Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 29

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 29

–**–**–

حاکم قصر میں پھیلی یہ رات عجیب سی وحشت لیے ہوۓ تھی ، پورے صحن میں فوارے کے داٸیں اور باٸیں چارپاٸیاں بچھی تھیں جن پر حویلی کے مکیں رات کے اس پہر گہری نیند میں ڈوبے ہوۓ تھے ۔
دکھن کی ہوا جہاں نیم کے درخت کے پتے کو ہلا کر ہلکی ہلکی سرسراہٹ کی آواز پیدا کر رہی تھی وہاں جھینگروں کی جھیں جھیں کے ساتھ نیم کے درخت سے کچھ دوری پر بچھی چارپاٸ سے بار بار کروٹ بدلنے کی وجہ سے چرچراہٹ کی آواز بھی اُبھر رہی تھی۔
چارپاٸ پر رمنا کے ساتھ داٸیں کروٹ لیٹی منہا کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی ۔
چل نکلا تھا وہ سلسلہ جو کونپل کے کھلنے پر بھاری ہو جاۓ ، جہاں سنبھل کر پھونک پھونک کر قدم رکھنے کا وقت ہو اور کوٸ بس خود کو ہاتھ پھیلاۓ ہوا کے ازدحام کے حوالے کر دے ، جب جذبات کے لاوے ابل کر ہر پردہ عقل پر سرکانے لگیں ، وہ اسی حال کو پہنچی بن پانی کی مچھلی کی طرح چارپاٸ پر کروٹ بدل رہی تھی ۔ خود کو اس حال پر پہنچانے میں اس کے بے قابو جذبات تھے جو بے لگام گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑے ہی چلے جا رہے تھے اور اس بات سے بے خبر تھے کہ وہ اپنے قدموں کے نیچے زمین نہیں کسی کی چادر اور منڈاسا روند رہے ہیں ۔
وہ آج پورے دو ہفتے تڑپنے کے بعد ، سکول کی چھٹی کے وقت ، بہادر کو اپنی محبت کے بارے میں بتا چکی تھی ، لے کر تو ایک خط گٸ تھی مگر وہاں بہادر کی زبانی ہی پتا چلا کہ وہ پڑھنا تو جانتا ہی نہیں ہے ۔ افف یہ بات تو وہ بھی اس کے بارے میں نہیں جانتی تھی جانتی بھی کیسے پہلے نا تو کبھی اسے جاننے جیسے نوبت آٸ اور نا ہی کوٸ ایسا تعلق تھا کہ وہ اس کے بارے میں یہ سب جانتی ۔
فرہاد کے امتحانات ہونے کو تھے وہ سکول نہیں آتا تھا ، بہادر کے اس نکشاف پر کہ وہ پڑھنا نہیں جانتا ہے ، منہا نے اسے اپنے جذبات سے آگاہی اپنی زبان سے ہی دے دی تھی اور وہاں بہادر کا حال کچھ ایسا ہی ہوا تھا جیسا اس نے سوچ رکھا تھا ۔
بہادر کی آنکھیں اس خبر پر پوری کھل گٸ تھیں کچھ لمحے تو شاٸد اس کو اپنے کانوں پر یقین نہیں رہا تھا ۔ اور بدحواسی ایسی چھاٸ تھی کہ اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہو گۓ تھے ۔
بات تھی بھی ایسی جو کبھی اس کے وہم و گمان میں بھی نا تھی اور سامنے بیٹھی چوہدری حاکم کی پوتی اس سے اپنی پسندیدگی اور محبت کا اظہار کر رہی تھی ۔
یہ بات نہیں تھی کہ وہ محبت کے نام سے ناواقف تھا یہ تو وہ لفظ تھا جس کی بازگشت وہ اپنے گھر میں سنتے ہوۓ پروان چڑھا تھا پر یہاں منہا کے منہ سے اس کے جذبات سن کر وہ دم بخودہ رہ گیا ۔
منہا اس پر اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے بعد اسے سوچنے اور پھر جواب دینے کی مہلت کا کہہ کر خاموش ہو گٸ تھی جبکہ وہ جس پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ گیا تھا۔ کچھ پل یونہی ساکن رہنے کے بعد ایک جھٹکے سے سیدھا ہوا تھا اور پھر ایک دم سے بوکھلا کر گاڑی سٹارٹ کی ، گاڑی نے بیس منٹ کا سفر دس منٹ میں طے کیا تھا اور حویلی کے بیرونی گیٹ کے آگے آ کر رکی تھی ، منہا خاموشی سے اس کو پریشان حال چھوڑ کر آگے قدم بڑھا چکی تھی ۔
پر اب رات کے اس پہر تک وہ کوٸ ہزاروں دفعہ اس لمحے کو بار بار ذہن میں دہرا رہی تھی ۔ جب تک جذبات اس تک محدود تھے وہ اتنی پریشان نہیں تھی لیکن آج جب وہ ہمت جمع کیے سارے جذبات اور محبت کا اظہار بہادر سے کر چکی تھی تو اب بے چینی مزید بڑھ چکی تھی ۔
وہ کیا سوچ رہا ہو گا ؟ ۔۔۔
وہ کیا جواب دے گا ؟ ۔۔۔۔
اس کا ردعمل کیا ہوا گا ؟ ۔۔۔۔
کتنے ہی سوال دل دماغ سے تو کبھی دماغ دل سے کر رہا تھا اور وہ یونہی ساری رات کانٹوں کے بستر پر لوٹتی رہی ۔
ساری رات یونہی آنکھوں میں گزر گٸ اور اب وہ آسمان کے اندھیرے کو نیلے رنگ کی ہلکی روشنی میں تبدیل ہوتا دیکھ رہی تھی ۔ جو اپنے ساتھ اس کے ارادوں کی پختگی اور بہادر کے لیے جذبات کا بہاٶ لاٸ تھی ۔
************
یہ دنیا پور کا تنگ سی گلیوں پر مشتمل ، بڑی نہر کے پل سے گزر نے کے بعد واحد بازار تھا جس کے شروعات میں ہی بہت سے ٹھیلے والے قطار دار قطار دیوار کے ساتھ ٹھیلے لگاۓ کھڑے تھے ، یہ بازار کی تار کول میں لپٹی سڑک یہاں سے اندر کی طرف ہلکی ڈھلوان لے لیتی تھی اور ٹھیلے والے جو ہر دوکان کے باہر کھڑے تھے ان کی بڑھتی تعداد بازار کو آگے سے آگے مزید تنگ کر رہی تھی۔
گاڑی کی اگلی نشست پر بہادر اور پچھلی نشستوں پر بلقیس ، فرزانہ اور منہا بیٹھی تھیں ۔ بہادر سے سوال کیے دو ہفتے بیت چکے تھے ۔ مالا سکول میں داخل ہو چکی تھی جس کے باعث منہا بہادر سے کوٸ بات نہیں کر پاٸ تھی اور وہ تھا کہ خاموش بے تاثر چہرہ لیے گاڑی ڈراٸیو کر رہا تھا جیسے دو ہفتے پہلے کچھ ہوا ہی نا ہو ۔ گاڑی کے بازار کی ایک گلی کے آگے رکتے ہی بہادر جلدی سے اگلی نشست سے اتر کر فرزانہ کہ طرف کا دروازہ کھول چکا تھا ۔
“چلو اترو منہا ۔۔۔ “
بلقیس نے گاڑی کی نشست سے اپنا پرس اُٹھایا ، کندھے پر لٹکایا ، فرزانہ نے بھی اپنا برقع درست کیا ، جبکہ گاڑی کے داٸیں شیشے والی طرف سیاہ شیشوں کی سندھی کڑھاٸ کی ہوٸ چادر اوڑھے بیٹھی منہا سست روی سے گاڑی سے اتری ۔
فرزانہ کی شادی کو چند مہینے رہتے تھے اور آۓ دن شہر کے اور بازار کے چکر لگتے تھے ۔ آج بلقیس کو بھی بچیوں کی اور اپنے جوڑے کی خریداری کرنی تھی ، اریب بیگم نے ان کے ساتھ فرزانہ کو بھی بھیج دیا تھا ، جس کی خریداری عروج پر تھی
وہ تینوں گاڑی سے اتر کر ابھی چند قدم کی دوری پر ہی گٸ تھیں جب منہا نے اچانک بیچ سڑک میں رک کر اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام لیا ۔ بلقیس نے جب اس کو ان دونوں سے چند قدم پیچھے ہی کھڑے پایا تو ماتھے پر بل ڈالے پلٹی
“منہا ۔۔۔ کیا ہوا ہے یہاں کیوں رک گٸ “
بلقیس الجھی سی اسے پکارتی اس تک آٸ تھی جو سر کو اب دونوں ہاتھوں میں تھامے زمین پر بیٹھتی چلی جا رہی تھی ۔ بلقیس کو اس کی حالت نے اور پریشان کر دیا ، فرزانہ بھی حواس باختہ سی صورت بناۓ واپس مڑ رہی تھی ۔
” منہا ۔۔۔ کیا ہوا ایسے کیوں نیچے بیٹھ رہی ہو “
بلقیس اب منہا کا کندھا تھام کر اس پر جھکی پوچھ رہی تھی ، فرزانہ بھی پاس پہنچ کر اسی حالت میں اس پر جھک گٸ ۔
” اماں مجھے چکر آ رہے ہیں بہت برے چکر ، چلا ہی نہیں جا رہا ہے “
منہا نے روہانسے لہجے میں سبب بتایا تو جھکے دونوں چہروں پر تشویش کے ساتھ پریشانی بھی جھلکنے لگی
” ناشتہ نہیں کرتی تو یہی حال ہو گا نا ، چلو گاڑی میں پانی پیو پہلے “
بلقیس نے اسے کندھے سے پکڑا اور فرزانہ نے بھی ایک طرف سے سہارا دیتے ہوۓ اسے اس جگہ سے اُٹھایا وہ اب دونوں کے سہارے کے ساتھ بھی نقاہت لیے چل رہی تھی سست روی سے یونہی قدم اُٹھاتے جب وہ تنیوں گاڑی کے پاس واپس پہنچیں تو گاڑی کی پشت سے ٹیک لگاۓ بیٹھا بہادر ان کو دیکھ کر حیرت سے سیدھا ہوا ۔ بلقیس اب بہادر کو دروازہ کھولنے کا اشارہ کر رہی تھی ۔
بہادر نے حیرت سے بھنویں سکیڑے عجلت میں گاڑی کی پچھلی نشست کا دروازہ کھولا بلقیس نے منہا کو بیٹھنے کا اشارہ کیا جبکہ فرزانہ پانی کی بوتل سے پانی اب بوتل کے چھوٹے سے گلاس نما ڈھکن میں انڈیل رہی تھی ۔ منہا نے سر کو تھامے ہی گلاس کو منہ لگایا اور پانی ختم کرنے کے بعد آہستگی سے ہتھیلی کی پشت سے منہ صاف کیا ۔
” ہاں اب بہتر ہوٸ کچھ طبیعت ، اب تو نہیں آ رہے چکر ، گھر ہی بتا دیتی ایسے ہی گھر سے اتنی دور شہر آۓ ، کل سے رٹ لگاٸ ہے مجھے خود کپڑے پسند کرنے ہیں وہ رمنا بھی تو ہے ایک دفعہ بھی اس نے چوں تک کی جو لا کر دو وہ پہن لیتی ہے “
بلقیس نے اس کی طبیعت پوچھتے ساتھ ہی اس کو جھاڑ بھی دیا تھا ، منہا نے نقاہت سے سر کو نفی میں ہلایا
” اماں نہیں مجھے نہیں لگتا چل سکوں گی ، اب مجھے معلوم تھوڑی تھا یوں میری طبیعت خراب ہو جاۓ گی “
منہا نے پھیکی سی آواز میں جواب دیا ، بلقیس نے پریشانی سے پاس کھڑی فرزانہ کی طرف دیکھا
” ممانی مت ڈانٹیں اسے ، واپس چلتے ہیں کچھ دن بعد آ جاٸیں گے کوٸ دقت نہیں “
فرزانہ نے لب بھینچے نرم لہجے میں مشورہ دیا تو منہا نے فوراً نفی میں گردن ہلاتے ہوۓ فرزانہ کی طرف دیکھا
” نہیں فرزانہ آپا ، آپ اور اماں چلی جاٸیں میں گاڑی میں بیٹھ جاتی ہوں کچھ دیر ، اب اتنی دور بازار آۓ ہیں تو ایسے میری طبیعت کی وجہ سے آپ اپنی بھی خریداری نہیں کریں گی کیا ؟ ؟ ، میں آنکھیں موند کر بیٹھ جاتی ہوں آپ دونوں جلدی آجاۓ گا “
منہا نے شرمندہ سے لہجہ میں فرزانہ کا اترا چہرہ دیکھ کر مشورہ دیا تو بلقیس بھی چند لمحے سوچنے کے بعد تاٸید میں سر ہلا گٸ ۔ حویلی کے اتنے کام کاج چھوڑ کر اس کے لیے آنا نا ممکن تھا ، غزالہ ویسے بھی ان کاموں سے جان چھڑا کر سب بلقیس کے کندھوں پر ڈال دیتی تھی اور اب بھی بلقیس کو ہی ساری خریداری کرنی تھی ان ساری سوچوں کے پیش نظر اسے منہا کا مشورہ ٹھیک لگا تھا ۔
” بہادر منہا کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ، یہ یہاں پیچھے بیٹھی ہے ، ہم کچھ دیر میں واپس آتے ہیں “
بلقیس نے بہادر کو منہا کی طبیعت کی آگاہی دی جس پر وہ آہستگی سے سر ہلا گیا اور فرزانہ اور بلقیس طمانت سے ایک طرف چل دیں ۔
ان کے جانے کی دیر تھی کی منہا ہشاش بشاش ہو کر لب بھینچے گردن موڑ کر ان دونوں کے دوری پر جانچتی نگاہ ڈال کر سیدھی ہوٸ ۔ ایک چور نگاہ بہادر پر ڈالی جو سٹیرنگ پر سر رکھے بیٹھا تھا ۔
” بہادر ۔۔۔ مجھے میری بات کا جواب چاہیے “
منہا کی آواز با آسانی آگے بیٹھے بہادر کے کانوں میں پڑی تھی ۔ بہادر نے فوراً سر اوپر اُٹھایا اور پھر پہلو بدلہ، پر اس کی گہری خاموشی سکینڈ کے بجاۓ منٹوں میں تبدیل ہونے لگی تھی ۔
” بہادر ۔۔۔۔ “
منہا نے پھر سے اس کا نام پکارا ہی تھا کہ بہادر نے فوراً کھردرے سے لہجے میں بات کاٹی
” منہا بی بی ۔۔۔ مجھے آپ کی مشکل باتیں سمجھ میں نہیں آتی ہیں آپ ۔۔۔آپ مجھ سے بات نا کیا کریں کسی نے دیکھ لیا تو ۔۔۔”
بہادر کے لہجے میں خوف تھا ، التجا تھی جو اس انوکھی اور نٸ ڈگر کی مسافر کو کہاں ہضم تھی
” پر میں کیا کروں ۔۔۔ بولو ۔۔۔ میرا دل چاہتا ہے تم مجھے میری بات کا جواب دو ہاں میں یا نا میں میرے دل کو چین آۓ “
منہا نے ہتھیلیوں کو آپس میں پھنساۓ آہستگی سے اسے اپنی بے چینی سے آگاہ کیا ، بہادر نے ہاتھ مضبوطی سے سٹیرنگ پر جماۓ اور پھر سر نیچے کیا
” منہا بی بی ۔۔ میرے پاس آپ کی اس بات کا جواب نہیں ہے “
بہادر نے سامنے دیکھتے ہوۓ سپاٹ لہجے میں جواب دیا ، منہا تڑپ کر آگے ہوٸ
” میں ۔۔۔۔تمہیں۔۔۔۔ بہت چاہنے لگی۔۔۔ ہوں بہادر ، ایسا کیسے ہو سکتا ہے تم نہیں چاہو مجھے “
منہا کے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہوۓ تھے جس پر بہادر گڑبڑا کر جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا ۔ بہادر کے انکار اور ردعمل پر منہا کی بے بسی اب غصے میں بدلنے لگی تھی، وہ کیسے مجھے انکار کر سکتا ہے کیا اسے نظر نہیں آتا دو ہفتوں سے میں کیسے تڑپ رہی ہوں ، کیسے اس کو سکول آتے جاتے ہوۓ دیکھتی رہتی ہوں ۔
وہ غصے میں تلملاتی ایک جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی اور بہادر کے قریب آ کر دانت پیستے ہوۓ گویا ہوٸ
” ٹھیک ہے تم مجھ سے محبت نہیں کرتے تو مجھے بھی یہاں نہیں رہنا میں جا رہی ہوں ، وہ سامنے نہر دیکھ رہے ہو ؟ ؟ میں اس میں کود جاٶں گی اور پھر سب تم سے پوچھیں گے “
منہا نے چادر سے ناک ڈھانپے ، غصے سے قدم آگے بڑھاۓ ہی تھے کہ بہادر حواس باختہ منہا کی طرف بھاگا ۔
” منہا بی بی رک جاۓ یہ کیا پاگل پن ہے “
بہادر تیز رفتاری سے آگے بڑھا اور منہا کا بازو پکڑتے ہوۓ اسے قدم آگے بڑھانے سے روکا وہ ڈگمگا کر رکی پر اسی لمحے بہادر کی آنکھوں سے ہوا تصادم اس کے جذبات کی سچاٸ کا ثبوت بن کر اسے سچے عاشق ہونے کی جھوٹی تصدیق دے گیا ۔
وہ لمحہ جہاں بہادر پر بہت بھاری تھا وہاں اس کے جذبات کی بھی تصدیق تھا ۔ وہ جو بہت عرصے سے منہا کے بدلے رویے کو اپنے دماغ کا فقط ایک خلل تصور کرتا تھا منہا کے اظہار پر دم بخودہ رہ گیا تھا اور پھر دل نے منہا کی جذبات کو آگے بڑھ کر گلے لگا لیا تھا لیکن اس کی عقل ان پر بہت اچھے سے حاوی تھی وہ عمر میں نا صرف منہا سے بڑا تھا بلکہ اس کے تجربے بھی بڑے تھے ۔
ایک سکینڈ میں ہی وہ اپنے ذہن کو جھٹک کر خوف سے منہا کو لے کر آگے بڑھ رہا تھا جو اب پوری قوت سے اس سے اپنا بازو چھڑوانے کی سعی میں تھی ۔
“چھوڑو مجھے میں نہیں رہنا چاہتی اب زندہ ، تم مجھ سے محبت نہیں کرتے میں نہر میں کود کر جان دے دوں گی “
وہ جذبات کی رو میں بہہ کر سب بھولے ہوۓ تھی ، بہادر لب بھینچے اسے کار کے قریب لایا تھا اور پھر کار کا دروازہ کھولے ایک جھٹکے سے منہا کو اندر بیٹھایا ، گہری سانس لیے مسکین صورت لیے دیکھا
” منہا بی بی ۔۔۔ میں آپ کے قابل نہیں ہوں ، دیکھیں رحم کریں مجھ پر بھی اور خود پر بھی “
بہادر نے التجا کے لہجے میں ہاتھ جوڑے تھے ، منہا نے نگاہ اُٹھاۓ اس کے چہرے کی طرف دیکھا ، وہ نگاہیں چرا رہا تھا
” تم میرے قابل نہیں ہو تو کیا ہوا ، میں تمہارے قابل بن جاٶں گی “
منہا اب بھی اپنی بات پر بضد تھی ، بہادر نے بے بسی سے نگاہ اُٹھاٸ
” آپ کیا چاہتی ہیں مجھ سے منہا بی بی ؟ کہ میں بھی ایک دفعہ پھر سے ابا کی ہی کہانی کو دہرا دوں ، میرے اور آپ کے پاس یہاں سے بھاگنے کے علاوہ اور کوٸ چارہ نہیں ہو گا اور اگر ایسا ہوا تو پھر سے کوٸ بہادر ان پڑھ رہ کر ساری عمر کہیں غلامی کرے گا ، میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں پر خدارا اس محبت کو یہیں دفن کر دیں کیونکہ اس کا انجام میں روز اپنے گھر میں دیکھتا ہوں “
بہادر کے الفاظ تھے یا کوٸ سحر جس میں وہ جکڑی گٸ تھی اس کی بات تو کیا ہی سمجھ آتی وہ تو اس کے الفاظ اور اس کی سمجھ کو دیکھ کر اور دیوانی ہو گٸ تھی ، وہ بھی اس سے محبت کرتا تھا ۔۔۔
دل جیسے بلیوں اچھلنے لگا تھا چار سو چھاۓ سناٹے میں ایک ارتعاش پیدا ہوا تھا اور وہ اس شور و غل میں زور زور سے بجتے دل کے ساتھ ہر انجام ، ہر مشکل ، ہر پریشانی فراموش کر دینے کو تیار تھی ۔
بہادر اس کی خاموشی کو اس کی عقل مندی سمجھتے ہوۓ اب گاڑی کے ایک طرف جا کر کھڑا ہو چکا تھا پر وہ کیا جانے اس انجان ڈگر پر جب ننھے قدم اور کم عقل والے ذہن چل نکلتے ہیں تو واپسی ان انجاموں کے خوف سے نہیں ہوا کرتی ہے واپسی تو کسی حادثے اور کسی نقصان پر ہی ہوتی ہے ۔ وہ گاڑی کی نشست کی پشت سے ٹیک لگاۓ مسکرا رہی تھی ۔
************
سُرمٸ سی شام عصر کی اذان کے فوراً بعد اپنے سایے پھیلا رہی تھی ، رنگ برنگے قمقوں سے سجی حویلی عجیب ہی رنگ ڈھنگ لے کر جگمگانے لگی تھی ۔ فرزانہ کے مایوں کے بعد کا دن تھا اور حویلی میں مہمانوں سے بھری پڑی تھی ۔
رمنا صحن سے زرد چہرہ لیے اٹاری کے زینے چڑھتی ارد گرد نگاہ گھماتی منہا کو تلاش کر رہی تھی ، وہ جو زیب پھپھو کے ساتھ بازار گٸ تھی ، ایک دوکان کے سامنے زیب اسے اپنا چھوٹا بیٹا پکڑا کر خود اکیلی ہی دوکان میں گھس گٸ تھی ۔
وہیں بہادر نے موقع غنیمت دیکھ کر رمنا کو منہا کے پاگل پن کے بارے میں آگاہی دی تھی کیونکہ اس دن کے بعد سے منہا کا پاگل پن اب جنون میں تبدیل ہونے لگے تھا وہ آۓ دن بہادر کو خود کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دینے لگی تھی ۔
کبھی کسی نوکیلی چیز سے اپنی کلاٸ کاٹ لیتی اور بہتا خون بہادر کو دکھاتی تو کبھی اسے گندم میں رکھنے والی گولیاں ، یا فصلوں میں ڈالنے والی زہریلی ادویات کھا کر جان دینے کی دھمکی دینے لگتی ۔ وہ بہت پریشان ہو چکا تھا اور اسے رمنا کو اس سب سے آگاہی دینے کے علاوہ کوٸ چارہ نظر نہیں آیا تھا ۔
رمنا جب سے شہر سے واپس لوٹی تھی بولاٸ بولاٸ سی منہا کو تلاش کر رہی تھی ۔ اور جیسے ہی اسے منہا فرزانہ آپا کے کمرے میں نظر آٸ وہ تیز تیز قدم اُٹھاتی اس تک پہنچی ۔ منہا کا بازو پکڑ کر وہ اسے زبردستی اپنے ساتھ باہر لے آٸ ۔
حویلی مہمانوں سے کھچا کھچ بھری تھی کوٸ جگہ ایسی نہیں تھی جہاں وہ سکون سے منہا سے یہ بات کر سکتی اچانک چھت کا خیال آتے ہی وہ زبردستی منہا کو اپنے ساتھ چھت پر لے آٸ تھی ۔ منہا نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھتی اس کے ساتھ چھت پر آ گٸ ۔
چھت کے ایک کونے میں آتے ہی رمنا نے ایک جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑا اور خود غم اور غصے کے ملے جلے تاثر کے ساتھ گھورتی ہوٸ اس کے سامنے ہوٸ ۔
” منہا ۔۔۔ بہادر جو کچھ تمھارے بارے میں کہہ رہا ہے کیا وہ سچ ہے ؟ “
رمنا کا سوال تھا یا ایٹم بمب تھا جو منہا کے سر پر پھٹا تھا ، زندگی میں پہلی بات اس نے رمنا سے چھپاٸ تھی یہ بات ہی ایسی تھی جو وہ کسی سے بھی بانٹنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی لیکن بہادر کا بار بار انکار اس کی محبت کو جنونیت میں بدلنے لگا تھا وہ ہر حال میں بہادر کو اپنی محبت میں مبتلا دیکھنا چاہتی تھی ۔
اس کا سفید پڑتا چہرہ دیکھ کر رمنا کو اچانک اپنے سوال کی غلطی کا احساس ہوا ، لب بھینچے اپنے لہجے کو حد درجہ دھیما کیا
” منہا ۔۔۔۔ دیکھ میری بہن سچ بول۔۔۔۔ کیا ۔۔۔۔۔ بہادر جو سب بکواس کر رہا ہے تیرے بارے میں وہ سچ ہے ؟ “
رمنا کے لہجے میں اس کے لیے فکرمندی تھی وہ منہا کو چپ دیکھ کر اور پریشان ہو رہی تھی ۔ منہا دم سادھے کھڑی تھی جہاں اس کا سر شرم سے جھک جانا چاہیے تھا وہاں اچانک دل زور زور سے ندامت کے بجاۓ ذلت کے احساس کے کچوکے لگانے لگا اور پھر وہ ایک جھٹکے سے رمنا کے بازو اپنے کندھوں سے ہٹا چکی تھی۔
” ہاں ۔۔۔ بہادر نے جو کہا ہے وہ سچ ہے میں اس سے محبت کرنے لگی ہوں “
منہا کے منہ سے الفاظ نکلنے کی دیر تھی کہ رمنا کی آنکھیں بے یقینی سے دکھ کے تاثر میں تبدیل ہوٸیں اور اس نے ہاتھ اُٹھا کر ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر جڑ دیا ۔
” محبت ۔۔۔۔ یہ لفظ تم نے سیکھا کہاں سے ۔۔۔۔ ۔۔۔، اور وہ سب جو اسے کہہ رہی ہو تم کہ ۔۔۔۔کچھ کھا کر مر جاٶں گی یہ سب کہاں سے سیکھا منہا بول ۔۔۔۔ کہاں سے سیکھا “
رمنا نے تھپڑ اس کی گال پر مارا تھا لیکن آنسو خود کی آنکھوں میں چمکنے لگے تھے ، وہ منہا کی ہمت ، بے باکی ، پاگل پن پر حیرت زدہ تھی ۔
ہاں وہ جانتی تھی وہ بچپن سے تھوڑی ضدی تھی پر یہ سب یہ نہیں سوچ سکتی تھی وہ کبھی بھی منہا کے بارے میں ۔
“کہیں سے نہیں سیکھا میں نے ، محبت سیکھی نہیں جاتی ہو جاتی ہے میں بہادر کے بغیر نہیں رہ سکتی اگر وہ مجھے یہاں سے نا لے گیا تو میں مر جاٶں گی “
منہا بول رہی تھی اور رمنا اسے پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی وہ اس سے دو سال چھوٹی تھی اور اس کی باتیں سن کر رمنا کے سر میں ہتھوڑے چلنے لگے تھے ۔
” من۔۔منہا ۔۔۔۔ تو پاگل ہو گٸ ہے کیا م۔۔محبت بہادر سے “
رمنا کی آواز میں کرب تھا ، آنکھوں میں آنسو تھے
“ہاں ۔۔۔ محبت ۔۔۔ اور تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے کوٸ انوکھا کام کر دیا ہو میں نے ، کیا تم نہیں کرتی بھاٸ سے محبت ، کیا بھاٸ نہیں کرتا تم سے محبت “
منہا نے ناک پھلاۓ غصے میں اس کی طرف دیکھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: