Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 20

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 20

–**–**–

سرمٸ شام حاکم قصر کے پورے صحن کو چھاٶں کی لیپٹ میں لے چکی تھی ، اب چھت پر لگے پنکھے پوری رفتار سے چلنے لگے تھے اور تندور کے پاس بنے کچی مٹی کے بڑے سے چولہے کے اوپر پڑے بڑے سے پتیلے کو اتار لیا گیا تھا جس میں نہانے کے لیے پانی گرم کیا جاتا تھا ، دن لمبے ہو گۓ تھے شام سے ہی صحن اور اٹاری میں ہلچل سی شروع ہو جاتی تھی ۔
آج بھی روز کی طرح عصر کی نماز کے بعد سے ہی رات کی کھانے کا اہتتام شروع ہو چکا تھا ، باورچی خانہ کے بلکل پاس مٹی کے بنے چولہے پر جہاں ایک طرف گوشت کا سالن چڑھا ہوا تھا تو دوسری طرف ایک مٹی کی ہانڈی میں یخنی ابل رہی تھی جس کے بلکل قریب بیٹھی بلقیس تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد اس میں چمچ ہلا رہی تھی ۔ اور دوسرے چولہے کے پاس غزالہ سالن کے نیچے چولہے میں لکڑیاں اب کم کر رہی تھی ۔ سالن کی اشتہا انگیز خوشبو بتا رہی تھی کہ بکرے کا گوشت آج بھی بہت لذیز بنا ہے
تاری بوا تندور کو تپا رہی تھیں تو ایک طرف چھوٹی چوکی پر بیٹھی سکینہ مٹی کی پرات میں آٹا گوندھ رہی تھی ، بلقیس نے پیالے میں یخنی کو انڈیلا اور بھاپ اڑاتا پیالہ سٹیل کی ٹرے میں سجایا ٹرے کو اٹھایا أور پھر اٹاری کی طرف چل دی ۔
منہا آج دوپہر کو ہی تہی بطن حویلی لوٹ آٸ تھی اس کی حالت ابھی بھی ناتواں تھی ، بلقیس نے اٹاری کے زینے چڑھ کر اس کے اور فرہاد کے کمرے کا رخ کیا ، اس کے کمرے کے کواڑ کے آگے لگے ململ کے سفید پردے کو سرکایا اور آگے بڑھ گٸ وہ بے سدھ زرد چہرہ لیے پلنگ پر چت لیٹی تھی ۔ لکڑی کے چمکتے فرنیچر پر دو دن سے جھاڑ پونجھ نا ہونے کی وجہ سے گرد کی ہلکی سی تہہ جمی اپنے ملکان کی لاپرواہی کا رونا رو رہی تھی ، منہا اپنے کمرے کی جھاڑ پونچھ سکینہ کو نہیں کرنے دیتی تھی ۔ ایک طرف درمیانی ساٸز کی ٹوکری پڑی تھی جس میں سیب ، انار، کیلے جیسے مخلتف پھل سجے تھے ۔
” منہا اٹھو ۔۔۔ “
بلقیس نے یخنی سے بھری پیالی پلنگ کے اطراف میں لگے چھوٹے سے میز پر دھرتے ہوۓ منہا کو پکارا ، منہا نے آہستگی سے بوجھل آنکھیں کھول کر بلقیس کی طرف دیکھا جو اب اس کے قریب پلنگ پر بیٹھ رہی تھی ۔
” اماں کیوں لے آٸ کہا تو تھا ابھی سونا ہے مجھے ابھی کچھ کھانے کو دل نہیں میرا “
منہا نے بیزاریت سے ناک سکوڑی ، بلقیس نے ان سنی کرتے ہوۓ اس کے قریب ہو کر اس کی کمر کے گرد اپنا بازو حاٸل کیا
” روٹی نہیں ڈالی یخنی کے اندر ، بس صرف یخنی ہے اٹھ جا پی لے بہت کمزوری ہے پھر دوا لینی ہے “
بلقیس اب زبردستی اسے اٹھاتے ہوۓ اس کی پشت کے پیچھے تکیے لگا رہی تھی ، منہا ناگوار سی صورت بناۓ تکیوں سے پشت ٹکاۓ اوپر کو سرکتی ہوٸ اٹھ بیٹھی ۔ بلقیس نے ٹرے اس کے سامنے رکھی ، اور پھر بغور اس کا چہرہ دیکھا جو اب بدمزہ سی صورت بناۓ یخنی کو تاک رہی تھی ۔
” منہا ۔۔۔ جو ڈاکٹر تجھ سے کہہ رہی تھی وہاں ہسپتال میں ، اس نے تقی کو بھی بتایا ہے “
بلقیس نے آہستگی سے کہا ، منہا نے چونک کر اوپر دیکھا، چمچ بمشکل منہ کے اندر گیا تھا لب بھینچ کر یخنی کو حلق میں اتارا
” اماں مجھے ڈاکٹر کی بات میں کوٸ سچاٸ نہیں لگی مجھے کسی نے کچھ نہیں کھلایا اور میں خود کھاتی پیتی ہوں سب ایسے ہی وہم مت پال “
منہا نے تسلی سے جواب دیا ، اور نگاہیں جھکا کر پھر سے پیالے پر جماٸیں چمچ سے یخنی کو دھیرے سے ہلایا
” ڈاکٹر تجھ سے زیادہ جانتی ہے ، مجھے تو بہت فکر ہے دل ہولاۓ جا رہا ہے تب سے جب سے ڈاکٹر کی یہ بات سنی ہے ایک تو تیری پھپھو بھی تیرے ساتھ کھچی کھچی ۔۔۔“
بلقیس بات کو ادھورا چھوڑ کر اب کمرے کے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی ، جب سے ڈاکٹر نے منہا کے تہی بطن ہونے کا جواز کسی دوا کو بتایا تھا تب سے بلقیس کا سوچ سوچ کر برا حال تھا ، دل میں اریب کو لے کر عجیب وسوسے پیدا ہو گۓ تھے وہ تو اریب کی نفرت کو عام ساس کی نفرت کی طرح گردانتی تھی لیکن یہاں تو معاملہ بہت سنگین نکلا تھا ۔ جس دن منہا کی طبیعت خراب ہوٸ تھی فرہاد کاروبار کے سلسلے میں شہر سے دور تھا اسی لیے بلقیس کا شک صرف اور صرف اریب پر جاتا تھا ۔
” اماں کچھ نہیں کیا پھپھو نے ، آپ چھوڑ دیں اس بات کو ، بلاوجہ کا شک کریں گے ہم وہ تو پہلے ہی پریشان ہیں پھپھا کی حرکتوں پر “
منہا نے تیوری چڑھاۓ اپنی ماں کو سمجھایا جو پریشان صورت لیے بیٹھی تھیں ۔ بس فکر اس بات کی تھی کہ وہ تو اس بات کو چھوڑ ہی دے گی لیکن تقی جو ڈاکٹر کے ساتھ مل کر اس بات کی تہہ میں پہنچنا چاہ رہا تھا وہ کیا کرے گا ۔ بقلیس کھوٸ سی بیٹھی تھی جب منہا کی پریشان سی آواز پر چونکی ۔
” اماں مجھے بہت ڈر لگنے لگا ہے ، کہیں فرہاد بھی منیر پھپھا جیسا نکلا تو ؟ “
منہا نے بھنویں اچکاۓ بلقیس سے سوال کیا ، بلقیس نے خفگی سے دیکھا ، شادی کو تین ماہ سے اوپر ہو گۓ تھے لیکن آج بھی وہ منہا کے دل میں فرہاد کے لیے وہ محبت نہیں دیکھ پا رہی تھی جب کے اس کے برعکس وہ مالا کو تقی کے نام پر ہی گلال ہوتا دیکھ کر اس کے بارے میں ضرور سوچتی تھیں حالانکہ فرہاد ، تقی سے زیادہ محبت کرنے والا اور آگے پیچھے پھرنے والا شوہر ثابت ہوا تھا۔
اور اب منہا کی بات ان کو حد درجہ ناگوار گزری تھی ۔
” چپ ۔۔۔ کیسی باتیں کر رہی ہے اللہ نا کرے فرہاد ایسا ہو ، وہ تو اتنی محبت کرتا ہے تم سے “
بلقیس نے غصے سے گھور کر جواب دیا ، پر اس کے چہرے پر فقط بے یقینی تھی اور وہ اپنے اندر اٹھتے وہم کو بلقیس سے بیان کیے بنا نہیں رہ سکی تھی ۔
” اماں محبت تو منیر پھپھا بھی پھپھو سے بہت کرتے تھے میں نے تو سنا ہے خون کا بہت اثر ہوتا ہے ایسا نا ہو فرہاد کے خون میں بھی بے وفاٸ کے جراثیم ہوں “
منہا نے کھوۓ سے لہجے میں کہا ، بلقیس نے گڑبڑا کر دروازے کی طرف دیکھا
” مجھے نہیں سمجھ آتی یہ تیری اتنی مشکل باتیں میں نے اسی لیے تقی سے کہا تھا کہ تمہیں بارہ جماعتیں نا پڑھاۓ دماغ اونچا ہو گیا ہے تیرا اور کچھ نہیں ، فرہاد کیسے آگے پیچھے پھرتا ہے اور اب بھی تم سے زیادہ دکھ اس کے چہرے پر ہے اولاد کو کھو دینے کا “
بلقیس نے غصے میں نا صرف اس کی بات کو رد کیا تھا بلکہ اسے جھاڑ کر رکھ دیا تھا ۔
” اماں اس کو اس بچے کی اتنی فکر ہے جو ابھی دنیا میں آیا بھی نہیں تھا لیکن دیکھا نہیں اس بات میں تقی کا کوٸ ساتھ نہیں دے رہا منیر پھپھا سے کہیں مت کرے اس عورت پر اتنا ظلم بس اسے الگ گھر میں رکھے اور بچے اس کے ساتھ رہنے دے “
منہا نے نے غصے سے پھولی سانس کے ساتھ پوری بات کہی ، منیر نے جیسے ہی رانی کو طلاق دی تھی وہ پتا نہیں اپنے کہاں سے اثر رسوخ سامنے لے آٸ تھی اور بضد تھی کہ بیٹی وہ اپنے ساتھ لے کر جاۓ گی جو منیر ہر گز نہیں چاہتا تھا ، حاکم چوہدری جس معاملے کو اتنا آسان سمجھے تھے وہ اتنا آسان ہر گز نہیں تھا ، عدالتوں کی چکر لگ رہے تھے اور اب منہا بھی اس معاملے میں تقی کے ساتھ تھی کہ اس عورت کو طلاق نا دی جاۓ بلکہ بچے اور اس کو الگ رکھا جاۓ ۔
” تو چپ کر جا یہ بڑوں کے فیصلے ہیں ، پہلے تقی کی وجہ سے باتیں سننے کو ملتی ہیں تیرے ابا سے مجھے اور اب تو شروع ہو جا “
بلقیس نے ڈپٹ کر اسے پھر سے چپ کروا دیا جو اب چہرے پر ناگواری رقم کیے بلقیس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” بڑوں کے فیصلے بڑوں کے فیصلے ۔۔۔ اماں کب یہ بدلے گا یہ سب “
منہا نے حد درجہ روکھے پن سے کہا اور آدھی بھری پیالی کو ٹرے سمیت پلنگ کے ساتھ پڑے میز پر رکھ دیا ۔
” تیرے پاس ان باتوں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا بس ، فرہاد یہ فروٹ کا ٹوکرا بھر کر تیرے لیے ہی رکھ گیا ہے ، ٹھونس لے کچھ ۔۔۔ تو جان بنے “
بلقیس نے ناگواری سے اس کی بات کا جواب دیا اور ٹرے اٹھا کر کمرے کے دروازے کی طرف بڑھ گٸ جب کے منہا تکلیف سے ناک اور لب چڑھاتی اب لیٹنے کی کوشش میں تھی ۔
*******
سجاد رفیق ہسپتال سفید رنگ کا بڑا سا بورڈ دیوار پر اور لوہے کے بنے گیٹ کے اوپری طرف آویزاں تھا ۔
گیٹ کو اور پوری عمارت کو سفید رنگ کا روغن تھا اور گیٹ سے آگے لمبی راہداری کے اردگرد بڑے بڑے سبز گھاس کے میدان تھے ، جس کے اطراف میں لمبے لمبے سفید سیمل کے درخت گیٹ سے لے کر راہداری کے آخر تک جاتے تھے ، جہاں بہت سے لوگ بیٹھے اور نیم دراز تھے ، راہداری سے گزرتے ہی سامنے وسیع و عریض عمارت دنیا پور کے سب سے بڑے ہسپتال کی عمارت تھی ، یہاں ارد گرد کے گاٶں اور قصبوں سے لوگ علاج کے لیے آتے تھے ۔
تقی کی تقرری یہیں پر ہوٸ تھی وہ یہاں دن کی شفٹ میں ڈاکٹری کے فراٸض سر انجام دیتا تھا اور پھر شام کو گاٶں کے کلینک میں بھی بیٹھتا تھا جو ابھی زیر تعمیر ہسپتال تھا جہاں وہ مفت گاٶں کے لوگوں کا علاج کر رہا تھا ۔
اس ہسپتال کی لیبارٹری اتنی جدید نہیں تھی جہاں اس وقت تقی سیفد کوٹ زیب تن کیے پیشانی پر شکن سجاۓ کھڑا تھا ، ایک طرف چالیس سال کے لگ بھگ خاتون بھی اسی طرز کا سفید کوٹ پہنے کھڑی تھیں یہ تنگ سی لیبارٹری میں ایک کرسی میز لگاۓ لڑکا بیٹھا تھا جس کے آگے مختلف بند چھوٹی بڑی شیشاں اور ٹیوبز ترتیب سے پڑی تھیں اس کے بلکل پیچھے ایک لکڑی کی بڑی سی الماری تھی جس میں مختلف قسم کے آلات ٹیسٹوں کے لیے رکھے گۓ تھے ۔ لڑکے نے سفید کاغذ پر تیار کردہ رپورٹ اور خون کے نمونے جو ایک بند شیشے کی چھوٹی سی بند ٹیوب نما بوتل میں موجود تھے تقی کی طرف بڑھاۓ ، تقی نے فاٸل کو پکڑ کر بغل میں لیا اور شیشے کی بنی ٹیوب کو آنکھوں کے آگے کیا ، جس کے تہاٸ حصے میں خون تھا ۔
” مجھے دکھاٸیں ذرا “
ڈاکٹر تسنیم نے چشمہ درست کرتے ہوۓ تقی کی طرف دیکھا ، تقی نے فوراً فاٸل کو ہاتھ میں منتقل کیا ، ڈاکٹر تسنیم نے تقی کے ہاتھ سے رپورٹ کو پکڑا چشمہ نیچے گراۓ بغور رپورٹ پر نگاہ دوڑاٸ اور پھر رپورٹ بند کرتے ہوۓ تقی کی طرف دیکھا ۔
” ڈاکٹر تقی آپ اس خون کے نمونے کو اچھی لیبارٹری سے بھی ٹیسٹ کرواٸیے ، میں یہاں کے نتاٸج سے مطمٸین نہیں ہوں “
ڈاکٹر تسنیم نے گہری سانس خارج کرتے ہوۓ رپورٹ تقی کو واپس پکڑاٸ اور اپنے کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے چہرہ اوپر کیا ،تقی ہنوز پریشان حال کھڑا تھا ، کیونکہ ڈاکٹر تسنیم کی بات عجیب و غریب تھی ان کے مطابق منہا کا حمل زاٸل ہونے کے وجہ کوٸ ایسی دوا تھی جو اسے کھلاٸ گٸ تھی اور اسی بات کے پیش نظر منہا کے خون کے نمونے لیے گۓ تھے جن کے نتاٸیج شاٸد یہاں لیبارٹری سے درست نہیں نکلے تھے ۔ اور اب ڈاکٹر تسنیم ان نمونوں کو لاہور یا کراچی بھیجنے کا مشورہ دے رہی تھیں ۔
” ہممم چلیں میں دیکھتا ہوں اپنے دوست کو بھجواتا ہوں یہ سمپل بہت مشکور ہوں آپ کا جو آپ نے میری بہن کا معاٸینہ اتنی گہراٸ سے کیا “
تقی نے مسکرا کر تشکر آمیز نگاہوں سے ڈاکٹر تسنیم کو دیکھا جن کا تجربہ ہی اتنا زیادہ تھا کہ انہوں نے نا صرف منہا کا علاج کیا تھا بلکہ یہ تشویش بھی ظاہر کر دی تھی کہ منہا کی یہ حالت غیر معمولی ہے اور یہ بات تقی کے لیے ایک عجیب پریشانی کا سبب بن گٸ تھی ۔
مطلب منہا کے بچے کو قتل کیا گیا تھا یہ عجیب غریب قسم کی بات تھی وہ کبھی گھر کے معاملوں میں دلچسپی نہیں لیتا تھا مگر یہ بات تشویش ناک تھی اور اس بات کا ذکر وہ لازمی فرہاد سے کرنا چاہتا تھا ۔
ڈاکڑ تسنیم تو مسکرا کر واپس ڈیویٹی پر جا چکی تھیں مگر وہ اب بھی پیشانی پر انگلیاں پھیرتا ہوا وہیں کھڑا تھا ۔ آج صبح ہی منہا کو ہسپتال سے چھٹی ملی تھی اور وہ گھر گٸ تھی ، اور آج ہی اس کے خون کے نمونے کے نتاٸج سامنے آۓ تھے جس کا کوٸ خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا تھا لیبارٹری کے نتیجے کے مطابق اس کے خون میں کسی قسم کے دوا کے آثار موجود نہیں تھے ۔
لیکن ڈاکٹر تسنیم ابھی بھی اسی بات پر ڈٹی ہوٸ تھیں کہ بچہ بلکل ٹھیک تھا اس کے یوں بطن میں جان دینے کا سبب کوٸ دوا تھی جس کا اثر انہیں صاف نظر آیا تھا ۔
خون کے نمونے کو دوبارہ محفوظ کرنے کے بعد وہ بھی لیبارٹری کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا تھا ۔
********
سکول کی گھنٹی بجتے ہی سب اپنے بستے بند کر رہے تھے ، مالا نے بھی جلدی سے بستہ بند کیا ، کلاس کی لڑکیاں تیزی سے جماعت کے بیرونی دروازے سے باہر نکل رہی تھیں ، یہ پانچویں جماعت کا کمرہ تھا اور کمرے میں اب اندھیرا پھیل رہا تھا ۔ مالا نے سر اٹھا کر ارد گرد دیکھا کیا رات ہو رہی ہے وہ اتنی دیر سے سکول میں کیوں ہے ۔
عججب سے خوف کے احساس کے زیر اثر وہ بھاگ کر کمرہ جماعت سے باہر آٸ تھی ، پر باہر آتے ہی آنکھیں حیرت سے پھیل گٸ تھیں یہ ایک صحرا تھا ، جہاں دور دور تلک چھوٹے بڑے کتنے ہی ٹیلے تھے ، تپتی ریت تھی اور وہ ننگے پاٶں یہاں اکیلی تھی ، پاٶں کے تلوٶں سے زیادہ اس کا جسم جل رہا تھا گرمی کا احساس گھٹن پیدا کر رہا تھا، مالا نے قدم آگے بڑھاۓ ۔
چلنا دشوار ہو گیا تھا پاٶں ریت میں دھنس رہے تھے ، اوپر سے پیاس کا احساس تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا ، وہ بار بار خشک ہوتے لبوں کو زبان سے تر کر رہی تھی ، نا سکول تھا اور نا ہی سکول کا گیٹ ، اچانک ہوا کے جھکڑ چلنے لگے ، شاٸیں ۔۔۔۔۔شاٸیں۔۔۔۔۔ کی آوازیں کانوں کے پردے پھاڑ دینے کے مترادف تھیں ۔
وہ اب قدم آگے بلکل نہیں بڑھا پا رہی تھی جتنی قوت وہ قدم آگے بڑھانے کے لیے لگاتی اتنی ہی زور سے ہوا اسے پیچھے دھکیل رہی تھی اور پھر وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھنے پر مجبور ہو گٸ ، ہوا سے بچنے کی خاطر اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے کے آگے کر رکھا تھا ۔
ایک دم سے ہوا تھم گٸ ، مالا نے آہستگی سے ہاتھوں کو چہرے کے آگے سے ہٹایا۔
جہاں وہ دو زانو بیٹھی تھی اس کے بلکل سامنے ریت اکٹھی ہو کر ایک قبر بن گٸ تھی ۔ مالا کو خوف کا احساس ہوا ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ابھری ،لاشعور نے کہا یہ خواب ہے۔۔۔۔ ہاں یہ خواب ہے اور اب رمنا آپا آ جاۓ گی کہیں سے ۔
وہ بار بار سر کو جھٹکے دے کر خواب سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی لیکن یہ خواب تو نہیں تھا ۔ مالا نے فوراً پیچھے ہو کر اٹھنے کی کوشش کی پر اس کی ٹانگ کسی کے ہاتھ میں تھی ، مالا نے چیخنے کے لیے منہ کھولا ، جس سے گھٹی سی چیخ برآمد ہو رہی تھی جس کسی نے بھی ٹانگ پکڑی تھی اب اسی ریت کی قبر میں سے اٹھ کر بیٹھ گیا تھا ۔ اور ہمیشہ کی طرح وہ رمنا ہی تھی ۔ مالا نے جلدی سے قُل پڑھنے شروع کر دیے ، مولوی کی باتیں ذہن میں گونجنے لگی تھیں اسے خواب میں احساس ہو چکا تھا یہ خواب ہے ۔
” مالا اس کو کہو اب بس کرے ظلم ۔۔۔ “
رمنا نے آہستگی سے مالا کی طرف رُخ موڑے کہا مالا نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ، مالا نے زور سے اپنے پاٶں کو اس کی گرفت سے آزاد کروایا ۔ ایک دم سے ریت پر جگہ جگہ بٹن نظر آنے لگے ۔ مالا جلدی سے اٹھی تھی اور پھر رمنا سے ڈر کر بھاگتی ہوٸ آگے بڑھ رہی تھی وہ پہلی دفعہ خواب میں رمنا سے ڈر کر بھاگ رہی تھی ، بٹنوں کو پاٶں کے نیچے روندتی ہوٸ دوڑ رہی تھی ۔ اور اونچی آواز میں قُل پڑھ رہی تھی ، گلے میں پیاس کے باعث کانٹے چبھ رہے تھے ۔
” مالا ۔۔۔ مالا ۔۔۔۔ مالا۔۔۔ “
کوٸ بہت پیار سے آواز دے رہا تھا ، تقی کی آواز تھی مالا نے ارد گرد نگاہ دوڑاٸ تقی کہیں نہیں تھا ۔ اچانک کسی کے ہاتھ کا احساس کندھے پر ہوا ۔
” مالا اٹھو کیا ہوا ہے “
تقی نے زور سے کندھا جھنجوڑا تھا ، رات کو بجلی اچانک چلی گٸ تھی اور پنکھا بند ہوتے ہی عجیب گھٹن اور تلخی کا احساس ہونے لگا تھا ۔ وہ ابھی نیم غنودگی میں ہی تھا جب مالا کے آہستہ آہستہ سسکنے اور ڈرنے کے جیسی آوازیں نمودار ہونے لگیں ۔
تقی کے کندھا ہلاتے ہی ایک جھٹکے سے اس کی آنکھ کھلی تھی کمرے میں گھپ اندھیرا تھا ، پنکھا بند تھا اور تقی کہنی کے بل سر ٹکاۓ اس کی طرف کروٹ لیے لیٹا پریشانی سے اسے پکار رہا تھا ۔
” مالا کیا ہوا اس طرح کی آوازیں کیوں نکال رہی ہو ؟ “
تقی نے اس کے چہرے پر آہستگی سے ہاتھ پھیرا ، اس کی پیشانی پسینے کے ننھے قطروں کو سجاۓ ہوۓ تھی جو تقی کو اس اندھیرے میں نظر تو نہیں آۓ ، لیکن ہتھیلی نے باخوبی پیشانی کے گیلے پن کو محسوس کیا تھا ۔
” پانی ۔۔۔۔ “
مالا نے گھٹی سی آواز میں کہا وہ اب شاٸد اٹھ کر بیٹھ رہی تھی ، تقی بھی فوراً اس کے ساتھ ہی اُٹھ بیٹھا ۔
” رکو دروازہ کھولتا ہوں کمرے کا تھوڑی روشنی ہو گی تو کچھ نظر آۓ گا “
تقی نے آہستگی سے کہا اور پھر پلنگ سے اٹھ کر ننگے پاٶں ہی کمرے کے دروازے تک پہنچا ، چٹخنی کے نیچے گرنے کی آواز کے ساتھ ہی کمرے کا دروازہ کھلا اور صحن میں فوارے پر جلتی بجھتی قندیل کی روشنی دروازے سے اندر داخل ہو کر کمرے کو ملگجی سی روشنی بخش گٸ ۔ مالا نے جلدی سے پلنگ پر نیچے ٹانگیں لٹکاۓ میز پر پڑے جگ کو اپنی طرف کھسکایا، جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا تو پانی گرنے کی آواز نے خاموش کمرے میں شور ڈال دیا ، تقی اب پردہ پیچھے کیے کمر پر دونوں ہاتھ رکھے صحن کی طرف رُخ کیے کھڑا تھا ۔ مالا کی شرٹ گلے سے پسینے سے بھیگ چکی تھی اور پانی پیتے ہی خشک گلے کو سکون ملا ۔
سامنے صحن میں چارپاٸیاں ڈالی ہوٸ تھیں اور ان پر لیٹے نفوس سفید رنگ کے کھیس اوڑھے ہوۓ تھے ، حویلی کے چند مکیں جن کو زیادہ گرمی لگتی تھی وہ جلدی صحن کا رخ کر لیتے تھے اب بھی نوازش حاکم ، فرہاد اور ایک چارپاٸ پر خدیجہ بیگم سو رہی تھیں ، صحن میں اچھی خاصی ہوا چل رہی تھی ، نیم کے درخت کے اڑتے پتے اس کا واضح ثبوت تھے ، تقی ایک دم سے مڑا
” مالا ۔۔۔ چلو چھت پر چلتے ہیں “
بجلی کافی گھنٹوں سے نہیں تھی اس کا مطلب تھا کہ اب آج رات تو اس کے آنے کا ہرگز امکان نہیں تھا کمرے میں پنکھے کے بنا لیٹنا محال ہو رہا تھا ، مالا جو پہلے ہی خواب کو سوچ کر گھبراٸ ہوٸ تھی چھت کا نام سن کر زور سے نفی میں سر ہلایا ، تقی نے کرتے کے آستین چڑھاتے ہوۓ اس کی طرف قدم بڑھاۓ
” کیوں ۔۔۔۔ بھٸ ہوا چل رہی ہے اُٹھو سکون کی نیند آۓ گی کمرہ تو گرم ہو رہا ہے “
تقی نے اس کے انکار پر آبرٶ چڑھاۓ پوچھا ، پاس آ کر ، اس کے بلکل برابر میں پلنگ پر ٹانگیں لٹکاۓ بیٹھ گیا ۔ مالا نے آہستگی سے رُخ تقی کی طرف پھیرا جو اس کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔
خوف اب دل بھرنے اور دل آنکھوں میں آنسو لانے کا سبب بنا اور وہ ایک جھٹکے سے تقی کے گلے لگ کر بےبسی سے رو دی ، عجیب سے خوابوں کا سلسلہ اب تیز ہوتا جا رہا تھا اور وہ تنگ آ رہی تھی ، بچوں کی طرح سسک اٹھی ، تقی اس طرح رونے پر پریشان ہو گیا ۔
” مہ۔۔۔مالا ۔۔۔ کیا ہوا ۔۔۔ “
اس کے گرد اپنے بازو کی گرفت مضبوط کرتے ہوۓ اس کے کان میں سرگوشی کی ، وہ کیوں اس طرح رو رہی تھی
” یار بتاٶ تو ہوا کیا ہے خواب دیکھا کوٸ “
، تقی نے تھوڑا سا پیچھے ہوتے ہوۓ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا ، مالا نے آہستگی سے سر اثبات میں ہلایا ۔
” اوہ تو ۔۔۔۔ اس میں یوں رونے والی کیا بات ہے خواب ہی تھا نا “
تقی نے اسے ایک طرف سے اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ بازو سہلایا مالا پھر سے اس کی قمیض کی جیب میں انگلیاں پھنساۓ اس کے گریبان میں چہرہ چھپا رہی تھی رونا تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا وہ سب کچھ تقی کو بتانا چاہتی تھی پر عجیب سی جھجک تھی وہ اتنا پڑھا لکھا تھا کیا پتا اس کی ان باتوں پر کیا کہے گا اسے ڈانٹ دے گا ۔ اور پھر رمنا آپا کا ذکر وہ تقی سے ہرگز نہیں کرنا چاہتی تھی دل میں عجیب سا احساس تھا اگر رمنا آپا آج زندہ ہوتی تو تقی کبھی اس کا نہیں ہوتا ۔
” چلو آٶ اوپر چھت پر چلتے ہیں ، خواب تھا نا خواب ختم ڈر ختم “
تقی نے اسے اپنے ساتھ کھڑا کرتے ہوۓ کہا اور تکیہ اس کی طرف بڑھا کر خود چادر کو اٹھایا ، وہ اتنی محبت سے کہہ رہا تھا کہ مالا اب کی بار انکار نا کر سکی ویسے تو صحن بہت بڑا تھا پر چھت پر بھی برساتی کے نیچے چارپاٸیاں پڑی تھیں جن کو بہت گرمی کے دنوں میں چھت پر ڈال کر حویلی کے کٸ مکیں سوتے تھے ۔
وہ تقی کے ساتھ چھت پر جانے کے لیے زینے چڑھ رہی تھی لیکن نگاہ بار بار فوارے کے پاس اسی کونے میں اٹھ رہی تھی اور جان بوجھ کر وہاں رمنا کا عکس بنا رہی تھی ، سر کو بار بار جھٹکنے پر بھی رمنا ذہن سے نہیں نکل رہی تھی ۔
جیسے ہی وہ چھت پر آۓ فرحت بخش ٹھنڈک اور ٹھنڈی سی ہوا نے اندر تک سکون اتار دیا چھت پر آتے ہی تقی برساتی سے چارپاٸ نکال کر چھت کے وسط میں لا رہا تھا اور وہ تکیہ اور چادر ہاتھ میں تھامے اوپر آسمان پر موجود ستاروں کو دیکھ رہی تھی ستاروں سے بھرا آسمان ، کھلی چھت اور تقی کا محبت بھرا ساتھ سب کچھ تسکین بخش تھا مالا نے کھلی فضا میں گہرے سانس لیے تقی چارپاٸ بچھا چکا تھا ۔
” آٶ ۔۔۔ بھی اب “
تقی نے گردن گھما کر اس کی طرف دیکھا تو مالا مسکراتی ہوٸ آگے بڑھی ، تھوڑی دیر پہلے والے خوف کے احساس کو وہ ختم کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی ، تقی نے اس سے چادر پکڑ کر پاٶں کی طرف چارپاٸ پر رکھی جبکہ وہ تکیہ سرہانے کی طرف رکھ رہی تھی ۔ تقی نے چارپاٸ پر لیٹ کر اپنے برابر میں ہاتھ رکھ کر اشارہ کیا ۔
” آجاٶ یہاں اور اب مجھے بتاٶ کیوں ڈر گٸ تھی “
تقی نے نرمی سے کہا مالا نے مبہم سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف دیکھا اور پھر چارپاٸ پر بیٹھ کر پہلے تقی کا بازو کھینچ کر سیدھا کیا جس پر وہ بے اختیار مسکرا دیا وہ اسی طرح تو کرتی تھی جب بھی لیٹتی تھی اس کے بازو پر سر رکھ کر لیٹتی تھی اور جب وہ سو جاتی تو تقی دھیرے سے اپنا بازو اس کے سر کے نیچے سے نکال لیتا ۔
مالا نے سر تقی کے بازو پر رکھا اور چت لیٹ کر آسمان کی طرف دیکھا جس کا منظر بری طرح آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا وہ رات کے وقت یوں پہلی بار چھت پر تھی ۔
نیچے تو درخت آدھا آسمان کھا جاتے تھے اس لیے اتنے ستاروں بھرے آسمان کا نظارہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا جبکہ تقی تو اکثر چھت پر آ کر سوتا تھا ۔
” کتنا پیارا لگ رہا آسمان صحن سے دیکھو تو اتنا پیارا نہیں لگتا “
مالا نے مبہوت آسمان کو تکتے ہوۓ کہا ، تقی نے بھی آسمان کی طرف دیکھتے ہوۓ گہری سانس لی
” اور تمہیں پتا ہے میں نے یہ نظارہ ہزاروں بار دیکھا ہے مگر جو مزہ آج ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھا “
اپنی بات مکمل کرنے کے بعد محبت سے مالا کی طرف دیکھا ، مالا کو اچانک دو چاند والا مشہور جملہ یاد آ گیا جو اکثر ہیرو اپنی ہیروٸین کے لیے ناولوں میں بولتے تھے ۔
” کیوں آج ایسا کیا ہے ؟ “
مالا نے شریر سے لہجے میں تقی کی طرف کروٹ لیتے ہوۓ پوچھا پیار سے اپنا پاٶں اس کے پاٶں پر دھر دیا
” یہ بھی کوٸ پوچھنے والی بات ہے ۔۔۔“
تقی نے اس کی طرف کروٹ لی تو چہرہ اتنا قریب تھا کا مالا کے ناک سے ناک ٹکرا گیا ، وہ دلکش مسکراہٹ سجاۓ بڑی بڑی آنکھیں کھولے اب چاند کی روشنی میں تقی کو محبت سے دیکھ رہی تھی جس کی آنکھوں میں اس کے لیے بے پناہ پیار تھا ۔
” ہاں اب پوچھ لیا ہے تو بتا دیں نا کیا خاص بات ہے آج کی رات میں “
مالا نے آہستگی سے سر کو بازو پر کھسکا کر چہرہ اور قریب کیا ، لب مسکرا رہے تھے اور آنکھیں چمک رہی تھیں، تقی نے گال پر ہاتھ رکھا تو اس نے آہستگی سے آنکھیں بند کیں اور پھر کھول کر مسکرا دی ۔
” اس لیے کہ تم میرے ساتھ ہو “
تقی نے مخمور سے لہجے میں جواب دیا ، تو وہ سمٹ کر مسکراٸ پر مصنوعی خفگی سے ماتھے پر بل ڈالے اسگ دیکھا جو سفید کرتے میں چاند کی روشنی کے نیچے دل میں گدگدی جیسا احساس پیدا کر رہا تھا۔
” بس اتنا ہی “
پیار سے شکوہ کیا ، تقی اس کے چہرے پر نگاہیں گھما رہا تھا ۔
” اور کتنا ۔۔۔۔ “
تقی نے ناک کو پکڑ کر محبت سے کھینچا
” آپ کو میں دوسرا چاند نہیں لگ رہی کیا ؟ “
مالا نے خفا سے لہجے میں شکوہ کیا ، جس پر تقی کا خفیف سا قہقہ گونجا
” نہیں تو چاند کیوں لگو گی تم “
تقی نے ہنستے ہوۓ پوچھا ، وہ خفا سی اور بھی حسین لگ رہی تھی ۔
” مطلب میں چاند جیسی پیاری نہیں لگتی آپ کو “
مالا نے خفگی سے آنکھیں سکوڑی تھیں
” مجھے تو چاند پیارا نہیں لگتا ، چاند ہے وہ جس کا کام رات کو روشن کرنا ہے وہ ایک کرہ ہے تم انسان ہو تم کیوں لگو گی چاند “
تقی نے پیشانی پر بل ڈالے اس کی خفگی پر حیران ہوتے ہوۓ جواب دیا ، اور وہ اس شخص کو حیرت دیکھ رہی تھی جس کو چاند پیارا نہیں لگتا تھا اور نا وہ چاند جیسی لگتی تھی ۔
” آپ کو ان سب چیزوں کو دیکھ کر محبت کا احساس نہیں ہوا کبھی ؟ “
مالا نے حیرت سے پوچھا ، جبکہ وہ اب گہری سانس لیے ایک نگاہ آسمان کی طرف دیکھ کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا
” دیکھو میں کوٸ شاعر تو نہیں ہوں اس لیے مجھے ہر چیز کے پیچھے اس کا اصل مقصد نظر آتا ہے ، میں نے نا ان سب کو محبت کے نظریے سے دیکھا تھا کبھی اور نا انہوں نے مجھے احساس دلایا ، مجھے تو زندگی میں پہلی دفعہ اگر کسی نے محبت کا احساس دلایا ہے تو وہ تم ہو اور تم صرف تم ہو نا تو چاند ہو اور نا ہی ستارہ “
تقی نے اس کی کمر کے گرد بازو حاٸل کرتے ہوۓ محبت سے کہا تو اس کے جواب پر مبہوت ہوٸ وہ اتنا بے زار ہو کر بھی ہر دفعہ اپنی بات سے اس کا دل جیت لیتا تھا ۔ اور وہ بلکل سہی کہہ رہا تھا جہاں وہ تھا وہاں یہ چاند تارے یہ آسمان سب کچھ بے معنی تھا وہ تو صرف اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔
**********
ایک ہاتھ میں شرٹ کے بٹن کو تھامے اور دوسرے ہاتھ میں دھاگے میں بندھے بٹن کو تھامے وہ پلنگ پر بے حال بیٹھی سارے خواب دہرا رہی تھی ، رات کے خواب نے اس قدر پریشان کیا تھا کہ وہ اب اٹھتے ہی شرٹ الماری سے نکال کر بیٹھ گٸ تھی ۔ باہر کی گہما گہمی بات رہی تھی اس کی صبح ہوٸ ہے لیکن باہر تو سب کی دوپہر شروع ہے۔
آہستگی سے کمرے کا دروازہ کھلا اور فرزانہ علی حسن کو گود میں اٹھاۓ اندر داخل ہوٸ ۔ وہ کل شام کو ہی منہا کی خیریت لینے آٸ تھی ۔
” مالا علی حسن کو پکڑو گی ذرا کی ذرا میں بچوں کو نہلا دوں “
فرزانہ اس سے بات کرتے ہوۓ اب پلنگ تک آ گٸ تھی اور پھر حیرت سے آنکھیں سکوڑ کر مالا کے ہاتھ میں پکڑی شرٹ کو دیکھنے لگی ۔
” اللہ توبہ تقی نے اپنی قمیض کا حال کیا کر دیا ہے اتنے پیار سے کڑھاٸ کر کے دی تھی میں نے اسے “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: