Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 2

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 2

–**–**–

پل بھر میں ہی صحن اور اٹاری حویلی کے مکینوں سے بھر گٸ تھی جو اپنا کام دھندا چھوڑ کر اب صحن میں لگے تماشے کو تاک رہے تھے۔
رمنا اوپری زینے کے جنگلے کو تھامے ہوٸ تھی پاس ہی شمو کھڑی تھی ، تاری بوا باورچی خانے کا کواڑ تھامے باہر کو آ گٸ تھی جو اب چینی کے لگے ڈھیر کے اوپر سے چینی اٹھا اٹھا کر پھر سے ڈرم میں بھر رہی تھی ۔ خدیجہ بیگم اٹاری میں لگے تخت پر بیٹھیں تھیں جہاں پاس ہی بلقیس جو خدیجہ بیگم کے لیے پان لگا رہی تھی ، واحد غزالہ کو ترسی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔ اریب ، فرزانہ ، فرہاد اور منہا اٹاری کے ستون کے پاس کھڑے تھے۔
” چھوڑ تقی اس کی عقل ٹھکانے لگا دینے دے آج مجھے ، اس نے میری زندگی عذاب بنا رکھی ہے “
غزالہ سرخ چہرے کے ساتھ چیختی ہوٸ تقی کی گود میں پکڑی مالا کی طرف جھپٹی ۔
” ہوا کیا ہے ؟ بھٸ کیا کیا ہے اس نے ؟ کیوں سب اس معصوم جان کے پیچھے پڑے ہوتے ہو ہر دوسرے روز “
تقی نے غزالہ کے بازو کو ہاتھ آگے کیے روکا جو مالا پر جھپٹنے کو بڑھا تھا اور پھر مالا کو اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ سب کی طرف حیرت سے دیکھا ، وہ ننگے پاٶں سرخ اینٹوں والے صحن میں کھڑا تھا ۔
” معصوم جان۔ن۔ن۔ن ، اللہ رے توبہ ، یہ اگر معصوم جان ہے تو شیطان تو پھر منہ چھپا کر روتا ہو گا ، نیں ۔۔۔“
اریب نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوۓ سارے تماشے میں غزالہ کا خون جلانے کو اپنا حصہ ڈالا آخر کو نند ہونے کا حق ادا کرنا تھا ۔ غزالہ جو پہلے ہی لال بھبوکا ہوۓ کھڑی تھی بیٹی کی ایسی عزت افزاٸ پر اور جل بھن گٸ ۔
” تقی چھوڑ دیٶ اس چنڈال چوکڑی کی سردار کو ، آج چمڑی ادھیڑ دیوے اس کی اماں “
خدیجہ بیگم نے تخت سے ایک پاٶں نیچے اتار کر ہاتھ نچا کر تقی کو حکم صادر کیا اور پھر غصے سے منہ کا پان تھوک دان میں تھوکا ، چاندی کا تھوک دان جو ہر صبح چمکا کر خدیجہ بیگم کے تخت کے گاٶ تکیے کے بلکل پاس رکھا جاتا تھا اب پہلی پچکاری پر سرخ دھبوں سے رنگ گیا ۔
” چھوڑ تقی ۔۔۔۔چمڑی کیا اسکا تو آج گلا دبا کے میں قصہ ہی تمام کروں “
غزالہ لال بھبوکا خدیجہ بیگم کی بات پر تپاک سے آگے بڑھی ، آواز غم و غصہ میں کانپ رہی تھی ۔ ارد گرد کا سارا غصہ مالا پر ہی اتارنا تھا جس کی وجہ سے باتیں سننے کو ملتی تھیں ۔
” ہاں ۔۔۔ہاں ۔۔۔ دبا دیو ہمارے سر چڑھ کر ، بس بُدھی متی دیو اس کُتامہ کو “
خدیجہ نے پان چباتے ہوۓ کٹیلے لہجے میں پھر سے غزالہ کو سناٸیں جو بس اب تو رو دینے کو تھی آنکھوں کے کٹورے پانی سے چمکے اور پھر روتی ہوٸ تقی کے بازو سے مالا کو جھپٹنا چاہا
” چھوڑ دیں چچی ۔۔۔ بس کریں ، اب کوٸ پاس نہیں آۓ گا میرے “
تقی نے غزالہ کا ہاتھ جھٹکا اور پھر مالا کو ساتھ لگاۓ چند قدم پیچھے ہوا۔۔۔ کسی کو تقی کے اس جوش پر حیرت نہیں ہوٸ مالا اس کا پسندیدہ بچہ تھی جسے وہ بچپن سے ہی لاڈ کرتا آ رہا تھا ۔ مالا جیسے جیسے بڑی ہونے لگی آۓ دن حویلی میں کوٸ نا کوٸ ہنگامہ برپا ہونے لگا اور پھر جس دن تقی گھر پر ہوتا تو یونہی بیچ میں ٹپک کر اسے مار سے بچا لیتا تھا۔
” تقی ۔۔۔ مجھے اپے کمرے میں لے جاٶ ۔۔۔“
مالا نے ہچکیاں لیتے ہوۓ تقی سے فرماٸش کی ، ایک ہاتھ کی پشت کو مٹی اور چینی سے آٹی گال پر رکھے آنسو پونچھا۔
” لو ۔۔۔ سن لو اور۔۔۔۔۔۔چھٹانک بھر کی لڑکی کی ، اتنے برس بڑے کو تقی۔۔۔ تقی لگے ہے منہ پھاڑ کر ، یہ بُدھی یہ تمیز دیوے ہے لڑکی کو “
خدیجہ نے مالا کے یوں تقی کہنے پر منہ پر ہاتھ رکھے تاسف اور غصے سے کہا اور غزالہ کو گھورا ، غزالہ نے داٸیں دیکھا نا باٸیں اور آگے بڑھ کر مالا کے گال پر چماٹ جڑ دیا ، چٹاخ کی آواز ابھری
” بول بھاٸ ۔۔۔ منحوس کہیں کی سو خبیثوں کی ایک روح سماٸ ہے تجھے میں “
غزالہ کی آواز رونے کی وجہ سے بھاری ہو رہی تھی ، مالا اتنی زور کے چماٹ پر بلبلا اٹھی اور پھر سے گلا پھاڑ کر رونے لگی ، تقی نے فوراً پیچھے ہو کر روتی ہوٸ مالا کو ساتھ لگاۓ اس کے چہرے کا رُخ پیچھے کی جانب موڑ دیا ۔
” ہٹیں ۔۔۔ ہٹیں سب میں سمجھا دوں گا اس کو “
تقی سب کے درمیان سے نکلتا تیزی سے برانڈے کے زینے چڑھتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ، باقی سب کی نگاہوں نے دونوں کو کمرے تک پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیا۔
”بھٸ مانو نا مانو ۔۔ تقی نے بگاڑ رکھی ہے ، اور وہ بے شرم ہے کہ ایسی تقی تقی ۔۔۔ لو بھلا پوچھو “
اریب نے ناک چڑھا کر ہاتھ ہوا میں کرتے ہوۓ جلا کٹا جملہ اچھالا اور تخت پر جا کر خدیجہ بیگم کے برابر براجمان ہوٸ ، جو پہلے ہی ہوا میں سر مارتی بڑ بڑا رہی تھیں ۔
باقی سب بھی غزالہ کے بجاۓ آہستہ آہستہ کونوں کھدروں میں گھسنے لگے ۔ اب فوارے سے کچھ دور وہ ہی رونی صورت بناۓ کھڑی تھی ، سکینہ جو رملہ کو اپنی کمر پر اٹھاۓ کھڑی تھی آگے بڑھی اور پھر رملہ کو غزالہ کی طرف بڑھا دیا جس نے آنسو پونچھے رملہ کو تھاما اور اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھا دیے ۔
تقی نے اپنے کمرے میں جا کر ہچکیوں کی صورت روتی مالا کو پلنگ پر بیٹھایا اور خود دو زانو اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔
”مالا ۔۔۔ مالا چپ ۔۔بلکل چپ ۔۔ اچھا میری طرف دیکھو “
تقی نے پیار سے اس کے دونوں بازو تھامے ، وہ مٹھیاں آنکھوں پر رکھے ان سے آنکھوں کو مسلتے ہوۓ ریں ریں روۓ چلے جا رہی تھی ۔
تقی نے ہاتھ ہٹاۓ اور محبت سے اس کے معصوم سے چہرے کو ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا جہاں جگہ جگہ برساتی کی مٹی ، چینی اور آنکھوں سے بہہ جانے والے کاجل کے نشان تھے ۔
” گڑیا ۔۔۔میٹھی چیزیں کھاتے ہیں ، چینی نہیں ، جیسے کہ پتاشے ، مٹھاٸ ، اچھا چلو ایک وعدہ کرو اب سے چینی کو ہاتھ نہیں لگاٶ گی میں تمہارے لیے شہر سے مٹھاٸ لا یا کروں گا “
تقی نے اسے پچکارا اور اپنے انگوٹھے سے اس کے ننھے گال صاف کیے جس کی ہچکیوں میں اب ٹھہراٶ آ گیا تھا ۔
” وعدہ ۔۔۔ چلو پھر اب پتاشے لینے چلیں “
مالا نے چہک کر فوراً کہا اور پھر پلنگ سے نیچے فرش پر چھلانگ لگا دی ، تقی اس کے یوں اچانک پاسا پلٹ لینے پر خفیف سا قہقہ لگا گیا اور پھر سر ہلاتے ہوۓ اس کا ہاتھ تھاما اور پاس کی ہی ہٹی پر چل دیا ۔
**********
حاکم قصر کے صحن کے ایک طرف وضو کے لیے بناۓ گۓ پانچ نل تھے جن کے سامنے پتھر کی چوکیاں بناٸ گٸ تھیں اور وہیں ایک طرف لمبی قطار میں تین غسل خانے تھے ۔ بہت عرصے تک تو گاٶں کے لوگ حاجت کے لیے کھیتوں میں جاتے تھے لیکن اب بیت الخلا ہر گھر میں موجود تھا ۔ حاکم قصر میں بھی صحن سے دوری پچھلے صحن میں تین بیت الخلا بناۓ گۓ تھے جو مرد حضرات کے لیے تھے جبکہ عورتوں کے لیے یہیں غسل خانوں کے ایک طرف ایک بیت الخلا تھا ۔
غسل خانے کی نل سے پانی پوری رفتار سے نیچے پڑی تانبے کی بالٹی میں گر رہا تھا ۔ چھوٹی سی لکڑی کی چوکی پر غزالہ بیٹھی تھی اور سامنے سہمی سی مالا کھڑی تھی صبح کے تماشے کے بعد اب شام کو وہ غزالہ کے ہاتھ آٸ تھی جسے وہ غسل دینے کے بہانے یہاں لے آٸ تھی۔
” بتا مجھے اب سے چینی کھاۓ گی ، صندوقچی میں ہاتھ ڈالے گی “
غزالہ نے اس کے ننھے سے دونوں ہاتھوں کو اپنے ایک ہاتھ میں دبوچ رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے گال پر طمانچے مار رہی تھی۔
” نہیں ۔۔۔۔اما۔۔ں۔ں۔ں “
مالا نے ہچکیوں میں روتے ہوۓ نفی میں سر ہلایا
” تقی بھاٸ بولا کر ، پھر تقی کہے گی “
غزالہ نے ہاتھوں سے جھنجوڑ کر ایک اور طمانچہ اس کی گال پر رسید کیا ، وہ بلبلہ اٹھی
” نہیں ۔۔۔۔ام۔۔ام۔۔۔ماں ۔ں۔ں۔“
ہچکیوں میں جملے کا ربط بھی نہیں رہا تھا
” چل بول کے دکھا اب تقی بھاٸ ۔۔۔ “
غزالہ نے گھورتے ہوۓ کہا
” ت۔۔ت۔۔تقی۔۔ ب۔۔بھ۔۔بھا۔۔بھاٸ “
مالا نے ہچکیوں میں غزالہ کے کہے الفاظ دہراۓ غزالہ نے اس کا بازو کھینچ کر اسے اپنے سینے سے لگایا ۔ وہ سسکتے ہوۓ ماں کے ساتھ لگ کر اور رو دی ۔
” چل اب چپ کر ۔۔۔، شہزادی میری ۔۔۔ “
غزالہ نے اس کے ہلتے جسم کو خود سے لگا کے اس کے سر پر بوسہ دیا ، اسے خود سے الگ کیا ، سر کو سہلایا اور منہ کو دیوانہ وار بوسے دیے پھر اس کے طمانچوں سے سرخ ہوتے چہرے کو اپنی ہتھیلیوں میں لیا
” آج میں سوجی کا حلوہ بنا کر دوں گی اپنی گڑیا کو کھاۓ گی نا ؟“
غزالہ نے محبت سے پچکارتے ہوۓ کہا ، مالا کے روتے چہرے پر ایکدم سے رونق آ گٸ زور زور سے سر کو اثبات میں ہلایا ، جب کے گال پر اب بھی ننھے سے آنسو چمک رہے تھے ۔
” اماں اس میں انڈے بھی ڈالنا “
فوراً مار بھول کر چہکتے ہوۓ فرماٸش کر ڈالی ، غزالہ بے ساختہ مسکرا دی
” ڈنڈے نا کھلاٶں تجھے “
غزالہ نے محبت سے اس کے کانوں کو مڑوڑتے ہوۓ کہا اور پھر کھلکھلا کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔
**********
پھاٹک کے آگے روش کو عبور کرتے ہی منیر نے کندھے پر سے منڈاسا اتار ، دوپہر اب شام میں بدل رہی تھی ، چکی کی کو کو کی آوز سُریلا سا راگ آلاپ رہی تھی ۔
منیر ایک ہاتھ میں پھیلک تھامے اب صحن کے فوارے کے پاس پہنچ گیا تھا جہاں اٹاری میں لگے تخت پر بیٹھی حقے کے کش لگاتی خدیجہ بیگم اسے دیکھ کر مسکرا دیں ۔
منیر احمد ، اریب کے شوہر تھے اگرچہ اریب بیگم ، نقیب حاکم سے چھوٹی تھیں پر شادی ان کی نقیب سے پہلے ہوٸ تھی ۔ منیر چھوٹا موٹا بیوپار کرتا تھا پھر رشتہ ہونے کے بعد وہ چوہدری حاکم کے ساتھ مل کر بیوپار کرنے لگا ، جس میں وہ گاٶں سے کھیس اور مٹی کے برتن لے کر شہر جاتا تھا اور پھر دو ، تین دن وہیں لگ جاتے تھے ، اریب کو یوں بچوں کے ساتھ چھوڑنا بہتر نا گردانتے ہوۓ وہ اریب کے ساتھ خود بھی حویلی میں ہی رہاٸیش پزیر ہو گیا تھا ، اسطرح اب وہ آرام سے کچھ دن شہر کاٹ آتا تھا ۔
منیر دہلیز کے زینے چڑھتا سیدھا خدیجہ بیگم کی طرف بڑھا ، آتے ہی پھیلک ایک طرف تخت پر رکھا ۔ پھیلک کھجور کے سوکھے پتوں سے تیار کیا گیا تھیلا تھا جس میں سازو سامان رکھا جاتا تھا ۔
” آداب بی جی ۔۔۔۔ “
منیر نے خدیجہ کے آگے سر جھکایا ، خدیجہ بیگم نے حقے کی نلی کو ایک طرف کیے اس کے سر پر پیار دیا ۔
” جُگ جُگ جیو پُتر ۔۔۔ اریب ۔۔۔اریب ۔۔۔۔ منیر میاں آۓ ہیں ، لسی کا پیالہ بھر کے لاٸیو “
خدیجہ نے دعا دی اور ساتھ ہی اپنی بیٹی کو بھی ہانک لگاٸ ۔ منیر اب پاس رکھی لکڑی کی کرسی پر بیٹھ رہا تھا ۔ گرمی کا دور ابھی بس شروع ہی ہوا تھا ، رات کو ہلکے پنکھے چلنے لگے تھے اور چاٹی کی لسی کا دور شروع ہو چکا تھا ۔
صبح ہی لسی کو بنا کر چاٹی میں ڈال کر باورچی خانے کے باہر پانی کے مٹکوں کے پاس رکھ دیا جاتا تھا جہاں سے جس کا دل چاہتا لسی پیتا اور جس کا دل چاہتا پانی پیتا ۔
” اور منیر میاں کیسا جا رہا ہے بیوپار اس دفعہ تو ہفتہ ہی لگا دیا شہر میں “
خدیجہ بیگم نے حقے کی نلی کو منہ میں ڈالے کش لگایا اور سوالیہ نگاہیں منیر پر گاڑ دیں جو منڈاسے سے اب اپنے کندھوں کو جھاڑ رہا تھا
” بی جی اس دفعہ سامان زیادہ لے گیا تھا ، اس لیے دن زیادہ لگ گۓ ، لُڈن میاں کے ہاتھ پیغام بھجوایا تھا ، وہ ایسا ہی بھلکڑ ہے بتانے نہیں آیا ہو گا “
منیر نے بھنویں اچکاۓ تشویش ظاہر کی اور لڈن کے ہاتھ پیغام بھجوانے کا بتایا جو حویلی کا خاص الخاص ملازم تھا وہ سیدھا سا تھا اس لیے اسے حویلی کے اندر آنے کی اجازت تھی البتہ مسواۓ خدیجہ بیگم کے سب پردے کی غرض سے کمروں میں چلی جاتی تھیں ، اریب سر پر دوپٹہ درست کرتی شرماٸ سے لسی سے بھرا بڑا سا پیتل کا گلاس تھامے ، اٹاری کے زینے چڑھی
” اسلام علیکم ۔۔۔“
محبت سے منیر کو سلام کیا اور گلاس اس کی طرف بڑھا دیا منیر نے گلاس تھاما اور مڑ کر پاس پڑے پھیلک کو اریب کی طرف بڑھایا
” اس میں ایک جوڑا بی جی کا بھی ہے ، مَنٹن کے جوڑے لایا ہوں “
منیر نے آبرٶ چڑھاۓ غرور سے بتایا اور پھر گردن اکڑاۓ خدیجہ بیگم کی طرف دیکھا ، منٹن کپڑا نیا آیا تھا اور اس وقت کا قیمیتی کپڑا تھا ۔ خدیجہ بیگم کی آنکھیں تو چمک اٹھیں ۔
” ارے۔۔۔۔ متی کیا کرو لال یہ سب ۔۔۔ جُگ جُگ جیو ، پھولو پھلو “
خدیجہ بیگم تو پھولے نا سماٸیں اور پاس بیٹھے اپنے داماد کی بلاٸیں اتار لیں ۔ جبکہ اریب اب آنکھیں گھماتی پھیلک کے اندر جھانک رہی تھی ۔ خدیجہ کے اشارہ کرنے پر کمرے کی طرف بڑھ گٸ ۔
*********
تقی سر جھکاۓ کچھ لکھنے میں مصروف تھا جب کمرے کے کواڑ پر ہلکی سی دستک ہوٸ اور اس کے سر اٹھانے سے پہلے ہی فرزانہ مسکراتی ہوٸ کمرے میں داخل ہوٸ ۔
دونوں ہاتھوں کو پیچھے کمر کی طرف کیے اب وہ تقی کے میز کے پاس آٸ تھی ۔
” پڑھاٸ کر رہا ہے میرا ویر “
محبت سے اس کی کتاب کی طرف دیکھتے ہوۓ بے تکا سا سوال پوچھا ، جس پر تقی نے گہری سانس لے کر کتاب بند کر دی ۔ فرازنہ اس سے دو سال بڑی تھی اور ہمیشہ سے اس سے چھوٹے بھاٸیوں کی طرح محبت کرتی تھی اس کی عادتیں اپنی والدہ اریب سے یکسر مختلف تھیں ۔
” جی آپا پڑھ رہا تھا ، آٸیں آپ کھڑی کیوں ہو گٸیں وہاں ، بیٹھیں “
تقی فوراً سیدھا ہوا اور اشارہ میز کے پاس پڑی کرسی کی طرف کیا ۔ شام کے چھ بج رہے تھے اور حویلی کے مکین اب سونے کی تیاریوں میں تھے ۔ صبح اٹھ جانے والے چھوٹے نقی اور رملا تو کب کے سو بھی چکے تھے ۔
” بس بیٹھنا نہیں ہے ، ایک کام تھا تجھ سے “
فرزانہ نے ہاتھ گھما کر آگے کیۓ اور سکوں سے بھری مٹھی کھولی اور کل پانچ روپے کے سکے لکڑی کی کے میز پر تقی کے سامنے ٹک ٹک کی آواز سے ڈھیر کر دیے ۔ جن کو دیکھتے ہی تقی مسکرا دیا ۔
” آپا تبت کریم ختم ہو گٸ ہے نا ؟“
تقی نے شرارت سے لب بھینچے سوال کیا ، فرزانہ نے جلدی سے لبوں پر انگلی رکھے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔
” ہاں اور کل یاد سے شہر سے لوٹتے ہوۓ لے کر آنا “
فرزانہ نے مسکراتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا اور انگلی کو لبوں سے ہٹا کر ہوا میں ہلاتے ہوۓ اسے تنبیہہ کی
” آپا آپ کی یہ لاڈلی تبت اب سے سات روپے کی ہو گٸ ہے لگتا ہے آپ اب اخبار نہیں پڑھتی ہیں “
تقی نے سکے گنتے ہوۓ بھنویں اٹھا کر فرزانہ کو تبت کریم کے مہنگے ہونے کی خبر سناٸ
” ارے ۔۔۔ باپ رے ۔۔۔ اتنی مہنگی کب سے ہو گٸ ، دیکھو تو پکڑ کر پورے دو روپے مہنگی کر دی کمبختوں نے “
فرزانہ کی تو حیرت کی انتہا نا رہی منہ اور آنکھیں دونوں ہی کھل گٸیں ، اور ہاتھ کو توبہ کرنے کے انداز میں کانوں سے لگایا
” تقی ابھی اس مہینے کی خرچی سے تو بس پانچ روپے ہی بچے ہیں میرے پاس ، دو روپے مجھے ادھار دے دے اگلے مہینے چکا دوں گی “
فرزانہ نے انگلی منہ میں دباۓ منت کی ، اس کی شادی کے دن قریب آنے والے تھے اور اسی لیے وہ دن رات اپنے رنگ و روپ کو سنوارنے میں لگی تھی ۔
” ارے آپا میں تو مزاق کر رہا تھا آپ سے اور یہ رکھیں اپنے پانچ بھی ، کل تبت آ جاۓ گی آپ کی “
تقی نے لب بھینچے سکے میز پر سے اکٹھے کیے اور فرازنہ کی طرف بڑھا دیے ، فرازنہ کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔
” ہاۓ ۔۔۔ میرا ویر ۔۔۔ اپنی شادی کے بعد بھی تیرے کُرتے کاڑھ کاڑھ بھیجوں گی “
فرزانہ نے ہاتھ ماتھے پر لے جا کر تقی کی بلاٸیں لیں ، تقی اس کے ایسے خوش ہو جانے پر بے ساختہ ہنس دیا ۔
” نہیں آپا حسن میاں ناراض ہو جاٸیں گے “
تقی نے شرارت سے آنکھیں نچاٸیں ، وہ ایسا مزاق بہت کم کرتا تھا ہاں پر فرزانہ سے اکثر کر جاتا تھا
” چل ہٹ ۔۔۔ بے شرم کہیں کا ، ان کا ذکر یہاں کہاں سے آ گیا “
فرزانہ تو ایک پل میں گلنار ہو گٸ دوپٹے کے پلو کو منہ میں دباۓ تقی کے کندھے پر زور کی چپت لگاٸ ، حسن ، فرزانہ کا پھپھو زاد تھا جس سے بچپن میں ہی فرزانہ کی نسبت طے ہو گٸ تھی اور اب جب وہ اکیس کی ہو گٸ تھی تو شادی کو بہت دیر سمجھی جا رہی تھی۔
” بڑا آیا مجھ سے چھیڑ خانی کرنے والا ۔۔۔تو بتا نا ذرا ۔۔۔؟ رمنا کو بھی لا کر دیتا ہے نا تبت کریم “
فرزانہ نے جھٹ توپوں کا رخ تقی کی طرف کرنا چاہا
” آپا اسکو تبت کی ضرورت کہاں ۔۔۔ “
تقی نے جھینپ جانے کے بجاۓ پر اعتماد انداز میں مسکراتے ہوۓ کہا تو فرزانہ کا منہ کھل گیا اور آنکھیں سکڑ گٸیں
” آۓ ۔۔۔۔ہاۓ ۔۔۔ بڑا ہی کوٸ میسنا ہےتو قسم سے اوپر سے کیسا کڑک بنا پھرتا ہے “
فرزانہ نے اس کے کندھے پر چٹکی کاٹ کے ہنستے ہوۓ کہا تو جواباً وہ بھی کھلکھلا دیا ۔ وہ لاکھ سنجیدہ مزاج اور سخت تھا پر رمنا کا دلکش سراپا اور معصوم سے لب و لہجہ کی وجہ سے وہ اپنے دل کے نرم گوشوں میں اس کے لیے جذبات رکھتا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: