Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 19

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 19

–**–**–

کاغذ پر لکھے نمبروں کے ایک طرف تقی کے دستخط تھے ۔ کاغذ کو کتاب کے کونے کے نیچے دیا گیا تھا تاکہ وہ چلتے پنکھے کی ہوا سے اُڑ نا جاۓ ، میز کے قریب ہی پلنگ پر لیٹی مالا نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں ۔ کمرہ روشن دان اور دروازے کے دونوں کواڑ کے درمیان موجود خلا سے چھن چھن کر آتی روشنی کے سبب بہت حد تک روشن ہو چکا تھا ۔
بھاری سے پلکیں اور دن چڑھے تک سونے کی وجہ سے آنکھیں بوجھل تھیں ، اسے کسی نے اُٹھایا بھی نہیں ، سب کو یہ احساس تھا کہ کل اُس کے امتحانات ختم ہوٸیں ہیں تو اس لیے آرام کر رہی ہے ۔
تقی اٹھ کر جا چکا تھا جس کے جانے کی اسے خبر تک نا ہوٸ ، نا اس کے جانے کی ، نا مالا کو بیٹھ کر کتنے ہی لمحے تکنے کی ، اور نا دلکش مسکراہٹ کے سنگ پرچے پر اس کے لیے نمبر لکھنے کی ۔ مالا کو تو ان سارے لمحوں کی خبر ہی نا ہوٸ وہ گہری نیند سو رہی تھی ۔ اور وہ محبت سے اسے دیکھتا ہوا چلا گیا تھا۔
اب تقریباً صبح دس بجے کے قریب اس کی آنکھ کھلی تھی اور وہ آنکھیں کھول کر کتنے ہی پل یونہی پلنگ پر چت لیٹی مسکاتی رہی پھر میز پر کتاب کے کے کونے کے نیچے پڑے کاغذ کے بار بار ہوا کے زور سے پھڑپھڑانے کی آواز پر گردن کو تکیے سے تھوڑا اوپر اٹھاۓ میز کی طرف دیکھا۔
چادر کو خود سے اتارتی ، آنکھیں سکیڑ کر کاغذ کی طرف دیکھتی وہ ننگے پاٶں ہی پلنگ سے اتری تھی ، میز کے قریب جا کر کاغذ کو کتاب کے کونے کے نیچے سے نکال کر آنکھوں کے سامنے کیا ۔
تقی کی لکھاٸ وہ باخوبی پہچانتی تھی اور اس پر دیے گۓ نمبر دل دھڑکا گۓ تھے ، کاغذ میں ہی گلال ہوتا چہرہ چھپاۓ کتنے لمحے وہ میز کے قریب کھڑی من ہی من لمحے دہرا کر شرماتی رہی ، امتحان میں پاس نہیں پورے نمبر دے کر جانا والا اس کے دل کی سلطنت کے تخت پر براجمان تھا ۔
کاغذ کو چہرے پر سے ہٹایا اور ارد گرد نگاہ دوڑاٸ تو کمرے کی ہر چیز اس کے سنگ خوشی میں رقص کرتی ہوٸ محسوس ہو رہی تھی ۔ وصل کی سرشاری چہرے کی چمک میں اضافہ کیے ہوۓ تھی ، تقی سے جو کچھ ہچکچاہٹ باقی تھی اب ختم ہو چکی تھی یوں لگا اس پر اور اس کی ہر چیز پر اب اس کا حق ہے ۔
گھوم کر کمرے کو دیکھا آج بس تقی کے آنے سے پہلے ہی پورا کمرہ، یہ میز ، کتابیں ، الماری ہر چیز صاف کرنی ہے ، سکینہ کو بلاتی ہوں اور اسے اپنے ساتھ کام پر لگاتی ہوں ۔
اچانک ذہن میں امڈتے خیال کے باعث ، دلکش سے مسکراہٹ نے چہرے پر رنگ بکھیر دیے تھے وہ کاغذ کو پیار سے پاس پڑی کتاب کے اندر رکھتے ہوۓ کمرے کے بیرونی دروازے کی قدم بڑھا چکی تھی ۔
************
پلنگ پر کتابوں کا ڈھیر لگا تھا ، ادب ، فکشن ، ساٸنس اور نصاب کی مختلف چھوٹی بڑی کتابیں تھیں جن کو اتنے سالوں تک تقی کے علاوہ کسی کو ہاتھ لگانے کی اجازت تک نا تھی ، مٹی کی تہہ سے اٹی ہوٸ کتابیں اب اوپر نیچے پلنگ پر ڈھیر ہو رہی تھیں ۔
مالا سٹول پر کھڑی الماری کے اوپری خانے میں سے کتابوں کو اٹھا کر سٹول کے پاس کھڑی سکینہ کو پکڑا رہی تھی اور سکینہ اس کے ہاتھ سے کتابیں لے کر پلنگ پر کتابوں کو اوپر نیچے رکھتے ہوۓ ڈھیر لگا رہی تھی ، گہرے نیلے رنگ کا جوڑا جو جگہ جگہ سے دھول ، مٹی سے اٹا ہوا تھا زیب تن کیے ، دوپٹے کو داٸیں کندھے پر ڈال کر باٸیں طرف سے کمر پر باندھے ، قمیض کے آستیں کہنیوں تک موڑ کر اوپر چڑھاۓ ، بالوں کی چٹیا کو گھما کر جوڑے کی شکل دیے وہ الماری سے کتابیں نکالنے میں مگن تھی ، وہ ایک دفعہ میں پانچ سے چھ کتابیں دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر سٹول کے پاس کھڑی سکینہ کو پکڑا رہی تھی ۔ مالا نے ناگواری سے ناک چڑھاٸ ۔
” افف توبہ ویسے تو اتنے صاف ستھرے ہیں جناب اور اس الماری میں دیکھو کیا گندگی چڑھا رکھی ہے ، خدا کی پناہ ، اہو۔۔۔و۔و ۔۔۔۔۔۔ اہو۔۔۔و۔و۔و۔۔۔۔ “
وہ ہاتھ کو چہرے کے آگے جھلاتے ہوۓ کھانسنے لگی ، کتابوں کے اٹھانے کے سبب ہوا میں اُڑتی دھول ناک کے نتھنوں سے سفر کرتی گلے میں خراش پیدا کر رہی تھی ۔
وہ اب سٹول سے نیچے اتر کر دوسرے نمبر والے خانے پر متوجہ ہوٸ ، کتابیں اٹھا کر ایک طرف کی تو ایک کونے میں پڑی قمیض پر نظر پڑی جو کتابوں کے موجود خلا میں گھسا کر رکھی ہوٸ تھی ۔
مالا نے مگن سے انداز میں کتابیں ایک طرف کرتے ہوۓ قمیض کو نکال کر پلنگ پر پھینک دیا ، پہلے خانے کی طرح دوسرے خانے میں موجود ساری کتابیں بھی پلنگ پر ڈھیر کرنے کے بعد وہ پیچھے ہوۓ اور سکینہ کو ہاتھ سے آگے آنے کا اشارہ کیا سکینہ نے الماری کو اچھی طرح کپڑے سے صاف کیا جبکہ وہ اس دوران پلنگ پر پڑی کتابوں کو کپڑے سے صاف کرتے ہوۓ احتیاط سے واپس پلنگ کی ایک طرف خالی جگہ پر رکھ رہی تھی ۔
سکینہ نے الماری کے خانوں سے دھول اچھی طرح جھاڑنے کے بعد مالا کے ہدایت پر پرانے اخبار ترتیب سے تمام خانوں میں بچھاۓ اور پھر الماری کے کواڑ کو گیلے کپڑے سے صاف کیا تو وہ چمچم کرنے لگی ۔
” اترو سکینہ اب تم مجھے کتابیں پکڑاٶ اور میں واپس رکھتی جاتی ہوں “
مالا نے الماری کے قریب آ کر سکینہ کو حکم صادر کیا سکینہ سر ہلاتی سٹول سے نیچے اتری اور پلنگ کی طرف بڑھ گٸ جبکہ وہ اب سٹول پر کھڑی ہو رہی تھی ۔
ترتیب سے کتابیں الماری کے خانوں میں سیٹ کرنے کے بعد وہ اب ستاٸشی نگاہوں سے صاف ستھری گرد سے پاک الماری کو دیکھ کر مسکرا دی ۔
” سکینہ اب تم ایسا کرو جھاڑو پوچا کر لو کمرے کا کل کپڑوں کی الماری صاف کرنی ہے بلکل ایسے ہی “
مالا نے خوشی اور جوش میں سکینہ کی طرف دیکھ کر کہا ، جو چہرے پر تھکان کے آثار لیے کھڑی تھی اس کی اسی تھکان کے پیش نظر مالا نے آج پورے کمرے کی صفاٸ کا ارداہ ترک کر دیا تھا کیونکہ اس ایک الماری کی صفاٸ پر ان دونوں کے تین گھنٹے لگ چکے تھے
مالا کی اس بات پر سکینہ بھی مسکراتی ہوٸ سے جھاڑو لانے کی غرض سے کمرے کی بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گٸ ۔ مالا نے کمر کے گرد دوپٹے کی گانٹھ کو کھولتے ہوۓ سامنے پلنگ کی طرف دیکھا تو آنکھیں سکڑ گٸیں ، کتابوں کی الماری سے نکلی قمیض اس نے اس وقت بنا دیکھے ہی پلنگ پر پھینک دی تھی ۔ وہ بھنویں سکیڑے پلنگ کی طرف بڑھی ۔
ہلکے شربتی رنگ کی مردانہ کاٹن کپڑے کی قمیض تھی جس پر مٹی کی تہہ جمی تھی مالا نے آگے بڑھ کر قمیض اٹھاٸ اور اسے کھولا قمیض سے اڑنے والی دھول کے ذرات سے اس کے کپڑے اور بازو بھر گۓ تھے ۔
قمیض کھولتے ہی قمیض کی پھٹی جیب نیچے کو لڑھک گٸ ایک طرف مٹی کا دھبا تھا اور قمیض کے بٹن ۔۔۔۔۔۔۔
قمیض کو جھاڑنے کی غرض سے اوپر کیے اس کے ہاتھ یونہی ہوا میں آویختہ رہ گۓ اور نگاہیں بٹن پر ساکن ہوٸیں ، اب بٹن کا عکس اس کی آنکھوں کی پتلیوں میں ابھرا ہوا تھا اور ماتھے کے شکن پہچان ہو جانے کے زیر اثر آہستگی سے کم ہو رہے تھے ۔
وہ بے اختیار قمیض کے گریبان پٹی پر لگے بٹن کو پکڑ کر بغور دیکھ رہی تھی ۔ ایک پل میں ہی وہ شناخت کر چکی تھی یہ بٹن خواب میں اتنی دفعہ وہ دیکھ چکی تھی کہ اب کیسے بھول سکتی تھی۔
وہی بٹن ، وہی حجم ، وہی شکل اور یہ بات بہت عجیب تھی اس نے یہ بٹن اور اس رنگ کے بٹن آج تک کبھی گھر میں کسی اور مردانہ قمیض کو لگے نہیں دیکھے تھے ۔
وہ بٹن کی پہچان کے بعد یونہی خوابوں کو دہرا رہی تھی جب اٹاری سے اٹھتے واویلے کی آواز کانوں میں پڑی ، وہ تیزی سے کپڑوں کی الماری کی طرف بڑھی ہاتھ اس دوران عجلت میں قمیض کی تہہ لگا رہے تھے ، قمیض کو احتیاط سے الماری کے نچلے خانے میں رکھتی ، بیرونی دروازے کی طرف بڑھی ۔
کواڑوں کے درمیان لٹکتے سفید ململ کے پردے کو داٸیں ہاتھ سے پیچھے سرکاتے وہ اٹاری میں آٸ تو سامنے کے منظر پر آنکھیں پوری کھل گٸیں ، منہا کے بلکنے کی آواز اٹاری میں گونج رہی تھی وہ اپنے پیٹ کو تھامے چیختے ہوۓ رو رہی تھی ایک طرف سے بلقیس نے تھام رکھا تھا تو ایک طرف سے غزالہ نے ، منہا کے چہرے پر رقم تکلیف کے آثار بتا رہے تھے درد اس کی برداشت کے درجوں سے تجاوز کر چکا ہے ۔
صحن میں افراتفری سی مچ گٸ ، سکینہ ، تاری بوا ، اریب ، خدیجہ بیگم ، غزالہ اور بلقیس سب منہا کے ارد گرد جمع تھے ۔
منہا کو امید سے ہوۓ ابھی مہینہ ہی گزرا تھا اور آج صبح سے وہ ناتواں سی طبیعت لیے پھر رہی تھی پر اب پیٹ میں تکلیف اتنی بڑھ چکی تھی کہ ضبط کھوۓ وہ اونچا اونچا چِلا رہی تھی ۔
بلقیس نے برقعہ پہن رکھا تھا شاٸد وہ منہا کے ساتھ جا رہی تھیں ، صحن میں پریشان حال سا نقیب حاکم اب گیٹ سے اندر داخل ہو کر اب تقریباً بھاگتا ہوا منہا اور بلقیس کے قریب آ رہا تھا ۔ اس کے قریب آتے ہی غزالہ نے منہا کا تھاما ہوا کندھا چھوڑ دیا ۔اور اب منہا کو نقیب حاکم ایک طرف سے تھام چکا تھا وہ یونہی بے حال روتی ہوٸ منہا کو لے کر حویلی کا گیٹ عبور کر چکے تھے ، کھلے گیٹ کے سامنے بہادر کار کا دروازہ کھولے کھڑا نظر آ رہا تھا ۔
غزالہ ، تاری بوا ، اریب اور خدیجہ بیگم اب پریشان صورت لیے واپس اٹاری کی طرف آ رہی تھیں ، مالا تیزی سے زینے کے قریب آٸ جہاں سے غزالہ اب اوپر آ رہی تھی ۔
” اماں کیا ہوا منہا آپا کو ؟ “
مالا نے پیشانی پر بل ڈالے تشویش ظاہر کی ، غزالہ زینے چڑھ کر اس کے قریب آٸ ، تاری بوا اب خدیجہ بیگم کا ہاتھ تھامے انہیں بھی زینے چڑھنے میں مدد دے رہی تھی ۔
” دعا کرو مالا ، بچے کو کچھ نا ہو “
غزالہ نے پریشان سے لہجے میں کہتے ہوۓ مالا کے کندھے پر ہاتھ رکھا ، مالا کا منہ حیرت اور تاسف سے وا ہوا ۔ غزالہ اسے یونہی پریشان سا کھڑا چھوڑ کر آگے بڑھ گٸ تھی اور وہ جو منہا کی امید کی خبر پر سب سے زیادہ خوش تھی ۔ اب اس خبر پر دل ایک دم سے ڈوبنے لگا ۔ ستون سے ٹیک لگاۓ وہ اداس صورت لیے کتنی ہی دیر حویلی کے گیٹ کو ہی تکتی رہی ، سکینہ اب اس کے کمرے میں جھاڑو لگا رہی تھی۔ اور منہا کی پریشانی میں وہ الماری میں رکھے قمیض کو فراموش کر گٸ ۔
*******
پانی سے بھرے گلاس کو دھیرے سے میز پر رکھتے ہوۓ مالا میز کے پاس پڑی کرسی پر براجمان ہوٸ ، سامنے والی کرسی پر تقی سر جھکاۓ کھانے میں مصروف تھا ، میز پر چپاتیا میں گول روٹی اور سٹیل کی پیالی میں سالن پڑا تھا ، سر جھکاۓ کھانے کے باعث اس کے بکھرے سے کچھ بال ماتھے پر گرے تھے ۔
منہا کو تقی کے کہنے پر فوراً شہر کے ہسپتال میں لے گۓ تھے جہاں اسے داخل کر لیا گیا تھا ، بلقیس ، نقیب اور بہادر ادھر شہر میں منہا کے پاس تھے جبکہ تقی اب رات کے آٹھ بجے شہر سے واپس لوٹا تھا ۔ باقی سب لوگ تو رات کا کھانا کھا کر اپنے کمروں میں لیٹ چکے تھے اس لیے تقی کو اس نے اب کمرے میں ہی کھانا دیا تھا ۔
” کیسی ہے منہا آپا ؟ “
مالا نے پریشان سے لہجے میں ، تقی کی طرف دیکھتے ہوۓ ، منہا کی خیریت دریافت کی ، تقی نے میز پر پڑا پانی کا گلاس اٹھا کر منہ کو لگایا ، پانی پینے کے بعد گلاس میز پر رکھتے ہوۓ مالا کی طرف دیکھا ۔
” ٹھیک ہے پر ابھی ایک دو دن ہسپتال میں رہے گی “
سنجیدگی سے جواب دیا اور پاس پڑے رومال سے ہاتھ پونچھے ۔ مالا کے چہرے پر اب بھی افسردگی تھی ۔
” اور ۔۔۔۔بچہ ۔۔۔؟ “
بھنویں اوپر چڑھاۓ آہستگی سے پوچھا ، تقی نے لب بھینچے سر کو تھوڑا سا جھکایا اور تاسف سے گردن کو نفی میں جنبش دی ، مالا کا دل ڈوب گیا وہی ہوا جس کا ڈر تھا ، منہا کا بچہ اب نہیں رہا تھا ۔
تقی نے اس کے چہرے کو پریشانی سے زرد ہوتے دیکھا تو جلدی سے بات کو رخ بدلہ ، بے شک وہ خود بھی پریشان تھا اور جو بات ڈاکٹر تسنیم نے اسے بتاٸ تھی وہ اسے اور تشویش میں مبتلا کر چکی تھی لیکن اس وقت اپنے سامنے بیٹھی مالا اس کو پریشان ہوتی برداشت نہیں تھی۔
” پریشان نا ہو اللہ بہتر کرے گا ، برتن اٹھا لو “
تقی نے مسکرا کر اس کی پریشانی کو کم کیا جو اب آنکھوں میں اداسی لیے بیٹھی تھی ۔ وہ تقی کے مسکرانے پر گہری سانس خارج کرتی برتن اٹھا کر باہر نکل گٸ ۔
برتن رکھنے کے بعد جب واپس آٸ تو تقی کپڑے بدل چکا تھا اور اب سر جھکاۓ قمیض کے بٹن بند کر رہا تھا۔
” تقی آپ کو کچھ دکھانا ہے “
اچانک الماری کا یاد آ جانے پر مالا چہکتے ہوۓ آگے بڑھی ، تقی اب اس کی طرف متوجہ تھا جو کتابوں کی الماری کو کھول رہی تھی ۔
الماری کے دونوں کواڑ کھول کر وہ اب مسکراتی ہوٸ مڑی اور داد طلب نگاہوں سے تقی کی طرف دیکھا۔ تقی نے آبرٶ اچکاۓ الماری کی طرف دیکھا جس کی مالا نے دنیا ہی بدل کر رکھ دی تھی ۔ صاف ستھری الماری اور سلیقے سے رکھی کتابیں وہ مسکرا دیا
” واہ ۔۔۔ واہ ۔۔۔۔ “
لبوں کو ستاٸشی انداز میں باہر نکالے ، مالا کی طرف بڑھا جس کی خوشی اب دیدنی تھی اور نچلے لب کو خوشی سے دانتوں میں دباۓ کھڑی تھی ۔
” میں نے صاف کی ہے آج “
مالا نے گردن اکڑا کر مسکراتے ہوۓ بتایا ، تقی اس کے اس بچکانہ انداز پر قہقہ لگانے پر مجبور ہوا
” ہممم ۔۔۔۔کام تو بہت بہترین کیا دس سال بعد میرے علاوہ کسی نے میری کتابوں کو اتنے حق سے صاف کیا جبکہ میں تو روز سوچ کر ہی رہ جاتا تھا “
تقی نے اسے اس کارنامے پر بھرپور داد دیتے ہوۓ کہا وہ جب سے لاہور سے واپس آیا تھا بہت دفعہ سوچ چکا تھا کہ الماری کو صاف کرے گا لیکن مصروفیت ایسی ہو جاتی تھی کہ وہ ارادہ بنا کر بھی ترک کر دیتا تھا ۔
” اچھا سنیں اب میں نے یہ سوچا ہے کہ یہ پلنگ ادھر سامنے دیوار کے ساتھ یوں ، اور میز کو اس کونے میں لگاٸیں گے “
مالا اب پرجوش لہجے میں بازو لمبا کیۓ اسے کمرے میں آنے والی تبدیلی سے آگاہ کر رہی تھی اور وہ ایک بازو کو سینے پر باندھے اور دوسرے کو کہنی کے بل اس پر ٹکاۓ اس کی ہاتھ کی انگلیوں کو لبوں پر رکھے محبت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔ جو اپنی دھن میں مگن بس اسے کمرے کی صفاٸ سے آگاہ کر رہی تھی ۔
مالا کو اچانک احساس ہوا تقی اسے صرف دیکھ رہا ہے سن نہیں رہا اور اس کی نگاہیں ایسی خماری لیے ہوۓ تھیں کہ وہ اچانک شرما کر چپ ہوٸ ۔ تقی نے اس کے متوجہ ہوتے ہی بازو سیدھے کیے اور مسکرا کر نگاہوں کا زوایہ بدلہ
” تھوڑی تعریف ہی کر دیں اتنی محنت کی آج میں نے انعام تو آپ دینے سے رہے “
مالا نے کمر کے پیچھے ہاتھ باندھے پھر سے نگاہ اٹھاٸ اور شریر سے لہجے میں کہا تو تقی نے مصنوعی گھور کر اس کی طرف قدم بڑھا دیے ۔
” تو ۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو انعام چاہیے ، اپنے ہی کمرے کی صفاٸ کرنے کے بعد واہ ۔۔۔یہ کیسا اصول ہوا “
تقی نے اس کے بلکل سامنے آکر کہا اور جھک کر اس کے ہاتھ کو تھام لیا ۔
” کمرے کی صفاٸ پر نہیں آپ کی اس کتابوں کے خزانے کی الماری کو صاف کرنے کا انعام ، کل آتے ہوۓ گلاب جامن لے کر آۓ گا “
مالا نے چہکتے ہوۓ جتانے کے ساتھ انعام بھی بتایا تو تقی بے ساختہ ہنس دیا ،
” گلاب جامن کے کی بچی ۔۔۔۔ انعام میں دوں گا تو ہو گا بھی میری مرضی کا ، نا کہ تمھاری مرضی کا “
تقی نے اس کے ناک کو مخصوص انداز میں پکڑ کر دبایا تھا جس کے باعث مالا نے تھوڑا سا منہ کھول کر تکلیف کو برداشت کیا اور پھر مصنوعی خفگی سے تقی کو گھورتے ہوۓ اپنی ناک کو سہلایا
” آپ کیا انعام دیں گے ؟ “
مالا نے خفا سے لہجے میں پوچھا ، وہ بھرپور انداز میں مسکرا دیا اور پھر آنکھوں میں شرارت چمکی
” میں ۔۔۔۔۔ “
تقی نے مسکراہٹ دباۓ اس کے کندھوں پر اپنے دونوں بازو دھر دیے ، مالا نے آبرٶ اوپر نیچے نچاتے ہوۓ اشارے سے پوچھا ، کیا۔۔۔ کیا۔۔۔۔
” میں تو کل والا انعام دینا چاہتا ہوں آج بھی “
تقی نے شریر سے لہجے میں کہتے ہوۓ اس کی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکاٸ ، مالا جھینپ گٸ اور مسکراہٹ پل بھر میں ہی ہوا ہوٸ
” وہ انعام ہے کوٸ ۔۔۔۔ “
پلکیں گراۓ ، آہستگی سے کہا ، تقی ہنوز سر جوڑے مسکرا رہا تھا ۔
” ہاں تو کیا نہیں ہے “
تقی نے مخمور سے لہجے میں مسکراتے ہوۓ اس کے سر کو ہلکا سا دھکا دیتے ہوۓ جواب دیا ۔
” اچھا ۔۔۔۔ جی ۔۔۔ کل وہ امتحان تھا اور آج رات انعام بن گیا “
مالا نے مسکراہٹ دباۓ شریر سے لہجے میں چھیڑا ، جبکہ نگاہیں ابھی بھی اٹھانے کی ہمت نہیں تھی ، تقی بے ساختہ کھلکھلا دیا پھر ہنسی پر قابو پاتے ہوۓ آہستگی سے اسے قریب کیا ۔
” ہاں ہر دفعہ اسے اپنے مطلب میں ڈھال لوں گا “
ہاتھ بڑھا کر مالا کے بالوں کی لٹ کو اس کے کانوں کے پیچھے کرتے ہوۓ سرگوشی کی تو وہ مسکراہٹ کو دباتے تسبیح گلال کی طرح مہک اٹھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: