Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 22

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 22

–**–**–

کمرے کا دروازہ آہستہ سے اندر کو کھولتے ہوۓ غزالہ جیسے ہی آگے بڑھی مالا نے آنکھیں چندھیا جانے کے باعث آنکھوں کے اوپر بازو کو کہنی کے بل موڑ کر رکھا ۔ وہ پلنگ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی ، چوٹی سے نکلتے بال ، شکن آلودہ لباس ، اندھیرا کمرہ
” مالا کیا ہو گیا ہے؟ ، آج دوپہر ہونے کو ہے اُٹھ کیوں نہیں رہی ہے “
غزالہ پریشان حال سی آگے بڑھی ، پلنگ پر بیٹھی اور اس کے یوں آج کمرے میں ہی بند ہو جانے پر تشویش ظاہر کی وہ ساری رات کی جلتی آنکھوں پر بازو دھرے ساکن بیٹھی تھی۔
غزالہ نے پلنگ کے پاس آکر اس کی آنکھوں پر سے بازو ہٹایا تو منہ حیرت سے وا ہوا ، مالا کی آنکھیں رونے کے باعث سوج چکی تھیں اور متروم آنکھوں کی سفید پتلیاں ہلکی سی لالی لیے اس کی اذیت اور رتجگے کی گواہی دے رہی تھیں ۔ غزالہ کا دل ہولا کے رہ گیا
” مالا۔۔۔۔ تو رو کیوں رہی ہے ؟ “
غزالہ نے پریشان سے لہجے میں سوال کیا ، پر وہ جو بے تاثر آنکھیں لیے بیٹھی تھی ماں کو دیکھ کر پھر سے رو دی ۔ غزالہ پلنگ پر سے تیزی سے اٹھی ، ایک ہاتھ سے دیوار پر نصب سوٸچ کو دبا کر بتی جلاتی ، بیرونی دروازے کی طرف بڑھی کواڑ کو تیزی سے ایک دوسرے میں مار کر بند کیا اور مضطرب سی پلٹی ۔ پلنگ پر پھر سے اس کے پاٶں کی طرف تھوڑا سا ٹک کر اس کی طرف دیکھا جو اب بے آواز آنسو بہاۓ جا رہی تھی ۔
” مالا بے شک میں ماں ہوں لیکن جب تک تو نہیں بتاۓ گی اپنے رونے کی وجہ میں کیسے جان سکوں گی کہ مسٸلہ کیا ہے ؟ ۔۔۔ کیا تقی نے کچھ کہہ دیا ؟ “
غزالہ نے محبت سے اس کا گھٹنا تھام لیا ، مالا نے نگاہیں جھکاۓ ہی نفی میں سر ہلا دیا ، ہاتھوں کی انگلیاں وہ کچھ اس طرح سے ایک دوسرے میں پھنساۓ بیٹھی تھی جیسے خود سے ہی جنگ کر رہی ہو ۔
اور کچھ ایسا ہی تھا ، بعض اوقات انسان خود سے ہی تنگ آ جاتا ہے مالا کی زندگی بظاہر مکمل اور پرسکون تھی پر خوابوں کا یہ عجیب سلسلہ اس کی پرسکون زندگی میں بری طرح خلل پیدا کر گیا تھا وہ ہر دفعہ کی طرح اس دفعہ اپنے خواب کو جھٹک نہیں رہی تھی شاٸد اس کی وجہ رات کو سونے سے پہلے خدا سے مانگی گٸ مدد تھی وہ دعا تھی جو اس نے اللہ سے کی تھی کہ اللہ مجھے ان خوابوں سے چھٹکارا دے یا پھر کوٸ اشارہ دے کہ مجھے تو یہ خواب کیوں دکھاتا ہے۔ انہی سوچوں کے بھنور میں پھنسی وہ بےسروپا ، بے حال بیٹھی تھی جب غزالہ اسے آج باہر نا دیکھ کر اندر آ گٸ تھی ۔
” تو پھر ایسے کیوں بیٹھی ہے میرے دل کو کچھ ہو رہا ہے بتا دے کیا کوٸ نقصان کر دیا تقی کا ؟ “
غزالہ کی پیشانی ناسمجھی کی الجھی لکیریں سجاۓ ہوٸ تھی ، مالا نے ہتھیلی کی پشت سے اپنی نم ہوتی گالوں کو باری باری رگڑا اور بھیگی پلکوں کی جھالر اٹھاۓ سامنے بیٹھی اپنی ماں کو دیکھا ۔ جس کی پیشانی پر موجود شکن پریشانی کا واضح ثبوت تھے ۔
”اماں ۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔۔ بہت پریشان ہو گٸ ہوں ، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لگتا ہے۔۔۔۔۔ لگتا ہے ۔۔۔۔ میں پاگل ہو جاٶں گی “
آنسوٶں میں روندھاٸ آواز تھی ، بے حال پریشان چہرہ اس کے اندرونی کرب کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہا تھا ۔ غزالہ نے جلدی سے اس کے چہرے کو ٹھوڑی سے تھام کر اوپر کیا ۔
” مالا دیکھ مجھے سہی سے بات بتا دے میری پریشانیوں میں اضافہ مت کر “
غزالہ نے الجھن کے شکن نمودار کیے ، مالا نے لب بھینچے آنسوٶں کا گلا گھوٹا
” اماں۔۔۔۔۔رمنا آپا کو ۔۔۔۔۔ دھکا دیا تھا چھت سے وہ خود نہیں گری تھی “
مالا نے بھیگے سے لہجے میں سپاٹ چہرہ اوپر اٹھاۓ اپنے رونے کا سبب بتایا تو غزالہ نے نا سمجھی سے اس کے چہرے کو دیکھا ، ایک پل کے توقف کے بعد اس نے سلسلہ کلام وہیں سے جوڑ کر غزالہ کے سر پر حیرت کا پہاڑ توڑ دیا
” اور اماں وہ دھکا کسی اور نے نہیں تقی نے دیا تھا انہیں “
مالا اب بات مکمل کیے پھر سے رونے لگی تھی جبکہ غزالہ ایک پل کے لیے ساکن ہوٸ ماتھے پر پڑے افقی بل ذہن میں بات کو سمجھ کر مزید بڑھ گۓ اور دانت پیسے وہ ایک ہی جست میں مالا کے دونوں بازو دبوچ چکی تھی ۔
” مالا بچپن سے ہی مجھے تو پاگل لگتی تھی لیکن اب یقین ہو چلا ہے جو منہ میں آتا ہے بک دیتی ہے ، جو دل میں آتا ہے کر دیتی ہے ، تجھے اب گیارہ سال بعد رمنا کیوں نظر آنے لگی ہے ہر جگہ ، کبھی وہ موا بٹن اٹھاۓ پھرتی ہے ، کبھی راتوں کو اُٹھ کر بیٹھ جاتی ہے اور اب یہ پتا چل گیا کہ رمنا کو تقی نے چھت سے دھکا دیا تھا ، عقل کی ماری چھت پر کوٸ نہیں تھا تب یہ خواب تجھے پاگل کر دیں گے، یہ کیوں بھول رہی ہے تقی تیرا شوہر ہے “
غزالہ نے تیز تیز بولتے ہوۓ اسے جھنجوڑ کر رکھ دیا جانتی تھیں وہ ہر خواب کے بعد اس طرح کی کفیت کا شکار ہو جاتی ہے اور اب اس دفعہ تو وہ اپنے خواب کا جو نتیجہ نکال کر بیٹھ گٸ تھی اسے غزالہ نے ڈرا کر رکھ دیا ۔
” اماں مجھے خواب بلاوجہ نہیں آتے کوٸ تو وجہ ہے اور چھت پر۔۔۔۔۔۔۔ اس دن ضرور تقی تھے ، مجھے استخارہ سے سب اشارہ ہو گیا کہ رمنا آپا کیا بتا رہی ہے مجھے خواب میں آ کر “
مالا نے روتے ہوۓ نفی میں سر ہلایا اور غزالہ کی بات کی تردید کر دی ، غزالہ اس کے خوابوں سے پہلے ہی تنگ آ چکی تھی اور اب یہ سلسلہ بجاۓ تھمنے کے عجیب صورتِ حال اختیار کر گیا تھا ۔
” میں تیرا گلا دبا دوں گی اس بکواس پر ، پتا نہیں کیا گند بلا قصے کہانیاں پڑھ پڑھ کر تیرے دماغ میں خناس بھر گیا ہے “
غزالہ نے دانت پیستے ہوۓ غصے میں اسے جھاڑ کر رکھ دیا جبکہ ہاتھ واقعی میں اس کے گلا دبانے کے انداز میں آگے بڑھاۓ
” کوٸ خناس نہیں بھرا یہ دیکھ بٹن اماں اور یہ قمیض تقی نے الماری میں چھپا کر رکھی تھی ، یہ بٹن اسی قمیض کا ہے جب تقی نے دھکا دیا آپا کو تو اس کے بازو کا بٹن ٹوٹ کر آپا کی مٹھی میں قید ہوا “
مالا نے گھٹنا اُٹھایا ، کانپتے ہاتھوں سے اپنے گھٹنے کے نیچے دی ہوٸ قمیض اور بٹن غزالہ کی طرف بڑھایا اور ساتھ ہی اپنا رات کا سارا خواب غزالہ کے گوش گزار کیا ۔
” دیکھ مالا ۔۔۔۔ تو پتا نہیں کیا کیا سوچتی ہے دن بھر اور پھر وہی سب تیرے خواب بن جاتے ہیں ، رمنا کی موت کو کیوں نہیں بھول پا رہی ہے ، یہ میں نہیں جانتی پر اتنا ضرور جانتی ہوں تقی ایسا کبھی نہیں کر سکتا ، وہ تو رمنا کو سب سے چھپ کر پڑھاتا تھا اس کا خیال کرتا تھا ، ابا جی سے اپنی فیس کے پیسے زیادہ لے کر وہ رمنا کی فیس ادا کرتا تھا “
غزالہ اب کھوۓ سے لہجے میں تقی کی صفات بتاتے ہوۓ اس کی ہر بات کی نفی کر گٸ تھی ۔ مالا بھی اب بھنویں سکیڑے ماں کی بات پر ایمان لانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی پر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا رات سے لے کر اب تک وہ اس خواب کو ہزاروں دفعہ اپنے ذہن میں دہرا چکی تھی کہ وہ خواب اب خواب کم حقیقت زیادہ لگنے لگا تھا ۔ غزالہ متواتر بولے جا رہی تھی اور وہ اداس آنکھیں لیے تاک رہی تھی ۔
” اور رمنا ۔۔۔۔۔۔ ، وہ تو تقی کی ایسی دیوانی تھی کہ نا چاہتے ہوۓ بھی صرف اس کی خاطر پڑھتی تھی اس کا ہر حکم مانتی تھی “
غزالہ کی آنکھیں بھیگ گٸ تھیں اور مالا ہنوز خاموش بیٹھی تھی ، غزالہ نے دوپٹے کا پلو اٹھایا اور آنکھیں رگڑ ڈالیں مالا یک ٹک سامنے خلا میں نگاہیں جماۓ گویا ہوٸ
” اماں پر ۔۔۔۔ میرے خواب میں ، میں نے صاف دیکھا کہ چھت سے دھکا کھا کر آپا نیچے آٸیں اور وہ خواب کم حقیقت زیادہ لگ رہا تھا “
دور کسی کنویں سے آتی آواز تھی ، مالا کی سوٸ اب بھی وہیں اٹکی ہوٸ تھی ۔ غزالہ نے تاسف سے پیشانی پر ہاتھ مارا
”مالا تو سہی کہہ رہی ہے تو خود بھی پاگل ہو رہی ہے اور مجھے بھی کر دے گی ، خبردار یہ بات آج کے بعد میں نے تیرے منہ سے سنی تو ۔۔۔۔۔۔یہ یہاں ہم دونوں کے بیچ ہی ختم ، گھر والے تجھے بد دماغ تو پہلے ہی سمجھتے ہیں اب باولی کہنے لگیں گے ، پانی پڑھ کر لاتی ہوں وہ پی لے “
غزالہ نے تیوری چڑھا کر ہاتھ ہوا میں معلق کیے مالا نے منہ کھولا اور اس پہلے کہ وہ کچھ اور بولتی غزالہ جھٹکے سے اٹھ کر کمرے کے دروازے کی طرف بڑھ گٸ ۔ دروازے کے دونوں پٹ ٹھک ٹھک کی آواز پر ارد گرد دیواروں سے ٹکراۓ اور پردہ ہل کر رہ گیا ۔
کیا اماں ٹھیک کہہ رہی ہے میرا یقین کوٸ نہیں کرے گا کیا ؟ ، آپا چاہتی کیا ہیں ؟؟ ؟ کیا میں تقی سے سوال کروں اس سے پوچھوں کہ آپا کو کیوں دھکا ۔۔۔۔
وہ مضطر سی دانتوں میں لب دباۓ کچل رہی تھی ، بے دلی سی اٹھی اور قمیض اٹھا کر الماری میں رکھ دیا ۔
********
سورج ڈوب رہا تھا ، اور شام اپنے ساتھ لاٸ ٹھنڈک اب حاکم قصر کے صحن کو بخش کر تپش کم کر رہی تھی جو اس کو دوپہر نے بخشی تھی ۔
چکی کی کُو کُو کے ساتھ صحن میں لگے درختوں پر چڑیوں کے مسلسل چہچہانے کی آوازیں ایسی تھیں جیسے دن کو الودع کہنے کے ساتھ ساتھ اللہ کی بڑاٸ اور ثنا بھی کر رہی ہوں جو صبح سے شام ہونے پر قادر ہے ۔
تقی ہاتھ میں ڈاکٹری بیگ اٹھاۓ فرہاد کے پیچھے چلتا ہوا حاکم قصر کے گیٹ سے اندر داخل ہوا دونوں تیز تیز چلتے ہوۓ اٹاری کی طرف بڑھ رہے تھے ہر نفس سے بے نیاز جو صحن اور اٹاری میں روزمرہ کے کاموں میں مشغول تھے ۔
یہ فرہاد اور منہا کا کمرہ تھا جس کا پردہ سرکاتے وہ آگے پیچھے کمرے میں داخل ہوۓ اور داخل ہوتے ہی تقی کی سیدھی نگاہ سامنے پلنگ پر پڑی ، جہاں زرد چہرہ لیے پژمردہ لیٹی منہا کی آنکھیں مکمل طور پر بند تھیں ۔
وہ دو ہفتوں میں ہی کمزور اور ناتواں دکھنے لگی تھی ، حمل زاٸل ہونے کے بعد سے اس کا بخار ختم نہیں ہو رہا تھا ہر دوسرے دن وہ تاپ میں تپ رہی ہوتی تھی۔ اور آج تو حالت اتنی ابتر تھی کہ فرہاد کے ہاتھ پاٶں پھول گۓ وہ شام کو گھر واپس پہنچا تو منہا کو بستر میں تپتے پایا اور پھر فوراً تقی کے کلینک سے جا کر تقی کو گھر لے آیا ۔ تقی شہر سے واپسی پر ابھی کلینک پہنچا ہی تھا جب فرہاد بولایا سا کلینک پہنچا اور منہا کی طبیعت کے بارے میں آگاہ کیا ۔
تقی اب آہستگی سے چلتا ہوا پلنگ کے پاس آیا جہاں منہا آنکھیں موندے لیٹی تھی ۔ جھک کر اس کی کلاٸ تھامی اور ایک ہاتھ اس کی جلتی پیشانی پر دھر دیا ۔ منہا نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں اور تقی کو خود پر جھکا دیکھا ۔
” بھاٸ ۔۔۔۔ “
نحیف سی آواز اتنی مدھم تھی کہ بمشکل تقی کو سناٸ دی ، تقی اب اس کی نبض تھامے کھڑا تھا ۔ اور وہ لبوں پر زبان پھیر کر فرہاد کی طرف دیکھ رہی تھی جو تقی کے بلکل برابر میں پریشان حال کھڑا تھا۔ تقی نے جھک کر منہا کی آنکھوں کے پپوٹے اوپر کو اُٹھاتے ہوۓ آنکھوں کا معاٸینہ کیا پھر سیدھا ہوا اور فرہاد کی طرف رُخ کیا ۔
” فرہاد صبح تم اور منہا میرے ساتھ چلو شہر ، مجھے منہا کے ٹیسٹ کروانے ہیں اور ایک دفعہ ڈاکٹر تسنیم سے بھی رابطہ کر لیتے ہیں “
تقی نے سنجیدگی سے فرہاد کو ہدایت دیں ، یہ اچھا موقع تھا فرہاد سے وہ ساری باتیں کرنا کا بھی جو اس دن ڈاکٹر تسنیم نے کہی تھیں ، وہ بلقیس کے سمجھانے پر چپ سادھ گیا تھا پر آج منہا کی یہ حالت اسے پھر سے تشویش میں مبتلا کر چکی تھی ، فرہاد نے تقی کی بات پر اثبات میں سر کو جنبش دی
” بھاٸ کچھ نہیں ہوا مجھے ، ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ہلکا پھلکا بخار ہو گا تمہیں “
منہا نے آہستگی سے تقی کی طرف دیکھ کر کہا
” یہ ہلکا سا بخار نہیں ہے منہا بہت تیز بخار ہے “
تقی نے پلٹ کر خفگی سے گھورتے ہوۓ اسے جواب دیا
” ہاں تقی ٹھیک کہہ رہا ہے اور تقی مجھے اس کی شکایت بھی کرنی ہے تم سے ، یہ ڈاکٹرنی کی دی ہوٸ دوا بھی ٹھیک سے نہیں لے رہی ہے “
فرہاد نے خفگی سے ایک نگاہ منہا پر ڈالی اور پھر تقی کی طرف دیکھ کر شکوہ کیا
” منہا کیوں تنگ کر رہی ہو اتنا “
تقی نے لب بھینچے منہا کو گھور کر دیکھا جو اب غصے سے فرہاد کو دیکھ رہی تھی ۔
” بھاٸ ان کو کیا پتا ، آپ دیکھ لیں یہ پڑی ہے سنگہار میز پر دوا ہر روز کھاتی ہوں “
منہا نے روہانسے لہجے میں فرہاد کی بات کی تردید کی ، تقی نے پریشان سی نگاہیں اس پر گاڑیں ۔
” اچھا چلو اُٹھو اب یہ بخار کی میڈیسن کھاٶ پہلے “
تقی ایک طرف رکھے بیگ کی طرف بڑھا بیگ کو کھولا اس میں سے گولیاں نکال کر منہا کے پاس آیا فرہاد جگ سے پانی گلاس میں انڈیل رہا تھا ۔ اور پھر پانی کا گلاس منہا کی طرف بڑھایا ۔
تقی نے گلاس خود تھام لیا اور ہتھیلی منہا کے آگے کی جس میں چھوٹی سی گولاٸ میں سفید رنگ کی گولیاں پڑی تھیں ۔ منہا نے بیزار سی شکل بناٸ اور پھر تقی کے غصے کو بھانپتی ہوٸ اُٹھ بیٹھی ۔ تقی کے ہاتھ سے ایک ساتھ دونوں گولیاں اٹھا کر منہ میں رکھیں اور پانی کا گلاس پکڑ کر منہ کو لگا لیا ۔
” فرہاد صبح میرے ساتھ ہی نکلو گے تم دونوں ؟ “
تقی نے پیشانی پر انگلیاں رکھے دھیرے سے پیشانی مسلتے ہوۓ پاس کھڑے فرہاد سے سوال کیا ، فرہاد نے جواب کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ منہا کے بولنے پر چپ ہو گیا
” بھاٸ ابھی نہیں جانا مجھے ، اگر کل تک بخار نہیں اترا تو چلے جاٸیں گے ، مجھے ہسپتال سے کوفت ہوتی ہے گھٹن سی “
منہا کے لہجہ بیزاریت اور نقاہت لیے ہوۓ تھا
” تقی تم چلے جانا میں اسے لے آٶں گا صبح تمہیں وقت پر نکلنا ہے میں بہادر کے ساتھ گھر اکی گاڑی پر لے آٶں گا اسے “
فرہاد نے تقی کے کاندھے پر تسلی سے ہاتھ رکھے منہا کی بات کی لاپرواہی سے نفی کی جو اب شکوہ آمیز نگاہیں فرہاد پر گاڑے بیٹھی تھی ۔ تقی نے گہری سانس لیتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا اور بیگ اٹھا کر کمرے کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔
” فرہاد آپ بھی حد کرتے ہیں اتنے سے بخار کو ہوا ہی بنا لیا ، بھاٸ کو پریشان کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی آخر ؟ “
منہا نے جھنجلا کر شکوہ کیا ، فرہاد جو تقی کو باہر نکلتا دیکھ رہا تھا بھنویں اچکا کر منہا کی طرف متوجہ ہوا جو ماتھے پر بل ڈالے اسے غصے سے گھور رہی تھی ۔
” پیاری ۔۔۔بیگم تمھارے لیے یہ معمولی بخار ہو گا لیکن تم کیا جانو تمہیں اس حالت میں دیکھ کر اس دیوانے کے دل پر کیا گزرتی ہے “
فرہاد محبت پاش نگاہوں سے اسے دیکھتا ہوا پلنگ کی طرف آیا جہاں وہ اب منہ پھلاۓ بیٹھی تھی ۔
” فرہاد آپ کا کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔ “
منہا نے آہستگی سے تاسف میں سر ہلایا جب کہ وہ اب محبت سے مسکراتا ہوا اسے لیٹنے میں مدد دے رہا تھا۔
*********
فرہاد اور منہا کے کمرے سے نکل کر تقی سیدھا ، تخت کی طرف آیا تھا جہاں خدیجہ بیگم گاٶ تکیے سے پشت ٹکاۓ تسبیح کر رہی تھیں ، ایک طرف اریب سپاری کاٹ کر پان کا مصالہ تیار کر رہی تھی اور تخت سے کچھ دوری پر سکینہ اور تاری بوا دسترخوان بچھا رہی تھیں۔
” اسلام علیکم بی جی ۔۔۔ “
تقی نے خدیجہ بیگم کے پاس بیٹھتے ہی سر نیچے جھکایا جس پر خدیجہ بیگم نے ہاتھ رکھتے ساتھ ہی اس کے چہرے پر اپنا چہرہ گول گھماتے ہوۓ پھونک ماری ۔ تقی نے چہرہ موڑا ، آنکھیں سکوڑ کر سامنے صحن میں نقی کو دیکھا جو دیوار پر گیند مارتا اور اچھلتی گیند کو ہاتھ میں تھام رہا تھا اور پاس کھڑا مبین اس کی اس سرگرمی کو بغور دیکھ رہا تھا ، دونوں بچے اب کچھ کچھ بہتر ہو گۓ تھے ، باورچی خانے کے قریب غزالہ اور بلقیس ہانڈی کو چولہے سے اتار رہی تھیں ۔
” جیتا رہ ۔۔۔ لال ۔۔۔ کیا ہوا منہا کو “
خدیجہ بیگم نے گاٶ تکیے کا سہارا چھوڑ کر اوپر ہوتے ہوۓ پوچھا ۔ تقی نے شرٹ کے کف بٹن کھولتے ہوۓ آبرٶ چڑھاۓ
” بی جی بخار ہے دوا دے کر آیا ہوں ، فرہاد سے کہا ہے صبح شہر لے آۓ اسے “
تقی نے مگن سے انداز میں ،سنجیدگی سے جواب دیا ، پاس بیٹھی اریب کی تیوری ایک سو اسی کی رفتار سے چڑھی ۔
” تاپ تو چڑھے گا ہی بات تو کسی کی مانتی نہیں ہے میں نے کہا تھا کاڑھا پی روز ، پر مجال ہے اس لڑکی کے کان پر جوں تک رینگی ہو “
اریب نے نخوت سے شکوہ کیا ، منیر میاں کے معافی مانگنے کے بعد سے اریب اب کافی سنبھل گٸ تھی، تقی نے پیشانی پر ہلکے شکن ڈالے اریب کی طرف دیکھا جن کے الفاظ سے اس کے اعصاب ایک دم سے تن گۓ ۔
” پھپھو یہ کاڑھے ، کوڑھوں سے کچھ نہیں ہو گا ، میں اس کے ٹیسٹ کرواٶں گا سارے “
تقی نے لب بھینچے تیکھے لہجے میں جواب دیا ، بلقیس کے دسترخوان پر ٹرے رکھتے ہاتھ لمحہ بھر کوتھمے اور گھور کر تقی کی طرف دیکھا ۔
” بیٹا ۔۔۔۔ بے شک تو بہت بڑا ڈاکٹر بن گیا پر ہم نے بھی بال دھوپ میں سفید نہیں کیے ، کیوں اماں ؟ ؟ تو بتا ، کاڑھا کیسا مفید ہے اس حالت میں اور اجواٸن کا پانی “
اریب نے ناک سکیڑے غصے سے ایک نظر تقی کو دیکھا اور پھر خدیجہ بیگم کی طرف دیکھا جو اس کی بات کی تاٸید پر سر ہلا رہی تھیں ۔
تقی نے ضبط سے لب بھینچ کر پلکیں جھکاٸیں اور ایک دم سے تخت سے اُٹھ کر اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھا دیے ۔ ایک ہاتھ میں بیگ تھامے کمرے میں داخل ہوا تو سب سے پہلے سامنے پلنگ پر لیٹی مالا پر نگاہ پڑی ، وہ گہری نیند سو رہی تھی ۔ کروٹ لیے دونوں ہتھیلوں کے اوپر گال دھرے سوتی ہوٸ وہ اسے ٹھنڈک جیسا احساس دے گٸ ، پنکھے کی تیز ہوا سے بالوں کی لٹیں بار بار اس کے گداز گالوں کو چھو رہی تھیں ۔
مالا کے دلفربیندہ چہرے کو دیکھتے ہی اس کے تنے ہوۓ اعصاب پرسکون ہو گۓ ۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا پلنگ تک آیا اور اس کے پاس بیٹھ کر نرم سی نگاہ اس کے چہرے پر جما دی ۔ اندھیرا پھیلنے لگا تھا اور باہر برانڈے سے کھانا لگ گیا کہ صداٸیں ابھرنے لگیں ۔
” مالا ۔۔۔ اُٹھو آج یہ کس وقت سو رہی ہو؟ “
تقی نے آہستگی سے اس کی گال پر ہاتھ رکھ کر اس کو تھپ تھپایا ، اُس نے کسلمندی سے سوزش زدہ پپوٹے اُٹھاۓ ، جیسی ہی نیلی پتلیوں والی آنکھیں وا ہوٸیں ، سامنے کے منظر پر ٹھٹھک کر منجمند ہوٸیں ، تقی دلفریب مسکراہٹ سجاۓ اس کے اوپر جھکا اسے اٹھنے کا کہہ رہا تھا ۔
تقی کا چہرہ کتنا خوبرو تھا ، سیاہ روشن آنکھیں ، گھنی بھنویں جن کی بناوٹ اس کی آنکھوں کی لمباٸ میں اضافہ کرتی تھی ، کشادہ پیشانی پر ہر وقت گرے سیدھے سیاہ بالوں کی چند لٹیں ، کھڑی سی رعب دار ناک کوٸ شک نہیں تھا اس بات پر کہ وہ خوبصورت مردوں میں شمار ہوتا تھا پر بعض اوقات خوبصورت چہروں کے پیچھے کیسے کیسے بھیانک روپ چھپے ہوتے ہیں ، مالا کا دماغ اس کے چہرے کے پیچھے چھپے بھیانک چہرے کو سوچ رہا تھا ۔ اور وہ محبت سے اسے دیکھ کر سارے دن کی تھکن کو اتار رہا تھا جس نے اس کی بے رنگ زندگی میں رنگ بھر دیے تھے ۔
خبر ہی نا ہوٸ کب وہ اس چھوٹی سی لڑکی کو اپنے دل کی گہراٸیوں میں محسوس کرنے لگا ، دن بھر کی مصروفیت میں بھی جب کبھی وہ یاد آتی لبوں پر میٹھی سی مسکان اور دل میں گدگدی جیسی لہر دوڑ جاتی ۔ سچ تو یہ تھا اس کے دل میں یہ شدید محبت پیدا کرنے میں زیادہ ہاتھ مالا کا ہی تھا وہ جس طرح اس کی فکر میں رہتی تھی اور محبت کرتی تھی تقی کا دل زیادہ عرصہ اس سے لاپرواہی نا برت سکا ۔
” کیا ہوا ۔۔ ؟ کل رات سے دیکھ رہا ہوں مجھے بس دیکھے ہی جا رہی ہو ، کچھ کہنا ہے کیا ؟ “
تقی نے اچانک اس کے دیکھنے کے انداز کو بھانپ کر سوال کر دیا ، وہ جو کل رات سے ہی الجھی ہوٸ تھی ، اس کے یوں بھانپ لینے اور ذہانت پر گڑبڑا گٸ ۔
” کچھ نہیں ۔۔۔ “
آہستگی سے جواب دیتے ہوۓ اس کی سوالیہ نظروں سے نظریں چراٸیں اور پھر ہاتھوں کا سہارا لے کر اٹھ بیٹھی ، کیا بتاتی وہ کل رات سے اسے اپنے من کا میت نہیں اپنی بڑی بہن کا قتل سمجھ کر سوچ رہی ہے ۔
” آج میرے آنے سے پہلے تیار بھی نہیں ہوٸ طبیعت ٹھیک ہے نا “
تقی نے اس کے بےسروپا حلیے کو جانچتے ہوۓ سوال کیا اور پھر اس کے ماتھے پر ہاتھ دھر دیا ۔ مالا کسمسا گٸ ، اسی لمحے پردہ سرکا اور ارحمہ جھٹ سے کمرے میں ننگے پاٶں تھپ تھپ مارتی داخل ہوٸ ، تقی فوراً سے ہاتھ ہٹا کر پلنگ سے اٹھ کھڑا ہوا
” تقی ، بھاٸ ، آپا ۔۔۔آجاٶ کھانا لگ گیا ہے ، دا جی بلا رہے ہیں سب کو “
ارحمہ نے تیزی سے کہا اور پھر اُسی رفتار سے باہر بھی نکل گٸ جس رفتار سے اندر داخل ہوٸ تھی ۔
” چلو میرے کپڑے نکال دو ، تم چلو میں بس کپڑے بدل کر آیا “
تقی نے میز کے پاس رکھی کرسی کو کھسکا کر بیٹھتے ہوۓ حکم صادر کیا اور جوتے اتارنے کی غرض سے جھک گیا اور وہ اسی طرح بے تاثر چہرہ لیے اٹھ کر کپڑوں کی الماری کی طرف بڑھ گٸ ۔
***********
حاکم قصر میں رات کے گھپ اندھیرے کو بس صحن میں جلتے بلب کی روشنی چیر رہی تھی ، قندیل بچاری یونہی مٹی اور تیل سی اٹی اب فوارے پر لٹکتی رہتی تھی جس کو بس بتی جانے کے بعد ہی روشن کیا جاتا تھا ، رات کی اس خاموشی میں جھینگروں کی جھیں جھیں آوازیں مسلسل راگ آلاپ رہی تھیں ، باورچی خانے کے بلب کی پیلی سی روشنی میں دو ہاتھ کانپتے ہوۓ چھوٹی سفید کاغذ کی پُڑی کو کھول رہے تھے ۔ کاغذ کی تہہ کو کھولتے ہی مٹیلے سے رنگ کے سفوف کو کاپنتے ہاتھوں سے سفید دودھ میں پھینکا سفوف کے ذرات ایک پہاڑ کی شکل میں دودھ پر گرے اور پھر کناروں سے دودھ میں گھلنے لگے ۔
کانپتے ہاتھوں نے اب چاندی چمچ کو اٹھایا اور چاندی رنگ چمچ تانبے کے بڑے گلاس میں موجود سفید دودھ کے اندر آہستہ آہستہ گھومنے لگا ، چمچ گلاس کی دیواروں سے ٹکرا کر ٹن ٹن کی آواز پیدا کر رہا تھا جو باورچی خانے کی خاموشی میں جھینگوں کی جھیں جھیں کے ساتھ مل کر ارتعاش پیدا کر رہی تھی ۔
گلاس میں چمچ چلانے والے ہاتھ دودھ میں ڈالے گۓ سفوف کو کچھ اسطرح سے گھول رہے تھے کہ سفوف کے ذرات دکھنا بند ہو جاٸیں۔
ٹن۔۔۔نن۔۔ن۔ن۔ ٹن۔ن۔ن ۔۔۔۔۔۔۔
*******
مالا نے صحن میں اُٹھتے شور پر قدم باہر نکالے تو صحن پہلے ہی تمام مکینوں سے بھرا پڑا تھا اور صحن کے وسط میں دنگل ہو رہا تھا ۔ کچھ لوگ سہم کر کھڑے تھے ، کچھ چیخ چیخ کر نا مارنے کا صداٸیں بلند کر رہے تھے ۔
پورے صحن میں نقی کے بلکنے کی آوازیں تھیں اور تقی کے جھانپڑ کی جو وہ اس کی پشت پر رسید کر رہا تھا وہ آٹھویں جماعت میں دوسری دفعہ فیل ہوا تھا ۔ اور تقی تو جیسے اس پر برس پڑا ۔
” بھاٸ ۔۔۔۔بھاٸ ۔۔۔ معاف کردو “
نقی اپنا بازو اٹھاۓ اس کی مار سے بچنے کی کوشش میں بےحال تھا پر تقی تو جیسے ہوش و حواس کھوۓ ہوا تھا ۔ نا کسی کی سن رہا تھا نا نقی کو چھوڑ رہا تھا ، ستون کے پاس کھڑی مالا کا چہرہ ایک دم سے ذہن میں ابھرتے خیال کے باعث لٹھے کی طرح سفید پڑا وہ گہرے سانس اندر باہر انڈیلتی کمرے میں آٸ ۔
ذہن سو کی رفتار پر سوچ کی پھرکی گھمانے لگا ، تقی نے کہیں رمنا آپا کو بھی پڑھنے سے انکار پر چھت سے دھکا تو نہیں دے دیا تھا ، تقی پڑھاٸ کے لیے جنونی ہے دل تیزی سے خوف میں دھڑکنے لگا سارے منظر آنکھ کے پردے پر ۔۔۔ گھومنے لگے
کیوں؟ ۔۔۔ کیوں؟ ۔۔۔ کیوں ؟ کا سوال جو تین دن سے دماغ کی نسیں دکھانے لگا تھا اس کو ایک جواب اب کچھ بہتر لگنے لگا ، تقی کہیں رمنا آپا پر غصہ ہو رہا ہو گا اور دھکا ۔۔۔
ماتھے پر پسینہ آنے لگا ، کانپتے ہاتھوں سے پسینہ صاف کیا اور پلنگ پر بیٹھ کر تکیے کو گود میں رکھ لیا ۔
********
تیز دھوپ ، جمعہ کی نماز کے بعد حاکم قصر کے تمام مکین اپنے اپنے کمروں میں سستانے کو لیٹ چکے تھے ، بس تخت سے پاس ایک کمرے میں سے کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہی تھیں۔
سفید ململ کے پردے کے بلکل پیچھے ، کمرے میں فرش پر نیا چمچاتا پلنگ ، اور ایک طرف دیوار کے ساتھ لگا جدید طرز کا ابھرے سے پھول اور نقش و نگار والا گہرے بھورے رنگ کا سنگہار میز کمرے کو خوبصورتی بخش رہا تھا ، تقی کہنیوں تک قمیض کی آستین چڑھاۓ پلنگ کو دیوار کے ساتھ لگا رہا تھا ۔
سفید رنگ کی قمیض پر جگہ جگہ مٹی کے نشان تھے ، لڈن اور بہادر کمرے تک تو فرنیچر چھوڑ گۓ تھے مگر باقی ساری ترتیب اس نے اکیلے نے ہی دی تھی اسی لیے پیشانی پر پسینے کے ننھے قطرے پنکھے کی ہوا میں بھی نمودار تھے ۔
کچھ قدم کی دوری پر کھڑی مالا ، افسردہ سے چہرہ لیے اپنے اندر خوشی کو تلاش کر رہی تھی جو اس وقت اسے محسوس ہونی چاہیے تھی پر کیوں نہیں ہو رہی تھی ۔ ہلکے نیلے رنگ کے جوڑے میں چہرہ پژمردہ سا لگ رہا تھا ، ایک ہفتے کے رتجگوں نے آنکھوں کے گرد ہلکے گندمی رنگ کے حلقے بنا دیے تھے
غزالہ کے بھاٸیوں نے مالا کے لیے داج کا کچھ سامان بھیجا تھا جو اب چار ماہ بعد کمرے کی زینت بن رہا تھا اور مالا جس نے پتا نہیں اس لمحے کا دن گن گن کر انتظار کیا تھا اب اس خوشی کی متلاشی تھی جو اس لمحے اسے خود سے زبردستی کرنے پر بھی محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔ تقی ہاتھ جھاڑ کر مسکراتا ہوا مالا کے پاس آیا ۔
” ہاں اب بتاٶ تو ٹھیک ہے ایسے ہی کہہ رہی تھی نا تم “
تقی نے ہنستے ہوۓ ایک نگاہ پلنگ کی طرف اور پھر اس کی طرف دیکھا جو مضطر سی کھڑی تھی اور اب تقی کی بات پر چونکی ۔
” ہم۔م۔۔م۔م۔م۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔“
مختصر جواب ، مدھم سی حلق سے آواز برآمد ہوٸ ، تقی نے پیشانی پر بل ڈالے گھور کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔ اس کو کیا ہو گیا تھا ایک ہفتے سے وہ تھک چکا تھا اس سے پوچھ پوچھ کر پر وہ ڈھیٹ تھی کوٸ جواب نہیں دے رہی تھی بس ٹال مٹو ، مالا کے اس رویے کو وہ جانچ رہا تھا ، گم صم ، پریشان ، اس سے دوری بناتی مالا ایک ہفتے پہلے والی مالا سے یکسر مختلف تھی ۔
کنپٹی کی رگیں ابھریں اور پھر تقی نے ایک دم سے اس کا بازو کھینچ کر اسے پلنگ پر بیٹھایا ۔
” بتاٶ مجھے مسٸلہ کیا ہے ایک ہفتے سے تمہیں “
تقی نے غصے سے اونچی رعب دار آواز میں پوچھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: