بیگم کی تیکھی سی آواز ابھری تو ، منیر نے لب بھینچے سر جھکا لیا وہ نادم تو تھا لیکن وہ اتنی مار کھانے کے بعد بھی اپنے بچے چھوڑنے پر راضی نہیں ہوا تھا ۔ تقی جو تب سے ستون کے پاس چپ کھڑا تھا اب برداشت ختم ہونے پر آگے ہوا ۔
” دا جی یہ ظلم ہے سراسر ظلم ، ایک ظلم تو منیر پھپھا اپنی بے حسی کی وجہ سے دوسری شادی کر کے ڈھا ہی چکے ہیں اور اب آپ لوگ ماں سے اس کے بچے الگ کریں گے ایک تو ابھی بہت چھوٹا ہے ، میں تو یہ کہتا ہوں پھپھا کی دوسری شادی کو قبول کر لیں “
تقی نے سنجیدگی سے اپنا مفید مشورہ دیا جس پر منیر نے تو چونک کر تقی کی طرف تشکر آمیز نگاہوں سے دیکھا ، جبکہ چوہدری حاکم نے غصے سے تقی کو گھورا انہیں تقی کی یہی باغی عادت بری لگتی تھی ۔ اریب تخت کو دونوں ہاتھوں سے تھامے چیخ پڑی
” نہیں یہ طلاق دیں اس عورت کو ہر حال میں دیں ۔۔۔ ، میں ان کی جان نہیں بخشوں گی اور وہ بچے بھی حویلی میں نہیں آٸیں گے ۔۔۔۔“
اریب گلا پھاڑے تیز تیز سانس لیتے ہوۓ اپنا فیصلہ سنا رہی تھی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور اب خونخوار نگاہوں سے منیر کو گھور رہی تھی ۔
” نہیں میں بچے نہیں چھوڑ سکتا ، جہاں میں رہوں گا وہاں میرے وہ بیٹا اور بیٹی رہیں گے “
منیر نے سر جھکا کر داٸیں باٸیں نفی میں ہلاتے ہوۓ اپنے اٹل فیصلے سے آگاہ کیا ، تقی کے ساتھ نے اس کی ہمت بڑھا دی تھی
” پھر مجھے چھوڑ دیں ۔۔۔۔ چھوڑ دیں مجھے یہ مجھ سے جو دو بچے ہیں آپ کے ان سے تعلق ختم کر دیں، یہ جو اب آپ کے بڑھاپے کا سہارا بننے والا ہے اس سے کہہ دیں کہ یہ بیٹا نہیں ہے آپ کا “
اریب ننگے پاٶں بپھر کر تخت سے اٹھتی آگے بڑھی ، نقیب نے بمشکل اس کو قابو کیا ، وہ منیر پر چیخ رہی تھی اور جھپٹنا چاہ رہی تھی ۔
” چپ کرو تم سب ، وہ ایک طواٸف تھی لیکن بچے منیر کا خون ہیں منیر اس عورت کو طلاق دے اور بچے ابھی سے الگ کر دے حویلی میں لے آۓ یہاں پلیں گے وہ “
چوہدی حاکم نے ہاتھ کھڑا کرتے ہوۓ دو ٹوک لہجہ اپنایا ، مسواۓ تقی کے سب خاموش ہوۓ جبکہ تقی کچھ بولنے کے لیے آگے بڑھا ہی تھا جسے نوازش نے ہاتھ پکڑ کر اشارے سے زبردستی چپ رہنے کا کہا
” میں نہیں پالوں گی اس گندی عورت کے بچوں کو ، میں گلے دبا دوں گی ان کے “
اریب نے چیخ کر غم و غصہ ظاہر کیا
” چپ کر کیا جاہلوں کی طرح بولے چلے جا رہی ہے ۔۔۔ شوہر بھٹک جایا کرتے ہیں اور اچھی بیویوں کا شیوہ ہے ان کو معاف کریں منیر میاں اس عورت کو چھوڑ رہے ہیں یہ کافی ہے تمھارے لیے “
چوہدری حاکم نے اونچی آواز میں دھاڑتے ہوۓ کہا اور غصے سے اریب کی طرف دیکھا ، جو اب بمشکل خود پر قابو پاۓ کھڑی تھی۔
” بلقیس ، غزالہ ۔۔۔ جب وہ بچے حویلی میں آٸیں گے تم دونوں دیکھ بھال کرو گی ان بچوں کی “
چوہدری حاکم نے پیشانی پر انگنت شکن نمودار کیے حکم صادر کیا تو بلقیس اور غزالہ فوراً سر جھکا کر اثبات میں ہلانے لگیں ۔
” بس اب اس کے بعد کوٸ بات نہیں ہوگی اس پر ، منیر میاں صبح میرے ساتھ وکیل کے پاس چلو گے تم طلاق کے کاغذات تیار کرنے ہیں ، فارغ کرو اس عورت کو “
چوہدری حاکم نے تلخ لہجے میں منیر کو گھورتے ہوۓ حکم دیا ، اور پھر نگاہیں گھما کر سب کی طرف دیکھا
” چلو اب جاٶ سب اپنے اپنے کمروں میں یہاں کوٸ نظر نا آۓ مجھے “
چوہدری حاکم نے غصے سے کہا اور قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھا دیے ۔ اب سب آہستہ آہستہ اپنے کمروں کی طرف قدم بڑھا چکے تھے ۔
*********
مالا نے کمرے کا دروازہ آہستگی سے بند کیا ، اور غصے میں ماتھے پر بل ڈالے بیٹھے تقی کی طرف دیکھا جو باہر واحد ایسا تھا جو سب سے الگ بات کر رہا تھا کہ اس عورت کو اس کے بچوں سے الگ نا کیا جاۓ پر آج بھی بڑوں میں سے کسی نے تقی کی ایک نہیں سنی تھی ۔
تقی پلنگ پر ٹانگیں لٹکاۓ لب بھینچے ایسا بیٹھا تھا جیسے غصہ ضبط کر رہا ہو ، سرخ چہرہ تھا جہاں جبڑے سختی سے ایک دوسرے میں پیوست تھے ۔ وہ ہلکے نیلے رنگ کی شرٹ کے نیچے سیاہ پینٹ پہنے ہوۓ تھا شرٹ کے آستین مخصوص انداز میں اوپر چڑھا رکھی تھیں اور دونوں ہاتھوں کے پنجوں کو آپس میں ملاۓ ہوۓ غصے میں بھرا بیٹھا تھا ۔
مالا کا آج آخری پرچہ تھا پر اس کی سوچ کے بلکل برعکس وہ اتنی خوش نہیں تھی جتنا اس نے سوچا تھا کہ وہ پرچے ختم ہونے پر خوش ہو گی ، گھر کا ماحول ہی اس قدر تناٶ کا شکار تھا کہ کوٸ ایک نفس بھی خوش نہیں تھا ۔ اور اب تقی کی یہ حالت مالا کو برداشت نہیں تھی۔
وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوٸ پاس آ کر تقی کے برابر میں پلنگ پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ چکی تھی ، کچھ سکینڈ یونہی خاموش رہنے کے بعد مالا نے لب کھولے تو کمرے میں پنکھے کی آواز کے بعد کسی کی آواز سناٸ دی ۔
” تقی آپ پریشان نا ہوں ، دا جی بڑے ہیں بے شک ان کا فیصلہ درست ہی ہو گا “
مالا نے ملاٸم سے لہجے میں تقی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا وہ لب بھینچے سامنے دروازے کو غصے سے گھور رہا تھا ۔ مالا کی بات پر وہ فوراً بول پڑا
” ہر بات غلط ہے بلکل غلط ہے ، دوسری عورت کو طلاق دلوانا ، اس کے بچوں سے اسے الگ کرنا “
تقی نے غصے سے جھنجھلاتے ہوۓ وہ سب کہا جو اسے باہر کہنے نہیں دیا جا رہا تھا ۔ مالا نے بھنویں پریشانی سے سکیڑیں اور محبت سے اس کے چہرے پر نگاہیں جماٸیں ۔
” میں آپ کی بات کو سمجھتی ہوں پر یہاں سب فیصلے دا جی کے ہوتے ہیں آپ کی بات کوٸ نہیں سنے گا “
مالا نے آہستگی سے اسے دیکھتے ہوۓ سچ بات بولی اور پھر سر جھکا لیا ، تقی ہنوز خاموش بیٹھا تھا ، کمرے میں پھر کچھ لمحے کے لیے خاموشی ہو گٸ تھی اور اب کی بار بھی مالا نے ہی توڑی تھی ۔
” میرا آج آخری پرچہ تھا آپ نے تو اس کا بھی نہیں پوچھا مجھ سے ، اتنے غصے میں مجھے ہی بھول بیٹھے ؟ “
مالا نے ٹانگیں آہستہ آہستہ جھلاتے ہوۓ شکوہ کیا وہ تقی کا ذہن اس بات سے ہٹانا چاہتی تھی اسے تقی یوں غصے میں بیٹھا پریشان کر رہا تھا ۔
مالا کی بات پر تقی نے گہری سانس لی اور پھر سر جھٹک کر مبہم سی مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ اس کی طرف دیکھا جو واحد اس کی زندگی میں اسے دا جی کا درست فیصلہ لگنے لگی تھی ۔
” کیسا ہوا پرچہ ؟ “
غصے کو ختم کرتے ہوۓ ماتھے کے شکن کو ختم کیا اور اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوۓ پوچھا وہ آج بڑے دنوں کے بعد نکھری نکھری سی لگ رہی تھی ۔
امتحانات میں تو دن رات وہ پڑھاٸ میں مگن اپنا آپ سنوارنا بھی بھولے ہوۓ تھی پر آج وہ شام کو تقی کے آنے سے پہلے ہی بڑے نک سک سے تیار ہوٸ تھی ، سرخ رنگ کے جوڑے میں دمکتا چندن روپ اور کانوں میں چھوٹی سی جھمکی والے بُندے اسے دلکش بنا رہے تھے جن پر تقی کی توجہ اب گٸ تھی اور اس کا یہ روپ واقعی تنے ہوۓ اعصاب پر ٹھنڈی پھوار کا کام کر گیا تھا ۔
وہ شام کو ہسپتال سے واپس آ کر باہر برانڈوں میں ہی مردوں کے ساتھ بیٹھا رہا تھا۔ وہ آجکل نقیب کے کہنے پر سیاست میں بھی دلچسپی لینے لگا تھا اور اب رات نو بجے گھر میں آیا تھا سب مردوں کے ساتھ ۔
مالا نے مسکرا کر تقی کی نگاہوں میں دیکھا جو اب پیار سے اسے پرچے کا پوچھ رہا تھا ۔
” جی بہت ۔۔۔بہت ۔۔ اچھا ہوا پرچہ “
مالا نے چہکتے ہوۓ ہاتھ اٹھا کر جواب دیا ، کلاٸیوں میں پہنیں سرخ کانچ کی چوڑیاں ایک ساتھ بج اٹھیں ، تقی اس کی خوشی پر بے ساختہ ہنس دیا جبکہ وہ بچوں کی طرح بولے جا رہی تھی ۔
” اب تو میں جلدی سو سکتی ہوں نا اب تو نہیں جگایا کریں گے نا اور اب چاۓ بھی نہیں پینی مجھے رات کو میں پہلے کی طرح دودھ پی کر سویا کروں گی “
وہ اسے اپنی آزادی سے آگاہ کر رہی تھی جبکہ وہ اس کے چہرے اس کی ہاتھوں کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔
ایک نرم سا احساس تھا جو گھیرا ڈال رہا تھا۔ وہ یوں پاس بیٹھی آج اسے سارے خول توڑنے پر مجبور کیے ہوۓ تھی ۔ پر دماغ تھا کہ دل کو جکڑ کر قابو کرنے کی بے انتہا کوشش میں لگا تھا جو بے تاب ہوۓ جا رہا تھا ۔
” شکر شکر شکر ، امتحان ختم ہوۓ ۔۔۔ “
وہ اب چہکتے ہوۓ ہاتھ اوپر اٹھاۓ اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی ۔ وہ یوں چہکتی کھلکھلاتی تقی کے دل پر زور کی ضرب لگا چکی تھی اور وہ بے اختیار بول پڑا
” ابھی ایک امتحان تو باقی ہے “
تقی کی مخمور سی آواز پر مالا کے اوپر کو اٹھے ہاتھ ایک دم نیچے آۓ اور پھر سوالیہ نظروں سے تقی کی طرف دیکھا ، جو محبت سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
” کیسا امتحان ۔۔۔ ؟ “
مالا نے آبرٶ چڑھاۓ معصومیت سے سوال کیا ، دل تو دھک سے رہ گیا اب کون سا امتحان باقی تھا ۔ تقی نے گہری نگاہوں کو اس کے چہرے پر گھمایا
” ہے ایک امتحان جو میں لوں گا تمھارا ، پر ابھی نہیں “
تقی نے مخمور سے لہجے میں ذو معنی جملہ کہا اور دلکش مسکراہٹ لبوں پر سجاٸ ، مالا نے اس کی آنکھوں میں موجود شرارت کو اور اس کی بات کو سمجھتے ہی جھینپ کر پلکیں گراٸیں ، دل پوری رفتار سے دھڑکا تھا اور پورے وجود میں کرنٹ دوڑ گیا ۔
تقی اس کی حالت سے محظوظ ہو رہا تھا جب اچانک اس نے بول کر اس کے چھکے چھڑا دیے ۔
” ابھی کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔۔ “
مالا کی مدھم سی سرگوشی نما آواز ابھری ، جو بمشکل اس کے حلق سے براآمد ہوٸ تھی وہ اب گلال ہوۓ بیٹھی تھی جتنی تیزی سے دل دھڑک رہا تھا اتنی تیزی سے گداز گالوں پر پلکیں لرز رہی تھیں ۔ مالا کا یہ انداز رہے سہے ضبط کو ختم کرنے پر تلا تھا ، تقی گڑ بڑا کر فوراً پلنگ پر سے اٹھا ۔
” ابھی ۔۔۔۔۔ ابھی۔۔۔ نہیں “
تیزی سے کہتے ہوۓ وہ آگے بڑھنے لگا تھا جب مالا کے ہاتھ نے اس کے ہاتھ کو تھام لیا ، وہ منجمند ہو گیا ، مالا ہاتھ کو تھامے ہی آہستگی سے کھڑی ہوٸ
” امتحان تو مجھے دینا ہے نا تو میں تیار ہوں “
مالا نے آہستگی سے کہا اور تقی کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں ضبط کی آخری سیڑھی پر وہ اسے ناکام بنا چکی تھی ۔
**********
سفید کاغز پر نیلی سیاہی کے قلم سے ایک داٸرہ کھینچ کر سو بٹا سو لکھا گیا تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: