Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 23

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 23

–**–**–

مالا تقی کے یوں چیخنے پر گھبرا گٸ ، ایک ہفتے میں ایک ہی خواب کو سوچ سوچ کر ذہنی بیمار کی سی کفیت میں مبتلا ہو چکی تھی ، غزالہ سے دل کا بوجھ ہلکا کرنے جاتی تو وہ اس سب کو اس کے دماغ کا خلل اور خود سے گھڑی کہانی کہہ کر چپ رہنے کا حکم صادر کر دیتی ۔
تقی تیوری چڑھاۓ کچھ یوں کھڑا تھا کہ کنپٹی کی رگیں تن کر باہر کو اُبھر رہی تھیں تو لبوں کے نیچے دانت غصے سے پیوست تھے ۔ مالا سر جھکاۓ کانپ اُٹھی اس کو ضبط کی آخری سیڑھی پر لا کھڑا کرنے والی وہ خود ہی تو تھی ، تقی تو ایک ہفتہ سے بڑی محبت و اپناٸیت کے ساتھ اس سے گم صم رہنے کا سبب دریافت کر رہا تھا جس کا جواب وہ چاہ کر بھی نہیں دے پا رہی تھی اور اس کا نتیجہ کچھ یوں نکلا کہ وہ تقی کے خلاف اپنے ذہن میں کتنے ہی خیال اور دل میں کتنے ہی وسوسے پال چکی تھی ۔
” مالا۔۔۔۔ تم مجھے غصہ دلا رہی ہو “
مالا کی ہنوز خاموشی کے باعث وہ جھنجلا کر گویا ہوا ، دو قدم کا فاصلہ عبور کیا اور پلنگ پر اس کے کندھے سے کندھا ملاۓ بیٹھ گیا جو سر جھکاۓ اپنی ہتھلیوں پر نگاہیں ٹکاۓ ہوٸ تھی ۔
” تم کس بات کو لے کر پریشان رہنے لگی ہو ؟ کیا مجھ سے کوٸ شکایت ہے تمہیں ؟ ؟ ؟ “
اگلا سوال کیے وہ پھر سے اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں تاہنوز اضطرابی کیفیت رقم تھی ۔
” بولو بھی اب مالا ، کیا ہوا ہے تمہیں ؟ “
تقی نے اس کے گھٹنے پر دھرے ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام لیا تھا ، دوسرے ہاتھ سے اسکی ٹھوڑی کو تھام کر چہرہ اپنی طرف گھمایا ، وہ پلکیں گراۓ ہوٸ تھی پر چہرہ کرب کی عکاسی کر رہا تھا ۔ حلقے واضح تھے ، زرد رنگت ، گلاب کی طرح کھلا چہرہ آج مرجھایا ہوا تھا اور پھر مالا کی پلکیں کپکپاٸیں اور لب وا ہوۓ
” کچھ ۔۔۔ نہیں ہوا بس طبیعت ٹھیک ۔۔۔“
مالا نے وہی جواب دہرایا جسے وہ اتنے دن سے سن سن کر اکتا چکا تھا اور اب پھر سے اس کے بےتاثر لہجے سے کہے گۓ اس جملے نے تقی کے اعصاب شل کر دیے ۔ اس نے ایک جھٹکے سے اس کا چہرہ چھوڑ ۓ کندھوں سے تھام کر اسے اپنی طرف گھمایا۔
” ہوا ہے کچھ ۔۔۔۔ پاگل سمجھ رکھا ہے اس دن سے پوچھ رہا ہوں ہر بات کرتی ہو مجھ سے اب کیا ایسا ہے جو مجھے بتا تک نہیں رہی تم “
تقی نے جھنجوڑ کر رکھ دیا ، وہ خوف سے آنکھیں کھولے اب تقی کی طرف دیکھ رہی تھی ، تقی کا غصہ جہاں خوف کو بڑھا رہا گیا تھا ، وہاں ذہن میں ایک اُبال سا چڑھنے لگا ۔ ایک عجیب سی ہمت جسے وہ سمیٹ کر یکتا کر رہی تھی ۔ اور پھر وہ پھٹ پڑی کہ تقی بھوچک گیا
” رمنا آپا کو کیوں دھکا دیا تھا چھت سے ۔۔۔۔ ؟ “
وہ دونوں ہاتھوں کی مٹھایاں بھینچے پلنگ سے اٹھ کر چیخ اٹھی ، اور وہ ہونق بنا اس کی بات سے زیادہ اس کے انداز پر ششدر تھا ۔
” آپ نے میری رمنا آپا کو چھت سے دھکا دیا تھا وہ گری نہیں تھی “
مالا نے چیخ کر انگلی کا اشارہ تقی کی طرف کیا جو اب اس کے انداز سے اس کے کہے گۓ جملے پر الجھ گیا تھا ۔
”کیا ؟ ۔۔۔۔کیا ۔۔۔ بکواس کر رہی ہو ؟ دماغ ٹھیک ہے “
تقی نے حیرت میں غرق لہجے میں پوچھا ، آواز متحوش ہونے کی وجہ سے بہت پھیکی تھی ، آڑی ترچھی ہوتی بھنوں کے نیچے سیاہ آنکھیں پوری کھلی تھیں ، ابھی تک اس کے انداز کی حیرت ختم نہیں ہوٸ تھی کہ اس کے جملے پر وہ الجھا سا اُٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔
” بکواس نہیں کر رہی ہوں سب جان گٸ ہوں میں ، اللہ تعالی نے سب بتا دیا مجھے کہ مجھے وہ خواب کیوں آتے تھے “
مالا آنسو سے رندھاٸ بھاری آواز میں ہاتھ کھڑا کیے کہتی ہوٸ پلٹی اور پھر تیز تیز چار قدم اُٹھاتی لکڑی کی دیوار میں نصب الماری تک پہنچی ، جھٹکے سے الماری کا پٹ کھولا اور قمیض کو مٹھی میں دبوچ کر پلٹی ، تقی کے سامنے جا کر ایک جھٹکے سے قمیض کو کھولا
” یہ آپکی کی قمیض ہے ؟ “
تن کر سوال کیا ، اب سب بول ہی دیا تھا تو ہمت بھی تو دکھانی تھی ، آخر کو تقی ہے بتا سکتا تھا کہ رمنا آپا کی روح کو سکون کیوں نہیں اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی ، وہ کیوں مالا ہی کو تقی کی سچاٸ سے آگاہ کر رہی ہے ، تقی نے قمیض پر نگاہ جماٸ اور آنکھیں سکیڑ کر تیوری چڑھاٸ
” پہچانیں یہ وہ قمیض ہے جو فرزانہ آپا نے آپ کو ان کی شادی سے پہلے کاڑھ کر تحفہ میں دی تھی “
مالا نے قمیض کو ہاتھ میں پکڑے ہوا میں جھلایا تقی نے اسی طرح متحیر انداز میں ہاتھ بڑھا کر قمیض کو تھاما بغور قمیض کو دیکھتے ہوۓ اس کی پھٹی جیب کو اٹھا کر سیدھا کیا ۔
فرزانہ کا نام لینے پر اسے قمیض تو یاد آ گٸ تھی ساتھ ہی گزرا لمحہ بھی آنکھوں کے پردوں پر ایک فلم کی صورت چلنے لگا۔ فرزانہ اسی کمرے اس کے سامنے کرسی پر براجمان تھی اور وہ قمیض کو ہاتھ میں تھامے میز سے کہنی ٹکاۓ دوسری کرسی پر ان کے سامنے بیٹھا تھا ۔
” تقی ۔۔ یہ قمیض میری شادی پر پہننا اچھا ، میرے ویر کا رنگ گورا ہے جچ جاۓ گی “
فرزانہ نے اس کے ہاتھ میں پکڑی قمیض پر نگاہ جماۓ ، چہکتے ہوۓ فرماٸش کی تھی ، تقی نے قمیض کو ایک نظر دیکھا سر اُٹھایا
” آپا اس کا رنگ تو دیکھو ، پتا تو ہے میں کہاں ایسے لڑکیوں کے جیسے رنگ پہنتا ہوں “
تقی نے خفیف سے ہنسی کے ساتھ قمیض کو دیکھتے ہوۓ جواب دیا ، فرزانہ نے خفگی سے پیشانی پر شکن ڈالے اسے گھورا تھا جس نے اس کا دل ہی توڑ دیا تھا ۔
” کیا براٸ ہے اس رنگ میں ، ہلکا سا تو ہے اور تجھ پر تو ہر رنگ کھل جاتا ہے جھلے “
فرزانہ اپنے مخصوص انداز میں اس کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی ۔ جبکہ تقی اب بھی قمیض کے رنگ کو لے کر گردن کھجا رہا تھا ۔
” چل میں جاتی ہوں ۔۔۔ پہن لیجیو میرا ویر ۔۔۔ “
فرزانہ جھٹ سے کچھ یاد آ جانے پر اپنی جگہ سے اُٹھی تھی اور پھر باہر نکل گٸ تھی ، کمرے کے کواڑ کے آگے لٹکتا پردہ تقی کے کی یاد کو معدوم کر گیا اور حال میں آتے ہی اس نے مالا کی طرف دیکھتے ہوۓ مضطرب سے لہجے میں جواب دیا ۔
” ہاں یہ میری قمیض ہے پر ۔۔؟ “
تقی نے بھنویں سکیڑے پریشان سے لہجے میں بات شروع کی کہ وہ تپاک سے دو قدم آگے بڑھ کر اس کی بات کو کاٹ گٸ
” ہاں یہ جانتی ہوں میں بھی آپ کی قمیض ہے ، آپ نے اس دن ولیمے کے روز یہ پہنی تھی ، آپ نے کیوں دیا تھا اس دن میری آپا کو دھکا ، ان کی روح کو اک پل سکون نہیں ہے “
مالا چیخ کر پوچھ رہی تھی یوں جیسے ایک ہفتے سے ذہن میں ابلتا لاوا اب پھٹ کر بہہ رہا ہو ، تقی نے سراسیمگی کی حالت میں مالا کی طرف دیکھا ، رمنا کو دھکا یہ سب کیا کہہ رہی تھی وہ حیرت تھی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی دماغ ابھی تک کسی بات کو سہی سے نا تو سمجھ پا رہا تھا اور نا ہی قبول کر رہا تھا اس وقت تو اسے اپنے سامنے کھڑی مالا پاگل لگ رہی تھی ۔
” مالا کیا بولے جا رہی ہو ؟ کیا رمنا آپا کو دھکا یہ قمیض میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تمہیں ہو کیا گیا ہے ؟ “
تقی نے قمیض کو ہاتھ میں پکڑے حیرت اور پریشانی کے ملے جلے تاثر سے اس کی طرف دیکھا جو کسی خونخوار چڑیل کی طرح تیز تیز سانس اندر باہر انڈیلتی اس پر پھٹ پڑی تھی ۔
” اگر یہ قمیض آپ کی ہے آپ کو یہ یاد آ چکا ہے تو یہ بھی جانتے ہوں گے کہ رمنا آپا کو چھت سے دھکا آپ نے دیا تھا اور اس قمیض کی یہ جیب اور یہ بٹن “
مالا نے ہتھیلی کو کھول کر تقی کے سامنے بٹن کیا وہ اسی طرح ہکا بکا اسے دیکھے جا رہا تھا جو پتا نہیں کیا کہے جا رہی تھی ۔
” یہ بٹن میں نے ۔۔۔ میں نے خود اٹھایا تھا آپا کی ہتھیلی سے جب وہ چھت سے نیچے گری تھیں ۔۔۔ یہ بٹن اسی قمیض کے کف سے ٹوٹ کر ان کے ہاتھ میں رہ گیا تھا “
وہ بول رہی تھی اور تقی متحوش کھڑا اسے سن رہا تھا وہ مسلسل اسے شروع سے آخر تک کی داستاں سنا رہی تھی انداز ایسا تھا جیسے صدیوں سے کسی قیدی کو رہاٸ ملی ہو۔ وہ آخری رات کا خواب سناۓ اب پھٹی آنکھوں سے تقی کو تاک رہی تھی جو حیرت کا مرقع بنا مجسم کھڑا تھا ۔ ماضی کے لمحے پھر سے ذہن کی گہراٸیوں سے اوپر کو ابھر رہے تھے ۔
رمنا گھبراٸ سی اس کے کمرے میں داخل ہوٸ تھی ۔
” تقی ۔۔۔۔ سنو ۔۔۔“
” ہاں کیا ہوا ایسے کیوں گھبراٸ ہوٸ ہو بولو “
تقی نے بالوں میں کنگھی چلاتے ہوۓ مصروف لہجے میں پوچھا ، وہ کمرے میں لگے آٸینے کے سامنے کھڑا تھا ۔
” تقی تم سے بات کرنی ہے بہت ضروری ہے “
رمنا اضطراب کی کیفیت میں دونوں ہتھیلیوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنساۓ کھڑی تھی ۔
” ہاں تو کرو “
تقی نے کھیڑی کو پاٶں میں پہنتے ہوۓ پوچھا
” نہیں وہ بات یوں یہاں کرنے والی نہیں ہے ، آس پاس اتنے مہمان ہیں ، میں چھت پر جا رہی ہوں تم اوپر آجانا کچھ دیر میں ۔۔۔ میں انتظار کر رہی ہوں تمھارا “
رمنا نے الجھے سے لہجے میں اسے اوپر آنے کا کہا ، تقی نے اس ساری بات چیت کی دوران پہلی دفعہ سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا وہ واقعی پریشان لگ رہی تھی ۔ ہلکے سے گلابی جوڑے میں اسکی دودھیا رنگت زرد سی لگ رہی تھی ۔
” تقی ۔۔۔۔۔۔ بات سننا ذرا کی ذرا “
باہر سے زیب کی آواز ابھری جو شاٸد پھر سے کسی کام کے لیے تقی کو پکار رہی تھی ۔
” ایک تو یہ زیب پھپھو ۔۔۔ “
تقی نے جھنجلا کر کہا اور پھر گہری سانس لیتے ہوۓ جواب کے انتظار میں کھڑی رمنا کی طرف دیکھا
” تم چلو میں ابھی آتا ہوں ۔۔ اور جہاں تک مجھے شک ہے تو میں جانتا ہوں تم کیا کہنے والی ہو“
تقی نے آبرو چڑھاۓ افسردہ سی مسکراہٹ سجاٸ
” نہیں تقی ۔۔۔ تمہیں نہیں معلوم مجھے کیا بات کرنی ہے ، میں پریشان ہوں “
رمنا نے زرد چہرے کا ساتھ التجا کی ،
کواڑ دھاڑ سا بجا اور زیب پھپھو غصے سے منہ پھلاۓ کمرے میں داخل ہوٸیں
” تقی سن لے آکر بات کتنی منتیں کرواۓ گا ، تیرے اسلم پھپھا بلا رہے ہیں “
رمنا نگاہیں جھکاۓ کمرے سے باہر نکل گٸ تھی ، تقی نے زیب پھپھو کی طرف دیکھا جو ماتھے پر بل ڈالے اب غصیلی سے نگاہ سے ہلتا پردہ دیکھ رہی تھیں ۔
” جی پھپھو چلیں میں تیار ہوں بلکل “
تقی نے زیب کو کہا جو اب اس کی طرف گردن موڑ چکی تھیں ۔
” ہاں جاٶ وہ فرہاد کے کمرے میں تیار ہو رہے ہیں کوٸ کام ہے شاٸد “
زیب نے ہاتھ کے اشارے سے اسے فرہاد کے کمرے کی طرف جانے کا کہا ، تقی سر ہلاتا ہوا کمرے سے باہر نکلا باہر کی گہماگہمی سے نکلتا وہ فرہاد کے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔ سامنے ہی اسلم سفید کاٹن کے کلف لگے قمیض شلوار میں اکڑا کھڑا گیلے بالوں میں کنگھی پھیر رہا تھا ۔
” جی پھپھا آپ نے بلایا تھا “
تقی نے سوالیہ نگاہیں سامنے کھڑے اسلم پر ڈال کر پوچھا ، اسلم کی حثیت حویلی میں کچھ ایسی ہی تھی اسے ایک الگ ہی اہمیت دی جاتی تھی ۔
”ہاں تقی ۔۔۔ ادھر آٶ یار یہ چابی لے اور بھاگ کر جا جیپ کی ڈگی سے میری کھیڑی نکال لا ، سب نے وہ پہنی ہے میں بھی کھسے کے بجاۓ وہی پہنتا ہوں “
اسلم نے عجلت میں کہتے ہوۓ جیپ کی چابی تقی کی طرف بڑھاٸ ، زیب پھپھو کی طرح اسلم میاں کو بھی عادت تھی اپنے چھوٹے چھوٹے کام بھی دوسروں سے کروانے کے تقی نے چابی تھامی اور قدم حویلی کے گیٹ کی طرف بڑھا دیے کیونکہ جیپ باہر سڑک پر بسوں کے پاس کھڑی تھی اور جب تک وہ جیپ کے پاس جا کر وہاں سے کھیڑی لے کر واپس لوٹا تھا ۔
صحن میں بھونچال برپا تھا ، رمنا کو بازٶں میں اٹھاۓ نقیب حاکم گیٹ کی طرف آ رہے تھے اور سب مرد ساتھ ساتھ بھاگ آ رہے تھے ۔ تقی بھی پریشان سا نا سمجھی میں ساتھ بھاگ پڑا تھا ۔
” آپ نے کیوں مارا میری آپا کو تقی آپ اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہیں “
مالا اب چہرے کو ہاتھوں میں چھپاۓ سسک اُٹھی ، اس کے یوں سسکنے پر تقی چونک کر ماضی کے گزرے لمحے کی یاد سے حال میں واپس آیا اور اب بے یقینی سے مالا کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
” مالا ۔۔۔۔ میں نے رمنا کو کوٸ دھکا نہیں دیا تھا ، تم ایک خواب کی بیناد پر کیا سے کیا سوچے بیٹھی ہو ، مجھے حیرت ہو رہی ہے یہ وہ بات ہے جو ایک ہفتے سے تمھاری اس حالت کا جواز بنی ہوٸ تھی “
تقی نے متحیر لہجے میں کہا وہ ابھی بھی اچنبھے کی کفیت میں اسے شاکی نگاہوں سے گھور رہا تھا یوں جیسے اس کی دماغی حالت پر شبہ گزرے ، مالا نے چہرے پر سے ہاتھ نہیں ہٹاۓ تھے ۔
” اور یہ قمیض جس کی تم بات کر رہی ہو یہ تو کبھی میں نے پہنی تک نہیں اور میں تو چھت پر گیا ہی نہیں تھا ہاں البتہ رمنا نے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
تقی نے قمیض آگے کرتے ہوۓ شکن آلودہ پیشانی سے اب مالا کی طرف دیکھا جو بے یقینی سے اسے تاک رہی تھی ۔
اور پھر بات کرتے کرتے وہ مبہوت ہوا ، رمنا کی آواز دماغ کی دیواروں سے ٹکراٸ
” نہیں تقی ۔۔۔ تمہیں نہیں معلوم مجھے کیا بات کرنی ہے ، میں پریشان ہوں “
وہ واقعی میں ایک لمحے کے لیے ٹھٹھک گیا ، رمنا کی یہی تو وہ ادھوری بات تھی جس نے اس کے گزر جانے کے بعد اسے تکلیف میں مبتلا رکھا تھا ، کہ وہ ایسا کیا کہنا چاہتی تھی مجھ سے کیا وہ اتنی پریشان تھی پڑھاٸ کو لے کر کہ وہ چھت سے ہی گر گٸ تھی ۔ وہ اس کی اس ادھوری بات کو کہاں کہاں نہیں جوڑتا تھا پر تھک ہار کر کوٸ سرا بھی ہاتھ نہیں آتا تھا ۔ پر آج مالا کی عجیب و غریب ، نا قابل یقین باتوں نے اسے الجھا دیا تھا ۔
” جھوٹ بول رہے ہیں آپ ، قمیض آپ کی تھی ، آپ کی الماری سے نکلی ، آپ کیسے کہہ سکتے ہیں آپ نے یہ پہنی نہیں تھی ، اور کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا یہ جیب پھٹی یہ بٹن ٹوٹا ہوا “
مالا نے پاگلوں کی طرح اپنی بات کی وضاحت دی ، وہ بدحواس سا اسے دیکھ رہا تھا ، دماغ مفلوج ہو رہا تھا آخر کو سامنے بیٹھی مالا گیارہ سال بعد یہ سب کہانی اس طرح کھول کر کیوں بیٹھ گٸ تھی ، لیکن مالا کی حالت تشویش ناک تھی
” مالا۔۔۔۔۔ مجھے تو لگ رہا ہے یہ سب تم نے خود کیا ہے قمیض کے ساتھ ، تم پاگل ہو گٸ ہو یہ قمیض تو میں نے کبھی نہیں پہنی اس کی حالت ایسے کیسے ہو سکتی ہے “
تقی نے تاسف سے سر ہوا میں مارتے ہوۓ پوچھا ، مالا کی بات پر تو عقل یقین نہیں کر رہی تھی پر یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ مالا جو کہانیاں پڑھتی رہتی ہے یہ سب ان کا اثر ہو ، مالا امتحانات کے بعد پھر سے رسالے پڑھ رہی تھی اکثر رات کو جب تقی اپنا کام کرتا تھا تو وہ رسالے پڑھتی تھی جس سے تقی نے اسے اب کبھی منع نہیں کیا تھا ، شاٸد وہ یہ سب انہی کہانیوں کے دماغ خراب ہونے کی وجہ سے کر رہی ہو ۔۔۔۔۔ وہ اب پریشان حال مالا کی طرف دیکھ رہا تھا پر وہ جواب میں چیخ اُٹھی
” میں کیوں کروں گی ایسا ؟ ۔۔۔۔ میں نے نہیں کیا یہ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ قمیض اسی حالت میں مجھے ملی تھی آ۔۔آ۔۔۔آپ کی کتابوں کی الماری میں سے میں سچ کہہ رہی ہوں “
مالا نے غصے میں اپنی بات کی وضاحت دی ، تقی ایک پل کے لیے خاموش ہوا پھر بغور قمیض کی طرف دیکھا ، وہ جس طرح رو رہی تھی اور جس طرح خوابوں کا ذکر کر رہی تھی وہ الجھ تو رہا تھا پر عقل یہ سب ماننے سے انکاری تھی ۔ اس نے یہ قمیض فرزانہ کی شادی پر کیا کبھی بھی نہیں پہننی تھی اور اس کے بعد تو یہ سوٹ ایسا غاٸب ہوا تھا کہ کبھی ملا ہی نہیں اور اس نے کبھی توجہ نہیں دی کہ اس کے الماری کے ڈھیر کپڑوں میں سے یہ قمیض شلوار غاٸب ہے ۔
” تم نے اس بات کا ذکر کسی اور سے کیا ؟ “
تقی نے بھنویں اچکا کر متواتر روتی ہوٸ مالا سے پوچھا ، یہ بات اتنی عجیب و غریب تھی کہ وہ کیا کوٸ بھی مالا کی بات پر یقین نہیں کرتا
” اماں سے کیا پر وہ بھی آپ کی طرح مجھ پر یقین نہیں کر رہی ہیں ، مجھ پر کوٸ بھی یقین نہیں کر رہا اللہ۔۔۔۔۔ “
مالا روتے ہوۓ ہی فرش پر بیٹھتی چلی گٸ تھی اور سر کو پلنگ سے ٹکاۓ دھیرے دھیرے پھٹتے دماغ کو پلنگ کے ساتھ مارنے لگی ۔
تقی تاسف سے گہرا سانس لیتا ہوا اس کے بلکل سامنے گھٹنوں پر ہاتھ دھر کر بیٹھا ، کچھ دیر اسے یوں پاگلوں کی طرح پلنگ میں سر مارتے ہوۓ دیکھا پھر فکرمندی سے گویا ہوا۔
” مالا میری طرف دیکھو ۔۔۔۔ سنو تم بات ہی بے تکی اور عجیب کر رہی ہو ، کوٸ مرا ہوا انسان بھلا کیوں آۓ گا کسی کے خواب میں اور وہ بھی اتنے سال بعد وہ آ کر تمہیں یہ بتاۓ کہ مجھے کسی نے چھت سے دھکا دیا تھا ، اسے کسی نے دھکا نہیں دیا تھا وہ پریشان تھی پڑھنا نہیں چاہتی تھی آگے مجھے اس نے بات کرنے کے لیے اوپر بلایا تھا ، وہ مجھ سے یہی کہنا چاہتی تھی کہ وہ پڑھنا نہیں چاہتی ہے “
تقی اسے ساری بات بتا رہا تھا کہ وہ اس بات پر چونک کر چیخ پڑی
” ہاں تو پھر آپ نے غصے میں آ کر دھکا دے دیا ہو گا کیونکہ نا پڑھنے والوں سے تو آپ کو ویسے بھی نفرت ہے “
مالا گلا پھاڑ کر چیخی تھی اور وہ جو اس پیار سے سمجھا رہا تھا ایک دم سے اس کی بدتمیزی پر ٹھٹھک گیا ۔
” تمھارا دماغ ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔۔ کیا بکواس پر بکواس کیے جا رہی ہو “
تقی نے حیرت اور غصے کے ملے جلے تاثر میں اس کی طرف دیکھا ، مالا پوری آنکھیں کھولے ناک پھلاۓ ساری محبت سارے پیار کو بالاۓ طاق رکھے اسے گھور رہی تھی ۔
” یہ بکواس نہیں ہے میری زندگی عزاب ہو گٸ ہے رمنا آپا مجھے سونے نہیں دیتی ہے رات کو میں جب بھی آنکھیں بند کرتی ہوں وہ مجھے نظر آتی ہے روتی ہے ، اور یہ بٹن اس نے میرا جینا حرام کر دیا ہے “
مالا نے بٹن ہتھیلی میں سے نکال کر ایک طرف فرش پر پھینک دیا اب کی بار تقی کچھ نا بول سکا وہ فرش پر بیٹھی رو رہی تھی اور وہ اسے دیکھے جا رہا تھا ۔
دل کہیں نا کہیں اگر اس کی بات پر یقین کر بھی رہا تھا تو عقل زور کا ایک چماٹ جڑ کر نفی کر رہی تھی ، وہ الجھ کر رہ گیا
” مالا اُٹھو ادھر آٶ “
تقی نے اسکا بازو تھاما ، مالا نے ایک جھٹکے سے بازو چھڑوایا
” مجھے ہاتھ مت لگاٸیں ۔۔۔۔ “
وہ تقی کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے کہہ رہی تھی
” مالا تمہیں میری بات پر یقین نہیں “
تقی نے وثوق سے پوچھا ، وہ کوٸ جواب نہیں دے رہی تھی ۔ اور منہ پھیرے بیٹھی تھی ۔
” تمہیں اپنے بے بیناد خوابوں پر یقین ہے ، اور یہ قمیض میں نے آج تک یہ پہنی بھی نہیں یہ تو پتا نہیں کہاں چلا گیا تھا “
تقی نے جھنجھلا کر پہلی دفعہ کسی کو یوں صفاٸ دی اور یہ سب اسے عجیب محسوس ہو رہا تھا وہ کس بے تکی بات کو لے کر مالا کو صفاٸیاں دے رہا ہے
” کہیں نہیں گیا تھا یہ قمیض تقی آپ کی الماری میں پڑا تھا اور یہ خواب بے بیناد نہیں ہیں کچھ ایسے خواب جو آپ کو بار بار آٸیں وہ خدا کی طرف سے کوٸ اشارہ ہوتے ہیں ، اور مجھے یہ سب اللہ نے دکھایا ہے خواب میں “
مالا اپنی بات پر ڈٹی ہوٸ تھی ، گردن اکڑاۓ اپنے سامنے بیٹھے تقی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ۔
” اور تمھاری کسی بات سے میں متفق نہیں ، استخارہ کیا خواب میں حقیقت جاننے کو کیا جاتا ہے جتنی عقل ہے اور جتنا علم ہے تمہاری سوچ وہیں تک محدود ہے ، استخارہ کا جواب تمہیں کس نے کہہ دیا کہ خواب میں آتا ہے ، اب مجھے صیح سے بتاٶ کہاں سے لی یہ قمیض اور کیا کیا سوچتی رہتی ہو “
تقی نے اپنے لہجے کو متوازن رکھتے ہوۓ سوال کیا ، وہ پتا نہیں کیا کچھ سوچ کر اور کن باتوں کو لے کر یہ سب کہانی بناۓ بیٹھی تھی ۔
” میں نے یہ کہانی خود سے نہیں گھڑی اور آپ مجھے چھوٹا سمجھنا بند کریں ، میں ایک ایک لفظ سچ کہہ رہی ہوں “
مالا نے چیختے ہوۓ اپنی بات پھر سے کہی ، چند لمحے خاموشی رہی تقی قمیض کو الٹ پلٹ کرتا رہا اور پھر اپنی جگہ سے ایک جھٹکے سے اٹھا ۔ اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔
********
اٹاری کے پھول دار فرش پر پشاوری چپل پہنے لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ بلقیس کے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ بے شک مالا کو وہ بری طرح جھٹلایا آیا تھا ، پر اس کے خود کے اندر ایک عجیب سا تجسس سر اُٹھانے لگا تھا وہ چاہ کر بھی مالا کی بات کو نظر انداز نہیں کر پا رہا تھا ۔
بلقیس کے کمرے کا دورازہ کھلا تھا اور پردہ اندر چلتے پنکھے کی ہوا سے ہل رہا تھا ، تقی نے ہاتھ بڑھا کر دروازے کے پٹ پر دستک دی ۔
” کون۔۔۔۔ “
بلقیس کی الکساہٹ بھری آواز ابھری ، تقی فوراً کمرے میں داخل ہوا بلقیس ایک پلنگ پر لیٹی تھی جبکہ دوسرے پلنگ پر مبین سو رہا تھا ، تقی کو دیکھتے ہی بلقیس نے لبوں پر انگلی دھر کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔
”اماں باہر آٸیں مجھے آپ سے بات کرنی ہے “
تقی نے جھنجلا کر ان کی بات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوۓ حکم صادر کیا ، بلقیس نے متعجب نگاہ اس کے پریشان سرخ چہرے پر ڈالی اور پھر اثبات میں سر ہلاتی پلنگ پر سے اپنا دوپٹہ اُٹھا کر سیدھی ہوٸیں

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: