Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 28

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 28

–**–**–

سورج کی تیز تپش اور جسم کو جلاتی گرم ہوا جلد پر تپتے تھپیڑوں کی مانند لگ رہی تھی ، سفیدے کے لمبے درخت گرم ہوا کے جھکڑ چلنے سے ہولے ہولے داٸیں باٸیں جھولتے ہوۓ ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا رہے تھے ۔
لڑکیوں کے سرکاری سکول کی اس عمارت میں جگہ جگہ لگے سفیدے کے درختوں کے نیچے رکھے لکڑی کے بنچ ، درختوں کی بخشتی ہلکی چھاٶں کے باعث اتنے گرم نہیں تھے ، منہا سپاٹ چہرہ لیے بینچ پر بیٹھی تھی ، سانولے رنگ کی پرکشش نقش رکھنے والی یہ لڑکی پہلی دفعہ اپنے اندر موجود ضد سے اس بری طرح آشنا ہوٸ تھی ۔
بچپن سے ہی فرہاد سے تو چڑ تھی ہی کیونکہ فرہاد کو چھوڑ کر سب اس سے لاڈ کرتے تھے لیکن فرہاد کی سب کے ہاتھوں ہو جانے والی درگت اسے اندر سے سرشار کر دیتی تھی اور ضد کو تھپکی مل جاتی تھی پر بہادر کے معاملے میں سب کچھ الٹ تھا بہادر گھر کا ملازم تھا جس کا ذکر ہو کھل کر کسی سے کر بھی نہیں سکتی تھی اور جتنے لوگوں سے کیا بھی تھا سب نے بہادر کو ہی درست قرار دے دیا تھا اور اب بنچ پر اسی ضد کے طوفان میں بیٹھی وہ پیچ و تاب کھا رہی تھی ۔
اس کے برابر میں بیٹھی حمیرا نے کن اکھیوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ ، کتاب بستے میں رکھی اور گردن گھما کر گہری سانس باہر انڈیلتی اس کی طرف متوجہ ہوٸ ۔
”چل اب بس کر بیس منٹ ہونے کو آۓ ہیں ، اب تو اُٹھ جا ، اگر اس نے شکایت لگا بھی دی تھی تو کچھ غلط نہیں کیا ، تو واقعی ہی بہت ضدی ہو رہی ہے ، اس چھوٹی سی بات کو لے کر “
حمیرا نے سنجیدگی سے اسے وہی بات سمجھاٸ جو وہ صبح سے اسے بیسوں بار ، اور رمنا تین دن سے بار بار سمجھا چکی تھی ، وہ تین دن سے دوبارہ دیر سے سکول سے باہر نکلنے لگی تھی ، ذہن غصے اور ذلت جیسے احساس میں جکڑا گیا تھا اور وہ بلاوجہ ہی بہادر سے ضد لگا بیٹھی تھی بس جتنی عمر تھی دماغ کی سوچ اس سے آگے نہیں بڑھی تھی ، عمر کا یہ دور ایسا ہی ہوتا ہے جب تمام محسوسات کا درجہ بہت اونچاٸ رکھتا ہے یہ انسان کی عمر کا بہت نازک دور ہوتا ہے لڑکپن سے نکل کر جوانی میں قدم رکھنے کا دور اور وہ اسی دور میں قدم رکھ چکی تھی جہاں لڑکپن کی بہت سی عادات اب جوانی کے جذبوں سے ملاپ کرتے ہوۓ اس کی شخصیت کو پروان چڑھا رہی تھیں ۔
ہاں ہم جب بھی بچپن سے لڑکپن میں قدم رکھتے ہیں یا لڑکپن سے جوانی میں تو عمر کے پچھلے درجے کی عادات اگلے درجے کے جذبوں کے ساتھ ملاپ کر کے ہماری شخصیت بناتی ہیں ۔ اور وہ بچپن سے لڑکپن اور اب لڑکپن سے جوانی میں اپنی ضد کی عادت کو اپنے جذبوں کے ساتھ لیپٹتی اپنی شخصیت کا خاصہ بناتے ہوۓ پروان چڑھ رہی تھی، جبکہ رمنا اس کے برعکس اپنی عمر سے زیادہ عقل مند تھی ۔
حمیرا کی بات پر اسے بھی احساس ہوا کہ آج تو واقعی اس نے دیر کر دی ، سر جھکاۓ اُٹھی اور چادر سر پر درست کرتے ، گیٹ کی طرف حمیرا کے ساتھ قدم بڑھا دیے ، باہر آٸ تو گیٹ پر نا تو بہادر تھا اور نہ ہی کوٸ گاڑی تھی ۔
حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ وہ کیا اتنی اکڑ میں آ گیا کہ اس کے دیر سے نکلنے پر آج واپس ہی چلا گیا ۔
پیشانی پر اس اچانک وارد ہونے والی افتاد پر پسینے کے قطرے نمودار ہوۓ ، حویلی جانے کا راستہ اتنی گرمی میں وہ اکیلی ہرگز طے نہیں کر سکتی تھی ۔
ایک غصہ تھا دوسرا اب بہادر کی اس اکڑ پر رونا آ رہا تھا ، حمیرا نے بھی اس کی پریشان صورت دیکھی اور اپنے گھر کی طرف بڑھتے قدم روک کر اس کے قریب آ گٸ ۔
” پریشان نا ہو کیا پتا آج آیا ہی نا ہو “
حمیرا نے اس کی پریشانی کے پیش نظر اپنے خیال کا اظہار کیا ، وہ جو دھوپ کی تپش اور غصے کی تلملاہٹ میں تپ رہی تھی آنکھوں کو اور لبوں کو ایک ساتھ سکوڑا ۔
” نہیں ایسا کبھی نہیں ہوا ، اگر کبھی ایسا ہو تو ابا خود دوسری گاڑی پر لینے آ جاتے ہیں مجھے وہ جان بوجھ کر ایسا کر رہا ہے “
منہا نے پریشان سی صورت بناۓ غصے میں وضاحت دی اور لب بھینچے ایک جھٹکے سے بستے کو کندھے پر درست کیا
”اچھا اتنا پریشان نا ہو منہا ، چلو میرے گھر چلتے ہیں وہاں سے پھر اماں کو کہتی ہوں تمہیں حویلی تک چھوڑ آٸیں گی “
حمیرا نے اسے یوں اکیلے پریشان اور غصے میں کھڑے دیکھ کر مشورہ دیا ، منہا نے جزبز کیفیت میں اس کی طرف دیکھا وہ ابھی یونہی پریشان کھڑی تھی جب سامنے پکی سڑک پر فراٹے بھرتی اور دھول اُڑاتی گاڑی پر نگاہ پڑی ، گاڑی جونہی ان کے قریب آ کر رکی بہادر تیزی سے گاڑی سے باہر نکلا ، منہا بھی غصے میں تلملاتی برق رفتاری سے اس کی طرف بڑھی اور جیسے ہی وہ گھوم کر پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولنے کے لیے اس کے قریب آیا ، منہا نے بنا سوچے سمجھے ، اس کے پاس جا کر ، اس کے گال پر زناٹے دار تھپڑ جڑ دیا ۔
بہادر گال پر ہاتھ رکھے ہکا بکا کھڑا تھا ، اسی لمحے گاڑی کی پچھلی نشستوں کی طرف کا دروازہ کھلا اور فرہاد تیزی سے باہر نکلا ، وہ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھا تھا گاڑی کے پچھلی نشست کے شیشوں کے آگے پردے لگاۓ گۓ تھے جن کے باعث منہا کو پہلے فرہاد کے پیچھے بیٹھے ہونے کی خبر ہی نہیں ہوٸ ۔
” منہا ۔۔۔۔ پاگل ہو گٸ ہو کیا ؟ “
منہا کی اس حرکت پر فرہاد کا منہ کھل گیا ، منہا نے ایک نظر فرہاد کو دیکھا اور پھر حیرت سے بہادر کی طرف دیکھا جو اب سر جھکاۓ کھڑا تھا
” ایک تو تم دیر سے نکلتی ہو سکول سے اس پر اگر میں نے اسے کہہ دیا کہ منہا ڈھیٹ ہے تم مجھے پہلے لے لیا کرو تو تم نے اس بچارے کے تھپڑ جڑ دیا “
فرہاد نے تاسف سے ناک بھینچے اسے سناٸیں
”کوٸ بچارا نہیں یہ ، اس نے ابا کو بھی اس بات کی شکایت لگا دی تھی ، مجھے ہو جاتی ہے کبھی دیر سکول سے نکلنے کو کیونکہ آخری جماعت ریاضی کی ہوتی ہے ، پر یہ ہے کہ۔۔۔۔ اس نے میری شکایت لگا دی ابا کو “
منہا مٹھایاں بھینچے فرہاد کو اپنے غصے کی اصل وجہ بیان کر رہی تھی ، فرہاد نے تاسف سے سر کو داٸیں باٸیں ہلایا
” وہ سب میں نے بتایا تھا ماموں کو اس نے نہیں ، آٸ بڑی ، پاگل کہیں کی “
فرہاد نے جیسے ہی اسے حقیقت کا بتایا تھا منہا نے چونک کر بہادر کی طرف دیکھا ، وہ نگاہیں جھکاۓ نادم کھڑا تھا ، وہ جو اس دن سے غصے میں پیچ و تاب کھا رہی تھی ایک دم سے دل ڈوب گیا اور بری طرح اپنی غلطی کا احساس ہوا ، وہ ایسی ہی تھی غصے میں بے قابو ہو کر سوچے سمجھے بنا انتہاٸ قدم اُٹھا لیتی تھی اور پھر جب اپنی غلطی کا احساس ہوتا تو ندامت کا احساس بھی اندر ایسے کچوکے لگانے لگتا کہ وہ بے حال ہو جاتی ۔
” اب بیٹھو گاڑی میں کیوں ایسے کھڑی ہو “
فرہاد نے اس کے یوں مجسم بن جانے پر اسے ٹہوکا تھا ، وہ پریشان سی چور نگاہ بہادر پر ڈالتی ، سر ہلاتی وہ فرہاد کے ساتھ پیچھے بیٹھ رہی تھی اور
بہادر خاموشی سے ڈراٸیونگ سیٹ کی طرف جا رہا تھا ۔
**********
گرم موسم کی عید کے باوجود بھی گاٶں کی گہماگہمی دیدنی تھی ، گاٶں کے چوک میں کتنے ہی ٹھیلے والوں کی تو خوشی کا کوٸ سماں نا تھا رنگے برنگے کپڑوں میں ملبوس بچے صبح سے ہی گھروں سے باہر نکل آۓ تھے ۔ مسجد کے گنبد سے وقفے وقفے کے بعد لوگوں کی طرف سے آنے والے ہدیے کے لیے اعلان ہو رہے تھے ، گاٶں کے لوگ رمضان میں مولوی صاحب کی خدمات کے پیش نظر عید پر مسجد کو ہدیہ دیتے تھے اور مولوی ان کا نام مسجد کے سپیکر میں بول کر شکریہ ادا کر رہا تھا ۔
حاکم قصر میں عید الفطر کا اہتمام ہی نرالہ تھا ، پورا خاندان حویلی میں جمع تھا اور افراتفری کے سماں میں قہقے اور بچوں کی نوگرانی پوری حویلی میں گونج رہی تھی ۔
مرد حضرات سارے عید کی نماز کے لیے گۓ ہوۓ تھے جہاں عید کی نماز کے بعد کتنی دیر تک باہر برانڈوں میں بیٹھک ہوتی تھی جہاں گاٶں کے تمام لوگ چوہدی حاکم سے عید ملنے آتے تھے اور پھر دوپہر کے کھانے سے پہلے تمام مرد حویلی کے اندر آتے تھے ۔
جہاں آج چھوٹے سے لے کر بڑے تمام افراد کے چہرے عید کے پر مسرت موقع پر کھل رہے تھے وہاں ایک منہا کا چہرہ تھا جو اترا ہوا تھا ایک مہینے پہلے کے واقع کے بعد اب ذہن پر ضد کے بعد پچھتاوا سوار تھا ، اس دن کے بعد سے سکول سے رمضان اور گرمی کے باعث چھٹیاں ہو گٸ تھیں اور وہ اس سارے عرصے کے دوران بہادر کے گال پر مارے گۓ تھپڑ اور اس کے چہرے کو ذہن سے نہیں نکال پاٸ تھی جب رات کو سونے کے لیے لیٹتی تھی وہی منظر آنکھوں کے آگے گھوم جاتا ، بہادر کو گھر میں آنے کی بلکل اجازت نہیں تھی اس لیے وہ اس پورے مہینے میں بمشکل اسے دو یا تین دفعہ سرسری سا نظر آیا تھا ۔
رنگا رنگ پکوان کی اشتہا انگیز خوشبو حویلی کے ہر کونے سے اُٹھ کر بھوک کو بڑھا رہی تھی ، سویاں ، کھیر جن پر سونے اور چاندی کے اوراق کی سجاوٹ کی گٸ تھی باورچی خانے کے ایک طرف بڑی بڑی مٹی کی بنی پرات میں ڈال کر برف کے پتیلوں میں رکھے گٸ تھیں اور اب حویلی کے اندر اور باہر برانڈوں میں عید ملنے آنے والوں کے آگے پیش ہو رہی تھیں ۔
تمام مرد عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سب سے عید ملتے ملاتے اب حویلی پہنچے تھے اور ساتھ ہی پورے حاکم قصر میں عید مبارک ، عید مبارک ، کی صداٸیں گونجنے لگی تھیں ۔ سارے چھوٹے بچوں کو فجر کی نماز کے فوراً بعد ہی نہلا دھلا کر نۓ جوڑے زیب تن کروا دیے گۓ تھے اور اب وہ مرد حضرات کے آنے کے انتظار میں تھے جیسے ہی گھر میں بڑے قدم رکھتے تھے ان سے عید مانگنے کا دور شروع ہوجاتا تھا ۔
چوہدری حاکم ، کے پیچھے سب بڑوں کے بیچ تقی سفید کُرتا زیب تن کیے جیسے ہی گیٹ سے صحن میں داخل ہوا پانچ سالہ مالا جو ہلکے جامن رنگ کے فراک میں ستون کے گرد باہیں ڈالے جھول رہی تھی ، بھاگتی ہوٸ اٹاری کے زینے اتر کر سب سے بےنیازی برتتی تقی کی ٹانگوں سے جا چمٹی ، تقی نے مسکراتے ہوۓ نیچے جھک کر اس کو باہوں میں اُٹھا لیا ، تمام بچے اب بڑوں سے عید مانگ رہے تھے ۔
مالا نے تقی کی گردن کے گرد بازو حاٸل کیۓ اور اس کی کان کے گرد اپنے ننھے سے ہاتھ کو گول گھما کر رکھتے اس کے کان میں سرگوشی کی ۔
” تقی میں اپنی ڈھیر ساری عیدی جمع کروں گی اور پھر تمہیں جمع کروا دوں گی تم مجھے شہر سے مٹھاٸ لا دینا “
وہ اپنی باریک آواز میں تقی سے مٹھاٸ کی فرماٸش کر رہی تھی تقی اس کی مخصوص فرماٸش پر بے ساختہ مسکرا دیا
“ہم آج سب شہر جاٸیں گے سیر کے لیے تم اپنی پسند سے لے لینا مٹھاٸ ٹھیک ہے “
تقی نے اسی کے انداز میں اس کے کان میں جواب دیا تو وہ چہک اُٹھی ، تقی اسے یونہی اُٹھاۓ اٹاری میں پہنچا اور تخت پر خدیجہ بیگم کے قریب براجمان ہوا ، شفقت لینے کے لیے سر ان کی طرف جھکا دیا
” عید مبارک بی جان “
مودب لہجے میں عید مبارک کہتے ہوۓ سر ان کے آگے جھکا دیا ، خدیجہ بیگم نے نا صرف دست شفقت سر پر رکھا بلکہ آگے ہوتے ہوۓ اس کے ماتھے پر بوسہ دیا دفعتاٍ نگاہ مالا پر پڑی جو بڑے لاڈ سے تقی کی گود میں بیٹھی تھی اور اس کے جوتے سے مٹی تقی کی قمیض کے دامن پر لگ رہی تھی۔
” اتار اس کو گود سے دیکھ اس کے کھسے سے ساری مٹی تیرے سفید قمیض کو لگ رہی ہے “
خدیجہ بیگم نے مالا کے کھسے کی طرف دیکھتے ہوۓ نخوت سے ناک چڑھاٸ ، تقی نے ان کی بات کو یکسر نظر انداز کیا پر مالا خدیجہ بیگم کی گھوری پر تقی کی گود میں سے نکل گٸ تھی۔
دسترخوان بچھنے لگا تھا اور اب اس پر کھانا سج رہا تھا ، زیب بھی اپنے بچوں سمیت عید کرنے حاکم قصر ہی آتی تھی اور اسلم میاں پھر عید کی دعوت کھا کر ہی واپسی کے لیے روانہ ہوتے تھے ۔
عید کا یہ کھانا معمول کے کھانےکے وقت سے ہٹ کر لگایا جاتا تھا کیونکہ صبح بس سویاں اور کھیر کھا کر ہی ناشتہ کیا جاتا تھا اور پھر عید کی نماز اور بیٹھک کے بعد ہی کھانا لگایا جاتا تھا ۔
کھانے کے بعد کتنی دیر تک دسترخوان پر ہی بیٹھے تمام افراد خوش گپوں میں مصروف تھے ، فرہاد نے تقی کو کن اکھیوں میں اشارہ کیا جس پر تقی نے آہستگی سے آنکھیں موند کر اثبات میں سر ہلایا ۔ وہ سب بچے مل کر آج شہر جانے کا منصوبہ بنا چکے تھے جس کے لیے تقی کو چوہدی حاکم کو راضی کرنا تھا ۔ تقی نے چوہدری حاکم کی طرف متوجہ ہو کر ہمت جمع کی
” دا جی آپ سے اجازت لینی تھی ایک بات کی “
تقی نے آہستگی سے گلا کھنکارتے ہوۓ بات شروع کی ، چوہدری حاکم نے شیرخورمہ کی چمچ منہ میں ڈالتے ہوۓ نگاہ اُٹھا کر تقی کی طرف دیکھا جو اب بات کی تمہید باندھنے کے لیے الفاظ کو ذہن میں دہرا رہا تھا ۔ وہ تقی کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے
“دا جی ہم بچے سب شہر جانا چاہتے تھے تھوڑی دیر کے لیے ، اگر آپ کی اجازت ہو تو ہم بہادر کو لے کر گاڑی پر چلے جاٸیں “
تقی نے ڈرتے ہوۓ اپنی بات مکمل کی تھی اور اب تقی سمیت سب بچے جواب طلب نگاہیں چوہدی حاکم پر مرکوز کیے ہوۓ تھے ، چوہدری حاکم نے جواب دینے کے بجاۓ گھور کر نقیب حاکم کی طرف دیکھا ، نقیب تو گڑبڑا کر تقی کو گھورنے لگا تھا جبکہ اسلم میاں مسکراتے ہوۓ آگے ہوۓ
“ابا جی جانے دیں میں بھی ساتھ ہوں چلیں بچے تھوڑا گھوم پھر لیں گے “
اسلم میاں نے مسکراتے ہوۓ اجازت دلواٸ تو تمام بچوں کے کی باچھیں کھل اُٹھیں ، اسلم کی بات تو چوہدری حاکم بہت کم ٹالتے تھے اس لیے دھیرے سے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
********
گاڑی کے پہیے شہر کی پکی سڑک پر رواں دواں تھے اور اس وقت گاڑی میں منہا ، رمنا ، تقی ، فرہاد ، مالا اور نقی موجود تھے ۔ جو گاڑی کی کھڑکیوں سے باہر دیکھتے ہوۓ لطف اندوز ہو رہے تھے ۔
تقی بہادر کے ساتھ اگلی نشست پر براجمان تھا جبکہ باقی سب پیچھے تھے رمنا نے مالا کو گود میں بیٹھا رکھا تھا اور منہا نے نقی کو ، منہا بارہا کن اکھیوں سے بہادر کو دیکھ رہی تھی ۔ آج عید کا دن تھا اور ہر عید پر بہادر نیا جوڑا لازمی پہنتا تھا اور آج بھی پورے سال کے برعکس وہ نۓ جوڑے میں عید کے لیے اہتمام سے تیار ہوا مختلف لگ رہا تھا ، صاف رنگت اور نقوش تو اس کے پہلے بھی جازب نظر تھے لیکن آج صاف ستھرے لباس میں وہ اور نکھرا نکھرا لگ رہا تھا ۔
وہ لوگ سب آج دوپہر بارہ بجے سے شہر کے لیے نکلے تھے اور اب چار بجے تک شہر میں ہی گھوم رہے تھے ، جیسے ہی سورج کی کرنیں تھوڑی سی مدھم ہونا شروع ہوٸیں تو شام کے سایے پھیلتے ہی تقی نے بہادر کو گاٶں واپسی کا حکم صادر کر دیا ، یہاں گاڑی میں موجود سب بچوں میں سے تقی بڑا تھا اور شہر کے ہر کونے سے واقف تھا ، تقی کے حکم پر فرہاد نے چونک کر کھڑکی سے پار دوڑتی نگاہ تقی کی طرف گھماٸ
“تقی قلفے کا بھول ہی گۓ تم وہ کھاتے ہوۓ جاتے ہیں “
فرہاد نے تقی کو قلفے کی یاد دہانی کرواٸ ، جس پر جہاں تقی کی بھنویں چڑھی تھیں وہاں چہرے پر پریشانی کی رمق بھی نظر آٸ جبکہ اس کے بلکل برعکس قلفے کا نام سنتے ہی پیچھے بیٹھے سارے بچوں کے چہرے چہک اُٹھے تھے مالا تو باقاعدہ تالیاں پیٹ رہی تھی ۔
“وہ دوسری طرف ہے ، ہم تو وہاں سے دور نکل آۓ ہیں ، وہاں جانے میں بہت وقت لگ جاۓ گا ، دیر ہو گی تو پھر دا جی سے ڈانٹ پڑ سکتی ہے رہنے دو پھر کبھی سہی “
تقی نے فرہا کی بات سے صاف انکار کیا سب کے چہرے لٹک گۓ ، منہا نے اداس صورت لیے تھوڑا سا آگے ہو کر تقی کی طرف دیکھا
“نہیں بھاٸ کھانا ہے قلفہ ۔۔۔۔۔۔۔۔، رمنا تم کہو نا بھاٸ تمھاری بات مان لیں گے “
منہا نے تقی سے بات کرتے ہوۓ اچانک رمنا کے کان میں سرگوشی کی تھی ، جس پر رمنا تو بدک کر نفی میں سر ہلانے لگی جبکہ منہا کی آواز جو کہ گود میں بیٹھی مالا کے کانوں میں بھی پڑ گٸ تھی وہ بے ساختہ بول اُٹھی
“مجھے قلفہ کھانا ہے ، مجھے قلفہ کھانا ہے “
مالا نے یوں قلفہ کھانے کا راگ الاپنا شروع کیا تو تقی نے مسکراتے ہوۓ پیچھے دیکھا تو وہ رمنا کی گود میں بیٹھی سر کو نفی میں ہلاتے بار بار ایک ہی جملا دہرا رہی تھی ، تقی نے رمنا کی طرف دیکھا اور پھر بے ساختہ سب قہقہ لگا اُٹھے کیونکہ مالا کہے اور تقی نا مانے
” بہادر چلو پھر موڑو گاڑی قلفہ کھا کر ہی چلتے ہیں “
تقی نے بے ساختہ خفیف قہقہ لگاتے ہوۓ سب کا ساتھ دیا ، بہادر نے تقی کےحکم پر بڑے مٶدب انداز میں گاڑی کا سٹیرنگ موڑ لیا تھا ۔
کچھ دیر سڑک پر دوڑنے کے بعد گاڑی ایک چھوٹی سی دوکان کے سامنے رک گٸ تھی ، دوکان سڑک کے مخالف سمت میں تھی اور بہادر گاڑی کو سڑک کے دوسری اطراف میں دوکان کے سامنے لگا چکا تھا، دوکان کے باہر ایک چبوترا بنا تھا جہاں پر مٹی کے گھڑوں میں قلفہ بھر کر رکھا گیا تھا ، گھڑوں پر سرخ کپڑے لپٹے تھے اور چبوترے کے اردگرد قلفہ لینے والوں کا ہجوم لگا تھا ۔
تقی گاڑی سے باہر نکلا تو ساتھ ہی پچھلی نشت سے فرہاد بھی باہر نکل چکا تھا ، منہا نے دونوں کو جاتے دیکھا اور پھر کچھ سوچتے ہوۓ رمنا کے کان میں بہت ہی مدھم آواز میں سرگوشی کی
“رمنا ۔۔۔ موقع اچھا ہے وہ بات کرو تم بہادر سے “
منہا کی بات پر رمنا نے گھور کر منہا کی طرف دیکھا جو اب روہانسی صورت بناۓ رمنا سے نگاہوں میں ہی منت کر رہی تھی ۔ رمنا جو آنکھوں میں بات نا کرنے کے اشارے کر رہی تھی منہا کی منت پر بدمزہ صورت بناۓ کندھے ڈھیلے کۓ
” بہادر بات سنو “
رمنا نے گلا صاف کرتے ہوۓ آہستگی سے بہادر کو پکارا، وہ جو گاڑی کی کھڑکی سے باہر تقی کو اور فرہاد کو سڑک کے پار جاتے ہوۓ دیکھ رہا تھا چونک کر متوجہ ہوا
” جی ۔۔ بی بی جی “
بڑے ہی ادب سے کہا ، منہا اب رمنا کو مزید بات آگے بڑھانے کا اشارہ کر رہی تھی ، وہ ہمیشہ کی طرح یہ بات بھی رمنا سے چھپا نہیں سکی تھی اور اس نے بہادر پر غصے سے لے کر تھپڑ تک کی ساری بات رمنا کی گوش گزار کر دی تھی ۔
رمنا نے اپنی عادت کے مطابق ہمیشہ کی طرح اسے سمجھایا ہی تھا کی وہ بلاوجہ اب اس بات کو بھی سر پر سوار کر رہی ہے اگر اس نے بہادر کو تھپڑ مار دیا تھا تو فرہاد نے اسی وقت بہادر کا ساتھ دیتے ہوۓ اسے جھاڑ بھی دیا تھا لیکن منہا تھی کہ اس بات کو ذہن سے چپکا کر بیٹھ چکی تھی اور اب یہی وجہ تھی کہ وہ رمنا کو بات کرنے پر اکسا رہی تھی ۔
” بہادر دیکھو اس دن منہا نے جو تمہیں تھپڑ مارا تھا ، وہ بس غلط فہمی تھی وہ اپنی اس حرکت پر اب بہت شرمندہ ہے تم اسے معاف کر دو “
رمنا نے بڑے طریقے سے اور شاٸستگی سے بات مکمل کی تھی ، حالانکہ وہ اسطرح کا معاملا یوں چھپ کر براہراست بہادر کے ساتھ حل کرنے کے حق میں ہر گز نہیں تھی اس نے منہا سے بارہا کہا کہ وہ فرہاد کے ذریعے ہی بہادر کی طرف معافی کا پیغام بھیج دے لیکن منہا نے اس بات پر بہت خفگی دکھاٸ کہ وہ فرہاد کو بیچ میں لا کر اپنا تماشہ نہیں بنانا چاہتی ہے ۔
رمنا کی بات پر بہادر جو خاموشی سے سر جھکاۓ سن رہا تھا ایک دم سے سیدھا ہوا پر نگاہیں جھکاۓ رکھیں
” کیسی باتیں کر رہی ہیں رمنا بی بی مجھے تو یاد بھی نہیں رہا تھا یہ سب اور غلطی تو میری بھی تھی ، مجھے یوں ان کو بتاۓ بنا فرہاد صاحب کو لینے نہیں جانا چاہیے تھا “
بہادر نے اپنی بات سر جھکاۓ ہی مکمل کی تھی ، بہادر کی بات پر منہا نے تھوک نگلا اور رمنا کا ہاتھ تھام کر بات کرنے سے روکتے ہوۓ خود گویا ہوٸ
” نہیں پھر بھی میں شرمندہ ہوں مجھے بہت غصہ تھا اور وہ سب غصے میں ہی ہوا تھا “
منہا نے گھٹی سی آواز میں وضاحت دی جس کے جواب میں بس بہادر سر اثبات میں ہلا کر رہ گیا ۔چہرہ پھر داٸیں طرف گاڑی کی کھڑکی میں موڑ لیا ۔
منہا کی بات کا جواب نا دینے پر منہا بری طرح پہلو بدل چکی تھی جبکہ رمنا اب مسکرا کر منہا کو دیکھ رہی تھی ۔
” بس میں کہہ تو رہی تھی تمہیں اس دن سے کہ تم ایسے ہی پریشان ہو رہی ہو اتنے دن سے ، بہادر بھاٸ بہت اچھے ہیں ان کے دل میں کوٸ بات نہیں ہو گی “
رمنا نے مسکراتے ہوۓ منہا کی طرف دیکھ کر اسے تسلی دی جبکہ وہ اب بھی چوری سے بہادر کے چہرے کے تاثرات دیکھنے میں مصروف تھی ۔ کچھ پل کے بعد ہی تقی اور فرہاد ہاتھ میں قلفے کے پیالے تھامے گاڑی کی طرف آ رہے تھے اور ان کو آتا دیکھ کر منہا نے اپنی نگاہوں کا زاویہ بدل لیا ۔
********
سفید رنگ کی سکول وردی میں ملبوس لڑکی نے لکڑی کی کرسی پر پڑی لوہے کی کھونٹی کو اٹھایا اور رسی سے لٹکتی سنہری گھنٹی پر پوری قوت سے مارا ۔۔۔ گھنٹی کی ٹن ۔۔۔ٹن۔۔۔ٹن۔۔۔ آواز پورے سکول میں گونج اُٹھی ۔۔۔۔ چھٹی ہوتے ہی پورے سکول میں بھگدڑ مچ گٸ تھی ۔
جیسے ہی چھٹی کی گھنٹی ٹن ٹن بجی تھی منہا فوراً ڈیسک میں سے اپنی کتابیں اُٹھا کر بستے میں ٹھونسنے کے انداز میں رکھنے لگی ۔ پاس بیٹھی حمیرا نے اسے عجلت میں کتابیں رکھتے دیکھ کر حیرت سے آنکھیں سکوڑیں کیونکہ وہ تو چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی سر کو ڈیسک پر گرا لیتی تھی اور پھر دن بھر کی باتیں کرتے ہوۓ وہ اور حمیرا بستے میں آہستہ آہستہ کتابیں رکھتی تھیں ۔
گرمیوں اور عید کی چھٹیوں کے بعد وہ آج پہلے دن سکول آٸ تھیں اور منہا کے رویے میں بہت تبدیلی دیکھ رہی تھی ، وہ گم صم اور چپ چپ تھی حمیرا اس کے دن بھر کے رویے کو تو نظر انداز کرتی رہی تھی پر اب یوں بستہ بند کرنے کے بعد اُٹھ کر اس کا چادر درست کرنا حمیرا کو تشویش میں مبتلا کر گیا ، کہاں وہ یہ سوچ رہی تھی کہ اتنی چھٹیوں کے بعد آج مل رہے ہیں تو منہا کے پاس اس کو بتانے کے لیے بہت سی باتیں ہوں گی ، پر یہ کیا وہ تو اس سے کوٸ بھی بات کیے بنا بستہ کندھے پر لٹکا چکی تھی ۔
” منہا کیا ہوا ۔۔۔ ؟ “
حمیرا نے بھنویں اچکاۓ تشیویش کا اظہار کیا ، منہا جو کندھے پر بستہ لٹکا چکی تھی ایک اچٹتی سی نگاہ حمیرا کے حیرت زدہ چہرے پر ڈالی ۔
” چھٹی ہو گٸ ہے ظاہر سی بات ہے گھر جا رہی ہوں “
منہا نے کندھے اچکا کر عجلت میں جواب دیا اور پھر قدم کمرہ جماعت کے دروازے کی طرف بڑھا دیے ، عید کے روز بہادر سے معافی مانگے پورا مہینہ گزر چکا تھا اور وہ جو سوچ رہی تھی کہ اب معافی پر اس کے دل اور دماغ کی بے چینی کو سکون مل جاۓ گا ایک نٸ ہی مصیبت سے دوچار ہو چکی تھی اور اب کی بار کا جذبہ اس کے دماغ کے ساتھ اس کے دل کو بھی قابو کر چکا تھا ۔
وہ بہادر کے بارے میں ایسے خیالات پنپنے لگی تھی جو اس وقت کی عمر کے سب سے خطرناک خیالات ہوتے ہیں اور پہلی دفعہ ایسا تھا کہ وہ ان خیالات کے بارے میں رمنا سے چھپا رہی تھی ۔
تیز تیز قدم اُٹھاتی وہ گیٹ سے باہر آٸ تھی اور بہادر گاڑی سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا ، جسے دیکھتے ہی اس ایک مہینے میں اپنے تمام خیالات کے پیش نظر منہا کی حالت غیر ہونے لگی تھی ۔
من من بھاری ہوتے قدم اُٹھاتی وہ اب گاڑی کی طرف جا رہی تھی جہاں بہادر اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولے کھڑا تھا ۔
منہا نے چور نگاہ بہادر پر ڈالی ، کتنے عرصے بعد وہ آج بہادر کو دیکھ رہی تھی وہ یونہی نگاہیں جھکاۓ اب دروازہ بند کر رہا تھا ۔
جوانی میں جہاں جسم اور جذبات میں حکم الہی سے تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں وہاں شیطان کو بھی موقع مل جاتا ہے کہ وہ انسان کے ان ابھرتے جذبے کے ساتھ کھیلتا ہوا اس پر حرام محبت کا غلبہ ڈال دیتا ہے ، یہ وہ عمر ہوتی ہے جہاں لڑکپن سے جوانی میں پہلا قدم دھرتی لڑکیاں اور لڑکے ابھی اچھے برے کی کوٸ پہچان نہیں کر پاتے وہاں شیطان انہیں حرام محبت جیسے احساس سے روشناس کروا دیتا ہے جس کی نٸ نٸ لذت اس کچی عمر کے بچے اور بچیوں کے ذہن میں بد ، نیک ، اچھے برے کی پہچان ختم کر دیتی ہے ۔
ہاں وہ بھی لڑکپن سے جوانی میں پہلا قدم رکھتے ہی غصے سے ضد ، ضد سے بدتمیزی ، بدتمیزی سے بے وجہ کی شرمندگی اور پھر بے وجہ کی شرمندگی سے حرام محبت کی مرتکب ہو چکی تھی ۔
اس کا بہادر پر غصہ کرنا نہیں بنتا تھا نا وہ غصہ کرتی نا وہ ضد بنتی نا ضد میں آ کر وہ تھپڑ جڑتی ، نا ضد میں تھپڑ جڑتی نا بے وجہ کی شرمندگی دل کا گھیراٶ کرتی ، نا بے وجہ شرمندگی میں خود کو گھول کر معافی مانگتی اور نا آج یہ معافی پر بہادر کے تاثرات حرام محبت میں تبدیل ہوتے ، لیکن اب یہ ایک حرام عمل سے شروع ہونے والا عمل ایک سلسلہ پکڑ چکا تھا جس کا اختتام بہت بھیانک ہوتا ہے ۔
ہاں وہ بہادر سے اپنے جذبے باندھ چکی تھی جسے وہ محبت کا نام دے رہی تھی بہادر گاڑی چلا رہا تھا اور وہ پچھلی نشست پر بیٹھی اسے دیکھ کر اپنی آنکھیں سیک رہی تھی کل تک جس بہادر کی طرف اس نے کبھی نگاہ اُٹھا کر نہیں دیکھا تھا آج پندرہ سال کی عمر میں وہ اس بہادر کے لیے جذبے پال رہی تھی ۔
گاڑی حویلی کے آگے رکی تھی اور وہ ٹھنڈی آہ بھرتی گاڑی سے اتر کر گیٹ کی طرف قدم بڑھا چکی تھی ۔ ۔۔۔۔
شیطان کا غلبہ نا صرف اس کو ان جذبوں کی لذت میں گھول رہا تھا بلکہ ایک عجیب سی ہمت بھی دے رہا تھا ، وہ اب بہادر سے اپنی اس محبت کے اظہار کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: