Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 26

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 26

–**–**–

لڈن میاں آہستہ آہستہ چلتا ہوا اب اٹاری کے پاس پہنچ چکا تھا نگاہ اٹھاۓ سامنے کھڑی مالا کو حیرت سے دیکھا ٰ اب تک تو منہا ٖ منیر میاں اور فرزانہ بھی اپنے بیٹے کو گود میں اٹھاۓ سب کمرے سے باہر آ چکے تھے ۔
اب اٹاری میں حویلی کے تمام مکیں کا ہجوم سا لگ گیا تھا ، یہ ناشتے کے بعد تقریبًا صبح ساڑھے نو بجے کا وقت تھا ۔ مالا نے آنکھیں سکوڑ کر لڈن کی طرف دیکھا اور پھر لب کھولے
”لڈن بھاٸ یہ قمیض دیکھیے “
مالا نے قمیض لڈن کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ، لڈن نے نا سمجھی کے شکن ماتھے پر نمودار کیے آگے ہوا اور ہاتھ بڑھا کر مالا کے ہاتھ سے قمیض لیا ، وہ بغور قمیض کی طرف دیکھ رہا تھا اور سب اس کی طرف دیکھ رہے تھے ۔
مسواۓ غزالہ ہر کسی کی آنکھوں میں تجسس تھا ، لڈن کی نا سمجھی کو دیکھتے ہوۓ مالا نے اسے مزید وضاحت دی
” یہ جوڑا فرزانہ آپا کی شادی سے پہلے تاٸ اماں نے برانڈوں میں ملازموں کے لیے بھیجا تھا یاد کیجیے یہ اس وقت آپ سب میں سے کس ملازم نے لیا تھا اور ولیمے پر یہ جوڑا پہنا بھی تھا “
مالا پوری تفصیل سے لڈن کو آگاہ کیے اب اس سے سوال پوچھ رہی تھی سامنے کھڑے لڈن کے ڈیل ڈول سے تو صاف ظاہر تھا کہ یہ قمیض آج سے دس سال پہلے بھی اس کو بہت لمبی اور تنگ ہو گی اور یہی وجہ تھی مالا اپنے ذہن میں خود ہی یہ اندازہ لگا چکی تھی کہ یہ قمیض پہننے والا اور رمنا کو دھکا دینے والا لڈن نہیں ہو سکتا ۔ چند منٹ یونہی خاموشی میں گزر گۓ پھر لڈن نے قمیض پر سے جھکی نگاہ کو اُٹھاۓ سامنے کھڑی مالا کی طرف دیکھا
” مالا بی بی اب سہی تو نہیں یاد سب پر یہ جوڑا تو بہادر کے حصے میں آیا تھا کیونکہ یہ تقی باٶ کی قمیض اسی کو ہی پوری آتی ہے ہمیشہ سے “
لڈن اپنی ہی کہی بات پر شاکی تھا لیکن ساتھ ہی اس نے تقی اور بہادر کے قد کاٹھ کے متعلق جو وضاحت پیش کی تھی اس سے تو صاف ظاہر تھا کہ یہ قمیض بہادر نے ہی پہنی ہو گی ، لڈن کے یہ کہنے کی دیر تھی کہ مالا کی پوری آنکھیں کھل گٸیں ۔ وہ بدک کر چند قدم آگے آٸ
” بہ۔۔۔بہادر ۔۔۔۔۔ کہاں ہے وہ ۔۔۔؟ لڈن بھ۔۔بھاٸ بلاٶ اس کو فوراً اس کو کہو اندر آۓ “
مالا کی آواز میں لغزش در آٸ تھی اور وہ یہ بات بھی فراموش کیے بہادر کو اندر بلانے کا حکم صادر کر رہی تھی کہ بہادر کا حویلی کے اندر آنا منع ہے ۔ تمام لوگ اب اور حیرت اور تشویش میں مبتلا مالا کو تاک رہے تھے جسے اس وقت کچھ ہوش نہیں تھا
” کیا باولی ہو چلی ہے ایسی بھی کیا آفت آن پڑی ہے جو بہادر کو اندر بلا رہی ہے ، ہمیں تو کچھ بتا دے پہلے ، رک جا لڈن میاں مت بلا کے لاٸیو بہادر کو پہلے مجھے پوچھ لینے دے کہ ایسی بھی کیا بات ہو گٸ ہے “
خدیجہ بیگم جو کب سے حیران و پریشان کبھی مالا تو کبھی قمیض کو دیکھ رہی تھیں ہانک لگا کر لڈن کو رکنے کے لیے حکم دے دیا جو مالا کے جلتے دماغ کو اور سلگا گیا ۔
” لڈن بھاٸ ۔۔۔ نہیں تم جاٶ بلا کر لاٶ بہادر کو ۔۔۔۔۔نہیں تو ۔۔۔ “
مالا تو غصے میں کانپ رہی تھی اور پھر اپنی ہی بات پر رک کر تیزی سے زینے اترتے ہوۓ صحن کی طرف بڑھی
” بلکہ رک جاٸیں میں خود چلی جاتی ہوں باہر “
وہ جوش میں کہتی ہوٸ اب تیز تیز قدم اُٹھاتی بیرونی گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنے دوپٹے کو سر پر اوڑھ رہی تھی ۔
” غزالہ کیا بُدھی کام کرنا چھوڑ چکی ہے اس خرافہ کی ، کہاں کو بھاگ رہی ہے چنڈال کہیں کی ، اپنے دا جی سے چوٹی پٹوا لیوے گی پکڑ اس ناہنجار کو “
خدیجہ بیگم تیزی سے تخت پر سے ٹانگیں سیدھے کر رہی تھیں ،غزالہ گڑ بڑا کر آگے ہوٸ کہ منیر میاں تیزی سے آگے بڑھے
” مالا بیٹا ۔۔۔۔ مالا بیٹا رک جاٶ میں بلا لاتا ہوں اس کو یہیں پر تم باہر برانڈوں میں کیوں جاٶ گی “
منیر میاں نے زینے اترتے ہوۓ ہاتھ کھڑا کر مالا کو حویلی کی روش پر ہی روک دیا اور خود تیز تیز قدم اُٹھاتے پھولی سانس کے ساتھ مالا کے پاس پہنچا ، مالا اب دوپٹے کے پلو کو سر پر ٹکاتے رک چکی تھی چہرہ اضطراب اور اندرونی کرب کے باعث دہک رہا تھا ۔
” منیر پھپھا اگر کچھ دیر میں وہ حویلی میں نا آیا تو میں باہر آ جاٶں گی “
مالا نے انگلی کو ہوا میں معلق کیے منیر کو تنبہیہ کی
” چلو تم میں لے کر آتا ہوں اس کو اندر ، تم چلو اُدھر “
منیر میاں نے اسے اندر جانے کا اشارہ کیا تو وہ ناک بھینچے واپس صحن کی طرف چل دی جہاں خدیجہ بیگم متواتر اسے ہی کوس رہی تھیں ۔
” ہمیں تو بک دے کچھ کہ کیا کرتی پھر رہی ہے تو کس کی قمیض ہے کاہے کو اُٹھاۓ پھر رہی ہے ، ناس پٹی ایسی ڈھیٹ ہے اپنی مرضی سے زبان کھولتی ہے “
خدیجہ بیگم اس سے مسلسل قمیض کے بارے میں سوال کر رہی تھیں اور وہ تھی کہ دم سادھے ہمت جمع کر رہی تھی جو ابھی کچھ دیر میں اسے بہادر کے آگے دکھانی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد بہادر کے ساتھ چوہدری حاکم ، نوازش ، نقیب ، لڈن اور گاما بھی ماتھے پر بل ڈالے گھر میں داخل ہوۓ تھے ، رعب سے قدم اُٹھاتے چوہدری حاکم سب سے آگے تھے اور باقی لوگ ان کے پیچھے تھے ، بہادر سر کو حد درجہ جھکاۓ چلتا ہوا آ رہا تھا ۔ منیر نے باہر جا کر بات ہی کچھ اس انداز میں کی تھی کہ چوہدری حاکم اس بات کی تشویش کے پیش نظر سب کو لے کر اندر آ چکے تھے ۔ روش سے اٹاری تک کا فاصلہ عبور کرنے کے بعد اب چوہدری حاکم مالا کے بلکل سامنے کھڑے تھے جو اٹاری کے زینے کے پاس نیچے کھڑی تھی اور باقی سب اوپر تھے ۔
” ہاں ۔۔۔ کیا آفت آن پڑی ۔۔۔؟ “
چوہدری حاکم نے کٹیلے لہجے میں پوچھا اور گھور کر مالا کی طرف دیکھا جو اس وقت سرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ سپاٹ چہرہ لیے کھڑی تھی ۔
” مجھے بہادر سے کچھ سوال کرنے ہیں اور باقی سب آپ کو بہادر ہی اپنی زبان سے بتاۓ گا “
مالا نے سپاٹ لہجے میں چوہدری حاکم کی بات کا جواب دیا اور پھر غصے میں قمیض کو ہاتھ میں جھلاتی بہادر کے بلکل سامنے آ کھڑی ہوٸ ۔
” پاگل ہو گٸ ہے ، کیا ہوا ہے ؟ ؟ ، مجھ سے بات کر پہلے ، ہوا کیا ہے اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو گٸ ہے “
چوہدری حاکم نے دانت پیستے ہوۓ مالا کو حکم صادر کیا جو غصے میں تیز تیز سانس لے رہی تھی ۔ اور اب بہادر کے بلکل سامنے کھڑی تھی
” دا جی میں نہیں یہ بتاۓ گا ۔۔۔ یہ بتاۓ گا سب کو ۔۔ یہ قمیض دیکھ رہے ہو ، بھول کیسے سکتے ہو اس کو ، بولو یہ قمیض تم نے پہنی تھی فرزانہ آپا کے ویلمے کے دن ، اور اب یہ حویلی میں میرے ہاتھ میں کیوں ہے “
مالا کو تو آج چوہدری حاکم کے غصے ،رعب اور دبدبے کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی وہ تو خونخوار شیرنی کی طرح بپھر کر بہادر کے آگے کھڑی اس سے سوال کر رہی تھی ۔ بہادر نے حیرت سے آنکھیں حدر درجہ پھیلاۓ قمیض کی طرف دیکھا اور اس کی گردن میں گلٹی نے اوپر سے نیچے سفر طے کیا
” نہ۔۔۔نہیں ۔۔ مالا بی بی میں نے فرازنہ آپا کی شادی پر نہ ویلیمے پر کسی دن بھی یہ قمیض نہیں پہنی تھی میں نے تو ویلمے کے روز سفید قمیض شلوار پہنی تھی ، اور یہ تو بعد میں پھٹ گٸ تھی ایک دفعہ میں نے یہاں دھلاٸ کو دی ملی نہیں پھر میں نے لڈن کے ہاتھ پیغام بھی بھیجا تھا ایک دو دفعہ کہ میری قمیض ہے حویلی میں “
بہادر نے حیرت سے بھنویں اچکاٸیں اور پھر سب لوگ جو حیران اور ہم تن گوش تھے ان کی طرف دیکھا ۔ لڈن نے اثبات میں سر ہلا کر اس کی بات کی تصدیق کی ۔
مالا نے لب بھینچے اور بازو جھٹک کر قمیض اس کے پھر سے سامنے کی
” جھوٹ ۔۔۔ بلکل جھوٹ یہی پہنی تھی ، تقی کا یہ جوڑا تم نے ہی لیا تھا بس اتنا بتاٶ پہلے “
مالا اب تنک مزاجی سے سوال بدل کر پوچھ رہی تھی مسواۓ غزالہ کے سب کے ماتھے پر ناسمجھی کے شکن نمودار تھے ، غزالہ کے چہرے پر جہاں مالا کی اس حرکت پر خوف تھا وہاں رمنا کے ذکر پر کرب کی جھلک بھی تھی ۔ مالا کے اب والے سوال پر گاما تھوڑا سا آگے ہوا ۔
” جی بی بی یہ جوڑا تو مجھے یاد ہے ، یہ بہادر نے ہی اُٹھایا تھا ، کُل چار جوڑے تھے جن میں سے نقیب میاں کے دو جوڑے میں نے اور ایک لڈن نے لیا تھا اور چوتھا یہ تقی میاں کا بہادر نے اُٹھا لیا تھا پر ویلیمے کے روز تو رمنا بی بی کے حادثے کے بعد کسی کو کوٸ ہوش ہی نا رہا کہ دیکھتے کس نے کونسا جوڑا پہنا ہے ، پر ہوا کیا ہے بیٹی “
گامے نے ناک پر عینک درست کرتے ہوۓ بات کی تصدیق کر دی اور ساتھ ہی اس تفشتیش کا سبب پوچھا ، مالا نے گامے کے سوال کا جواب دینے کے بجاۓ گھور کر بہادر کی طرف دیکھا
” ہاں یہ جوڑا میں ہی لے کر گیا تھا ، ۔۔ پر ۔۔۔پر ویلیمے کے روز یہ نہیں پہنا تھا میں نے “
بہادر نے بدحواسی میں مالا کی بات سے انکار کیا ، وہ نفی میں گردن ہلا رہا تھا اور ساتھ ساتھ اردگرد سب کو کچھ یوں دیکھ رہا تھا کہ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے ۔
” میں جانتی ہوں سب سچ کیا تھا تم یہاں سب کو یہ بتاٶ تم نے رمنا آپا کو چھت سے کیوں دھکا دیا تھا ؟ “
مالا نے مٹھیاں بھینچے سوال کیا ، سب دم بخودہ اب مالا کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ بہادر کی تو آنکھیں پھٹ کر باہر آگٸ تھیں اور مالا بڑی باریکی بینی سے بہادر کی تمام حرکات کو جانچ رہی تھی ۔
” رمنا آپا کو چھت سے دھکا کیوں دیا تھا “
مالا نے بہادر کے سامنے کھڑے ہو کر چیختے ہوۓ پھر سے وہی سوال دہرایا ، جہاں بہادر نے چونک کر سر اوپر اٹھا کر مالا کی طرف دیکھا تھا وہاں باقی سب مکیں بھی دنگ کھڑے تھے کہ وہ اسطرح کیوں چیخ رہی تھی ۔
” م۔۔مالا بی بی ک۔۔کیا بات ہے ، ہوا کیا ہے ؟ ۔۔۔“
بہادر ابھی بے ربط سے الفاظ ہی ادا کر رہا تھا کہ چوہدری حاکم آگے بڑھے اور مالا کا کندھا جھٹکتے ہوۓ اپنی طرف موڑا
” یہ کیا بے تکی باتیں لے کر بیٹھ گٸ ہے ہوا کیا ہے ؟ اتنے سال بعد رمنا کی موت کا ذکر کہاں سے آ گیا ؟ “
چوہدری حاکم نے وہ تمام سوال مالا سے کیے تھے جو اس وقت یہاں کھڑے تمام نفوس کے ذہنوں میں گردش کر رہے تھے ۔ مالا نے چوہدری حاکم کے غصے کو یکسر نظر انداز کرتے ہوۓ پھر سے بہادر کی طرف دیکھا ۔
” مہ۔۔مالا بی بی یہ آپ کہہ کیا رہی ہیں میں ۔۔۔ میں بھلا کیوں دھکا دوں گا رمنا بی بی کو اور میں تو حویلی کے اندر “
بہادر نے اپنی بات کی وضاحت کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ مالا نے پھر سے بات کاٹی
” شادی کے دنوں میں تمہیں تھی اجازت تم گھوم رہے تھے آرام سے صحن میں اس لیے جھوٹ بولنا اب بند کردو اور بتاٶ صاف صاف سب کو تم نے میری آپا کو کیوں دھکا دیا اور اب تم کس کو مارنے والے ہو ہم میں سے جلدی بتاٶ نہیں تو تمھارا خون پی جاٶں گی میں “
مالا متواتر چیخ چیخ کر سوال کر رہی تھی ، چوہدری حاکم نے غصے سے نوازش اور نقیب کی طرف دیکھا جن کی شاٸد غیرت ہی سو گٸ تھی ۔
” بی بی جی۔۔۔۔ مجھ غریب پر اتنا بڑا الزام مت لگاٸیں خدا قسم میں نے رمنا بی بی کو دھکا نہیں دیا تھا “
بہادر ہاتھ جوڑے کھڑا تھا ، سب بدحواس ، انگشت بدنداں کھڑے تھے اور وہ چیخ رہی تھی ۔ نوازش اور نقیب چوہدری حاکم کی گھوری پر آگے بڑھے تھے اور پھر مالا کے دونوں بازو دبوچ لیے تھے ۔
” تم نے ہی دیا ہے اللہ پاک کی جھوٹی قسم مت کھا ذلیل انسان ۔۔۔۔میری بہن کو کیوں مارا ۔ا۔ا۔ا۔ا۔ ؟ اور اب کس کی قبر کھود رہا ہے بتا دے مجھے “
وہ چیختی ہوٸ نوازش اور نقیب کے ہاتھوں سے اپنے بازو چھڑوا رہی تھی ، چوہدری حاکم نے مالا کی تشویش ناک حالت دیکھ کر قدم آگے بڑھاۓ
” بہادر تو جا یہاں سے ، منیر بہادر کو لے کر جا باہر “
چوہدری حاکم نے ہاتھ کھڑا کیے رعب سے حکم صادر کیا
” نہیں۔ں۔ں۔ں یہ کہیں نہیں جاۓ گا ۔۔۔۔ یہ بھاگ جاۓ گا۔۔۔۔۔ یہ بھاگ جاۓ گا ۔۔۔۔۔ یہ خواب میں بھی بھاگ گیا تھا ، ابا اس کو مت جانے دو میں سچ کہہ رہی ہوں “
چیخ کر مالا کا گلا بیٹھ رہا تھا سب لوگ اب منہ پر ہاتھ رکھے یہ عجیب و غریب تماشہ دیکھ رہے تھے ، نقیب اور نوازش مالا کو گھسیٹتے ہوۓ حاکم قصر کے صحن سے اٹاری میں لے آۓ تھے وہ تو بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی ، چوہدری حاکم نے ضبط سے کچھ یوں بوڑھی جھری دار لب بھینچے کہ ان کے جبڑے کی ہڈیاں باہر کو ابھرتی ہوٸ محسوس ہوٸیں ۔
” مالا ۔۔۔ ۔۔۔ چپ بلکل چپ “
چوہدری حاکم کی گرجدار آواز سے حاکم قصر کے درو دیوار کانپ اُٹھے ، مالا ایک دم سے چپ ہوٸ ، چوہدری حاکم نے لڈن ، گامے اور بہادر کو ہاتھ کے اشارے سے جانے کا کہا بہادر پیشانی پر ہاتھ پھیرتا ان کے ساتھ باہر کو بڑھ گیا ، چوہدری حاکم نے رُخ مالا کی طرف موڑا
” اب بتاٶ یہ کیا معاملا ہے سارا ، غزالہ ادھر آ ۔۔۔۔“
چوہدی حاکم نے رعب سے بیٹی کی جگہ ماں کی پیشی لگاٸ ، مالا اب روتے ہوۓ سر کو نفی میں ہلا رہی تھی ، غزالہ تیز تیز قدم اٹھاتی ہواٸیاں اُڑے چہرے کے ساتھ ، چوہدری حاکم کے سامنے آ کھڑی ہوٸ اور پھر نگاہیں جھکاۓ الف سے یے تک ساری داستان گوش گزار کی سب دم سادھے یہ عجیب سی کتھا سن رہے تھے جو ان کے نگوڑے کانوں نے آج تک نہیں سنی تھی اور عقل چیخ چیخ کر اس داستان سے انکاری تھی ۔ غزالہ اب سارا قصہ بیان کرنے کے بعد سر جھکاۓ مجرموں کی طرح رو پڑی تھی ، چوہدری حاکم نے بغور مالا کی طرف دیکھا اور چند پل کے توقف کے بعد گہری سانس لے کر بات شروع کی
” مالا وہ خدا کی قسم کھا رہا ہے ، اور وہ کوٸ اب سے ہمارے گھر کا ملازم نہیں اس کے باوا ہمارے ہاں کام کرتے ہیں ،اس کا باپ آج بھی ہمارے کھیتوں میں ٹریکٹر چلاتا ہے اور اس کے کپڑے پہلے بھی اکثر گھر میں دھلتے ہیں یہ قمیض بعد میں بھی یہاں آ سکتی ہے “
چوہدری حاکم کی آواز اٹاری کی خاموشی کو چیرتی ہوٸ سب کے کانوں میں داخل ہو رہی تھی ، مالا اس وقت بھی غم و غصے کی ملی جلی کفیت میں ضبط سے کھڑی تھی ۔
” اور تمھارے پاس کوٸ ثبوت نہیں اپنے بے بنیاد خوابوں کے علاوہ اس لیے اس سب کو خواب سمجھ حقیقت میں تماشے مت لگا “
چوہدی حاکم نے آخری بات ذرا اونچی آواز میں ڈپتے ہوۓ کہا اور غزالہ کی طرف دیکھا
” غزالہ ٹھنڈی لسی پی آ مالا کو ۔۔ اس کے پاگل دماغ کو سکون ملے جس کے ساتھ رہتی ہے اس کی ہی صحبت کا اثر لے بیٹھی ہے پہلے ایک پاگل کم تھا حویلی میں ایک یہ اس کی ہم جولی پیدا ہو گٸ ہماری ناک کٹوانے کو “
چوہدری حاکم نے تخت سے اٹھنے کے لیے ہاتھ کو آگے بڑھایا نقیب نے جلدی سے چوہدری حاکم کا ہاتھ تھاما اور پھر وہ سب آگے پیچھے حویلی سے باہر چلے گۓ تھے جب کے تلمالتی مالا اب بھی آنکھوں کو سکوڑے کھڑی تھی جسے غزالہ زبردستی اب کمرے کی طرف گھسیٹ رہی تھی ۔ اور پوری اٹاری میں چہ موگیاں ہونے لگی تھیں ۔
**********
حویلی کے پچھلے دروازے سے چار زنانہ قدم باہر نکلے تھے ، اور اب تیز تیز مٹی سے لدی کچی سڑک پر چل رہے تھے ، جیسے جیسے وہ قدم بڑھا رہی تھیں مٹی اُڑ اُڑ کر ان کے پاٶں پر پڑ رہی تھی ، عصر کی اذان چاروں طرف گونج رہی تھی ، چکی کی کوُ ۔۔ کُو نے اس خونی سی شام کو اور سحر انگیز بنا رکھا تھا ۔ دور اگر سڑک پر سیدھا دیکھو تو سورج نارنجی اور پیلی ملی جلی روشنی سے آسمان کو رنگ رہا تھا ۔
سارے گھر والوں کے پرسکون ہوتے ہی وہ سکینہ کو لے کر چوری چھپے گھر سے باہر آ گٸ تھی اور اب وہ بہادر کے گھر کی طرف رواں دواں تھیں ۔ بہادر عصر کے بعد اپنے گھر چلا جاتا تھا اور مالا کو معلوم تھا یہاں رات ہوٸ وہاں بہادر اس کے ہاتھ سے نکل جاۓ گا ۔
مالا نے سیاہ چادر کے ایک کونے کو موڑ کر اپنے لبوں میں دبا رکھا تھا اور ایک طرف سے چادر کو پکڑ کر سر پر ٹکا رہا تھا ، سکینہ حواس باختہ سی اپنی چُنی سر پر سنبھالتی قدم سے قدم ملاۓ اس کے ساتھ چلنے کی کوشش میں نہال ہو رہی تھی ۔
” مالا میری بات سن۔۔۔ تو نے اُدھر صبح سب کے سامنے اُس بٹن کا ذکر کیوں نہیں کیا یہ ثبوت تھا تو تیرے پاس بول۔۔۔ بتایا کیوں نہیں چوہدری جی کو “
سکینہ نے حیرت اور تشویش سے سوال کیا ، مالا نے چادر سنبھالے اس کی طرف دیکھا ، نیلی آنکھوں پر خون سوار تھا جسے دیکھ کر سکینہ گھبرا گٸ اور دل میں ہی خود کو کوسا کیوں اس کے ساتھ حویلی سے چل پڑی اللہ جانے کیا ہو ۔۔
” میں نے جان بوجھ کر نہیں بتایا اسے ، میں اس کے چہرے پر خوف دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ خوف کھاتا ہے کہ نہیں کہ یہ سب مجھے کیسے پتا چلا ، اگر بٹن کا بتاتی پہلے تو اماں اور سب کی طرح وہ بھی میرے اندازے سمجھ کر شیر ہو جاتا ، اب جلدی قدم اُٹھا وہ گھر سے بھاگ نا جاۓ “
مالا نے جوش سے اسے حکم صادر کیا وہ تیز تیز قدم اُٹھاتی کنویں کے پاس سے گزر رہی تھیں جہاں بہت سی عورتیں مجمع لگاۓ پانی کے گھڑے بھر رہی تھیں ۔ سکینہ کے چہرے پر اب گھبراہٹ واضح تھی ۔
بہادر کے گھر کے سامنے جاتے ہی مالا نے ایک لمحے کے توقف کیے بنا لکڑی کا دروازہ دھاڑ دھاڑ کی آواز سے بجا ڈالا ، اور کچھ دیر میں دروازے کے دونوں پٹ کھول کر سامنے بہادر ہی کھڑا تھا اور مالا کے کہنے کے عین مطابق مالا کو یہاں دیکھ کر اس کے چھکے چھوٹ گۓ تھے ۔ چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا ۔
” مالا ۔۔۔ بی۔۔بی یہاں ۔۔۔ کہ۔۔کہ۔کیا ہوا ؟ “
وہ حواس باختہ ٹوٹے پھوٹے ٹکڑوں میں بٹے لفظ ادا کر رہا تھا ، مالا نے نگاہ اُٹھاۓ اس کے پیچھے دیکھا ، اس کے بکل پیچھے کچے صحن میں ایک چارپاٸ پر بیٹھی بوڑھی عورت اور ایک جوان عورت حیرت سے دروازے کی ہی طرف تاک رہی تھیں یقیناً ایک اس کی ماں اور دوسری بیوی تھی ۔
” بتاتی ہوں تمہیں ۔۔ ہٹو ذرا “
مالا نے اسے سامنے سے ہٹنے کا اشارہ کیا
” مالا بی بی دیکھو یہ بات غلط ہے میں حویلی میں سارا معاملہ نمنٹا کر آیا ہوں آپ ادھر کیوں آٸ ہیں “
بہادر نے بوکھلاہٹ میں دروازے سے ہٹے بنا جواب دیا
” تم بھی جانتے ہو میں کیوں آٸ ہوں کیونکہ اگر میں یہاں نا پہنچتی تو تم آج رات کو ہی بھاگ جاتے اب ہٹو پیچھے “
مالا نے اب تقریباً اسے دھکا دیا تھا وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہوا مالا اب تیز تیز چلتی صحن کے وسط میں چارپاٸ کے پاس آ چکی تھی
” مالا بی بی یہ کیا کر رہی ہو یہ غلط کر رہی ہو میں کہہ رہا ہوں میں چوہدی جی کو بتا دوں گا سب “
بہادر گڑ بڑا گیا تھا اور تیز تیز قدم چلتا قریب آیا اور وہ اب بہادر کی ماں کے سر پر کھڑی تھی ۔
”آٶ یہاں ۔۔۔۔ اپنی ماں کی سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاٶ کہ تم نے ویلیمیے پر وہ قمیض نہیں پہنی تھی “
مالا نے دانت پیستے ہوۓ ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا ، سکینہ جو ابھی تک دروازے کا کواڑ تھامے کھڑی تھی گھبرا کے وہاں سے واپس پلٹی ۔
***********
بہادر نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا تھا ، سامنے کھڑی یہ لڑکی جس کے سر پر خون سوار تھا اسے کسی بھی صورت بخشنے کو تیار نہیں تھی ۔
” مالا بی بی میں اپنی اماں کے سر کی قسم کیوں کھاٶں میں بتا چکا ہوں کہ میں نے نہیں پہنی تھی قمیض تو بس نہیں پہنی تھی “
بہادر نے جھنجھلاہٹ اور غصے میں سر گھماتے ہوۓ قسم کھانے سے انکار کیا ، چارپاٸ پر بیٹھی جوان عورت ایک جھٹکے سے چارپاٸ سے اُٹھ کر کھڑی ہو چکی تھی اور اب دیدے پھاڑ پھاڑ کر بہادر کو دیکھ رہی تھی ۔
” ہاں تو اگر سچ بول ہی رہے ہو تو کھاٶ اپنی اماں کی قسم ، خدا کی بھی تو کھا گۓ تھے ، ماں کو کھونے کا اتنا ڈر ہے اور وہ جو ستر ماٶں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے اس کا کوٸ ڈر نہیں “
مالا چیخ رہی تھی اور بہادر کی کنپٹی کی رگیں پھولنے لگی تھیں ، وہ پھوں پھوں کرتا قدم صحن میں بنے کچے کمرے کی طرف بڑھا چکا تھا ، مالا پاگلوں کی طرح اس کے پیچھے بھاگی
” رُکو ۔۔۔ رُکو اب کہاں جاتے ہو ذلیل انسان ۔۔۔۔۔ اب قسم کھاتا کیوں نہیں “
بہادر نے دھاڑ سے کمرے کا دروازہ بند کیا اور چٹخنی لگاٸ ، مالا نے زور زور سے کمرے کا دروازہ پیٹ ڈالا
” کھولو دروازہ ۔۔۔۔۔ دروازہ کھولو میں کہتی ہوں ، نکلو باہر “
وہ پاگلوں کی طرح دروازہ پیٹ رہی تھی جب اچانک پیچھے سے تقی کی آواز سناٸ دی اور ہاتھ دروازے پر ہی تھم گۓ
” مالا ۔۔۔۔۔۔۔ “
تقی دروازے سے تقریباً بھاگتا ہوا اب مالا کی طرف آ رہا تھا اس کی سانس پھولی ہوٸ تھی اور اس کے پیچھے سکینہ بھی پھولی سانسوں کے ساتھ دروازے سے اندر داخل ہوٸ ، وہ تقی کے کلینک سے تقی کو بلا لاٸ تھی بہادر کے گھر سے کچھ دوری پر ہی تقی کا کلینک تھا وہ ابھی شہر سے لوٹ کر کلینک پہنچا ہی تھا جب سکینہ بدحواس سے کلینک پہنچی اور راستے میں وہ اسے آج کی ساری کہانی سنا چکی تھی ۔ مالا بوکھلا کر تقی کی طرف بڑھی ۔
” تقی ۔۔۔۔ وہ بہادر تھا ۔۔۔۔ وہ بہادر ہی تھا ۔۔۔۔ اس کو باہر نکالو ، اس سے پوچھو سب کیوں دھکا دیا تھا آپا کو اور اب کون ہے جس کی قبر کھود رہا ہے یہ “
مالا کانپتی سی تقی کا گریبان تھامے ہوٸ تھی، تقی نے گھور کر دروازے کی طرف دیکھا اور پھر لب بھینچے جیسے ہی دروازے کے پاس گیا بہادر پہلے دروازہ کھول چکا تھا اور اب سر جھکاۓ کھڑا تھا
بہادر نے کانپتے سے ہاتھ تقی کے آگے جوڑے تھے ، تقی کو لگا سر پر کوٸ آسمان آ گرا ہوا بے ساختہ اس نے اپنا ماتھا تھام لیا تھا اور پھر ایک جھٹکے سے آگے بڑھ کر بہادر کا گریبان دبوچ لیا
” تو نے دھکا کیوں دیا۔۔ا۔ا۔ا۔اا۔ا کیوں کیا ۔۔۔۔ا۔ا۔ا۔ “
تقی تو ہوش کھو بیٹھا تھا ، دل پھٹنے کی حد تک آ گیا تھا دل کیا وہ پل واپس آ جاٸیں وہ رمنا کا ہاتھ تھام کر کھینچ کر چھت پر جانے سے روک دے اور کہے بتاٶ کیا بات ہے ۔ مالا اب منہ پر ہاتھ رکھے زور زور سے رو رہی تھی ۔
تقی بہادر کے منہ پر گھونسے جڑ رہا تھا اور وہ آرام سے مار کھا رہا تھا ، اس کے ناک سے خون بہہ نکلا تھا پر اس کی نگاہ جھکی ہی تھی تقی مسلسل اس سے کیوں ؟ کیوں ؟ پوچھ رہا تھا پر وہاں وہ چپ سادھے کھڑا تھا ۔
” تو نے میرے اعتبار کا یہ صلہ دیا ۔۔۔ “
تقی نے اس کا گریبان دبوچ کر اسے اوپر اُٹھایا تھا پھر جھٹکے سے نیچے کیا
” بتا اب اور کس کو مارنا ہے تو نے بتا کس کو مارنا چاہتا ہے رمنا کے ساتھ کیوں کیا ایسا بتا کیوں دھکا دیا“
تقی پاگل ہو گیا تھا ۔۔۔ وہ بے حال سا اسے مارے جا رہا تھا اور سوال پر سوال کر رہا تھا بہادر ادھ موا ہو گیا تھا ، پھر اس کی کانپتی سی آواز گونجی
” تقی میں نے رمنا بی بی کو دھکا نہیں دیا تھا ، میں تو ان کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا ، دھکا کسی اور نے دیا تھا “
وہ کرب سے لب بھینچے بول اُٹھا تھا ، تقی کا ہاتھ ایک دم سے تھم گیا
” کون ۔۔۔ کس نے دیا۔۔۔ کس نے دھکا دیا تھا “
مالا نے گڑبڑا کر آگے ہوتے ہوۓ سوال کیا ، چند لمحے کی ہولناک خاموشی کے بعد بہادر کی آواز گونجی
” منہا ۔۔۔۔۔۔۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: