Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 24

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 24

–**–**–

تقی کے پیچھے قدم اُٹھاتی بلقیس باہر آ گٸ تھی جہاں اب تقی داٸیں ہاتھ میں ہلکے شربتی رنگ کے قمیض کو تھامے ، برآمدے میں تخت کے قریب آ کر کھڑا ہو چکا تھا ۔
پیچھے ہی بلقیس بھی بدنداں اور ناسمجھی کے تاثرات لیے آ کر اس کے سامنے کھڑی ہو گٸ ۔
” اماں یہ قمیض ۔۔۔ یاد ہے “
تقی نے قمیض بلقیس کے آگے کرتے ہوۓ سنجیدگی سے پوچھا ، بلقیس نے قمیض اس کے ہاتھ سے تھامی جو خوف اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات چہرے پر سجاۓ کھڑا تھا ۔
” یہ ۔۔۔۔ “
بلقیس نے قمیض کی پرکھ کے لیے تیوری چڑھاٸ ، تقی نے پریشانی سے ماتھے پر دو انگلیاں رکھے پیشانی سہلاٸ ، مالا کے انداز اس کی باتوں کی وجہ سے دماغ میں ہتھوڑے چلنے جیسا احساس جاگ اُٹھا تھا۔ بلقیس اب قمیض کھولے جانچ رہی تھی پر ان کی یاداشت شاٸد اب کمزور ہو رہی تھی ، تقی نے تاسف سے کندھے گراۓ ۔
” اماں کیا دیکھے ہی جا رہی ہیں ، یاد نہیں کیا آپ کو یہ وہی قمیض ہے جو فرزانہ آپا نے دی تھی مجھے اور کہا تھا میری شادی پر لازمی پہننا ، یاد آیا کچھ ؟ “
تقی نے جھنجھلا کر بلقیس کو اور وضاحت دی جو آنکھوں کو کچھ اس انداز میں ساکن کیے ہوۓ تھی جیسے ذہن پر زور دے رہی ہو، وہ دونوں یونہی کھڑے تھے جب صحن سے ہولناک چیخ ابھری ۔
” بلقیس باجی ۔۔۔۔ بلقیس باجی “
صحن سے سکینہ کی ہولناک چیخ کے ساتھ پکار سن کر تقی اور بلقیس نے ایک ساتھ صحن کی طرف دیکھا جہاں سکینہ حواس باختہ اٹاری کی طرف بھاگی آ رہی تھی اور ان دونوں کے متوجہ ہوتے ہی وہ بولاٸ سی بول اٹھی
” بلقیس باجی ۔۔۔وہ۔۔۔ ادھر وضو خانے ۔۔میں منہا آپا گری پڑی ہیں “
سکینہ نے عجلت میں پھولی سانس کے ساتھ اپنی بات مکمل کی ، اس کی بات سنتے ہی تقی اور بلقیس جو ابھی تک اس کی حالت پر حیرت زدہ تھے بوکھلا کر وضو خانے کی طرف بھاگے، بلقیس نے ایک جھٹکے سے ہاتھ میں پکڑی قمیض کو تخت پر پھینکا ، سکینہ بھی ان کے ساتھ ساتھ وضو خانے کی طرف بھاگ رہی تھی ۔
صحن کا فاصلہ بھاگتے ہوۓ عبور کرنے کے بعد وہ تینوں وضو خانے تک پہنچے جہاں زمین پر منہا بے سدھ پڑی تھی ، نیلے رنگ کے جوڑے میں زرد چہرہ لیے منہا چت زمین پر لیٹی تھی دوپٹہ سر پر کچھ اس انداز میں بندھا تھا جیسے وضو کرنے کو بیٹھی ہو ۔
” منہا۔ا۔ا۔اااا۔ا۔ا“
بلقیس کی چیخ نما آواز ابھری ، تقی بھاگ کر منہا کے قریب جاتے ہی دو زانو اس کے پاس بیٹھ چکا تھا ، بیٹھتے ساتھ ہی سب سے پہلے اس نے منہا کی کلاٸ کو تھام کر نبض دیکھی اور پھر اس کی گردن کے پاس دو انگلیاں دھر کر اس کے گال تھپ تھپاۓ ، منہا ہوش میں نہیں تھی ، بلقیس کی تو جان پر بن گٸ ، وہ بھی اب تقی کے قریب بیٹھی منہا کے کندھے کو ہلا تے ساتھ پکار رہی تھی ۔
” منہا۔۔۔ منہا۔۔۔۔ “
تقی نے جلدی سے اسے بازٶں میں بھرا اور ایک جھٹکا لگا کر پوری قوت سے اٹھا ، بلقیس بھی بدحواس سی تیر کی طرح ساتھ اُٹھی ، تقی نے قدم بڑھاۓ
” سکینہ پانی لا جلدی سے “
بلقیس نے تقی کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوۓ بدحواس کھڑی سکینہ کو حکم دیا جبکہ تقی اب پریشان چہرے کے ساتھ منہا کو باہوں میں اٹھاۓ لمبے ڈگ بھرتا برآمدے کی طرف جا رہا تھا ، منہا کو یوں گود میں اُٹھاۓ تقی کی گردن کی رگیں تک پھول چکی تھیں اور چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔
برآمدے کے زینے چڑھتے ہی ، تقی نے سامنے رکھے تخت پر منہا کے وجود کو لیٹایا ، سکینہ پانی کا گلاس چھلکاتی اب اٹاری کا زینہ چڑھ رہی تھی جہاں تقی اب منہا کو ہوش دلا رہا تھا اور بلقیس روندھاٸ آواز میں بار بار منہا کو پکار رہی تھی۔
مالا ابھی بھی کمرے میں نۓ پلنگ کے پاس فرش پر بیٹھی تھی باہر اٹاری میں اُٹھتے شور اور ہلچل کی آوازوں پر تیزی سے اُٹھ کر باہر آٸ جہاں تخت کے پاس منظر دیکھ کر پریشان ہو کر آگے بڑھی ۔
” میں نے ایک ہفتہ پہلے اس کو اور فرہاد کو کہا کہ شہر چلو میرے ساتھ ، مجھے اس کے ٹیسٹ کروانے ہیں ، یہ دونوں ایسے لاپرواہ کے آۓ ہی نہیں “
تقی اب غصے میں بولتے ہوۓ سکینہ کے ہاتھ سے پانی کا گلاس تھام چکا تھا ، مالا متحوش سی بلقیس کے پاس آ کھڑی ہوٸ ۔
” تاٸ اماں کیا ہوا منہا آپا کو “
پریشان سے لہجے میں منہ پر دوپٹہ رکھے روتی بلقیس سے پوچھا ، تقی اب منہا کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مار رہا تھا ۔ وہ واقعی میں کسمسا کر آنکھیں کھولنے کی سعی کر رہی تھی۔ لیکن نقاہت کا اتنا شکار تھی کہ ہوش آ جانے کے باوجود اس کی آنکھیں مکمل طور پر نہیں کھل رہی تھیں ۔
” اللہ تیرا شکر “
بلقیس ہاتھ اٹھاۓ دعا مانگتی ہی منہا کے قریب تخت پر ٹکی جبکہ تقی اب بھی منہا کا معاٸنہ کرنے میں مگن تھا ۔ کبھی اس کی آنکھ کا پپوٹا پکڑ کر اوپر اُٹھاتا تو کبھی بازو تھام کر دیکھتا ، بلقیس اب منہا کی ہتھیلیوں کو ہاتھ میں لے کر بیٹھی ابھی بھی اس کا نام پکار رہی تھی جو ہوش میں ہو کر بھی بول نہیں پا رہی تھی ۔ تقی گھبرا کر سیدھا ہوا۔
” اماں برقعہ پہن کر آٸیں ہسپتال جانا ہے فوراً منہا کی حالت ٹھیک نہیں ہے “
تقی نے منہا کے پاس بیٹھی بلقیس کو پریشان سے لہجے میں حکم صادر کیا جو تاہنوز روۓ جا رہی تھی ،بلقیس اپنی جگہ سے اٹھی تو تقی نے پاس کھڑی مالا کی طرف دیکھا
” میری پینٹ شرٹ نکال دو اگر کوٸ استری ہے تو ذرا جلدی “
اس پریشانی میں ، تھوڑی دیر پہلے والی جھڑپ کو یکسر فراموش کیے ، وہ مالا کو کپڑے نکالنے کا کہہ رہا تھا ، مالا بھی پریشان حال کھڑی تقی کی بات پر فوراً کمرے کی طرف بھاگی ۔
*********
گیلے اونی کپڑے کا پوچا ، ہلکے سیاہ رنگ کے چپس اور بجری سے بنے فرش پر داٸیں باٸیں حرکت کرتا ہوا فرش کو گیلا کر رہا تھا ، یہ لمبی گیلری تھی جس کے ارد گرد مختلف وارڈ اور کمرے بنے تھے اور جگہ جگہ لکڑی کے گہرے بھورے رنگ کی چمکتی پالش کیے ہوۓ بنچ رکھے لگے تھے جہاں مریض کے ساتھ آۓ اضافی اہل خانہ تشریف رکھتے تھے، ڈیٹول اور جراثیم کش ادوایات کے ملاپ والی تیز بو ناک کے نتھنوں میں گھس رہی تھی ، سر پر تکونی ٹوپی لیے اور ہلکے نیلے رنگ کی وردی میں ملبوس بوڑھا سا ملازم گیلری کے ایک سرے سے پوچا لگاتا اب آگے بڑھ رہا تھا ۔ پر گیلری میں سے گزرتے مریض ، نرسیں اور ڈاکٹر ٹک ٹک کی آواز کے ساتھ گیلے پوچے پر پاٶں چھاپتے بے نیازی سے گزر رہے تھے ۔
پچھلے تین گھنٹے سے تقی ایک ڈاکٹر کے ہمراہ ایمرجنسی وارڈ میں منہا کا معاٸنہ کر رہا تھا ۔ اور باہر اس گیلری میں وارڈ سے کچھ دوری پر مخلاف سمت میں لگے بنچ پر بلقیس اور فرہاد خستہ حال بیٹھے تقی کے باہر نکلنے کے منتظر تھے ۔
تقی نے ہسپتال پہنچتے ہی فرہاد کی دوکان پر پیغام بھجوا دیا تھا کہ وہ منہا کو لے کر ہسپتال آیا ہے اور وہ بھی جلدی یہاں پہنچے ۔ اور وہ اسی وقت دوکان پر لڈن کو بٹھا کر ہسپتال بھاگ آیا تھا ۔ آجکل بیوپار کے لیے وہ اکیلا ہی شہر آتا تھا منیر میاں حویلی میں ہی رہتے تھے ۔
بلقیس نم سی آنکھیں لیے منہ میں کلمات کا ورد کر رہی تھی جبکہ فرہاد دنوں ہتھلیوں کو جوڑ کر ہونٹوں پر رکھے کہنیاں گھٹنوں پر دھرے نیچے کو جھکا سامنے خلا میں گھور رہا تھا ۔
تقی نے پچھلے ہفتے جب اس کو منہا کے چیک اپ کے لیے شہر آنے کا کہا تھا تو اگلے دن منہا ہشاش بشاش تھی اور ہسپتال جانے سے بلکل انکاری تھی اس پر وہ بھی مطمین ہو کر اس کی بات مان گیا تھا لیکن آج اس کی بات ماننے کا دلی افسوس ہو رہا تھا ۔
ایمرجنسی وارڈ کا دروازہ ہلکی سی چرچراہٹ کے ساتھ کھلا ، تقی نے باہر قدم رکھتے ہی سامنے بیٹھے فرہاد اور بلقیس کی طرف دیکھا دونوں تیز قدموں کے ساتھ چلتے اب تقی کی طرف آ رہے تھے۔
” تقی ۔۔۔ کیسی ہے منہا ہوا کیا ہے اسے ؟ “
تقی کے قریب آتے ہی فرہاد نے مضطرب لہجے میں سوالوں کی بوچھاڑ کر دی ، بلقیس زرد چہرہ لیے خاموش کھڑی سوالیہ نگاہیں تقی پر جماۓ ہوۓ تھی ۔
” منہا ٹھیک ہے اسے ہوش آ گیا ہے “
تقی نے سنجیدگی سے گہری سانس باہر انڈیلتے ہوۓ جواب دیا تو ایک دم سامنے کھڑے دونوں نفوس کے چہرے پر پھیلا انتشار کم ہوا
” تقی ۔۔ ہوا کیا تھا منہا کو مجھے تو کچھ بتاٶ “
فرہاد کانپتے سے لہجے میں اس کے یوں بے ہوش ہو جانے کا سبب پوچھ رہا تھا ، تقی نے گھور کر فرہاد کی طرف دیکھا ، ابھی وہ منہا کو لے کر ہسپتال پہنچا ہی تھا کہ اسے لاہور سے بھجواۓ ہوۓ خون کے نمونے کی رپورٹ بذریعہ ڈاک موصول ہوٸ تھی اور وہ جو منہا کی صحت کو لے کر پہلے سے ہی پریشان تھا رپورٹ پڑھ کر اور پریشان ہو گیا ، ڈاکٹر تسنیم کا شبہ بلکل درست ثابت ہوا تھا منہا کو کوٸ دوا دی گٸ تھی جس کے باعث اس کے بچے کا زندہ رہنا مشکل ہو گیا تھا ۔ اور آج اس کی بے ہوشی اور نروس سسٹم کے کام چھوڑنے کا سبب بھی شاٸد اسی دوا کا اثر تھا جو ابھی تک مندمل نہیں ہوا تھا ۔وہ پتا نہیں کیا کیا سوچ چکا تھا اور اب فرہاد کے سامنے آکر منہا کی حالت طلب کرنے پر وہ اپنا ضبط کھو بیٹھا ۔
” کیا بتاٶں تمہیں ہاں ۔۔۔ کیا بتاٶں یہ بتاٶں کہ کیسے اریب پھپھو نے اسے پہلے زہر دے کر اس سے بچہ چھین لیا یا پھر یہ بتاٶں کہ وہ دوا ایسی زہریلی تھی کہ منہا اب تک ٹھیک نہیں ہو رہی “
تقی ایک دم سے فرہاد پر پھٹ پڑا ، اور سامنے کھڑا فرہاد وحشت زدہ آنکھیں کھولے بے یقینی سے تقی کی طرف دیکھ رہا تھا تقی کے نفرت آمیز لہجے اور کہے گۓ جملے نے اسے ہیبت میں مبتلا کر دیا ۔
” تقی کیا بکواس کر رہے ہو ، عقل کرو کیا بولے چلے جا رہے ہو “
بلقیس نے گڑبڑا کر ایک نظر پہلے ششد کھڑے فرہاد پر ڈالی اور پھر رعب دار آواز میں کہتے ہوۓ تقی کو گھورا جو اب لب بھینچے ماتھے پر بل ڈالے تقی کو دیکھ رہا تھا
”میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نہیں یقین تو یہ رپورٹ اس کے بلڈ ٹیسٹ کی جو میں نے لاہور بھیجی تھی پڑھوا لو کسی بھی ڈاکٹر سے ، اس کا مَس کیرج نہیں ہوا تھا بلکہ قتل کیا گیا تم لوگوں کے بچے کو ، اور تم کیا سب جانتے ہیں منہا سے گھر میں کون سب سے زیادہ نفرت کرتا ہے “
تقی نے دانت پیستے ہوۓ چپ ہونے کے بجاۓ فرہاد کو اور سنا دیں ، فاٸل فرہاد کی طرف بڑھاٸ جو تاہنوز گنگ کھڑا تھا ، فرہاد نے بے یقینی سے اس کی غضبناک آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوۓ فاٸل کو پکڑا۔
” اماں چلیں منہا کو سہارا دیں حویلی چلنا ہے واپس ، وہ یہاں رکنے کے لیے نہیں مان رہی ہے ، میں ڈرپس وغیرہ لے کر چلتا ہوں گھر لگا دوں گا اسے “
تقی نے رُخ پاس کھڑی بلقیس کی طرف موڑا اور اس کے ماتھے کے بل اور غصے سے گھورتی آنکھوں سے بے نیازی برتتے ہوۓ متوازن لہجے میں کہا ۔ بلقیس اب تقی کے پیچھے وارڈ میں داخل ہو گٸ تھی جبکہ فرہاد فاٸل کو کھولے بدحواس کھڑا تھا ۔
*******
گاٶں کی بتی گل تھی ، جہاں پورا گاٶں اندھیرے میں ڈوبا تھا وہاں حاکم قصر کی در و دیوار اور بیرونی حصہ اندھیرے میں غرق تھا ، بس صحن میں فوارے سے لٹکتی قندیل کی مدھم روشنی سے حاکم قصر روشن تھا جہاں اس وقت ایک طوفان جیسا سماں تھا ۔ بات ہی ایسی تھی جس نے حاکم قصر کے سب چھوٹے بڑے مکیں کو صحن میں لا کھڑا کیا تھا ۔
فرہاد نے گھر آتے ہی بلقیس سے دوا کے بارے باز پرس شروع کر دی تھی اور پھر اریب کے لیے یہ بات کسی بمبم سے کم نہیں تھی جو اس کے سر پر تو فرہاد نے پھوڑا ہی تھا لیکن اریب نے اس کے نتیجے میں حویلی میں ایک بھونچال کھڑا کر دیا تھا ۔ سب لوگ صحن کی چارپاٸیوں پر جمع تھے بس ایک کمرے میں سے موم بتی کی روشنی نظر آ رہی تھی وہاں منہا کو ڈرپ لگی تھی اور مالا اس کے پاس بیٹھی اسے ہوا دے رہی تھی ۔ اریب نے چیخ چیخ کر پورا حاکم قصر سر پر اٹھا رکھا تھا ۔
” یہ قدر ہوٸ میری اماں ۔۔۔۔ بول یہ قدر ہے میری کہ آج میرا بھتیجا مجھ پر میرے پوت کے قتل کا الزام لگاۓ کھڑا ہے “
اریب اتنی زور سے چیخ رہی تھی کہ اس کے منہ سے نکلتے تھوک کے ننھے قطرے دور تلک ہوا میں اچھل کر زمین پر گر رہے تھے ، تقی جو فرہاد کے ایک طرف مٹھیاں بھینچے کھڑا تھا آگے ہوا
” پھپھو الزام کی کیا بات کرتی ہیں آپ ، میں یہ ثبوت آپ کے سامنے لیے کھڑا ہوں “
تقی نے تنک کر رپوٹ فاٸل آگے بڑھاٸ
” یہ کاغذ ۔۔۔۔میرے خون سے زیادہ گواہی دے گۓ تجھے ، مجھے کیا پتا یہ کونسا جھوٹ کا پلندہ ہے ، منہا میرے سگے بھاٸ کی اولاد ہے میں کیوں کروں گی منہا کے ساتھ ایسا ؟ ؟ “
اریب نے چیخ کر اپنی صفاٸ دی اس الزام پر اس کی رگیں پھول گٸ تھیں چہرہ سرخ ہو رہا تھا ، وہ تپاک سے آگے بڑھی اور تقی کے ہاتھ میں پکڑی فاٸل اٹھا کر ایک طرف اچھالی ، فاٸل ہوا میں اُڑتی ہوٸ جا کر فوارے کے جنگلے میں پھنس گٸ ۔
” پھپھو آپ نے پھپھو بن کر کب گلے لگایا ہمیں جو اب ساس بن کر منہا کو قبول کرتیں ، آپ مان کیوں نہیں لیتیں کہ آپ نے نفرت میں یہ انتہاٸ قدم اٹھایا ہے “
تقی تو آج آپے سے باہر تھا ، وہ اریب کے برابر چیخ رہا تھا دماغ تو آج دوپہر سے گھوم گیا تھا اور پھر ایک کے بعد دوسرے واقعے نے اس کی اعصاب تن دیے تھے ۔
” تقی بس کر بدتمیزی منہ توڑ دوں گا تیرا “
نقیب نے آگے بڑھ کر غصے میں کانپتی رعب دار آواز میں تقی کو جھاڑا ، تمام نفوس پہلی دفعہ یوں چھوٹوں کی بدتمیزی بڑوں کے ساتھ دیکھ رہے تھے جس نے حیرت سے زیادہ صدمے میں مبتلا کر دیا تھا ۔
” نقیبے ۔۔۔۔ اور پڑھا ۔۔۔ بنا اس کو ڈاکٹر ۔۔۔۔ دیکھ آج کیسے اپنی ماں سے بھی بڑی پھپھی کے سر اتنا بڑا الزام منڈھ رہا ہے “
چوہدری حاکم کی بوڑھی آواز میں لغزش ضرور آ چکی تھی لیکن رعب اور دبدبا نہیں کم ہوا تھا ، وہ چارپاٸ پر گاٶ تکیے کے سہارے بیٹھے تھے ۔
” میں اب اس حویلی میں ایک دن نہیں رکوں گی ، منیر اٹھیں ، ہمیں نہیں رہنا یہاں اب اور یہ جورو کا غلام یہ رہے یہیں اپنی بیوی کے ساتھ چاٹے تلوے اپنی بیوی کے اور اپنے پڑھے لکھے سالے کے میں تجھے کبھی نہیں بخشوں گی یاد رکھنا “
اریب نے غصے میں سرخ چہرے کے ساتھ پہلے منیر سے کہا اور پھر بپھر کر رخ فرہا د کہ طرف موڑا ، جو مضطر سا پریشان حال کھڑا چکی کے دو پاٹوں میں پس گیا تھا ۔
” اریب غصہ نا کر اس کےسر میں ، میں جوتے لگاتا ہوں ، تو کیوں جاۓ گی گھر چھوڑ کر ، اس کا دماغ درست کرتا ہوں میں “
نقیب حاکم نے جلدی سے آگے بڑھ کر اریب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا ، اریب نے ایک جھٹکے سے نقیب کا اپنے کندھے پر رکھا ہوا ہاتھ جھٹک دیا
” رہنے دو نقیب ، بہت عزت کما لی ، میں تو اب کبھی نہیں رکوں گی یہاں ، منیر چلیں سامان باندھیں “
اریب نے ناک پھلا کر پاس بیٹھے منیر کی طرف دیکھ کر کہا اور پھوں پھوں کرتے اٹاری کی طرف قدم بڑھا دیے ، نقیب حاکم ایک جھٹکے سے تقی کی طرف مڑا اور اس کا گریبان دبوچ لیا ۔
” بیغرت چل مانگ معافی ۔۔۔۔ مانگ معافی اپنی پھپھی سے “
نقیب نے تقی کو گریبان سے پکڑ کر جھنجوڑ دیا ، تقی نے لب بھینچے نقیب حاکم کی طرف دیکھا
” جب تک یہ بات ثابت نہیں ہو جاتی کہ منہا کو زہر دینے والی اریب پھپھو نہیں ہیں میں ان سے معافی نہیں مانگوں گا “
تقی نے دو ٹوک لہجے میں ان کی بات سے انکار کیا ، نقیب نے ہاتھ ہوا میں اُٹھایا اور پھر ایک زور دار چماٹ کی آواز سے ایسا سناٹا ہوا کہ صرف جھینگروں کی جھیں جھیں سناٸ دے رہی تھی ۔
” نقیب یہ ایک چماٹ اس ۔۔۔ کمبخت کے منہ پر بھی جڑ دیجیو یہ بھی گردن تان کر اپنی اماں کے آگے کھڑا ہو گیا ، ارے ناس پٹی اس ڈاکٹری کی پڑھاٸ کا ستیاس ناش جاۓ ، ہمارے زمانے میں بھی یوں بیمار پڑ جاویں تھی بچیاں پہلی بار میں ، تو کیا سب کی ساسیں ان کو دوا دیے تھیں “
خدیجہ بیگم کی تیکھی آواز پورے صحن میں گونج رہی تھی ، غزالہ اور بلقیس نے گردنیں نیچے گرا لیں ۔
” ابھی اسے بیمار ہوۓ مہنیہ بھر تو گزرا ہے ، چوہی سی جان ہے نا کھاتی ہے سہی سے نا پیتی ہے تو جان کیسے بنے گی ، منہ اُٹھا کر لے آیا یہ دو پرچے اور اپنے باوا کی ماں جنی پر لگا دیا الزام “
خدیجہ بیگم کا لہجہ آخر میں روندھا گیا تھا ، بلقیس تیزی سے آگے بڑھی
” بی جی بچہ ہے میں سمجھاتی ہوں ابھی معافی مانگے گا “
بلقیس نے خوفزدہ سی آواز میں کہا اور تقی کے طرف بڑھی اس کا بازو دبوچتے ہوۓ اٹاری کی طرف بڑھی ۔ تقی غصے میں لب بھینچے ماں کے ساتھ گھسٹ رہا تھا ۔
” منیر ۔۔۔۔۔ منیر ۔۔۔۔ آ جاٸیں ، اب اپنے کپڑے بھی رکھ لیجیے ٹرنک میں “
اریب نے اٹاری کے ستون کے پاس آ کر رعب سے منیر کو ہانک لگاٸ ، نقیب نے تیز تیز قدم اٹاری کی طرف بڑھاۓ ، وہ ابھی زینے کے پاس پہنچا تھا کہ چوہدری حاکم کی آواز پر پاٶں تھم گۓ
” میری بات سن لو سب غور سے کوٸ نہیں جاۓ گا حویلی سے ، تقی کی ہمیشہ سے ہی یہ خصلت ہے ، اس کی ڈاکٹری نے دماغ خراب کر رکھا ہے اس کا اس کی بات میں ایک فیصد بھی صداقت نہیں ہے ، اس کو کہو آ کر پیر پکڑے اپنی پھپھو کے نہیں تو میں یہ حویلی چھوڑ کر چلا جاتا ہوں ، میں جہاں بھی رہوں ڈیرے رہوں یا کہیں بھی پھر پیچھے سے سر پھاڑ لینا ایک دوسرے کا اور دھکے دینا ایک دوسرے کو “
چوہدری حاکم کی ہلکی لغزش زدہ آوز حاکم قصر کے صحن میں گونج اُٹھی تھی ۔ اور پھر نقیب بھی تیز تیز قدم چلتا اسی کمرے میں چلا گیا تھا جہاں سے بلقیس اور تقی کی بحث کی آوازیں آ رہی تھیں ۔ اور پھر کچھ دیر بعد تقی ضبط سے جبڑے ایک دوسرے میں پیوست کیے باہر نکلا تھا اور پھر باری باری تقی اور فرہاد نے اریب سے معافی مانگی تھی صاف ظاہر تھا کہ نا تو انہوں نے دل سے معافی مانگی تھی اور نا ہی اریب نے دل سے معاف کیا تھا ، گم صم سے حاکم قصر کے مکیں آہستہ آہستہ اٹھ کر اپنی چارپاٸ پر لیٹ رہے تھے اور تقی غصے میں بپھرا چھت چڑھ گیا تھا ۔
مالا نے پلنگ پر سے تکیہ اٹھایا اور صحن میں آ کر غزالہ کے ساتھ چارپاٸ پر لیٹ کر اسے پیچھے سے باہوں کے حصار میں لیا ، ماں کے ساتھ لگتے ہی خودبخود آج پورے دن کی باتیں اور اب کے ماحول کے باعث آنکھیں بھر آٸیں ، تقی اور بلقیس کے ہسپتال جانے کے بعد تخت پر پڑا قمیض وہ اٹھا کر پھر اندر لے گٸ تھی اور اب گھر میں اس کشیدگی نے سب کو چپ کروا دیا تھا ، وہ یونہی سسکتی ماں کے ساتھ لگی رات کے کس پہر نیند میں گٸ خبر نا ہوٸ ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: