Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 27

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 27

–**–**–

بہادر کے منہ سے جو نام نکلا تھا وہ سامنے کھڑے دونوں نفوس کو مجسم بنا دینے کے لیے کافی تھا۔۔۔۔ عقل دنگ تھی تو زبان گنگ ۔ بہادر تقی کے بلکل سامنے زمین پر بیٹھا تھا ، دو قدم کی دوری پر مالا آنکھیں پوری کھلے کھڑی بہادر کی طرف دیکھ رہی تھی ، تقی نے بھنویں بے یقینی سے سکیڑیں ، جبڑے ضبط اور غصے کی پیش نظر باہر کو ابھرے
”کہ۔۔کک۔۔کس کا نام لیا ابھی تم نے پھر سے ۔۔۔پھر سے لو ؟ “
تقی کی زبان لڑکھڑا گٸ تھی ، ایسا ہی کچھ حال ساتھ کھڑی مالا کا تھا جس کی بے یقنی اور حیرت نے اس کی چہرے کو زرد کر دیا تھا دور صحن میں کھڑی خواتین میں سے سکینہ کا ہاتھ منہ پر تھا تو باقی دونوں بھی متحوش حالت میں کھڑی تھیں ۔
” ہاں ۔۔۔ منہا بی بی نے دھکا دیا تھا رمنا بی بی کو “
بہادر نے نگاہیں جھکا دیں تھیں اور اب اس کی جھکی نگاہیں بھی وہ چرا رہا تھا، سر کو زمین پر جھکاۓ وہ دھیرے سے تاسف میں داٸیں باٸیں جنبش دیتا ہوا ماتم کی سی کیفیت میں لگ رہا تھا ، مالا اچانک پلکیں جھپکاتی آگے بڑھی
” تقی یہ ۔۔۔یہ ۔۔۔۔جھوٹ بول رہا ہے ، بکواس کر رہا ہے۔۔۔ منہا آپا ایسا کیوں کرے گی جھوٹ بول رہا ہے یہ ، اس کو مارو تقی ، اسے زندہ نا چھوڑنا “
مالا نے چیخ کر تقی کے کندھے کو ہلایا ، وہ پاگلوں کی طرح حیرت میں ڈوبے کھڑے تقی کو ہلاتے ہوۓ مسلسل بول رہی تھی ، بہادر نے فوراً گڑبڑا کر چہرہ اوپر اُٹھایا
” نہیں ۔۔۔ مالا بی بی ۔۔۔ میں ۔۔۔“
بات کو ادھورا چھوڑ کر بہادر ایک جھٹکے سے آگے بڑھا تھا اور پھر صحن کے وسط میں موجود چارپاٸ پر بیٹھی اپنی ماں کے سر پر جا کھڑا ہوا ، کانپتا سا ہاتھ اُٹھا کر اپنی ماں کے سفید چادر سے ڈھکے سر پر رکھ دیا ۔
” مالا بی بی ۔۔۔ میں سچ کہہ رہا ہوں ، یہ جوڑا میں نے ہی پہنا تھا اور یہ جیب بھی رمنا بی بی ہی نہیں پھاڑی تھی ، پر اس دن چھت پر رمنا بی بی کو دھکا میں نے نہیں منہا بی بی نے دیا تھا میں نے تو لپک کر ان کو بچانے کی کوشش کی تھی جس میں ناکام رہا میرا یقین کرو “
بہادر جزبز سا رقت آمیز لہجے میں کبھی تقی اور کبھی مالا کی طرف دیکھتے ہوۓ سچ اُگل رہا تھا جو اس وقت ورطہ حیرت میں مبتلا تھے ۔
سورج غروب ہو گیا تھا اور اندھیرا کچے صحن، کچی مٹی کی دیواروں اور یہاں مجسم کھڑے نفوس کو اپنے لپیٹ میں لے رہا تھا، اندھیرا صرف در و دیوار میں نہیں پھیل رہا تھا بلکہ یہاں کھڑے تمام نفوس کے دل بھی اس اندھیرے کی لپیٹ کے باعث سیاہ ہو رہے تھے اور چہرے پر دھواں بھر رہا تھا ، چند پل کی ہولناک خاموشی کے بعد بہادر تقی کی طرف بڑھا تھا ،من من بھاری ہوتے قدم اُٹھاتا وہ حیران سے کھڑے تقی کے بلکل سامنے آن کھڑا ہوا ۔
” تقی بھاٸ آپ پہلے میری پوری بات سن لیں ، اس کے بعد آپ مجھے جو سزا دیں گے مجھے قبول ہو گی “
بہادر بول رہا تھا لیکن تقی تو زندہ لاش کی طرح بے یقینی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ مالا نے نگاہیں بہادر کے چہرے پر مرکوز کیں جہاں گیارہ سال کی تھکاوٹ صاف واضح تھی ، وہ مجرم نہ ہو کر بھی مجرم کی طرح کیوں کھڑا تھا ، دلوں کی رکی دھڑکنوں میں ارتعاش بہادر کی آواز سے پیدا ہوا تھا ۔
” تقی بھاٸ پہلے سب ٹھیک چل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ جب رمنا بی بی بھی سکول جاتی تھی ، میں رمنا اور منہا بی بی کو ان کے سکول سے لیتا ، پھر فرہاد باٶ کو ان کے سکول سے اٹھاتا اور حویلی چھوڑ دیتا “
بہادر بہت آہستگی سے بات کی تمہید باندھ چکا تھا اور اس کے سامنے تقی اور مالا دم سادھے اسے سن رہے تھے ۔
” پھر آٹھویں جماعت کے بعد رمنا بی بی کو چوہدری جی نے سکول سے اُٹھا لیا تو منہا بی بی اکیلے سکول آنے ، جانے لگی “
بہادر نے سر مزید جھکایا اس کا لہجہ ندامت سے چور تھا ، جسم میں ہلکی سی لغزش تھی پیشانی ، گردن اور ماتھے پر پسینے کے ننھے قطرے تھے ۔
*************
سن 1986 جون کی چلچلاتی دھوپ ، لڑکیوں کے سکول کے گیٹ کے آگے تارکول میں لپٹی گاٶں کی واحد پکی سڑک لک کی طرح تپ رہی تھی ۔
سڑک پر سکول کے گیٹ کے بلکل پاس کھڑی حاکم قصر کی گاڑی بھی تپنے لگی تھی ، بہادر لڑکیوں کے سکول کے باہر گاڑی لگاۓ منہا کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا، منہا سکول کی چھٹی ہو جانے کے بعد بھی دس پندرہ منٹ بعد ہی دوستوں سے گپ شپ لگا کر نکلتی تھی ، پہلے جب رمنا سکول جایا کرتی تھی ، تو وہ منہا کو بھی گھسیٹ کر جلدی باہر لے آتی تھی لیکن اب جب سے رمنا نے سکول چھوڑا تھا بہادر کو منہا کے لیے یونہی انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑتا تھا۔
بہادر خان کا سفید چہرہ چلچلاتی دھوپ کے باعث سرخ پڑ گیا تھا ، وہ بلکل اپنے باپ پر گیا تھا ، لمبا قد خوبرو چہرہ ، بہت زیادہ سفید رنگت ، اس کا باپ پٹھان اور ماں پنجابی تھی جس کے عشق میں گرفتار ہو کر بہادر کا باپ اکبر خان اسے بھگا کر اس گاٶں میں لے آیا تھا اور پھر یہاں چوہدری حاکم کے ہاں ملازمت کرنے لگا وہ پہلے کسی شہر کا رہاٸشی تھا اور اُدھر بس ڈراٸیور تھا ، ڈراٸیونگ تو جانتا ہی تھا اس لیے یہاں چوہدری حاکم کے کھیتوں میں ٹریکٹر چلانے لگا ، وہ اور اس کی بیوی خالی ہاتھ بھاگ کر گاٶں آۓ تھے اس لیے اب غربت کے باعث بہادر کو پڑھا نہیں سکے تھے ، بہادر بچپن سے ہی حویلی کے برانڈوں میں چھوٹے موٹے کام کرنے لگا اور تھوڑا سا بڑا ہوا تو نیقب حاکم نے اسے گاڑی چلانا سیکھا کر حاکم قصر کا ڈراٸیور بنا دیا۔
وہ سولہ سال کا تھا تب سے ہی حاکم قصر کی گاڑی چلانے لگا ۔ وہ زیادہ طر حویلی کے معمول کے کاموں کے لیے گاڑی چلاتا تھا جس میں بچوں کو سکول لے کر جانا اور واپس لانا ، خواتین کو بازار لے جانا ، اریب بیگم تو آۓ دن بازار جاتی تھیں ۔
وہ صبح منہا اور فرہاد کو سکول چھوڑ کر تقی کو شہر کالج چھوڑ کر آتا تھا ، تقی کیونکہ کالج کے بعد ٹیوشن بھی لیتا تھا اس لیے وہ واپس گاٶں آ جاتا تھا یہاں سے منہا اور فرہاد کو گھر چھوڑنے کے بعد وہ شام کو تقی کو پھر سے شہر سے واپس لینے جاتا تھا ۔
اب بھی وہ منہا کے سکول کے سامنے کھڑا اس کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا ، سارا سکول خالی ہونے والا تھا اور منہا تھی کہ نکلنے کا نام نہیں لے رہی تھی ، اُسے اب منہا کا سکول کے سامنے انتظار کرنا بہت کوفت میں مبتلا کرتا تھا ، منہا رمنا سے بہت مختلف تھی ، شوخ چنچل اور باتونی اور یہی وجہ تھی وہ سکول میں چھٹی ہونے کے بعد بھی دوستوں سے باتیں کرتی رہتی تھی ۔
وہ یونہی بے زار صورت بناۓ تپتی گاڑی سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا جب منہا قہقے لگاتی سکول کے گیٹ سے باہر نکلی ، بہادر نے شکر کا کلمہ پڑھا اور جلدی سے آگے بڑھ کر گاڑی کی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول دیا ۔
منہا سر پر بڑی سے سیاہ چادر جماتی ، بستے کو کندھے پر درست کرتی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گٸ ، بہادر گھوم کر ڈراٸیونگ سیٹ پر آ چکا تھا ۔
بہادر نے سر جھکاۓ گاڑی سٹارٹ کی اور پھر شاٸستگی سے منہا کو پکارا جو پیچھے بیٹھی گود میں بستہ دھر کر انگلی میں پاپڑ ڈالے اسے کڑک ۔۔۔ کڑک ۔۔۔ کی آواز کے ساتھ کھانے میں مصروف تھی ۔
” منہا بی بی ۔۔۔ آپ بہت دیر لگاتی ہو جلدی سکول سے نکلا کرو “
بہادر نے بڑے مہزب لہجے میں منہا سے سکول جلدی باہر آنے کی درخواست کی تھی پر منہا تو اس کی اس جرأت پر ہتھے سے اُکھڑ گٸ ۔
”کیوں۔۔۔ آپ کو کیا مسٸلہ ہے انتظار کر لیا کریں “
منہا نے ناگواری سے پیشانی پر بل ڈالے اور منہ چڑانے کے انداز میں داٸیں باٸیں گھماتے ہوۓ پھر سے پاپڑ کھانے لگی ۔ بہادر گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا
” منہا بی بی پر آپ بہت زیادہ دیر لگاتی ہیں پھر فرہاد میاں کو بھی لینا ہوتا ہے سکول سے وہ پھر مجھے جھاڑتے ہیں “
بہادر اسے شاٸستگی سے وضاحت دے رہا تھا جو اب لب بھینچے بہادر کی بات برداشت کرنے کے انداز میں پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی ، آج پہلی دفعہ اس کی یوں بہادر کے ساتھ بات ہو رہی تھی ۔
” اس لنگور کو لینا ہی کیوں ہوتا ہے گاڑی پر ، اپنی ساٸیکل پر کیوں نہیں جاتا وہ سکول ، آیا بڑا مہاراجا ، اتنا پاس تو سکول ہے اس کا “
منہا نے تنک مزاجی سے فرہاد کی بات پر اور غصہ دکھایا ، بہادر نے لب بھینچے اور دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا ، منہا غصے سے تھوڑا سا آگے کھسکی اور سیٹ پر کہنی ٹکاۓ گھور کر بہادر کو دیکھا
” اور ہاں خبردار جو آج کے بعد مجھ پر اس طرح کا حکم چلایا تو میری مرضی میں جب بھی سکول سے نکلوں ، آپ کون ہوتے ہیں مجھ پر حکم چلاٸیں جلدی آٶ باہر “
منہا نے غصے سے ناک کے نتھنے پھلاۓ بہادر کو اس کی اوقات یاد دلاٸ ، بہادر خاموشی سے گاڑی لڑکوں کے سکول کے آگے روک چکا تھا ، گاڑی کو دیکھتے ہی سکول کے گیٹ کے پاس بیٹھا چوکیدار اُٹھ کر آگے آیا ۔
” فرہاد تو چلا گیا ہے حویلی “
چوکیدار نے ہاتھ لمبا کرتے ہوۓ بہادر کو فرہاد کے جانے کی خبر دی ، بہادر نے تاسف سے گردن ہلاٸ ، وہ آج بھی انتظار کر کے چلا گیا تھا ۔ بہادر نے پہلی دفعہ منہا کو اس کی غلطی باور کروانے کی غرض سے گاڑی کے شیشے کی اٶٹ سے پیچھے دیکھا وہ پہلے ہی اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
بہادر کے یوں دیکھنے پر اس نے بڑی ادا سے کندھے اچکا دیے اسے تو فرہاد سے ویسے بھی بہت چڑ تھی تو کیا ہوا اگر انتظار کر کے چلا گیا تھا تو ۔ ۔۔۔ بہادر اب حویلی کے رستے پر گاڑی موڑ چکا تھا ۔
**********
چھت پر لگے پنکھے کی گھوں گھوں منہا کے دماغ میں ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی ، یہ بلقیس اور نقیب حاکم کا کمرہ تھا جہاں ایک طرف دیوار کے ساتھ لگی کرسیوں کے بلکل سامنے منہا سر جھکاۓ مجرموں کی طرح کھڑی تھی اور سامنے کرسی پر نقیب حاکم غصے سے سرخ چہرہ لیے بیٹھے تھے ۔
” تمہیں شرم نہیں آتی اگر وہ بیچارا گھر کا ڈراٸیور ہے تو کیا وہ انسان نہیں ، کتنی دھوپ ہوتی ہے جہاں وہ باہر کھڑا تمھارا انتظار کر رہا ہوتا ہے اور تم ہو کہ نکلتی ہی نہیں سکول سے “
نقیب حاکم رعب دار آواز میں اسے جھڑک رہے تھے اور وہ تھی کہ اس بات پر اندر سے اُبل رہی تھی ، بہادر کی اتنی جرأت اس نے ابا کو اس کی شکایت لگا دی تھی کہ وہ سکول سے دیر سے نکلتی ہے ۔
”خبردار اب اگر دیر سے نکلی تو سکول سے ، اب جاٶ یہاں سے ۔۔۔ ایک تو یہ تقی کی ضد بھی عجیب ہے نہیں تو جب ابا جی نے رمنا کو گھر بیٹھایا تھا میں تمہیں بھی ساتھ ہی بیٹھا لیتا تو اچھا ہوتا “
نقیب حاکم نے غصے سے ڈپتے ہوۓ اسے جانے کے لیے کہا تو منہا جھرجھری لے کر تیز تیز قدم اُٹھاتی کمرے سے باہر نکل آٸ ۔ نقیب حاکم کی وہ لاڈلی تھی پر جس دن وہ کبھی یوں اسے ڈانٹ دیں تو بس اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لیتے تھے اور آج تو ساتھ میں بہادر پر غصہ بھی تھا ۔
اتنی ذلت پر تو ایک دم سے گرم سیال گالوں پر بہہ نکلا تھا ، وہ نا صرف نقیب کی لاڈلی تھی بلکہ فرزانہ ، تقی ، فرہاد اور رمنا سب سے چھوٹی تھی اس کے بعد نقی اور مالا بہت دیر بعد اس دنیا میں آۓ تھے اس نے کافی عرصہ سب سے لاڈ اُٹھاواۓ تھے ۔ پھر اس کے بعد پیدا ہونے والی مالا تو ایسی آفت کی پر کالا ثابت ہوٸ تھی کہ تقی کے علاوہ کوٸ بھی اسے پیار نہیں کرتا تھا ۔
رمنا تو اسے اپنی چھوٹی بہن مالا سے بھی زیادہ چاہتی تھی دونوں میں عمروں کا لے دے کر بس دو سال کا فرق تھا اس لیے رمنا کی اس سے بہت دوستی تھی ۔
منہا گالوں پر لڑھکتے آنسو صاف کرتی اب اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی جب اٹاری کے ستون سے ٹیک لگاۓ بیٹھی رمنا نے اس کو دیکھا اور پھر جلدی سے پریشان صورت بناۓ اس کے ساتھ قدم ملاتی اس کے کمرے میں آ چکی تھی ۔
” ارے منہا ۔۔۔ کیا ہوا رو کیوں رہی ہو ؟ “
رمنا نے پریشان سے لہجے میں اس کے رونے کا سبب پوچھا ، وہ ایسی ہی تھی بات بات پر پریشان ہو جانے والی سب کا خیال رکھنے والی ۔
” رمنا ۔۔۔ میرا دل کر رہا ہے اس بہادر کے بچے کا گلا دبا دوں میں بدتمیز کہیں کا “
منہا نے غصے سے ماتھے میں بل ڈالے روندھاٸ آواز میں کہا رمنا نے پیشانی پر ناسمجھی کے شکن ڈالے اسے دیکھا
” ہیں۔۔۔۔ کیا ہوا بہادر نے کیا ۔۔۔کیا ؟ “
رمنا کی چہرے پر اب حیرت کے ساتھ ساتھ پریشانی بھی تھی ، منہا نے لب بھینچے چہرہ اوپر اُٹھایا
” اس نے ابا کو میری شکایت لگا دی کہ میں چھٹی کے وقت دیر سے سکول سے نکلتی ہوں ابا نے مجھے اتنا ڈانٹا مت پوچھو “
منہا اب روہانسے لہجے میں اسے ساری بات سے آگاہ کر رہی تھی ، اور وہ معصوم سی صورت پر پوری آنکھیں کھولے منہا کو دیکھ رہی تھی ۔
” ہا۔۔۔۔۔ بہادر ایسا لگتا تو نہیں “
رمنا نے حیرت سے آنکھیں پھیلاٸیں
” نہیں ۔۔۔ جی اب وہ نہیں رہا بہادر ، بھاٸ کے ساتھ شہر جاتا ہے تو پتا نہیں خود کو سمجھنے کیا لگا ہے ، کل پتا ہے کتنی بدتمیزی کی اس نے میرے ساتھ “
منہا نے آنسو صاف کیے رمنا کی طرف دیکھا رمنا اب پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھی
” مجھے کہتا ۔۔۔ منہا بی بی جلدی سکول سے نکلا کرو بہت دیر لگاتی ہو “
منہا نے برا سا منہ بناتے ہوۓ بہادر کی نقل اتاری ، رمنا نے نظریں چراٸیں ۔
” منہا ۔۔۔ تو۔۔۔ یہ بات اتنی غلط بھی تو نہیں کہی نا اس نے ، تم جلدی نکل آیا کرو ، مجھے پتا ہے تم ہمیشہ کی طرح حمیرا کے ساتھ کانا باتی میں جُت جاتی ہو گی “
رمنا نے خفگی سے منہا کو گھورتے ہوۓ اس کی غلطی باور کرواٸ تھی ، رمنا جب سکول جاتی تھی تو چھٹی کے وقت زبردستی اسے گھسیٹنتے ہوۓ اپنے ساتھ باہر لے آتی تھی ۔
” چل ۔۔۔ تیری ایک کمی تھی تو بھی مجھے ہی غلط کہہ لے “
منہا نے دکھ بھرے لہجے میں خفگی کا اظہار کیا ، تو رمنا آہستگی سے مسکرا دی
” جھلی ۔۔۔ سمجھا رہی ہوں تمہیں ، اگر تم اس وقت ہی اس کی بات پر عمل کر لیتی اور جلدی آنے کا کہہ دیتی تو وہ یوں شکایت نا لگاتا تایا جی کو “
رمنا نے بڑے رسان سے سے اسے سمجھایا تھا
” تم دیکھنا میں اسے صبح اچھی سناٶں گی ، سمجھتا کیا ہے خود کو “
منہا نے دانت پیستے ہوۓ اپنے ارادوں سے آگاہ کیا
” منہا غلط بات ۔۔۔ خبردار بات کی اس سے تو بس بات کو ختم کرو ، کیوں طول دو گی “
رمنا نے پیشانی پر بل ڈالے اسے سمجھایا پھر اس کے پھولے گال کو کھینچتے ہوۓ گلے لگایا ۔ پر منہا کے اندر جو آگ جل رہی تھی وہ کہاں بجھنے کو تھی ۔ وہ دانت پیسے سامنے دیوار کو گھور رہی تھی
*********
منہا آج پورے وقت پر پھوں پھوں کرتی سکول سے باہر نکلی تھی ، بہادر نے اسے حیرت سے دیکھا اور جلدی سے آگے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھول کر کھڑا ہو گیا ۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی منہا نے گاڑی کا دروازہ پوری قوت سے مارا تھا ، بہادر اب گھوم کر ڈراٸیونگ سیٹ پر آ رہا تھا ۔ بہادر جیسے ہی گاڑی میں بیٹھا منہا غصے سے کھسک کر سامنے والی دونوں نشتوں کے درمیان میں آٸ ۔
” تم سمجھتے کیا ہو خود کو ؟ “
منہا نے غراتے ہوۓ سوال کیا ، بہادر کا گاڑی کی چابی کو گھومانے کے لیے بڑھا ہاتھ وہیں تھم گیا ، ناسمجھی میں سامنے دیکھا وہ کبھی بھی بلا وجہ حویلی کی خواتین کو نہیں دیکھتا تھا ۔
” جی ۔۔۔ کیا ہوا ۔۔۔بی بی جی ؟ “
اور اب بھی بہادر نے بنا پیچھے دیکھے بھنویں سکیڑ کر اس کے یوں کہنے کی وجہ طلب کی
” تم نے ابا کو میری شکایت لگا دی ، ابا نے مجھے اتنا ڈانٹا ، تمہیں ذرا شرم نہیں آٸ ، آخر کو میں کتنا دیر سے نکلتی تھی بس پانچ منٹ ، تو کیا اس میں تم جل کر مر جاتے “
منہا غصے میں اس پر برس پڑی تھی اور وہ حواس باختہ اب سامنے لگے بیک مرر میں اسے دیکھ رہا تھا ۔
” منہا۔۔۔ بی بی ایک منٹ ۔۔۔ایک منٹ “
منہا کی زبان کو بریک نا لگتی دیکھ کر بہادر نے گڑ بڑاتے ہوۓ اسے روکا تھا
” بی بی میں نے تو صاب کو ایسا کچھ نہیں بتایا “
بہادر نے انگلی ہوا میں معلق کیے اپنی بات وثوق سے کہی پر منہا کا تو غصہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا
” جھوٹ بولتے ہو تم ، تم نے ہی بتاٸ ہے ابا کو ، اتنا ڈانٹا ابا نے زندگی میں پہلی دفعہ مجھے “
منہا درشت لہجے میں گویا ہوٸ وہ آج اتنے غصے میں تھی کہ بہادر کو آپ کے بجاۓ تم تم کہہ کر مخاطب کر رہی تھی ، بہادر نے منہا کی بات پر لب بھینچے اور سنجیدگی سے گاڑی سٹارٹ کی ، اور پھر بنا پیچھے دیکھے گردن کو تھوڑا سا خم دیا
” آپ کو میری بات پر یقین کرنا ہے کرو نہیں کرنا نا کرو ، میں جھوٹ کبھی نہیں بولتا ، میں نے کسی کو کوٸ شکایت نہیں لگاٸ “
پہلی دفعہ منہا نے بہادر کو یوں اکڑ کر بات کرتے ہو سنا تھا اور بہادر کی یہ اکڑ اس کی برداشت سے باہر ہو گٸ تھی دل میں کچھ سوچتے ہوۓ وہ پیچھے ہوٸ اور گاڑی کی نشست کی پشت سے ٹیک لگا دی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: