Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 25

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 25

–**–**–

اندھیرے میں حاکم قصر کے صحن میں موجود نیم کے درخت ٹھنڈی ہوا کے باعث کچھ یوں ہچکولے کھا رہے تھے جیسے ایک گھنے بالوں والی چڑیل آہستہ آہستہ کچھ پڑھتے ہوۓ اپنا سر ہلا رہی ہو اور درختوں سے کچھ ہی آگے فوارے کے داٸیں اور باٸیں ، قطار میں لگی چارپاٸیوں پر سفید اور سیاہ ڈبیوں والے کھیس تانے نفوس سونے کی تیاری میں تھے اور کچھ تو سو بھی چکے تھے ، کمرے اب بہت گرم ہو جاتے تھے اور صحن میں ٹھنڈی ہوا کے باعث تقریباً گھر والے قطار دار قطار چارپاٸیاں ڈال کر صحن میں سونا شروع ہو چکے تھے ۔
اس دن کے واقع کے بعد سے یہ تیسری رات بھی حاکم قصر کے تمام مکینوں کے لیے بھاری اور افسردہ تھی ، بے شک چوہدری حاکم نے اس رات جھگڑے کو اپنی طرف سے ختم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کشیدگی ختم نہیں ہو سکی تھی ۔
اریب بیگم تاہنوز ناراض تھیں اور چوہدری حاکم کو اس بات پر راضی کر رہی تھیں کہ انہیں ان کا حصہ دے کر فارغ کیا جاۓ وہ اب مزید حاکم قصر کا حصہ بن کر نہیں رہنا چاہتی ہیں ۔
تقی سے گھر میں کوٸ بھی بات نہیں کر رہا تھا اور وہ تھا کہ ایک نٸ ضد لگا بیٹھا تھا وہ منہا کو معاٸنے اور ٹیسٹوں کے لیے لاہور لے جانا چاہتا تھا جس پر نقیب حاکم ، بلقیس اور منہا خود اس کی اس ضد کو بے بنیاد قرار دے رہے تھے ان کے مطابق منہا اب پچھلے دو دن سے بلکل ٹھیک تھی ، اس لیے تقی بلاوجہ کا واویلا نا مچاۓ ۔
اس دفعہ تو سب کے ساتھ فرزانہ آپا بھی تقی سے اچھی خاصی خفا ہو چکی تھی وہ اپنی ماں کی اس بے عزتی اور الزام پر تقی سے کبھی نا بات کرنے کا تہیہ کر چکی تھی ۔
مالا دبے قدموں غزالہ کی چارپاٸ کے پاس آٸ اور آہستگی سے لیٹی ، تقی صبح کو نکل جاتا تھا اور رات گۓ گھر لوٹتا تھا پھر کتنی دیر تک وہ بلقیس اور نقیب سے بحث کرتا رہتا تھا ۔ اور جیسے ہی وہ کمرے کا رُخ کرتا مالا صحن میں آ جاتی تھی
غزالہ نے مالا کا اپنے ساتھ لیٹنا محسوس کرتے ہوۓ جھٹکے سے رُخ موڑا تو مالا اس کی کمر کے گرد بازو حاٸل کیے لیٹنے کی کوشش میں تھی ۔ آج تیسری رات تھی اور وہ آج بھی رات کو غزالہ کے ساتھ آکر لیٹ رہی تھی ۔
” مالا ۔۔۔ مالا ۔۔۔“
غزالہ نے آہستگی سے نیند سے بوجھل ہوتی بھاری آواز میں پکارتے ہوۓ مالا کا کندھا ہلایا ۔ وہ جو بڑے آرام سے غزالہ کے ساتھ سونے کی کوشش میں تھی چونک کر غزالہ کی طرف دیکھا غزالہ نے گردن گھما کر تقی کے کمرے کی طرف دیکھا جہاں دروازہ کھلا تھا اور کمرے کی بتی جل رہی تھی مطلب تقی جاگ رہا تھا
” مالا اُٹھ ۔۔۔ اپنے کمرے میں جا کر سو “
بوجھل سے لہجے میں اسے حکم صادر کیا جو اب پوری آنکھیں کھولے غزالہ کو گھور رہی تھی ۔
” اُٹھ جا نا اب کیا دیدے پھاڑ کے دیکھے جا رہی ہے، دو رات سے دیکھ رہی ہوں تو میرے ساتھ آ کر کیوں سو رہی ہے “
غزالہ دانت پیستے ہوۓ آواز کو حد درجہ مدھم رکھے سوال کیا ، تقی کے ذکر پر مالا کے چہرے کے تاثرات یکسر بدل گۓ ۔ اب غزالہ کو کیا بتاتی کہ وہ کتنا الٹا سیدھا سوچ رہی ہے وہ تقی کو لے کر اب تک خاٸف تھی ۔ اس دن کے بعد یہ معاملا اتنا طول پکڑ چکا تھا کہ اس نے تقی سے بات تک نہیں کی تھی ۔ اور اب غزالہ اسے کمرے میں جانے کا کہہ رہی تھی ۔
” اماں ۔۔۔ وہ ان کا موڈ تھوڑا ٹھیک نہیں ہے تو ۔۔۔“
مالا کی بات ابھی مکمل نہیں ہوٸ تھی کہ غزالہ نے تنک مزاجی سے اس کی بات کاٹ دی
” اگر وہ پریشان ہے اور موڈ ٹھیک نہیں تو ایک بیوی ہونے کے ناطے یہ تیرا فرض بنتا ہے کہ تو اس کی دلجوٸ کرے نا کہ اس سے دور رہے “
غزالہ نے تیوری چڑھاۓ اسے سمجھایا جو سراسیمگی کی حالت میں نظریں چرا رہی تھی ۔ غزالہ کو اگر وہ اس دن کے جھگڑے کے بارے میں بتاتی تو زیادہ پھنس سکتی تھی کیونکہ غزالہ نے اسے سختی سے منع کر رکھا تھا کہ اس کا ذکر وہ کسی سے نہیں کرے گی ۔
” اُٹھ فوراً جا اپنے کمرے ۔۔۔۔اُٹھ “
غزالہ نے غصیلے لہجے میں ڈپٹ کر کہا تو وہ ایک دم سے اُٹھ کر بیٹھی اور پھر چپل پہنتے ہی قدم اٹاری کی طرف بڑھا دیے ۔
کمرے میں آٸ تو تقی پلنگ پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا بازو کو موڑ کر پیشانی پر ٹکا رکھا تھا اور ایک پاٶں کو دوسرے پاٶں میں قینچی صورت پھنسا یا ہوا تھا ۔ جیسے ہی مالا کمرے میں داخل ہوٸ تقی نے ذرا کی ذرا آنکھوں کی پتلیاں گھما کر اس کی طرف دیکھا پر پھر خفگی سے رُخ موڑ لیا ، جہاں ایک طرف منہا کا معاملہ کشیدگی کا باعث بنا ہوا تھا وہاں اب مالا کے سامنے آنے پر اس کو پرسوں دوپہر کا سارا منظر یاد آ گیا ۔
مالا اب پلنگ کے پاس پہنچ چکی تھی اور شاٸد اسے پلنگ پر چڑھ کر دوسری طرف لیٹنا تھا اس لیے چپ چاپ تقی کی ٹانگوں کو گھور رہی تھی ۔ تقی نے اس کی نگاہوں کا مطلب سمجھ کر ٹانگیں سمیٹیں اور وہ گھٹنوں کے بل چڑھ کر پلنگ پر تقی سے فاصلہ بنا کر لیٹ گٸ ، تقی نے آہستگی سے رُخ موڑے اس کو دیکھا جس کی اس لمحے میں اسے اشد ضرورت تھی پر وہ اس سے باقی لوگوں کی نسبت بھی دور تھی۔
**********
شام نے حاکم قصر کے پورے صحن میں اپنا سایہ پھیلا رکھا تھا ، معمول سے ہٹ کر ملگجے سے اندھیرے والی شام تھی ، ایسی شام جس میں سورج گرھن جیسا گمان ہو ، مالا نیم کے درخت سے لٹکتے جھولے پر بیٹھی تھی اور رملا اسے پشت سے دھکا دیتے ہوۓ جھولا جھلا رہی تھی ۔
جیسے ہی جھولا اونچاٸ بھرتا مالا ٹانگیں سیدھی کر لیتی اور جیسے ہی پیچھے کو آتا ٹانگیں سمیٹ لیتی تھی ، جھولا آہستہ آہستہ تیز ہونے لگا تھا مالا کو ویسے بھی تیز جھولے لینا پسند تھا اس لیے اسے مزہ آنے لگا تھا ۔
” رملا اور تیز دو نا جھولا “
مالا نے جوش سے ہلکی سی گردن موڑے اپنے پیچھے کھڑی رملا کو حکم صادر کیا اور خود مزے سے جھولے کی داٸیں باٸیں موجود دنوں رسیوں کو تھامے سر کو پیچھے گرایا ، جھولا اور اوپر اٹھنے لگا ۔۔۔۔
پھر اور لمبا اور اوپر ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اوپر ۔۔۔۔۔۔
پھر اور اوپر ۔۔۔۔ رسی لمبی ہو رہی تھی اور جھولا اوپر جا رہا تھا ۔ مالا کو خوف آنے لگا جھولا اب اتنی اونچاٸ پکڑ رہا تھا کہ اس کی نگاہ حاکم قصر کی چھت کو دیکھ کر نیچے آ رہی تھی ۔ مالا نے پریشان سی صورت بناۓ نیچے دیکھا اور خوف سے ٹانگیں کانپ گٸیں ، جھولا پھر سے اتنا اونچا ہوا کے وہ چھت کے دیوار سے ٹکرانے لگی ۔
” رملا ۔۔۔را۔۔۔۔ملا ۔۔۔۔۔ا۔۔۔۔ا۔ا۔ا۔جھولا روکو میں گر جاٶں گی “
مالا نے خوف سے چیخ کر رملا کو پکارا پر رملا پیچھے نہیں تھی جھولا اب کی بار اور اونچا ہوا ، دیوار کے قریب جا کر اس سے پہلے کے مالا دیوار سے زور سے ٹکراتی اس نے اچک کر چھت کے دیوار کو تھام لیا اب وہ دیوار کے ساتھ لٹک رہی تھی اور ٹانگیں مارتے ہوۓ خوف سے چیخ رہی تھی ۔
” بچاٶ میں چھت سے گر جاٶں گی ۔۔۔۔ بچاٶ مجھے میں آپا کی طرح گر کر مر جاٶں گی “
وہ بدحواسی میں چیخے جا رہی تھی کہ اچانک تقی کا سر دیوار پر سے جھانکتا ہوا نظر آیا
” تقی ۔۔۔۔ ی۔ی۔ی۔ مجھے بچاٸیں “
مالا نے چیخ کر تقی کو مدد کے لیے پکارا وہ پچھلا خواب یکسر فراموش کیے ہوۓ تھی ، تقی نے اچک کر ہاتھ آگے بڑھایا اور مالا کا ہاتھ تھاما ، پھر مالا کو چھت کی طرف کھینچ لیا ، مالا چھت پر آتے ہی تیزی سے آگے بڑھی اور تقی کو اپنی باہوں کے حصار میں لے کر اس کے کندھے پر سر ٹکا دیا ۔ ایک دم سے سارا خوف زاٸل ہونے لگا ۔
تقی کے گلے لگے اچانک اس کی نظر برساتی کی دیوار کی طرف ُاٹھی ، برساتی میں سیدھی کھڑی چارپاٸ کی اٶٹ میں کوٸ چھپتا ہوا دکھاٸ دیا ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گٸ ۔
” تقی کوٸ ہے وہاں ۔۔۔ “
مالا نے گڑبڑا کر پیچھے ہوتے ہوۓ لغزش زدہ آواز میں تقی کو بتایا ، تقی نے جیسے ہی پیچھے مڑ کر دیکھا تو شربتی رنگ کے قمیض میں ملبوس کوٸ پیٹھ موڑے پچھلے صحن کی دیوار کی طرف بھاگ رہا تھا ۔ اس کے بھاگتے ہی برساتی سے رمنا باہر نکلی وہ رو رہی تھی
” اس کو پکڑو وہ بھاگ رہا ہے ۔۔۔ وہ بھاگ جاۓ گا ، وہ بھاگ گیا تو ایک اور قبر بنے گی “
رمنا بھاگتے ہوۓ وجود کی طرف انگلی کیے چیخ رہی تھی ، مالا نے جلدی سے تقی کی طرف دیکھا ، ذہن نے اچانک گواہی دی یہ حقیقیت نہیں خواب ہے اور شکر ہے آج تقی ساتھ ہے
” تقی دیکھا ۔۔۔ دیکھا ۔۔۔۔ میں جھوٹ نہیں بولتی دیکھو رمنا آتی ہے خواب میں وہ سامنے کھڑی ہے ، اب تو یقین کریں گے نا میرا “
مالا نے جوش سے تقی کی طرف رُخ کیے اسے یقین دلایا جو اس کی خوابوں کی سچاٸ کو سرے سے اس کا پاگل پن کہہ چکا تھا
” تقی ۔۔۔۔۔ مالا ۔۔۔۔ پکڑو اسے ۔۔۔۔ ورنہ قبر بن جاۓ گی “
رمنا چیخ رہی تھی تقی نے دوڑ لگاٸ ، مالا بھی پیچھے بھاگی وہ جو کوٸ بھی تھا بھاگ کر پچھلے صحن میں کودا تھا تقی اس کے پیچھے ہی پچھلے صحن کی دیوار پھلانگ کر نیچے بنے بھینسوں کے لیے بناۓ گۓ کمرے پر کود گیا تھا مالا بھی اب دیوار سے پار پچھلے صحن میں دیکھ رہی تھی ۔ صحن میں کوٸ کھڑا تھا اور صحن کے وسط میں زمین کھود رہا تھا ۔
” مالا روکو اسے قبر مت کھودے “
مالا آنکھوں کو سکوڑے سامنے غور کر رہی تھی ، کہ کون ہے جو قبر کھود رہا ہے ، جب اچانک پیچھے سے رمنا کی آواز آٸ مالا نے خوفناک چیخ ماری تھی ۔
وہ ہڑبڑا کر اور چیخ کر خواب سے اُٹھی ، چیخ اتنی ہولناک تھی کہ اس کے ساتھ سویا تقی بھی اُٹھ بیٹھا تھا مالا نے جھپٹ کر تقی کے سینے میں منہ چھپا لیا ، تقی کی پیشانی پر فکرمندی کے بل پڑے تھے کچھ ایسا عجیب تھا جسے اسے ہر گز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔
” مالا ۔۔۔۔ مالا ۔۔۔ مجھے بتاٶ ۔۔۔ کیا ۔۔۔ کیا دیکھا ، آج بھی خواب دیکھا تم نے؟ “
تقی نے پیار سے اس کے چہرے کو اُٹھا کر اپنی ہتھیلوں میں بھر لیا ، وہ جو بری طرح کانپ رہی تھی ، ایک دم سے تقی کے محبت بھرے لمس ، اپناٸیت اور خواب میں یہ حقیقت کھل جانے پر کہ وہ قاتل نہیں ہے پرسکون سی ہو کر تقی کے ساتھ لگ گٸ اس کے سینے کے ساتھ گال چپکاۓ دھیمی سی آواز میں گویا ہوٸ
” تقی ۔۔۔۔ مجھے معاف کردیں ۔۔۔۔ مجھے معاف کر دیں ۔۔۔ ، وہ آپ نہیں تھے کوٸ اور ہے جس نے آپا کو دھکا دیا ۔۔۔۔ اور اب وہ کسی اور کی قبر کھود رہا ہے “
مالا نے ایک دم ساکن ہوتے ہوۓ تقی کو خواب کے متعلق بتایا
” مالا ۔۔۔کون کس کی بات کر رہی ہو ۔۔۔ایک منٹ “
تقی نے ناسمجھی میں اس کی باتوں پر غور کرتے ہوۓ کہا اور پھر اسے کی باہوں کے حصار سے نکلتا ہوا پلنگ سے نیچے اترا ، سوٸچ بورڈ تک گیا سوٸچ بورڈ پر سے بتی کا بٹن نیچے کرتے وہ مالا کی طرف بڑھا جو اسی طرح خوف سے پوری آنکھیں کھولے بیٹھی تھی ۔ سیاہ رنگ کے جوڑے میں زرد چہرہ ، آنکھوں کے نیچے گہرے ہوتے حلقے رات جب وہ ساتھ آ کر لیٹی تھی تب اس نے مالا کے چہرے پر اتنا غور نہیں کیا تھا لیکن اب اندازہ ہو رہا تھا وہ ذہنی اور جسمانی طور پر کتنی بری طرح متاثر ہو چکی ہے ۔
تقی نے گہری سانس لی اور اس کے بلکل سامنے بیٹھ گیا جو نادم بیٹھی اس سے نگاہیں چرا رہی تھی ، کیا کچھ نہیں بول دیا تھا اس نے تقی کو اور تف تھی اس کی عقل پر جس نے یہ سوچ لیا تھا کہ تقی قاتل ہے رمنا کا ، وہ سر جھکاۓ خود کو ملامت کر رہی تھی اور تقی پریشانی سے اس کے الجھے سے بالوں والی مانگ کو تک رہا تھا ، کیا رشتہ بن گیا تھا اس کا سامنے بیٹھی اس لڑکی کے ساتھ کہ اس کی پریشانی اور تکلیف تقی کو اپنی پریشانی اور تکلیف لگنے لگی تھی ، کچھ پل کی خاموشی کے بعد تقی کی آواز نے کمرے میں ارتعاش پیدا کیا ۔
” مالا مجھے نہیں معلوم یہ خواب کیا ہیں ، تمہیں کس لیے آتے ہیں اور ان کا حقیقت سے کوٸ تعلق ہے بھی کہ نہیں لیکن اس دن میں تمہیں اسی بات کا یقین دلا رہا تھا کہ وہ قمیض میں نے کبھی نہیں پہنی بلکہ میں تو وہ اماں کے پاس پھینک آیا تھا کہ مجھے یہ رنگ نہیں پہننا مجھے شادی کے لیے کوٸ اور سوٹ بنوا کر دیں اور پھر اماں نے مجھے اور جوڑا بنوا بھی دیا تھا ، اس کے بعد وہ قمیض کہاں گٸ کہاں نہیں مجھے تو علم تک نہیں ہوا اس کا بات کا “
تقی اسے بڑے تحمل سے ساری بات بتا رہا تھا اور وہ مسلسل آنسو بہا رہی تھی اس رات بھی اگر وہ رمنا کے اُٹھ کر بیٹھنے سے پہلے خواب سے باہر نا آ جاتی تو شاٸد اسی دن ہی اسے خبر ہو جاتی کہ رمنا کو دھکا دینے والا اور کوٸ ہے ، تقی نہیں ۔
وہ آہستہ آہستہ آنسوٶں پر قابو کھو بیٹھی تھی اور اب گالوں پر گرم سیال رواں تھا ، مالا نے سسکیوں میں تقی کو سارا خواب سنایا اور وہ بھی سینے پر ہاتھ باندھے پیشانی پر افقی لکیریں ڈالے تحمل سے اس کا خواب سن رہا تھا پر عقل ابھی بھی عجیب کشمکش میں مبتلا تھی ۔ کچھ دیر یونہی گہری خاموشی رہی اور پھر تقی نے پلنگ پر آ کر دھیرے سے اسے قریب کرتے ہوۓ اپنے ساتھ لگا لیا ، اس کا وجود ساتھ لگتے ہی مالا نے آنکھیں موند لیں پچھلے دس دن کی دوری اور اب اس کی یہ پریشانی وہ اپنی گرفت سے اسے اپنے ساتھ کا یقین دلا رہا تھا ۔اور پھر اس کی مانگ پر سے لب اٹھاۓ گویا ہوا
” مالا ۔۔۔ میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا چاہتا ہوں “
چہرہ نیچے جھکاۓ آہستگی سے اس کے کان میں سرگوشی کی ، مالا سٹپٹا کر تھوڑا سا الگ ہوٸ
”نہ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ تقی میں پاگل نہیں ہوں ، آپ میرا یقین کریں ۔۔۔ کوٸ ہے ۔۔۔ جس نے رمنا آپا کو مارا تھا اور اب وہ کسی اور کی قبر کھود رہا ہے مجھے ڈر لگ رہا ہے “
مالا نے جھرجھری لے کر پھر سے اپنے خواب کو یاد کیا تھا ، تقی نے نفی میں سر ہلایا اس کے چہرے کو دنوں ہاتھوں میں لیا ، اپنے سر کو محبت سے اس کے سر کے ساتھ جوڑا
” اچھا مجھے یقین ہے میری مالا پاگل نہیں ہے ، لیکن فلحال تم سو جاٶ اتنی راتیں جاگ جاگ کر اپنی آنکھوں کا کیا حال بنا لیا “
تقی نے آہستگی سے چہرہ پیچھے کرتے ہوۓ اپنے انگوٹھے کو نرمی سے اس کی آنکھوں پر پھیرا ، مالا نے دھیرے سے مسکرا کر آنکھیں بند کیں کتنے دن بعد وہ یوں تقی سنگ مسکراٸ تھی ۔
”چلو میں سُلاتا ہوں “
تقی نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ لیٹا لیا ۔ مالا کی حالت اب واقعی توجہ طلب تھی کچھ دیر بعد مالا تو تقی کی کمر کے گرد بازو حاٸل کیے سینے پر سر رکھے سارا بوجھ اس کے ذہن پر ڈالے سو چکی تھی لیکن وہ ساری رات اسے بچوں کی طرح خود سے لپٹاۓ پیلی روشنی میں نہاٸ چھت کو گھورتا رہا ۔
*********
پنکھے چلنے کی آواز کے ساتھ کمرے میں مکمل خاموشی چھاٸ ہوٸ تھی ، بلقیس قمیض کو ہاتھ میں تھامے کھڑی تھی اور سامنے مالا مضطرب صورت بناۓ کھڑی تھی ، آنکھوں کی نیلی پتلیوں میں جواب کے انتظار کی بے چینی چمک رہی تھی ۔
تقی کے جانے کی دیر تھی وہ الماری سے قمیض نکالے بلقیس کے پاس پہنچ چکی تھی اس کی بے چین روح کو ایک پل کا سکون نہیں تھا ، آنکھیں رات وہ تقی کے لیے موندے لیٹ تو گٸ تھی پر نیند کمبخت کس کو آٸ تھی ، تقی تو اسے پاگل سمجھنے لگا تھا ، یہ جنگ اس کی اور اس کے خوابوں کی تھی اسے خود ہی ہمت کرنی تھی کیونکہ اب بات رمنا کی موت کے قاتل تک پہنچنے کی نہیں تھی بلکہ اس کو بچانے کی تھی جس کی قبر کھودی جا رہی تھی ۔
بلقیس کچھ دیر قمیض کو دیکھتی رہی پھر گہری سانس لیے گویا ہوٸ
” ہاں تو یہ تقی کو فرزانہ نے کاڑھ کر دی تھی قمیض ، نواب زادے کو رنگ ہی نہیں پسند آیا تھا کہ لڑکیوں جیسی ہے ، تو میں نے باہر برانڈوں میں بھجوا دی تھی کہ کوٸ ملازم پہن لے شادی پر نیا جوڑا “
بلقیس نے متوازن لہجے میں جواب دیا اور پھر مالا کے ساکن وجود سے لاپرواہی برتتے ہوٸ تیوری چڑھاٸ
”اب یہ بات میری سمجھ سے باہر کی ہے کہ یہ قمیض گھر واپس کیسے آٸ اور یہ تم اور تقی اب اس کی کھوج میں کیوں لگے ہو ؟ “
بلقیس آبرٶ اچکاۓ مالا سے سوال کر رہی تھی اور حیرت سے پوری آنکھیں کھولے کھڑی تھی ، مالا ایک دم سے چونک کر سیدھی ہوٸ
” تاٸ۔۔۔ اماں ۔۔۔ کون ۔۔۔کس ملازم نے پہنی تھی یہ قمیض ؟ بتاٸیں مجھے ؟ “
مالا کی آواز میں اس کے وجود کی طرح ہی لغزش تھی ، بلقیس کی پریشانی بڑھ رہی تھی
” یہ تو نہیں معلوم مجھے ، ہاں تاری بوا کو دی تھی میں نے تو اس کو معلوم ہو گا رُک ذرا “
بلقیس اب اس کی پریشانی کے پیش نظر خود بھی تشویش میں مبتلا ہو چکی تھی ، کمرے کے دروازے کے پاس جا کر اٹاری میں تخت کے نیچے بیٹھی خدیجہ بیگم کے پاٶں دھوتی تاری بوا کو ہانک لگاٸ
” تاری بوا ۔۔۔۔ بات سننا ذرا کی ذرا “
بلقیس تاری بوا کو بلوانے کے بعد پھر سے کمرے کے وسط میں آ کر کھڑی ہو چکی تھی ، جہاں بدحواس سی مالا کھڑی تھی ، تاری بوا کے کمرے میں آتے ہی بلقیس نے قمیض تاری بوا کے سامنے کی
” تاری بوا فرزانہ کی شادی سے پہلے میں نے کچھ مردانہ جوڑے ملازموں کو بھیجے تھے تمھارے ہاتھ ، یہ والا جوڑا کس ملازم نے لیا تھا؟ “
بلقیس نے بھنویں اچکاۓ سوال کیا اب سوچ کے گھوڑے دواڑانے کی باری تاری بوا کی تھی ، جو گال پر انگلی دھر چکی تھی اور مالا دم سادھے کھڑی تھی ۔
” بلقیس بیٹا جوڑے تو تین چار تہہ شدہ تھے، میں تو ایسے ہی تہہ شدہ لڈن میاں کے حوالے کر آٸ تھی کہ ملازموں میں بانٹ دیجیو ، لیکن مجھے اتنا یاد ہے یہ قمیض ایسے ہی چھت میں دھلے کپڑوں کے ساتھ نیچے آٸ تھی تب پتا نہیں کہاں غاٸب ہو گٸ، پھر ملا ہی نہیں “
تاری بوا نے جو بتایا وہ اور الجھا گیا تھا ، مالا کی سانس اٹک گٸ تھی بازو پر موجود رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے ۔
” لڈن کو بلواٶ جلدی سے تاری بوا ۔۔۔ “
مالا نے اچانک جوش سے آگے بڑھتے ہوۓ تاری بوا سے کہا اور خود تیز تیز قدم چلتی باہر اٹاری کے ستون کے پاس آٸ ۔۔۔
” سکینہ ۔۔۔۔۔ سکینہ ۔۔۔۔۔ “
وہ پوری قوت سے ستون کے ساتھ لگی چیخ رہی تھی، آواز اتنی اونچی تھی کہ کانوں کے پردے پھاڑ دے وہ کانپ رہی تھی ، چہرہ زرد ہو رہا تھا ، سکینہ باورچی خانے سے بھاگتی ہو اٹاری کی طرف لپکی
” لڈن کو بلا کر لا ابھی کے ابھی ۔۔۔۔۔ جلدی جا ۔۔۔۔“
مالا نے کانپتی پر رعب دار آواز میں چیخ کر حکم صادر کیا وہ اس وقت پاگل لگ رہی تھی ، اس کے پیچھے تاری بوا اور بلقیس اور تخت پر بیٹھی خدیجہ اور اریب سب حیرت سے مالا کو دیکھ رہی تھیں ۔
” آخر کو ایسی کیا آفت آن پڑی ۔۔۔ کاہے چیخ رہی پاگلوں کی طرح “
خدیجہ بیگم نے تخت پر بیٹھے بیٹھے پورا وجود مالا کی طرف موڑ کر پوچھا ، مالا نے کوٸ جواب نہیں دیا ، غزالہ بھی مالا کی آوازیں سن کر اب کمرے سے باہر آ گٸ تھی ۔
کچھ دیر بعد ہی تہبند سنبھالے اور کندھے پر پٹکا درست کرتا لڈن میاں گیٹ سے داخل ہو کر اب صحن کی طرف آ رہا تھا جہاں مالا حواس باختہ کھڑی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: