Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 21

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 21

–**–**–

مالا نے سر اٹھا کر فرزانہ کی طرف دیکھا تھا ، جو اب آنکھیں سکیڑے تقی کی قمیض کی طرف دیکھ رہی تھی ، صبح فجر کی نماز کے بعد وہ پھر سے کمرے میں آ کر سو گٸ تھی ، اب کچھ دیر پہلے اٹھی اور ناشتے کے دوران ہی اسے رات کے خواب نے الجھا دیا اور پھر عجلت میں ناشتہ ختم کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے سے گڑیا کے گلے میں پہنا ہار اور الماری میں رکھی قمیض نکال کر بیٹھ گٸ تھی ۔
ذہن الجھا ہوا تھا اور پہیلی تھی کہ سلجھ نہیں رہی تھی ، جو چند کَڑیاں وہ ملا پاٸ بس اس سے تو یہی کہانی بن پاٸ کہ کیا ۔۔۔۔۔!!!!؟ رمنا آپا کی روح یہ نہیں چاہتی تھی کہ میری تقی سے شادی ہو ، کیا روحیں سچ میں اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی پیار کرتی ہیں کسی سے اور پھر کسی اور کو اس کا ہوتے دیکھ نہیں سکتی ہیں ۔
وہ تب سے کمرے میں بیٹھی فرزانہ آپا کی آمد سے پہلے بس یہی نتیجہ اخذ کر پاٸ تھی کیونکہ یہ تقی کی قمیض ہے اتنا تو وہ بھی اندازہ لگا چکی تھی تقی کے الماری سے نکلا یہ قمیض اسی کا ہی ہو سکتا تھا ۔الجھن تو فقط یہ تھی کہ بٹن اور رمنا اسے کیوں متواتر خواب میں نظر آتے تھے اور اب کچھ کڑی مل چکی تھی کہ اس سب کا تعلق تقی سے تھا اور تقی کا گہرا تعلق اس سے تھا اسی لیے رمنا اس کے خواب میں آتی تھی ۔
فرزانہ نے علی حسن کو آہستگی سے پلنگ پر بیٹھایا اور پھر خود بھی پلنگ پر مالا کے سامنے ٹانگیں لٹکاۓ بیٹھ گٸ ، نگاہیں مالا کے ہاتھ میں پکڑے ہلکے شربتی رنگ کے قمیض پر ٹکی تھیں جس کے گریبان پٹی کے گرد کی گٸ نفیس ریشم کے دھاگے کے ساتھ کڑھاٸ اسے آج بھی یاد تھی چھوٹے چھوٹے پھول ایک بیل کے ساتھ اوپر کو کاڑھے گۓ تھے جن کے دونوں اطراف سے باریک پتے بھی بناۓ گۓ تھے دھاگہ اور گریبان پٹی پر لگے بٹن قمیض سے ہم رنگ تھے ۔ اب فرزانہ کی بات پر مالا گہری سانس لیتیے ، الجھی سوچوں کو تھپکتے ہوۓ سیدھی ہوٸ ۔
” جی آپا ان کی پرانی قمیض ہے کوٸ ، الماری میں رکھی تھی صفاٸ کرتے ہوۓ نکالی ہے “
مالا نے فرزانہ کی طرف تاٸیدی نگاہوں سے دیکھتے ہوۓ اس کی بات کی تصدیق کر دی ، فرزانہ اب قمیض کو ہاتھ میں تھامے بیٹھی تھی لبوں پر مبہم سی مسکراہٹ اور آنکھوں میں پرانی بیتی یاد کی چمک تھی ۔ علی حسن کو پلنگ پر جیسے ہی اس نے چھوڑا وہ ننھے ننھے ہاتھ پلنگ کی چادر پر مارتا ہوا گھٹنوں کے بل آگے بڑھنے لگا ۔
” اپنی شادی کی خریداری کے لیے گٸ تھی میں اماں کے ساتھ ، پہلے یہ بٹن خریدے تھے میں نے ، مجھے اتنے پسند آۓ کہ بس پوچھو ہی مت اور پھر بٹنوں کے ساتھ ملا کر اس گدھے کے لیے سوٹ خریدا کے اپنی شادی پر کاڑھ کر کے اسے تحفہ دوں گی اور دیکھو تو قمیض کا کیا حشر کیا ہے بے قدرے نے “
فرزانہ اب قمیض کے گریبان پر لگے بٹن کو دیکھ کر کھوۓ لہجے میں افسوس کر رہی تھی ، سارے پرانے لمحے ذہن کے پردوں سے سرک رہے تھے ، شادی سے کچھ دن پہلے وہ اس سوٹ کو تقی کے لیے لے کر آٸ تھی اور ساتھ ہی اس سے فرماٸیش بھی کر دی کہ میری شادی پر پہننا تمھاری رنگت صاف ہے جچ جاۓ گا ، فرزانہ نے بیت پل کو ذہن میں دہرایا اور پھر ایک دم سے مالا کی طرف دیکھا ، جو اب بھی الجھی لکیریں پیشانی پر سجاۓ بیٹھی تھی ۔
” مالا اس قمیض کے بٹن اتار دے ، آج بھی دیکھو تو ویسے ہی چمک رہے ہیں ، میں علی حسن کے قمیض پر لگا دوں گی ، اتنے پیارے تو ہیں تقی نے تو قمیض ہی خراب کر کے پھینکی ہوٸ ہے ورنہ یہ ہی احمد حسن کو چھوٹا کر دیتی “
فرزانہ نے آخری جملے پر تاسف سے سانس بھری اور پھر بازو کو اٹھاۓ تیزی سے تیوری چڑھاٸ ۔ احمد حسن اس کا بڑا بیٹا تھا ، تقی کا یہ دس سال پرانا قمیض اس وقت کے اس کے دبلے جسم کی یاد دلا گیا
” لو جی یہ ایک بازو کا بٹن بھی غاٸب ہے قمیض سے ، پتا نہیں یہ پہن کر کشتی کرتا رہا ہے ویر میرا “
فرزانہ نے تاسف سے قمیض کو بازو کے اوپر کرتے ہوۓ لب باہر نکالے مالا نے جلدی سے ہتھیلی کھول کر فرزانہ کے سامنے کر دی
” آپا یہ رہا آستین کا بٹن ۔۔۔۔۔۔۔۔“
مالا نے مدھم سے لہجے میں کہتے ہوۓ ہتھیلی فرزانہ کے آگے کھول دی ۔
” اور پتا ہے یہ کس کے پاس تھا “
مالا کی بات پر فرزانہ نے تعجب سے آنکھیں اوپر اٹھاٸے مالا کی طرف دیکھا ۔ مالا اب بٹن کو ہتھیلی پر رکھے اور نگاہوں کو بٹن پر جماۓ بول رہی تھی ۔
” یہ رمنا آپ کے ہاتھ سے اُٹھایا تھا میں نے ، جب وہ چھت سے گری تھی ، شاٸد تقی کی آستین کا بٹن ٹوٹ گیا ہو گا اس کو ٹانکنے کو بھاگی دوڑی پھر رہی ہو گی آپا “
مالا نے اپنے دماغ میں الجھن بڑھاتی سب باتوں کو جھٹک کر ، غزالہ کی کہی ہوٸ بات دہرا دی تھی اور فرزانہ اب دھاگہ دیکھ رہی تھی جو مالا نے بچپن میں بٹن میں پرو کر اسے گڑیا کا ہار بنا رکھا تھا ۔ فرزانہ رمنا کے ذکر پر بلکل مالا کی طرح ہی اداس ہوٸ تھی ، مالا نے فرزانہ کو دھاگا پکڑے یوں حیران دیکھا تو خفیف سا مسکاٸ
” میں نے باندھا تھا یہ دھاگا آپا ، میری گڑیا کا ہار تھا “
مالا کی بات پر فرزانہ بھی اداس آنکھوں سمیت مسکرا دی ، علی حسن اب پلنگ کے سرہانے کو پکڑ کر چل رہا تھا ، اور فرزانہ کے پاس آ کر اس کا کندھا تھامے پلنگ سے نیچے اترنے کو اچکنے لگا ۔ فرزانہ کی توجہ علی حسن پر مبذول ہوٸ تو بٹن مالا کی طرف بڑھاتے ہوۓ گویا ہوٸ ۔
” اچھا مالا علی حسن کو پکڑ لے میں بچوں کو نہلا دوں ، حسن پہنچنے والے ہوں گے شام سے پہلے نکلنا ہے ہمیں اور اس شرٹ کے بٹن اتار کر مجھے دے دینا علی کے کرتے پر لگاٶں گی “
فرزانہ نے عجلت میں مالا سے کہا جو اب قمیض کو سمیٹ رہی تھی ، فرزانہ کی بات پر جلدی سے اٹھی اور قمیض کو تھامے الماری کی طرف بڑھ گٸ ، اور پھر قمیض رکھنے کے بعد آ کر علی کو گود میں اٹھا لیا ۔
ننھے علی کو ہوا میں اوپر اچھال کر وہ نیچے آنے سے پہلے ہوا میں ہی تھام رہی تھی اور وہ منہ کھولے ننھے سے موتیوں جیسے دانتوں کی نماٸش کر رہا تھا ۔
بظاہر تو وہ دل کو تسلی دے چکی تھی پر ایک پھانس تھی دل میں ، آخر کو آپا کی روح تقی کے ساتھ مجھے دیکھ کر خوش کیوں نہیں ہے ، رات کو استخارہ کروں گی شاٸد کوٸ اشارہ ملے یا پھر مولوی جی کے پاس جاٶں ۔۔۔
نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ وہ یہ روح والی بات سن کر ناراض ہو جاٸیں گے مالا کو اچانک ان کی پچھلی دفعہ کی گفتگو یاد آٸ جس میں انہوں نے اس کے خوابوں کے سلسلے کو اللہ کی طرف سے کسی انہونی کا اشارہ قرار دیا تھا ۔۔۔
وہ علی حسن کو گلے لگاۓ باہر آ گٸ ۔
اٹاری میں وحشت ناک سی خاموشی تھی ، اریب پھپھو کا دکھ ، منہا کا دکھ ایک ساتھ ہی آ کر حویلی کے مکینوں کے چہرے پر اداسی چھوڑ گیا تھا ۔
چھت پر چلتے پنکھے کے عین نیچے تخت پر خدیجہ بیگم سر کو باندھے لیٹی ہوٸ تھیں تاری بوا ان کی ٹانگیں دبا رہی تھی ۔ اور ایک طرف چارپاٸ ڈالے اریب بھی پژمردہ حالت میں لیٹی ہوٸ تھی ، وہ اب بلکل خاموش ہو گٸ تھی اس کی تیکھی سی آواز جو ہر چند منٹ کے توقف سے ارحمہ ، رملا یا نقی کو ڈانٹنے کے لیے ابھرتی تھی اب ایک ہفتے سے معدوم ہو گٸ تھی ۔
مالا یوں زندہ لاشوں کو دیکھ کر اور اداس ہوٸ اور کمرے کا رُخ کیا ، جب دل میں ہی اداسی بھری ہو پھر اردگرد کا سارا ماحول ہی سوگوار لگتا ہے اس کا حال بھی کچھ یوں ہی تھا ، دل میں رمنا کے متعلق عجیب سے خیال نے اداسی بھر دی تھی اور اب کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔
**************
کمرے کا پنکھا رنگے برنگے پھولوں کے نقش و نگار والی چھت پر اپنے تین پر گھما رہا تھا ، اور نیچے کمرے میں اس کی ہوا اس کے بلکل نیچے کھڑے تقی کے بال اُڑا رہی تھی ۔ وہ خاکستری رنگ کا قمیض شلوار پہنے اُلجھے سے ایک طرف کی مانگ نکالے بال ماتھے پر بکھیرے مضطرب سا کمرے کے وسط میں کھڑا تھا اور بلکل سامنے بلقیس کھڑی تھیں جن کی صورت کے تاثرات بھی اس سے کم مضطرب نہیں تھے ۔
یہ بلقیس اور نقیب حاکم کا کمرہ تھا ، اس کا شمار حویلی کے چھوٹے کمروں میں ہوتا تھا جہاں ایک طرف بس دو چھوٹے پلنگ جوڑ کر رکھے گۓ تھے اور دوسری طرف دیوار کے ساتھ تین لکڑی کی کرسیوں کے آگے ایک لکڑی کا میز رکھا ہوا تھا ، جس پر سلیقے سے سفید کڑھاٸ والا میز پوش بچھا تھا اور میز کے وسط میں ایک مصنوعی سرخ کاغذ کے پھولوں والا گلدان پڑا تھا ، پلنگ پر مبین نامی آٹھ سال کا لڑکا بے سدھ سو رہا تھا یہ منیر میاں کا بیٹا تھا جسے وہ رانی سے الگ کر کے حویلی لے آیا تھا ، سمیرا نامی چار سالہ بیٹی کو غزالہ کے حوالے کیا گیا تھا اور بیٹے کی دیکھ بھال بلقیس کے ذمہ داری تھی ۔ مبین بخار میں تپ رہا تھا ۔ ماں سے جداٸ ننھی جانوں پر ظلم تھا مگر یہاں چوہدری حاکم کے آگے کون زبان کھولے ۔ وہ اپنے طاقت کے بل بوتے پر رانی سے کیس جیت چکے تھے رانی منیر میاں سے علیحدگی کے بعد پھر سے لاہور چلی گٸ تھی ۔
اور اس وقت بلقیس سرخ چہرہ لیے اپنے سامنے تن کر کھڑے تقی کو گھور رہی تھی۔ ان کا گھورنا بجا تھا کیونکہ تقی کے بات ہی غیر مناسب تھی وہ منہا کے بارے میں فرہاد سے باز پرس کرنا چاہتا تھا اور بلقیس بیگم اس بات کی اسے اجازت نہیں دے رہی تھیں ۔
” اماں آپ کی بات میرے سر کے اوپر سے ہی گزر گٸ ہے “
تقی نے اپنے مخصوص انداز میں کمر پر سے ہاتھ اٹھا کر ہوا میں معلق کرتے ہوۓ بلقیس کے نفی کر دینے پر برہم ہوا ، کہنیوں سے نیچے ہلکے سے بالوں والے بازو پر قمیض کی آستین موڑ رکھی تھی ، بین والے گریبان کا صرف ایک بٹن کھلا تھا ، اور وہ گھنی سی بھنویں سکیڑے جواب طلب نگاہیں بلقیس کے چہرے پر جماۓ کھڑا تھا ۔
” کیا مشکل بات کر دی میں نے ، بس میری بات کان کھول کر سن لے بہن کے سسرال کا معاملہ ہے ایسی ویسی کوٸ بات نہیں کرے گا تو ، فرہاد کیا سوچے گا یہ میری ماں پر شک کر رہے ہیں ، مجھے اور منہا کو تو وہ ڈاکٹرنی کی باتوں پر ذرا بھر بھی بھروسہ نہیں “
بلقیس نے غصے میں ماتھے پر شکن ڈالے تقی کی طرف دیکھا جو اس وقت لب بھینچے بلقیس کی بات کو برداشت کر رہا تھا جبکہ بلقیس بیگم جانتی تھیں اریب اور اس کے بچے پہلے ہی ایک کرب سے گزر رہے ہیں اور تقی اب ان پر ایک نٸ پریشانی تھوپنا چاہتا تھا ۔
منیر میاں کی اس حرکت کا سب سے زیادہ اثر فرہاد پر ہوا تھا ، پرانا شوخ و چنچل فرہاد کہیں کھو گیا تھا ، وہ نادم سا نگاہیں جھکاۓ باپ کی حرکت پر چپ چپ رہنے لگا تھا ۔
” آپ کو ان لوگوں کے ناراض ہونے کی پڑی ہے اور مجھے منہا کی پڑی ہے ایک ہی بہن ہے میری میں اس کے معاملے میں ایسے کیسے چپ سادھ لوں جو اس کے ساتھ ہو چکا ہے اس کے نتاٸج پتا نہیں کتنے سنگین ہو سکتے تھے “
تقی کے چہرے پر پریشانی واضح تھی وہ بظاہر لاپرواہ سہی لیکن اپنے رشتوں کی قدر و قیمت باخوبی سمجھتا تھا ، اکثر لاپرواہ نظر آنے والے لوگ دل میں اپنوں کے لیے زیادہ احساس رکھتے ہیں اور تقی ان میں سے ہی ایک تھا ، منہا اس کی اکلوتی ، چھوٹی اور لاڈلی بہن تھی وہ بچپن سے ہی اس کے ہر معاملے میں یونہی فکر مند رہا تھا ، اس کی پڑھاٸ کے معاملے میں اس کے مستقبل کو لے کر وہ اپنے ماں باپ تک کے خلاف چلا گیا تھا جو منہا کو دس سے آگے پڑھانے پر قطعً آمادہ نہیں تھے ۔ اور اب وہ یوں اس کی زندگی سے کھیل جانے پر کیسے چپ بیٹھ سکتا تھا ۔
” یہ سب بھی میں تیری بہن کے بھلے کے لیے ہی کہہ رہی ہوں ، یہ بات تیرے ابا تک بھی نہیں پہنچنی چاہیے، گھر میں ویسے بھی اتنی پریشانی کا عالم ہے تم اس بات کو کھول کر اور تماشہ مت کھڑا کر دینا “
بلقیس اب انگلی تانے اسے تنبہیہ کر رہی تھیں جو اکڑ کر گردن تانے کھڑا تھا ۔
” میں وہ خون کے نمونے لاہور لیبارٹری میں بھجوا چکا ہوں اور اگر ڈاکٹر تسنیم کا شک درست ثابت ہوا تو میں فرہاد سمیت اریب پھپھو کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا ، جو میری معصوم بہن کی زندگی سے کھیل گۓ “
تقی نے دو ٹوک لہجے میں اپنا فیصلہ سنایا اور پھر وہاں رکا نہیں تھا ، بلقیس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ کمرے سے نکل چکا تھا اب تو کمرے کے کواڑ کے آگے بس سفید پردہ ہی ہل رہا تھا جس کو دیکھ کر بلقیس ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گٸیں ۔
**********
” مالا جلدی کرو شام ہو رہی ہے “
سکینہ نے درخت کے نیچے سے آواز لگاٸ ، وہ درخت کی ٹہنی پر بیٹھی تھی ، سکینہ کی آواز پر جلدی سے دیکھ کر سب سے اچھے والا امرود توڑ کر مالا نے نیچے چھلانگ لگاٸ ، دھپ سے کچی مٹی کی پگڈنڈی پر اس کا پاٶں بمشکل پھسلتے ہوۓ سنبھلا ، اس نے ہاتھ میں پکڑے امرود کو کھانے کی غرض سے اوپر کیا تو وہاں ہاتھ میں کچا آم تھا ۔ ہیں امرود جیسا لگ رہا تھا اوپر ۔۔۔۔
مالا نے الجھی سی نگاہیں سکینہ کی تلاش میں دوڑاٸیں ، وہ یہیں تو تھی ، ایک دم سے کسی کے پکارنے کی آوازیں ابھرنے لگیں۔۔۔۔
مالا۔۔۔۔۔۔ مالا۔۔۔۔۔۔۔
کوٸ اسے پکار رہا تھا ، آواز کی بازگشت پر مالا نے کھیت میں قدم آگے بڑھا دیے ، یہ سکینہ بلا رہی ہو گی اسے ، وہ کھیت میں بنی پگڈنڈی پر تیز تیز چلنے لگی ، لڈن میاں حویلی کے لیے بیل گاڑی جوت چکے ہوں گے اسی سوچ کے ذہن میں آتے ہی وہ کچی سڑک کی طرف تیز تیز قدم بڑھاۓ ہوٸ تھی ۔ نیند اتنی آ رہی تھی کہ دل میں خیال ابھرا چارے کی گٹھڑی پر ہی سر رکھ کر بیل گاڑی پر ہی سو جاۓ گی ۔
اچانک نگاہ اٹھاٸ تو کچی سڑک پر تو وہ آ گٸ تھی لیکن یہاں نا تو بیل گاڑی تھی اور ناہی سکینہ ۔۔۔ کیا وہ لوگ مجھے کھیت میں بھول کر ہی چلے گۓ آج کیا سکینہ کو نہیں پتا تھا میں بھی ساتھ ہوں ۔ مالا نے غصے سے ارد گرد دیکھا
مالا۔۔۔۔۔ مالا۔۔۔۔۔
آوازوں کی بازگشت پھر سے سناٸ دی ، مالا نے ان کے تعاقب میں قدم بڑھاۓ گاٶں کا کنواں کھیت میں آ گیا تھا ، وہ پریشان سی کنویں کی طرف بڑھی کھیتوں میں تو کوٸ کنواں نہیں تھا ہاں البتہ گاٶں میں دو کنویں تھے جس سے لوگ میٹھے پانی کے گھڑے اور مشکیزے بھر کے گھروں کو لے جاتے تھے ۔
وہ کنویں کے پاس پہنچ گٸ تھی ، یہ گہرا کنواں تھا ، گاٶں کے کنویں سے کہیں گہرا تھا اس کو پکارنے کی آوازیں کنویں میں سے آ رہی تھیں ۔۔۔۔۔ ہاۓ او ربا کیا سکینہ کنویں میں گر گٸ مالا کا دل دھک سے رہ گیا ۔
وہ اب کنویں پر جھک کر اندر جھانک رہی تھی لیکن ہلتے سیاہ پانی کے سوا اور کچھ نہیں تھا ۔
اچانک پیچھے کسی کے قدموں کی چاپ سناٸ دی مالا نے جیسے ہی رخ موڑا ایک ہاتھ آگے بڑھا اور اسے جیسے ہی دھکا ملا مالا نے اچک کر اپنے بچاٶ کے لیے سامنے کھڑے آدمی کے قمیض کی جیب میں ایک ہاتھ ڈالا اور ایک ہاتھ سے اس کی کلاٸ تھامی پر توازن ایسا بگڑا کہ وہ سامنے کھڑے شخص کی جیب کو پھاڑتی اس کی کلاٸ سے بٹن کو توڑتی نیچے گری ، اس شخص کو اندھیرے کے باعث دیکھ بھی نا پاٸ ، پورے جسم میں خوف کے باعث بجلی کوند گٸ ذہن نے خود کو پانی میں گرنے کے لیے تیار کیا ۔
پر یہ کیا وہ ایک جھٹکا کھا کر بنا کسی تکلیف کے گری تھی پر یہ پانی نہیں حاکم قصر کا صحن تھا مالا نے آنکھ اوپر اٹھاٸ اسے کوٸ چوٹ نہیں آٸ تھی وہ فوارے کے پاس صحن میں گری تھی نگاہ اوپر اٹھاٸ تو کوٸ وجود اس پر گر رہا تھا مالا کا جسم ہل نہیں پا رہا تھا مالا نے زور سے خوف کے باعث آنکھیں میچ لیں ، کوٸ دھڑم سے ساتھ گرا تھا گرنے کی آواز بہت مانوس تھی مالا نے آنکھیں کھول کر گردن گھما ٸ اور اس کے برابر میں آ کر گرنے والا وجود رمنا کا تھا اس کا چہرہ اس کی طرف مڑا ہوا تھا اور ناک سے خون بہہ رہا تھا ۔
مالا ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گٸ اور جلدی سے رمنا کی ہتھیلی کی طرف دیکھا وہاں بٹن موجود نہیں تھا ، بٹن مالا کے ہاتھ میں تھا ۔ رمنا اب اٹھ کر بیٹھ رہی تھی۔ مالا کا جسم خوف کے باعث کانپنے لگا ذہن نے فوراً بتا دیا یہ خواب ہے ۔۔۔۔ یہ خواب ہے ۔۔۔۔۔
مالا نے پوری قوت سے جھٹکا لگا کر آنکھیں کھولیں ، وہ بستر پر تھی پنکھا چلنے کا شور تھا ، کمرے میں چھوٹے بلب کی سبز روشنی پھیلی ہوٸ تھی ، جو کچھ دن پہلے آنے والے خواب کے پیش نظر تقی نے کمرے میں لگا دیا تھا اس کو لگتا تھا مالا اندھیرے سے ڈر جاتی ہے ، تقی اسے اپنی باہوں میں بھر کر سو رہا تھا اس کا مضبوط بازو مالا کی گردن کے گرد کچھ اسطرح سے لپٹا ہوا تھا کہ مالا کو اپنا سانس رُکتا سا محسوس ہوا ۔ سبز رنگ کی روشنی میں تقی کے تن پر موجود سفید کُرتا بھی سبز لگ رہا تھا ، تقی کے بازو کو دھیرے سے سرکا کر اپنے کاندھے پر کیا اور گہرے سانس باہر کو انڈیلے ۔ تقی کی خوشبو ناک کے نتھنوں میں گھس رہی تھی ۔
وہ بہت دن کے ارادے پر آج عمل پیرا ہوٸ تھی ، استخارہ کرنے کے بعد روتے ہوۓ دعا مانگ کر سوٸ اور اب ذہن استخارہ کے جواب کے طور پر خواب کو دہرا رہا تھا ۔ رمنا کو چھت سے دھکا ملا تھا جیسے اسے دھکا ملا اور دھکا دینے والی کی جیب رمنا نے تھامی ہو گی جیسے اس نے تھامی تھی پھر جیب پھٹی اور کف سے بٹن ٹوٹ کر ہاتھ میں رہ گیا اور وہ بٹن تقی کی قمیض کا تھا اور تقی۔۔۔۔۔۔
وقت سرکنا بند ہو گیا ۔۔۔۔۔۔ پنکھے چلنے کی آواز ۔۔۔۔ تقی کا نام لینے لگی ت۔قی ۔۔۔ت۔۔قی۔۔۔۔ت۔۔قی ۔۔۔قی ۔۔۔ت ۔۔۔ ت۔۔قی۔۔۔
مالا نے ایک جھٹکے سے تقی کےبازو کو اپنے کندھے پر سے ہٹایا اور آنکھیں خوف کے مارے زور سے بند کیں پلکیں کپکپا رہی تھیں ۔ تقی نے رمنا آپا کو دھکا دیا ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ یہ کیسا اشارہ تھا اللہ میاں ۔۔۔۔
اس کے لب اپنی ہی سوچ کے انکار پر کانپ گۓ ، تقی نے قمیض کو کتابوں میں چھپا کر رکھا تھا ۔۔۔۔ افف میرے خدا تو آپا مجھے بچپن سے یہ بتانے کی کوشش میں تھی اور میں۔۔۔۔۔
مالا نے کرب سے آنکھیں کھولیں ، تقی اس کے چہرے پر جھکا اسے ہی دیکھ رہا تھا مالا کی فلک شگاف چیخ برآمد ہوٸ ۔۔۔۔ وہ جو کہنی کے بل اٹھ کر اس کو دیکھ رہا تھا دبک گیا مالا کے بازو جھٹکنے پر اس کی آنکھ کھلی تھی اور پھر وہ عجیب طرح سے چہرے کے زاویے بگاڑ رہی تھی ، تقی اس کے چہرے کو تعجب سے دیکھتا ہوا اس پر جھکا تھا جب اچانک اس نے آنکھ کھول کر چیخ ماری جیسے وہ تقی نہیں کوٸ اور ہو ۔
” مالا ۔۔۔۔۔ کیا ہوا ۔۔۔ ؟ “
تقی نے اسے دونوں کندھوں سے تھام رکھا تھا ، اور اس کے یوں کاپنپنے اور چیخنے کا سبب دریافت کر رہا تھا ۔ مالا بے یقینی سے تقی کے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔ جسم میں خوف کی سنسناہٹ تھی کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔
رمنا آپا کو چھت سے دھکا تقی نے دیا پر کیوں ۔۔ ۔ ذہن الجھ رہا تھا پر زبان گنگ تھی اور تقی اسے تعجب سے دیکھ رہا تھا ۔جسے وہ کوٸ جواب دینے کی حالت میں نہیں تھی۔ سبز روشنی کے باعث سب کچھ سبز لگ رہا تھا اس وقت تقی کا چہرہ سبز تھا اس کے ہونٹ بھی سبز تھے ۔
” مالا مجھے بتاٶ کیا مسٸلہ ہے تمھارے ساتھ ؟ کیسے خواب ہیں جو آۓ دن تمہیں تنگ کر رہے ہیں ؟ ؟ “
تقی پیشانی پر پریشانی اور حیرت کے شکن نمودار کیے اس سے وہ سوال کر رہا تھا جس کا جواب آج اس کا دل دہلا گیا تھا ۔ رمنا آپا اس کو تقی سے بچانا چاہتی تھیں کیا ۔
مالا اسے بچا لو ۔۔۔۔۔ مالا اس کو کہو ظلم بس کر دے ۔۔۔۔۔ وہ سارے خواب ایک ہی دفعہ میں دہرا رہی تھی اور آخری خواب کا اختتام سب سمجھا گیا ۔
” مالا کچھ بولو بھی اب کیسے خواب آتے ہیں کیا خوفناک کہانیاں پڑھتی ہو تم ؟ “
تقی اس پر جھکا سوال پر سوال کر رہا تھا اور وہ شاکی نگاہوں سے تقی کو گھور رہی تھی ۔ تقی نے رمنا آپا کو دھکا کیوں دیا ہو گا یہ تو اتنے اچھے ہیں ۔۔۔مالا اب بے یقینی سے آنکھیں سکیڑے تقی کو دیکھ رہی تھی ۔ تقی اس سے جواب کے انتظار میں تھا اور وہ تھی کہ گھورنا ہی بند نہیں کر رہی تھی ۔ اسے غصہ آ گیا اس کی چپ پر
” مالا ۔۔۔۔ عجیب پاگل لڑکی ہو میں کب سے پوچھ رہا ہوں کچھ ؟ کیا ہو جاتا ہے تمہیں ؟ کیوں ڈرتی ہو اتنا ؟ “
تقی اب غصے میں جھنجلا کر اس سے سوال کر رہا تھا ۔ مالا اس کے یوں غصہ ہونے پر سٹپٹا گٸ ۔ اور فوراً جھوٹ بول کر جان چھڑاٸ
”کہ۔۔۔کچھ ۔۔نہیں بس وہ ۔۔۔ جن ۔۔۔ چو۔۔۔چڑیل ۔۔۔۔ “
مالا نے پھیکی سی آواز میں بے ربط جملے ادا کیے تو تقی نے بے ساختہ اپنے ماتھے کو ہاتھ سے جکڑ لیا اور پھر ایک دم سے مسکراتے ہوۓ اسے باہوں کے حصار میں لیا ۔
” تم یہ بچوں جیسے کام کرنا کب چھوڑو گی مت پڑھا کرو یہ جن چڑیل کے قصے “
تقی اس ساتھ لگاۓ کان میں سرگوشی کر رہا تھا اور آج پہلی دفعہ وہ تقی کے حصار میں گھٹن محسوس کر رہی تھی ،
” نماز پڑھ کر سوتی ہو ، قُل تم پڑھ کر خود پر پھونکتی ہو پھر یہ سب ذہن سے جھٹک کر سویا کرو جن چڑیلوں سے زیادہ خطرناک تو انسان ہوتے ہیں “
تقی اسے ساتھ لگاۓ شاٸستگی سے سمجھا رہا تھا اور اس کی آخری بات پر مالا کا دل لرز گیا وہ کسمسا کر خود کو تقی سے الگ کرنے لگی ۔
” ہممم کیا ہے اب “
تقی نے سر نیچے جھکاۓ اس کے چہرے پر نگاہییں جماٸیں ، جو ہونق چہرہ لیے بے چین لیٹی تھی ۔
” پہ۔۔پانی پینا ہے “
مالا نے آہستگی سے جواب دیا اور پھر تقی کی باہوں میں سے نکلتے ہوۓ اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی ، وہ اس سے پہلے ہی تیزی سے کہنی کے بل اوپر ہوا۔
” رکو میں دیتا ہوں پانی “
تقی پلنگ پر میز کی طرف سوتا تھا ، اب وہ تقریبًا میز کی طرف آدھا جسم گھماۓ اس کے لیے پانی جگ سے گلاس میں انڈیل رہا تھا ۔ مالا نے آہستگی سے ہاتھ بڑھا کر تقی کی جیب میں ہاتھ ڈالا ریڑھی کی ہڈی میں کپکپی سی ہوٸ ۔ تقی پانی سے بھرا گلاس تھامے اس کی طرف مڑا تو مالا نے جلدی سے جیب میں سے ہاتھ نکال دیا ۔
” لو پانی پیو “
ملاٸم سے لہجے میں مالا کی طرف پانی بڑھایا، مالا نے اسی طرح ہونق حالت میں گلاس تھاما اور تین گھونٹ میں تیزی سے پانی پی کر تقی کی طرف بڑھا دیا ۔
تقی نے مسکراتے ہوۓ گلاس کو تھاما تھوڑا سا رخ موڑے گلاس کو میز پر رکھا اور پھر اس کی طرف رخ کیا مالا پوری آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی ۔
” کیا ہوا ۔۔۔ ایسے کیا دیکھ رہی ہو ، میں تقی ہوں جن نہیں “
تقی نے ہنستے ہوۓ چھیڑا جس پر وہ اس کا ساتھ بھی نا د ے سکی
” ویسے تمہیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا ، میں بھی تو اتنا تنگ کرتا ہوں “
تقی محبت سے کہتے ہوۓ اس پر جھکا تھا ، مالا نے آہستگی سے اس کے بازو کو حصار میں لینے سے پہلے ہی روک دیا ، وہ متحوش بیٹھی تھی ۔
” کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے “
تقی نے آبرٶ چڑھاۓ تشویش ظاہر کی کیونکہ مالا کا اس کے ساتھ یہ ردعمل پہلی دفعہ تھا ۔ وہ تو اس کی تھوڑی سی جسارت پر ہی سرشار ہو جاتی تھی پر آج عجیب احساس تھا ۔
” نیند آ رہی ہے “
پھیکی سے آواز بمشکل پنکھے کی آواز میں تقی کے کانوں کو سناٸ دی ، تقی نے لب بھینچے سر کو اثبات میں ہلایا ، وہ شاٸد زیادہ گھبرا گٸ تھی آج ۔
” لیٹو سو جاٶ اور کل سے کوٸ کہانی نہیں پڑھو گی ایسی جو ذہن پر سوار ہو جاۓ “
تقی نے لیٹ کر اپنا بازو اس کے سر رکھنے کے لیے تکیے کے اوپر سیدھا کیا اور وہ ہنوز اسی طرح مضطر و بے کل آہستگی سے نیچے ہو کر اس کے بازو پر سر رکھے لیٹ گٸ ذہن میں بار بار خواب کا وہ منظر گھوم رہا تھا اس کا جیب میں ہاتھ ڈالنا ، جیب کا پھٹ جانا بٹن کا کف سے ٹوٹنا اور پھر اس کا کنویں کے بجاۓ صحن میں گرنا۔ قمیض ابھی بھی الماری میں پڑی تھی اور بٹن ایک طرف پرانے شیشے کے گلاس میں تھا جو الماری میں نلکی اور سوٸ دھاگا وغیرہ رکھنے کے لیے رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پندرہ منٹ ۔۔۔۔۔ آدھا گھنٹہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو گھنٹے ۔۔۔۔۔ ذہن شل تھا ، سوچ کر بار بار نفی کر کے ، متواتر خواب دہرا کے ۔
تقی تو پھر سے سو چکا تھا اور وہ تھی کہ تانے بانے بُنتے نیند سے کوسوں دور رہی ۔ جلتی آنکھیں فجر کی آذان تک جاگ رہی تھیں ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: